والد مصطفیٰ ﷺ کی شان و عظمت کیا ہے؟
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما، نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدمحترم ہیں۔ آپ کا نام مبارک ’’عبد اللہ‘‘ تھا جبکہ آپ کی کنیتیں ابو محمد، ابو احمد اور ابو قثم ہیں، جس کے معنی ہیں: خیر و برکت سمیٹنے والے۔ ( شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ، 1/135) والدۂ محترمہ کا تعارف کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدۂ محترمہ کا نام مبارک حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا ہے، جو نہایت پاکیزہ، باوقار اور اعلیٰ نسب والی خاتون تھیں۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی محبوبیت حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے تمام بیٹوں میں سب سے زیادہ لاڈلے اور محبوب تھے۔ آپ کے حسن و جمال، اخلاق اور پاکیزگی کی وجہ سے پورے قریش میں آپ کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ شادی کے لیے قریش کی خواتین کی رغبت قبیلۂ قریش کی بہت سی حسین اور معزز خواتین نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، کیونکہ آپ حسن و جمال اور شرافت میں نمایاں تھے۔ حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتخاب حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کے لیے ایسی زوجہ کی تلاش میں تھے جو صرف حسین ہی نہ ہو بلکہ-
اعلیٰ حسب و نسب رکھتی ہو۔ -
نہایت پاکدامن ہو۔ -
اور اخلاق و کردار میں ممتاز ہو۔
حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت آمِنہ خاتون رضی اللہ عنہا کا ایمان قرآنِ کریم کی واضح آیات سے ثابت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی: (وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ)( پ1،البقرة:128) ( ترجمۂ کنزالایمان: اور ہماری اَولاد میں سے ایک اُمَّت تیری فرمان بردار۔) پھر بارگاہِ خُداوندی میں عرض کی: (رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ) (پ1،البقرة:129) ( ترجمۂ کنزالایمان: اے رَبّ ہمارے اور بھیج ان میں ایک رَسُول انہیں میں سے۔) یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ میری اولاد میں ہمیشہ ایک مؤمن جماعت قائم رہے اور اسی مؤمن جماعت میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بھیجا جائے۔ یہ دعا یقینی طور پر قبول ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تمام آباء و اجداد (باپ، دادا، پردادا وغیرہ) سب اہلِ ایمان و مومن تھے۔( مراٰۃ المناجیح،2/524) جنَّتی مچھلی حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر روح البیان میں نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت سیّدُنا یونس علیہ السلام تین دن، سات دن یا چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اسی وجہ سے وہ مچھلی، جس نے نبی علیہ السلام کو اپنے پیٹ میں رکھا، جنت میں جائے گی۔ (تفسیر روح البیان، پ15، الکھف، تحت الآیہ:18، 5/226؛ پ17، الانبیاء، تحت الآیہ:88، 5/518) والدینِ کریمین جنتی ہیں اے عاشقانِ رسول! ذرا غور فرمائیے: جس مچھلی کے پیٹ میں اللہ پاک کے نبی حضرت سیّدُنا یونس علیہ النبی و علیہ الصّلاة و السلام چند دن رہے، اسی لیے وہ مچھلی جنت میں جائے گی۔ اب سوچیں کہ جس مبارک پیٹ میں حضرت سیّدُنا یونس علیہ النبی و علیہ الصّلاة و السلام کے آقا، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کئی ماہ تک تشریف فرما رہے، کیا یہ ممکن ہے کہ بی بی آمِنہ رضی اللہ عنہا کُفر پر دنیا سے جائیں اور عذابِ قبر میں مبتلا رہیں؟ یقیناً ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدین، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بی بی آمِنہ رضی اللہ عنہا، کی مبارک زندگی کا ہر لمحہ توحید اور ایمان کی حالت میں گزرا اور وہ جنتی ہیں۔ بلکہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تمام آبا و اجداد، یعنی باپ، دادا اور پردادا، سب اہلِ حق تھے، جیسا کہ محترم نبی مکّی و مدنی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں ہمیشہ پاک مردوں کی پیٹھوں سے پاک بیبیوں کے پیٹوں میں منتقل ہوتا رہا۔‘‘ (دلائل النبوة، لابی نعیم، الفصل الثانی، ذکر فضیلته…الخ، ص 28، حدیث:15) عُلَمائے کِرام کے اِرشادات
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ رضویہ (جلد 30، صفحہ 299) میں مذکور کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ: کثیر اکابر علماء کا یہی مذہب ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدینِ کریمین مسلمان ہیں اور آخرت میں ان کی نجات کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح عظیم محدث امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے والدینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ایمان کے اثبات پر سات مستقل رسائل تحریر فرمائے اور دلائل کے ساتھ ان کے ایمان کو ثابت کیا۔
مزید برآں، مشہور فقیہ قاضی ابو بکر ابن العربی مالکی رحمۃ اللہ علیہ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے آباء و اجداد (معاذ اللہ) جہنم میں ہیں، تو آپ نے فرمایا: ایسا کہنے والا شخص ملعون ہے۔ (تفسیر روح البیان، پ1، البقرہ، تحت الآیۃ:119، 1/218) 14سو سال کے بعد بھی بَدن سَلامت! 21 جنوری 1978ء کے اخبار نوائے وقت کے مطابق، مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں مسجدِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کی توسیع کے سلسلے میں کھدائی کے دوران ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔ اس دوران سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدِ ماجد، حضرت سیّدُنا عبد اللہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کا جسمِ مبارک، جسے دفن ہوئے تقریباً 14 سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا، قبرِ شریف سے بالکل ترو تازہ حالت میں ظاہر ہوا۔ یہ واقعہ اللہ پاک کے خاص بندوں اور مقربین کی شان اور ان کے اجسام کے محفوظ رہنے کی روشن دلیل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!