سورۂ کوثر کا اجمالی تعارف
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
(
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲) اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ)(پ،30الکوثر:1تا3)ترجمہ: اے محبوب!بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔
یہ سورت قرآنِ مجید کی سب سے مختصر مگر معنی کے اعتبار سے نہایت جامع سورت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو “کوثر” یعنی خیرِ کثیر عطا فرمانے کا اعلان کیا، عبادت و شکر کا حکم دیا اور دشمنانِ رسول کی محرومی کو واضح کر دیا۔
سورۂ کوثر دراصل شانِ رسالت، رفعتِ ذکر اور الٰہی تائید کی روشن دلیل ہے۔ اس کے مختصر الفاظ میں عظمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، عبادت کی تعلیم اور باطل کے انجام کا جامع پیغام موجود ہے۔ کفار کا طعنہ اور ربِّ کریم کا جواب
اس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی شہزادے کے انتقال پر ابولہب، عقبہ بن معیط، عاص بن وائل وغیرہ کفار دل آزار جملے کہنے لگے۔ کسی نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جڑ کٹ گئی۔ کسی نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہ کرو، وہ ایسا آدمی ہے جس کی نرینہ اولاد نہیں، جب فوت ہوگا تو اس کا نام مٹ جائے گا۔
ان کفار کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی کے لیے یہ سورت نازل فرمائی کہ اے حبیب! ان کی باتوں پر رنجیدہ نہ ہوں، بلکہ ہمارے فضل وکرم پر نظر رکھیں کہ ہم نے تمہیں بے شمار خوبیوں اور نعمتوں سے نوازا ہے لہٰذا تم اُن کے شکرانے میں نماز پڑھو اورقربانی کرو اور جہاں تک تمہارے دشمنوں کا تعلق ہے تو ان ہی کی جڑ کٹی ہوئی ہے اور یہی ہر خیر سے محروم ہیں ۔ شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الٰہی حفاظت
یہ سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ خداوندی میں عظمت و وجاہت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی روشن دلیل ہے۔ جب کفار نے مذاق اڑایا تو ربِّ کریم نے خود جواب دیا کہ تمہارا دشمن ہی ابتر (خیر سے محروم) ہے۔ اور یہ محبت کی روشن علامت ہوتی ہے کہ جب کسی محبوب پر اعتراض کیا جائے تو محب خود اس کا دفاع کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں یہ انداز کئی مقامات پر نمایاں ہے۔
مثلاً جب ولید بن مغیرہ نے نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیوانہ اور مجنون کہا تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ القلم میں اس کی مذمت فرمائی، اس کی متعدد برائیاں بیان کیں اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کے فضل سے ہرگز دیوانے نہیں ہیں۔(پ29، القلم:2)
اسی طرح جب ابولہب نے گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت میں مکمل سورۂ لہب نازل فرما دی اور اعلان کر دیا کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو گیا۔ (پ30، اللھب:1)
یہ سب واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بے حد عزیز ہے، اور جو زبان درازی کرے وہ خود خسارے میں رہتا ہے۔ لفظِ کوثر کا مفہوم اور وسعت
آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوثر عطا فرمایا، یعنی بے شمار خوبیاں اور خیرِ کثیر۔ لفظ کوثر، کثرت سے نکلا ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مفہوم ہے: بہت زیادہ، بے انتہا کثرت، ایسی فراوانی جس کا اندازہ نہ لگایا جا سکے۔خواہ وہ تعداد میں ہو، مقدار میں ہو، مرتبہ و مقام میں ہو یا کسی اور اعتبار سے۔
گویا دشمن یہ گمان کر رہے تھے کہ نعوذ باللہ آپ کے پاس کچھ باقی نہیں، حتیٰ کہ نرینہ اولاد بھی نہ رہی؛ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ربِّ کریم اعلان فرما رہا ہے کہ ہم نے آپ کو اتنا عطا کیا ہے جس کا کوئی شمار اور اندازہ ممکن نہیں۔
یہ اعلان دراصل شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت، دشمنوں کے باطل خیال کی تردید اور خیرِ کثیر کی بشارت ہے، جو قیامت تک جاری و ساری رہے گی۔ کوثر سے مراد نہرِ جنت
لفظ کوثر اپنے اندر بے شمار معانی کو سموئے ہوئے ہے۔ ایک قوی اور مشہور قول یہ ہے کہ کوثر سے مراد جنت کی ایک عظیم نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمائی۔
چنانچہ سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ لگ گئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ’’مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔” پھر آپ نے سورۂ کوثر آخر تک تلاوت فرمائی اور ارشاد کیا: “کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟‘‘
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ جنت میں ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘(ابو داؤد،ج 4،ص313، حدیث:4747 ملتقطاً)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کوثر صرف ایک لفظی بشارت نہیں بلکہ جنت کی ایک حقیقی اور عظیم نعمت بھی ہے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص فضائل میں سے ہے۔
ایک قوی قول کے مطابق کوثر جنت کی ایک نہر ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس کی صراحت موجود ہے کہ یہ نہر جنت میں ہے، اس کے کنارے موتیوں کے قبے ہیں اور اس کی مٹی کستوری کی طرح خوشبودار ہے۔
ایک حدیث میں نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں چلا جا رہا تھا تو اچانک ایک نہر آ گئی جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے قبے تھے۔ میں نے کہا : اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ پھر دیکھا تو اس کی خوشبو یا مٹی مہکنے والی کستوری کی طرح تھی۔(بخاری،ج 4،ص268، حدیث:6581)
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نہرِ کوثر جنت کی نہایت حسین، پاکیزہ اور خوشبودار نعمت ہے، جو خاص طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی گئی۔ اس کے کنارے موتیوں کے قبّے اور کستوری جیسی مہک اس کی شان و عظمت کو ظاہر کرتے ہیں، جو دراصل خیرِ کثیر کی ایک روشن جھلک ہے۔ کوثر سے مراد حوضِ کوثر
کوثر کے متعلق دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد حوضِ کوثر ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ کو اونگھ آ گئی پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اقدس بلند کیا اور فرمایا: ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے پھر آپ نے سورۂ کوثر تلاوت کی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا: یہ وہ نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اس میں خیرِ کثیر ہے اور یہ وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پینے کےلئے آئے گی۔(مسلم، ص169، حدیث:894)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوثر کا اطلاق نہ صرف جنت کی نہر پر ہوتا ہے بلکہ اس حوض پر بھی ہوتا ہے جو میدانِ قیامت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیا جائے گا، جہاں آپ کی امت آپ کے دستِ مبارک سے سیراب ہوگی۔ یہی حوضِ کوثر دراصل امتِ محمدیہ کے لیے عظیم بشارت اور شفاعتِ نبوی کا مظہر ہے۔
نہرِ کوثر جنت میں واقع ہے اور حوضِ کوثر محشر کے میدان میں ہوگا، جس میں جنت کے دو پرنالوں سے پانی گر رہا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حوض کی اصل بھی جنت والی نہرِ کوثر سے ماخوذ ہے۔(فتح الباری، ج 12، ص398)
حوضِ کوثر کی شان میں مسلم شریف کی حدیث کے مطابق اس کے برتن تاریک رات میں صاف روشن آسمان پر چمکنے والے ستاروں سے بھی زیادہ روشن ہیں۔ جو شخص اس سے آبِ کوثر پیے گا، وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ حوض کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، یعنی جتنا عمان سے ایلہ تک فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔(مسلم، ص969، حدیث:5989)
یہ حدیث حوضِ کوثر کی عظمت اور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اللہ کی خصوصی نعمتوں کو واضح کرتی ہے، جو امت کے لیے شفاعت اور رحمت کا وسیلہ ہے۔ خیرِ کثیر: جامع تفسیر
نہرِ کوثر اور حوضِ کوثر بظاہر دو مختلف قول معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ دونوں ایک ہی حقائق کے مختلف پہلو ہیں اور اس کا خلاصہ ’’خیرِ کثیر‘‘ میں ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوثر سے مراد وہ تمام خیر ہے جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمائی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اس خیر میں شامل ہے جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمائی۔(بخاری، ج 3، ص390، حدیث:4966)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ’’کوثر‘‘ ایک وسیع اور جامع نعمت ہے، جس میں جنت کی نہر، حوضِ کوثر، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی تمام عظیم نعمتیں قرآنِ مجید، نبوت، رسالت، حکمت، جوامع الکلم، شفاعت، مقامِ محمود، جنت، امت کی کثرت، دین کا غلبہ اور رفعتِ ذکر سب شامل ہیں۔
مجموعی طور پر ’’کوثر‘‘ کی تفسیر میں تقریباً 30 اقوال موجود ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بےانتہا خیر عطا کی گئی، جس میں ہر قسم کی نعمت شامل ہے۔ مثال کے طور پر، ’’خیرِ کثیر‘‘ میں قرآن مجید بھی شامل ہے، کیونکہ اس سے بڑی اور کونسی خیر ہو سکتی ہے؟ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اعلیٰ درجے کی حکمت، حکمتوں کے خزانے، اور جوامع الکلم یعنی چند لفظوں میں بہت معانی کو سمو لینے کی صلاحیت بھی عطا ہوئی، اور قرآن نے خود حکمت کو ’’خیرِ کثیر‘‘ قرار دیا ہے (پ3، البقرہ:269)۔
الغرض فرمایا گیا کہ اے حبیب! بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں، تمہیں قرآن،نبوت، رسالت، اسلام، آسان شرعی احکام، حکمت، علم، معرفت اورنورِ قلب سے مشرف کیا۔ تمہارے پاکیزہ کردار کو عبادت وریاضت اور اخلاقِ حسنہ، خصائلِ حمیدہ، شمائلِ جمیلہ سے آراستہ کیا۔ تمہیں کثیر معجزات، شفاعت، مقامِ محمود، حوضِ کوثر، نہرِ جنت اور ساری جنت عطا کی۔تمہیں صحابۂ کرام کی پاکیزہ جماعت، امت کی کثرت،دین کا غلبہ، دشمنوں پر رعب اور فتوحات سے نوازا۔ تمہارا نسب عالی کیا اور تمہیں حسنِ ظاہر وباطن میں کامل بنایا۔ شرق وغرب، زمین و آسمان، دنیا وآخرت ہر جگہ ذکرِ حسن، تعریف و تحسین اورثناءِ جمیل کی صورت میں تمہیں رفعتِ ذکر عطا کی۔ شکرِ نعمت: نماز اور قربانی کا حکم
ان تمام نعمتوں کے شکرانے میں تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ جو تمہیں اَبْتَر کہنے والا ہے، وہی ہر خیر سے محروم ہے، جبکہ تم بےانتہا خیر اور نعمتوں سے مالا مال ہو۔ دشمنِ رسول ہی ابتر ہے
دشمنِ رسول ہی ابتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ جو شخص تمہیں ابتر کہنے کی جرأت کرے، وہ درحقیقت ہر خیر سے محروم ہے۔ رہتی دنیا تک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا اسی وعید کے دائرے میں شامل ہے۔ شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بے مثال بیان
سبحان اللہ! کس حسین انداز میں ربُّ العالمین نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بیان فرمائی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا:
اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں ہے مدّاحِ حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللہ کی
اللہ تعالیٰ ہمیں سورۂ کوثر کی روشنی میں شانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سمجھنے اور دل کی گہرائیوں سے محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اضافہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!