امت سےآقا کی محبت

نبی رحمت، شفیع امت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کے لیے منبر ہوں گے لیکن میں سیدھا کھڑا رہوں گا اور رب کے حضور عرض کروں گا: "یَا رَبّ! میری اُمّت، میری اُمّت۔" اللہ پاک فرمائیں گے: "میں ان کے ساتھ کیا کروں؟" حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت کرتے رہیں گے یہاں تک کہ دوزخ میں بھیجے گئے افراد کی رہائی ہو جائے۔ یہ بیان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت کے لیے بے پناہ محبت اور رحمت کو ظاہر کرتا ہے، جو قیامت تک جاری رہے گی اور ہر نیک اور گناہگار پر اُن کی شفاعت شامل ہوگی۔

April 28, 2026

مسلمانوں پر اللہ کا سب سے بڑا احسان کیا ہے؟

اے عاشقانِ رسول! اللہ پاک کا کروڑہا کروڑ احسان کہ اُس نے ہمیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت میں پیدا فرمایا، یہ بہت بڑا انعام اور احسانِ عظیم ہے۔ مزید یہ کہ ہمیں اپنے محبوب نبی، نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جشنِ ولادت منانے کی سعادت بھی عطا فرمائی۔ اللہ پاک قرآنِ مجید، پارہ 4، سورۃ آلِ عمران، آیت نمبر 164 میں ارشاد فرماتا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ کا بڑا اِحسان ہوا مسلمانوں پر کہ اُن میں اُنہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن پر اُس کی آیتیں پڑھتا ہے اور اُنہیں پاک کرتا اور اُنہیں کتاب و حکمت سِکھاتا ہے اور وہ ضَرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔

رحمت و شفقت کے دریا بہانے والے آقا ﷺ کون ؟

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ پاک نے مسلمانوں پر عظیم احسان فرمایا کہ انہیں اپنا سب سے عظیم رسول عطا کیا۔

یہ کیسا عظیم رسول عطا فرمایا کہ اپنی ولادت مبارکہ سے لے کر وفات شریف تک اور اس کے بعد بھی ہر زمانے میں اپنی امت پر مسلسل رحمت و شفقت کے دریا بہا رہے ہیں۔

پیدائش کے وقت ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو یاد فرمایا، شب معراج میں بھی رب العالمین کی بارگاہ میں امت کا ذکر کیا، اور وصال ظاہری کے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لبوں پر امت کی بخشش کی دعائیں جاری تھیں۔

راتوں کو جب ساری دنیا آرام کرتی، تو رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر اپنی امت کے لیے گریہ و زاری کرتے۔ قیامت کے دن سخت گرمی اور پیاس کے عالم میں بھی سجدے میں جا کر امت کی مغفرت کی دعا فرمائیں گے۔

کہیں میزان میں نیکیوں کا پلڑا بھاری کریں گے، کہیں پل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزاریں گے، کہیں حوض کوثر سے سیراب کریں گے، اور کہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروائیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود غم برداشت کریں گے مگر امت کو خوشیاں عطا فرمائیں گے۔ اپنے نورانی آنسوؤں سے امت کے گناہوں کو دھوئیں گے۔ اسی رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قرآن دیا، ایمان دیا، اور اللہ کی پہچان عطا فرمائی، بلکہ وہ سب کچھ دیا جس کے ہم حقدار بھی نہ تھے۔ (تفسیر صراط الجنان، پ4، آل عمران، تحت الآیۃ: 164، 2/87)

رحمت والی اُمّت

اے عاشقان رسول! ذرا غور فرمائیے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اُمّت سے کتنی محبت فرماتے ہیں۔ آئیے ایک ایمان افروز فرمان مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتے ہیں اور اپنے دلوں کو تازہ کرتے ہیں:

میری یہ اُمّت رحمت والی ہے۔

(ابو داود، کتاب الفتن والملاحم، باب ما یرجی فی القتل، 4/142، حدیث: 4278)

یہ ارشادمبارک اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت کو اللہ پاک نے خصوصی رحمتوں سے نوازا ہے۔ اس اُمّت کی خطاؤں پر بھی رحمت کے دروازے کھلے ہیں اور اس کے لیے آسانیاں اور مغفرت کے بے شمار مواقع رکھے گئے ہیں۔

امت محمدیہ پر خصوصی رحمت کی کیا وضاحت ہے؟

اس حدیث مبارک کی شرح میں حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت پر دیگر انبیاءِ کرام علیہم السلام کی اُمّتوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت زیادہ ہے۔

اس اُمّت کی نیکیاں اگرچہ کم ہوں، مگر ان پر ملنے والا ثواب بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح گناہوں کی معافی کے بے شمار ذرائع عطا فرمائے گئے ہیں اور بخشش کے بہانے بھی کثرت سے رکھے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ دراصل رحمت والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے اور آپ کی امت پر خصوصی شفقت کا نتیجہ ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 7/182)

اب میری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوا

رحمت والے آقا، برکت والے داتا، شفقت والے مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی (ظاہری) وفات کے وقت حضرت سیدنا جبرائیل امین علیہ السلام سے فرمایا: میرے بعد میری اُمّت کے لئے کون ہوگا؟ اس پر اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشخبری سنا دو کہ:

’’میں آپ کو آپ کی اُمّت کے معاملے میں ہرگز رُسوا نہیں کروں گا۔ جب لوگوں کو قبروں سے نکالا جائے گا تو سب سے پہلے میرا حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے گا۔ جب سب جمع ہوں گے تو میرا محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ان کا سردار ہوگا، اور جب تک آپ کی اُمّت جنت میں داخل نہ ہو جائے، تمام اُمّتوں پر جنت حرام رہے گی۔‘‘

یہ عظیم بشارت سن کر اُمّت کے غم خوار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اب میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اور میرا دل خوش ہوا۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الرابع، 5/217)

کیا امت کی اکثریت جنت الفردوس میں جائے گی؟

حضرت سیدنا شیخ عبد العزیز دباغ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: سب سے اعلیٰ درجے کی جنت یعنی جنت الفردوس میں رہنے والوں کی اکثریت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت پر مشتمل ہوگی۔ چند مخصوص افراد کے علاوہ باقی بڑی تعداد اسی اعلیٰ جنت، یعنی جنت الفردوس میں قیام کرے گی، جو آٹھوں جنتوں میں سب سے بلند اور افضل ہے۔

یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اُمّت سے بے حد محبت فرماتے ہیں، اسی محبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ خواہش تھی کہ آپ اپنی اُمّت کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں۔ (الابریز، الباب الحادی عشر فی الجنۃ، 2/224)

’’امتی امتی“ لب پر جاری رہا

محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری زندگی اپنی اُمّت کو ’’امتی امتی‘‘ (یعنی میری اُمّت، میری اُمّت) کہہ کر یاد فرماتے رہے۔

یہاں تک کہ قبرِ انور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اُمّت کو یاد فرما رہے ہیں اور روزِ محشر تک یہی کیفیت رہے گی۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ:

حقیقت یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک مرتبہ بھی "اُمَّتِی" فرما دیتے اور ہم ساری زندگی "یا نبی! یا رسول اللہ! یا حبیب اللہ!" کہتے رہتے، تب بھی اس ایک مرتبہ "اُمَّتِی" فرمانے کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ (عاشق اکبر، ص 53)

اے عاشقان رسول!

اللہ اکبر! ہمارے پیارے پیارے آقا، مکّے و مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی اُمّت کے لیے اتنا خیال رکھا! کاش ہم بھی اپنی زندگی میں صرف زبان سے نہیں بلکہ عملی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد کو زندہ رکھیں، اور سنتوں کو اپنا معمول بنا کر چلتی پھرتی تصویر سنت بن جائیں!

اپنی اُمَّت کو یاد رکھنے والے آقا

نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمّت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اَنبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائے جائیں گے، وہ ان پر بیٹھیں گے، لیکن میرا منبر باقی رہے گا۔ میں اس پر نہ بیٹھوں گا بلکہ اپنے رب کے حضور سیدھا کھڑا رہوں گا، اس ڈر سے کہ کہیں مجھے جنّت میں بھیج دیا جائے اور میری اُمّت میرے بعد رہ جائے۔ پھر عرض کروں گا: 'یَا رَبّ! میری اُمّت، میری اُمّت۔‘‘

اللہ پاک فرمائے گا: 'اے محمد! تیری کیا مرضی ہے؟ میں تیری اُمّت کے ساتھ کیا کروں؟

میں عرض کروں گا: 'اے رب! ان کا حساب جلد فرمادے۔

پس میں شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے اُن کی رہائی کی چٹھیاں ملیں گی، جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے۔ یہاں تک کہ مالک داروغۂ دوزخ عرض کرے گا: 'اے محمد! آپ نے اپنی اُمّت میں ربّ کا غضب نہ چھوڑا۔ (مستدرک حاکم، کتاب الایمان، للانبیاء منابر من ذهب، 1/242، حدیث: 228)

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!