جشنِ ولادت اور بزرگانِ دین

صدیوں سے ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی برکتیں پوری انسانیت کے لیے نور و ہدایت کا سبب ہیں۔ ربیعُ الاوّل کی برکتیں، امام زکریا قزوینی، ابن جبیر، امام قسطلانی اور شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہم کے مشاہدات اور روایات عاشقانِ رسول کے لیے رہنمائی ہیں۔ جائے ولادت، محافلِ میلاد، عبادت و نوافل، ذکر و اذکار، روحانی انوار اور دعائیہ اشعار ولادت کی عظمت، قبولیتِ دعا اور برکات کو واضح کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں تاریخی روایت اور عاشقانِ رسول کا جذبہ ولادت کی اہمیت کو صدیوں سے اجاگر کرتا ہے۔

March 14, 2026

ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صدیوں پہلے کائنات کی ویران فضاؤں میں ایک ایسا بے مثال پھول کھلا جس کی پاکیزہ خوشبو نے دنیا میں پھیلے کفر و شرک اور ظلم و زیادتی کی بدبو کو ایمان و اسلام اور امن و سلامتی کی مہک میں بدلنا شروع کر دیا۔ یہ وہ نور تھا جس نے تاریکیوں کو چیر کر انسانیت کو ہدایت کا راستہ دکھایا، دلوں کو سکون بخشا اور معاشرے کو عدل و رحم کا درس دیا۔

اس گلِ بے مثال کی خوشبو وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوئی بلکہ اور زیادہ تیز اور وسیع ہوتی چلی گئی، اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔ وہ عظیم الشان ہستی سیّدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے نورِ نظر، والدِ سیّدۂ بتول اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں۔ آپ کی ولادتِ باسعادت نے نہ صرف عرب بلکہ پوری انسانیت کی تقدیر بدل دی اور رہتی دنیا تک کے لیے رحمت، ہدایت اور فلاح کا دروازہ کھول دیا۔

ربیعُ الاوّل کی برکتیں اور زکریا بن محمد بن محمود قزوینی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان

یہی وجہ ہے کہ علما و صلحا، محدثین و مفسرین ہر دور میں حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کے وقت اور مہینے کی عظمت و رفعت کو مختلف انداز سے بیان کرتے آئے ہیں۔ ماہِ ربیعُ الاوّل محض ایک تاریخی مہینہ نہیں بلکہ رحمتوں، سعادتوں اور خیرات کا موسمِ بہار ہے جس میں کائنات کو اپنی سب سے بڑی نعمت نصیب ہوئی۔

تقریباً سات سو پچاس سال پہلے کے جلیل القدر عالم، حضرت علامہ زکریا بن محمد بن محمود قزوینی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 682ھ) اس مہینے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ھُوَ شَھْرٌ مُّبَارَکٌ فَتَحَ اللہُ فِیْہِ اَبْوَابَ الْخَیْرَاتِ وَاَبْوَابَ السَّعَادَاتِ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ بِوُجُوْدِ سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وَالثَّانِی عَشَرَ مِنْہُ مَوْ لِدُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم

یعنی، ربیعُ الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ پاک نے سیدالمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وجودِ مسعود کے صدقے تمام جہانوں پر بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھول دیے، اور اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت ہوئی۔(عجائب المخلوقات، ص 68)

یہ بیان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ربیعُ الاوّل کی برکتیں صرف ایک دن تک محدود نہیں بلکہ پورا مہینہ نور و سرور کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ محبت اس مہینے کو ذکرِ مصطفیٰ، درود و سلام اور اظہارِ مسرت کے ساتھ گزارتے ہیں اور اسے اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔

ولادت کی مبارک گھڑی اور قبولیتِ دعا

کتنی عظیم الشان اور با برکت ہے وہ گھڑی جس میں رسولِ خدا، بے سہاروں کے آسرا، رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ یہ محض ایک تاریخی لمحہ نہیں بلکہ رحمتوں کے نزول اور قبولیتِ دعا کی ایک دائمی ساعت ہے، جس کی برکتیں قیامت تک جاری رہیں گی۔

حضرت سیّدُنا شیخ عبدالعزیز دبّاغ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس مبارک گھڑی میں حضور سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا میں تشریف لائے، وہ دعا کی قبولیت کا خاص وقت ہے اور اس ساعت کی مقبولیت کا وصف قیامت تک باقی رہے گا۔ اس مبارک لمحے میں روئے زمین کے غوث و قطب اور دیگر اولیائے کرام غارِ حرا کے قریب جمع ہوتے ہیں۔ جس کی دعا اُن مقبول بندوں کی دعا کے موافق ہو جائے، اللہ پاک اُس کی حاجت پوری فرما دیتا ہے اور اس کی دعا قبول کر لیتا ہے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ شیخ عبدالعزیز دبّاغ رحمۃ اللہ علیہ اپنے مریدوں کو اس مبارک وقت میں قیام، ذکر و دعا اور خشوع و خضوع اختیار کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے، تاکہ وہ بھی اس ساعت کی خصوصی برکتوں سے فیض یاب ہو سکیں۔ (الابریز، ج1، ص311، ملخصاً)

یہی وجہ ہے کہ عاشقانِ رسول اس مبارک گھڑی کو غنیمت جانتے، عبادت و نوافل میں مشغول ہوتے اور حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کثرت سے درود و سلام پڑھ کر اپنی دعاؤں کی قبولیت کی امید رکھتے ہیں۔

جائے ولادت کی برکت اور ابوالحسین محمد بن احمد ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کی روایت

اسی لیے عاشقانِ رسول اس مبارک رات کو عبادات و نوافل، ذکر و اذکار اور درود و سلام میں گزارتے ہیں اور صبحِ صادق کے وقت دعا کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ وہ مقام جہاں حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا میں جلوہ گر ہوئے، یقیناً برکتوں کا خزینہ ہے۔ اسی نسبت سے علما و محدثین وہاں حاضری دیتے، ادب بجا لاتے اور روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے رہے ہیں۔

تقریباً آٹھ سو چھبیس سال پہلے کے بزرگ سیاح و عالم، حضرت علامہ ابوالحسین محمد بن احمد ابن جبیر اندلسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 614ھ) اس مکانِ اقدس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ مقدس جگہ جہاں ایک سعادت بھری بابرکت گھڑی میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت ہوئی۔ جنہیں اللہ کریم نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنایا اس مقام پر چاندی چڑھائی گئی تھی۔ وہ جگہ یوں معلوم ہوتی تھی جیسے پانی کا چھوٹا سا حوض ہو جس کی سطح چاندی سے مزین ہو۔

وہ فرماتے ہیں: اس مٹی کی کیا شان ہوگی جسے اللہ پاک نے سب سے پاکیزہ جسم والے خیرُ الانام صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جائے ولادت ہونے کا شرف عطا فرمایا۔ یہ مبارک مکان ربیعُ الاوّل میں پیر کے دن کھولا جاتا تھا، کیونکہ ربیعُ الاوّل ولادت کا مہینہ اور پیر ولادت کا دن ہے۔ لوگ وہاں داخل ہو کر برکتیں حاصل کرتے تھے۔ مکّۂ مکرّمہ میں یہ دن ہمیشہ سے “یومِ مشہود” یعنی اجتماع کا دن رہا ہے۔

ایک اور مقام پر ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ خاص وہ جگہ جہاں ولادتِ مبارک ہوئی، تقریباً تین بالشت کے چھوٹے حوض جیسا چبوترہ تھا، جس کے درمیان سبز رنگ کا سنگِ مرمر کا ایک ٹکڑا تھا جس پر چاندی چڑھی ہوئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں: ہم نے اس مقدس جگہ سے اپنے چہرے مس کیے، جو زمین پر پیدا ہونے والی سب سے افضل ذات کی ولادت گاہ بنی، اور ہم نے وہاں سے برکتیں لے کر نفع حاصل کیا۔(تذکرۃ بالاخبار عن اتفاقات الاسفار، ص 87، 127 ملتقطاً)

یہ روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ بزرگانِ دین کے نزدیک جائے ولادتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ادب، محبت اور برکت کا مرکز رہی ہے، جہاں حاضری کو سعادت اور فیض کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

مکانِ ولادت سے برکت حاصل کرنے والے اکابرین

اس مبارک مکان سے بے شمار اہلِ محبت نے برکتیں حاصل کیں۔ عاشقانِ رسول وہاں حاضر ہوتے، ادب و احترام بجا لاتے، ذکر و اذکار کرتے، محفلِ میلاد منعقد کرتے، نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل و کمالات بیان کرتے اور کثرت سے صلوٰۃ و سلام پڑھتے تھے۔ ان مبارک محافل میں اللہ کریم کی خاص رحمتوں اور انوار کا مشاہدہ بھی کیا جاتا تھا۔ اکابر علما و محدثین کی روایات اس حقیقت کی واضح گواہی دیتی ہیں۔

امام ابنِ ناصرالدین دمشقی رحمۃ اللہ علیہ کا مشاہدہ

چھ سو سال پہلے کے عظیم محدث، ابن ناصرالدین دمشقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 842ھ) فرماتے ہیں کہ جب میں نے 814ھ میں حج کیا تو اس مسجد میں حاضر ہوا اور جائے ولادت کی زیارت کی۔ پھر فرمایا:

زُرْتُ هٰذَا الْمَكَانَ الشَّـرِ يْفَ بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی وَالْمِنَّۃِ وَتَبَرَّكْتُ بِهٖ

یعنی ، الحمدللہ! میں نے اس مکانِ شریف کی زیارت کی اور اس سے برکت حاصل کی۔ (جامع الآثار،ج2،ص752)

امام عبدالرّحیم عراقی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت

شیخُ المحدثین عبدالرحیم بن حسین عراقی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 806ھ) نقل فرماتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید کی والدہ خَیزُران نے ولادتِ مصطفیٰ والے مکان کو خرید کر مسجد بنا دیا۔ اس سے پہلے جو لوگ اس گھر میں رہتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں:

’’اللہ کی قسم! اس گھر میں ہمیں نہ کوئی مصیبت پہنچی اور نہ کسی چیز کی تنگی ہوئی۔ جب ہم وہاں سے منتقل ہوئے تو ہم پر زمانہ تنگ ہو گیا۔‘‘ (المورد الہنی، ص248)

یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ اس مقدس مقام کی نسبت سے اہلِ خانہ بھی خاص برکت اور وسعت محسوس کرتے تھے۔ یوں بزرگانِ دین کے اقوال و مشاہدات اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ جائے ولادتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صدیوں سے اہلِ ایمان کے لیے مرکزِ عقیدت اور سرچشمۂ برکت رہی ہے۔

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ اور محفلِ میلاد کے فوائد

شارحِ صحیح بخاری، جلیل القدر عالم احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 923ھ) نے ولادتِ باسعادت کے ایام میں محفلِ میلاد کے انعقاد کے روحانی اور معاشرتی فوائد کو بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اہلِ محبت جب ماہِ ولادت میں ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محافل سجاتے ہیں تو اس کے نمایاں اور تجربہ شدہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اس سال امن و امان نصیب ہوتا ہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ دعا دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اللہ پاک اُس شخص پر رحمت نازل فرمائے جس نے ماہِ ولادت کی راتوں کو عید بنا لیا۔‘‘(مواہب اللدنیہ، ج1، ص78)

یہ کلمات اس بات کی دلیل ہیں کہ اکابر علما کے نزدیک محفلِ میلاد محض ایک رسم نہیں بلکہ خیر و برکت، امن و سلامتی اور نزولِ رحمت کا ذریعہ ہے۔ جب بندگانِ خدا حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ذکر کرتے، درود و سلام پڑھتے اور آپ کی سیرتِ طیبہ بیان کرتے ہیں تو اس کے اثرات فرد سے معاشرے تک پھیلتے ہیں، دلوں میں محبت بڑھتی ہے اور فضا میں روحانی سکون پیدا ہوتا ہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا روحانی مشاہدہ

برصغیر کے عظیم محدث اور مصلح، شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1176ھ) نے میلاد شریف کی ایک نورانی محفل میں اپنے روحانی مشاہدے کو بیان کرتے ہوئے ایک ایمان افروز واقعہ نقل فرمایا ہے۔

آپ فرماتے ہیں: میں مکۂ معظمہ میں میلاد شریف کے دن رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جائے ولادت پر حاضر تھا۔ لوگ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود و سلام پڑھ رہے تھے اور ولادتِ مبارکہ کے وقت ظاہر ہونے والے خلافِ عادت واقعات اور بعثت سے پہلے پیش آنے والے نشانات کا ذکرِ خیر کر رہے تھے۔

اسی دوران میں نے دیکھا کہ یکایک اس محفل میں انوار و تجلیات ظاہر ہوئیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ انوار میں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھے یا باطنی آنکھوں سے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن جب میں نے ان انوار پر غور کیا تو مجھ پر منکشف ہوا کہ یہ انوار ان فرشتوں کی جانب سے ہیں جو اس قسم کی نورانی اور بابرکت محافل میں شریک ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ میں نے دیکھا کہ ان فرشتوں کے انوار، اللہ پاک کی رحمت کے انوار سے مل رہے ہیں۔(فیوض الحرمین، ص 26)

یہ روحانی مشاہدہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ذکرِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محافل محض ظاہری اجتماع نہیں بلکہ ان میں آسمانی رحمتوں اور ملائکہ کی حاضری کا بھی فیضان شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ محبت ایسی محافل کو سعادت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں میلاد شریف کی تاریخی روایت

مکۂ مکرمہ میں میلاد شریف کے اہتمام کی روایت صدیوں پر محیط ہے۔ جلیل القدر مؤرخ محمد بن جار اللہ ابن ظہیر رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 986ھ) اپنی معروف کتاب الجامع اللطیف میں بیان کرتے ہیں کہ ہر سال بارہ (12) ربیعُ الاوّل کی رات اہلِ مکہ کا باقاعدہ معمول تھا کہ قاضیِ مکہ جو شافعی المذہب ہوتے مغرب کی نماز کے بعد ایک بڑے اجتماع کے ساتھ مولد شریف (جائے ولادت) کی زیارت کے لیے روانہ ہوتے۔

اس مبارک جلوس میں دیگر تینوں مذاہبِ فقہ کے قاضی صاحبان، کثیر تعداد میں فقہاء، فضلاء اور اہلِ شہر شریک ہوتے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں فانوس اور بڑی بڑی شمعیں ہوتیں، جس سے فضا نور اور عقیدت کے منظر میں ڈھل جاتی۔ یہ اجتماع محض ایک رسمی حاضری نہ تھا بلکہ محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عملی اظہار اور اجتماعی عقیدت کا مظہر تھا۔(الجامع اللطیف، ص285، ملخصاً)

یہ تاریخی روایت اس بات کی گواہ ہے کہ حرمِ مکہ میں بھی اہلِ علم اور عوام الناس صدیوں سے ولادتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یاد کو نہایت ادب، اہتمام اور روحانی جوش کے ساتھ مناتے اور جائے ولادت پر حاضری کو باعثِ سعادت سمجھتے رہے ہیں۔

عاشقانِ رسول کا جذبہ اور دعائیہ اشعار

مکہ مکرمہ میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جائے ولادت پر عاشقانِ رسول کا جذبہ بے حد جاذب نظر آتا ہے۔ یہاں حاضرین دل کی گہرائیوں سے صلوٰت و سلام پڑھتے، ذکر و اذکار کرتے اور روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ اسی جذبے اور دعائیہ کیفیت کی عکاسی شاعر نے یوں کی ہے:

مکے میں ان کی جائے ولادت پہ یاخدا

پھر چشمِ اشکبار جمانا نصیب ہو

یہ اشعار نہ صرف محبتِ رسول کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس مبارک مقام سے حاصل ہونے والے روحانی اثرات اور آنکھوں کے اشکِ شوق کو بھی بیان کرتے ہیں۔(وسائلِ بخشش (مُرمّم)، ص90)

یہ روایت اور اشعار عاشقانِ رسول کے لیے مشعل راہ ہیں کہ وہ ولادتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دن اور مقام کو عبادت، ذکر اور دعا کے لیے خاص طور پر منائیں۔

جشنِ ولادت اور بچوں میں محبتِ رسول کی تربیت

خوشی منانے کے طریقے ہر مذہب، قوم اور برادری میں مختلف ہوتے ہیں۔ ایّامِ خوشی کبھی دنیاوی رنگ میں ہوتے ہیں تو کبھی مذہبی رنگ میں۔ مسلمانوں کی زندگی میں خوشی کے دنوں میں سے ایک اہم دن 12 ربیعُ الاوّل یعنی عید میلادُ النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے۔ اس دن عاشقانِ رسول اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کا دن نہایت جوش و جذبے سے مناتے اور اپنے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

والدین کے لیے رہنمائی: بچوں میں جشنِ ولادت کی اہمیت پیدا کرنا

محترم والدین! آپ اپنے بچوں کے دلوں میں اس اسلامی تہوار کی محبت اور عظمت پیدا کرنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اپنا سکتے ہیں:

  • ب محفلِ نعت اور سیرت کے قصّے گھروں یا محلّوں میں بچوں کے لیے محفلِ نعت کا اہتمام کریں۔ مختلف کتب و رسائل (مثلاً سیرتِ مصطفٰی، صبحِ بہاراں، نُور والا چہرہ) سے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بچپن کے واقعات اور بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کے قصّے بیان کریں۔

  • جشنِ ولادت کی اہمیت بیان کریں بچوں کے سامنے عید میلادِ النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اہمیت اور اس کے روحانی اثرات بتائیں تاکہ انہیں جشن کا حقیقی مقصد سمجھ آئے۔

  • نعت خوانی اور مدنی مذاکرے بچوں کو نعتیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور ربیعُ الاوّل میں مدنی چینل کے مذاکروں میں شرکت کریں، ساتھ ہی بچوں اور گھر کے دیگر افراد بھی پابندی کے ساتھ اس میں شامل ہوں۔

  • چاند دیکھ کر خوشی کا اظہار ربیعُ الاوّل کا چاند نظر آنے پر خوشی منائیں اور اپنے عزیز و اقراب کو مبارک باد دیں۔ آپ کی دیکھنے کی عادت بچوں میں بھی شامل ہو جائے گی۔

  • محبت کے مظاہر جھنڈے، لائٹیں اور دیگر تزئینی اشیاء لگانا مسلمانوں کی محبت کا اظہار ہے، مگر چھوٹے بچوں کو یہ کام نہ سونپیں۔ بچوں کو نئے کپڑے پہنائیں اور نعلین پاک کے بیج (Badge) بَرکت کی نیت سے سینے کے مقام پر لگائیں۔

  • صدقہ و خیرات کثرت سے صدقہ و خیرات کریں اور اپنے بچوں کے ہاتھ سے بھی کروائیں تاکہ وہ بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے عادی بنیں۔

  • پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندیدہ غذائیں گھر میں نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندیدہ غذائیں تیار کر کے بچوں کو کھلائیں ۔

  • جلوسِ میلاد میں شرکت 12 ربیعُ الاوّل کے دن جلوسِ میلاد میں بچوں کے ساتھ شریک ہوں، انہیں اکیلا نہ بھیجیں۔

  • نقشِ نعلِ پاک اور گنبدِ خضرا کے مقابلے بچوں کے لیے ڈرائنگ (Drawing) مقابلے منعقد کریں اور اچھی کارکردگی پر انعامات دیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔

بزرگانِ دین کا حصہ اور رہنمائی

بزرگانِ دین نے ولادتِ مصطفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محافل اور جشنِ میلاد کے روحانی اثرات کو واضح کیا ہے:

  • امام زکریا قزوینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ربیعُ الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ پاک نے سیدالمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے تمام جہانوں پر بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھول دیے۔ (عجائب المخلوقات، ص 68) جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے جائے ولادت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مقام برکتوں کا خزینہ ہے اور اس سے چہرہ ملانے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔ (تذکرۃ بالاخبار، ص 87، 127)۔

  • امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محفلِ میلاد کے انعقاد سے سال بھر امن و امان نصیب ہوتا ہے۔ (مواہب اللدنیہ، ج1، ص78)۔

  • شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے میلاد شریف کی محفل میں ظہور پانے والے نورانی انوار اور فرشتوں کی موجودگی کا روحانی مشاہدہ بیان کیا۔ (فیوض الحرمین، ص 26)۔

  • محمد بن جار اللہ ابن ظہیر رحمۃ اللہ علیہ نے مکہ میں بارہ ربیعُ الاوّل کی رات کے اجتماع اور مولد شریف کی زیارت کی روایت بیان کی۔ (الجامع اللطیف، ص285)۔

یہ مشاہدات اور روایات بچوں کو جشنِ ولادت کے حقیقی مقصد، روحانی فضیلت اور محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اثرات سے روشناس کرانے میں مددگار ہیں۔

اگر صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے میلاد شریف کی محافل منعقد کر کے یومِ ولادت منانا ثابت نہیں تو کیا ایسا کرنا ناجائز ہوگا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جشنِ ولادت نہ تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منائی نہ ہی خلفائے راشدین میں کسی نے منائی لہٰذا یہ بدعت ہے اور حدیث میں ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے جس کا انجام جہنّم ہے۔ برائے کرم اس کا تسلّی بخش جواب عنایت فرمائیں ؟

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: کسی کام کے ناجائز ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ یہ کام حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یا صحابہ ٔکرام علیہم الرضواننے نہیں کیا بلکہ مدار اس بات پر ہے کہ اس کام سے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منع فرمایا ہے یا نہیں ؟ اگر منع فرمایا ہے تو وہ کام ناجائز ہے اور منع نہیں فرمایا تو جائز ہے۔ کیونکہ فقہ کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ ’’الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں۔ یعنی ہر چیز مباح اورحلال ہے ہاں اگر کسی چیز کو شریعت منع کردے تو وہ منع ہے، یعنی ممانعت سے حرمت ثابت ہوگی نہ کہ نئے ہونے سے۔ یہ قاعدہ قرآنِ پاک اور احادیثِ صحیحہ و اقوالِ فقہا سے ثابت ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ پاک فرماتا ہے: ( وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-)ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں توتمہیں بُری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھوگے کہ قرآن اُتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرماچکا ہے۔(پ7، المائدہ:101)

صدر الافاضل حضرت علّامہ مولانا سیّد محمد نعیمُ الدّین مُرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں: ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس اَمر کی شَرع میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح ہے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا حرام وہ ہے جس کو اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا وہ معاف ہے تو کلفت میں نہ پڑو۔‘‘ (خزائن العرفان،ص224)

حدیثِ پاک میں ہے: ’’الحلال ما احل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ و ما سکت عنہ فھو مما عفٰی عنہ‘‘ ترجمہ: حلال وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جس پر خاموشی فرمائی وہ معاف ہے۔ (ترمذی،ج3،ص280، حدیث:1732)

چونکہ محافلِ دینیہ منعقد کرکے عید میلاد منانے کی ممانعت قرآن و حدیث، اقوالِ فقہا نیز شریعت میں کہیں بھی وارد نہیں، لہٰذا جشنِ ولادت منانا بھی جائز ہے اور صدیوں سے علما نے اسے جائز اور مستحسن قرار دیا ہے۔

شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’ربیعُ الاوّل چونکہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کا مہینا ہے لہٰذا اس میں تمام اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچّھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔ خصوصاً ان محافل میں آپ کی میلاد کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ پاک کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفلِ میلاد کی یہ برکت مجرّب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ پاک اس آدمی پر اپنا فضل و احسان کرے جس نے آپ کے میلاد مبارَک کو عید بناکر ایسے شخص پر شدّت کی جس کے دل میں مرض ہے۔‘‘ (المواہب اللدنیہ،ج 1،ص27)

شیخ عبدالحق محدّث دِہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کے مہینے میں محفلِ میلاد کا انعقاد تمام عالَم ِاسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اس کی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہار اور اس موقع پر خُصوصاً آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت پر ظاہر ہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خُصوصی معمول ہے۔“ (ماثبت بالسنہ،ص102)

امام جمالُ الدّین الکتانی لکھتے ہیں:’’حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کا دن نہایت ہی معظّم، مقدّس اور محترم و مبارَک ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وجود پاک اتّباع کرنے والے کے لئے ذریعۂ نجات ہے جس نے بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنے آپ کو جہنّم سے محفوظ کرلیا۔ لہٰذا ایسے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور حسبِ توفیق خرچ کرنا نہایت مناسب ہے۔“(سبل الہدیٰ والرشاد،ج1،ص364)

اور یہ کہنا کہ ’’ہرنیا کام گمراہی ہے‘‘ دُرست نہیں کیونکہ بدعت کی ابتدائی طور پر دو قسمیں ہیں بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیّئہ۔ بدعتِ حسنہ وہ نیا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہ ہو جیسے مَوْلِد شریف کے موقع پر محافلِ میلاد، جلوس، سالانہ قراءَت کی محافل کے پروگرام، ختم بخاری کی محافل وغیرہ۔

بدعتِ سیّئہ وہ ہے جو کسی سنّت کے خلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہوجیسے غیرِ عربی میں خُطبۂ جُمعہ و عیدین۔

چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی حمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد نکلا اور ظاہر ہوا بدعت کہلاتا ہے پھر اس میں سے جو کچھ اصول کے موافق اور قواعد سنّت کے مطابق ہو اور کتاب و سنّت پر قیاس کیا گیا ہو بدعتِ حسنہ کہلاتا ہے اور جو ان اصول و قواعد کے خلاف ہو اسے بدعتِ ضلالت کہتے ہیں۔ اور کل بدعۃ ضلالۃ کا کلیہ اس دوسری قسم کے ساتھ خاص ہے۔‘‘ (اشعۃ اللمعات مترجم،ج1،ص422)

بلکہ حدیث پاک میں نئی اور اچّھی چیز ایجاد کرنے والے کو تو ثواب کی بشارت ہے۔ چنانچہ مسلم شریف میں ہے: ”مَنْ سَنَّ في الإسلامِ سنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أجْرُهَا، وَأجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيرِ أنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورهمْ شَيءٌ، وَمَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيهِ وِزْرُهَا، وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيرِ أنْ يَنْقُصَ مِنْ أوْزَارِهمْ شَيءٌ‘‘ ترجمہ: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے تمام کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا اور ا ن کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اور جو شخص اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے گناہ ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی گناہ ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔(مسلم، ص394، حدیث:1017)

جشنِ ولادت منانا بھی ایک اچّھا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہیں بلکہ عین قرآن و سنّت کے ضابطوں کے مطابِق ہے۔ رب تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا حکم خود قرآنِ پاک نے دیا ہے۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:( قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-) ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔(پ11، یونس :58)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:( وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱)) (پ30، والضحٰی:11) ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

خود حضورِ اکر م صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا یومِ میلا د روزہ رکھ کر مناتے چنانچہ آپ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا:’’اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“ (مسلم،ص455، حدیث:2750)

خلاصۂِ کلام یہ کہ شریعت کے دائرہ میں رہ کر خوشی منانا ، مختلف جائز طریقوں سے اِظہارِ مَسرّت کرنا اور محافلِ میلاد کا انعقاد کر کے ذکرِ مصطفےٰ کرتے ہوئے ان پر مسرت و مبارک لمحات کو یاد کرنا جو سرکارِ دو عالَمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت ہے بہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے۔مزید تفصیل کے لئے علمائے اہلِ سنّت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کیا فتاویٰ رضویہ میں تاریخ ِولادت 8 ربیع الاول لکھی ہے؟

سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کچھ لوگوں نے اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا حوالہ دےکر ایک اسٹیکر شائع کیا ہے جس میں درج ہے کہ آپ نے اپنے رسالے”نطق الہلال“ فتاویٰ رضویہ، جلد26 میں لکھا ہے کہ ولادتِ (پیدائش) نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 8ربیعُ الاوّل ہے اور وفاتِ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 12ربیعُ الاوّل ہے۔کیا واقعی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا یہی موقف ہے کہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت آٹھ ربیعُ الاوّل کو ہوئی؟

بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِِ ا لرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مجدد دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی تحقیق یہی ہے کہ جشن ولادت بارہ ربیع الاوّل کو منایا جائے۔

فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 411 پر ہے۔”اس(ولادت کی تاریخ کے بارے) میں اقوال بہت مختلف ہیں، دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس، سات (7) قول ہیں مگر اشہر و اکثر و مأخوذ و معتبر بارہویں ہے۔ مکۂ معظّمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولِد اقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب والمدارج (جیسا کہ مواھب لدنیہ اورمدارج نبوۃ میں ہے) اورخاص اس مکانِ جنّت نِشان میں اسی تاریخ میں مجلسِ میلادِ مقدّس ہوتی ہے۔“

فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 427 پر ہے:’’شَرْعِ مُطہّر میں مشہور بینَ الجمہور ہونے کے لئے وقعتِ عظیم ہے (یعنی جوموقف اکثر علما کا ہووہ خود ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے)اور مشہور عندَ الجمہور 12ربیعُ الاوّل ہے‘‘ اور علِم ھَیْئَت و زیجات کے حساب سے روز ولادت شریف 8ربیعُ الاوّل ہے۔

مزید فرماتے ہیں ’’ تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصر وشام بلاد اسلام و ھندوستان میں بارہ ہی پر ہے اس پر عمل کیا جائے۔الخ“

جب کوئی محققِ وقت کسی مسئلہ پر قلم اٹھاتا ہے تو وہ اس مسئلہ سے متعلّق مختلف لوگوں کی آراء اور اقوال بھی نقل کرتا ہے اس مقام پر امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے اسی طرح کا طرزِعمل اختِیار کرتے ہوئے مختلف لوگوں کے موقف کوبھی بیان فرمایا اور علم زیج والوں کا قول بھی نقل کیا کہ وہ تمام کے تمام آٹھ ربیعُ الاوّل کو یوم ولادت قرار دیتے ہیں۔

محض آدھی بات کو لےکر پروپیگنڈا کرنا اور اس بات کو چھوڑ دینا کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کا موقف کس تاریخ کو قرار دیا ہے اور کس تاریخ کو جشنِ ولادت منانے کی تاکید کی ہے انصاف کے خلاف اور غلط روش ہے۔ خود امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اشعارمیں بارہویں تاریخ ہی کو لے کر لمحات مسرّت ہونا بیان کیا اور برادرِ اعلیٰ حضرت نے تو ایک پورا کلام ہی ”بارہویں تاریخ“ کا قافیہ لے کر کہا ہےاور ان کا وصال امامِ اہلِ سنّت کی زندگی ہی میں ہوا اور امامِ اہلِ سنّت ان کے کلام کے پڑھنے کی تاکید کرتے رہے۔ پھر یہ کہنا اور ثاثّر دینا کہ12 تاریخ کو جشنِ ولادت منانا امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کی مَنْشا کے خلاف ہے بہت بڑی زیادتی ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

دعائیہ کلمات

اللہ کریم ہمیں اور ہمارے بچوں کو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سچی محبت عطا فرمائے اور جشنِ میلاد کے موقع پر ان کے ذکر اور درود و سلام کے ذریعے روحانی فیض حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین بجاہ النبی الأمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!