رفعت ذکر رسول اکرم قرآن کی روشنی میں

رسولِ اکرم ﷺ کی رفعتِ ذکر ایک آفاقی حقیقت ہے جو عرش کی بلندیوں سے فرش کی وسعتوں تک جلوہ گر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ یعنی ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ آپ کا نام عرش، سدرۃ المنتہیٰ اور جنتی محلات پر نقش ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام نے اپنی امتوں سے آپ پر ایمان کا عہد لیا، ہر آسمانی کتاب میں آپ کا تذکرہ آیا، اذان، نماز، خطبے اور درود و سلام میں ہر لمحہ ذکرِ مصطفٰی ﷺ جاری رہتا ہے، اور سب سے زیادہ سیرت و نعتیہ ادب بھی آپ کے بارے میں لکھا گیا، یہ مضمون اسی شانِ رفعت کو قرآن کی روشنی میں بیان کرتا ہے۔

March 19, 2026

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی تفسیر اور شانِ نزول

اللہ پاک نے سورۂ الشرح میں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (پ30، الم نشرح:4)

ترجمہ: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کر دیا۔

یہ آیتِ مبارکہ حضور سیّدُالمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم الشان فضیلت پر روشن دلیل ہے۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب کو بے شمار کمالات، خصائص اور امتیازات عطا فرمائے، اور ان ہی میں ایک نمایاں شان رفعتِ ذکر ہے۔ یعنی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام، مقام اور تذکرہ دنیا و آخرت میں بلند و بالا کر دیا گیا۔

مفسرینِ کرام بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس آیت کے بارے میں حضرت جبریل علیہ السلام سے دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: اللہ پاک فرماتا ہے کہ اے محبوب! آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو آپ کا ذکر بھی میرے ساتھ کیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں اللہ پاک کی وحدانیت کے ساتھ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی شامل ہے۔ اذان ہو یا اقامت، نماز کا تشہد ہو یا خطبہ ہر جگہ

’’اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ‘‘

کے ساتھ

’’اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ‘‘

کہا جاتا ہے۔

تابعی بزرگ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر دنیا و آخرت دونوں میں بلند فرمایا۔ دنیا میں یہ حال ہے کہ ہر خطیب، ہر نمازی اور ہر مؤذن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام احترام سے لیتا ہے، اور آخرت میں مقامِ محمود اور شفاعتِ کبریٰ آپ ہی کو عطا ہوگی۔

امام بغوی رحمہ اللہ نے تفسیر بغوی میں اور دیگر مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس آیت کی یہی تفسیر نقل کی ہے کہ اللہ پاک نے اپنے ذکر کے ساتھ اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کو ملا کر آپ کو وہ رفعت عطا فرمائی جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔

پس آیتِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفعتِ ذکر محض تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک دائمی اور آفاقی حقیقت ہے ایسی حقیقت جو قیامت تک جاری رہے گی اور جس کا مظاہرہ ہر لمحہ اذانوں، نمازوں، خطبات، تلاوتِ قرآن اور درود و سلام کی صورت میں ہوتا رہے گا۔(تفسیر بغوی، پ30، الم نشرح:4،ج4،ص469ملتقطاً، تاویلات اہل السنہ، پ30، الم نشرح:4،ج5،ص489ماخوذاً)

رفعتِ ذکر کی ایک عظیم صورت

رفعتِ ذکر کی بے شمار صورتیں ہیں، اُن میں سے ایک نہایت عظیم اور بنیادی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانا اور آپ کی اطاعت کرنا تمام مخلوق پر لازم قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی عبادت اُس وقت تک مقبول نہیں جب تک بندہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت پر ایمان نہ لائے۔ گویا ایمان کی تکمیل، اطاعتِ رسول کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں اللہ کی توحید کے ساتھ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے:

(مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ)

ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔

یہ اعلان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اطاعتِ رسول دراصل اطاعتِ الٰہی ہے۔ اب وہی اطاعت بارگاہِ خداوندی میں معتبر ہے جو اطاعتِ رسول کی صورت میں ہو۔ جو شخص رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے راستے سے ہٹ کر چلے، اُس کی عبادت اور اطاعت قبول نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا کے تابع فرما دیا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، ہر بات میں اس کی تصدیق کرے، لیکن حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو اس کی تمام عبادت بے کار ہے اور وہ ایمان والا نہیں کہلائے گا۔

یہی مقام دراصل رفعتِ ذکر کی عملی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسا مرتبہ عطا فرمایا کہ ان پر ایمان کے بغیر نہ تو توحید معتبر ہے اور نہ عبادت مقبول۔ اس سے بڑھ کر ذکر کی بلندی اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندے کا رب تک پہنچنا بھی رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہو۔

ذکرِ خدا کے ساتھ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ایک نمایاں صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کو ملا دیا ہے۔ اذان میں، اقامت میں، نماز کے تشہد میں، خطبوں میں اور متعدد عبادات میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ شرف کسی اور ہستی کو حاصل نہیں ہوا۔

قرآنِ کریم میں بھی جا بجا ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن میں رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ مربوط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت، محبت، نصرت اور تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت، محبت اور نصرت ہے۔چند قرآنی اشارات ملاحظہ ہوں:

  • آپ سے جنگ خدا سے جنگ ہے(بقرہ: 278 ،279) ۔

  • آپ کی اطاعت خُدا کی اطاعت ہے(النساء:80)۔

  • آپ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے(النساء: 14)۔

  • آپ کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے(انفال:13)۔

  • آپ کی طرف بلانا خدا کی طرف بلانا ہے(النساء:61)

  • آپ کی طرف ہجرت خدا کی طرف ہجرت ہے(النساء:100)۔

  • آپ پر ایمان لانا خدا پر ایمان لانے کی طرح ضَروری ہے(النساء:136)۔

  • آپ سے مقابلہ خدا سے مقابلہ ہے(مائدہ:33)۔

  • آپ سے منہ پھیرنا خدا سے منہ پھیرنا ہے(انفال:20) ۔

  • آپ کے بلانے پر حاضِر ہونا خدا کے بلانے پر حاضر ہونا ہے یا بالفاظِ دیگر آپ کا بلاوا خدا کا بلاوا ہے(انفال:24) ۔

  • آپ سے خیانت خداسے خیانت ہے(انفال:27)

  • آپ کی طرف سے کسی شے سے بَراءَت کا اظہار خدا کی طرف سے بَراءت کا اظہار ہے(توبہ:1) ۔

  • آپ سے معاہدہ خدا سے معاہدہ ہے(توبہ:7) ۔

  • آپ کی محبت خدا کی محبت ہے(توبہ:24)۔

  • آپ کا کسی شے کو حرام قرار دینا خدا کا حرام قرار دینا ہے(توبہ:29)۔

  • آپ سے کُفر کرنا خدا سے کفر کرنا ہے(توبہ:54) ۔

  • آپ کی عطا خدا کی عطا ہے اور آپ کا فضل و کرم خدا کا فضل و کرم ہے(توبہ:59)

  • آپ کی رضا خدا کی رضا ہے اور آپ کو راضی کرنا خُدا کو راضی کرنا ہے(توبہ:62)۔

  • آپ کا کسی کو مال دینا، غنی کرنا خدا کا غنی کرنا ہے(توبہ:74)

  • آپ سے جُھوٹ بولنا خدا کی بارگاہ میں جھوٹ بولنا ہے(توبہ:90) ۔

  • آپ کی خیر خواہی خدا کی خیر خواہی ہے(توبہ:91)

  • آپ کی طرف بلانا خدا کی طرف بلانا ہے(نور:48) ۔

  • آپ کا وعدہ خدا کا وعدہ ہے(احزاب:22)

  • آپ کی رضا چاہنا خدا کی رضا چاہنا ہے(احزاب:29) ۔

  • آپ کا فیصلہ خدا کا فیصلہ ہے(احزاب:36)

  • آپ کوایذا خدا کوایذا ہے(احزاب:57) ۔

  • آپ پر پیش قدمی خدا پر پیش قدمی ہے(حجرات:1)

  • آپ کی مدد خدا کی مدد ہے۔ (حشر:08)۔

یہ تمام مضامین اسی حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسا مقام عطا فرمایا کہ ان کی ذاتِ اقدس اللہ کی اطاعت و رضا تک پہنچنے کا ذریعہ اور معیار قرار پائی۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب بھی اللہ کا نام لیتا ہے تو ساتھ ہی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے۔ کلمۂ شہادت، اذان، نماز اور خطبہ ہر مقام پر ذکرِ خدا کے ساتھ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم شامل ہے۔

یہ تعلق محض لفظی نہیں بلکہ ایمانی، عملی اور اعتقادی ہے۔ اطاعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بغیر اطاعتِ الٰہی معتبر نہیں، اور محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بغیر محبتِ خدا کامل نہیں۔

پس یہ کہنا بجا ہے کہ رفعتِ ذکر کا ایک عظیم مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کو اپنی ذات کے ذکر کے ساتھ وابستہ فرما دیا، اور قیامت تک یہ نورانی سلسلہ جاری رہے گا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خوبصورت اشعارجو عشقِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور مقامِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیان میں کہے گئے۔ان اشعار میں دراصل بارگاہِ رسالت میں انتہائی ادب، عقیدت اور والہانہ محبت کا اظہار ہے، شاعر عرض کرتا ہے:

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کہ حبیب

یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

یعنی ،میں تو اپنے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مالک ہی کہوں گا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں۔ جب محبوب اور محب (اللہ اور اس کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے درمیان کامل قرب اور تعلق ہو تو وہاں “میرا” اور “تیرا” کی جدائی باقی نہیں رہتی۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسا مقام عطا فرمایا کہ ان کی رضا، عطا اور فیصلہ سب اللہ کی عطا اور رضا کے تابع ہیں۔

اگلے شعر میں فرماتے ہیں:

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفر مقر

جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو، جو یہاں نہیں وہ وہاں نہیں

یعنی اللہ کی قسم! نجات اور فلاح کا راستہ یہی درِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے۔ جو شخص اس در سے وابستہ ہوگا وہی کامیاب ہوگا، اور جو یہاں سے منہ موڑے گا وہ کہیں اور پناہ نہیں پا سکے گا۔

یہ اشعار دراصل اسی قرآنی حقیقت کی ترجمانی ہیں کہ اطاعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی اطاعتِ الٰہی ہے اور قربِ رسول ہی قربِ خداوندی کا راستہ ہے۔

زمین و آسمان میں ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہمہ گیری

ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفعت پر یہ امور بھی واضح دلالت کرتے ہیں کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ آسمانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ انسان آپ کا ذکر کرتے ہیں، فرشتے درود بھیجتے ہیں، جنّات آپ کا تذکرہ کرتے ہیں، بلکہ دیگر مخلوقات بھی اپنے اپنے انداز میں آپ کی شان بیان کرتی ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں پتھروں اور درختوں کا سلام عرض کرنا بھی مذکور ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظمت سے آشنا ہے۔

دنیا کے ہر گوشے میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کرنے والے موجود ہیں۔ جب مشرق میں فجر کی اذان ہوتی ہے تو مغرب میں کسی اور نماز کی اذان دی جا رہی ہوتی ہے۔ یوں زمین کے ایک کنارے سے شروع ہونے والی اذانوں کا سلسلہ دوسرے کنارے تک جاری رہتا ہے، اور ہر اذان میں کلمۂ شہادت کے ساتھ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی بلند آواز سے دی جاتی ہے۔ اس طرح روئے زمین کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں ہر وقت آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مبارک نہ لیا جا رہا ہو۔

اسی طرح قرآنِ مجید کی تلاوت بھی ہر وقت دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں جاری رہتی ہے۔ لاکھوں مسلمان دن رات تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے ہیں، اور قرآنِ کریم حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکرِ خیر سے معمور ہے۔ جہاں قرآن پڑھا جا رہا ہے وہاں ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی ہو رہا ہے۔

درودِ پاک کی شان تو اور بھی بلند ہے۔ ہر لمحہ دنیا میں کروڑوں مسلمان حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود و سلام بھیج رہے ہوتے ہیں۔ اور اگر بالفرض کسی لمحے کوئی انسان درود نہ بھی پڑھے، تب بھی فرشتے ہر آن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود بھیج رہے ہیں۔ یہ فرشتے زمین کی گہرائیوں سے لے کر عرش کی بلندیوں تک پھیلے ہوئے ہیں، اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک نورانی نغمہ بن کر ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں مصروف ہے۔

ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہر گوشے میں بازگشت

شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم زمین و آسمان میں ہر جگہ سنائی دیتا ہے:

فرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ، عرش پہ طرفہ دھوم دھام

کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے

اس کا مفہوم یہ ہے کہ جہاں بھی کان لگائے جائیں، ہر گوشہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظمت و فضائل سے معمور ہے۔ فرش یعنی زمین پر، ہر شخص، ہر مخلوق آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان بیان کر رہی ہے، اور عرش یعنی آسمان کی بلندیوں پر فرشتے اور دیگر نورانی مخلوقات بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مدح و منقبت میں مشغول ہیں۔

عرش سے فرش تک نامِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جلوہ گری

رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کی رفعت کا یہ بھی ایک ایمان افروز پہلو ہے کہ روایات میں مذکور ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مبارک عرش و کرسی پر لکھا ہوا ہے، سدرۃ المنتہیٰ پر نقش ہے اور جنتی درختوں کے پتّوں اور محلات پر کندہ ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کی بلند ترین منازل بھی ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے خالی نہیں۔

تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کرتے رہے اور اپنی اپنی امتوں سے آپ پر ایمان لانے کا عہد لیتے رہے۔ آسمانی کتابوں میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بشارتیں اور اوصاف مذکور ہیں۔ یہ سلسلہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بعثت محض ایک دور یا ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت ہے۔

کتبِ سیرت و فضائل کی کثرت بھی رفعتِ ذکر کی روشن دلیل ہے۔ سوانح نگاری کی تاریخ میں سب سے زیادہ کتابیں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیبہ پر لکھی گئیں۔ فضائل و خصائص پر بے شمار تصانیف مرتب ہوئیں۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا تذکرہ ملتا ہے، اور شاعری کی دنیا میں سب سے زیادہ کلام یعنی نعتیہ شاعری آپ ہی کی مدح میں کہی گئی۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا:

اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مدّاحِ حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللہ کی

یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب قرآنِ مجید خود حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مدح و ثنا سے معمور ہے، تو کسی انسان کی مدحت کیا حیثیت رکھتی ہے؟

درحقیقت رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک ایسی آفاقی حقیقت ہے جو عرش کی بلندیوں سے لے کر زمین کے کناروں تک، آسمانی کتابوں سے لے کر انسانی زبانوں تک، اور تحریر و تقریر سے لے کر نظم و نثر تک ہر جگہ نمایاں ہے۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!