والدینِ مصطفٰی کی شان و عظمت

یہ مضمون والدین مصطفیٰ ﷺ یعنی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منہ رضی اللہ عنہا کی شان، ایمان اور عظمت کو مستند دلائل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس میں قرآن و حدیث، اقوال اکابر علماء، اور ایمان افروز واقعات شامل ہیں، جیسے والدین کا ایمان، ان کی پاکیزہ زندگی، حضور ﷺ کی دعا سے زندہ ہونا، اور ان کے فضائل و کمالات۔ یہ تحریر نہ صرف عقیدے کی مضبوطی کا ذریعہ ہے بلکہ عاشقان رسول کے دلوں میں محبت اہل بیت اور والدین مصطفی ﷺ کو مزید بڑھاتی ہے۔

April 25, 2026

والد مصطفیٰ ﷺ کی شان و عظمت کیا ہے؟

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما، نور والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدمحترم ہیں۔ آپ کا نام مبارک ’’عبد اللہ‘‘ تھا جبکہ آپ کی کنیتیں ابو محمد، ابو احمد اور ابو قثم ہیں، جس کے معنی ہیں: خیر و برکت سمیٹنے والے۔ ( شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ، 1/135)

والدۂ محترمہ کا تعارف کیا ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدۂ محترمہ کا نام مبارک حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا ہے، جو نہایت پاکیزہ، باوقار اور اعلیٰ نسب والی خاتون تھیں۔

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی محبوبیت

حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے تمام بیٹوں میں سب سے زیادہ لاڈلے اور محبوب تھے۔ آپ کے حسن و جمال، اخلاق اور پاکیزگی کی وجہ سے پورے قریش میں آپ کی بڑی قدر و منزلت تھی۔

شادی کے لیے قریش کی خواتین کی رغبت

قبیلۂ قریش کی بہت سی حسین اور معزز خواتین نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، کیونکہ آپ حسن و جمال اور شرافت میں نمایاں تھے۔

حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتخاب

حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کے لیے ایسی زوجہ کی تلاش میں تھے جو صرف حسین ہی نہ ہو بلکہ

  • اعلیٰ حسب و نسب رکھتی ہو۔

  • نہایت پاکدامن ہو۔

  • اور اخلاق و کردار میں ممتاز ہو۔

چنانچہ اللہ پاک نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے لیے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا جیسی عظیم الشان زوجہ مقدر فرمائی۔

غیبی سواروں نے جان بچائی(حکایت)

ایک دن حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جنگل کی طرف تشریف لے گئے۔ اس زمانے میں ملک شام کے بعض یہودیوں نے مخصوص علامات کے ذریعے پہچان لیا کہ یہی وہ بزرگ ہستی ہیں جو اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد محترم ہیں۔

چنانچہ انہوں نے بارہا حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہر بار آپ کی حفاظت فرمائی۔

اسی دوران اچانک عالم غیب سے چند ایسے سوار ظاہر ہوئے جو عام انسانوں کی طرح نہ تھے۔ انہوں نے آکر دشمنوں کو مار بھگایا اور حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہایت حفاظت کے ساتھ ان کے گھر تک پہنچا دیا۔

یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد محترم کی بھی خصوصی حفاظت فرماتا رہا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا تعلق ایک عظیم الٰہی منصوبے سے تھا۔

نِکاح ہو گیا

حضرت وہب بن مناف رضی اللہ عنہ (جو حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے والدِ محترم تھے) بھی اُس دن جنگل میں موجود تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ سارا واقعہ دیکھا۔ اس واقعے کے بعد اُن کے دل میں حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی بے پناہ محبت اور عقیدت پیدا ہو گئی۔

گھر واپس آ کر انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اپنی لختِ جگر حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہی کریں گے۔ چنانچہ اپنی اس دلی خواہش کو اپنے چند معتمد دوستوں کے ذریعے حضرت سیدنا عبد المطلب رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا۔

قدرت الٰہی دیکھیے کہ حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے لیے جس قسم کی پاکیزہ، شریف اور اعلیٰ نسب والی دلہن کی تلاش میں تھے، وہ تمام اوصاف حضرت بی بی آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔

چنانچہ جب حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک 24 سال ہوئی تو آپ کا نکاح حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا سے ہو گیا۔ اسی مبارک نکاح کے نتیجے میں نورمحمدی، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے منتقل ہو کر حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں جلوہ گر ہوا۔

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا واقعہ کیا ہے؟

جب حمل مبارک کو تقریباً دو ماہ گزر گئے تو حضرت سیدنا عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو کھجوریں لانے کے لیے مدینۂ منورہ روانہ فرمایا یا تجارت کے سلسلے میں ملک شام بھیجا۔

واپسی پر حضرت سیدنا عبدُ اللہ رضی اللہ عنہ مدینۂ منورہ میں اپنے ننھیال، یعنی قبیلہ بنو عدی بن نجار کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔ وہاں آپ تقریباً ایک ماہ تک بیمار رہے۔

بالآخر 25 سال کی عمر مبارک میں آپ نے اسی مقام پر وصال فرمایا اور وہیں دارِ نابغہ میں آپ کی تدفین ہوئی، جہاں آپ کا مزارِ مبارک ہے۔ (مدارج النبوت، قسم دوم، باب اول، ص 12-14، ملتقطاً)

بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کی وفات کب اور کیسے ہوئی؟

اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب عمرِ مبارک تقریباً 5 یا 6 برس ہوئی تو آپ کی امّی جان حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا آپ کو ساتھ لے کر مدینۂ منورہ تشریف لے گئیں، جہاں آپ کے دادا جان حضرت سیدنا عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ننھیال، یعنی قبیلہ بنو عدی بن نجار سے ملاقات مقصود تھی۔ اس سفر میں حضرت امِّ ایمن رضی اللہ عنہا بھی بطور خادمہ آپ کے ساتھ تھیں۔

جب واپسی کا سفر شروع ہوا تو راستے میں مقامِ ابوَاء پر حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔

وفات کے وقت بی بی آمِنہ نے اَشعار پڑھے

بوقت انتقال، حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پیارے بیٹے، دو جہاں کے سردار، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھا اور چند عربی اشعار پڑھے، جن کا مفہوم کچھ یوں ہے:

’’اے ستھرے لڑکے! اللہ تجھ میں برکت رکھے۔ اے میرے بیٹے! جنہوں نے بڑے انعام والے بادشاہ، اللہ پاک، کی مدد سے موت کے گھیرے سے نجات پائی۔ اے میرے پیارے بیٹے! جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا ہے اگر وہ درست ہو تو تو عزت و جلال والے رب کی طرف سے مخلوق کی طرف پیغمبر بنایا جائے گا۔ تو حرم و غیرِ حرم ہر علاقے کی طرف اسلام کے لیے بھیجا جائے گا۔ جو تیرے نیکوکار والد، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے، تو میں اللہ پاک کی قسم دے کر تجھے بتوں سے منع کرتی ہوں کہ قوموں کے ساتھ ان کی دوستی نہ کرنا۔‘‘ (المواھب اللدنیۃ، المقصد الاول، ذکر رضاعہ، 1/88-89)

دنیا مرے گی مگر میں کبھی نہیں مروں گی!

حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کے دوران، حضرت رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم آپ کا سر مبارک دباتے اور روتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے آنسو جب ان کے چہرے پر گرے تو بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دوپٹّے سے حضور کے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا: ’’دنیا مرے گی مگر میں کبھی نہیں مروں گی، کیونکہ میں تم جیسا بیٹا چھوڑ رہی ہوں، جس کے سبب مشرق و مغرب میں میرا چرچا رہے گا۔‘‘

حضرت مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قول اُس وقت کی حالت اور حقانیت کی صراحت کے لیے نہایت درست اور معنی خیز تھا۔ (مراٰۃُ المناجیح، 2/523)

فوت شدہ والدین زندہ ہو گئے!

اے عاشقانِ رسول! ہر ایک کو اپنے ماں باپ پیارے ہوتے ہیں، تو پھر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدین کیوں نہ پیارے ہوں! اللہ پاک نے اپنے حبیب کی دعا کے ذریعے ایک عظیم الشان معجزہ ظاہر فرمایا۔

امام ابو القاسم عبدالرحمن سہیلی نے اپنی کتاب الروض الانف میں نقل کیا ہے کہ حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’یا اللہ! میرے ماں باپ کو زندہ کر دے۔‘‘

اللہ پاک نے اپنی بارگاہ میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دعا قبول فرمائی اور والدین کو زندہ کر دیا۔ دونوں نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لایا اور پھر اپنے اپنے مزارات مبارکہ میں تشریف لے گئے۔(الروض الانف، وفاة آمنۃ وحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم، 1/299)

والدینِ کریمین نے کبھی بُت پَرستی نہیں کی

خبردار! اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ والد کریم حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور والدۂ کریمہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا حالت کفر میں فوت ہوئے تھے یا عذابِ قبر میں مبتلا تھے۔

بلکہ نور والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں دوبارہ زندہ کر کے کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا تاکہ قیامت میں عذاب سے نجات پائیں۔ ہرگز ایسا نہیں تھا کہ وہ کفر میں مبتلا تھے، کیونکہ وہ دونوں ہمیشہ توحید پر قائم تھے یعنی اللہ پاک کو ایک ماننے والے تھے اور کبھی بھی بُت پرستی نہیں کی۔

یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رحمت اور اپنی اُمت میں والدین کو شامل کرنے کی حکمت کے تحت ہوا۔

آقا کے تمام باپ دادا اہلِ ایمان تھے

حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت آمِنہ خاتون رضی اللہ عنہا کا ایمان قرآنِ کریم کی واضح آیات سے ثابت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:

(وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ)( پ1،البقرة:128)

( ترجمۂ کنزالایمان: اور ہماری اَولاد میں سے ایک اُمَّت تیری فرمان بردار۔)

پھر بارگاہِ خُداوندی میں عرض کی:

(رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ) (پ1،البقرة:129)

( ترجمۂ کنزالایمان: اے رَبّ ہمارے اور بھیج ان میں ایک رَسُول انہیں میں سے۔)

یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ میری اولاد میں ہمیشہ ایک مؤمن جماعت قائم رہے اور اسی مؤمن جماعت میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بھیجا جائے۔ یہ دعا یقینی طور پر قبول ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تمام آباء و اجداد (باپ، دادا، پردادا وغیرہ) سب اہلِ ایمان و مومن تھے۔( مراٰۃ المناجیح،2/524‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬)

جنَّتی مچھلی

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر روح البیان میں نقل فرماتے ہیں کہ: حضرت سیّدُنا یونس علیہ السلام تین دن، سات دن یا چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اسی وجہ سے وہ مچھلی، جس نے نبی علیہ السلام کو اپنے پیٹ میں رکھا، جنت میں جائے گی۔ (تفسیر روح البیان، پ15، الکھف، تحت الآیہ:18، 5/226؛ پ17، الانبیاء، تحت الآیہ:88، 5/518)

والدینِ کریمین جنتی ہیں

اے عاشقانِ رسول! ذرا غور فرمائیے:

جس مچھلی کے پیٹ میں اللہ پاک کے نبی حضرت سیّدُنا یونس علیہ النبی و علیہ الصّلاة و السلام چند دن رہے، اسی لیے وہ مچھلی جنت میں جائے گی۔ اب سوچیں کہ جس مبارک پیٹ میں حضرت سیّدُنا یونس علیہ النبی و علیہ الصّلاة و السلام کے آقا، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کئی ماہ تک تشریف فرما رہے، کیا یہ ممکن ہے کہ بی بی آمِنہ رضی اللہ عنہا کُفر پر دنیا سے جائیں اور عذابِ قبر میں مبتلا رہیں؟ یقیناً ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔

اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدین، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بی بی آمِنہ رضی اللہ عنہا، کی مبارک زندگی کا ہر لمحہ توحید اور ایمان کی حالت میں گزرا اور وہ جنتی ہیں۔

بلکہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تمام آبا و اجداد، یعنی باپ، دادا اور پردادا، سب اہلِ حق تھے، جیسا کہ محترم نبی مکّی و مدنی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں ہمیشہ پاک مردوں کی پیٹھوں سے پاک بیبیوں کے پیٹوں میں منتقل ہوتا رہا۔‘‘ (دلائل النبوة، لابی نعیم، الفصل الثانی، ذکر فضیلته…الخ، ص 28، حدیث:15)

عُلَمائے کِرام کے اِرشادات

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ رضویہ (جلد 30، صفحہ 299) میں مذکور کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ: کثیر اکابر علماء کا یہی مذہب ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدینِ کریمین مسلمان ہیں اور آخرت میں ان کی نجات کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

اسی طرح عظیم محدث امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے والدینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ایمان کے اثبات پر سات مستقل رسائل تحریر فرمائے اور دلائل کے ساتھ ان کے ایمان کو ثابت کیا۔

مزید برآں، مشہور فقیہ قاضی ابو بکر ابن العربی مالکی رحمۃ اللہ علیہ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے آباء و اجداد (معاذ اللہ) جہنم میں ہیں، تو آپ نے فرمایا: ایسا کہنے والا شخص ملعون ہے۔ (تفسیر روح البیان، پ1، البقرہ، تحت الآیۃ:119، 1/218)

14سو سال کے بعد بھی بَدن سَلامت!

21 جنوری 1978ء کے اخبار نوائے وقت کے مطابق، مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں مسجدِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کی توسیع کے سلسلے میں کھدائی کے دوران ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔

اس دوران سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے والدِ ماجد، حضرت سیّدُنا عبد اللہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کا جسمِ مبارک، جسے دفن ہوئے تقریباً 14 سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا، قبرِ شریف سے بالکل ترو تازہ حالت میں ظاہر ہوا۔

یہ واقعہ اللہ پاک کے خاص بندوں اور مقربین کی شان اور ان کے اجسام کے محفوظ رہنے کی روشن دلیل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!