وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کی تفسیر اور شانِ نزول
اللہ پاک نے سورۂ الشرح میں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (پ30، الم نشرح:4) ترجمہ: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ یہ آیتِ مبارکہ حضور سیّدُالمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم الشان فضیلت پر روشن دلیل ہے۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب کو بے شمار کمالات، خصائص اور امتیازات عطا فرمائے، اور ان ہی میں ایک نمایاں شان رفعتِ ذکر ہے۔ یعنی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام، مقام اور تذکرہ دنیا و آخرت میں بلند و بالا کر دیا گیا۔ مفسرینِ کرام بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس آیت کے بارے میں حضرت جبریل علیہ السلام سے دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: اللہ پاک فرماتا ہے کہ اے محبوب! آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو آپ کا ذکر بھی میرے ساتھ کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں اللہ پاک کی وحدانیت کے ساتھ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی شامل ہے۔ اذان ہو یا اقامت، نماز کا تشہد ہو یا خطبہ ہر جگہ ’’اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ‘‘ کے ساتھ ’’اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تابعی بزرگ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر دنیا و آخرت دونوں میں بلند فرمایا۔ دنیا میں یہ حال ہے کہ ہر خطیب، ہر نمازی اور ہر مؤذن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام احترام سے لیتا ہے، اور آخرت میں مقامِ محمود اور شفاعتِ کبریٰ آپ ہی کو عطا ہوگی۔ امام بغوی رحمہ اللہ نے تفسیر بغوی میں اور دیگر مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس آیت کی یہی تفسیر نقل کی ہے کہ اللہ پاک نے اپنے ذکر کے ساتھ اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کو ملا کر آپ کو وہ رفعت عطا فرمائی جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ پس آیتِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفعتِ ذکر محض تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک دائمی اور آفاقی حقیقت ہے ایسی حقیقت جو قیامت تک جاری رہے گی اور جس کا مظاہرہ ہر لمحہ اذانوں، نمازوں، خطبات، تلاوتِ قرآن اور درود و سلام کی صورت میں ہوتا رہے گا۔(تفسیر بغوی، پ30، الم نشرح:4،ج4،ص469ملتقطاً، تاویلات اہل السنہ، پ30، الم نشرح:4،ج5،ص489ماخوذاً) رفعتِ ذکر کی ایک عظیم صورت رفعتِ ذکر کی بے شمار صورتیں ہیں، اُن میں سے ایک نہایت عظیم اور بنیادی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانا اور آپ کی اطاعت کرنا تمام مخلوق پر لازم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی عبادت اُس وقت تک مقبول نہیں جب تک بندہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت پر ایمان نہ لائے۔ گویا ایمان کی تکمیل، اطاعتِ رسول کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کلمۂ طیبہ میں اللہ کی توحید کے ساتھ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے: (مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ) ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ یہ اعلان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اطاعتِ رسول دراصل اطاعتِ الٰہی ہے۔ اب وہی اطاعت بارگاہِ خداوندی میں معتبر ہے جو اطاعتِ رسول کی صورت میں ہو۔ جو شخص رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے راستے سے ہٹ کر چلے، اُس کی عبادت اور اطاعت قبول نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا کے تابع فرما دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، ہر بات میں اس کی تصدیق کرے، لیکن حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو اس کی تمام عبادت بے کار ہے اور وہ ایمان والا نہیں کہلائے گا۔ یہی مقام دراصل رفعتِ ذکر کی عملی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسا مرتبہ عطا فرمایا کہ ان پر ایمان کے بغیر نہ تو توحید معتبر ہے اور نہ عبادت مقبول۔ اس سے بڑھ کر ذکر کی بلندی اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندے کا رب تک پہنچنا بھی رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہو۔ ذکرِ خدا کے ساتھ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ایک نمایاں صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذکر کو ملا دیا ہے۔ اذان میں، اقامت میں، نماز کے تشہد میں، خطبوں میں اور متعدد عبادات میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ شرف کسی اور ہستی کو حاصل نہیں ہوا۔ قرآنِ کریم میں بھی جا بجا ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن میں رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ مربوط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت، محبت، نصرت اور تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت، محبت اور نصرت ہے۔چند قرآنی اشارات ملاحظہ ہوں:-
آپ سے جنگ خدا سے جنگ ہے(بقرہ: 278 ،279) ۔ -
آپ کی اطاعت خُدا کی اطاعت ہے(النساء:80)۔ -
آپ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے(النساء: 14)۔ -
آپ کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے(انفال:13)۔ -
آپ کی طرف بلانا خدا کی طرف بلانا ہے(النساء:61) -
آپ کی طرف ہجرت خدا کی طرف ہجرت ہے(النساء:100)۔ -
آپ پر ایمان لانا خدا پر ایمان لانے کی طرح ضَروری ہے(النساء:136)۔ -
آپ سے مقابلہ خدا سے مقابلہ ہے(مائدہ:33)۔ -
آپ سے منہ پھیرنا خدا سے منہ پھیرنا ہے(انفال:20) ۔ -
آپ کے بلانے پر حاضِر ہونا خدا کے بلانے پر حاضر ہونا ہے یا بالفاظِ دیگر آپ کا بلاوا خدا کا بلاوا ہے(انفال:24) ۔ -
آپ سے خیانت خداسے خیانت ہے(انفال:27) -
آپ کی طرف سے کسی شے سے بَراءَت کا اظہار خدا کی طرف سے بَراءت کا اظہار ہے(توبہ:1) ۔ -
آپ سے معاہدہ خدا سے معاہدہ ہے(توبہ:7) ۔ -
آپ کی محبت خدا کی محبت ہے(توبہ:24)۔ -
آپ کا کسی شے کو حرام قرار دینا خدا کا حرام قرار دینا ہے(توبہ:29)۔ -
آپ سے کُفر کرنا خدا سے کفر کرنا ہے(توبہ:54) ۔ -
آپ کی عطا خدا کی عطا ہے اور آپ کا فضل و کرم خدا کا فضل و کرم ہے(توبہ:59) -
آپ کی رضا خدا کی رضا ہے اور آپ کو راضی کرنا خُدا کو راضی کرنا ہے(توبہ:62)۔ -
آپ کا کسی کو مال دینا، غنی کرنا خدا کا غنی کرنا ہے(توبہ:74) -
آپ سے جُھوٹ بولنا خدا کی بارگاہ میں جھوٹ بولنا ہے(توبہ:90) ۔ -
آپ کی خیر خواہی خدا کی خیر خواہی ہے(توبہ:91) -
آپ کی طرف بلانا خدا کی طرف بلانا ہے(نور:48) ۔ -
آپ کا وعدہ خدا کا وعدہ ہے(احزاب:22) -
آپ کی رضا چاہنا خدا کی رضا چاہنا ہے(احزاب:29) ۔ -
آپ کا فیصلہ خدا کا فیصلہ ہے(احزاب:36) -
آپ کوایذا خدا کوایذا ہے(احزاب:57) ۔ -
آپ پر پیش قدمی خدا پر پیش قدمی ہے(حجرات:1) -
آپ کی مدد خدا کی مدد ہے۔ (حشر:08)۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!