اللہ کریم نے انسان کو احساس کی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ اسی نعمت کی بدولت انسان خوشی کے موقع پر مسکراتا ہے اور غم کے وقت کبھی رنجیدہ ہو جاتا ہے اور کبھی اشکبار۔ ہنسنا اور رونا دونوں اللہ پاک کی عطا ہیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى﴾
(پارہ 27، سورۃ النجم، آیت 43)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رُلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی دیکھیے کہ اُس نے رونے کو غم کے وقت ڈھارس، مصیبت کے وقت تسلّی اور حوصلہ پست ہونے سے بچانے کا ذریعہ بنایا۔ مزید یہ کہ ربِّ کریم کی رحمت ملاحظہ ہو کہ اُس نے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ذات کو دیگر معاملاتِ زندگی کی طرح خوشی اور غمی کے مواقع میں بھی ہمارے لیے رہبر و رہنما بنایا۔ ہمارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اشکباری کے ذریعے اس امت کو صبر، رحمت اور خشیتِ الٰہی کا عملی درس عطا فرمایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری کے حکمت بھرے پہلو نہایت ایمان افروز اور سبق آموز ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رونا محض جذباتی کیفیت نہ تھا بلکہ اس میں امت کے لیے تربیت، دلوں کی نرمی، خشیتِ الٰہی، رحمت و شفقت اور فکرِ آخرت کے گہرے پیغامات پوشیدہ ہیں۔ کبھی یہ اشک خوفِ خدا کا مظہر بنتے، کبھی محبتِ الٰہی کا، کبھی امت کی بخشش کی دعا میں بہتے اور کبھی کسی غمگین موقع پر رحمت و ہمدردی کی تصویر بن جاتے۔ یوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری انسانیت کو یہ سکھاتی ہے کہ آنسو کمزوری نہیں بلکہ اگر رضائے الٰہی کے لیے ہوں تو روحانی قوت، دل کی صفائی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری کے یہ حکمت بھرے پہلو ہمیں اس بات کی طرف لے جاتے ہیں کہ ہمارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے مختلف مواقع پر آنسو بہا کر امت کو تربیت دی۔ خوشی و غم، نماز، قرآن کی تلاوت، قبرستان کی زیارت اور فکرِ امت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری ہر واقعہ میں درسِ اخلاق، رحمت اور دل کی نرمی کا مظہر تھی۔ یہ آنسو محض انسانی جذبات نہیں بلکہ ہمارے لیے رہنمائی، محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اللہ کے خوف و محبت کے عملی نمونہ ہیں، جو ہر مسلمان کے دل کو نرم کرنے اور اللہ کی راہ میں خلوص پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
آئیے! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندازِ اشکباری کے چند واقعات جانیں
دورانِ نماز اشکباری
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان: شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہمارے درمیان کوئی گھڑ سوار نہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کے سو جانے کے بعد ایک درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے تھے اور روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔(مسند احمد، 2/299، حدیث: 1023)
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کا بیان: انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ہنڈیا (ابلنے) جیسی آواز آ رہی تھی۔ (ابو داؤد، 1/342، حدیث: 904)
نماز میں روتے وقت کچھ نافع احتیاطی باتیں
-
خشوع اختیار کریں: دل میں اللہ کے عدل کا خوف اور اس کی رحمت کی امید رکھیں۔۔
-
جہنم و جنّت کا خوف اور شوق: اگر رونا جنت و دوزخ کے خوف یا شوق میں ہو تو بغیر آواز کے جائز ہے۔
-
نماز میں نکلنے والے الفاظ: آہ، اُوہ، اُف، تُف وغیرہ اگر درد یا مصیبت کی وجہ سے ہوں تو نماز درست ہے۔
-
نماز ٹوٹنے کی وجہ: رونا صرف شکایت یا دکھ پہنچانے کے لیے ہو، جیسے "مجھے تکلیف ہے یا مصیبت آئی"۔ اس صورت میں نماز فاسد ہو سکتی ہے۔
-
دعا و معافی کے لئے رونا: اگر یہ الفاظ جنّت و دوزخ کی یاد میں ہوں تو یہ دعا، طلبِ رحمت اور معافی کے درجے میں آتے ہیں اور نماز درست رہتی ہے۔(شرح ابو داؤد للعینی، 4/126، تحت الحدیث: 881، مرقاة المفاتیح، 3/82، تحت الحدیث: 1000، بہارِ شریعت، 1/608)
قراٰن سنتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے فرمایا کہ وہ قرآن کی تلاوت کریں۔ حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ نے تعجب سے عرض کیا: "میں تلاوت کروں؟ حالانکہ یہ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ہے؟’’ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مجھے دوسرے سے سننا اچھا لگتا ہے۔‘‘ چنانچہ حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے:
﴿
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا﴾
(
پ5، النسآء:41)
(ترجمہ کنز الایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں۔)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابھی اتنا کافی ہے۔" یعنی اگلی آیت نہ پڑھیں کیونکہ میں اس آیت میں غور و فکر کر رہا ہوں، اور اس پر گریہ وزاری کی کیفیت مجھ پر طاری ہے۔ یہ کیفیت مزید تلاوت سننے میں رکاوٹ ڈال سکتی تھی۔
حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دلیل جاننے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (بخاری، 3/416، حدیث: 5050، مرقاۃ المفاتیح، 4/694، تحت الحدیث: 2195، دلیل الفالحین، 2/361، تحت الحدیث: 446)
قبرستان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری
حضرت بَرَاء بن عازب رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنے روتے رہے کہ آپ کے آنسوؤں سے زمین کی مٹی نم ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’يَا اِخواني لِمِثْلِ هَذَا فَاَعِدُّوا‘‘ (ابن ماجہ، 4/466، حدیث: 4195)
(ترجمہ: اے میرے بھائیو! اس جیسی قبر کے لیے نیکیاں تیار رکھو۔)
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قبرستان جانے اور مرنے والے کے لیے دعا کرنے کا انداز کس طرح ہونا چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نہ صرف وفات یافتگان کے لیے ہمدردی اور دعا ضروری ہے بلکہ ہمارے اعمال اور نیکیاں بھی ان کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔
فکرِ امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری
حضرت عبدُ اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنِ پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ الفاظ تلاوت فرمائے:
﴿
رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾
(ترجمہ: اے میرے رب! بےشک بتوں نے بہت لوگ بہکا دیے، تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا، بےشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔)
اسی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کی یہ آیت بھی تلاوت فرمائی:
﴿
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴾
(ترجمہ: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔)
ان آیات کی تلاوت کے دوران رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گریہ طاری ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: ’’اے اللہ! میری اُمت، میری اُمت!‘‘
اللہ پاک نے حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ اور دریافت کرو کہ انہیں کیا رلا رہا ہے۔ جب حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی عرض معروض کی خبر دی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا: "ہم آپ کی اُمت کی بخشش کے معاملے میں آپ کو راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہ کریں گے۔" (مسلم، ص109، حدیث: 499)
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری صرف انسانی جذبات کی عکاس نہیں بلکہ امت کی فکر، محبت، ہمدردی اور اللہ کی رحمت کی عملی تعلیم ہے۔ یہ آنسو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی محبت، فکرِ امت اور دعائیں کتنی اہم ہیں۔
موت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے آخری لمحات پر
آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی رَضاعی والدہ کا نام حضرت خولہ بنتِ منذر رضی اللہ عنہا اور والد کا نام براء بن اوس انصاری تھا، جو "ابو سیف لوہار" کے نام سے جانے جاتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار کے گھر گئے، اور دیکھا کہ حضرت ابراہیم آخری سانسیں لے رہے تھے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اٹھایا، بوسہ دیا اور سونگھا۔ اس حالت کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ بھی رو رہے ہیں جبکہ آپ نے میّت پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اے ابنِ عوف! یہ رونا بے صبری یا ناشکری کے لیے نہیں، بلکہ یہ رحمت ہے جو ہر باپ کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے۔ بیشک آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل بھی غمزدہ ہے، مگر ہم صرف وہ کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، اور اے ابراہیم! تیری جدائی پر ہم غمزدہ ہیں۔" (ماخذ: بخاری، 1/441، حدیث: 1303، منحۃ الباری، 3/377، تحت الحدیث: 1303)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر بچے کے سانس اکھڑنے پر
ایک اور واقعہ میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، جب حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ اس وقت بچے کا سانس اکھڑ رہا تھا اور یہ دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یارسولَ اللہ! یہ کیا ہے؟"
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"هٰذِهٖ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهٖ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحْمَاءَ"
(ترجمہ: یہ وہی رحمت ہے جو اللہ پاک نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دی ہے، اللہ پاک اپنے رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے۔) (ماخذ: بخاری، 4/532، حدیث: 7377)
تعلیمِ اشکباری کے نتائج و اثرات
غور کیجیے کہ ہمارے رب کریم نے کتنی کرم نوازی فرمائی کہ ہمیں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامنِ کرم سے وابستہ کر دیا۔ صحبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کو اشکِ مصطفیٰ سے فیض یاب کر کے دل کو رقّت و سوز، شفقت و احساس جیسی خوبیاں عطا کیں۔ یہ فیض بعد میں تابعین، ائمہ مجتہدین، اولیائے کاملین اور علما و صلحا تک منتقل ہوا اور دنیا بھر میں اسلام کی روشن تعلیمات پہنچانے کا ذریعہ بنا۔
اندازِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل شدہ تعلیمِ اشکباری آج بھی دنیا میں سفاکیت و بربریت کے خاتمے کے لیے مؤثر ہے۔ یہ انسان میں احساسِ ذمہ داری کو جگانے، مثبت فکر کی تربیت دینے، اور اجتماعی بےحسی سے پیدا ہونے والی ہولناکی سے نجات دلانے میں مددگار ہے۔
دعوتِ اسلامی میں ترقی و کامیابی کے بہت سارے عوامل ہیں، جن میں درس و بیان، سنّتوں بھرے اجتماعات اور دیگر دینی کام شامل ہیں۔ ان میں اندازِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل شدہ تعلیمِ اشکباری کا کردار بہت بنیادی اور اہم ہے۔ اسی تربیت کے تحت یہ سکھایا جاتا ہے:
رونا مصیبت کا مت رو تُو پیارے نبی کے دیوانے
کرب و بلا والے شہزادوں پر بھی تُو نے دھیان کیا
بارگاہِ الٰہی میں یوں التجا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے:
یارب! غمِ حبیب میں رونا نصیب ہو
آنسو نہ رائیگاں ہوں غمِ روزگار میں
بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کرنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے:
رونا بھی سکھا دو اور سِکھلا دو تڑپنا بھی
بُلوا کے شہنشاہِ اَبرار مدینے میں
یہ تربیت خوفِ خدا، عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور فکرِ آخرت میں رونے کی اہمیت بھی واضح کرتی ہے:
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں
ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں
جس شخص کو یہ فیض نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے جذبے کے ساتھ میدانِ عمل میں اُترتا ہے، اللہ کریم کے کرم سے ترقی اور کامیابی اس کا استقبال کرتی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری: درسِ رحمت، صبر اور فکرِ امت
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسوؤں کے واقعات سے حاصل شدہ تربیت: نماز، قرآن، قبرستان اور فکرِ امت میں اشکباری کے گہرے اسباق۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساس کی عظیم نعمت دی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اشکباری کے ذریعے امت کو صبر، خشیتِ الٰہی، رحمت اور فکرِ آخرت کا عملی درس دیا۔ نماز میں رونے، قرآن سنتے وقت گریہ وزاری، قبرستان میں روحانی احساس، دعا و طلب مغفرت، سبق وعبرت حاصل کرنا ، دل کی نرم طبیعت، اور امت کی فکر میں آنسو، سب انسانیت کو روحانی قوت، دل کی نرمی، اخلاقی تربیت اور قربِ الٰہی سکھاتے ہیں۔ یہ تعلیمِ اشکباری آج بھی معاشرتی بیداری، مثبت فکر، احساسِ ذمہ داری اور انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے انتہائی مؤثر ذریعہ ہے۔ جس شخص کو یہ فیض نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے جذبے کے ساتھ میدانِ عمل میں اُترتا ہے، اللہ کریم کے کرم سے ترقی اور کامیابی اس کا استقبال کرتی ہے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!