نورانی چہرے کی روشنی کی حقیقت کیا ہے؟
اللہ پاک کےپیارے نبی،محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلے آپ کی امی جان حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہانے تقریباً سات دن دودھ شریف پلایا پھر چند دن حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا نے۔( شرح زرقانی علی المواھب اللدنیۃ،المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی له ...الخ،ذکر رضاعہ وما معہ،1/258۔ مدارج النبوت،قسم دوم،باب اول ذکر نسب و حمل...الخ، 2/19) اس کے بعدسے حضرتِ بی بی حلیمہ سعدیہرضی اللہ عنہا نے دو سال کی عمر تک دودھ پلایا ہے۔( شرح زرقانی علی المواھب اللدنیة،المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی لہ علیہ الصلاة والسلام، ذکر رضاعه وما معه،1/279 ) حضرت سیدتنا بی بی حلیمہ رضی اللہ عنہا نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن شریف کے بارےمیں فرماتی ہیں:اللہ پاک کے پیارے حبیب،حضرت محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیارا پیارا نور والا چہرہ رات کے وقت اتنا زیادہ چمکتاتھا کہ اجالا کرنے کیلئے چراغ (یعنی Lamp) جلانے کی ضرورت نہ ہوتی۔ایک دن ہماری پڑوسن ام خولہ سعدیہ مجھ سے کہنے لگی:اے حلیمہ! کیا آپ اپنے گھر میں رات کے وقت آگ جَلایا کرتی ہیں کہ ساری رات آپ کے گھر میں سے پیاری پیاری روشنی نظر آتی ہے! بی بی حلیمہ نے فرمایا:”یہ آگ کی روشنی نہیں بلکہ نور والے آقا،محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور والے چہرے کی روشنی ہے۔( الکلام الاوضح فی تفسیر سورة الم نشرح ،ص98 ملخصاً)“ سب گھروں سے مشک کی خوشبو آنے کا واقعہ کیا ہے؟ بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:اللہ پاک کے نبی، حضرت محمد مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کولے کر جب میں اپنے مکان میں داخِل ہوئی تو قبیلہ بنو سعد کے گھروں میں سے کوئی گھر ایسا نہ رہا جس سے ہمیں مشک کی خوشبو نہ آنے لگی ہو اور لوگوں کے دلوں میں اللہ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت گھر کر گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت کا یقین اس قدر مضبوط ہو گیا کہ اگر کسی کےبدن میں کہیں درد ہوتا یا تکلیف ہوجاتی تووہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ مبارک لے کر تکلیف کی جگہ پر رکھتا تو اللہ پاک کے حکم سے اسی وقت ٹھیک ہو جاتا، اگر ان کا کوئی اونٹ یا بکری بیمار ہو جاتی تو اس پر نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک ہاتھ پھیرتے وہ تندرست ہو جاتی۔( السیرة الحلبیة ،باب ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وما اتصل بہ ،۱/۱۳۵۔) اے عاشقان رسول! نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آپ کی ذات اقدس سراپا رحمت بن کر ظاہر ہوئی۔ آپ نے تشریف لاتے ہی دکھیاروں، بیماروں، بے سہاروں، یتیموں، مسکینوں اور غمزدہ دلوں پر اپنی شفقت و مہربانی کے دروازے کھول دیے۔ جس معاشرے میں ظلم و ستم عام تھا، جہاں کمزور کی کوئی آواز سننے والا نہ تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت، ہمدردی اور عدل و انصاف کا چراغ روشن فرمایا۔ آپ کے اخلاق کریمانہ اور حسن سلوک نے لوگوں کے دل جیت لیے، اور سخت دل انسان بھی آپ کی رحمت کے سامنے نرم پڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر حال میں مخلوقِ خدا کے غم بانٹنے والے، پریشان حالوں کو تسلی دینے والے اور محتاجوں کی مدد فرمانے والے تھے۔ کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت فرماتے، کوئی غمگین ہوتا تو اسے دلاسہ دیتے، کوئی بھوکا ہوتا تو اسے کھانا کھلاتے، اور کوئی بے سہارا ہوتا تو اس کا سہارا بن جاتے۔ آپ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ جانوروں تک پر بھی آپ کی شفقت نمایاں تھی۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا! آپ کو تو خود ربِّ رحیم و کریم نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو، ہر عمل اور ہر تعلیم سراسر رحمت، محبت اور انسانیت کی بھلائی سے بھرپور ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے پیارے آقا صلَّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اسوۂ حسنہ کو اپنائیں، مخلوقِ خدا پر رحم کریں، دکھی دلوں کو سہارا دیں، اور اپنے معاشرے کو امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں۔ یہی حقیقی عشقِ رسول اور آپ کی سنت پر عمل کا تقاضا ہے۔ ابوجہل کی اُونٹنی صحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار بچپن شریف میں مکے شریف کی گھاٹیوں(یعنی دو پہاڑوں کے درمیانی راستے) میں اپنے دادا جان حضرت سیدنا عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے جدا ہو گئے (بعدتلاش) دادا جان واپس مکے شریف آئے اور کعبہ شریف کے پردوں سے لپٹ کر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مل جانے کیلئے رو رو کر دعائیں مانگنے لگے،اسی دوران ابو جہل اونٹنی پر سوار اپنی بکریوں کے ریوڑ سے واپس آرہا تھا، اس نے ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا،ابو جہل نے اپنی اونٹنی بِٹھائی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیچھے بٹھا کر او نٹنی کو اٹھانا چاہا تو وہ نہ اٹھی!پھر جب اپنے آگے بٹھایا تو اونٹنی کھڑی ہو گئی۔صَحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما مزید فرماتے ہیں:اللہ پاک نے حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو جس طرح فرعون کے ذریعے ان کی امی جان تک پہنچایا اسی طرح ابو جہل کے ذریعے سرکار دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے دادا جان حضرت سیدنا عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تک پہنچایا۔(تفسیر روح المعانی، پ30،الضحی، تحت الآیة:7، الجزء الثلاثون،15/532) بارگاہِ رسالت میں پتھروں کے سلام کرنے کی کیا حقیقت ہے؟اے عاشقان رسول! آپ نے شعر رضا میں سنا کہ ’’سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم‘‘جی ہاں! واقعی نور والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنگ یعنی پتھر بھی سلام کرتے ہیں،سنئے!ہم گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے،اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں مکے کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو نبوت کے ظہور (یعنی نبی ہونے کے ظاہر ہونے)سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا،میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔( مسلم،کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبیّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتسلیم الحجر علیہ قبل النبوة،ص962، حدیث:5939) شرح حدیث:اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمدیارخان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:بعض شارحین نے کہا کہ یہ پتھر ”سنگ اسود“ ہے مگر صحیح تر یہ ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جو مَکّہ مُعَظَّمَہ میں زَقَاقُ الْحَجَر میں واقع ہے۔ زَقَاقُ الْحَجر مَکّہ مُعَظَّمَہ کا ایک محلہ ہے جو کعبۂ معظمہ اور جناب خدیجہ(رضی اللہ عنہا)کے گھر کے درمیان واقع ہے۔( مرقاة المفاتیح،کتاب الفضائل،باب علامات النبوة،الفصل الاول،10/129، تحت الحدیث: 5853 ماخوذاً) اس پتھر میں حضور انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی کہنی(مبارک)کے آثار(یعنی نشان)موجود ہیں،لوگ خصوصا اہل مکہ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں دور دور سے لوگ اس کی زیارت کو آتے ہیں۔ آہ !اب یہ تبرکات گم ہو گئے۔وہ پتھریوں کہتا تھا: اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللہ،اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یا حَبِیْبَ اللہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نبوت سے بچپن شریف میں ہی خبردار تھے۔ مکہ معظمہ کے پتھر اور در و دیوار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی گواہی دے چکے تھے۔( مراٰۃ المناجیح،8/115ملتقطاً ) بادل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کر تا حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنے لخت جگر ،نور نظر، رسولوں کے افسر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی دور جگہ نہ جانے دیتی تھیں، ایک دِن رَسُولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی رضاعی بہن (یعنی دودھ کے رشتے کی بہن) شیما کے ساتھ دوپہر کے وقت بھیڑوں کے ریوڑ میں تشریف لے گئے، حضرت بی بی حلیمہرضی اللہ عنہا تلاش میں نکلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شیماء کے ساتھ پایا۔کہنے لگیں:گرمی میں! شیما بولی:امی جان! میرے بھائی نے گرمی محسوس نہیں کی، بادل آپ پر سایہ کرتا تھا،جب آپ ٹھہر جاتے تو بادل بھی ٹھہر جاتا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو بادل بھی چلتا، یہی حال رہا یہاں تک کہ ہم اس جگہ آپہنچے ہیں ۔( شرح العلامة الزرقانی علی المواھب اللدنیة،ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ومامعہ ، 1/279 ) فتاویٰ رضویہ میں ہے: شیما سعدیہ یعنی نشان والی، علامت والی ،جو دور سے چمکےیہ بھی مشرف بہ اسلام ہوئیں رضی اللہ عنہا۔( فتاویٰ رضویہ ، 30/294) بچپن شریف میں ہی کھیل سے نفرت اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عمر شریف میں کبھی نہیں کھیلے،بچپن شریف میں ہی کھیل سے نفرت تھی،کسی بچےنے کھیل کے لیے بلایا تو فرمایا:مَا خُلِقْنَا لِھٰذَا یعنی ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔( مراٰۃ المناجیح، ۸/۱۱۵( بی بی حلیمہ کے لیے چادر بچھانے کا واقعہ کیا بیان کرتا ہے؟ عظمت وشان اور فضل و احسان والے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرنے والی اور دودھ پلانے والی،خوش نصیب خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا اور صحابیہ بنیں۔ جنگ حنین کے دن حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ میں تشریف فرما تھے کہ بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے لیے کھڑے ہو گئے اور جو چادر شریف اوڑھے ہوئے تھے ان کے لیے بچھا دی جب تک آپ تشریف فرما رہیں، کسی اور سے گفتگو نہ فرمائی بلکہ انہی کی طرف متوجہ رہے ۔جب آپ واپس جانے لگیں تو بہت سے تحائف (یعنی GIFTS)عطا فرمائے اور انہیں کچھ دور تک پہنچانےکیلئے تشریف لے گئے پھر خود یا کسی اور صحابی نے حاضرین سے فرمایا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائی جناب حلیمہ رضی اللہ عنہا ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا ہے۔( مراٰۃ المناجیح ، 5/51 بتغیر قلیل۔) مرے ہاتھوں میں ہے دامن تمہارا یارسوْل اللہ! ان(یعنی بی بی حلیمہ)کے شوہر’’حارث سعدی‘‘بھی شرف اسلام وصحبت سے مشرف ہوئے ،یعنی یہ بھی صحابی بن گئے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہو رہے تھے کہ راہ میں کفارِ قریش نے انہیں ورغلانے (یعنی بہکانے) کی کوشش کرتے ہوئے کہا:اے حارِث!تم اپنے(رضاعی یعنی دودھ کے رشتے کے) بیٹے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی سنو،وہ کہتے ہیں:مردےزندہ ہوں گے اور اللہ پاک نے دو گھر جنَّت و دوزخ تیار کئے ہیں یعنی اللہ پاک پر اِیمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں(یعنی حارث سعدی) نے حاضر ہو کر عرض کی:اے میرے بیٹے!آپ کی قوم آپ کے بارے میں شکایت کرتی ہے۔ فرمایا: ہاں میں ایسا فرماتا ہوں اور اے میرے والد ! جب وہ دن آئے گا تو میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر بتا دوں گا کہ دیکھو یہ وہ دن(یعنی روز قیامت) ہے یا نہیں جس کی میں خبر دیتا تھا۔ حضرت حارث سعدی رضی اللہ عنہ ایمان لانے کے بعد اس ارشاد کو یاد کر کے کہا کرتے: اگر میرے بیٹے میرا ہاتھ پکڑیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ نہ چھوڑیں گے جب تک مجھے جنت میں داخل نہ فرما لیں۔(الروض الأنف،أبوہ من الرضاعة، 1/283۔فتاویٰ رضویہ ، 30/293) رضاعی بڑی بہن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی(یعنی دودھ کے رشتے کی)بڑی بہن ’’شیما سعدیہ‘‘ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود میں کھلاتیں، سینے پر لٹاکر دعائیہ اشعار عرض کرتیں،سلاتیں ، اس لئے وہ بھی حضور کی والدہ کہلاتیں۔ یہ بھی مشرف بہ اسلام ہوئیں۔( فتاویٰ رضویہ ، 30/294)
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!