صلحِ حدیبیہ کا تاریخی پس منظر، شرائط اور نتائج

صلحِ حدیبیہ اسلامی تاریخ کا اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے آئندہ اسلامی فتوحات کی بنیاد رکھی۔ اس میں مسلمانوں کے عمرہ کی نیت، دس سالہ جنگ بندی، ہتھیاروں کی پابندی، اور قبائل عرب کی آزادی شامل تھی۔ قرآن نے اسے فتحِ مبین قرار دیا (سورہ فتح، آیت 1)۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے فوائد بیان کیے۔ حدیبیہ کے بعد اسلام کا پرچم خیبر، فدک اور تبوک میں پھیلایا گیا اور مسلمانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ واقعہ صبر، حکمت، اخلاق اور امن کا عملی سبق دیتا ہے، جس سے قیادت اور سیاسی بصیرت کی عظمت واضح ہوتی ہے۔

December 19, 2025

صلحِ حدیبیہ کا تاریخی پس منظر

صلحِ حدیبیہ تاریخ اسلام کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے، کیونکہ اسلام کی آئندہ فتوحات اور ترقیات کی بنیاد یہی معاہدہ بنا۔ اگرچہ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوتی تھی، مگر قرآنِ مجید نے اسے فتحِ مبین قرار دیا۔

مدینہ کے مسلمان بیت اللہ کی زیارت کے شوق میں بے چین رہتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یقین دلایا کہ عنقریب یہ رکاوٹیں ختم ہوں گی۔ اسی دوران حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب دیکھا کہ مسلمان امن و امان کے ساتھ مسجدِ حرام میں داخل ہو رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اس خواب کو وحی الہی سمجھا اور اس کی تعبیر کے منتظر رہے۔

ذوالقعدہ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے۔ قریش کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر ایک قاصد مکہ بھیجا گیا، جس نے اطلاع دی کہ کفار مسلمانوں کو ہرگز داخل ہونے نہیں دیں گے اور فوج تیار کر کے خالد بن ولید کو راستہ روکنے کے لیے بھیج دیا۔

ان حالات میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشاورت فرمائی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رائے دی کہ چونکہ مسلمان عمرہ کے لیے آئے ہیں، اس لیے آگے بڑھا جائے اور اگر روکا گیا تو مقابلہ کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نام سے آگے بڑھنے کا حکم دیا، مگر جنگ سے بچنے کے لیے معروف راستہ چھوڑ کر ایک دشوار گزار راستے سے حدیبیہ پہنچ گئے۔ (سبل الہدی، ج5، ص61-62)

یوں قریش کی جنگی تدبیر ناکام ہوئی اور مسلمانوں نے صلحِ حدیبیہ کی بنیاد رکھی، جو آگے چل کر اسلام کی عظیم فتوحات کا سبب بنی۔

حدیبیہ میں قیام اور معجزہ کنواں

ناقہ قصویٰ کا رکنا

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناقہ قصویٰ بیٹھ گئی۔ صحابہ کرام نے سمجھا کہ تھکن کی وجہ سے ہے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اسے اسی ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھیوں کو مکہ جانے سے روکا تھا۔

کنویں کا معجزہ

صحابہ نے پانی کی کمی کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر کنویں میں گاڑنے کا حکم دیا۔ تیر گاڑتے ہی پانی جوش مار کر نکل آیا اور کنواں بھر گیا، جس سے پورا لشکر اور جانور کئی دن تک سیراب ہوئے۔(سبل الہدی، ج5، ص61-62)

صلحِ حدیبیہ کیوں ہوئی؟

بدیل بن ورقاء خزاعی کی ملاقات

حدیبیہ میں سب سے پہلے بدیل بن ورقاء خزاعی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اطلاع دی کہ قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بڑی فوج تیار کر رکھی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ مسلمان جنگ کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کی نیت سے آئے ہیں، لہٰذا قریش کے لیے بہتر ہے کہ وہ صلح کو ترجیح دیں، کیونکہ مسلسل لڑائیوں سے وہ پہلے ہی جانی و مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔

قریش کے معاہدہ پر آمادگی

بعد میں عروہ بن مسعود ثقفی، حلیس بن علقمہ، مکرز بن حفص، اور سہیل بن عمرو قریش کی طرف سے آئے اور گفتگو کے بعد معاہدہ تحریری شکل میں طے پایا۔

صلحِ حدیبیہ کی شرائط

دس سالہ جنگ بندی

فریقین کے درمیان دس سال تک کسی قسم کی جنگ نہیں ہوگی۔

عمرہ کی شرط

مسلمان اس سال عمرہ ادا کیے بغیر واپس جائیں گے، جبکہ اگلے سال تین دن کے لیے مکہ میں قیام کریں گے۔

ہتھیاروں کی پابندی

مسلمان تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار ساتھ نہیں لائیں گے اور تلوار بھی نیام میں بند ہوگی۔

افراد کی واپسی کی شرط

مکہ سے مدینہ جانے والے افراد واپس کر دیے جائیں گے، مگر مدینہ سے مکہ آنے والے واپس نہیں کیے جائیں گے۔

قبائلِ عرب کی آزادی

تمام قبائل عرب کو اختیار ہوگا کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں معاہدۂ دوستی کرلیں۔

(سبل الہدی والرشاد، ج5، ص52؛ الکامل فی التاریخ، ج2، ص87-89)

صلحِ حدیبیہ کے دور رس نتائج

قرآنی تائید

یہ صلح بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت تھی، مگر اسلام کے پُرامن پھیلاؤ اور آئندہ عظیم فتوحات کی بنیاد بنی۔ قرآن نے اسے فتحِ مبین قرار دیا:

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا

(سورۂ فتح، آیت 1)

یہ آیت مسلمانوں کو تسکین دینے کے لیے نازل ہوئی، تاکہ مکہ میں داخل نہ ہونے کی حکمت اور رحمت کو سمجھ سکیں۔

صحابہ کرام علیہم الرجوان کا قول

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

اسلام میں حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں، مگر لوگ اس کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

(فتاویٰ رضویہ، 30/381؛ سیرت حلبیہ، 3/41)

مسلمانوں کی کثرت

حضرت امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صلحِ حدیبیہ کے بعد امن قائم ہونے سے لوگ ایک دوسرے سے ملنے لگے اور اسلام کی دعوت عام ہو گئی۔ جس شخص میں ذرا سی بھی عقل تھی، وہ اسلام قبول کرنے لگا۔ دو سالوں میں مسلمانوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی جتنی اس سے پہلے کئی سالوں میں نہیں ہوئی۔ (تاریخ طبری، ج2، ص224)

خیبر، فِدَک اور تبوک میں اسلام کی ترقی

صلح کے تین مہینے بعد یہود کے مراکز خیبر، فدک اور تبوک پر اسلام کا پرچم لہرا دیا گیا۔ وسطی عرب میں پھیلے قریش کے حلیف قبائل ایک ایک کر کے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ (عامہ کتبِ سیرت)

صلحِ حدیبیہ سے حاصل ہونے والے اہم اسباق

  • حالات کی نزاکت کو دیکھ کر بعض اوقات مفاہمت اور سمجھوتا کرنا دور اندیشی اور سلامتی کا سبب ہوتا ہے۔

  • بڑے اور دیرپا فوائد کے لیے وقتی طور پر چھوٹے فوائد کو نظر انداز کرنا حکمت ہے۔

  • خونریزی یا فساد کے خطرے کی صورت میں حق پر ہونے کے باوجود بھی اپنا حق ترک کرنا بہتر ہے۔

  • ذاتی، خاندانی یا معاشرتی مسائل میں بعض اوقات پیچھے ہٹ جانا امن قائم رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

  • اگر صبر کرنے سے مستقبل میں زیادہ فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہو تو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

مختصر سوالات و جوابات

س: صلحِ حدیبیہ کس سال ہوئی؟

ج: ذوالقعدہ 6 ہجری میں۔

س: مسلمانوں نے اس سال عمرہ کیوں نہیں کیا؟

ج: صلحِ حدیبیہ کے معاہدے کے تحت اس سال عمرہ نہ کرنے کا فیصلہ ہوا، جبکہ اگلے سال تین دن کے لیے مکہ میں قیام کیا گیا۔

س: صلحِ حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا؟

ج: امن قائم ہونے اور اسلامی دعوت عام ہونے کی وجہ سے لوگ آسانی سے اسلام قبول کرنے لگے۔

س: صلحِ حدیبیہ کا سب سے بڑا فائدہ کیا تھا؟

ج: مسلمانوں کو آئندہ فتوحات کے لیے سیاسی اور اجتماعی حکمت، امن و اطمینان، اور اسلامی طاقت کے پھیلاؤ کا موقع ملا۔

س: صلحِ حدیبیہ کی سب سے اہم شرائط کیا تھیں؟

ج: دس سالہ جنگ بندی، عمرہ کی شرط، ہتھیاروں کی پابندی، افراد کی واپسی کی شرط، اور قبائل عرب کی آزادی۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!