فتحِ مکہ: رحمت، عدل اور درگزر کی روشن مثال

فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے شرک، ظلم اور جبر کے نظام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ نبی کریم نے مکہ میں داخل ہو کر انتقام کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا اور رحمت، عدل اور درگزر کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا جو پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق بن گیا۔ اس فتح کے نتیجے میں نہ صرف بت پرستی کا خاتمہ ہوا بلکہ عرب معاشرہ اخلاقی، سماجی اور روحانی انقلاب سے ہمکنار ہوا۔ فتحِ مکہ نے ثابت کیا کہ اسلام تلوار نہیں بلکہ اخلاق، عدل اور کردار کے ذریعے دلوں کو فتح کرنے کا دین ہے۔ یہ مضمون سیرتِ نبوی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے جو آج کے دور میں بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

January 8, 2026

فتحِ مکہ سے قبل جنگ کی خفیہ تیاری

فتحِ مکہ کے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت حکمت اور راز داری کے ساتھ جنگ کی تیاری کا آغاز فرمایا۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہتھیار تیار کرنے اور حلیف قبائل کو لڑائی کے لیے ہدایت دی گئی، مگر کسی کو یہ نہیں بتایا گیا کہ مہم کس کے خلاف ہے، حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اس راز سے ناواقف رہے۔ اس خفیہ تیاری کا مقصد اہلِ مکہ کو بے خبر رکھ کر کم سے کم خونریزی اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنا تھا۔

(زرقانی، 2/291، واهب اللدنیة مع شرح الزرقانی، 3/385-386)

اس حکمت عملی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو مکمل طور پر غیر تیار حالت میں پایا اور اچانک حملہ کرکے فتح کا دروازہ کھولنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ منصوبہ نہ صرف عسکری حکمت کا مظہر تھا بلکہ اخلاقِ نبوی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی اعلیٰ مثال بھی ہے۔

سوال و جواب:

سوال: فتحِ مکہ سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عسکری تیاری کیوں خفیہ رکھی؟

جواب: تاکہ اہلِ مکہ غیر تیار ہوں اور کم سے کم خونریزی کے ساتھ فتح حاصل ہو۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا خط اور نبی کی حکمت

فتحِ مکہ سے قبل حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہلِ خانہ کے تحفظ کے لیے قریش کو ایک خفیہ خط بھیجا، جس میں مسلمانوں کی عسکری تیاریوں کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔

فورا حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا گیا اور روضۂ خاخ سے وہ خط برآمد کیا گیا۔ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی کہ یہ عمل ایمان میں کمی یا غداری نہیں بلکہ محض اہلِ خانہ کی حفاظت کے لیے تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اخلاص اور نیتِ درست کو دیکھتے ہوئے ان کا عذر قبول فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شدید ردِعمل کے باوجود خاموش ہو گئے، اور قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:

(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ) (الممتحنۃ: 1)

اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

(بخاری، 2/612)

لشکر اسلام کی مدینہ سے روانگی

رمضان المبارک کی 10 تاریخ، سن 8 ہجری، بروز بدھ (یکم جنوری 630ء)، نمازِ عصر کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ سے روانگی فرمائی۔ روانگی سے پہلے حضرت ابورہم کلثوم بن حصین غفاری رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا نائب مقرر فرمایا گیا تاکہ مدینہ میں انتظام برقرار رہے۔

دشمن کو دھوکہ دینے کی حکمت

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی طرف چڑھائی کا ارادہ فرمایا، تو حضرت ابو قتادہ ربعی رضی اللہ عنہ کو بطنِ اضم کی جانب بھیج دیا تاکہ کفار یہ سمجھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور علاقے کی طرف جا رہے ہیں۔ اس تدبیر کا مقصد دشمن کو اصل ہدف سے غافل رکھنا تھا اور مسلمانوں کو غیر متوقع فتح دلانا تھا۔

سوال و جواب:

سوال: دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی گئی؟

جواب: ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو بطنِ اضم بھیجا گیا تاکہ کفار اصل ہدف سے غافل رہیں۔

عمومی اعلان اور لشکر کی تیاری

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے مسلمانوں کو پیغام بھیجا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَحْضُرْ رَمَضَانَ بِالْمَدِينَةِ

یعنی، جو لوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ماہِ رمضان میں مدینہ طیبہ پہنچ جائیں۔

یہ پیغام سنتے ہی اہلِ ایمان اطراف و اکناف سے مدینہ طیبہ پہنچ گئے، اور تمام مجاہدین اپنی تیاریوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔

سوال و جواب:

سوال: مسلمانوں کو مکہ کی طرف روانگی کے لیے کس نے پیغام بھیجا؟

جواب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور اطراف کے مسلمانوں کو پیغام بھیجا۔

لشکر کی تنظیم اور دستوں کی تقسیم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دو سو مجاہدین کے ساتھ لشکر کے آگے روانہ فرمایا۔ جب لشکر عرج کے مقام پر پہنچا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور شدتِ پیاس کے باعث چہرہ انور پر پانی چھڑکنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہاں پر سو سو مجاہدین کے دستے ترتیب دیے گئے، جو لشکر کے آگے آگے چلنے والے تھے۔

جاسوس کی گرفتاری اور توکل

عرج اور طلوب کے درمیان قبیلہ بنو ہوازن کا ایک جاسوس گرفتار ہوا۔ اس نے بتایا کہ قبیلہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو جاسوس کی نگرانی کا حکم دیا تاکہ دشمن کو کسی اطلاع کی نوبت نہ آئے۔

سوال و جواب:

سوال: قبیلہ بنو ہوازن کا جاسوس کیا کرتا رہا؟

جواب: وہ دشمن کو لشکر اسلام کی تیاری کی اطلاع دینے والا تھا، مگر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس کی نگرانی کی۔

قدید میں جھنڈوں کی تقسیم

لشکر اسلام جب مقام قدید پہنچا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل میں جھنڈے اور پرچم تقسیم فرمائے، جو لشکر کی طاقت، نظم و ضبط اور شانِ شوکت کا مظہر تھے۔ یہ اقدام نہ صرف عسکری حکمت بلکہ روحانی اتحاد کی بھی علامت تھا۔

سوال و جواب:

سوال: جھنڈوں کی تقسیم کا مقصد کیا تھا؟

جواب: لشکر کی طاقت، نظم و ضبط اور شوکت ظاہر کرنا۔

ماہِ رمضان میں سفر اور مجاہدین کی مشقت

فتحِ مکہ کے لیے لشکر اسلام کا سفر رمضان المبارک میں شروع ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اکثر مجاہدین روزہ دار تھے۔ شدید گرمی، مسلسل پیدل سفر اور روزے کی حالت نے مجاہدین کو نڈھال کر دیا۔

سوال و جواب:

سوال: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشقت کے وقت روزہ افطار کیوں فرمایا؟

جواب: تاکہ امت کو عملی سبق ملے کہ مشقت اور سفر میں روزہ چھوڑنا جائز ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی فیصلہ اور افطار

کُدید یا کُراع الغمیم کے مقام پر پہنچنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر دودھ یا پانی بھرا ہوا برتن منگوایا، سب کے سامنے پیا اور روزہ افطار کیا۔ اس عمل سے امت کو عملی سبق ملا کہ سفر اور مشقت میں روزہ چھوڑنا شریعت کی اجازت ہے۔

روزہ برقرار رکھنے والوں کے بارے میں ارشاد

بعض افراد نے روزہ رکھنے پر اصرار کیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أُولٰئِكَ الْعُصَاةُ

یعنی یہ لوگ نافرمان ہیں۔

(سبل الہدیٰ، 5/323324)

مقامِ جحفہ پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور عفوِ نبوی

مقامِ جحفہ پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حاضر ہوئے۔ ان کے ساتھ ابو سفیان بن الحارث اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی آئے، جنہوں نے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی تھی۔

ابتدا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات سے انکار فرمایا، لیکن حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی سفارش اور دونوں کی ندامت پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل نرم ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے انداز میں اپنی خطا کا اعتراف کیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْيَوْمَ، یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ

سوال و جواب:

سوال: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن الحارث کو معاف کیوں کیا؟

جواب: حضرت اُمِ سلمہ کی سفارش اور ندامت کی وجہ سے۔

قصور معاف ہونے کے بعد حضرت ابو سفیان بن الحارث

قصور معاف ہونے کے بعد حضرت ابو سفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں اشعار لکھے، اور اپنے ماضی کے ہجو پر معذرت کی۔ وہ عمر بھر سچے اور ثابت قدم مسلمان رہے، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قائم مقام ثابت ہوں گے۔

سفر بدستور جاری رہا، عشاء کے وقت لشکر مرالظہران کے قریب پہنچا اور ہر مجاہد نے اپنے پڑاؤ میں آگ روشن کی۔ دس ہزار آگیں روشن ہوئیں اور وادی نور و ہیبت سے جگمگا اٹھی، جس سے لشکر اسلام کی شان و جلال کا واضح مظہر سامنے آیا۔

رات کے وقت لشکر کی نگرانی

رات کو لشکر اسلام کی نگہداشت کے لیے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا گیا۔ مدینہ سے روانگی کے کئی دن گزر چکے تھے، لیکن کفارِ مکہ مکمل طور پر بے خبر تھے۔

اہلِ مکہ نے ابو سفیان کو بھیجا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو اور سب کے لیے امان طلب کی جا سکے۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء کے ساتھ مرالظہران کے قریب پہنچ کر خیمے اور جلتی ہوئی آگیں دیکھی، تو شدید خوف میں مبتلا ہو گیا۔

لشکر اسلام کا جاہ و جلال

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابو سفیان کو ایک بلند مقام پر کھڑا کریں تاکہ وہ لشکر اسلام کی قوت دیکھ سکے۔

ابو سفیان نے حیرت سے کہا:

اے ہاشمیو، کیا وعدہ شکنی پر آ مادہ ہو گئے ہو؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

یہ خاندان نبوت غداری نہیں کرتا۔ تم لشکر اسلام کی قوت و شوکت دیکھو۔

اسلامی فوج قبائل کے جھنڈوں اور زرق برق ہتھیاروں کے ساتھ سمندر کی طرح گزری۔ انصار کے دستے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کے ساتھ آئے، اور ابو سفیان گھبرا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كَذَبَ سَعدٌ يَا أَبَا سُفْيَانَ! اَلْيَوْمُ يَوْمُ الْمَرْحَمَةِ

یعنی آج کا دن رحمت کا دن ہے، اللہ تعالیٰ کعبہ کی عظمت ظاہر کرے گا اور قریش کے لیے رحمت نازل ہوگی، نہ کہ خونریزی۔(سبل الہدیٰ، 5/335)

فتح مکہ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امن پسندی اخلاقی اور سیاسی حکمت کا مظہر

فتحِ مکہ کا واقعہ محض عسکری فتح نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی حکمت کا مظہر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف دشمنوں کے ساتھ امن قائم کیا بلکہ صلح حدیبیہ کی روح اور اصولوں کی پاسداری بھی کی، جس سے اسلام کی تیز رفتار ترقی اور قلوب کی فتح ممکن ہوئی۔

حضرت ضمرہ کی سفارت اور قریش کا ردعمل

فتحِ مکہ سے قبل، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ساتھ امن پسندی اور مذاکرات کے لیے اپنا قاصد حضرت ضمرہ کو بھیجا۔

ضمرہ کی تجاویز

ضمرہ مکہ پہنچا اور حرم شریف کے دروازے پر اپنی اونٹنی بٹھا کر قریش کے سرداروں کے سامنے تین تجاویز پیش کیں:

  • بنو خزاعہ کے مقتولوں کی دیت ادا کریں۔

  • بنو نفاثہ سے اپنی دوستی کا معاہدہ ختم کریں۔

  • صلح حدیبیہ کو علانیہ کالعدم قرار دیں۔

قریش کا رد عمل

قریش نے باہمی مشورے کے بعد پہلی اور دوسری تجویز مسترد کر دی اور صرف تیسری تجویز قبول کی۔ ضمرہ واپس مدینہ آیا تو مسلمانوں میں اس فیصلے کی خبر نے خوف اور اضطراب پیدا کیا۔

ابو سفیان کی کوشش اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس وفاداری کے بعد قریش کے سردار ابوسفیان کو مدینہ بھیجا گیا تاکہ وہ صلح یا حدیبیہ کے معاہدے کی تجدید کریں۔

ابو سفیان کا مدینہ میں رد عمل

ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے ایک خواب دیکھا کہ مقام حجون سے خندمہ تک خون کی نہر بہتی ہے اور پھر غائب ہوگئی، جسے قریش نے منحوس اور بدقسمت قرار دیا اور خوف و دہشت کے عالم میں ابوسفیان پر دباؤ ڈالا کہ وہ فوری طور پر مدینہ جا کر معاملہ سلجھائیں۔

ابوسفیان نے پہلے حضرت اُم المؤمنین بی بی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں بستر پر بیٹھنے کی کوشش کی، مگر بی بی ام حبیبہ نے بستر نہیں چھوڑا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر ہے، تم مشرک اور نجس ہو۔ یہ واقعہ ابوسفیان کے لیے ایک سبق تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پاکیزگی اور مرتبہ کس حد تک بلند ہے۔

ابوسفیان نے پھر حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اپنی سفارش پیش کی، لیکن سب نے فرمایا کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارادے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واضح فرمایا کہ ایک طرفہ اعلان کچھ مفید نہیں ہوگا۔ بالآخر ابوسفیان مسجد نبوی میں اعلان کرنے پر مجبور ہوا کہ اس نے حدیبیہ کے معاہدے کی تجدید کردی، مگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جنگ کی تیاری

صلح کے اعلان اور حدیبیہ کے حالات کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ جنگ کی تیاری شروع کی۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم دیا کہ ہتھیار تیار کریں اور قبیلوں کو بھی تیار رہنے کے لیے اطلاع دی جائے، مگر کسی کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کس جگہ یا کس سے جنگ کا ارادہ ہے۔ حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ کس کے خلاف لشکر تیار کیا جا رہا ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد یہ تھا کہ اہل مکہ کو اچانک حملے کا علم نہ ہو، تاکہ دشمن غیر متوقع طور پر بے بس ہو جائے اور خونریزی کم سے کم ہو۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قریش کو ایک خط بھیجا کہ مسلمانوں کی جنگ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ خبر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو علم غیب کے ذریعے معلوم ہو گئی۔ آپ نے حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فوری طور پر روانہ کیا تاکہ خط قبضے میں آ جائے۔

حضرت حاطب نے وضاحت کی کہ خط لکھنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کے اہل و عیال مکہ میں موجود ہیں اور وہ ان کی حفاظت کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوئے، نہ کہ ان کا ایمان یا وفاداری بدل گئی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس عذر کو قبول فرمایا، مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سخت غصہ کیا اور چاہتے تو حضرت حاطب کے ساتھ سخت کارروائی کرتے، مگر حضور کی رحم و شفقت اور حکمت کے سامنے سب خاموش رہ گئے۔ اس موقع پر قرآن کی آیت بھی نازل ہوئی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَ عَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ(الممتحنة: 1)

اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کافروں کو اپنا دوست نا بناؤ۔ (بخاری ، 2/612 غزوۂ الفتح)

بہر حال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاف فرما دیا ۔

فتحِ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امن پسندی

یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امن پسندی، تحمل اور اخلاقی حکمت کی بہترین مثال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طاقت کے باوجود دشمن پر دباؤ یا ظلم نہیں کیا بلکہ صلح اور مذاکرات کو اولین ترجیح دی۔ اسی حکمت عملی نے عرب قبائل میں اعتماد اور مسلمانوں کے لیے سیاسی و سماجی استحکام پیدا کیا۔

اہم نکات:
  • نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ سے اجتناب کیا اور دشمن کے ساتھ امن قائم کیا۔

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں تعاون کیا۔

  • قریش کی جانب سے معاہدہ حدیبیہ کی غیر قانونی منسوخی کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متوازن موقف اپنایا۔

  • اخلاق اور شریعت کی پابندی کے ساتھ فتح حاصل کی گئی۔

نتائج و اخلاقی پہلو

  • اسلامی اصولوں میں امن پسندی کی مثال: فتحِ مکہ نے دنیا کے لیے واضح کر دیا کہ حقیقی قوت طاقت یا جنگ میں نہیں بلکہ امن، اخلاق اور حکمت میں ہے۔

  • معاہدات کی حرمت: صلح حدیبیہ اور دیگر معاہدات کی پاسداری نے مسلمانوں کی سیاسی ساکھ کو مضبوط کیا۔

  • قربانی اور اطاعت کا سبق: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی اطاعت میں قربانی دی، جو اسلام میں اتحاد اور تنظیم کی مثال ہے۔

  • فتحِ مکہ کی راہ ہموار ہوئی: امن پسندی اور صلح کے اقدامات نے مسلمانوں کے لیے مکہ میں بغیر خونریزی کے داخلے کا راستہ بنایا۔

فتحِ مکہ کے بعد چند ناقابلِ معافی مجرمین

فتحِ مکہ کے بعد مجرمین، عدلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور رحمتِ عامہ کا توازن

فتحِ مکہ محض عسکری غلبہ نہیں تھی بلکہ عدل، رحمت، عفو، اخلاق، اور قانونی انصاف کا عملی نمونہ تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح کے دن ایک ایسا تاریخی اعلان فرمایا جو انسانی تاریخ میں عام معافی کی علامت بن گیا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلامی شریعت اور عدلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصول یہ بھی تھا کہ کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو محض ذاتی دشمنی نہیں بلکہ اجتماعی فساد، قتلِ ناحق، ارتداد، اور مسلسل اذیتِ رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔ لہٰذا چند مخصوص افراد کو، اگر وہ اسلام قبول نہ کریں، قانونی طور پر مباح الدم قرار دیا گیا تاکہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہے۔ یہ فیصلے جذباتی نہیں بلکہ قانون، انصاف اور معاشرتی تحفظ پر مبنی تھے۔

1۔ عبدُالعُزّیٰ بن خطل: ارتداد، قتل اور بغاوت کا انجام

عبدالعزیٰ بن خطل ابتدا میں مسلمان ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زکوٰۃ کے جانور وصول کرنے پر مامور فرمایا، مگر دورانِ سفر اس نے اپنے ساتھی مسلمان کو قتل کر دیا اور قصاص کے خوف سے جانور لے کر مکہ بھاگ گیا۔ یہاں آ کر وہ مرتد ہو گیا اور کھلم کھلا اسلام دشمنی شروع کر دی۔

فتحِ مکہ کے دن وہ نیزہ لے کر لڑنے نکلا، مگر جب اسلامی لشکر کا جلال دیکھا تو گھبرا کر کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا۔ بالآخر حضرت سعید بن حریث مخزومی اور حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہما نے اسے وادیٔ حرم میں قتل کر دیا۔

یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ قتل، ارتداد اور بغاوت تینوں جرم ایک ساتھ ہوں تو قانونِ اسلام میں نرمی نہیں ہوتی۔( زرقانی ، 2/ 322)

قرآن کریم میں قصاص کا اصول بیان ہوا:

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ( البقرۃ: 179)

ترجمۂ کنز الایمان: اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمندو کہ تم کہیں بچو۔

2۔ حویرث بن نُقَید: ہجو، خونریزی اور مسلسل شرارت

حویرث بن نقید ایک بدنام شاعر تھا جو مسلسل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کرتا اور نفرت پھیلاتا تھا۔ وہ صرف زبان کا مجرم نہیں بلکہ عملی طور پر بھی خونریزی میں ملوث تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا۔

یہ فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت، فتنہ اور قتل کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ (فصلت: 34)

ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سُننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال۔

3۔ مقیس بن صبابہ: خونی جرم کا بدلہ

مقیس بن صبابہ نے ناحق قتل کیا اور مسلسل فساد میں مصروف رہا۔ اسے حضرت نُمیلہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ یہ کارروائی شریعت کے مطابق قصاص اور معاشرتی امن کے تحفظ کے لیے تھی۔

کسی مسلمان کو جان بوجھ کر ناحق قتل کرنا سخت ترین کبیرہ گُناہ ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 21/263 ملخصاً)

(شریعت میں) قتل عمد (یعنی اسلحہ کے ساتھ جان بوجھ کر قتل کرنے) کی سزا دنیا میں فقط قِصاص (یعنی قتل کا بدلہ قتل) ہے یعنی یہی متعین (مُقَرَّر) ہے۔ ہاں! اگر اَوْلِیَائے مقتول مُعَاف کر دیں یا قاتل سے مال لے کر مُصَالحت (صلح) کر لیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے۔(بہار شریعت، 3/752، حصہ: 17)

آیت مبارکہ

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (النساء:93)

ترجمہ کنزالایمان : اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قَتْل کرےتواس کابدلہ جہنم ہےکہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔

فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک ایک مؤمن کا قتل کیا جانا اللہ کے نزدیک دُنیا کے تباہ ہو جانے سے زِیادہ بڑا ہے۔(نسائی،کتاب تحریم الدم، تعظیم الدم، ص652،حدیث: 3992)

4۔ حارث بن طلاطلہ: ایذا رسانی اور شر انگیزی

حارث بن طلاطلہ کا شمار بھی ان افراد میں ہوتا تھا جو اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف عملی شرارتوں میں پیش پیش تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ رحمت کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی بھی ضروری ہے۔

5۔ قریبہ (لونڈی ابن خطل): گستاخی رسالت کا انجام

قریبہ، عبدالعزیٰ بن خطل کی لونڈی تھی جو باقاعدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہجو گایا کرتی تھی۔ یہ محض شاعری نہیں بلکہ منظم توہین اور اشتعال انگیزی تھی، اس لیے اسے بھی قتل کیا گیا۔

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ رسالتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کسی بھی معاشرے میں فساد کی جڑ بنتی ہے۔( مدارج النبوت ، 2/300، 304)

6۔ ہبار بن اسود: ظلم کے باوجود رحمت کا دروازہ

ہبار بن اسود وہ بدبخت شخص تھا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا پر سفر کے دوران حملہ کیا۔ اس ظلم کے نتیجے میں ان کا حمل ضائع ہوا، وہ بیمار ہوئیں اور بالآخر اسی بیماری میں وفات پا گئیں۔ اسی جرم کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مباح الدم قرار دیا۔ مگر تاریخ یہاں ایک عظیم موڑ لیتی ہے۔ ہبار فرار ہو گیا، پھر جعرانہ کے مقام پر لرزتے قدموں کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، کلمہ پڑھا، اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور معافی مانگی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی توبہ قبول فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

قد عفوتُ عنك

میں نے تجھے معاف کر دیا۔

یہ واقعہ اعلان ہے کہ اسلام میں دروازۂ توبہ آخری سانس تک کھلا ہے۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (الزمر: 53)

ترجمہٌ کنز الایمان: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو بےشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بےشک وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

7۔ وحشی بن حرب: قتلِ حمزہؓ اور ندامت کا طویل سفر

وحشی بن حرب وہ شخص تھا جس نے اُحد کے میدان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ فتحِ مکہ کے دن وہ خوف زدہ ہو کر طائف بھاگ گیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اسلام قبول کرنے والے کو قتل نہیں کیا جاتا تو وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور ایمان لے آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اسلام قبول فرمایا مگر فرمایا کہ میرے سامنے نہ آیا کرو، کیونکہ حمزہ رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ انسانی جذبات اور عدل کا حسین امتزاج تھا۔

بعد میں اسی وحشی نے مسیلمہ کذاب کو اسی نیزے سے قتل کیا، جس سے حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔ وہ کہا کرتا تھا: شاید اللہ میرے اس عمل سے میرے پہلے گناہ کی تلافی فرما دے۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى(البقرۃ: 237)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اے مردو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے۔

8۔ پسرانِ ابولہب: عُتبہ اور مُعتب: دشمنی کی نسل سے ایمان کا ظہور

ابولہب کے بیٹے عتبہ اور معتب خوف کے مارے چھپے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں میرے پاس لایا جائے۔ دونوں حاضر ہوئے، اسلام قبول کیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حد خوش ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ملتزم کے پاس لے گئے، دیر تک دعا فرمائی اور فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنے چچا کے بیٹوں کو مانگا، اور اللہ نے مجھے عطا فرما دیا۔ بعد میں یہ دونوں غزواتِ حنین اور طائف میں ثابت قدم رہے۔

مُعتب رضی اللہ عنہ کی آنکھ حنین میں ضائع ہو گئی، مگر قدم نہ ڈگمگائے۔

اختتامی پیغام

فتحِ مکہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

  • عام معافی کمزوری نہیں، عظمت ہے۔

  • قانون کے بغیر رحمت فساد بن جاتی ہے۔

  • توبہ سچی ہو تو سب سے بڑا مجرم بھی ولی بن سکتا ہے۔

  • اسلام دلوں کو سزا سے نہیں، کردار سے جیتتا ہے۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (البقرۃ: 109)

ترجمۂ کنز الایمان: تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بےشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

یہی توازن فتحِ مکہ کو تاریخ کی سب سے عظیم اخلاقی فتح بناتا ہے۔

فتحِ مکہ کے اخلاقی، سماجی اور روحانی اثرات

فتحِ مکہ ایک عظیم اور پُرامن فتح تھی جس میں قتل و غارت نہ ہونے کے برابر رہی۔ اس موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو مسلموں سے شرک، زنا اور چوری سے اجتناب کی بیعت لی اور انہیں بت توڑنے کا حکم دیا۔ آپ نے سب سے پہلے خانۂ کعبہ کو بتوں سے پاک فرمایا۔ دستِ مبارک میں چھڑی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بت کی طرف اشارہ فرماتے، وہ زمین پر گر جاتا۔ کعبہ کے باہر نصب سب سے بڑا بت ہُبل بھی توڑ دیا گیا، یوں بیت اللہ ہر قسم کی شرکیہ آلودگی سے پاک ہو گیا۔

مکہ اس وقت اسلام دشمن قوتوں کا مضبوط مرکز تھا۔ اس کی فتح کے بعد بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا اور قریش کے اسلام قبول کرنے پر عرب کے زیادہ تر قبائل نے اطاعت کا اعلان کیا، جن میں قشیر، باہلہ، بنی اسد اور دیگر شامل تھے۔ صرف ہوازن اور ثقیف نے ابتدا میں مزاحمت کی، مگر جنگِ حنین اور طائف کے بعد قبیلہ ثقیف بھی بغیر کسی شرط کے اسلام لے آیا۔ یہ اسلام کی عظیم اور فیصلہ کن کامیابی تھی۔

ابلیس لعین کی چیخ ہمیں کیا سبق دیتی ہے؟

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح فرمایا، شیاطین پر شدید غم و مایوسی چھا گئی۔ ابلیس لعین نے شدتِ غم سے ایسی زور دار چیخ ماری کہ اس کی اولاد (شیاطین) جہاں بھی تھی، سب نے وہ آواز سنی اور دوڑ کر اس کے پاس جمع ہو گئی۔ ابلیس نے اپنی اولاد سے کہا کہ اب تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو دوبارہ شرک کی طرف نہیں لوٹا سکتے، البتہ مکہ میں نوحہ اور شعر گوئی کو عام کر دو۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ فتحِ مکہ کے بعد کھلے شرک کی جڑ ہمیشہ کے لیے کٹ گئی اور شیطان نے نرم اور تدریجی گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ نوحہ، بے مقصد شاعری اور جذباتی انحراف آئندہ فتنوں کا ذریعہ بن گئے۔

فتحِ مکہ کے فکری و دینی اثرات کیا ہیں؟

فتحِ مکہ نے حق و توحید کی فیصلہ کن فتح کی بنیاد رکھی اور باطل کے ہر کھلے اظہار کو ختم کر دیا۔ شیطان کھلے شرک میں ناکام ہو کر بدعات، لہو و لعب اور فکری انحراف کے راستے اپنانے پر مجبور ہوا۔ اس فتح سے امت پر یہ ذمہ داری عائد ہوئی کہ وہ نہ صرف شرک سے بچے بلکہ ہر فکری، عملی اور اخلاقی گمراہی سے ہوشیار رہے۔ دین میں جذباتی افراط، غیر شرعی رسومات اور لغوی مشاغل بھی شیطانی حربے ہو سکتے ہیں، لہذا علم اور سنت کی مضبوط گرفت ہی فتنوں سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے۔

فتحِ مکہ کے سماجی اثرات کیا تھے؟

فتحِ مکہ کے بعد اسلام نے نہ صرف بت پرستی کا خاتمہ کیا بلکہ فسق و فجور پر بھی عملی پابندی عائد کر دی۔ مکہ میں زناکاری، مے خواری اور قمار بازی عام تھیں، مگر اسلام کے نور کے پھیلنے سے یہ تمام قباحتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔

نو مسلموں کو کلمۂ شہادت کے ساتھ ساتھ اپنے دامنِ عفت کی حفاظت کا وعدہ بھی کرنا پڑا، تاکہ پاکیزہ اسلامی معاشرے کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔ فتحِ مکہ کے بعد تقریباً تمام باشندے دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے اور شہر کے گوشہ گوشہ میں یہ آیتِ کریمہ جلوہ گر ہوئی:

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

یعنی حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔

فتحِ مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عسکری قیادت کیسے تھی؟

فتحِ مکہ کے دوران رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کی منصوبہ بندی میں اعلیٰ حکمت عملی بروئے کار لائی۔ انہوں نے تمام مہاجرین و انصار اور نو مسلم قبائل کو شامل کیا، راستوں کی ناکہ بندی کی، پہرے دار مقرر کیے اور دشمن کے لیے ہر قسم کی اطلاع کو محدود رکھا۔

مرالظہران میں شب کے وقت ہزاروں خیمے نصب کیے گئے اور ہر خیمہ کے سامنے آگ روشن کی گئی، تاکہ دشمن ابوسفیان مرعوب ہو جائے۔ ابوسفیان کو گرفتار کر کے لشکر کی نمائش دکھائی گئی تاکہ وہ واپس جا کر اہل مکہ کو مسلمانوں کی طاقت سے آگاہ کرے اور جنگ کا تصور بھی پیدا نہ ہو۔

یہ سب حکمت عملی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انسان دوست عسکری قیادت کی مثال ہے، جس میں خونریزی کو کم سے کم اور امن کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دی گئی۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!