عقیدہ کے لغوی معنی دل میں جمایا ہو ا یقین ، ایمان اور اعتقاد کے ہیں۔ عقید ہ جمایا ہوا یقین ، ایمان اور اعتقاد کے ہیں۔ عقیدہ کی جمع "عقائد" ہے۔ مومن ہونے کیلئے جن باتوں کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار ضروری ہے ان کو اسلامی عقائد کہا جاتا ہے۔ ایمان کے لغوی معنیٰ ہیں:تصدیق کرنا یعنی سچا مان لینا۔( تفسیر قرطبی،الجزء الاول، 1/147) اصلاحِ شرع میں ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں۔( بہارِ شریعت، 1/172، حصہ:1) اور جو شخص ضروریاتِ دین میں موجود تمام باتوں کی سچے دل سے تصدیق کر لے وہ مومن کہلاتا ہے۔ اور مومن کا معنیٰ ہے:ایمان لانے والا۔اب مؤمن کے عقائد کی جو تقسیم ہے تو وہ ملاحظہ ہو۔ عقائد و نظریات میں مانی ہوئی باتیں چار ہیں:
(1) ضروریات دین
(2) ضروریات مذہب اہلسنت و جماعت
ضروریات دین کا ثبوت
(3) ثابتات محکمہ
(4) ظنیات محتمله
ان کا ثبوت قرآن پاک یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحة الافادات سے ہوتا ہے۔ جن میں شہبے کی گنجائش نہ تاویل کی کوئی راہ۔ آئیے! ان کی مختصر وضاحت ملاحظہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ اکثر ہر خاص وعام کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ
ضروریاتِ دین کیا ہیں؟
تو کتب عقائد میں اس کا جواب ہمیں یہ ملتا ہے کہ ضروریات دین اسلام کے وہ احکام ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں جیسے اللہ پاک کی وحدانیت (یعنی اس کا ایک ہونا)، اَنبیائے کِرَام علیہم السّلامکی نبوت، نماز، روزے، حج، جنت، دوزخ، قیامت میں اُٹھایا جانا، حساب وکتاب لینا وغیرہا۔( کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص41، مکتبۃ المدینہ کراچی) واضح رہے کہ یہاں ”عوام“ سے مراد وہ مسلمان ہیں جو عُلَما کے طبقہ میں شمار نہ کئے جاتے ہوں مگر عُلَما کی صحبت میں بیٹھنے والے ہوں اور علمی مسائل کا ذوق رکھتے ہوں۔( بہار شریعت،1/172، حصہ: 1 بتغیر قلیل) عقیدہ ٔ ختمِ نبوت ان اجماعی عقائد میں سے ہے جس کو اسلام کے اصول اور ضروریاتِ دین میں شمار کیا گیا ہے اس لئے عہدِ نبوت سے لے کر آج تک ہر مسلمان بلا کسی تاویل وتخصیص کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہو نے پر ایمان رکھتا آیا ہے جیساکہ علّامہ ابنِ نجیم المصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِذَا لَمْ یَعْرِفْ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ لِاَنَّہٗ مِنَ الضَّرُوْرِیَّاتِ یعنی, جو شخص یہ نہ مانے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیا میں سب سے آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں کیونکہ حضور کا آخر الانبیا ہونا ضروریاتِ دین سے ہے۔ (الاشباہ والنظائر،ص161) امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ختم نبوت سے متعلق فتویٰ دیتے ہوئے فرمایا: حضورپرنور خاتم النبیین ،سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم یعنی بعثت میں آخرجمیع انبیاء و مرسلین بلا تاویل و بلا تخصیص ہونا ضروریاتِ دین سے ہےجو اس کا منکر ہو یا اس میں ادنیٰ شک و شبہ کو بھی راہ دے کافر مرتد ملعون ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،14/333) مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔( بہارِ شریعت، حصہ:اول، 1/172) مثلاً کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی نہ مانے اگر چہ باقی تمام ضروریاتِ دین مانتا ہو تو ایسا شخص کافر اور اس کے نیک اعمال باطل ہیں اور شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجب الوجود یا مستحق عبادت جاننا ہے۔( بہارِ شریعت،حصہ: اول، 1/183) چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْؕ-هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (پ9،الاعراف:147) ترجمہ:اور جنہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا توان کے تمام اعمال برباد ہوئے انہیں ان کے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔ ضروریات دین اور فرائض کا سیکھنا فرض ہےاور واجبات کا سیکھنا واجب اور سنتوں کا سیکھنا سنت اور مستحبات کا سیکھنا مستحب ۔ اب ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ پوچھ پوچھ کر فرائض وواجبات کو جانے تاکہ اس پر عمل ہوسکے اور حرام وناجائز باتوں کو معلوم کرکےبچ سکے۔ اس کے بالمقابل حرام قطعی کا جاننا فرض اور مکروہ تحریمی کا واجب،سیکھنے کے لیے بہرحال پوچھنا ضروری ہے۔البتہ ایسی باتوں کے بارے میں سوال کرنا ممنوع ہے جو نہ مامور ہوں نہ منہی عنہ ہوں نہ اس پر عمل کرنا یا اس پر اعتقاد رکھنا ضروری ہومثلاً حضرت آدم علیہ السلام نے جنت میں سب سے پہلے کیا چیز کھائی ؟دنیا میں تشریف لائے تو سب سے پہلے کیا کھایا ؟کیا لباس استعمال کیا؟کیسا گھر بنایا وغیرہ وغیرہ یا ایسی باتوں کے بارے میں پوچھا جس کا واقعہ ہونا معتذر(مشکل) ہو۔( نزہۃ القاری،5/923) (فیضان ریاض الصالحین، 7/ 407- 406) ضروریات دین کے منکر کا حکم ضروریات دین کا منکر یعنی انکار کرنے والا یا ان میں باطل تاویلات کا مر تکب بھی کا فر ہی ہوتا ہے۔ ضروریات مذہب اہلسنت و جماعت کا ثبوتان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے۔ ندائے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نداء فرمائی۔ (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ)، (یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ)،(یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ)،(یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ) وغیرہ ان تمام آیات میں حرفِ ندا ’یا‘ کے ساتھ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو خطاب فرمایا ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جوحضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینۂ پاک میں داخلے کا منظر بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں: عورتیں اور مرد گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور غلام گلی کوچوں میں متفرّق ہو گئے۔ نعرے لگاتے پھرتے تھے، یَامُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، یَامُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ۔ (صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق، باب فی حدیث الھجرة…الخ،ص1608، حدیث:2009) نماز میں ہر مسلمان کا عمل
ہر نماز کے تشہد میں مسلمان التحیات پڑھتے ہیں اور التحیات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارا جاتا ہے بلکہ یہ پکارنا واجب ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد بھی صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور سلف صالحین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارتے رہے ہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں نبوت کے جھوٹے دعویدارمسیلمہ کذاب کے خلاف مسلمانوں اور مرتدین کے درمیان جنگ یمامہ ہوئی جس میں مسلمانوں کا نعرہ ’’یَا مُحَمَّدَاہ‘‘ تھا۔ (تاریخ الطبری،ذكر بقيۃ خبر مسيلمۃ الكذاب …الخ،2/281) حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا عمل
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا پاؤں سو گیا، کسی نے کہا: انہیں یا د کیجیے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت نے بآوازِ بلند کہا: ’’یَامُحَمَّدَاہ‘‘ فوراً پاؤں کھل گیا۔ (الشفاء،فصل فيما روى عن السلف والأئمۃ، 2/23)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اور یہ اَمر ان دو صحابیوں کے سوا اَوروں سے بھی مَروی ہوا ۔ اہلِ مدینہ میں قدیم سے اس ’’یَا مُحَمَّدَاہ‘‘ کہنے کی عادت چلی آتی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ،29/552)
اہلسنّت وجماعتِ اہلِ حق کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام اپنے مزاراتِ طیّبہ میں زندہ ہیں انھیں روزی دی جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف سے بھی یہ بات ثابت ہے تو سیّد الانبیاء کی حیات میں پھر کیسے شبہ ہوسکتا ہے اس لحاظ سے یارسول اللہ کہہ کر پکارنے کے جواز میں کسی قسم کا شک کیا ہی نہیں جاسکتا ہے کہ اللہ کی عطا سے زندہ بھی ہیں اور فریاد کرنے والے کی فریاد سنتے بھی ہیں اور اللہ کی عطا سے مدد کرنے پر قادر بھی ہیں تو ان تمام باتوں میں سے کوئی بات خلافِ شرع نہیں سب جائز و درست اور علمائے حق کی تصریحات سے ان کا جواز ثابت ہے ۔ بعض انکار کرنے والے اس عقیدۂ حقّہ ثابتہ سے غافل ہونے کی بناء پر بھی انکار کرتے ہیں اور بعض جانتے بوجھتے عِنادًا انکار کرتے ہیں اور فضائلِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چڑتے ہیں اللہ تعالی ایسوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔ استِمداد واستِعانت
اللہ پاککو حقیقی مددگار جانتے ہوئے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام اور اولیاء اللہ رحمہم اللہ تعالٰی سے مدد مانگنا ’’استمداد‘‘کہلاتاہے اور ’’استعانت‘‘کا بھی یہی مطلب ہے۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام اور اولیاء اللّٰہسے مدد مانگنا بلا شبہ جائز ہے جبکہ عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی امداد تو ربّ تعالیٰ ہی کی ہے اور یہ سب حضرات اس کی دی ہوئی قدرت سے مدد کرتے ہیں کیونکہ ہر شے کا حقیقی مالک و مختار صرفاللہ تعالیٰ ہی ہے اوراللّٰہتعالیٰ کی عطا کے بغیر کوئی مخلوق کسی ذرّہ کی بھی مالک و مختار نہیں ہو تی ۔ اللّٰہتعالیٰ نے اپنی خاص عطا اور فضلِ عظیم سے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونین کا حاکم و مختار بنایا ہے اور حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام واولیائے عِظام اللّٰہتعالیٰ کی عطا سے(یعنی اس کی دی ہوئی قدرت سے)مدد فرما سکتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃُ التحریم پارہ 28 کی آیت 4 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(پ٢٨،التحريم:٤)
ترجمہ کنز الایمان: تو بےشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں ۔
حدیث شریف میں حضرت سیّدُنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پر نورسید العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے اور مدد چاہے اور ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے : اے اللہکے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو ،کہ اللہکے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔
یاد رہے! اللّٰہتعالیٰ کے پیارے نبی اور ولی اپنی قبور میں زندہ ہوتے ہیں۔ تو جس طرح زندگی میں ان سے توسّل کرنا اور مددمانگناجائز ہے اسی طرح ان کے وصال کے بعد بھی جائز ہے۔
توسّل کرنا
انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام و اولیاءِ عِظام رحمہم اللہ تعالیٰ سے توسل کا مطلب یہ ہے کہ حاجتوں کے بر آنے اور مطالب کے حاصل ہونے کے لئے ان محبوب ہستیوں کو اللہ پاک کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنایاجائے کیونکہ انہیں اللہ پاک کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے ، اللہ پاک ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتاہے۔ دُنیاوی اور اُخروی حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے اللہ پاک کی بارگاہ میں ان سے توسّل شرعاً جائز ہے۔ان کو وسیلہ بنانا قرآن وسنّت اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے،چُنانچہ
آیتِ مبارکہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (پ٦،المائدة:٣٥) ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! اللہ سےڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
حدیث پاک:سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک نابینا شخص کو ایک دعاکے ذریعے وسیلہ کی تعلیم ارشاد فرمائی، چُنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عثمان بن حُنَیْف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :ایک نابینا بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے آنکھ والا کردے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے دعا کروں اور اگر تو چاہے تو صبر کرکہ وہ تیرے لیے بہتر ہے۔ عرض کی کہ دعا فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیاکہ اچھا وضو کرو، دور کعت نمازپڑھو اور یہ دعا کرو :اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے توجہ کرتا ہوں جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ،یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں تو اسے پوری فرمادے۔ اے اللہ پاک!میرے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت قبول فرما (ترمذی،احادیث شتی،باب 118، 5/336،حدیث:3589)(راوی بیان فرماتے ہیں)کہ وہ شخص جب آپ کے فرمانے کے مطابق دعاکرکے کھڑا ہوا وہ آنکھ والا ہوگیا ۔ (معجم کبیر، 9 /31، حدیث: 8311) ایصالِ ثواب
اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا ’’ایصالِ ثواب‘‘ کہلاتاہے۔ شریعتِ مطہرہ میں اپنے کسی بھی نیک عمل کا ثواب کسی فوت شُدہ یا زندہ مسلمان کو ایصال کرنا جائز و مستحسن ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ کچھ کہتیں تو صدقے کا کہتیں پَس اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اُنہیں ثواب پہنچے گا فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ (صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب موت الفجاة البغتة،2/468،حدیث:1388)
شاہ ولِیُّ اللہ مُحدّ ث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ نذر و نیاز،چالیسواں، تیجہ، دسواں ایصالِ ثواب کے قائل تھے، لکھتے ہیں’’شاہ عبدُ الرّحیم صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ وصال میں ان کے پاس نیاز دینے کے لیے کوئی چیز میسّر نہ تھی۔ آخرکار کچھ بُھنے ہوئے چنے اور گُڑھ پر نیاز دی۔ رات میں نے دیکھا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس انواع و اقسام کے کھانے حاضر ہیں اور ان میں وہ گُڑھ اور چنے بھی ہیں ،آپ نے کمالِ مُسرّت واِلتِفات فرمایا اور انہیں طلب فرمایا اور کچھ آپ نے تَناوُل فرما یا اور کچھ آپ نے اَصحاب میں تقسیم کردیا۔ (انفاس العارفین ،ص76)
فوت شُدہ مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کے لئے عموماً قرآن خوانی اور محفلِ ذکر و نعت کا اہتمام کیا جاتاہے نیز کھانا وغیرہ بھی پکاکر تقسیم کیا جاتا ہے، اگر اس طرح کا اہتمام فوت ہونے کے دوسرے روز ہوتو اسے دوجہ ،تیسرے روز ہوتو تیجہ ،دسویں روز ہوتو دسواں، چالیسویں روز ہوتو چالیسواں یا چہلم اور سال کے بعد ہوتو برسی کہتے ہیں ایک دو دن آگے پیچھے بھی ہوجائیں تو دسواں بیسواں یا چالیسواں ہی کہلاتا ہے ۔
بزرگانِ دین کے ا َعراس میں ذکرُ اللّٰہ،نعت خوانی اور قرآنِ پاک کی تلاوت اور اس کے علاوہ دیگر نیک کام کر کے ان کو ایصالِ ثواب کیا جاتاہے اور ایصالِ ثواب کے جائز اور مستحسن ہونے کے دلائل اوپر ذکر کئے جاچکے ہیں ۔
گیارہویں شریف کی نیازدلانا جائز ہے۔یہ ہم حضور سیّدُنا غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرنے کے لئے کرتے ہیں اور یہ عمل جائز و مستحسن اور باعثِ اَجر وثواب ہے بزرگوں سے نسبت و محبّت کی علامت ہے جو سعادت مندی کی دلیل ہے ۔ کسی بزرگ کا عُرس منانا
کسی بزرگ کی یاد مَنانے کے لئے اور ان کو ایصالِ ثواب کرنے کے لئے ان کے مُحبّین ومریدین وغیرہ کا ان کی یومِ وفات پر سالانہ اجتماع ’’عُرس‘‘کہلاتا ہے۔
بزرگانِ دین اولیاءِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا عرس منانے سے مقصود ان کی یا د منا نا اور ان کو ایصالِ ثواب کرنا ہوتا ہے اس لئے ان کے عُرس کا انعقاد کرنا شرعاً جائز و مستحسن اور اجر وثواب کا ذریعہ ہے ۔ پُختہ مزار اور قُبّہ بنانا
انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام اورمشائخ و علماء واولیاءِ عِظام علیہم الرحمۃ کی قبروں پر مزار بنایاجاسکتاہے شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ علامہ اسمٰعیل حقی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ قرآنِ کریم کی آیت(اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ) (پ١٠،التوبة:١٨) کے تحت فرماتے ہیں:’’علماء اوراولیاء صالحین کی قبروں پر عمارت بنانا جائز کام ہے جبکہ اس سے مقصود ہولوگوں کی نگاہوں میں عظمت پیداکرناکہ لوگ اس قبر والے کوحقیر نہ جانیں۔‘‘ (روح البیان، التوبۃ، تحت ا لآيۃ 18،3/400)
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اگرمیّت مشائخ اورعلماء اورساداتِ کرام میں سے ہو تواس کی قبر پر عمارت بنانامکروہ نہیں ہے۔‘‘( ردالمحتار، کتاب الصلاة، مطلب فی دفن المیت، 3/170) مزارات پر پھول چادر ڈالنا
مزاروں پر پھول ڈالنا جائز اور مستحسن ہے۔ اس کے جائز ہونے کی دلیل مشکوٰ ۃ شریف کی حدیثِ پاک ہے کہ ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا دو قبروں پر گزر ہوا، فرمایا کہ دونوں میّتوں کو عذاب ہورہا ہے، ان میں ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چُغلی کیا کرتا تھا پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ایک تَر شاخ لی اوراس کے دو حصے کئے اور پھر ہر ایک قبر پر ایک حصہ گاڑ ھ دیا،لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے ایساکیوں کیا ؟ فرمایا: جب تک یہ خشک نہ ہوں تب تک ان کے عذاب میں کمی رہے گی۔( مشکوة المصابیح،کتاب الطھارة، باب آداب الخلاء، الفصل الاول،1/81،حدیث:338) کہا گیا ہے کہ اس لئے عذاب کم ہوگا کہ جب تک تَر رہیں گے تسبیح پڑھیں گے۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الطھارة، باب آداب الخلاء، الفصل الاول،2/58،تحت الحدیث:338)
شریعتِ مطہرہ میں قبورپر چادر چڑھانا بلاشبہ جائز اور مستحسن عمل ہے کہ اس سے صاحبِ مزار کی تعظیم و عظمت کا اظہا ر ہو تا ہے۔ زیارتِ قبور
شریعتِ مطہرہ میں مزاراتِ اولیاءاللّٰہپر جانا جائز اور سنّت سے ثابت ہے کہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم خودشُہداءِ اُحُد کے مزار پر تشریف لے جاتے تھے۔ جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے:بے شک نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہر سال شُہداءِ اُحُد کے مزارات پر تشریف لے جاتے۔( مصنف عبد الرزاق،کتاب الجنائز، باب فی زيارة القبور ، 3/381،حدیث:6845)
مزید ترمذی شریف کی روایت میں ہے:’’رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو اجازت دے دی گئی ہے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، لہٰذا تم بھی قبروں کی زیارت کرو بے شک وہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔( ترمذی،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الرخصة فی زیارة القبور،2/330،حدیث:1056)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مجدّدِدین وملّت مولاناشاہ احمد رضا خان عَـلَيْهِ رَحْمَةُ الـرَّحْمٰن مزارات پر حاضری کی تفصیل یوں ارشادفرماتے ہیں:’’مزارات شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چارہاتھ کے فاصلہ پر مُواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسّط آواز بادب سلام عرض کرے:اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَیّدِی وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗپھر درودِ غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، آیۃُ الکرسی ایک بار ، سورۂ اخلاص سات بار ، پھر درودِ غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے تو سورۂ یٰسین اور سورۂ ملک بھی پڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرے کہ الٰہی عَزَّوَجَلَّ! اس قراءت پر مجھے اتناثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے نہ اُتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اُسے میری طرف سے اس بندۂ خدامقبول کو نذر پہنچا پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اُس کے لئے دعاکرے اور صاحبِ مزار کی روح کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اُسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ۔‘‘( فتاوی رضویہ ، 9/522) نذر ونیاز
اس بارے میں صدرُ الشریعہ، بدرُ الطریقہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے یا فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارھویں کی نیاز دِلانے یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا توشہ یا شاہ عبدُالحق رضی اللہ عنہ کا توشہ کرنے یا حضرت جلال بخاری کا کونڈا کرنے یا محرّم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منّت نہیں مگر یہ کام منع نہیں ہیں کرے تو اچھا ہے۔ ہاں البتہ اس کا خیال رہے کہ کوئی بات خلافِ شرع اسکے ساتھ نہ ملائے مثلاً طاق بھرنے میں رَت جَگا ہوتا ہے جس میں کُنبہ اور رشتہ کی عورتیں اکھٹا ہو کر گاتی بجاتی ہیں کہ یہ حرام ہے یا چادر چڑھانے کے لئے لوگ تاشے باجے کے ساتھ جاتے ہیں یہ ناجائز ہے یا مسجد میں چراغ جلانے میں بعض لوگ آٹے کا چراغ جلاتے ہیں یہ خواہ مخواہ مال ضائع کرناہے اورناجائز ہے، مٹی کا چراغ کافی ہے اور گھی کی بھی ضرورت نہیں، مقصود روشنی ہے وہ تیل سے حاصل ہے۔ رہا یہ کہ میلاد شریف میں فرش و روشنی کا اچھا انتظام کرنا اور مٹھائی تقسیم کرنا یا لوگوں کو بُلاوا دینا اور اس کے لئے تاریخ مقرّر کرنا اور پڑھنے والوں کا خوش الحانی سے پڑھنا یہ سب باتیں جائز ہیں البتہ غلط اور جھوٹی روایتوں کا پڑھنا منع ہے ،پڑھنے والے اور سننے والے دونوں گنہگار ہونگے۔‘‘( بہار شریعت، حصہ9 ،2/317) تبرّکات کی تعظیم
انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام و اولیاءِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب اشیاء سے برکت وفائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔ اس کے ثبوت میں قرآن و حدیث کی بکثرت نُصوص پیش کی جاسکتی ہیں،چُنانچہ (۱)…تابوتِ سکینہ جس میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام کے تبرکات تھے ان سے بنی اسرائیل کا برکت و فائدہ حاصل کرنا دوسرے پارے میں موجود ہے۔ (۲)…حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کی قمیض مبارک سے حضرت یعقوب علیہ الصلاۃ والسلام کی آنکھوں کا صحیح ہوجانا سورۂ یوسف میں مذکور ہے۔ (۳)…حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مبارک، وضوکے بچے ہوئے پانی، ناخنوں کے تراشے، چادر مبارک، تہبند مبارک، پیالہ مبارک، انگوٹھی مبارک سے صحابۂ کرام کا برکت حاصل کرنا بکثرت احادیث سے ثابت ہے ۔ اذان و اقامت سے قبل درودِ پاک پڑھنا
اذان واقامت سے پہلے یا بعد میں درود و سلا م پڑھنا بالکل جائز اور مستحب ہے۔ قرآنِ پاک میں فرمانِ باری تعا لیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (پ 22،الأحزاب:56)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے(نبی)پر اے ایمان والو، ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عزوجل نے درودِ پاک پڑھنے کا حکم دیا اور اس میں نہ تو کوئی الفاظ مقرّر فرمائے کہ انہیں الفاظ کے ساتھ درود پڑھو اور نہ ہی کسی وقت کی قید لگائی ہے کہ اِس وقت پڑھو اور اُس وقت نہ پڑھو ۔
حدیث شریف میں ہے :’’جس نے اسلام میں ایک اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور جو اس پر عمل کریگا اس کااجر ایجاد کرنے والے کو بھی ملے گا۔‘‘( صحیح مسلم،کتاب الزکاة، باب الحث على الصدقة۔۔۔الخ ،ص508،حدیث:1017)
الحمد للہ عزوجل! اذان سے قبل درود شریف پڑھنا بھی مسلما نو ں کے اندر رائج ہے اور اگر یہ کسی حدیث شریف سے ثابت نہ بھی ہو تب بھی کارِ ثواب ہے کہ دینِ اسلا م میں جس نے اچھا کام شروع کیا اللہ تعالیٰ اسے نیک عمل کا ثواب عطافرمائے گا اور جتنے لو گ اس پر عمل کریں گے ان کے برابربھی اس شخص کو ثواب عطا کیا جائے گا ۔
یاد رہے ! اذان واقامت سے پہلے درود میں یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ درود شریف پڑھنے کے بعد کچھ وقفہ کرے پھر اذان یا اقامت کہے تاکہ درود شریف اور اذان واقامت کے درمیان فاصلہ ہو جائے یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے پَست رہے تاکہ دونوں کے درمیان فرق رہے اور درود شریف کو اقامت کا جُزء نہ سمجھیں۔اس طرح اذان واقامت پڑھنے والا خوش نصیب صلوٰۃ و سلام کی برکتوں سے بھی مستفید ہوتا رہے گا۔ انگوٹھے چومنا
جائزو مستحسن و موجبِ اجر وثواب ہے اور سرکارِ دوجہاں ،رحمتِ عالمیاں، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی علامت ہے۔
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’مستحب یہ ہے کہ جب پہلی شہادت سنے تو کہے:صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ اور جب دوسری سُنے تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعدکہے:قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِپھر یہ کہے اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِتو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنّت کی طرف اس کے قائد ہونگے جیسے کہ کَنْزُ الْعِباد اور الفتاوی الصّوفیۃ میں ہے اور کتابُ الفردوس میں ہے کہ جس نے اذان میںاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِسننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا توجنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔( ردالمحتار،کتاب الصلاة، مطلب فی کراہۃ تکرار الجماعۃ فی المسجد،2/84)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ مسندُالفردوس کے حوالے سے فرماتے ہیں:’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْ لُ اللہ کہتے سُنا یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے جانبِ زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے، اس پر حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجائے۔ (فتاویٰ رضویہ،5/432)
کیونکہ یہ چیزیں اصل کے اعتبار سے جائز ہیں جب تک کہ شریعت منع نہ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان کے علاوہ بھی محبت و تعظیم کی وجہ سے حضورسرورِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحسن ہے۔ قبر پر اذان
دفن کے بعد قبر پر اذان دیناجائزو مستحسن ہے ۔ کیونکہ شریعتِ مطہر ہ نے اس سے منع نہیں فرمایا اور جس کام سے شرع مطہرہ منع نہ فرما ئے اصلا ً ممنوع نہیں ہوسکتا۔نیز احادیث سے ثابت ہے کہ جب مُردے کو قبر میں اتارنے کے بعدمنکر نکیر ا س کے پاس آکرسوالات کرتے ہیں توشیطان جوکہ انسان کا اَزَلی دشمن ہے، مسلمان کو بہکانے کیلئے وہاں بھی آپہنچتا ہے اور یہ بات بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شیطان قبر میں آتا اور مسلمان کو سوالات کے جواب دینے میں پریشانی میں مبتلا کرتا ہے تاکہ یہ سوالات کے جوابات نہ دے کر خائب و خاسِر ہو اور جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان بھا گ کھڑا ہوتا ہے۔ چُنانچہ روایت میں ہے:’’جب مُردے سے سوال ہو تاہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اس پر ظاہر ہوتا ہے اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہوں۔‘‘اس لئے حکم آیا کہ میّت کیلئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں۔( نوادر الاصول، الاصل الحادی والخمسون والمائتان،2/1020، بتغیرٍ، فتاوی رضویہ،5/655)
اور یہ اَمر بھی احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ اذان دینے سے شیطان بھاگتا ہے جونہی اذان کی آواز اس کے کان میں پڑتی ہے جس جگہ اذان دی جارہی ہو وہاں سے کوسوں دور بھاگ جاتا ہے چُنانچہ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ’’شیطان جب اذان سنتا ہے اتنی دور بھاگتا ہے جیسے روحا۔‘‘اور روحا مدینہ سے 36میل کے فاصلہ پر ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الصلاة،باب فضل الاذان وھرب۔۔۔الخ، ص204، حدیث:388) نماز کے بعد ذکر
نماز کے بعد ذکر کرنا شرعاً جائز ہے۔ صحیح مسلم میں عبد اللّٰہبن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیر کر بلند آواز سے یہ کلمات پڑھتے تھے: ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔‘‘( صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذكر بعد الصلاة، ص299، حدیث:594)
صحیح مسلم میں ہے: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے:’’فرائض سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکراللہ کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مُروّج تھا۔‘‘ (صحیح مسلم،کتاب المساجد،باب استحباب الذكر بعد الصلاة، ص294،حدیث:583)
تنبیہ: بلند آواز سے ذکر کرنے میں یہ احتیاط پیشِ نظر رہے کہ سوتے ہوئے لوگوں کی نیند میں خَلل نہ آئے یا نماز ی یا تلاوت کرنے والے کوتشویش نہ ہو۔ بڑی راتوں میں عبادت
شبِ معراج شریف میں عبادت کرنا جائز ومستحسن ہے،اس میں عبادت کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے عار ف باللہ شیخ محقّق شیخ عبدُالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حدیث نقل فرماتے ہیں:’’رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عبادت کرنے والے کیلئے سوسال کی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہےاور یہ رجب کی ستائیسویں رات ہے،جو اس رات بارہ رکعت نوافل اس طرح اد اکرے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھے اورسُبْحَانَ اللہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ولَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاللہ اَکْبَرسو دفعہ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے سو دفعہ استغفار کرے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سو بار درود پڑھے اور اپنے لیے دنیا وآخرت میں سے جو چاہے مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کی سب دعاؤں کو قبول فرمائے گا،سوائے اس دعا کے جو گناہ کی ہو،اس روایت کو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں ابان سے اور انہوں نے حضرت سیّدُنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔‘‘( ما ثبت بالسنۃ، ص150،شعب الإیمان، باب فى الصيام، تخصيص شهر رجب بالذكر، 3/374، حدیث:3812) شِرک و بدعت
شِرک کہتے ہیں کسی کو اللہ تعالیٰ کی اُلوہیّت میں شریک ماننا یعنی جس طرح اللّٰہتعالیٰ کی ذات ہے اس کی مِثل کسی دوسرے کی ذات کو ماننایا کسی دوسرے کو عبادت کے لائق سمجھنا۔ مزید اس کو اس طرح سمجھیں کہ شِرک توحید کی ضِدّ ہے او رکسی شے کی حقیقت اس کی ضِدّ سے پہچانی جاتی ہے لہٰذا شِرک کی حقیقت جاننے کے لئے توحید کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے ۔
’’توحید کا معنی اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کو اس کی ذات او رصفات میں شریک سے پاک ماننا یعنی جیسا اللہ تعالیٰ ہے ویسا ہم کسی کو نہ مانیں اگر کوئی اللہ عزوجل کے سوا کسی دوسرے کو ’’اللّٰہ‘‘تصوّر کرتا ہے تو وہ ذات میں شِرک کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ جیسی صفات کسی اور کے لئے ماننا یہ صفات میں شرک ہے۔‘‘
بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام ہے جو سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک دور میں نہ تھا بعد میں کسی نے اس کو شروع کیا، اب اگر یہ کام شریعت سے ٹکراتا ہے تو اس بدعت کو بدعتِ سَیّئہ یعنی بُری بدعت کہتے ہیں، اسی کے بارے میں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ مَردود ہے اور وہ نیا کام جو قرآن و سنّت کے خلاف نہیں ہے اسکو بدعتِ مُباحہ یا حَسَنَہ یعنی اچھی بدعت کہتے ہیں یعنی حکم کے اعتبار سے مُباح ہے تو مُباحَہ اور مستحسن ہے تو حَسَنَہ بلکہ بعض بدعاتِ حَسَنَہ تو واجِبَہ بھی ہوتی ہیں جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
اچھی بدعت کو بدعتِ حَسَنَہ کہا جاتا ہے اس پرعمل کرنا کبھی واجب،کبھی مستحب ہوتاہے اوراچھا طریقہ جاری کرنے والا اجروثواب کا حقدار ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:’’جو کوئی اسلام میں اچھاطریقہ جاری کرے اس کو اس کا ثواب ملے گا او راس کابھی جو اس پر عمل کریں گے او ران کے ثواب میں بھی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں بُراطریقہ جاری کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اوران کا بھی جو اس پر عمل کریں او ران کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ آئے گی۔( صحیح مسلم،کتاب الزکاة، باب الحث على الصدقۃ ولو بشق تمرة۔۔۔الخ،ص508،حدیث:1017) میلاد شریف منانا
میلاد شریف منانا جائز اور مستحسن یعنی بہت اچھا کام ہے ۔ میلاد عرفِ عام میں ذکرِمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے خواہ دو آدمی مل کر کریں یا ہزاروں اور لاکھوں ۔ اس محفل میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جاتی ہے، تلاوتِ قرآنِ مجید ہوتی ہے اور ذکرِ حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا ہے اور ان کی نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور ان پر صلوٰۃ وسلام پیش کیا جاتا ہے۔
میلاد کا جواز بکثرت آیات و احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔ اگرچہ جواز کے لئے یہ دلیل بھی کافی ہے کہ اس کی ممانعت شرع سے ثابت نہیں ہے اور جس کام سے اللہ تعالیٰ اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع نہیں فرمایا وہ کسی کے منع کرنے سے ممنوع نہیں ہوسکتا ۔ آیاتِ قرآنِ مجید آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے ذکرِ خیر سے مالامال ہیں:چُنانچہ پارہ 11سورۂ یونس کی آیت 58 میں ارشاد ہوتا ہے: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا(پ11،يونس:58)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اوراسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ فضل و رحمت پر خوشی کرنا چاہیے لہٰذا مسلمان حضورِ انور، شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فضل ورحمت جان کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کر کے خوشی مناتے ہیں اور یہ حکمِ الٰہی ہے۔
چُنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (پ30،الضحٰى:11)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
نبی کریم ، رءوف رَّحیم،حلیم کریم عظیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہیں اور نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنا حکمِ خداوندی ہے۔ لہٰذا مسلمان حبیبِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نعمتِ الٰہی سمجھتے ہوئے محفلِ میلاد کی صورت میں اسکا چرچا کرتے ہیں۔
تقلید کی ضرورت واہمیت
معمولاتِ شرعیہ سے قطعِ نظر کرتے ہوئے جب ہم روزمَرّہ کے حالات اور اپنے طرزِ زندگی پر نظر کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ تقلید کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں اس میں عوام وخواص،شہری،دیہاتی ہر طبقہ کے لوگ مساوی حصّہ دار ہیں۔ آپ غور کریں کہ ایک بچّہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے ماں باپ اپنے مُرَبّی کی تقلید کے سہارے پروان چڑھتا ہے، ایک بیمار اپنے معالج کی تقلید کرکے ہی شفا ء یا ب ہوتا ہے، ایک مستغیث کسی قانون داں وکیل کی تقلید کرکے ہی اپنا حق پاتا ہے ،راستہ سے نابلد ایک راہ رو کسی راستہ بتانے والے کی تقلید کرکے منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے، ایک ناخواندہ اپنے مُعلّم کی تقلید ہی سے صاحبِ علم وفضل بنتا ہے ۔صنعت وحرفت سے عاری کسی ماہرِ فن اُستاذ کی تقلید کرکے ہی صنعت کار ہوتا ہے یہ وہ روزمَرّہ کی باتیں ہیں کہ ان سے نہ تو انکار کی کوئی گنجائش ہے اور نہ بَحث وتمحیص کی ۔۔۔۔۔اور یہی تقلید ہے ۔( مقالاتِ شارح بخاری،1/253،ملخصاً)ضروریاتِ مذہبِ اہلسنّت و جماعت کے منکر کا حکم ضروریاتِ مذہبِ اہلسنّت و جماعت وہ امور ہیں جو دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہوں اور اہلِ حق کے ہاں مسلّم ہوں، البتہ ان کے ثبوت میں کسی درجے میں تاویل یا شبہ کا احتمال پایا جا سکتا ہو۔ اس بنا پر فقہائے اہلِ سنت نے تصریح فرمائی ہے کہ: ان امور کا انکار کرنے والا کافر قرار نہیں دیا جاتا البتہ وہ گمراہ (ضالّ)، بد مذہب یا بد دین شمار کیا جاتا ہے، اگر وہ عناد، گستاخی یا ضروریاتِ دین کے انکار تک پہنچ جائے تو پھر حکم مختلف ہو سکتا ہے۔ اہلِ سنت کے اصول کے مطابق تکفیر (کسی کو کافر قرار دینا) میں انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔ جب تک انکار ایسا نہ ہو جو کسی ضروریِ دین کا صریح اور قطعی انکار ہو، محض اختلاف یا تاویل کی بنا پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا۔ لہٰذا ضروریاتِ مذہبِ اہلسنّت کے منکر کے بارے میں اصل حکم یہ ہے کہ وہ: بد عقیدہ اور گمراہ تو ہے، مگر مطلقاً کافر نہیں۔ البتہ ہر خاص شخص پر حکم لگانے سے پہلے:
-
اس کا موقف واضح ہو۔ -
اس کی مراد معلوم ہو۔ -
شبہ اور تاویل کا احتمال ختم ہو۔ -
اہلِ علم کی تحقیق موجود ہو۔
ثابتات محکمہ کا ثبوت(مضبوط اور معتبر شہادت) کسی مسئلے کو "ثابتاتِ محکمہ" میں شامل کرنے کے لیے قطعی دلیل (جیسے نصِ قرآن یا متواتر حدیث) شرط نہیں بلکہ دلیلِ ظنی (ظاہری و غالب گمان پیدا کرنے والی دلیل) بھی کافی ہوتی ہے۔ اصل شرط یہ ہے کہ وہ دلیل اتنی مضبوط ہو کہ مخالف کے قول کو بالکل کمزور اور ناقابلِ التفات بنا دے۔ یعنی، مخالفانہ موقف محض ایک فرضی یا کمزور رائے رہ جائے۔ اس کے ثبوت کے لیے صحیح یا حسن درجے کی آحاد حدیث بھی کافی ہے۔ یعنی وہ حدیث جو اگرچہ متواتر نہ ہو، لیکن سند کے اعتبار سے صحیح یا حسن ہو۔ اسی طرح اگر کسی مسئلے پر سوادِ اعظم (یعنی امت کی اکثریت) یا جمہور علماء کا اتفاق و قول ہو تو وہ بھی ایک معتبر اور کافی دلیل شمار ہوگا۔ ’’فَإِنَّ يَدَ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ‘‘ (اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے) جیسی نصوص سے بھی یہ اصول ماخوذ ہے کہ جمہور اور اجتماعِ امت کی بات وزن رکھتی ہے اور محکمہ ثبوت بن جاتی ہے۔ ثابتاتِ محکمہ کے منکر کا حکم ثابتاتِ محکمہ سے مراد وہ مسائل ہیں جو اگرچہ دین میں معتبر اور معتمد ہیں، لیکن ان کا ثبوت دلیلِ ظنی سے ہوتا ہے۔ یعنی ان کے دلائل قوی اور معتبر ضرور ہوتے ہیں مگر قطعی الثبوت درجے تک نہیں پہنچتے۔ اسی اصول کی بنا پر فقہائے اہلِ سنت نے تصریح کی ہے کہ:
-
جو شخص ایسے مسائل کا انکار کرے، وہ اگرچہ خطاکار اور گناہگار ہو سکتا ہے۔ -
مگر اسے کافر یا خارج از اسلام قرار نہیں دیا جائے گا۔
-
اس کے انکار کو بد دینی یا الحاد نہیں کہا جائے گا۔ -
البتہ اسے خاطی (خطا کرنے والا) اور آثم (گناہگار) کہا جا سکتا ہے،۔ -
خصوصاً جب وہ تحقیق کے باوجود صحیح موقف قبول نہ کرے۔
-
اہلِ علم کے مابین آراء کا اختلاف پایا جا سکتا ہے۔ -
ایک رائے کو اختیار کرنا اور دوسری کو ترک کرنا علمی اجتہاد کے دائرے میں آتا ہے۔ -
ان مسائل میں تشدد یا تکفیر کی راہ اختیار نہیں کی جاتی۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!