نور والے آقا

نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سراپا نور اور منبعِ ہدایت ہیں۔ اس مضمون میں حضور ﷺ کی نورانیت کو قرآن و حدیث، اقوالِ مفسرین اور ایمان افروز حکایات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے لے کر صحابۂ کرام کے مشاہدات تک، ہر واقعہ حضور ﷺ کے نورانی اوصاف کو واضح کرتا ہے۔ مزید برآں، نور و بشر کے عقیدے کی وضاحت بھی کی گئی ہے تاکہ قاری درست عقیدہ اپناتے ہوئے عشقِ رسول میں پختگی حاصل کرے۔

April 28, 2026

گمی ہوئی سُوئی مل گئی(حکایت)

ام المؤمنین،صحابیہ بنت صحابی حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا روایت فرماتی ہیں:میں سحری کے وقت گھر میں کپڑے سی رہی تھی کہ اچانک سوئی ہاتھ سے گر گئی اورساتھ ہی چراغ بھی بجھ گیا۔ اتنے میں نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخِل ہوئے اور سارا گھر نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کے نورسے روشن ہو گیا اور گمی ہوئی سوئی مل گئی۔(القول البدیع،الباب الثالث فی التحذیر من ترک الصلاة علیہ عند ذکرہ، ص302)

حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نور

سبحن اللہ!حضور پرنور،سراپا نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نور علٰی نور کی بھی کیا بات ہے!پارہ 6 سورۃ المائدہ آیت نمبر 15میں اللہ پاک کا فرمان نور بار ہے:

قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (پ ۶، المآئدہ:۱۵)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔

اس آیت مبارکہ میں نور سے مرادحضورسراپانور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔چنانچِہ امام محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ (وفات:310ھ)نے فرمایا:”یَعْنِیْ بِالنُّوْرِ مُحَمَّدًا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) یعنی نور سے مراد محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔(تفسیر طبری،پ6،المائدة، تحت الآية:15، 4/502)“ اس کے علاوہ کئی مفسرین کرام نے ارشاد فرماىا کہ اس آىت مبارکہ مىں موجود لفظ ”نور“سے مراد نبیٔ کرىم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوری بشر ہیں

صحابیٔ رسول حضرت سیدنا کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کرتے ہیں:اِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ یُّسْتَضَاءُ بِہٖ یعنی بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے نور ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔(سیرت ابن ھشام،امرکعب بن زھیر بعد الانصراف عن الطائف،ص513) حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر بھی ہیں اور نور بھی یعنی نورانی بشر ہیں۔ظاہری جسم شریف بشر ہے اور حقیقت نور ہے۔( رسالہ نور مع رسائل نعیمیہ، ص 39)

اپنے عقائد پر جمے رہنا کیوں ضروری ہے؟

اے عاشقان رسول!بعض لوگ نور و بشر کے مسئلے میں الجھتے ہیں، یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہےکہ ہمارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک یقیناً بشر یعنی انسان ہیں،فرشتے اور جن نہیں ہیں،انسان ہونا کوئی خامی نہیں ہے، خوبی ہے،مگر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرح بشر نہیں بلکہ اعلیٰ و عمدہ درجے کے بشر ہیں،خیر البشر اور سیدالبشر ہیں یعنی سارے انسانوں سے بہتر اور سب کے سردار ہیں۔

اگر کوئی یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف نور ہیں بشر نہیں ہیں یہ کفر ہو جائے گا کیونکہ قرآن کریم نے آپ کو بشر کہا ہے۔ لوگ بحث کر رہے ہوتے ہیں انہیں عِلم نہیں ہوتا،بعض اوقات ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے لہٰذا بحث نہ کی جائے۔ مناظرے اور بحث کرنایہ ماہر فن علما کا کام ہوتا ہے عوام کا نہیں۔ جس کو دیکھو الجھ پڑتا ہے بعض اوقات خود ہی ایسا الجھ کر رہ جاتا ہے کہ اس کو سلجھانا مشکل ہو جاتا ہے، وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے بحث مَت کریں۔

الحمد للہ مسلک حق،مسلک اہل سنت جوہمارے اعلیٰ حضرت اور علمائے اہل سنت نے ہمیں سکھایا اور بتایا ہے اور یقیناً یہ قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے لہٰذا اس پر خوب جمے رہیں اور اس کے خلاف کسی کی بھی کوئی بات نہ سنیں۔ مثلاً ہمارے علما نے ہمیں بتایا ہے کہ جشن ولادت منانا جائز ہے،اب اگر کوئی اس کے خلاف کچھ بولتا ہے تو آپ اپنے کان بند کر دیں کہ میں نے نہیں سننا ، جشن ولادت منانا ہے اور بس منانا ہے۔ اگر کوئی کہے:جلوس میلاد نہیں نکالنا چاہیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں نکالا،تو ہمیں اس کی بات نہیں سننی، ہم تو جلوس میلاد نکالیں گے،شریعت نے اس سے منع بھی تو نہیں کیا اور شریعت جس بات سے منع نہ کرے اور مسلمان خصوصاً علما ،صلحا جس کو اچھا سمجھ کر کریں وہ اللہ پاک کے نزدیک بھی اچھا ہوتا ہے۔

حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ یعنی جس شے کو مسلمان اچھا سمجھىں وہ اللہ کے ىہاں بھى اچھى ہوتى ہے ۔“(مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود، 2/ 16،حدیث:3600)

بہرحال عوام کسی سے بحث نہ کریں جو کچھ عُلَمائے اہلِ سُنَّت فرماتے ہیں آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلتے رہیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ جنَّت میں پہنچ جائیں گے۔ سب کی سنیں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ راستہ بھول جائیں،بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ ”سُنو سب کی کرو اپنے مَن کی“ایسا نہیں کرنا صِرف اپنوں ہی کی سننی ہے ،دوسروں کی سننے سے کان بہرے رکھیں گے تو ہی منزل ملے گی ،ورنہ گمراہی کہہ کر نہیں آتی۔

سرکار عَلَیْہِ السَّلَام مسکراتے تو دَرو دِیوار روشن ہو جاتے

اللہ پاک کے آخری نبی،مکی مَدَنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور بلکہ قاسم نور(یعنی نور بانٹنے والے)ہیں۔”شفا شریف“میں ہے:”جب نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکراتے تھے تو درو دیوار روشن ہو جاتے۔(شفا،الباب الثانی فی تکمیل اللہ تعالٰی لہ المحاسن خلقاً...الخ،1/61)“

نور والے آقا کے نورانی ہاتھ کا معجزہ

پیارے آقا،مکے مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نورانیت کے تو کیا کہنے! حضرت سیدنا اسید بن ابی اناس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار میرے چہرے اور سینے پر اپنا پُرنور ہاتھ شریف پھیر دیا، اِس کی بَرکت یہ ظاہِر ہوئی کہ میں جب بھی کسی اندھیرے گھر میں داخِل ہوتا وہ گھر روشن ہو جاتا۔( تاریخ ابن عساکر،ساریة بن زنیم بن عمرو الاسدی،20/21،الرقم:2362، حدیث: 4588)

ہم غریبوں کی قبر میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جَلوے ضَرور ہوں گے اور اِنْ شَآءَ اللہ ہماری قبر بھی روشن ہو جائے گی۔ایک بار جب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت بھری اور نور بھری تشریف آوری ہو جائے گی تو پھر اِنْ شَآءَ اللّٰہ ہمیشہ یعنی قیامت تک ہماری قبر روشن اور جگمگاتی رہے گی۔

دانتوں کے دَرمیان سے نور کی کرنیں نکلتی تھیں

صحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثنیہ دانتوں میں کھڑکی والے تھے ،جب کلام فرماتے تو آپ کے ثنیہ دانتوں(کے جو گیپ تھے ان) کے درمیان سے نور کی کرنیں نکلتی تھیں۔(دارمی، باب فی حسن النبی،1/44، حدیث:58)

اس حدیث پا ک کی شرح میں مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آگے والے اوپر نیچے کے چار دانتوں کو رباعیہ کہتے ہیں،ان سے متصل(یعنی ملا ہوا)ایک ایک دانت ثنائی کہلاتے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثنائیہ دانت رباعیہ سے بالکل ملے ہوئے نہ تھے بلکہ ان کے درمیان باریک کھڑکیاں تھیں(یعنی باریک باریک گیپ تھے)یہ بھی حسن کا بہترین مجموعہ ہے، یہ نور دن میں بھی دیکھا جاتا تھا مگر رات میں تو دانتوں کے اس نور سے سوئی تلاش کر لی جاتی تھی۔( مراٰۃ المناجیح،8/62 ملتقطاً)

مولٰى! کس کے نُور نے ہمیں ڈھانپ لیا؟

شارح بخاری حضرت سیدنا امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 923ھ) فرماتے ہىں:اللہ پاک نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو پىدا فرماىا تو اسے حکم فرماىا کہ تمام انبىا کے نور کو دىکھو ،پھر اللہ پاک نے تمام انبىا کے نور کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے ڈھانپ دىا ۔ انہوں نے عرض کى: مولىٰ! کس کے نور نے ہمىں ڈھانپ لىا؟اللہ پاک نے فرماىا:ھٰذَا نُوْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہ ىعنى ىہ عبد اللہ کے بىٹے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا نور ہے۔( مواھب اللدنیة، المقصد الاول، تشریف اللّٰہ تعالٰی له، 1 /33)

14 ہزار سال پہلے ...

حضرت سیدنا امام زىن العابدىن رضی اللہ عنہ فرماتے ہىں: رَحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرماىا:”مىں آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے 14 ہزار سال پہلے اللہ پاک کے ہاں نور تھا۔“( سبل الھدیٰ والرشاد،الباب الاول فی تشریف اللّٰہ تعالٰی لہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم بکونہ اول الانبیاء خلقا،1/ 69‬‬‬‬)

اے اللہ! مجھے سراپا نور بنا دے

صحابی ابن صحابی،حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتےہیں کہ میرے والدِ ماجد حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بارگاہِ رِسالت میں بھیجا،میں شام کے وقت حاضِر ہوا،اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری خالہ جان اُمُّ المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ عنہا کےہاں تشریف فرما تھے۔(میں نے رات وہیں گزاری)نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات میں نماز کے لئے کھڑے ہوئے، جب فجر سے پہلے دو رکعتیں ادا فرما لیں تو یہ دعا مانگی:(جس کا کچھ حصہ یہ ہے:)

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِيْ نُوْرًا فِيْ قَلْبِيْ، وَنُوْرًا فِيْ قَبْرِيْ، وَنُوْرًا مِّنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَنُوْرًا مِّنْ خَلْفِيْ، وَنُوْرًا عَنْ يَمِيْنِيْ، وَنُوْرًا عَنْ شِمَالِيْ، وَنُوْرًا مِّنْ فَوْقِيْ، وَنُوْرًا مِّنْ تَحْتِيْ، وَنُوْرًا فِيْ سَمْعِيْ، وَنُوْرًا فِيْ بَصَرِيْ، وَنُوْرًا فِيْ شَعْرِيْ، وَنُوْرًا فِيْ بَشَرِيْ، وَنُوْرًا فِيْ لَحْمِيْ، وَنُوْرًا فِيْ دَمِيْ، وَنُوْرًا فِيْ عِظَامِيْ، اَللّٰهُمَّ اَعْظِمْ لِيْ نُوْرًا،وَاَعْطِنِيْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ لِيْ نُوْرًا

یعنی اے اللہ!میرے دِل میں نور، میری قبر میں نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور، میرے دائیں نور، میرے بائیں نور، میرے اوپر نور، میرے نیچے نور، میرے کانوں میں نور، میری آنکھوں میں نور، میرے بالوں میں نور، میری جِلد میں نور، میرے گوشت میں نور، میرے خون میں نور، میری ہڈیوں میں نور کر دے۔ اے اللہ! میرے نور میں مزید اِضافہ فرما، مجھے نور عطا فرما اور مجھے سراپا نور بنا دے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، 5/ 265، حدیث:3430)

جبریل انسانی شکل میں

اے عاشقان رسول!ىاد رہے کہ نور اور بشر اىک دوسرے کى ضد (یعنی اىک دوسرے کا الٹ)نہیں کہ اىک جگہ جمع نہ ہوسکىں۔حضرت جبرىل علیہ السلام نورى مخلوق ہونے کے باوجود حضرت بى بى مر ىم رضی اللہ عنہاکے سامنے انسانى شکل مىں تشریف لائے جىسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا (پ۱۶،مریم:۱۷)

ترجمۂ کنز الایمان : تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اِس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا ۔

ملَک الموت انسانی شکل میں

ملک الموت علیہ السلام بشرى(یعنی انسانی) صورت مىں حضرت سیدنا موسىٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کى خدمت مىں حاضر ہوئے ۔( مراٰۃُ المناجیح،7/581 ماخوذاً)

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!