اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب، خاتمُ النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شمار ظاہری و باطنی کمالات سے نوازا۔ آپ کی ذاتِ اقدس علم، حکمت، رحمت اور معجزات کا حسین مجموعہ ہے۔ انہی عظیم کمالات میں سے ایک کمال یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مختلف قوموں اور مخلوقات کی زبانوں کا علم عطا فرمایا۔
نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم عام انسانوں کے علم کی طرح محدود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے بہت وسیع اور کامل ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ایسا علم عطا فرمایا جس کے ذریعے آپ مختلف قوموں، علاقوں اور زبانوں کو سمجھتے تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب مختلف علاقوں کے لوگ اپنی اپنی زبانوں میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی بات کو سمجھ لیتے اور ان کے مطابق جواب عطا فرماتے۔
اسی طرح کئی روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بعض جانوروں کی آوازوں اور ان کے حالات سے بھی آگاہ فرمایا۔ بعض مواقع پر جانوروں نے حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اپنی فریاد پیش کی اور آپ نے ان کی بات کو سمجھ کر ان کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات میں سے ہے۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ خاص علوم اور قدرتیں عطا فرماتا ہے تاکہ وہ اپنی امت کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم چونکہ تمام انبیاء کے سردار اور خاتم النبیین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار علوم و معارف عطا فرمائے، جن میں مختلف زبانوں کا علم بھی شامل ہے۔
یہ حقیقت عاشقانِ رسول کے ایمان کو تازگی بخشتی ہے کہ ہمارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کی عطا سے اپنی امت کے حالات اور ان کی باتوں سے آگاہ ہیں۔ آپ کی ذاتِ مبارکہ سراپا رحمت ہے اور آپ کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔
حضورسب جانتے ہیں
علمائے کرام نے اپنی کتابوں میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ تعالیٰ نے تمام زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ مشہور مفسر علّامہ احمد بن محمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اَنَّ اللّٰهَ عَلَّمَهٗ جَمِيْعَ اللُّغَاتِ، فَكَانَ يُخَاطِبُ كُلَّ قَوْمٍ بِلُغَتِهِم
یعنی، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام زبانیں سکھا دی تھیں اور آپ ہر قوم سے اسی کی زبان میں کلام فرمایا کرتے تھے۔(حاشیۃ الصاوی، پ 13، ابراہیم، تحت الآیۃ: 4، ج 3، ص 1014)
اسی طرح شارحِ بخاری امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس مضمون کو اپنی معروف کتاب مواہبِ لدنیہ میں ذکر فرمایا ہے۔ (مواہب لدنیہ، ج 2، ص 53)
روایات میں آتا ہے کہ جب کبھی کوئی ایسا اجنبی شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتا جس کی زبان وہاں موجود لوگ نہ سمجھ سکتے تھے تو ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صرف اس کی بات کو سمجھ لیتے بلکہ اسی کی زبان میں اس کا جواب بھی عطا فرماتے تھے۔ یہ حضور اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عظیم معجزات اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطاؤں میں سے ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسا کامل علم عطا فرمایا جو آپ کی شانِ نبوت کے شایانِ شان ہے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا چراغ ہیں اور اللہ کی عطا سے بے شمار علوم کے خزانے آپ کو عطا کیے گئے۔
رسولِ عربی کا عجمی زبان میں جواب
چنانچہ ایک روایت کے مطابق ایک مرتبہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس مسجدِ حرام میں ایک عجمی وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں شامل افراد میں سے کوئی بھی نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پہچانتا نہ تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنی زبان میں سوال کیا: "من ابون اسیران؟" یعنی تم میں اللہ کے رسول کون ہیں؟
وہ شخص اپنی زبان میں بات کر رہا تھا، اس لیے وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی اس کی بات نہ سمجھ سکا۔ مگر رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فوراً اس کی بات کو سمجھ لیا اور فرمایا: "اَشْکَدّ اور" یعنی یہاں میرے پاس آگے آ جاؤ۔
چنانچہ وہ لوگ قریب آگئے اور گفتگو شروع ہوگئی۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان سے اسی کی زبان میں گفتگو فرماتے اور ان کے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔ آپ کی گفتگو اور حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر آخرکار اس وفد کے افراد نے اسلام قبول کر لیا، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دستِ اقدس پر بیعت کی اور پھر اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ گئے۔(نسیم الریاض، ج 2، ص 134)
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مختلف زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا۔ اس بارے میں مفسرِ شہیر حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قدرتی طور پر تمام زبانیں جانتے ہیں۔ جب حضور جانوروں، پتھروں اور کنکروں کی بولیاں سمجھتے ہیں تو انسانوں کی بولی کیوں نہ سمجھیں گے۔ (مراٰۃ المناجیح، ج 6، ص 335)
یہ سب حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عظیم معجزات اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطاؤں میں سے ہے۔ آپ کی ذاتِ اقدس تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار علوم و کمالات سے سرفراز فرمایا۔
وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی،وہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی
آؤ بازارِ مصطفےٰ کو چلیں،کھوٹے سکے وہیں پہ چلتے ہیں
درخت کیوں چل کر آیا؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شمار معجزات اور عظیم کمالات عطا فرمائے ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صرف عرب و عجم کی زبانیں جانتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے بے زبان مخلوقات کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ جانور، درخت اور دیگر مخلوقات بھی آپ کی بارگاہِ اقدس میں ادب و محبت کے ساتھ حاضر ہوکر سلام پیش کیا کرتی تھیں۔
اس بارے میں ایک ایمان افروز واقعہ حضرت سیّدُنا یَعلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سفر کے دوران کسی جگہ آرام فرما رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا اپنی جگہ سے چل کر آیا اور آکر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر سایہ کرلیا۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ واپس اپنی جگہ چلا گیا۔
جب حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیدار ہوئے تو میں نے یہ سارا واقعہ عرض کیا۔ اس پر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اس درخت نے اپنے رب سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ رسولُ اللہ (یعنی مجھے) سلام کرے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت عطا فرمائی۔ (مشکاۃ المصابیح، ج 2، ص 393، حدیث: 5922، مختصراً)
اس حیرت انگیز واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے مشہور مفسر اور حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں کہ درخت کی یہ حاضری صرف سایہ کرنے کے لیے نہ تھی بلکہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سلام پیش کرنے کے لیے تھی۔ اس واقعے سے کئی اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
اوّل یہ کہ حضور انور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو درخت اور جانور بھی سلام کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سوتے ہوئے بھی سلام کرنے والوں کا سلام سنتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی مخلوق کو اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کے لیے بھیجتا ہے، جیسا کہ اس واقعے میں درخت اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر سلام کرنے کے لیے آیا تھا۔ (مراٰۃ المناجیح، ج 8، ص 240)
یہ واقعہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظمت و شان اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ بے شمار معجزات میں سے ایک روشن مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ان کے ادب و احترام کو ہمارے دلوں میں مزید بڑھائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم، جانور بھی کریں جن کی تعظیم
سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم، پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں
(حدائق بخشش،ص112)
شُترِ ناشاد کی داد رسی
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسی عظیم شان اور رحمت عطا فرمائی کہ نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی آپ کی بارگاہ میں اپنی فریاد پیش کرتے تھے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام مخلوق کے لیے سراپا رحمت ہیں اور اللہ کی عطا سے بے زبان مخلوقات کی زبان بھی سمجھتے تھے۔
حضرت سیّدُنا یَعلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ہمارا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا جس سے کھیت کو پانی دیا جا رہا تھا۔ جب اس اونٹ نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن حضور کے سامنے جھکا دی، گویا اپنی فریاد پیش کر رہا ہو۔
حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ جب مالک حاضر ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کیا تم یہ اونٹ بیچتے ہو؟
مالک نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ اونٹ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ اس نے مزید عرض کیا کہ یہ ایسے گھرانے کا اونٹ ہے جن کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں۔
اس پر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اس اونٹ نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور اسے چارہ کم دیتے ہو، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (مشکاۃ المصابیح، ج 2، ص 393، حدیث: 5922، مختصراً)
اس حدیثِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں کہ اس واقعے سے کئی اہم مسائل معلوم ہوتے ہیں۔
اوّل یہ کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو مخصوص جانوروں جیسے پرندوں اور چیونٹیوں کی زبان سمجھنے کا علم عطا ہوا تھا، جبکہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ تعالیٰ نے درخت، پتھر اور خشک و تر تمام مخلوقات کی بولیاں سمجھنے کی قدرت عطا فرمائی۔
دوم یہ کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حاجت روا اور مشکل کشا ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے جانور بھی جانتے اور مانتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اپنی شکایت لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے۔
سوم یہ کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ ایسی عدالت تھی جہاں جانور بھی فریادی بن کر آتے تھے اور ان کی داد رسی ہوتی تھی۔ اسی حقیقت کو شاعرانہ انداز میں یوں بیان کیا گیا ہے:؎
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد، ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
اسی در پر شترانِ ناشاد، گلۂ رنج و عَنا کرتے ہیں
(حدائق بخشش، ص 113)
اسی لیے اہلِ محبت کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کے دکھ اور پریشانیاں بھی حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کریں اور آپ کی رحمت سے امید رکھیں۔(مراٰۃ المناجیح، ج 8، ص 239)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی محبت اور ادب نصیب فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد
نبیِّ کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس سراپا رحمت ہے۔ آپ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ جانوروں اور پرندوں تک بھی پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے زبان مخلوقات بھی آپ کی بارگاہ میں اپنی فریاد پیش کرتی تھیں اور آپ ان کی تکلیف کو محسوس فرماتے تھے۔
حضرتِ سیّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ کسی موقع پر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ اسی دوران ہم نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے دو بچے تھے، ہم نے وہ بچے پکڑ لیے۔
جب وہ چڑیا واپس آئی تو اپنے بچوں کو نہ پا کر بے قرار ہو گئی اور شدتِ پریشانی سے اپنے پر پھڑپھڑانے لگی۔ اسی اثنا میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لے آئے۔ آپ نے چڑیا کی بے چینی کو دیکھ کر دریافت فرمایا:
"کس نے اس کے بچوں کے معاملے میں اسے تکلیف پہنچائی ہے؟ اس کے بچے اسے واپس کر دو۔"(ابوداؤد، ج 3، ص 75، حدیث: 2675)
یہ واقعہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے مثال رحمت اور شفقت کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پرندوں کی تکلیف کو بھی محسوس فرماتے تھے۔ آپ نے صحابۂ کرام کو یہ تعلیم دی کہ بے زبان مخلوقات کے ساتھ بھی رحم اور شفقت کا معاملہ کیا جائے۔
درحقیقت رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رحمتٌ للعالمین ہیں۔ آپ کی رحمت میں انسان، جانور، پرندے اور پوری کائنات شامل ہے۔ اسی لیے عاشقانِ رسول نے بڑی خوبصورتی سے کہا ہے: ؎
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد، ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
اسی در پر شترانِ ناشاد، گلۂ رنج و عَنا کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت سے سبق لینے اور تمام مخلوقات کے ساتھ رحم و شفقت کا برتاؤ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
ہِرنی کی فریاد
نبیِّ کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سراپا رحمت اور مظلوموں کے فریادرَس ہیں۔ حضرتِ سیّدُنا زید بن اَرقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک اعرابی کے خیمے کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی۔ جب اس ہرنی کی نظر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر پڑی تو اس نے فریاد کرتے ہوئے عرض کی:
یارسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! یہ خیمے والا اعرابی مجھے جنگل سے پکڑ کر لایا ہے، حالانکہ میرے دو بچے جنگل میں ہیں۔ میرے تھنوں میں دودھ بھرا ہوا ہے۔ نہ تو یہ مجھے ذبح کرتا ہے کہ میں اس تکلیف سے نجات پاؤں اور نہ مجھے چھوڑتا ہے کہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلا آؤں۔
ہرنی کی فریاد سن کر رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر میں تجھے چھوڑ دوں تو کیا تو اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آ جائے گی؟
ہرنی نے عرض کی: جی ہاں یارسولَ اللہ! میں ضرور واپس آؤں گی۔ اگر واپس نہ آؤں تو اللہ پاک مجھے ناجائز ٹیکس لینے والے جیسا عذاب دے۔
چنانچہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ بڑی بے قراری کے ساتھ جنگل کی طرف گئی، اپنے بچوں کو دودھ پلایا اور تھوڑی دیر بعد وعدے کے مطابق واپس آگئی۔ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے دوبارہ خیمے کے ساتھ باندھ دیا۔
اسی دوران وہ اعرابی بھی پانی کا مشکیزہ اٹھائے حاضر ہوگیا۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہ ہرنی ہمیں بیچ دو۔
اعرابی نے عرض کیا: یارسولَ اللہ! یہ تو میں آپ کو بطورِ ہدیہ پیش کرتا ہوں۔
چنانچہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس ہرنی کو آزاد فرما دیا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل کی طرف جاتے ہوئے کلمہ پڑھ رہی تھی۔(دلائل النبوۃ للبیہقی، ج 6، ص 35)
عاشقانِ رسول نے اس واقعے کو بڑے محبت بھرے انداز میں بیان کیا ہے:؎
شانِ رحمت جوش پر آئی چھڑایا قید سے
بے کلی کے ساتھ جب ہرنی پکاری یارسول
اس واقعے کی شرح کرتے ہوئے مفسرِ شہیر حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں کہ ہمارے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی ظاہری حیات میں تمام زبانیں جانتے تھے، یہاں تک کہ لکڑی اور پتھر کی زبان بھی۔ جانور بھی حضور کی بارگاہ میں فریاد کرتے تھے۔ آج بھی حضور کے روضۂ انور پر ہر فریادی اپنی اپنی زبان میں عرض کرتا ہے اور وہاں کسی مترجم کی ضرورت نہیں پڑتی۔(مراٰۃ المناجیح، ج 1، ص 135)
یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اور آپ کی بارگاہ میں انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی اپنی فریاد پیش کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ان کی رحمتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
ایمان کا اعلان کرنے والی گوہ
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسے عظیم معجزات عطا فرمائے کہ نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی آپ کی نبوت کی گواہی دیتے تھے۔ انہی ایمان افروز واقعات میں ایک واقعہ گوہ (ریگستانی چھپکلی) کا بھی ہے جس نے رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کا کھلے الفاظ میں اعلان کیا۔
حضرتِ سیّدُنا عبدُاللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلۂ بنی سُلَیْم کا ایک اعرابی نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا:
میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک میری یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لے آئے۔
یہ کہہ کر اس نے گوہ کو حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے ڈال دیا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے پکارا تو اس نے بلند آواز سے جواب دیا:
لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ
یعنی میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔ اس کی آواز اس قدر واضح تھی کہ تمام حاضرین نے اسے سن لیا۔ پھر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے پوچھا: تیرا معبود کون ہے؟گوہ نے جواب دیا: میرا معبود وہ ہے جس کا عرش آسمان میں ہے، زمین میں اسی کی بادشاہی ہے، جنت میں اس کی رحمت ہے اور جہنم میں اس کا عذاب ہے۔پھر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے گوہ! یہ بتا کہ میں کون ہوں؟ گوہ نے بلند آواز سے کہا: اَنْتَ رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ یعنی ،آپ ربُّ العالمین کے رسول ہیں اور خاتمُ النبیین ہیں۔پھر اس نے مزید کہا: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَکَ یعنی جو آپ کی تصدیق کرے وہ کامیاب ہو گیا۔ اور وَقَدْ خَابَ مَنْ کَذَّبَکَ یعنی، جو آپ کو جھٹلائے وہ نامراد ہو گیا۔
یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر وہ اعرابی بہت متاثر ہوا اور فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ اس نے عرض کیا:
یارسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! جب میں آپ کے پاس آیا تھا تو زمین پر آپ سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی شخص میرے نزدیک نہ تھا، مگر اب میرا حال یہ ہے کہ آپ مجھے اپنی جان اور والدین سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔
اس پر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
خدا کے لیے حمد ہے جس نے تجھے ایسے دین کی ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہوگا۔
پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کی تعلیم دی۔ جب اعرابی نے قرآن کی یہ آیات سنیں تو کہنے لگا:
میں نے فصیح و بلیغ، طویل و مختصر ہر قسم کے کلام سنے ہیں، مگر خدا کی قسم! میں نے آج تک اس سے بہتر اور زیادہ بلیغ کلام کبھی نہیں سنا۔ (معجم اوسط، ج 4، ص 283، حدیث: 5996، مختصراً)
یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نبوت کی گواہی صرف انسانوں نے ہی نہیں بلکہ جانوروں نے بھی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے ذریعے اپنے محبوب کی عظمت کو ظاہر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی محبت، کامل ایمان اور ان کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!