کیا نور سے سرورِ عالم ﷺ دنیا کو جگمگانے آئے؟
اے عاشقان رسول! غور کیجیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے دنیا خصوصاً جزیرۂ عرب کی کیا حالت تھی۔ اہل عرب اگرچہ اپنے آپ کو دین ابراہیمی سے منسوب کرتے تھے مگر حقیقت میں اس دین کی اصل روح مسخ ہو چکی تھی۔ توحید، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم کا بنیادی ستون تھی، اس کی جگہ شرک نے لے لی تھی۔ ایک اللہ کی عبادت کے بجائے سینکڑوں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ کوئی پتھر کو معبود مانتا، کوئی درخت کے آگے جھکتا، کوئی چاند، سورج اور ستاروں کو سجدہ کرتا، اور کچھ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت میں مصروف تھے۔ گویا انسان اپنی ہی بنائی ہوئی چیزوں کے آگے سر جھکا کر اپنی فطرت سلیم سے بہت دور جا چکا تھا۔ اخلاقی اعتبار سے بھی ان کی حالت نہایت ابتر تھی۔ شراب نوشی، قمار بازی (جوا)، زنا، لوٹ مار، قتل و غارت اور ظلم و زیادتی ان کے روزمرہ کے معمولات بن چکے تھے۔ طاقتور کمزور کو کچل دیتا، یتیموں کا مال ہڑپ کیا جاتا، اور مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا۔ سب سے زیادہ دردناک منظر یہ تھا کہ بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا اور بعض بدبخت لوگ اپنی معصوم بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ قرآن پاک نے بھی اس ظلم عظیم کی منظر کشی کی کہ قیامت کے دن اس معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ پر اسے قتل کیا گیا۔ ان کی سنگ دلی کا یہ عالم تھا کہ جنگوں میں انسانیت کی کوئی قدر نہ تھی۔ لوگوں کو زندہ جلا دینا، عورتوں کے پیٹ چیر دینا، بچوں کو ذبح کرنا اور نیزوں پر اچھال دینا ان کے نزدیک معمولی باتیں تھیں۔ غیرت و حمیت کے نام پر برسوں تک لڑائیاں جاری رہتیں، معمولی باتوں پر خون کی ندیاں بہا دی جاتیں۔ غرض یہ کہ پورا معاشرہ ظلم، جہالت اور بربریت کی تصویر بنا ہوا تھا۔ یہ حالت صرف عرب تک محدود نہ تھی بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اہل فارس آگ کی پرستش کرتے اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار تھے۔ ترک قومیں لوٹ مار اور تباہی پھیلانے میں مشغول رہتیں۔ کہیں بت پرستی تھی، کہیں ظلم و ستم کی انتہا، کہیں اخلاقی گراوٹ اپنے عروج پر تھی۔ انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھا تھا اور حیوانوں سے بھی بدتر زندگی گزار رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پوری دنیا پر جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا چکا ہے اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ ایسے ہی عالمگیر اندھیرے اور ظلمت کے دور میں اللہ رب العزت نے اپنی بے پایاں رحمت سے انسانیت پر احسانِ عظیم فرمایا اور نور والے آقا، حبیب خدا، محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم واقعۂ اصحاب فیل کے تقریباً پچپن (55) دن بعد، 12 ربیع الاول، بروز پیر، صبح صادق کے وقت اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے، جب آسمان پر ستارے جھلملا رہے تھے اور کائنات ایک عظیم انقلاب کی منتظر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ولادت باسعادت غیر معمولی شان و شوکت کے ساتھ ہوئی۔ آپ کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن، بدن اطہر خوشبوؤں سے معطر، آنکھیں قدرتی سرمگیں، اور دونوں شانوں کے درمیان مہرنبوت جگمگا رہی تھی۔ آپ ختنہ شدہ، ناف بریدہ اس دنیا میں تشریف لائے، اور آپ کی مبارک ہیئت اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ یہ ہستی عام انسانوں جیسی نہیں بلکہ رب کائنات کی طرف سے بھیجی گئی ایک عظیم نعمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تشریف آوری کے ساتھ ہی ظلمت کے بادل چھٹنے لگے، ہدایت کا سورج طلوع ہوا، اور انسانیت کو ایک ایسا کامل و جامع نظام حیات ملا جس نے نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدل دی۔ آپ نے توحید کا درس دیا، اخلاق کو سنوارا، عدل و انصاف قائم کیا، اور انسان کو اس کا حقیقی مقام عطا فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو “رحمۃللعالمین” بنا کر بھیجا گیا، تاکہ آپ کی رحمت سے پوری کائنات فیض یاب ہو۔ (المواھب اللدنیة،المقصد الاول،آیات ولادته صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ،1/66-75 ملتقطاً)۔ لہٰذا اے عاشقان رسول! ہمیں چاہیے کہ ہم اس مبارک سیرت کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔ 12 ربیع الاول شریف کی وہ بابرکت گھڑی کیا ہی عظیم اور نورانی ساعت تھی کہ مکۂ مکرمہ زادہا اللہ شرفا وتعظیماً میں حضرت سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے مکان رحمت نشان سے ایک ایسا انوار و تجلیات کا سیلاب پھوٹا جس نے سارے عالم کو جگمگا دیا۔ وہ نور صرف ایک گھر یا ایک شہر تک محدود نہ رہا بلکہ مشرق سے مغرب تک پھیل کر ہر سو روشنی ہی روشنی کر گیا۔ گویا صدیوں سے تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو ایک دم اجالا نصیب ہو گیا اور کائنات کے ذرے ذرے نے خوشی و مسرت کا پیغام سنایا۔ یہ وہی مبارک لمحہ تھا جس کا انتظار انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام، اولیاءعظام اور اہلِ حق مدتوں سے کر رہے تھے۔ سسکتی ہوئی انسانیت، ظلم و جہالت کے بوجھ تلے دبی ہوئی دنیا، ہدایت کے ایک چراغ کی منتظر تھی، اور بالآخر وہ ساعت آ پہنچی کہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، محبوب رب کائنات، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ولادت باسعادت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری کائنات کے لیے رحمت، ہدایت اور نجات کا پیغام ہے۔ آپ کی آمد سے کفر و ضلالت کے اندھیرے چھٹ گئے، حق کا سورج طلوع ہوا، اور انسانیت کو جینے کا صحیح راستہ نصیب ہوا۔ دلوں کو سکون ملا، روحوں کو قرار آیا، اور زندگی کو ایک پاکیزہ مقصد حاصل ہوا۔ یقیناً آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ پاک کے وہ آخری رسول ہیں جنہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ آپ کی ذات اقدس سراپا رحمت ہے، آپ کی تعلیمات رحمت ہیں، آپ کی سیرت رحمت ہے، اور آپ کا ہر ہر عمل انسانیت کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس مبارک دن کی عظمت کو پہچانیں، اپنے دلوں کو عشقِ رسول سے منور کریں، اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، تاکہ ہم بھی اس نورمصطفیٰ سے فیض یاب ہو کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ رب ہب لی امتی کہتے ہوئے پیدا ہوئے دنیا میں تشریف لاتے ہی اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے پَروردگار کو سجدہ کیا اور اُس وقت مُبارَک ہونٹوں پریہ دُعا جاری تھی:رَبِّ ہَبْ لِیْ اُمَّتِیْ یعنی پَروردگار! میری اُ مّت مجھے ہِبہ (GIFT)کر دے ،یعنی مجھے عطا کر دے ۔(فتاویٰ رضویہ،۳۰/۷۱۷) کیا بے سہاروں کو سہارا مل گیا؟ بے سہاروں کو سہارا مل گیا، غم کے ماروں کو قرار آ گیا، اور دکھی دلوں کو سکون نصیب ہو گیا۔ خاتم المرسلین، رحمۃ لّلْعٰلمین، شفیع المذنبین، جناب صادق و امین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب 12 ربیع الاول شریف کی بابرکت صبح، صبح صادق کے وقت اس جہان فانی میں جلوہ گر ہوئے تو گویا کائنات کی تقدیر بدل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی آمد صرف ایک ولادت نہ تھی بلکہ رحمتوں کا ایسا سیلاب تھا جس نے ہر طرف چھائے ہوئے غم و اندوہ کو خوشیوں میں بدل دیا۔ جو لوگ صدیوں سے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے تھے، جن کے پاس نہ کوئی سہارا تھا اور نہ ہی کوئی پرسانِ حال، ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم امید کی روشن کرن بن کر تشریف لائے۔ بے آسرا یتیموں کو باپ جیسا شفقت بھرا سایہ ملا، بیواؤں کو عزت و وقار نصیب ہوا، غلاموں کو آزادی کا پیغام ملا، اور کمزوروں کو جینے کا حوصلہ عطا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نہ صرف ان کے زخموں پر مرہم رکھا بلکہ انہیں عزت، انصاف اور محبت سے بھرپور ایک نیا نظام زندگی عطا فرمایا۔ وہ لوگ جو در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے، جن کی زندگیاں اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تشریف آوری سے ان کی شام غریباں ’’صبح بہاراں‘‘ میں تبدیل ہو گئی۔ دلوں کی ویرانیاں آباد ہو گئیں، روحوں کو تازگی ملی، اور زندگی کو ایک نیا مفہوم حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات مبارکہ سراپا رحمت ہے۔ آپ کی تعلیمات نے انسان کو انسانیت سکھائی، محبت و اخوت کا درس دیا، اور دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنایا۔ آپ ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو نورہدایت سے روشناس کرایا۔ لہٰذا اے عاشقان رسول! ہمیں چاہیے کہ ہم اس عظیم نعمت پر اللہ پاک کا شکر ادا کریں، اپنے دلوں کو عشق مصطفیٰ سے منور کریں، اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگی کا عملی حصہ بنائیں، تاکہ ہم بھی اس نور سے فیض یاب ہو کر کامیابی کی راہ پا سکیں۔ کعبے کو وَجد آ گیا اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی، نور والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دُنیا میں تشریف لاتے ہی کُفر و ظُلمت کے بادَل چھٹ گئے ، شاہِ اِیران’’ کِسر یٰ ‘‘(ایران کے ہر بادشاہ کا لقب ”کِسریٰ“تھا۔)کے محل پر زَلزلہ آیا، چودہ کُنگرے (مسجدوں اور دیگر عالیشان عمارتوں کی چھت وغیرہ کے باہری حصے پر خوبصورتی کیلئے بنائی جانے والی چھوٹی چھوٹی محرابیں۔)گِر گئے ۔ اِیران کا جو آتَش کَدہ ( آگ کی پوجا کرنے والوں کی وہ جگہ جہاں ہر وقت آگ جلتی رہتی ہے ۔) ایک ہزار سال سے جل رہا تھا وہ بجھ گیا ، دریائے ساوہ سوکھ گیا (شرح زرقانی علی المواھب اللدنیة،المقصد الاول...الخ،من عجائب ولادته صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم، 1/228) کعبے کو وجد آ گیا اور بت سر کے بل گر پڑے۔(مدارج النبوت،قسم دوم،باب اول ذکر نسب و حمل ...الخ ،2/17 ماخوذاً) زمانۂ جاہلیت کی خرابیوں میں سے ایک بدترین خرابی اے عاشقان رسول!آپ نے زَمانۂ جاہلیت کی گمراہیوں اور خرابیوں کے بارے میں سُنا،اُس دَور کی خرابیوں میں سے ایک خرابی یہ بھی تھی کہ نور والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی آمد(یعنی آنے) سے پہلےکسی کے ہاں جب بیٹی پیدا ہوتی تو غم و غصّے کے مارے اُس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا اور شرمندگی مٹانے کے لیے اُس ننھی کلی کو ”زِندہ ہی مَسل“دیا جاتا ،یعنی اس کو زندہ دَرگور کر دیتے ،زندہ ہی قبر میں گاڑ دیتے ، اگر اِسے زندہ رہنے کا موقع مل بھی جاتا تو وہ زندگی بھی کسی عذاب سے کم نہ ہوتی، جانوروں کی طرح مارنا پیٹنا، بدن کے اَعضا کاٹ دینا، میراث سے محروم کر دینا اور پانی حاصل کرنے کے لیے دَریاؤں کی بھینٹ چڑھا دینا عام سی بات تھی،اللہ پاک کے فضل و کَرم سےجب اِسلام کا سورج طلوع ہوا تو جہالت بھرا اندھیرا دور ہو گیا۔ اسلام نے عورت کو بلند مقام عطا کیا اسلام نے عورت کو عزّت و شرف کا بلند مقام عطا کیا۔ اگر عورت ماں ہے تو اُس کے قدموں تلے جنَّت رکھی۔( مسندالشھاب،الجنة تحت اقدام الامھات،۱/۱۰۲،حدیث:۱۱۹) اگر عورت بیوی ہے تو اُسے پانی پلانے پر(اُس کے شوہر کو) ثواب کی خوشخبری اِرشاد فرمائی گئی۔(مجمع الزوائد،کتاب الزکاة،باب فی نفقة الرجل علی نفسه ... الخ ،۳/۳۰۰، حدیث: ۴۶۵۹) اور اُس کے ساتھ اچھے بَرتاؤ کا حکم دیا۔( ترمذی،کتاب الرضاع،باب ما جاء فی حق المراة علٰی زوجھا،۲/۲۸۶،حدیث:۱۱۶۵ ماخوذا) اور اگر عورت بیٹی ہوتو پھر اللہپاک کے آخری رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شہزادی’’خاتونِ جنَّت ‘‘کے مُبارَک نام’’فاطِمہ‘‘کے پانچ حُروف کی نسبت سے 5 فرامین ِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سنیے اور جھومیے: (1)عورت کے لئے یہ بہت ہی مُبارَک ہے کہ اُس کی پہلی اَولاد لڑکی ہو(تاريخ ابن عساکر،العلاء بن کثیر ابو سعید، ۴۷/۲۲۵، الرقم:۵۴۷۳، حدیث:۱۰۱۹۶) (2)بیٹیوں کو بُرا مَت سمجھو، بے شک وہ محبت کرنے والیاں ہیں(مسند امام احمد، مسند الشامیین،حدیث عقبة بن عامر الجھنی،۶/۱۳۴،حدیث:۱۷۳۷۸) (3) تم لوگ بیٹیوں کو بُرا مَت سمجھو، اِس لئے کہ میں بھی چند بیٹیوں کا باپ ہوں(مسند الفردوس ،باب الواو،۲/۴۱۵،حدیث:۷۵۵۶) (4)جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سُلوک کرے تو وہ جنَّت میں داخل ہو گا(ترمذی، کتاب البر و الصلة، باب ماجاء فی النفقة ... الخ ، ۳/۳۶۷، حدیث: ۱۹۲۳) (5)جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ فِرِشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں:اے گھر والو! تم پر سلامَتی ہو۔ پھر فِرِشتے اُس بچّی کو اپنے پَروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور جان ہے جو ایک ناتُواں(یعنی کمزور) سے پیدا ہوئی ہے،جو شخص اِس ناتواں جان کی پرورِش کی ذِمَّہ داری لے گا،قِیامت تک اللہ پاک کی مدد اُس کے شامل حال رہے گی(معجم صغیر،باب الالف،من اسمه احمد، ص ۳۰، حدیث:۷۰) بچّہ ہے یا بچّی؟جاننے کے لئے الٹرا ساؤنڈ کرانا کیسا؟ اےعاشقان رسول!صَدکروڑ افسوس!آج کل مسلمانوں کی ایک تعداد ’’بیٹی ‘‘کی پیدائش کو ناپسند کرنے لگی ہے اور بعض ماں باپ پیٹ میں بچّہ ہے یا بچّی اِس کی معلومات کے لئے الٹرا ساؤنڈ بھی کروا ڈالتے ہیں پھر رپورٹ میں بیٹی کی نشاندہی کی صورت میں بعض لوگ تو مَعَاذَ اللّٰہ حَمْل ضائع کروانے سے بھی دَریغ نہیں کرتے۔ شَرعی مَسئلہ یہ ہے کہ اگر مَرَض کا علاج کروانا ہے تو اُس کےٹیسٹ کے لیے بے پردَگی ہو رہی ہو تب بھی ماہِر طبیب کے کہنے پر عورت کسی مسلمان عورت کے ذَرِیعے الٹرا ساؤنڈ کروا سکتی ہے اور اگر عورت نہ ملے تو بمجبوری یہ کام مَرد سے بھی لیا جاسکتا ہے ، لیکن بچّہ ہے یا بچّی اِس کی معلومات حاصِل کرنے کا تعلُّق چونکہ عِلاج سے نہیں اور الٹراساؤنڈ میں عورت کے ناف کے نیچے کے حصّےکی بے پردَگی ہوتی ہے لہٰذا یہ کام مَرد تو مَر د کسی مسلمان عورت سے بھی کروانا حرام و جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ یہ بھی یاد رَکھئے کہ تمام سائنسی تحقیقات چونکہ یقینی نہیں ہوتیں لہٰذا بیٹا یا بیٹی کا مُعامَلہ ہویا کسی اور بیماری کا، الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ دُرُست ہی ہو یہ ضَروری نہیں۔ الٹراساؤنڈ کی رپورٹ نے گھر اُجاڑ دیاایک پاکستانی لیبارٹرین نے اپنے تجرِبات بیان کرتے ہوئے کچھ اِس طرح بتایا کہ ’’ایک عورت کے اِبتِدائی دِنوں کے الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ میں ساتھ آنے والے شوہر نے جب بیٹی کا سنا تو سنتے ہی بے چاری کوطَلاق دے دی!لیکن جب دِن پورے ہوئے اور وِلادت ہوئی تو بیٹا پیدا ہو گیا !‘‘مگر آہ!الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ پر اَندھا بھروسا رکھنے والے بے وقوف آدَمی نے اپنی بدبختی کا ثبوت دیا اور بے چاری دُکھیاری بی بی کا گھر اُجڑ گیا۔ یہ کیسا ظالم اور بے رحم شخص ہو گا! اگر زندہ ہے تو اللہ پاک اسے توبہ کی توفیق نصیب کرے ۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!