سرورکائنات سے عشق اور ایمان کا سب سے میٹھا ذائقہ

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت ایمان کی روح اور دل کی حقیقی مٹھاس ہے۔ یہ مضمون قرآن و حدیث، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درخشاں واقعات اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فرمودات کی روشنی میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جانیے کہ محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح کردار کو پاکیزگی، عمل کو اخلاص اور زندگی کو مقصد عطا کرتی ہے۔ اگر آپ ایمان کی حلاوت، قلبی سکون اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی چاہتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔

February 23, 2026

عشق رسول ایمان کی جان:

عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی جان ہے۔ایمان، عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر نامکمل ہے، جس طرح روح کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت کے چراغ روشن کئے بغیر ایمان زندہ نہیں رہتا۔ جو دل عشقِ رسول سے خالی ہو، خواہ وہ کتنے ہی دعوے کرے، سچا اور کامل مؤمن نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ایمان کی حقیقی مٹھاس و حلاوت پا سکتا ہے۔

عشق رسول کے بغیر ایمان نامکمل:

بخاری شریف کی حدیث پاک ہے کہ رسول اکرم، نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن یعنی تم میں سے کوئی اس وقْت تک مومن نہیں ہو سکتاجب تک اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر میں اس کا محبوب نہ ہو جاؤں۔( بخاری، ص74، حديث:15)

عشقِ رسول کے مینار:

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس بلند مقام پر فائز تھے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ حضور سرورِ کائنات ص صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نزدیک والدین، اولاد، مال، جان اور عزت و آبرو سب سے بڑھ کر محبوب تھے۔ یہی وہ لازوال عشق تھا جس نے انہیں ہجرت کے کٹھن مرحلوں میں ثابت قدم رکھا، بدر و اُحد اور حنین کے معرکوں میں سینہ سپر بنایا، اور دین کی سربلندی کے لیے اپنے مال و جان تک نچھاور کرنے پر آمادہ کیا۔ کفار کے ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے مگر ان کے حوصلے کبھی متزلزل نہ ہوئے۔ وہ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر اپنی پوری زندگی قربان کر کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مثال قائم کر گئے جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے چراغِ راہ ہے۔

محبت رسول پر رشتہ داری قربان:

ان کی محبتِ رسول کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جنگ بدر میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کا حقیقی ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ غصے میں بھرا ہوا جنگ کے لیے میدان میں نکلاحضرت فاروق اعظمرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑھ کر مقابلہ کیا۔ اور بھانجے نے ماموں کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ سر کو کاٹتی ہوئے جبڑے تک اتر گئی اور فاروق اعظمرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قیامت تک کے لئے یہ نظیر قائم کردی کہ قبیلہ اور رشتہ داری سب کچھ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے۔

عظمت رسول پر والد کی محبت قربان:

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان صلح حدیبیہ کے زمانے میں مدینہ آئے اپنی بیٹی سے ملنے گئے اور بستر پر بیٹھنے لگے تو بی بی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بستر الٹ دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ پاک کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک بستر ہے اور تم مشرک ہونے کی وجہ سے ناپاک ہو اسلئے تم اس بستر نبوت پر نہیں بیٹھ سکتے۔ ابوسفیان کو اس سے بڑا رنج ہوا مگر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے دل میں جو عظمت و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھی اسکے لحاظ سے وہ کب برداشت کرسکتی تھیں کہ بستر نبوت پر ایک مشرک بیٹھے۔ اللہ اکبر! حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے باپ کی عظمت و محبت کو محبت رسولصلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کردیا کیونکہ یہی ایمان کی شا ن ہے کہ باپ چھوٹتا ہو تو چھوٹ جائے مگر عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔ (الطبقات الکبری، 8/78)

عزت رسول کا چرچہ:

عبد اللّٰہ بن اُبی کے بیٹے کا نام بھیعبد اللّٰہتھا اور یہ بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے ،جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور باپ سے کہنے لگے :اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونےنہیں دوں گا جب تک تو اس کا اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم عزیز ہیں ۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کابرتاؤ کرنے والے تھے مگر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں نہ رہی۔ آخر اس نے مجبور ہوکر اقرار کیا کہواللّٰہمیں ذلیل ہوں اور محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم عزیز ہیں ، اس کے بعد مدینہ میں داخل ہوسکا۔( سیرت حلبیہ،2 / 393، مدارج النبوۃ، 2 / 157)

تبرکات رسول سے محبت:

حضرت سیدنا کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے سرکارصلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ایک قصیدہ لکھ کربارگاہِ رسالت میں سنایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکرانہیں تحفۃً اپنی چادر مبارک عطا فرمائی۔ حضرت سیدنا کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعدحضرت سیّدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ مقدس چادر ان کے صاحبزادے سے بیس ہزار درہم کے عوض خریدلی۔ آپرضی اللہ عنہ کے بعد تمام خلفاعیدین میں وہی چادر اوڑھ کر نکلتےنیز عرصہ دراز تک وہ چادرسلاطینِ اسلام کے پاس ایک مقدس تبرک کے طور پرباقی رہی۔( الاصابۃ، 5 / 444،مدارج النبوۃ،2 / 338)

اعلیٰ حضرت کا عشق رسول

امام اہلسنت اعلیحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت با سعادت بریلی شریف کے محلہ جسولی میں ، کہ پہلے وہی آپ کا آبائی مکان ۔ اور حضرت جد امجد مولانا شاہ رضا علی خاں صاحب قدس سرہ کا قیام گاہ تھا۔ 10 شوال المکرم 1272ھ روز شنبہ وقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء موافق 11 جیٹھ سدی 1913ء سمبت کو ہوئی۔ تاریخی نام ”المختار (۱۲۷۲ھ) ہے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سراپا عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ آپ کا نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش شریف اس حقیقتِ درخشاں کا زندہ و جاوید شاہد ہے۔ آپ کی نوکِ قلم ہی نہیں بلکہ گہرائیِ قلب سے نکلا ہوا ہر مصرع، تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پایاں محبت، والہانہ عقیدت اور ادبِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گواہی دیتا ہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کبھی کسی دنیوی تاجدار کی خوشامد کے لیے قصیدہ نہیں لکھا؛ اس لیے کہ آپ نے حضور تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و غلامی کو دل و جان سے قبول کیا اور اس میدان میں مرتبۂ کمال کو پہنچے۔ اس روحانی وابستگی اور اخلاص کا اظہار آپ نے اپنے ایک ایمان افروز شعر میں یوں فرمایا:

انہیں جانا، انہیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام

الحمد للہ! میں دنیا سے مسلمان گیا

یہ شعر محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک کامل عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب کی صدائے یقین، وفائے محبت، اور استقامت ایمان کا مظہر ہے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا غیرتِ ایمانی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ایک مرتبہ ریاست نان پارہ (ضلع بہرائچ، یوپی، ہند) کے نواب کی مدح میں شعرا نے قصائد تحریر کیے۔ چند افراد نے بارگاہِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں بھی عرض کی کہ حضور! آپ بھی نواب صاحب کی تعریف میں کوئی قصیدہ مرحمت فرمائیں۔

امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ نے اس درخواست کے جواب میں کسی دنیوی مدح کے بجائے ایک نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تحریر فرمائی، جس کا ایمان افروز مطلع ہے:

وہ کمالِ حسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دُور ہے، یہی شمع ہے کہ دُھواں نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

  • کمال = پورا ہونا، انتہا کو پہنچنا۔

  • نقص = خامی، عیب۔

  • خار = کانٹا۔

شرحِ کلامِ رضا:

میرے آقا، محبوبِ ربِّ ذوالجلال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن و جمال درجۂ کمال تک پہنچا ہوا ہے؛ یعنی ہر اعتبار سے کامل و بے عیب۔ وہاں نقص کا نہ وجود ہے، نہ تصور۔ دنیا کے ہر پھول کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں، مگر گلشنِ آمنہ کا یہ مہکتا ہوا پھول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر خار سے پاک ہے۔ ہر شمع میں دھواں ایک معروف عیب ہے، لیکن بزمِ رسالت کی یہ نورانی شمع صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قسم کے دھوئیں اور عیب سے منزہ ہے۔

اسی نعت کے مقطع میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے نان پارہ کی بندش کو نہایت لطیف انداز میں برتا:

کروں مدحِ اہلِ دولت رضا؟ پڑے اس بلا میں میری بلا!

میں گدا ہوں اپنے کریم کا، مرا دین پارۂ ناں نہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

  • مدح = تعریف ۔

  • اہلِ دولت = مالدار لوگ۔

  • پارۂ ناں = روٹی کا ٹکڑا۔

شرحِ کلامِ رضا:

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں اہلِ دولت کی مدح سرائی کیوں کروں؟ میں تو اپنے آقائے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کا گدا ہوں۔ میرا دین دنیاوی منفعت یا “پارۂ ناں” نہیں کہ جس کے لیے میں مالداروں کی خوشامد کرتا پھروں۔ میری نسبت، میری غیرتِ ایمانی، اور میری وفا صرف حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وابستہ ہے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا کمالِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

میرے آقا، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والہانہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کر دے تو ایک پر لا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اور دوسرے پر محمدٌ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا ہوا پائے گا۔‘‘

یہ جملہ دراصل اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ آپ کے نزدیک توحید اور رسالت ایک ہی ایمان کی دو روشن تجلیاں ہیں، اور آپ کا قلب ان دونوں انوار سے معمور تھا۔

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان رحمۃ الله علیہ ” سامان بخشش “ میں فرماتے ہیں:

خدا ایک پر ہو تو اک پر محمد

اگر قلب اپنا دو پارہ کروں میں

مشائخ زمانہ کی نظروں میں آپ رحمۃ اللہ علیہ واقعی فنافی الرسول تھے۔ اکثر فراق مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلممیں نمکین رہتے اور سرد آہیں بھرا کرتے۔ پیشہ ور گستاخوں کی گستاخانہ عبارات کو دیکھتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی اور پیارے مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں گستاخوں کا سختی سے زد کرتے تاکہ وہ جھنجھلا کر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو بُرا کہنا اور لکھنا شروع کر دیں۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ اکثر اس پر فخر کیا کرتے کہ باری تعالی نے اس دور میں مجھے ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ڈھال بنایا ہے۔ طریق استعمال یہ ہے کہ بد گویوں کا سختی اور تیز کلامی سے رد کرتا ہوں کہ اس طرح وہ مجھے برابھلا کہنے میں مصروف ہو جائیں۔ اُس وقت تک کیلئے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی شان میں گستاخی کرنے سے بچے رہیں گے۔ حدائق بخشش شریف میں فرماتے ہیں:

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا

دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

یہ ایمان افروز شعر امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے سوزِ عشق، والہانہ عقیدت اور انتہائے محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین مظہر ہے۔ اس میں عاشقِ صادق کے قلبی جذبات، عقیدۂ محبت اور روحانی وابستگی نہایت بلیغ انداز میں جلوہ گر ہیں۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہیں کہ: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میری ایک جان کیا، دونوں جہان بھی آپ پر قربان۔ اگر کروڑوں جہان بھی ہوں تو وہ بھی نثار کرنے کو دل بے تاب ہے۔ عشق کی یہ انتہا دراصل عبدیت کی معراج ہے۔

مزید یہ کہ شاعر نے مبالغۂ عشق کے ذریعے یہ حقیقت واضح کی کہ: عاشق کے نزدیک سب سے قیمتی متاع جان ہے، مگر عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جان بھی ہیچ ہے، دنیا اور آخرت کی تمام نعمتیں بھی محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے کم تر ہیں۔ یہ اظہار اس عقیدے کی عملی تصویر ہے کہ: محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی جان اور اصلِ دین ہے۔

شاعر فرماتے ہیں:اگر دونوں جہان بھی قربان کر دیے جائیں تو بھی دل کی پیاس باقی رہے گی۔ کاش! کروڑوں جہان ہوتے تاکہ وہ سب بھی محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نثار کر دیے جاتے۔ یہ مصرعہ درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے:

  • عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لامحدود وسعت۔

  • قربانی کی انتہائے تمنا۔

  • محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا بے مثال اعتراف۔

یعنی, حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ایسی بلند ہے کہ:

  • دو جہاں بھی کم محسوس ہوتے ہیں۔

  • عاشق کا دل مزید نچھاور کرنے کو بے قرار رہتا ہے۔

عشق مصطفیٰ ایمان کی بنیاد:

یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ ایمان کی بنیاد عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ جب تک دل میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا چراغ روشن نہ ہو، ایمان کی روشنی مکمل نہیں ہوسکتی۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے اپنے کردار سے قیامت تک کے لیے یہ پیغام چھوڑا کہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ایمان کی جان، کامیابی کی ضمانت اور سعادتِ ابدی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

ان احادیث اور آثار سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سچا عشقِ رسول ملنا سعادت مند ہونے کی دلیل ہے کیوں کہ اس کا تعلق براہ راست اللہ پاک کے محبوب سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، اس لئے ایک مسلمان کو ہمیشہ ہر حال میں بارگاہ الہٰی سے سچا عشق رسول ملنے کی دعا مانگنی چاہئے۔

امید ہے کہ مذکورہ باتوں کو پڑھنے کے بعد قارئین کے دل میں امور خیر کا جذبہ ضرور پیدا ہو گا۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولائے کریم کامل مؤمن اور سچا عاشق رسول بننے والوں میں ہمارا نام بھی شامل فرمائے اور اعمالِ خیر کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!