فتح مکہ کا مکمل تاریخی پس منظر

فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس نے ظلم، انتقام اور جاہلیت کے نظام کو ختم کر کے عفو، امن اور عدل کی بنیاد رکھی۔ یہ فتح کسی جنگی برتری کا نتیجہ نہیں بلکہ صبر، حکمت، اعلیٰ اخلاق اور قیادت کا عملی مظہر تھی۔ اس مضمون میں فتح مکہ کا مکمل تاریخی پس منظر، ہجرت کے بعد حالات، قتال کی اجازت، غزوات کی اہمیت، لشکرِ اسلام کی روانگی، ابو سفیان کا اسلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تاریخی اعلانِ عام معافی اور اس عظیم فتح سے حاصل ہونے والے اخلاقی و اجتماعی اسباق مستند حوالوں کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔

December 19, 2025

فتح مکہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے نہ صرف جزیرۂ عرب کی تقدیر بدل دی بلکہ پوری انسانیت کو عفو، امن اور عدل کا عملی نمونہ دیا۔ یہ فتح کسی عارضی جنگی کامیابی کا نام نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، صبر، حکمت، قربانی اور اخلاقی برتری کا نتیجہ تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ ہجرت کے بعد پیش آنے والے حالات، کفار مکہ کی مسلسل دشمنی، مظالم اور عہد شکنی نے بالآخر اس عظیم فتح کی راہ ہموار کی۔

ہجرت کے بعد مسلمانوں کو قتال کی اجازت کب اور کیوں دی گئی؟

ابتدائی دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو صبر، حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعے دین کی تبلیغ کا حکم دیا تھا۔ مگر کفار مکہ کی طرف سے ظلم و ستم، جلاوطنی اور حملوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی۔

قرآن سے دفاعی جہاد کی وضاحت

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙﰳ (۳۹) (الحج: 39)

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ،تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کی طرف سے جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اِن مسلمانوں کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔( روح البیان، الحج، تحت الآیۃ:39، 6 / 38)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کی جنگ دفاعی نوعیت کی تھی، نہ کہ تسلط یا جارحیت کے لیے۔

غزوات اور سرایا کی اہمیت

ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا بڑا حصہ غزوات اور سرایا کی تنظیم میں گزرا۔

غزوہ کی تعریف

غزوہ: وہ جنگ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنسَف نفیس شریک ہوں۔

سریہ کی تعریف

سریہ: وہ لشکر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرکت نہ فرمائیں۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ غزوات کی تعداد 19 تھی، جبکہ سرایا کی تعداد میں مورخین کا اختلاف ہے: بعض کے نزدیک 47، بعض کے نزدیک 56۔ یہ ہمیں اسلامی ریاست کے ابتدائی نو سال کی مشکل اور پیچیدہ جنگی حالات کا اندازہ دیتا ہے۔

فتح مکہ کی تیاری

10رمضان المبارک 8ہجری کو نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر مکے کی طرف روانہ ہو گئے۔ مکہ شریف پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ رحمت بھرا فرمان جاری کیا کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اس کے لئے امان ہے ، جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اس کے لئے امان ہے ، جو مسجدِ حرام میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔ مزید فرمایا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے بھی امان ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبۂ مقدّسَہ کو بُتوں سے پاک فرما کر کعبہ شریف کے اندر نفل ادا فرمائے ، اور باہر تشریف لا ئے۔

لشکرِ اسلام کی روانگی اور اہم واقعات

سیدُالرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ مکرمہ کی طرف روانگی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے ارادے کو پوشیدہ رکھنے کے لیے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو بطن اضم کی طرف بھیجا تاکہ دشمن کو غلط فہمی رہے۔ اطراف مدینہ میں مقیم تمام مسلمانوں کو پیغام بھیجا گیا کہ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ رمضان میں مدینہ پہنچ جائیں۔ اس اعلان پر ہر ایمان والا مدینہ آ گیا۔

۱۰ رمضان ۸ ہجری، بدھ کے دن، عصر کی نماز کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے روانہ ہوئے اور حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا نائب مقرر فرمایا۔ روزے کے معاملے میں اجازت دی گئی کہ چاہے رکھیں یا افطار کریں۔ راستے میں مختلف مقامات پر پڑاؤ ہوا اور لشکر کی ترتیب بنائی گئی۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو آگے روانہ کیا گیا اور سو سو مجاہدین کے دستے تشکیل دیے گئے۔

شدید گرمی اور مشقت کے باعث کُدید یا کراع الغمیم کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کے سامنے روزہ افطار فرمایا اور روزہ نہ توڑنے والوں کو نافرمان قرار دیا۔ مقامِ جحفہ پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حاضر ہوئے۔ اسی موقع پر ابو سفیان بن الحارث اور عبداللہ بن ابی امیہ کی توبہ قبول ہوئی اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یوسف علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے انہیں معاف فرما دیا۔

لشکر مرالظہران پہنچا تو دس ہزار آگیں روشن ہوئیں، جس سے وادی جگمگا اٹھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو رات کی نگرانی پر مقرر کیا گیا۔ کفارِ مکہ اب تک اس پیش قدمی سے بے خبر تھے۔ حالات جاننے کے لیے ابو سفیان، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء کے ساتھ نکلے، مگر مرالظہران کے قریب لشکرِ اسلام کی عظمت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے۔( سبل الہدیٰ، 5/ 323- 324) (زرقانی ، 301- 302 ،و سیرت ابن ہشام ، 2/400)

حضرت صدیقِ اکبرؓ کا خواب اور ابو سفیان کی گرفتاری

امام بیہقی کی روایت کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک خواب سنایا کہ مکہ کے قریب ایک کتیا بھونکتی ہوئی نکلی، پھر پیٹھ کے بل لیٹ گئی اور دودھ دینے لگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعبیر بیان فرمائی کہ اہلِ مکہ کی قوت ٹوٹ چکی ہے، وہ صلح اور رشتہ داری کی پناہ چاہیں گے، اور جلد ہی ان میں سے بعض لوگ مسلمانوں سے ملاقات کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہدایت فرمائی کہ اگر ابو سفیان سے ملاقات ہو تو اسے قتل نہ کیا جائے۔

مرالظہران کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ابو سفیان کی گرفتاری کے لیے بھیجا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ قریش کو پیغام دینے کے ارادے سے نکلے تو اراک کے مقام پر ابو سفیان اور بدیل کی گفتگو سن لی۔ ابو سفیان لشکر اسلام کی عظمت دیکھ کر خوف زدہ تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے پہچان کر بتایا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عظیم لشکر کے ساتھ پہنچ چکے ہیں اور اسے فوراً اپنے ساتھ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

راستے میں مختلف آگوں کے پاس سے گزرتے ہوئے کوئی مزاحمت نہ ہوئی، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے ابو سفیان کو دیکھ کر اسے قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حضرت عباسؓ اسے لے کر فوراً حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور اس کے لیے امان طلب کی۔ حضرت عمرؓ نے قتل کی اجازت چاہی، مگر حضرت عباسؓ نے واضح کیا کہ وہ ابو سفیان کو امان دے چکے ہیں اور اس طرح معاملہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا۔

ابو سفیان کا اسلام

فتح مکہ سے قبل حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابو سفیان، حکیم بن حزام اور بدیل کو بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں لے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں کو اسلام کی دعوت دی۔ حکیم بن حزام اور بدیل نے فوراً کلمۂ شہادت پڑھ لیا، جبکہ ابو سفیان نے غور و فکر کے لیے مہلت طلب کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابو سفیان کو اپنے خیمے میں لے گئے۔

صبح کے وقت ابو سفیان نے اذان، نماز کی تیاری، صحابۂ کرام کی بے مثال اطاعت و محبت، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو و نماز کے مناظر دیکھے تو سخت متاثر ہوا۔ اس نے اعتراف کیا کہ میں نے کسی بادشاہ کے ساتھ ایسی اطاعت اور محبت نہیں دیکھی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے واضح فرمایا کہ یہ بادشاہی نہیں بلکہ نبوت ہے۔

نماز کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو سفیان سے توحید اور رسالت کا اقرار کرنے کو فرمایا۔ ابو سفیان نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ حقیقی معبود وہی ہے جس کی عبادت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے ہیں، اور بالآخر اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو سفیان کے گھر کو بھی امان کا مقام قرار دیا، جو فتحِ مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت، رحمت اور اعلیٰ اخلاق کا روشن مظہر ہے۔( سبل الہدی , 5/ 327, 328, 329،امتاع الاسماع، 1/ 275, 274, 276۔دلائل النبوة، ، 5/32- 34- 40)

فاتح مکہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تاریخی اعلان

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں قدم رکھتے ہی عام معافی کا اعلان فرمایا: جو ہتھیار ڈال دے، جو اپنا دروازہ بند کر لے، جو کعبہ میں داخل ہو جائے یا ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے، سب کے لیے امان ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی درخواست پر ابو سفیان کے گھر کو بھی امان کا مرکز قرار دیا گیا، جس پر ابو سفیان نے اسے بہت وسیع اعلان کہا اور مکہ میں اس کا اعلان کرنے لگا۔

اس اعلان رحمت کے بعد خوف و ہراس ختم ہو گیا۔ لوگ گھروں میں بند ہو گئے، مسجدِ حرام میں پناہ لے لی یا ہتھیار ڈال دیے، یوں خونریزی کا امکان باقی نہ رہا۔

بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکرِ اسلام کو حکمت عملی کے تحت مختلف دستوں میں تقسیم کر کے چار اطراف سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور تاکید فرمائی کہ پہل کفار کریں تو ہی دفاع کیا جائے۔ صرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستے پر چند قریشیوں نے حملہ کیا، جس کے جواب میں مختصر جھڑپ ہوئی، باقی فتح مکہ تقریباً بغیر خونریزی کے مکمل ہو گئی۔ (سبل الہدی جلد ، 5/ 329، 330)(نظر جدیدة في سيرت رسول 355۔356بیروت )( زرقانی، 2/ 313)

یہ اعلان عفو، درگزر اور اعلیٰ اخلاقیات کی وہ مثال ہے جو دنیا کے کسی فاتح کے ہاں نہیں ملتی۔

فتح مکہ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

فتح مکہ اسلامی تاریخ کا ایسا درخشاں باب ہے جو قیامت تک کے لیے انسانیت کو اخلاق، قیادت اور عدل کے اصول سکھاتا ہے۔ اس عظیم واقعے سے ہمیں درج ذیل اہم اسباق ملتے ہیں:

1۔ صبر اور استقامت کا انجام کامیابی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے برسوں ظلم، اذیت اور جلاوطنی برداشت کی، مگر صبر اور ثابت قدمی اختیار کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت عطا فرمائی۔

2۔ طاقت کے باوجود معافی اعلیٰ اخلاق ہے

فتح کے دن عام معافی کا اعلان یہ سکھاتا ہے کہ اصل عظمت انتقام میں نہیں بلکہ درگزر میں ہے۔

3۔ اسلام امن اور رحمت کا دین ہے

فتح مکہ تلوار کے زور پر نہیں بلکہ حکمت، رحم اور اخلاقی برتری سے ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام امن کا پیغام ہے۔

4۔ قیادت کردار سے پہچانی جاتی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاتح ہونے کے باوجود تواضع اختیار کی، سر جھکائے مکہ میں داخل ہوئے، جو مثالی قیادت کا نمونہ ہے۔

5۔ عہد شکنی کا انجام نقصان ہے

قریش نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ ان کے لیے سیاسی اور اخلاقی شکست کی صورت میں نکلا۔

6۔ عدل اور قانون کی بالادستی ضروری ہے

فتح کے بعد بھی انصاف قائم رکھا گیا، صرف مجرموں کو سزا دی گئی، عام لوگوں کو امان دی گئی۔

7۔ دعوتِ اسلام اخلاق سے مؤثر ہوتی ہے

حسن سلوک، عفو و درگزر اور اعلیٰ کردار نے وہ کام کیا جو تلواریں نہ کر سکیں، اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔

قارئین کرام فتح مکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی فتح دلوں کو جیتنے میں ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو افراد، معاشروں اور اقوام کو عروج عطا کرتا ہے۔

مختصر سوالات و جوابات

سوال: فتح مکہ کس سن میں ہوئی؟

جواب: 8 ہجری میں

سوال: فتح مکہ کا فوری سبب کیا تھا؟

جواب: صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی اور بنی خزاعہ کے قتل کا انتقام

سوال: لشکر اسلام کی تعداد کتنی تھی؟

جواب: تقریباً 10,000 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

سوال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ پر کیا اعلان فرمایا؟

جواب: عام معافی کا اعلان: ’’لا تثريب عليكم اليوم، اذهبوا فأنتم الطلقاء‘‘

سوال: فتح مکہ کا سب سے بڑا اخلاقی پیغام کیا ہے؟

جواب: عفو، امن اور عدل

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!