حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاند سے زیادہ خوبصورت تھے
حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے چاندنی رات میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سرخ حلہ(یعنی Red Rob)پہنے ہوئے تھے یعنی اس میں لال دھاریاں تھیں، میں کبھی حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا اور کبھی چاند کو، میرے نزدیک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاند سے زیادہ حسین(یعنی خوبصورت) تھے۔( ترمذی،کتاب الادب، باب ما جاء فی الرخصة...الخ ،4/370،حدیث: 2820)
ایمان افروز شرح
اس حدیث پاک کی شرح میں حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: خیال رہے کہ حضور انور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کاچہرہ دیکھنا بھی اعلیٰ عبادت ہے جیسے قرآنِ مجید کا دیکھنا بھی عبادت ہے بلکہ قرآن کو دیکھنے سے چہرۂ اَنور دیکھنا اعلیٰ و افضل ہے کہ قرآن کو دیکھ کر مسلمان صحابی نہیں بنتا حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ دیکھ کر صحابی بن جاتا ہے،ان کا(یعنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا) نام مسلمان بنائے،اِن کا چہرہ صحابی بنائے اور ان کا تصور عارف (یعنی اللہ پاک کی پہچان کرنے والا) بناتا ہے۔ فرشتے قبر میں وہ چہرہ ہی دکھاتے ہیں،پہچان کراتے ہیں،قرآن مجید یا کعبۂ معظمہ نہیں دکھاتے،انہیں کے چہرے کی شناخت پر قبر میں بیڑا پار ہوتا ہے،ہر مؤمن کی قبر مدینہ ہے بلکہ ہر مؤمن کا سینہ مدینہ ہے۔
ان حضرات (یعنی صحابۂ کرام علیہم الرضوان)کی نگاہ حقیقت بین (یعنی حقیقت دیکھنے والی)تھی،حقیقت میں چہرۂ مصطفوی چاند سے کہیں زیادہ حسین(یعنی خوبصورت) ہے کہ چاند صِرف رات میں چمکے یہ چہرہ دِن رات چمکے،چاند صِرف تین رات چمکے یہ چہرہ ہمیشہ ہر دِن رات چمکے،چاند جسموں پر چمکے یہ چہرہ دلوں پر بھی چمکے،چاند نور ابدان دے(یعنی جسموں کو روشنی دے) یہ چہرہ نور ایمان دے(یعنی اِیمان کو روشنی دے)،چاند گھٹے بڑھے یہ چہرہ گھٹنے سے محفوظ رہے،چاند کو گرہن لگے یہ کبھی نہ گہے،چاند سے عالم اجسام (یعنی دُنیا) کا نظام قائم ہے حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) سے عالم ایمان کا۔
حضور انور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کا چاند سے زیادہ حسین(یعنی Beautiful) ہونا صِرف اُن کی عقیدت میں نہ تھا بلکہ واقعہ یوں ہی ہے۔ چاند دیکھ کر کسی نے اپنے ہاتھ نہ کاٹے،حُسنِ یوسف دیکھ کر زَنانِ مِصر (یعنی مِصر کی عورتوں)نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور حسن یوسفی سے حسن محمد کہیں افضل ہے لہٰذا حضرت جابر( رضی اللہ عنہ) کا یہ فرمان بالکل دُرُست ہے )کہ میرے نزدیک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمچاند سےزیادہ حسین تھے۔(( مراٰۃُ المناجیح،8/60 ملتقطاً )
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا تمام تر حسن و جمال ہم پر ظاہر نہیں ہوا اگر آپ کا کامل حسن (یعنی Complete حسن) ہم پر ظاہر ہو جاتا تو ہماری آنکھیں اُس جلوۂ زیبا (یعنی خوبصورت جلوے ) کو دیکھنے کی طاقت نہ لاتیں۔( مواهب اللدنية،المقصد الثالث... الخ،الفصل الاول فی کمال خلقتہ...الخ، 2/5)
سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زیر سایہ حضرت سیدنا ہند ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے پرورش پائی تھی۔آپ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کےاخیافی بھائی ہیں(اخیافی اس کوکہتے ہیں جن کی والدہ ایک ہو اوروالدالگ الگ ہوں۔( بہار شریعت،اصطلاحات،۲/۱۳۔
))
ام المومنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہاحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ابو ہالہ کے نکاح میں تھیں جس سے یہ حضرتِ ہند پیدا ہوئے تھے(سیرتِ مصطفیٰ،ص۹۲ بتغیرٍ قلیلٍ۔)
اور یہ حسنینِ کریمین رضی اللہ عنھما کے ماموں جان تھے۔ آپ چھوٹی عمر میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جی بھر کر دیکھتے اور چہرۂ پاک پر ہمیشہ نگاہ ٹکائے رکھتے کیونکہ آپ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے گھر میں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہےکہ حُلیۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وَصف ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے مشہور ہوا نہ کہ اکابر صحابہ سے ، کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم شان وعظمت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت کے با عِث آپ پر نظریں نہیں ٹکا سکتے تھے۔ ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ کی نظر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یوں احاطہ(یعنی گھیرا) کرتی تھی جیسا کہ ہالہ (یعنی دائرہ)چودھویں کے چاند کا۔ آپ کو یہ سعادت مبارک ہو۔ مگر اس کے باوجود جو کچھ ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا وہ ایسے ہی ہے جیسے سمندر سے ایک قطرہ (یعنی ایک Drop)۔( نسیم الریاض، القسم الاول فی تعظیم العلی الاعلٰی...الخ،الباب الثانی...الخ،1/507۔
)
آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عظمت والی نگاہوں میں عظیم دلوں میں معظم (یعنی عظمت والے،عزت والے)تھے،چہرۂ مبارک ماہ دوہفتہ(یعنی چودہویں کے چاند)کی طرح چمکتا جگمگاتی کشادہ پیشانی اورگھنی داڑھی شریف تھی، رخسار (یعنی گال) نرم و نازک اور ہموار(یعنی برابر)تھے اور منہ مبارک فراخ، دانت شریف کشادہ اور روشن تھے۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ،5/504، حدیث:9۔)
بخاری شریف کی حدیث میں ہے:جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خوش ہوتے تو چہرہ ٔانور خوشی سے دمک(یعنی چمک) اٹھتا اور یوں معلوم ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔( بخاری،کتاب المناقب،باب صفة النبی،2/488، حدیث:3556 ۔)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ حسین(یعنی خوبصورت)کسی کو نہیں دیکھا، ایسا معلوم ہوتا کہ سورج آپ کے پیارے پیارے چہرے میں چل رہا ہو۔( مشکاة،کتاب الفضائل والشمائل،باب فضائل سید المرسلین،الفصل الثالث،2/362،حدیث:5795۔)
گویا جسم مبارک چاندی سے ڈھال کر بنایا گیا
حضورانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ مُبارَک کا رنگ سفید اور روشن وتاباں (یعنی چمکتا ہوا) مگر اس میں کچھ سرخی ملی ہوئی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک جسم چاندی سے ڈھال کر بنایا گیاہے۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ،5/505، حدیث:12۔)
نور والے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم درمیانی قد والے تھےاور آپ کا جسم پاک انتہائی خوبصورت تھا، جب چلتے تھے تو کچھ جھک کرچلتے تھے۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ،5/502،حدیث:7 ملتقطاً)
بال مبارک نہ گھونگھر دار (گھونگھرالے)تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ اِن دونوں کیفیتوں کے درمیان تھے۔ مبارک بال شریف پہلے کانوں کی لو تک تھے پھر مبارک کندھوں تک لٹکتے رہتے تھے مگر حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو اتروا دیا۔(
سیرت مصطفیٰ،ص567)
مبارک آنکھیں بڑی بڑی اور سرمگیں
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک آنکھیں بڑی بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں (یعنی سرمہ لگی ہوئیں)تھیں۔ پلکیں گھنی اور دراز تھیں۔ مبارک پتلی کی سیاہی خوب سیاہ اور آنکھ کی سفیدی خوب سفید تھی جن میں باریک باریک سرخ ڈورے تھے۔( مِراٰۃُ المناجیح،8/50۔
)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بھنویں دراز و باریک تھیں اور درمیان میں دونوں اس قدر متصل(یعنی نزدیک) تھیں کہ دور سے ملی ہوئی معلوم ہو تی تھیں۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ ،5/504، حدیث:8)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جلد مبارک نرم تھی۔( مراٰۃ المناجیح، 8/49)
داڑھی مُبارَک گھنی تھی(مسلم،کتاب الفضائل ، باب اثبات خاتم النبوة...الخ ،ص982، حدیث :6084)
اسے کنگھی کرتے(ترمذی،الشمائل المحمدية، باب ما جاء فی ترجل رسول اللّٰہ ، 5/509، حدیث: 33)
اور آئینے کو اپنی زیارت سے مُشَرَّف فرماتے(یعنی آئینہ دیکھتے)( الزواجر،الباب الاول فی الکبائر الباطنة...الخ، الکبیرة الثانیة...الخ ، 1/ 89)
سونے سے پہلے مبارک آنکھوں میں تین تین بار سرمہ ڈالتے۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی کحل رسول اللّٰہ،5/512، حدیث:51)
سرمہ ڈالنے کی اور بھی روایات ہیں جیسا کہ دو سلائیاں پہلے سیدھی آنکھ میں پھر دو سلائیاں الٹی آنکھ میں پھر ایک سلائی کو سرمہ والی کر کے دونوں آنکھوں مبارک میں پھیر لیتے۔( وسائل الوصول الٰی شمائل الرسول،الباب الثانی... الخ،الفصل الثانی فی صفة بصرہ...الخ، ص77
)
مونچھ مُبارَک کو کٹوایا کرتے(ترمذی،کتاب الادب، باب ما جاء فی قص الشارب، 4/349، حدیث:2769)
اور فرماتے تھے مونچھیں خوب پَست (یعنی چھوٹی)کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی ان کو بڑھنے دو) اور یہودیوں کی سی صورت مَت بناؤ۔( شرح معانی الآثار للطحاوی،کتاب الکراهة، باب حلق الشارب،4/ 28،حدیث:6424)
آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیشانی مبارک کشادہ (یعنی پھیلی ہوئی)تھی اور چراغ کی طرح چمکتی تھی۔(سبل الهدی والرشاد ، الباب الرابع فی صفة جبینہ...الخ ، 2 /21)
آسمان کے درواز ے کھلنے کی آواز سن لیتے
دو کان مبارک کامل ومکمل (یعنی Perfect)تھے۔سننے کی قوت مبارکہ ایسی تھی کہ آسمان کے درواز ے کھلنے کی آواز بھی سن لیتے تھے۔( شرح الزرقانی علی المواهب،باب غزوة الفتح الاعظم،3/381)
شافی و کافی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک کا لعاب (یعنی تھوک شریف)زخمی اور بیماروں کے لئے شفا تھا،خوش آواز ہونے کے علاوہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز اتنے تھے کہ جہاں تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز شریف پہنچتی اور کسی کی آواز نہ پہنچتی تھی۔خطبوں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز مبارک گھر وں میں پردہ نشین عورتوں تک پہنچ جاتی تھی۔(شرح الزرقانی علی المواهب،المقصد الثالث... الخ،الفصل الاول...الخ، 5/345)
گردن مبارک چاندی کی مانند صاف۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ، 5/504، حدیث:9)
ہاتھ مبارک اور بازو مبارک پُرگوشت(یعنی گوشت سے بھرے ہوئے) تھے۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ،5/504، حدیث:9 ماخوذاً۔)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا سینۂ بے کینہ کشادہ تھا۔( مراٰۃالمناجیح،8/49)
پیٹ مبارک اور سینہ مُبارَک برابر تھے۔ نہ تو شکم (یعنی پیٹ) سینہ سے اور نہ سینہ شکم سے بلند تھا۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ، 5/504، حدیث:9)
پشت(یعنی پیٹھ) مُبارَک ایسی صاف و سفید تھی کہ گویا پگھلائی ہوئی چاندی ہے۔( مسند امام احمد،مسند المکیین،حدیث محرش الکعبی الخزاعی،5/284، حدیث:15512)
دونوں پاؤں مبارک گوشت سے بھرے ہوئے اور خوبصورت ایسے کہ کسی انسان کے نہ تھے اور نر م و صاف ایسے کہ اِن پر پانی ذرا بھی نہ ٹھہرتا بلکہ فوراً نیچے کی طرف آ جاتا۔( ترمذی،الشمائل المحمدية،باب ما جاء فی خلق رسول اللّٰہ،5/504،حدیث:9۔سیرت مصطفیٰ، ص580)ایڑیاں کم گوشت(مسلم،کتاب الفضائل،باب فی صفة فم النبی ...الخ،ص980، حدیث:2339)
اور دونوں پنڈلیاں مبارک باریک و سفید ولطیف گو یا کھجور کا مغز ہیں۔( سيرت مصطفیٰ، ص580 ماخوذاً)
جب آپ چلتے تو قدم مبارک کو قوت و ٹھہراؤ اور وقار و تواضع سے اٹھا تے جیسا کہ اہلِ ہمت وشجاعت کا قاعدہ ہے۔( مراٰۃُ المناجیح، 8/57ماخوذاً)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب پتھر پر چلتے تو وہ نَرم ہو جاتا تا کہ آپ بآسانی اس پر سے گزر جائیں اور جب ریت پر چلتے تو اُس میں قدم مُبارَک کا نشان نہ ہوتا۔( الکلام الاوضح فی تفسیر سورة الم نشرح ،ص100 ملخصاً)
دنیا سے نرالا حُسن وجمال
ام المؤمنین حضرت بی بی عائشہ صدىقہ طیبہ طاہرہ عابدہ عفیفہ رضی اللہ عنھا فرماتى ہىں:رَسول ِ باکمال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن و جمال دنیا سے نرالا اور رنگ بدن نہاىت روشن تھا، جو آپ کی خوبی بیان کرتا وہ چودھوىں رات کے چاند سے تشبىہ دىتا(یعنی ملاتا) اور آپ کا پسىنا مبارک چمک اور صفائى مىں موتی کے مانند تھا۔(الخصائص الکبریٰ،باب الآية فی عرقہ الشریف، 1/115)
چہرۂ انور کی شان
حضرت سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگرآپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ میں روشن نشانیوں (یعنی دیگرمعجزات) کا ظہور نہ بھی ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور(یعنی روشن چہرہ)ہی آپ کے نبی ہونے کی خبر دے دیتا۔ (شرح الزرقانی علی المواهب،المقصد السادس،النوع السادس...الخ،8/503)
آنکھوں سے نور نکل کر آسمان کی بلندیوں میں پھیل گیا
حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہااللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلی بار کے دِیدار کے متعلق فرماتی ہیں:نُور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُن کے حُسن و جمال کی وجہ سے میں نے جگانا مُناسب نہ سمجھا، میں آہستہ سے اُن کے قریب ہو گئی اور اپنا ہاتھ اُن کے مُبارَک سینے پر رکھا تو آپ مسکرا تے ہوئے میری طرف دیکھنے لگے۔حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سےایک نور نکلا جو آسمان کی بلندیوں میں پھیل گیا۔(الکلام الاوضح فی تفسیر سورة الم نشرح ،ص۹۸ ملخصاً)
اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
جنتی صحابی حضرت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین تر (یعنی خوبصورت)نہیں تھا، میں نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک چہرے کو اس کے جلال و جمال کی وجہ سے جی بھر کر دیکھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا، اگر کوئی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبی و جمال بیان کرنے کے لئے کہتا تو میں کیسے ایسا کر سکتا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آنکھ بھر کر دیکھنا میرے لئے ممکن نہ تھا۔( مسلم،کتاب الایمان ، باب کون الاسلام ...الخ، ص ۷۰، حدیث:۱۲۱)
جسم انورکی روشنی سورج کی روشنی پر غالب آجاتی
صحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہمَا فرماتے ہیں: رسول بےمثال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج کی روشنی میں کھڑے ہوتےتو آپ کےجسم انورکی روشنی سورج کی روشنی پر غالب آ جاتی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چراغ (LAMP)کےپاس کھڑے ہوتے تو آپ کے جسم انور (یعنی روشن بدن) کی روشنی چراغ (LAMP)کی روشنی پر چھا جاتی تھی۔( سبل الھدی والرشاد،الباب العاشر فی صفة وجهه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،۲/۴۰)
آپ علیہ السلام کا سایہ نہ تھا
حضرت سیدنا علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا،اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور ہیں اورحافظ رزین محدث رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس کا سبب یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چمکتا دمکتا نور ساری دنیا کے نوروں اور روشنیوں پر غالب (یعنی چھایا ہوا) تھا۔بعض علما نے کہا کہ اس کی حکمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک سائے کو اس سے بچانا ہے کہ کہیں کسی کافر کا پاؤں اِن کے مبارک سائے پر نہ پڑ جائے۔( شرح الزرقانی علی المواھب،المقصد الثالث...الخ ،الفصل الاول...الخ، ۵/۵۲۴)
نورانی پیشانی پر پسینا نور کی طرح چمکتا
صحابیہ بنت صحابی، ام المؤمنین حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نعلین شریفین یعنی جوتے مبارک سی رہے تھے اور میں اون کات رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک پیشانی سے پسینا بہہ رہا ہے جو کہ نور کی طرح چمک رہا ہے۔ (یہ خوبصورت منظر دیکھ کر)میں حیران ہو گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:کیا بات ہے تم اتنی حیرت میں ہو؟میں نے عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !میں نے نورانی پیشانی پر پسینے کو نور کی طرح چمکتے دیکھا ہے، اگر ابوکبیر ہذلِی (جو کہ ایک شاعر تھا وہ یہ منظر) دیکھ لیتا تو جان لیتا کہ میرے اس شعر کے اصل مصداق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں۔مصطفےٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اے عائشہ! ابوکبیر ہذلِی کیا کہتا ہے؟‘‘ عرض کی:وہ کہتا ہے: ”(اس میں سے ایک شعر کا ترجمہ یہ ہے:) جب تو اس کے چہرہ کے خطوط (یعنی لکیریں) دیکھے گا تو وہ چمکیلے بادلوں کی طرح چمکتے نظر آئیں گے۔“فرماتی ہیں:(میں نے جب یہ اشعار پڑھے تو)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! اللہ تجھے اچھا بدلہ عطا فرمائے تم مجھ سے اتنا خوش نہیں ہوتی ہو گی جتنا میں تم سے خوش ہوتا ہوں۔“( خصائص الکبریٰ،باب الآية فی عرقہ الشریف،۱/۱۱۵)
تہبند شریف کی برکت(حکایت)
مشہور مفسر حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض اوقات نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجلی(یعنی روشنی) ساتھ والوں پر بھی پڑتی تھی جس سے ان پر بھی غیب کی چیزیں(یعنی چھپی باتیں ) ظاہر ہو جاتی تھیں۔ایک بار حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے تیز بارش دیکھی،حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری(صحابیرضی اللہ عنہ) کو دفن کرنے قبرستان تشریف لے گئے تھے،واپسی پرآپ رضی اللہ عنہانے عرض کی: حضور! اس بارش میں آپ کہاں تھے،بھیگے کیوں نہیں؟ فرمایا:تمہارے سر پر کیا کپڑا ہے؟ عرض کی:آپ کا تہبند شریف۔ فرمایا:”اس تہبند کی برکت سے تم نے یہ غیبی نورانی بارش دیکھ لی،ورنہ یہ بار ش کسی کو نظر نہیں آتی۔( مراۃ المناجیح،7/199بتغیرٍ قلیلٍ)“ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے سر مبارک پر ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تہبند مبارک تھا اس کی وجہ سے ان کو نور کی بارش نظر آئی یعنی غیب کے حالات نظر آئے ، جب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک تہبند سر پر رکھنے سے بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاپر غیب ظاہر ہو جائے تو خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کیا نظر نہیں آتا ہو گا!
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خُدا ہی چُھپا تم پہ کروڑوں دُرُود (حدائقِ بخشش،ص 264)
شرح کلام رضا:یعنی اللہ پاک کی ذات غیب الغیب ہے، جب اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک آنکھوں سے جاگتی حالت میں اللہ پاک کی ذات کو دیکھا تو اب اور کون سی چیز ہے جو نگاہ مصطفےٰ سے چھپی رہ سکتی ہے!
خچر۔سانپ
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خچر پر سوار دو قبروں پرگزرے تو خچر نے عذاب قبر دیکھا اورکودنے لگا۔ایک بار عقاب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے مقابل سے گزرا تو اس نے موزے کے اندر کا سانپ دیکھ لیا۔( مراۃ المناجیح،7/199)
ہر شے پہ لکھا ہے نامِ محمد
سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک نام عرش کے پائے پر،ہر ایک آسمان پر،جنت کے درختوں اور محلات پر،حوروں کے سینوں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان لکھا گیا ہے۔(خصائص الکبریٰ، باب خصوصيته بكتابة اسمه الشريف...الخ، 1/
12)
بدن پر نہ مکھی بیٹھی،نہ مچھر نے کاٹا
اےعاشقان رسول!بدن تو بدن،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کپڑوں پر بھی کبھی مکھی نہیں بیٹھی، نہ مبارک کپڑوں میں کبھی جوئیں آئیں اور نہ ہی کبھی مچھر نے کاٹا۔مکھیوں کا آنا، جوؤں کا پیدا ہونا گندگی اور بَدبو وغیرہ کی وجہ سے ہوا کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قسم کے عیب سے پاک تھے اور جسم مبارک خوشبو دار تھا،اس لئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان چیزوں سے محفوظ رہے۔( شفا،1/368۔ شرح الزرقانی علی المواھب، فصل رابع ما اختص بہ...الخ،7/200)
یا اللہ! ڈینگی وائرس کا خاتمہ ہو!
آج ہمارے یہاں مخصوص مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے” ڈینگی وائر س“ پھیلا ہوا ہے، اللہ کریم آسانی فرمائے،اس ڈینگی وائرس کا خاتمہ کرے،اس پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صَدقہ جن کو کبھی مچھر نے نہیں کاٹا،ہمارے اسلامی بھائی، اسلامی بہنیں اور تمام عاشقان رسول شفایاب ہو جائیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
پسینا مُبارَک کی خوشبو تمام اہلِ مدینہ کو پہنچتی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے، میں اسے اس کے شوہر کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں، میرے پاس کوئی خوشبو نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ عنایت فرمائیں۔ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کل صبح ایک چوڑے منہ والی شیشی اور کسی درخت کی لکڑی میرے پاس لے آنا۔ دوسرے روز وہ شخص شیشی اور لکڑی لے کر حاضرخدمت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں بازوؤں سے اس میں اپنا پسینا مبارک ڈالنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شیشی بھر گئی ،پھر فرمایا: اِسے لے جاکراپنی بیٹی سے کہہ دینا کہ اس لکڑی کو شیشی میں ترکر کے مَل لیا کرے۔ پس جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینا مبارک لگاتی تو تمام اہلِ مدینہ کو اس کی خوشبو پہنچتی، یہاں تک کہ اُس کے گھر کا نام ’’بَیْتُ الْمُطَیِّبِیْن‘‘(یعنی خوشبو والوں کا گھر) ہو گیا۔( شواھد النبوة،رکن خامس،ص181)
کائنات کی سب سے بہترین خوشبو
اے عاشقان رسول!نور والے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ،شب اسریٰ کے دولھا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک پسینا کائنات کی سب سے بہترین خوشبو ہے۔ حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا بابرکت و روشن ہاتھ میرے چہرے پر پھیرا ، میں نے اسے ٹھنڈا اور ایسی خوشبودار ہواکی طرح پایا جو کسی عطر فروش(یعنی عطر بیچنے والے)کے عطر دان سے نکلتی ہے ۔( وسائل الوصول الٰی شمائل الرسول،الفصل الرابع فی صفة عرقہ... الخ،ص85
۔
)
خوشبودار آقا کی خوشبوئیں
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک انگلیاں گویا کہ چاندی کی شاخیں تھیں، مبارک ہتھیلیاں ریشم سے زیادہ نرم تھیں اور عطر فروش(یعنی عطر بیچنے والے) کی ہتھیلی کی طرح مہکتی تھیں(یعنی ان سے خوشبو اٹھتی تھی) خواہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشبو کو چھوا ہو یا نہ چھوا ہو۔ جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہاتھ ملا لیتا وہ پورا دن اپنی ہتھیلی سے خوشبو پاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بچے کے سر پر اپنا رحمت والا ہاتھ مبارک پھیرتے تو اس کے سر سے خوشبو آنے کی وجہ سے دوسرے بچوں میں پہچان لیا جاتا تھا۔( وسائل الوصول الٰی شمائل الرسول،الفصل الرابع فی صفة عرقہ....الخ،ص85)
ایک ایمان افروز خواب
مشہور مفسر،حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے بارے میں فرماتے ہیں:اس گنہگار نے ایک بار خواب میں اس دست اقدس (یعنی ہاتھ مبارک) کو بوسہ دیا(یعنی چوما) ہے، بالکل ایسے ہی دیکھے نہایت ٹھنڈے کہ مصافحہ ہوا(یعنی ہاتھ ملایا) تو کلیجا ٹھنڈا ہو گیا، رب تعالیٰ پھر نصیب کرے۔( مراٰۃُ المناجیح،8/52)
بھینی خوشبو سے مَہک جاتی ہیں گلیاں وَاللہ
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک سے ہر وقت نہایت بہت تیز خوشبو مہکتی اور دور دور پہنچتی تھی حتی کہ گلی سے گزرتے تو گھروں والے اندرون ِخانہ (یعنی گھر کے اندر)محسوس کر لیتے تھے، پھر یہ خوشبو بہت دیر تک پھیلی رہتی تھی کہ جس گلی سے گزر جاتے بعد میں بہت دیر تک وہ گلی مہکتی رہتی تھی (یعنی خوشبو آتی رہتی تھی ) کہ بعد میں آنے والے پہچان لیتے کہ یہاں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزر گئے ہیں۔( مِراٰۃُ المناجیح،۸/۵۲)
تہجد کے وقت محسوس ہونے والی غیبی خوشبو
حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اب بھی روضہِ اطہر پر خصوصا مواجہہ شریف جہاں کھڑے ہو کر سلام پڑھا جاتا ہے،کبھی کبھی نہایت نفیس (یعنی عمدہ)خوشبو محسوس ہوتی ہے۔بزرگان دین رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ کبھی کسی کو اپنے گھر میں خصوصًاً تہجد کے وقت غیبی خوشبو محسوس ہوتی ہے اس وقت درود شریف پڑھنا چاہیے،یہ خیال کرے کہ یہاں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے ہیں،بعض لوگوں کی وفات کے بعد ایسی خوشبو محسوس ہوتی ہے سمجھو حضور تشریف لائے ہوئے ہیں،اس مَیِّت کو لینے آئے ہیں۔( مراۃ المناجیح،8/53)
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!