فتحِ مکہ سے قبل کے اہم واقعات
ظلم، صبر، تقویٰ اور حکمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تاریخی و فکری اور روحانی مطالعہ
فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم الشان انقلاب ہے جس نے صرف ایک شہر کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فکری سمت کو بدل دیا۔ یہ فتح محض عسکری قوت کا نتیجہ نہ تھی بلکہ صبر، استقامت، اخلاق، تقویٰ اور اعلیٰ ترین حکمتِ عملی کا عملی مظہر تھی۔ فتحِ مکہ کے پیچھے تقریباً اکیس برس پر محیط وہ مسلسل جدوجہد کارفرما تھی جس میں ظلم برداشت کیا گیا، قربانیاں دی گئیں، ہجرتیں کی گئیں، معاہدات نبھائے گئے اور اخلاقی برتری کو ہر حال میں قائم رکھا گیا۔ فتحِ مکہ سے قبل کے اہم واقعات کو اگر تسلسل، شعور اور تدبر کے ساتھ نہ سمجھا جائے تو فتحِ مکہ کی حقیقی روح، اس کی اخلاقی عظمت اور اس کے عالمی اثرات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے بھی فتح کو صرف نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں آغازِ اسلام اور باطل نظام کی جڑوں پر ضربدعوتِ توحید صرف مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی انقلاب جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں اعلانِ نبوت فرمایا اور لوگوں کو “لا الٰہ الا اللہ” کی طرف بلایا تو یہ محض ایک مذہبی نعرہ نہ تھا بلکہ:
-
جاہلی طبقاتی نظام کے خاتمے کا اعلان تھا۔ -
سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف بغاوت تھی۔ -
انسانی مساوات کا منشور تھا۔ -
طاقت، نسب اور مال کی بنیاد پر برتری کو رد کرنے کا اعلان تھا۔
-
کعبہ کی بت پرستی ختم ہو جائے گی۔ -
حج کی تجارت بیٹھ جائے گی۔ -
غلام اور سردار برابر ہو جائیں گے۔ -
قبائلی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔
-
سماجی بائیکاٹ۔ -
معاشی ناکہ بندی۔ -
کردار کشی۔ -
خاندانی دباؤ۔ -
قتل اور دھمکیاں۔
-
کھانا بند۔ -
خرید و فروخت بند۔ -
شادی بیاہ بند۔ -
سماجی تعلقات منقطع۔
-
نہ دعوت رکی۔ -
نہ حوصلہ ٹوٹا۔ -
نہ اخلاق بدلا۔
-
پتھر مارے گئے۔ -
لہو بہایا گیا۔ -
گالیاں دی گئیں۔
-
بددعا نہیں دی۔ -
انتقام نہیں چاہا۔ -
نسلوں کی ہدایت مانگی۔
-
دین کو تحفظ دینا۔ -
عدل پر مبنی معاشرہ قائم کرنا۔ -
اسلام کو اجتماعی نظام دینا۔
-
اطاعت کی اہمیت۔ -
نظم و ضبط۔ -
صبر و استقامت۔
-
بنو کنانہ قریش کے حلیف بنے۔ -
بنو خزاعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معاہدے میں شامل ہوئے۔
-
حرمِ کعبہ کی حرمت پامال کی گئی۔ -
ب23 افراد شہید ہوئے۔ -
صلحِ حدیبیہ کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔
-
ناکامی کے بعد کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں۔ -
اخلاق، طاقت سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ -
فتح عاجزی اور شکر مانگتی ہے۔ -
امن اور معافی حقیقی غلبہ ہیں۔ -
اللہ کے وعدے سچے ہیں مگر جدوجہد شرط ہے۔ -
دشمنوں کو بھی دوست بنایا جا سکتا ہے۔ -
صبر کے بغیر نصرت نہیں۔ -
دلوں کو فتح کرنا اصل کامیابی ہے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!