اطاعت رسول ﷺ کا قطعی حکم کیا ہے؟
اے عاشقان رسول! نور والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا خدا پارہ 22 سورۃ الاحزاب آیت نمبر 36 میں ارشاد فرماتاہے: وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی بہکا۔ کیا شرعی احکام میں حضور ﷺ کو اختیار حاصل ہے؟ تفسیر صراط الجنان جلد 8میں ہے: اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ پاک کی عطا سے شرعی احکام میں خود مختار ہیں۔ آپ جسے جو چاہے حکم دے سکتے ہیں،جس کے لئے جو چیز چاہے جائز یا ناجائز کر سکتے ہیں اور جسے جس حکم سے چاہے الگ فرما سکتے ہیں۔( تفسیر صراط الجنان، پ22، الاحزاب، تحت الآیۃ:36، 8/35) زبور شریف میں شانِ مصطفیٰ حضرت سیدنا داود علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلامپر اتاری جانے والی مقدس کتاب’’زبور شریف‘‘میں ہے: احمد(صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) مالک ہوا ساری زمین اور تمام امتوں کی گردنوں کا۔( فتاویٰ رضویہ،30/445)کائنات کی ملکیت اور اختیاراتِ مصطفیٰ
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو انھیں(یعنی سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو) اپنا مالک نہ جانے حلاوت سنت(یعنی سنت کی مٹھاس)سے محروم رہے، تمام زمین ان(یعنی مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم)کی ملک ہے،تمام جنت ان کی جاگیر ہے، مَلَكُوْتُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ(یعنی آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہی)حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زیرفرمان(یعنی حکم ماننے والے ہیں)، جنت و نار کی چابیاں دست اقدس (یعنی ہاتھ مبارک)میں دیدی گئیں، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا و آخرت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی عطا کا ایک حصہ ہے۔( بہارِ شریعت، 1/81-83،حصہ:1) حضور معطی جنت ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے رب کی عطا سے مالک جنت ہیں، معطی جنت (یعنی جنت عطا فرمانے والے) ہیں،جسے چاہیں عطافرمائیں۔( فتاویٰ رضویہ ،14/ 667) حدیث قاسم و معطی کی حقیقت کیا ہے؟ فرمان مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہے: اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي یعنی میں ہی تقسیم کرنے والا ہوں اوراللہ ہی عطا فرماتا ہے۔(بخاری،ج1،ص42،حدیث:71) ہر نعمت کی تقسیم حضور کے ذریعے اس حدیث مبارکہ میں اس بات کی صراحت نہیں کہ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کیا عطا فرمانے والے ہیں، اس صورت میں اصول کے مطابق معنیٰ یہ ہوگا کہ ہر نعمت کو تقسیم کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے واسطے کے بغیر کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔ ائمہ و محدثین کی تشریحات فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مخلوق میں کسی کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بلا واسطہ کچھ نہیں مل سکتا ۔ بخاری وغیرہ میں صحیح حدیث ہے کہ فرمایا : اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي۔ قاسم اور يعطي دونوں کا متعلق محذوف ہے جو عموم کا افادہ کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک مخلوقات میں جس کو جو کچھ بھی دیتا ہے خواہ وہ نعمت جسمانی ہو یا روحانی ، ظاہری ہو یا باطنی سب حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ہاتھ سے دلاتا ہے۔اس لئے علامہ احمد خطیب قسطلانی شارح بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے المواھب اللدنیہ میں فرمایا، جسے علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے باقی رکھا: ھُوَصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خِزَانَۃُ السِّرِّ وَمَوْضِعُ نُفُوْذِالْاَمْرِ فَلَا یَنْقُلُ خَیْرٌاِلَّا عَنْہُ وَلَا یَنْفُذُ اَمْرٌ اِلَّا مِنْہُ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم۔ یعنی حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خزانۃ السر (یعنی پوشیدہ راز) ہیں اور اللہ تعالٰی کے حکم کے نافذ ہونے کا مرکز ، اس لئے ہر چیز حضور ہی سے منتقل ہوتی ہے اور ہر حکم حضور ہی سے نافذ ہوتا ہے۔(فتاویٰ شارح بخاری،ج1،ص351) دین و دنیا کی نعمتوں کی تقسیم حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ دین ودنیا کی ساری نعمتیں علم، ایمان، مال، اولاد وغیرہ دیتا اللہ ہے بانٹتے حضور ہیں جسے جو مِلا حضور کے ہاتھوں مِلا کیونکہ یہاں نہاللہکی دَین(یعنی دینے) میں کوئی قید ہے نہ حضور کی تقسیم میں، لہٰذا یہ خیال غلط ہے کہ آپ صرف علم بانٹتے ہیں ورنہ پھر لازم آئے گا کہ خدا بھی صرف علم ہی دیتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج1،ص177) تقسیم صرف علم تک محدود نہیں بعض علما نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے تقسیم میں فقط عِلم کا ذکر کیا ہے لیکن یہ تقسیم صرف عِلم کے ساتھ خاص نہیں،کثیر ائمہ نے اس تقسیم کو عام رکھا ہے کہ علم ہو یا مال ہر نعمت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہی تقسیم فرماتے ہیں ۔ شرح ابن بطال کے مطابق حکمت تقسیم پانچویں صدی ہجری کے بزرگ،شارحِ بخاری امام ابن بطّال مالکیرحمۃ اللہ علیہفرماتےہیں:حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ فرمان ”اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام اپنے پاس کوئی مال نہیں رکھتے تھے بلکہ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان میں تقسیم فرما دیتےاورآپ علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ فرمان لوگوں کی دل جوئی کے لئے تھا کہ کسی کو کم زیادہ مل رہا ہے تو یہ اللہ تعالٰی کی عطا ہے جس کو میں زیادہ دے رہا ہوں تو وہ بھی اللہ تعالٰی کے مقرر کرنے کی وجہ سے اور کسی کو اس کے مقابلے میں کم دے رہا ہوں تو یہ بھی اللہ تعالٰی کے مقرر کرنے کی وجہ سے۔(شرح ابن بطال علی صحیح البخاری، ج1، ص141ملخصاً) حضور خلیفۂ اعظم ہیں دسویں صدی ہجری میں وصال فرمانے والے عظیم محدث، حافظ ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضوراقدس صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ تعالٰی کے خلیفۂ اعظم ہیں،اللہ تعالٰی نے اپنے کرم کے خزانے اور نعمتوں کے دسترخوان حضورصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ہاتھوں میں دے دیئے ہیں حضور جسے جو چاہیں عطا فرمادیں۔(الجوهر المنظم، ص 80) کائنات کی اطاعت مصطفی بعطائے پَروردگار مالک و مختار نبی،اللہ کے کَرم سے غیبوں پر خبردار نبی(یعنی غیب کو جاننے والے )صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نےآفتاب(یعنی سورج) کو حکم دیا کہ کچھ دیر رُک جائے،وہ فوراً ٹھہر گیا۔(معجم اوسط، باب العین، من اسمه علی، 3/116، حدیث:403) اعلی حضرت کا عقیدۂ خلافت کبریٰ عاشقوں کے امام،اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِ سنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فرمانِ عالی شان کا خُلاصہ ہے:یہ حدیث اُس حدیث کے علاوہ ہے جس میں مولیٰ علیرضی اللہ عنہ کیلئے سورج کو رُکنے کا حکم اِرشاد فرمایا تھا۔ الحمد للہ! اسے خلافت رب العزت کہتے ہیں،تمام مخلوق الہی کواِن کے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے۔ وہ خدا کے ہیں اورجو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے، وہ سب سے بڑے محبوب(یعنی پیارے) ہیں، جب دودھ پیتے تھےجھولے میں چاند ان کی غلامی کرتا تھا (یعنی بات مانتا تھا)، جِدھر اِشارہ فرماتے اُسی طرف جُھک جاتا،جب دودھ پیتوں کی یہ زبردست حکومت ہے تو اَب(اِعلانِ نبوت کے بعد) کہ خِلافۃ الکبریٰ کا ظہور عین شباب پر (جوبنوں پر )ہے آفتاب(یعنی سورج) کی کیا مجال کہ اُن کے حکم سے پِھرے(یعنی فرمانبرداری نہ کرے )۔( فتاویٰ رضویہ، 30/485-488 ملخصاً) دنیا و آخرت کی زمینوں کی ملکیتعلامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک نے دنیا و آخرت کی تمام زمینوں کا حضور پرنور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو مالک کر دیاہے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کا کیا ذکر! (شرح زرقانی علی المواھب اللدنیة،الفصل السادس فی امرائه و رسله...الخ،5/49) مالکُ الاحکام ہونے کے متعلق دو رِوایات رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اختیارات کے متعلق دو حدیثیں عرض کرتا ہوں: (1)صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے:اللہ پاک کے پیارےنبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور فرمایا:اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا لہٰذا حج کرو۔ ایک شخص نے عرض کی: کیا ہر سال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم؟حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خاموش رہے،انھوں نے تین بار یہ پوچھا۔ ارشاد فرمایا:اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر واجب ہو جاتا اور تم سے نہ ہو سکتا۔( یعنی میں ہاں کہہ دیتا تم پر ہر سال حج فرض ہو جاتا اور تم یہ کر نہ پاتے)( مسلم،کتاب الحج، باب فرض الحج مرة فی العمر،ص 536، حدیث:3257) (2)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر گِراں (یعنی بوجھ) نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے ساتھ یا ہر نماز کے وقت مسواک کاحکم دیتا ۔( ترمذی،ابواب الطھارة،باب ما جاء فی السواک،1/100، حدیث:23) آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم شَفاعت کا دَروازہ کھولیں گے ایک حدیث پاک میں ”توریت شریف“سے مالک و مختار نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکے یہ اوصاف(یعنی خوبیاں)منقول ہیں:میرے بندے احمد مختار، ان کی جائے ولادت (یعنی پیدائش کی جگہ)مکۂ مکرمہ اور جائے ہجرت مدینۂ طیبہ ہے،ان کی امت ہر حال میں اللہ پاک کی کثیر حمد(یعنی بہت تعریف ) کرنے والی ہے۔( تاریخ ابن عساکر، باب ما جاء من ان الشام یکون ملک اھل الاسلام، 1/186-187) شفاعت کبریٰ اور مقام محمود کیا ہیں؟ قیامت کے دن مرتبۂ شفاعت کبریٰ سرور کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم شفاعت کا دروازہ نہ کھولیں گے کسی کو مجال شفاعت نہ ہو گی، بلکہ حقیقۃ جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دربار میں شَفاعت لائیں گے،شفاعت کبریٰ مومن، کافر، فرمانبردار،گنہگار سب کے لیے ہےکہ وہ قیامت کا حساب شروع ہونے کا انتظار جو سخت جان لیوا ہو گا اس کے لیے لوگ تمنّائیں کریں گے کہ کاش! جہنم میں پھینک دئیے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے،اس مصیبت سے چھٹکارا کفار کو بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صدقے سے ملے گا، جس پر اولین و آخرین(یعنی پہلے اور بعد میں آنے والے)موافقین و مخالفین، مؤمنین و کافرین سب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حمد (یعنی تعریف) کریں گے، اسی کا نام ’’مقام محمود‘‘ہے۔( بہارِ شریعت،1/70، حصہ:1 بتغیر قلیل) مزید تفصیل کے لئے امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت کی تصنیف” اَلامن والعلٰی(فتاویٰ رضویہ،ج30،ص359)“ اور ”تجلی الیَقِین (فتاویٰ رضویہ،ج 30،ص129)“ کا مطالعہ انتہائی مفید ہے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!