بیعتِ رضوان کیا ہے؟

یعتِ رضوان اسلامی تاریخ کا ایک عظیم، ایمان افروز اور فیصلہ کن واقعہ ہے جو سن 6 ہجری میں مقامِ حدیبیہ پر پیش آیا۔ اس تاریخی بیعت میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم کے دستِ مبارک پر اللہ کی رضا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں اپنی جانیں قربان کرنے کا عہد کیا۔ قرآنِ مجید نے اس بیعت کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی رضا کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ( الفتح: 18)۔ احادیثِ نبویہ میں بیعتِ رضوان کے شرکاء کے لیے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ واقعہ صبر، وفاداری، اتحاد، قربانی اور فتحِ مکہ کی بنیاد بننے کا واضح اور روشن پیغام دیتا ہے۔

December 26, 2025
قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جامع، مستند اور تحقیقی جائزہ

بیعتِ رضوان کی عظمت اور اسلامی تاریخ میں اس کی اہمیت

بیعتِ رضوان اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جو ایمان، وفاداری، جانثاری اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال مثال پیش کرتا ہے۔ یہ بیعت نہ صرف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے عظیم مقام کو واضح کرتی ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے لیے ہر قربانی قابلِ قبول اور باعثِ فلاح ہے۔ بیعتِ رضوان کا ذکر قرآنِ مجید میں صراحت کے ساتھ آیا ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس کے فضائل و برکات بیان ہوئے ہیں، جو اس واقعے کی عظمت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

بیعتِ رضوان کا مفہوم اور تعارف

لفظ بیعت کا لغوی معنی ہیں:

کسی کے ہاتھ پر عہد کرنا، اطاعت کا وعدہ کرنا۔

رضوان کا مطلب ہے:

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی۔

یوں بیعتِ رضوان سے مراد وہ عظیم بیعت ہے جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک پر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کی۔ یہ بیعت سن 6 ہجری میں مقامِ حدیبیہ کے قریب ایک درخت کے نیچے ہوئی، اسی لیے اسے بیعتِ شجرہ بھی کہا جاتا ہے۔

حدیبیہ کا مختصر تاریخی پس منظر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب اور عمرہ کا ارادہ

سن 6 ہجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ امن کے ساتھ مسجدِ حرام میں داخل ہو کر عمرہ ادا کر رہے ہیں۔ چونکہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو عمرہ کی تیاری کا حکم دیا۔

احرام کی حالت اور جنگ سے اجتناب

ذوالقعدہ 6 ہجری میں تقریباً 1400 صحابہ احرام باندھ کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مسلمان جنگ کی نیت سے نہیں بلکہ عمرہ کی نیت سے نکلے تھے، اس لیے ہتھیار بھی ساتھ نہیں تھے۔

جب یہ قافلہ مقامِ حدیبیہ کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے لشکر تیار کر رکھا ہے۔ چونکہ مسلمان احرام کی حالت میں تھے، اس لیے جنگ ممکن نہ تھی۔ ایسے نازک حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمت اور تدبر کے ساتھ صلح کی راہ اختیار فرمائی۔

بیعتِ رضوان کا سبب کیا بنا؟

بیعتِ رضوان کا براہِ راست سبب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پھیلنے والی افواۂ شہادت تھی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سفارت اور تاریخی کردار

مقامِ حدیبیہ پر پہنچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ قریش سے براہِ راست بات چیت ضروری ہے، چنانچہ ایک سفیر کو مکہ بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معذرت اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب

ابتدا میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس خدمت کے لیے منتخب فرمایا گیا، مگر انہوں نے عرض کیا کہ مکہ میں ان کا کوئی ایسا قریبی عزیز نہیں جو انہیں قریش کے شر سے بچا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا، کیونکہ وہ قریش میں معزز سمجھے جاتے تھے۔

قریش کی طرف سے عمرہ کی پیشکش اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انکار

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ رائے پسند فرمائی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا۔ قریش نے انہیں امان دی اور یہاں تک کہا کہ وہ خود عمرہ کر لیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایاکہ

مَا کُنْتَ لِاَفْعَلَ حَتّٰی یَطُوْفَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ

(السیرۃ النبویہ، احمد بن زینی دحلان ،2/ 185)

یعنی، میں اس وقت تک کعبہ کا طواف نہیں کوں گا جب تک میرا محبوب میرے اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف نہیں کرگا۔

افواۂ شہادت اور مسلمانوں کا اضطراب

اس پر بات بڑھ گئی اور کفار نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو مکہ میں روک لیا۔مگر حدیبیہ کے میدان میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ کفارِ قریش نے حضرت عثمان کو شہید کردیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔لیکن بیعت الرضوان ہوجانے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی خبر غلط تھی ۔ وہ باعزت طور پر مکہ میں زندہ و سلامت تھے اور پھر وہ بخیر و عافیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر بھی ہو گئے۔

بیعتِ رضوان کا تاریخی انعقاد

درخت کے نیچے بیعت کا روح پرور منظر

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی (افواہی) شہادت کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اب کفارِ مکہ سے فیصلہ کن موقف اختیار کرنا ہوگا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور ان سے بیعت لی کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ جان کی بازی لگا دیں گے اور میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ بیعت ایک درخت کے نیچے ہوئی۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی میں اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ان کی طرف سے بھی بیعت فرمائی اور ارشاد فرمایا:

یہ عثمان کی بیعت ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے مثال جوش، ایمان اور وفاداری کے ساتھ اس بیعت میں شرکت کی۔

بیعتِ رضوان پر قرآنِ مجید کی گواہی

اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان کی عظمت کو قرآنِ مجید میں یوں بیان فرمایا:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ( الفتح: 18)

ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللّٰہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

سورۃ الفتح کی آیت 18 کی تفسیر

چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اس لئے اس بیعت کو ”بیعت رضوان“ کہتے ہیں۔(خزائن العرفان)

یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ بیعتِ رضوان میں شریک تمام صحابہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مستحق قرار پائے۔

احادیث کی روشنی میں بیعتِ رضوان کے فضائل

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعتِ رضوان میں شریک صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں فرمایا:

لَا يَدْخُلُ النَّارَ اِنْ شَآءَ اللَّهُ مِنْ اَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوۡا تَحْتَهَا

یعنی، جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی،اِنْ شَآءَ اللہ ان میں سےکوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص1041،حدیث:6404)

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔

بیعتِ رضوان کے عظیم نتائج و اثرات

صلحِ حدیبیہ کی راہ ہموار ہوئی

بیعتِ رضوان کے بعد قریش پر مسلمانوں کی قوت و اتحاد واضح ہو گیا، جس کے نتیجے میں صلحِ حدیبیہ طے پائی۔

مسلمانوں کی سیاسی طاقت تسلیم کی گئی

قریش نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کو ایک مستقل قوت کے طور پر تسلیم کیا۔

فتحِ مکہ کی بنیاد پڑی

صلحِ حدیبیہ اور اس کے بعد کے حالات بالآخر فتحِ مکہ پر منتج ہوئے۔

ایمان و اطاعت کی بے مثال مثال

صحابہ نے یہ ثابت کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر جان قربان کرنا بھی سعادت ہے۔

بیعتِ رضوان سے ملنے والے اہم اسباق

یہ واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی بنیاد ہے۔

  • وقتی نقصان، دائمی فائدے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

  • اتحاد اور نظم اجتماعی بڑی سے بڑی طاقت کو جھکا دیتا ہے۔

  • اللہ کی رضا ہر کامیابی سے بڑھ کر ہے۔

مختصر سوال و جواب

سوال: بیعتِ رضوان کب اور کہاں ہوئی؟

جواب: سن 6 ہجری، مقامِ حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے۔

سوال: بیعتِ رضوان کا اصل سبب کیا تھا؟

جواب: حضرت عثمانؓ کی (افواہی) شہادت کی خبر۔

سوال: بیعتِ رضوان میں کتنے صحابہ شامل تھے؟

جواب: تقریباً 1400 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۔

سوال: بیعتِ رضوان کی فضیلت قرآن میں کہاں بیان ہوئی ہے؟

جواب: سورۃ الفتح، آیت 18 میں۔

سوال: بیعتِ رضوان کا سب سے بڑا نتیجہ کیا نکلا؟

جواب: صلحِ حدیبیہ اور بالآخر فتحِ مکہ کی راہ ہموار ہوئی۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!