فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم الشان باب ہے جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عسکری قیادت، روحانی عظمت، اخلاقی بلندی اور عفو و درگزر اپنی انتہا پر نظر آتے ہیں۔ یہ صرف ایک شہر کی فتح نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی، جس نے دشمنوں کو دوست اور مخالفین کو عاشق بنا دیا۔ فتحِ مکہ سے قبل لشکرِ اسلام کا منظم اجتماع
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی فرما رہے تھے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان کو وادی کے کنارے کھڑا کیا تاکہ وہ اللہ کے لشکر کے تمام دستوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔
یہ منظر ابو سفیان کے لیے حیرت، خوف اور عبرت کا مجموعہ تھا۔ جب پورا لشکر اس کے سامنے سے گزر گیا تو وہ فوراً اہلِ مکہ کو خبردار کرنے کے لیے شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ ذی طویٰ میں لشکرِ اسلام کا پڑاؤ
لشکرِ اسلام کا پہلا دستہ ذی طویٰ کے مقام پر پہنچ کر رک گیا تاکہ پورا لشکر یہاں جمع ہو جائے اور سبز پوش دستۂ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شامل ہو جائے۔ یہ مقام دراصل فتح سے قبل عسکری نظم و ضبط اور مرکزی قیادت کا مظہر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ میں عاجزانہ داخلہ
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ناقہ قصواء پر سوار تھے۔ سرِ مبارک پر یمن کی بنی ہوئی چادر بطور عمامہ بندھی ہوئی تھی۔ فتح کے اس عظیم لمحے میں:
-
سر جھکا ہوا۔ -
زبان پر حمد و ثنا۔ -
جبینِ مبارک کجاوے سے قریب۔ -
دل اللہ کی عظمت میں ڈوبا ہوا۔
یہ فتح غرور کی نہیں، عبودیت کی فتح تھی۔ مکہ کی گلیاں، چھتیں اور دروازے دیدار کے شائقین سے بھر چکے تھے۔ مگر فاتحِ مکہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیکرِ عجز و انکسار بنے ہوئے تھے۔ اگرچہ فاتح، مگر سراپا عبد
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور بائیں جانب حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ یہ منظر بتا رہا تھا کہ اسلامی قیادت اقتدار میں بھی تواضع سکھاتی ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستے کا واقعہ اور قضاءِ الٰہی
جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذاخر کی چوٹی پر پہنچے تو تلواروں کی چمک دیکھی۔ فرمایا:
میں نے تو جنگ سے منع کیا تھا؟
عرض کیا گیا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستے کی تلواریں ہیں، مشرکین نے پہلے حملہ کیا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
قَضَاءُ اللهِ خَيْرٌ
یعنی ،جو اللہ کا فیصلہ ہے، وہی بہتر ہے۔
قیامِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخی جگہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے مکانات دیکھ کر فرمایا:
یہی ہماری قیام گاہ ہو گی، یہی وہ مقام ہے جہاں قریش نے ہمارے خلاف قطع تعلقی کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ جگہ خیف بنی کنانہ تھی، جہاں بنو ہاشم کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیام گاہ
فتحِ مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، غسل فرمایا اور آٹھ رکعت نمازِ چاشت ادا کی۔ یہاں سادگی کا عالم یہ تھا کہ:
-
خشک روٹی۔ -
سرکہ بطور سالن۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
سرکہ بہترین سالن ہے۔ امان دینے کا عظیم اصول
حضرت اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا نے دو افراد کو امان دی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جسے تم نے امان دی، اسے ہماری طرف سے بھی امان ہے۔
یہ اعلان اسلامی قانونِ امان کی روشن مثال ہے۔ مسجدِ حرام میں داخلہ اور تطہیرِ کعبہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجدِ حرام تشریف لائے، طواف کیا، حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور کعبہ میں موجود 360 بتوں کو گراتے جاتے اور یہ آیت پڑھتے جاتے:
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ
یہ توحید کی فتح اور شرک کی شکست تھی۔
کنجی کی واپسی اور عدلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کعبہ کی کنجی حضرت عثمان بن طلحہ کو واپس دیتے ہوئے فرمایا:
یہ کنجی ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی، سوائے ظالم کے کوئی نہیں چھینے گا۔ دربارِ عام اور تاریخ ساز خطبہ
حرمِ کعبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عالمگیر خطبہ دیا، جس میں فرمایا:
-
جاہلیت ختم۔ -
خون کے بدلے معاف۔ -
فضیلت کا معیار تقویٰ۔
اور سورۂ حجرات کی آیت تلاوت فرمائی۔ کفارِ مکہ سے سوال اور عظیم معافی v آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:
تم کیا سمجھتے ہو، میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟
انہوں نے کہا:
آپ کرم والے بھائی ہیں۔
فرمایا:
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
جاؤ، تم سب آزاد ہو۔
یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی معافی تھی۔ بیعتِ اسلام اور عورتوں کی بیعت
کوہِ صفا کے دامن میں مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کیا۔ عورتوں سے بیعت مصافحہ کے بغیر لی گئی۔ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کا ایمان لانا فتحِ دل کی سب سے بڑی مثال ہے۔ فتحِ مکہ کا عالمی پیغام
فتحِ مکہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
-
اقتدار میں عاجزی۔ -
دشمنوں کے لیے رحمت۔ -
فتح میں عدل۔ -
طاقت کے ساتھ اخلاق۔
یہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت کا جوہر ہے۔ اختتامی کلمات
فتحِ مکہ صرف تاریخ نہیں، اخلاقِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زندہ معجزہ ہے۔ یہ فتح آج بھی دنیا کو پیغام دیتی ہے کہ: دلوں کو جیتنے کا راستہ تلوار نہیں، کردار ہے۔ مختصر سوالات و جوابات
سوال 1: فتحِ مکہ سے قبل عسکری تیاری کیوں خفیہ رکھی گئی؟
جواب: تاکہ اہلِ مکہ کو پیشگی خبر نہ ہو اور بغیر خونریزی مکہ فتح ہو سکے۔
سوال 2: لشکرِ اسلام کس مہینے میں مکہ کی طرف روانہ ہوا؟
جواب: لشکرِ اسلام ماہِ رمضان المبارک میں مکہ کی طرف روانہ ہوا۔
سوال 3: روزہ افطار کرنے کا حکم کہاں دیا گیا؟
جواب: مقامِ کُدید یا کراع الغمیم پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افطار فرمایا۔
سوال 4: ابو سفیان نے لشکرِ اسلام کہاں دیکھا؟
جواب: ابو سفیان نے مرالظہر کے مقام پر لشکرِ اسلام کا عظیم منظر دیکھا۔
سوال 5: ابو سفیان پر لشکرِ اسلام کا کیا اثر ہوا؟
جواب: وہ لشکر کے جاہ و جلال کو دیکھ کر خوف زدہ اور مرعوب ہو گیا۔
سوال 6: انصار کے علمبردار کون تھے؟
جواب: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصار کے علمبردار تھے۔
سوال 7: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کے بارے میں کیا اعلان فرمایا؟
جواب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آج کا دن جنگ نہیں بلکہ رحمت اور معافی کا دن ہے۔
سوال 8: فتحِ مکہ کا سب سے بڑا اخلاقی سبق کیا ہے؟
جواب: قدرت کے باوجود معافی، عفو و درگزر اور رحم دلی۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!