سرکار ﷺ کا دیدارِ فیض آثار کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
اے دیدار سرکار کے طلبگار!نور والے سرکار،دوجہاں کے تاجدارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دِیدار عظیم الشان نعمت ہے،صحابۂ کرام علیہم الرضوان صبح و شام زیارت کا جام پینے کے باوجود سیر نہیں ہوتے تھے۔رسول بے مثالصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن و جمال اور فضل و کمال ہی ایسا تھاکہ جودیکھتا وہ قربان ہونے کو تیار ہو جاتا،کیا جوان،کیا بوڑھا، کیا بچہ کیا خاتون سبھی صحابہ عاشقان رسول تھے اور ہر ایک عاشق رسول مکی مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار فیض آثار سے بار بار شرف یاب ہوتا اور روشن چہرہ دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا تھا۔ سرکار کے دِیدار کے مزے(حکایت) سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک شخص حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس طرح دیدار کیا کرتا کہ پلک تک نہ جھپکاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح دیکھنے کا سبب پوچھا توعرض کی:”آقا میرے ماں باپ آپ پرقربان!آپ کے چہرۂ پرانوار کے دِیدار سے لطف اندوز ہوتا ہوں“(یعنی مزہ پاتا ہوں۔)( شفا،الباب الثانی فی لزوم محبتہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،فصل فی ثواب محبتہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، 2/ 20) خواب میں دِیدار کرنے والے کے لیے بشارت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےارشادفرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اُس نے مجھے ہی دیکھا۔( بخاری،کتاب الادب،باب من سمی باسماء الانبیاء،4/154،حدیث: 6197) بخاری شریف میں ہے:اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا:”جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا اور شیطان میری شکل نہیں بن سکتا۔( بخاری،کتاب التعبیر، باب من رای النبی فی المنام، 4/406، حدیث:6993)“ اس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اِس حدیث کے ایک معنیٰ یہ بھی ہیں:جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے اپنی زندگی ہی میں بیداری میں دیکھے گا۔ خواص اَولیاء تو ظاہر ظہور(یعنی کھلی آنکھوں سے جاگتے میں) دیکھیں گے۔ہم جیسے عوام جن میں ضَبط(یعنی بَرداشت) کا مادّہ نہیں، راز چُھپا نہیں سکتے وہ مَرتے وقت جب زبان بند ہو جائے گی تب پہلے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھیں گے بعد میں وفات پائیں گے تاکہ وہ راز ظاہر نہ کر سکیں یہ معنیٰ بہت قَوی (یعنی بہت مضبوط) ہیں اور یہ بشارت (یعنی خوشخبری)عام مسلمانوں کے لیے ہے ایک معنیٰ یہ بھی ہیں کہ میرے زمانۂ حیات شریف(یعنی مُبارَک زندگی)میں جو مسلمان مجھ تک نہ پہنچ سکا اُس نے مجھے خواب میں دیکھ لیا وہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عنقریب مجھ تک پہنچ جائے گا اور میری زیارت کر لے گا ۔( مِراٰۃُ المناجیح،6/287بتغیر ٍ قلیلٍ) آئینہ دیکھنے پر صورت مصطفیٰ ﷺ نظر آنے کی کیا حقیقت ہے؟ صحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبد اللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بار مکی مدنی سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب میں دِیدار کیا، بیدار ہوکر اِس (بیان کردہ) حدیثِ پاک میں غور کیا اور سوچا کہ اَب میں سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیداری میں کیسےدیکھوں گا!آپ اپنی خالہ جان اُمُّ المؤمنین حضرتِ بی بی میمونہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کے گھر شریف تشریف لائے،اُمُّ المؤمنین حضرتِ بی بی میمونہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَانے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آئینہ مُبارَک آپ کو دیا جس میں حضورِ انورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا چہرۂ انور دیکھا کرتے تھے۔حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے جب آئینہ دیکھا تو اُس میں بجائے اپنی صورت کے حضور تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت شریف نظر آئی اپنی صورت بالکل نظر نہ آئی۔(اشعة اللمعات،کتاب الرؤیا،الفصل الاول،3/685۔) ہاتھوں کے بجائے اپنے دِل کاٹنے کو ترجیح دیتیں صحابیہ بنتِ صحابی اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرت بی بی عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فرماتی ہیں: مکی مَدَنی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مُبارَک رُخسار (یعنی گال) کی خُوبیاں مِصر والے سُن لیتے تو سَیِّدُنا یوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کی قیمت لگانے میں سونا چاندی نہ بہاتےاور اگر زُلیخا کو مَلامَت کرنے والی عورتیں اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جَبِینِ اَنور (یعنی روشن پیشانی)دیکھ لیتیں تو ضرور ہاتھوں کے بجائے اپنے دِل کاٹنے کو ترجیح دیتیں۔( شرح الزرقانی،عائشة ام المؤمنین،4/390) عاشقِ رَسُول کی مِعراج سرکار کا دِیدار اے عاشقانِ رَسُول!سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معراج اللہ پاک کا دِیدار ہے اور ایک عاشقِ رَسُول کی مِعراج مکی مَدَنی سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دِیدار ہے، وہ کونسا مسلمان ہو گا جس کے دِل میں آقائے نامدار، مکے مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دِیدار کی تمنا نہ ہو، یقیناً ہر عاشقِ رَسُول کی دِلی آرزو ہوتی ہے کہ بس خواب میں سرکار کا دِیدارِ نصیب ہو جائے۔ سرکار ﷺ کے دیدار کی برکات کیا ہیں؟ حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ اِسماعیل حقّی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں:جس شخص نے اللہ پاک کے پیارے نبی،مکی مَدَنی سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب میں دِیدار کیا اور کوئی ناپسندیدہ بات نہیں تھی(یعنی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض نہیں تھے)تو وہ ہمیشہ اچھی حالت میں رہے گا، اگر ویران جگہ پر دِیدار کیا تو وہ ویرانہ سبزہ زار (یعنی Greenish) میں بدل جائے گا، اگر مظلوم قوم کی سَر زمین میں دیکھاتو اِن مظلوموں کی مدد کی جائے گی، اگر غمزدہ نے دِیدار کیا تو اُس کا غم چلا جائے گا، اگر مقروض تھا تو اللہپاک اُس کے قرض کو ادا فرمائے گا، اگر مغلوب تھا تو اُس کی مدد کی جائے گی، اگر غائب تھاتو اللہ پاک صحیح سَلامت اُسے گھر لوٹا دے گا، اگر تنگدست تھا تو اللہرَبُّ الْعِزَّت اُس کے رِزق میں برکت عنایت کرے گا، اگر مَریض تھا تو اللہ پاک اُسے شِفا عطا فرمائے گا۔( تفسیر روح البیان،پ27، النجم، تحت الآية:18، 9/230) کیا شیطان حضور ﷺ کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟ یادرہے!حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزہ زندگی شریف میں جیسے شیطان آپ کی شکل اِختیار نہیں کر سکتا تھا یوں ہی تا قیامت کسی کے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل وصورت میں نہیں آسکتا۔حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سِوا اور تمام کی شکلوں میں آ جاتا ہے۔یہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ معجزہ ہے جو تا قیامت باقی ہے ۔( مراٰۃ المناجیح،6/288۔) شیطان کسی بھی نبی اور فرشتے کی شکل نہیں بنا سکتا شارِحِ بخاری مفتی محمد شریفُ الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جس طرح شیطان حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت نہیں بنا سکتا اسی طرح کسی نبی کی شکل اِختیار نہیں کر سکتا۔( نزھۃ القاری، ۱/۴۵۶) عمدۃُ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:خواب میں سرکارِ دو عالَمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہونا حق ہے کیونکہ شیطان آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت اِختیار نہیں کرسکتا۔اسی طرح شیطان کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں کہ وہ دِیگر اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ملائکۂ عظام کی صورت بنا سکے۔( عمدة القاری،کتاب العلم، باب اثم من کذب علی النبی،2/219، تحت الحدیث:110) بارگاہِ اِلٰہی میں اَنبیائے کِرام علیہم الصلاۃ والسلام کے بلند و بالا مقام و مَرتبے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شیطان اِن مُبارَک ہستیوں کی صورت اِختیار نہ کر سکے کیونکہ یہ حضرات شیطان کو رُسوا کرنے اور مخلوق کو اس کے مَکر(یعنی دھوکے) سے بچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔( بهجة النفوس،4/238،تحت الحدیث:278) حضرت جبریل علیہ السلام کی 24000 مرتبہ حاضری کی کیا حقیقت ہے؟ اے عاشقانِ رَسُول!حضرت جبرئیلِ امین علیہ الصلاۃ والسلام رَسُولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سب اَنبیاءِ کِرامعلیہم الصلاۃ والسلامکی بہ نسبت زیادہ، چوبیس ہزار (24000) مَرتبہ حاضر ہوئے۔( مواھب اللدنية،المقصد الاول ، دقائق حقائق بعثتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،1/112) ہر رات سرکار کا دِیدار رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریف کے بعد بھی کئی بزرگ ایسے گُزرے ہیں جنہوں نے ہمارے پیارے آقا،نور والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب اوربیداری (یعنی جاگتے ہوئے)دونوں حالت میں کئی بار دِیدار کیا ہے۔ ایسے خوش نصیبوں کی قسمت بھی کیا خوب تھی چنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنا امام مالِک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:”کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں مَیں نے نور والےا ٓقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نہ کی ہو۔( حلية الاولیاء،مالک بن انس،6/346،حدیث: 8855)“ 84بار دِیدار کرنے والی خاتون حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ ٔ محترمہ رحمۃ اللہ علیہا کو 84بار سرکارنامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کا شَرف حاصِل ہوا ہے۔( جواہر البحار،پیش لفظ،1/12) سرکارِ نامدار،مکے مدینے کے تاجدار،جنابِ احمدِ مُختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دَربارِ دُربار میں حاضر ہو کر شہنشاہِ بغدادحضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بار روضۂ پُراَنوار کے قریب دو اَشعار پڑھے جن کا ترجَمہ یہ ہے:(۱)دُوری کی حالت میں،میں اپنی رُوح کوخدمتِ اَقدَس میں حاضِر کیا کرتا تھا تو وہ میری نائِب بن کر آستا نۂ مُبارَکہ کو چُوما کرتی تھی (۲)اور اَب بدن کے ساتھ حاضِر ہو کر ملنے کی باری آئی ہے تو اپنا ہاتھ مُبارَک بڑھائیے تاکہ میرے ہونٹ اُس کوچُومیں۔ اتنا کہنا تھا کہ قبرِ مُبارَک سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ مُبارَک نکلا اور حضور غوثِ پاکرحمۃ اللہ علیہ نے اسے چُوما اور اپنے سر پر رکھا۔( تفريح الخاطر، ص84۔) 75بار جاگتے میں دِیدار حضرتِ سَیِّدُنا عَلّامہ جَلالُ الدِّین سُیُوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! میں حُضُورِ اکرم،رحمتِ عالَم،شاہ آدم وبنی آدمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 75بار بیداری کی حالت(یعنی جاگتے) میں زیارت سے مُشَرَّف ہو چکا ہوں۔( میزان الکبریٰ الشعرانية،فصل فی بیان استحالة خروج شیء...الخ، 1/55)زیارتِ سرکار کا وَظیفہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے رِوایت ہے کہ نبیِّ رَحمت، شفیع اُمَّت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : جو مومن جُمُعہ کی رات دو رَکعت اِس طرح پڑھے کہ ہر رَکعت میں سُورَۃُ الْفَاتِحَہ کے بعد 25 مَرتبہ ’’قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ پڑھے، پھر یہ دُرُود ِپاک ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی‘‘ہزار مَرتبہ پڑھے تو آنے والے جمعہ سے پہلے خَواب میں میری زِیارت کرے گا اور جس نے میری زِیارت کی اللہ پاک اس کے گُناہ مُعاف فرما دے گا۔(القول البدیع ،الباب الثالث فی الصلاة علیه فی اوقات مخصوصة،ص ۳۸۳ )
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!