امتی پر حقوق مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم

امت پر حقوق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں ایمان، نصرت و حمایت، تعظیم و توقیر، اتباع، اطاعت اور سچی محبت شامل ہیں۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے احکام اور سنت پر عمل کرے، آپ کی عزت و ناموس کی حفاظت کرے، ہر حال میں آپ کی نصرت کرے اور اپنی زبان، اعمال اور دل سے آپ کی محبت ظاہر کرے۔ ذکر و نعت، سیرت و سنت کی پیروی، نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعلیمات کی ترویج اور فضائل کے بیان سے امت کو رہنمائی، ایمان کی مضبوطی اور محبت رسول کا عملی اظہار ملتا ہے، جو روح و جان کی مکمل روشنی فراہم کرتا ہے۔

April 25, 2026

امتی پر حقوق مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے امتی ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حقوق کو پہچانیں اور انہیں ادا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ حقوق دراصل ایمان کی تکمیل اور محبت رسول کا عملی اظہار ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

(اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا)

ترجمہ: بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا تاکہ(اے لوگو!)تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔(پ26،الفتح :8،9)

یہ آیت مبارکہ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظمت و شان،مقام و منصب ،امت پر لازم حقوق اور اللہ تعالٰی کی تسبیح و عبادت کے بیان پر مشتمل ہے،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے نبی!ہم نے تمہیں امت کے اعمال پر گواہ ،اہل ایمان و اطاعت کو خوشخبری دینے اور کافر و نافرمان کو اللہ تعالٰی کی گرفت اور عذاب کا ڈر سنانے والابنا کر بھیجا ہےتاکہ اے لوگو!تم اللہ تعالٰی اور ا س کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی نصرت و حمایت اور تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرو۔(خازن ج4،ص103)

امت پر نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے حقوق کے پہلو سے اس آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تین بنیادی حقوق واضح طور پر بیان فرمائے ہیں: ایمان، نصرت و حمایت اور تعظیم و توقیر۔

یعنی، امت پر لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر سچا اور کامل ایمان لائے، پھر ہر حال میں آپ کی نصرت و حمایت کرے اور دل و جان سے آپ کی تعظیم و توقیر بجا لائے۔ یہ تینوں حقوق دراصل ایمان کی بنیاد اور محبت رسول کا تقاضا ہیں۔

اب ہم ان تینوں حقوق کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے اور ساتھ ہی مزید چند اہم حقوق کا تذکرہ بھی کریں گے، تاکہ علم میں اضافہ ہو اور عمل کی توفیق نصیب ہو۔

(1) ایمان:

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھنا ہر انسان پر فرض ہے۔ اسی طرح ہر اس چیز کو ماننا بھی لازم و ضروری ہے جو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں، خواہ وہ احکام ہوں، عقائد ہوں یا خبریں۔

یہ حق صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پوری انسانیت کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی رحمت تمام جہانوں کے لیے عام ہے۔ آپ کے احسانات نہ صرف انسانوں بلکہ تمام مخلوقات پر ہیں۔

لہٰذا جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں کہلا سکتا، اگرچہ وہ دیگر تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر ایمان رکھتا ہو۔

(2)رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی نصرت و حمایت:

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نصرت و حمایت امت پر ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روز میثاق تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مدد و نصرت کا عہد لیا، اور اب امت محمدیہ کو بھی اس عظیم فریضے کا حکم دیا گیا ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حق کو ادا کرنے میں ایسی بے مثال قربانیاں پیش کیں کہ اپنی جان، مال، وطن اور رشتہ دار سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر قربان کر دیا۔ میدان جنگ میں وہ ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے اور پروانوں کی طرح آپ پر نثار ہوتے رہے۔

آج کے دور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نصرت و حمایت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان آپ کی عزت و ناموس کا تحفظ کریں، آپ کی تعلیمات کو عام کریں، دین اسلام کی بقا و ترویج کے لیے کوشش کریں اور ہر اس عمل سے بچیں جو آپ کی شان کے خلاف ہو۔ یہی طرز عمل دراصل حقیقی نصرت رسول ہے اور ہر مسلمان پر لازم ہے۔

(3)رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیر :

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیر امت پر ایک نہایت اہم اور بنیادی حق ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دل و جان، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اعلیٰ درجے کی تعظیم بجا لائے۔

یہ تعظیم صرف ذات اقدس تک محدود نہیں بلکہ آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کے ادب و احترام کو بھی شامل ہے؛ جیسے آپ کے ملبوسات، نعلین مبارک، مدینہ طیبہ، مسجد نبوی، گنبد خضریٰ، اہل بیت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، نیز ہر وہ مقام جہاں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدم مبارک پہنچے ہوں ان سب کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے۔

ادب و تعظیم کا یہ بھی تقاضا ہے کہ انسان اپنی زبان، اپنے اعمال اور اپنے ظاہر و باطن میں ادب کو ملحوظ رکھے؛ مثلا جب نام مبارک سنے تو فورا درود پاک پڑھے، بارگاہ نبوی میں حاضر ہو تو نگاہیں جھکائے، دل کو غیر کے خیالات سے پاک رکھے، اور جب گنبد خضریٰ کی طرف نظر اٹھے تو ادب سے ہاتھ باندھ کر درود و سلام پیش کرے۔

اسی ادب کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے گستاخوں اور بے ادبوں سے سخت نفرت رکھی جائے، ان کی صحبت سے اجتناب کیا جائے، ان کی باتوں اور تحریروں سے دور رہا جائے۔ اگر کوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی قریبی یا بااثر کیوں نہ ہوبارگاہ رسالت میں ادنیٰ سی بھی گستاخی کا مرتکب ہو تو دل میں اس سے بیزاری اختیار کی جائے اور اسے اپنے اعتقادی دائرے سے خارج سمجھا جائے۔

مذکورہ بالا حقوق کے علاوہ بھی علماء و محدثین نے اپنی کتب میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بے شمار حقوق نہایت تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔ چونکہ ان سب کا احاطہ یہاں ممکن نہیں، اس لیے اختصار کے پیش نظر مزید چار اہم حقوق ملاحظہ ہوں:

(1)رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی اتباع:

رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیرت مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا بنیادی تقاضا اور حکم خداوندی ہے۔

آسمان ہدایت کے روشن ستارے، یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین اپنی زندگی کے ہر قدم پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے طریقے کو مقدم رکھتے اور اتباع نبوی سے ذرہ برابر بھی انحراف نہ کرتے تھے۔

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اتباع نبوی صرف فرض و واجب امور تک محدود نہیں بلکہ اس میں مؤکد اور مستحب اعمال بھی شامل ہیں۔ بزرگان دین ان تمام پہلوؤں میں کامل اتباع اختیار کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کتب احادیث و سیرت میں نہ صرف فرائض و واجبات بلکہ سنن، مستحبات، آداب، معاملات اور معاشرت کے تمام پہلوؤں کی مکمل رہنمائی موجود ہے۔

(2)رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ حق ہے کہ ہم آپ کے ہر حکم کی پابندی کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ یعنی جو بات آپ نے حکم کے طور پر بتائی ہو، اسے پورا کریں؛ جو فیصلہ آپ نے دیا ہو، اسے قبول کریں؛ اور جو چیز آپ نے منع فرمائی ہو، اس سے دور رہیں۔

(3)رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم سے سچی محبت:

ہمارا حق ہے کہ ہم دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولیٰ، سید المرسلین، رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت ہماری روح میں ایمان کی جان اور ایمان کی اصل ہے۔ یعنی ایمان کا حقیقی مزہ اور مقصد آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت میں چھپا ہے۔

(4)رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکر مبارک و نعت:

ہم پر یہ حق بھی ہے کہ ہم سرور کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعریف، نعت، فضائل، سیرت و سنت اور شان مصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دل و جان سے پسند کریں۔ ان ذکر و منقبت کے الفاظ کو اپنی محافل میں شامل کریں اور زندگی کا معمول بنائیں۔

قرآن پاک میں بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فضائل و محاسن بیان ہوئے ہیں، اور تمام انبیاء علیہم السلام نے ان کی عظمت کی گواہی دی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے نعت و ذکر، زندگی کا اہم حصہ اور جان کی حفاظت کا ذریعہ تھا۔

آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور مداحوں نے اتنی نعتیں لکھی ہیں کہ اگر جمع کی جائیں تو ہزاروں جلدوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی کتاب بن جائے گی۔

اے اللہ! ہمیں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تمام حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ان کی محبت و اتباع میں ثابت قدم رکھ۔ آمین۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!