محبت رسول

محبت رسول ﷺ دینِ اسلام کی بنیادی شرط اور کامل ایمان کی پہچان ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب تک نبی کریم ﷺ کی محبت انسان کو اپنی جان، مال، اولاد اور ہر چیز سے بڑھ کر نہ ہو، ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ اس مضمون میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت، اتباعِ سنت کی اہمیت اور عملی زندگی میں عشقِ رسول کو اپنانے کے طریقے بیان کیے گئے ہیں تاکہ ہم بھی حقیقی عاشقِ رسول بن سکیں اور آخرت میں کامیابی حاصل کریں۔

April 28, 2026

کیا محمد ﷺ کی محبت دینِ حق کی پہلی شرط ہے؟

اے عاشقانِ رَسُول!مومنِ کامل(یعنی Perfect مومن)ہونے کے لئے ایک مسلمان کے نزدیک نور والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پاک ذات،تمام رشتے، ناتوں سے بڑھ کر پیاری ہونا ضروری ہےچنانچہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے: حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم!آپ مجھےمیری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں۔حضور پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب (یعنی پیارا) نہ ہو جاؤں اس وقت تک تمہارا ایمان کامل(یعنیPerfect ) نہیں ہو سکتا۔“حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کی:اللہ کی قسم!اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں،اِس پر نور والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل(یعنی Perfect )ہوا ۔( بخاری،کتاب الایمان والنذور،باب کیف کانت یمین النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم،4/283،حدیث:6632)

اللہ کا محبوب بنے جو تمہیں چاہے

اے عاشقان رسول!اللہکریم کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت، اولاد، عزیز،رشتے داروں، دوست، مال اور وطن سب چیزوں کی محبت سے اور خود اپنی جان کی محبت سے بھی زیادہ ہونا ضروری ہے۔اللہ پاک پارہ 3 سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 31 میں اِرشاد فرماتا ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ (پ 3، آل عمران:31)

ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب!تم فرما دو کہ لوگو! اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دے گا۔

اس آیتِ پاک کے تَحت مفسرقرآن حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اے نبى!آپ اِن لوگوں سے فرما دیجئے جو آپ کے وسىلے کے بغىر ہمارى محبت کا دم بھرتے ہىں ىا جو اپنے کو رب کا پىارا جان کرآپ سے بے نىاز(یعنی بےپرواہ، آزاد) ہونا چاہتے ہىں ىا جوآپ کى اطاعت کے سوا دوسرے اسباب سے خدا تک پہنچنا چاہتے ہىں، ان سب کو اعلان عام کر دیجئے کہ اگر تم خدا سے محبت کرنا چاہتے ہو تو نہ مجھ سے مقابلہ کرو، نہ مىرى برابرى کا دم بھرو، نہ مجھ سے آگے آگے چلو بلکہ غلام بن کر مىرے پىچھے پىچھے چلے آؤ ، اپنے اقوال (یعنی باتوں)، اَفعال(یعنی کاموں )، اعمال،غرض زندگى کے ہر شعبے کو مىرى مثال بنا دو اور مجھ مىں فنا ہو جاؤ پھر معاملہ بَرعکس ہو گا کہ رب تمہىں اپنا محبوب (یعنی پیارا) بنا لے گا اور تم جو چاہو گے(اپنے فضل وکرم سے)وہ کرے گا،اس کے ساتھ ہى تمہارے سارے گُناہ معاف فرما دے گا کىونکہ اللہ بڑا غفار اور ارحم الراحمین (یعنی سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا) ہے،تم اپنے کو اس کى مغفرت اور رحمت کا اہل بناؤ، پھر لطف دىکھو ۔( تفسیر نعیمی ، پ3،آلِ عمران، تحت الآیۃ:31، 3/359 ملتقطاً‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬) یعنی اللہ پاک کا پیارا بننے کے لیے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا پیارا بننا ضروری ہے۔

کیا اتباعِ رسول ﷺ کے بغیر نجات ممکن ہے؟

حدیثِ پاک میں ہے:اگر(حضرت) موسیٰ(عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)بھی زندہ ہوتے تو اُنہیں میری اِتباع(یعنی Obedience) کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔( شعب الایمان،باب فی الایمان بالقرآن...الخ،ذکر حدیث جمع القرآن، 1/199، حدیث: 176)

اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے ”خطبات رضویہ“میں(حدیث پاک نقل) فرماتے ہیں:اَلَا لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا مَحَبَّۃَ لَہٗ یعنی خبردار! جسے اللہپاک کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے محبت نہیں اس کا ایمان (کامل یعنیPerfect )نہیں۔(خطبات رضویہ،ص6۔ ‬‬‬‬‬‬دلائل الخیرات، فی فضائل الصلٰوة، ص47)

ماں باپ سے بھی بڑھ کر محبت ہونی چاہیے

حدیث پاک میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم میں کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کےباپ اور اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب(اور پیارا) نہ ہوں۔( بخاری،کتاب الایمان،باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان، 1/17،حدیث:15۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬)

ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں جس میں ہوں وہ اِیمان کی مٹھاس پالیتا ہے :(۱)جس کو اللہ پاک اور رَسول (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) سارے عالم(یعنی کل کائنات اور ساری دُنیا)سے زیادہ پیارے ہوں (۲) جو کسی بندے کو خاص اللہ پاک کے لئے محبوب(یعنی پیارا)رکھتا ہو(۳)اور جو کفر سے چھٹکارا پانے اور مسلمان ہونے کے بعد کفر میں واپس جانے کو ایسا برا جانتا ہو جیسا اپنے آپ کو آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔( بخاری،کتاب الایمان،باب حلاوة الایمان،1/17، حدیث:15)

مدینے کا ذرہ ذرہ پیارا ہے

اے عاشقان رسول! قدرتی طور پر انسان جس سے محبت رکھتا ہے اس سے نسبت (یعنی تعلق) رکھنے والی تمام چیزیں اُس کو پیاری ہو جاتی ہیں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمسےتعلق رکھنے والی چیزوں سے محبت رکھنا رسول پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت میں داخل ہے۔

صدیق کے لئے ہے خدا اور رسول بس

صحابۂ کرام علیہم الرضوان ہم گناہ گاروں کو اپنے رب سے بخشوانے والے ، جنت دلوانے والے،نور والے پیارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قدم گاہ (یعنی قدم شریف رکھنے کی جگہ) کا بھی اَدب کرتے تھے۔ چنانچہ منبر شریف کے جس زینے(یعنی Step)پر رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بیٹھتے۔ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ،صحابی ابن صحابی،عاشق اکبر حضر ت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ادبا اس پر نہ بیٹھے۔( معجم اوسط، باب من اسمہ محمود، 6/40، حدیث:7923 ‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬)

آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مجھےتین چیزیں پسند ہیں:(۱)اَلنَّظْرُ اِلَیْکَ یعنی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کےچہرۂ پرنور(یعنی چمکدار چہرے) کا دیدار کرتے رہنا (۲)وَاِنْفَاقُ مَالِیْ عَلَیْکَ یعنی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر اپنا مال خرچ کرنا اور (۳)وَالْجُلُوْسُ بَیْنَ یَدَیْکَ یعنی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر رہنا۔ (تفسیر روح البیان، پ20،النمل،تحت الآیة:62، 6/362)

تینوں آرزوئیں پوری ہوئیں

اللہپاک نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی یہ تینوں خواہشیں حب رسول انور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صدقے پوری فرما دیں(۱)آپ رضی اللہ عنہ کو سفر وحضر میں حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کی سعادت نصیب رہی، یہاں تک کہ غار ثور کی تنہائی میں آپ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی اور زیارت سے مشرف ہونے والا نہ تھا (۲)اسی طرح مالی قربانی کی سعادت اس کثرت سے نصیب ہوئی کہ اپنا سارا مال و سامان سرکارِ دو جہان صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قدموں پر قربان کر دیا اور (۳)مزارِ پُر اَنوار میں بھی اپنی دائمی رَفاقت وقُربت (یعنی ہمیشہ ساتھ اور قریب رہنے کی سعادت)عنایت فرمائی۔(عاشق اکبر، ص 14)

بےقرار ہو کر رونے لگتے

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب رسول پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ذکر خیر کرتے تو عشق رسول سے بےقرار ہو کر رونے لگتے۔( جمع الجوامع، 10/16، حدیث:33)

کسی کی ادا کو ادا کر رہا ہوں

مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک دن مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر بکری کی دستی کا گوشت منگوا یا اور کھایا اور بِغیر تازہ وضو کئے نماز ادا کی پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمنے بھی اسی جگہ بیٹھ کریِہی کھایا تھا اور اسی طرح کیا تھا۔( مسند امام احمد،مسند عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، 1/137، حدیث:441)

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک بار وضو کرتے ہوئے مسکرانے لگے! لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے:میں نے ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اسی جگہ پر وضو فرمانے کے بعد مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔( مسند امام احمد،مسند عثمان بن عفان ،1/130، حدیث:415)‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بڑھ کر ...

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ امیر المؤمنین حضرت مولیٰ علی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”خدا کی قسم! اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہمیں اپنے مال، اپنی اولاد، ماں باپ اور سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی بڑھ کر محبوب(یعنی پسندیدہ) ہیں۔ (شفا، فصل فیما روی عن السلف والأئمة من محبتھم...الخ ، 1/22)

دل خوش اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتیں

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں جب حبیب رب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا دیدار کرتا ہوں تو دِل خوشی سے جھومنے لگتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔( ابن حبان،کتا ب الصلٰوة،باب تعاھد المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم علٰی رکعتی الفجر،فصل فی قیام اللیل،الجزء:4، 3/ 115، رقم:2550‬‬‬‬)

جو جس سے محبت کرتا ہوگا وہ...

سبحن اللّٰہ!مصطفےٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے محبت رکھنے والوں کی بھی کیا شان ہے!ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) قیامت کب ہو گی؟ فرمایا: تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: اس کے لیے میں نے کوئی تیاری نہیں کی، صرف اتنی بات ہے کہ میں اللہ و رسول(صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) سے محبت رکھتا ہوں۔ارشاد فرمایا:”تو ان کے ساتھ ہے جن سے تجھے محبت ہے۔“حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام کے بعد مسلمانوں کو جتنی اس کلمہ سے خوشی ہوئی،ایسی خوشی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔( بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ...الخ، 2/527، حدیث:3688، وکتاب الادب،باب ما جاء فی قول الرجل ویلک، 4/146، حدیث:6167)

سب سے بڑا خوش نصیب

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سب سے بڑا خوش نصیب وہ ہے جسے کل حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قرب(یعنی نزدیکی)نصیب ہو جائے، اس قرب کا ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے محبت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت کا ذریعہ اتباع سنت،(یعنی سنت کی پیروی،سنت کے مطابق اپنے اعمال بجا لانا) کثرت سے درود شریف پڑھنا،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حالات طیبہ(یعنی پاکیزہ سیرت) کا مطالعہ(یعنیStudy) اور محبت والوں(یعنی عشاق مصطفےٰ) کی صحبت ہے۔ یہ صحبت اِکسیر اعظم (یعنی نہایت مفید)ہے۔( مِراٰۃ المناجیح ، ۶/۵۹۰ بتغیر قلیل)

آپ کس کے ساتھ قیامت میں اُٹھنا چاہتے ہیں ؟

اے عاشقان رسول!اب ہم دیکھیں کہ کس کس سے محبت کرتے ہیں اور کس کس کے انداز اختیار کرتے ہیں، کوئی فلم ایکٹر کا اسٹائل اپناتا ہے،کسی کا آئیڈیل کوئی سیاسی لیڈر ہوتاہے تو کسی کا آئیڈیل کوئی کھلاڑی، کسی کا آئیڈیل کوئی کامیڈین ہوتا ہے تو کسی کا آئیڈیل کوئی فلم ایکٹر، الغرض کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو کوئی کسی سے اور جو جس سے محبت کرے گا بروز قیامت اسی کے ساتھ اٹھے گا۔ الحمد للہ عاشقان رسول، اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے محبت کرتےہیں لہٰذا اللہ کریم کی رَحمت سے قیامت میں ان کے ساتھ ہوں گے،صحابہ و اہل بیت علیہم الرضوان سے محبت کرتے ہیں لہٰذا محشر میں انہی کے ساتھ اُٹھیں گے، اولیائے کِرام رحمہم اللہ السلام سے محبت کرتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ اُٹھیں گے۔غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ سے محبت کرتے ہیں قیامت میں ان کے ساتھ اُٹھیں گے۔ اس لیے اچھوں سے محبت کرنی ہے اور انہیں کے ساتھ رہنا ہے۔اللہ پاک قرآن کریم پارہ11 سورۃالتوبہ آیت نمبر 119میں حکم ارشاد فرماتا ہے: وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹) ترجمۂ کنز الایمان :اور سچوں کے ساتھ ہو۔

دیکھئے!آپ کو کیا کرنا ہے؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، ابھی زندگی کے سانس چل رہے ہیں، کب یہ رک جائیں کچھ پتا نہیں؟اپنا انداز، اپنا لباس، رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، بول چال، بال ، کھال اور چہرہ سب اسی جیسا کرنا ہے جس سے محبت ہے،محبت پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ہے، بس اگر ہمارا کِردار بھی ان کی سنتوں کا آئینہ دار بن گیا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ بیڑا پار ہے۔ یاد رکھئے! داڑھی پوری رکھنا واجب ہے ،سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے ہٹ کر داڑھی منڈانا اور ایک مٹھی سے گھٹانا حرام ہے ۔ایسا نہ ہو کہ تراش خراش والی چھوٹی سی برائے نام داڑھی رکھی ، ادھر سے کوئی کٹ مارا تو کوئی اُدھر سے جیسا کہ آج کل کچھ لوگ کر رہے ہیں شاید یہ فلم ایکٹروں کی نقالی ہے۔یوں ہی طرح طرح کے لباس کا فیشن چل پڑا ہے، فلاں فلم ایکٹر نے جو لباس پہنا اب اس کا فیشن چل پڑا،کسی ایکٹر نے کوئی لباس پہنا تو اس کے پیچھے چل پڑے اور اسی کا فیشن نکل آیا، آپ کو کیا ہو گیا ہے؟الحمد للہ آپ تو مسلمان ہیں،آخر کس کے پیچھے چل پڑے ہیں؟ براہ کرم !اس کے پیچھے چلیں کہ جس کے پیچھے چلنے سے جنت ملتی ہے۔ ہاں ہاں پیارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے والے کو تو جنت ہی ملے گی، یقیناً ہمارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تو جنت ہی میں تشریف لے جانا ہے۔

سچے عاشقِ رسول ﷺ کی علامت کیا ہے؟

اے عاشقان رسول!بےشک ہر مسلمان عاشق رسول ہےچاہے کتنا ہی بے عمل ہومگر کامل(یعنیPerfect ) عاشق رسول کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کے آخری نبی، رسول عربی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا رہے،اور ہاں کسی بھی سنت مؤکدہ کوجان بوجھ کرترک نہ کرے۔خداناخواستہ معاملہ اس کے الٹ رہا،فیشن کے پتلے بنے رہے ،سنتوں سے دور بھاگتے رہے تو کیا ہو گا! آہ!زبان سے تو عشق رسول کے بڑے بڑے دعوے ہوں اور عملی طور پر سنت رسول پر عمل، نہ سیرت کے مطابق زندگی کا گزارناتو ایسا شخص کس طرح کامل عاشق رسول کہا جا سکتا ہے؟

اللہپاک ہمارا اُٹھنا بیٹھنا،کھانا پینا، سونا جاگنا ،الغرض زندگی کا ہر کام سنت رسو ل کے مطابق ہو جائے،اے کاش!ہمیں اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سچی محبّت نصیب ہو جائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!