کائنات میں حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات کی اہمیت
کائنات کی تخلیق کا مقصد اور بزمِ ہستی کی حقیقی رونق اگر کسی ذات سے وابستہ ہے تو وہ صرف سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس ہے۔ اللہ ربُّ العزت نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو وہ عظیم مقام و مرتبہ عطا فرمایا جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی مثال۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان و عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام مخلوقات میں سب سے افضل و اکمل بنایا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کو اپنی یاد کے ساتھ بلند فرمایا۔
’’سب سے اولٰی و اعلیٰ ہمارا نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‘‘عقیدہ و حقیقت
’’سب سے اولٰی و اعلٰی ہمارا نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم‘‘ محض ایک شعری مصرع نہیں بلکہ ایک کامل عقیدہ اور روشن حقیقتِ ایمانی ہے۔ اس جملے میں حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی فضیلت کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں:
اولیت، اعلیت اور اکملیت نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صفات
-
اولیت: تخلیق کے اعتبار سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نور سب سے پہلے پیدا کیا گیا۔ -
اعلیت: شان و رفعت کے لحاظ سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مقام تمام انبیاء و مرسلین سے بلند و بالا ہے۔ -
اکملیت: حسنِ صورت و سیرت، اخلاقِ کریمانہ اور معجزاتِ نبوت میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کمال کی انتہا پر فائز ہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوق بنائی تومجھے اس کے دوحصّوں میں سے بہتر حصّے میں رکھا ، پھر قبیلے بنائے تو مجھے بہتر قبیلے میں رکھا ، پھر گھر اور خاندان بنائے تو مجھے بہتر خاندان میں پیدا کیا ،چنانچہ میں ساری مخلوق سے بہتر ہوں اور میرا خاندان بھی سب خاندانوں سے بہترہے۔ (ترمذی،ج5،ص350، حدیث:3627)
شرح حدیث( علّامہ حسین بن محمود شیرازی مظہری حنفی ) شرح حدیث علّامہ حسین بن محمود شیرازی مظہری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات727ھ) اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوق بناکر اس کے دو حصے کئے: ایک عرب اور دوسرا عجم، پھر مجھے بہتر حصے یعنی عرب میں پیدا فرمایاپھر عرب کو مختلف قبیلوں میں بانٹا تو مجھے بہترین قبیلے یعنی قریش میں رکھا ، پھر قبیلوں میں خاندان بنائے تو مجھے بہتر خاندان یعنی بنو ہاشم میں پیدا فرمایا ،سو میرا قبیلہ تمہارے قبیلوں سے بہتر ہے اورمیرا خاندان تمہارے خاندانوں سے بہتر ہے اور جب یہ بات ذہن نشین ہو گئی تو جان لو کہ میں خود بھی تمام مخلوق الٰہی سے افضل ہوں اور میرا خاندان بھی سب خاندانوں سے بہترہے۔ پاکیزہ وجودِ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور نورانی صفات خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضوراکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاکیزہ وجود اور روشن نبوی صفات کو بنظر عنایت حضرت آدم علیہ السَّلام کی مبارک پشت میں محفوظ رکھا گیا ، اس وجودمسعود کو جوہرمحبت سے غذا دی گئی ، حضرت آدم علیہ السَّلام اوران کی اولاد نے آپ سے شرف پایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس پاکیزہ (نوری) وجود کو پشت در پشت نزول کا حکم دیا حتی کہ یہ مبارک وجود بنو ہاشم تک پہنچ گیا،پس فضیلت اور شرافت کے اعتبار سے نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مقام و مرتبہ ساری مخلوق میں وہی ہے جوتمام اعضا میں دل کا ہے۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح،ج6،ص102،تحت الحدیث:4478) 3 فرامین مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : (1)تین وجوہ کی بنا پر عرب سے محبت کرو کہ میں عربی ہوں، قرآن مجید عربی میں ہے اور اہل جنت کا کلام عربی ہے۔(برکات آل رسول، ص235،236) (2)اللہ تعالیٰ نے قریش کو ایسی سات صفات میں فضیلت دی ہے جو ان سے پہلے کسی کو دیں نہ بعد میں: (۱) میں قریش میں سے ہوں (۲)نبوت (آخری نبی ) ان میں ہے (۳)بیت اللہ شریف کی دربانی ان میں ہے (۴)حاجیوں کو پانی پلانا ان میں ہے (۵)اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائی (۶)انھوں نے دس10 سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ، اس وقت ان کے سوا کوئی عبادت کرنے والا نہیں تھا (۷)ان کے حق میں سورۂ قریش نازل ہوئی ، جس میں ان کے سوا کسی کا ذکر نہیں۔ (برکات آل رسول، ص233،234) (3)مجھے جبریلِ امین نے کہا : میں نے زمین کے شرق و غرب چھان ڈالے مگر مجھے بنی ہاشم سے زیادہ فضیلت والے کسی باپ کے بیٹے نہیں ملے۔ (برکات آل رسول، ص91) سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی مذکورہ حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی محترم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سب نبیوں اور رسولوں سے افضل و اعلیٰ ہیں کہ آپ خود ارشاد فرما رہے ہیں : میں خود ساری مخلوق سے بہتر و بَرتَر ہوں۔ ترمذی شریف میں ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں تمام اولادِآدم کا سردار ہوں۔ (ترمذی ،ج 5،ص99، حدیث:3159 ) امامِ اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ مبارَکہ” تَجَلِّی الْیَقِیْن“(فتاوی رضویہ، جلد 30 صفحہ 129 تا 264) میں اس پر تفصیلی کلام فرمایا ہے۔ رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء واجدادکا ایمان علامہ زین الدین محمد معروف بہ عبدالرءوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1031ھ) مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ”یعنی حضوراکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی اصل (ماں باپ) کے لحاظ سے بھی سب سے بہترہیں کیوں کہ آپ پشت در پشت پاک صلبوں اور رحموں میں (نکاح کے ذریعے) منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ کی پشت میں پہنچے۔“(فیض القدیر،ج2،ص294،تحت الحدیث:1735) مذکورہ حدیثِ پاک سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام آباء و اجداد پاکیزہ، معزز اور برگزیدہ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب مؤمن اور موحد تھے، ان میں کوئی بھی کافر یا مشرک نہیں تھا، کیونکہ قرآنِ کریم کے مطابق مشرکین نہ تو پاک ہوتے ہیں اور نہ ہی مؤمنین سے بہتر ہوسکتے ہیں، جبکہ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہمیشہ پاکیزہ اور بہترین نسب میں منتقل فرمایا گیا۔ لہٰذا آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء و اجداد کا ایمان اور طہارتِ نسب ثابت ہوتی ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں ایک اور دلیل ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ پاک فرماتا ہے: ( وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ) ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے۔ (پ2، البقرۃ:221) اوررسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں : میں ہر قرن وطبقہ میں تمام قرون بنی آدم کے بہتر سے بھیجاگیا یہاں تک کہ اس قرن میں ہواجس میں میں پیداہوا۔ (بخاری،ج2،ص488،حدیث: 3557) حضرت امیر المؤمنین مولیٰ المسلین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی حدیث صحیح میں ہے : روئے زمین پر ہر زمانے میں کم سے کم سات مسلمان ضرور رہے ہیں ، ایسا نہ ہوتا تو زمین واہل زمین سب ہلاک ہوجاتے۔ (زرقانی علی المواہب،ج 1،ص327) عالم القراٰن حبرالامۃ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے:حضرت نوح علیہ الصلوۃوالسَّلام کے بعد زمین کبھی سات بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوئی، ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اہلِ زمین سے عذاب دفع فرماتاہے۔(زرقانی علی المواہب،ج1،ص328) جب صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ ہر زمانے اور ہر قرن میں روئے زمین پر کم از کم سات ایسے مسلمان بندگانِ مقبول ضرور موجود رہے ہیں اور دوسری صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ جن لوگوں میں حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت ہوئی وہ ہر زمانے اور ہر قرن میں اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے، جبکہ قرآنِ کریم کی آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کوئی کافر خواہ کتنا ہی معزز اور بلند نسب کیوں نہ ہو، وہ کسی غلام مسلمان سے بھی بہتر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ مصطفیٰ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء و امہات ہر زمانے اور ہر طبقے میں انہی صالح اور مقبول بندوں میں سے تھے، ورنہ معاذ اللہ یہ بات حدیثِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور قرآنِ کریم کے ارشاد کے خلاف لازم آئے گی۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص268،269) اجتماعِ میلاد شریف کی دلیل محفلِ میلاد اُس مبارک اجتماع کو کہا جاتا ہے جس میں نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت، ولادت کے وقت ظاہر ہونے والے معجزات، حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پاکیزہ حسب و نسب اور آپ کے فضائل و کمالات کا بیان کیا جاتا ہے۔ اس بابرکت محفل کی اصل اور بنیاد احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے، کیونکہ خود نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مختلف مواقع پر اپنے نسبِ پاک اور اس کی عظمت و شرافت کا بیان فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نسب، فضائل اور ولادت کا ذکر کرنا ایک پسندیدہ اور باعثِ برکت عمل ہے۔ چنانچہ حضور سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل میں سے کِنانہ،کِنانہ میں سے قریش ،قریش میں سے بنو ہاشم اور بنو ہاشم میں سے مجھے چُنا۔(مسلم،ص 962،حدیث:2276) اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نسب مبارک نہایت پاکیزہ اور منتخب خاندانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا جب محفلِ میلاد میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حسب و نسب، فضائل اور ولادتِ مبارکہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو درحقیقت وہ اسی مبارک تذکرے کا تسلسل ہوتا ہے جس کا اظہار خود نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا۔ اللہ پاک کی رحمت اور دعااللہ پاک کی ان پر بے شماررحمتیں ہوں اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!