علمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطائے الٰہی کا عظیم مظہر
اللہ تعالی کی عطاء سے حضور علیہ السلام وہ سب کچھ جانتے ہیں جو آپ نہیں جانتے تھے ۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ پاک کا ارشاد موجود ہے : ﴿وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا﴾ ( پارہ 5 سورۃ النساء آیت 113) ترجمہ : کنز العرفان: ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے‘‘۔ مذکورہ آیت کے تحت تفاسیر میں موجود ہے کہ آپ علیہ السلام کو وہ سب کچھ سکھا دیا گیا جو آپ نہ جانتے تھے۔اس آیت کے معنی تفسیر خازن میں یوں مرقوم ہیں: اور اللہ نے آپ کو وہ سب کچھ سکھلا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے یعنی احکام شرع اور امور دین بعض نے کہا علمک سے مراد علوم غیب ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں جانتے تھے بعض نے کہا تمام خفیہ و مخفی باتیں سکھا دیں اور تمام لوگوں کے دلوں کے رازوں پر مطلع فرمایا اور اور تمام منافقین کے احوال پر مطلع فرمایا اور ان کے فریب سے آگاہ کیا یا جو آپ نہیں جانتے تھے۔ یہ اللہ کا فضل عظیم ہے یعنی یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر یہ اللہ کا فضل اعظم ہمیشہ رہے گا کبھی زائل نہیں ہوگا۔(تفسیر خازن سورۃ النساء تحت الایۃ113) تفسیر جلالین میں اس آیت کے تحت یوں مذکور ہے: اے محمد( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)ہم نے آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نھیں جانتے تھے یعنی اس سے احکام شرع اور علم غیب مراد ہے۔ (تفسیر جلالین سورۃ النساء تحت الایۃ113) تفسیر مدارک میں مذکورہ آیت کے تحت یوں موجود ہے: اور آپ کو سکھا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے یعنی جمیع احکام دین اور شریعت کے مسائل اور تمام لوگوں کے دلوں کے راز ۔ (تفسیر مدارک سورۃ النساء تحت الایۃ113) تفسیر حسینی میں اس آیت کے معنی یوں مرقوم ہے : میں عرش کے نیچے تھا ایک قطرہ عرفان و محبت میرے حلق میں گرایا گیا پس اس کی وجہ سے میں نے جان لیا "ما کان و مایکون کا علم" یعنی اس شئ کا علم جو ہو چکی ہے جو ہوگی جو موجود ہے“۔ (تفسیر حسینی سورۃ النساء تحت الایۃ113) ما لم تکن تعلم کی وسعت علم: آیت کے اس حصہ میں غور فکر کیا جائے محبوب علیہ السلام کے علم مبارک کی وسعتوں کا پتا چلے گا آئیے چند تفاسیر میں اس کی وسعتوں پر غور کرتے ہیں۔ آیت کے اس حصہ میں وہ سب کچھ شامل ہے جو آپ علیہ السلام نہیں جانتے تھے تفاسیر ملاحظہ ہو ۔ حضور علیہ السلام ہر موجود شئ کو جانتے ہیں جیسا کہ نظائر موجود ہیں : اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے ۔ ﴿ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ﴾ ترجمہ : اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کیلئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے ۔ (سورۃ النحل آیت نمبر 89) تفسیر اتقان میں مذکورہ آیت کے تحت یوں مرقوم ہے : امام مجاہد نے فرمایا عالم میں کوئی شئ ایسی نہیں جو قرآن میں نہ ہو۔ (تفسیر اتقان سورۃ النحل تحت الآیۃ 89) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس آیت اور اسکی تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر ادنیٰ و اعلی چیز کا بیان ہے اور قرآن پاک کو اللہ پاک نے محبوب علیہ السلام کو سکھا دیا ہے۔ (جاء الحق صفحہ 52) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ آیت کے تحت فرماتے ہیں قرآن پاک گواہ ہے اور اسکی گواہی کس قدر اعظم ہے کہ وہ ہر چیز کا تبیان ہے اور تبیان اس روشن بیان کو کہتے ہیں جو اصلا پوشیدگی نہ رکھے مزید فرماتے ہیں اہل سنت کے نزدیک شیء ہر موجود کو کہتے ہیں تو اس آیت کے اس حصہ میں جملہ موجودات داخل ہونگے۔ مثلا فرش سے عرش تک مشرق سے مغرب تک ذاتیں اور حالتیں حرکات اور اور سکنات پلک کی جنبش اور نگاہیں ۔ دلوں کے خطرے اور انھیں موجودات میں سے لوح محفوظ کی تحریر بھی ہے اور لوح محفوظ میں کیا لکھا ہوا ہے اس کا جواب قرآن سے کچھ اس طرح ملتا ہے ۔ ﴿ وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ﴾ ترجمہ: ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے ۔(القمر: 53) ﴿ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ﴾ ترجمہ: ہم نے اس میں ہر چیز شمار کر رکھی ہے ۔ (یٰس: 12) یعنی، لوح محفوظ میں اب اس سے ثابت ہوا حضور علیہ السلام ہر چیز کو جانتے ہیں ۔ (بحوالہ ادولۃ المکیہ صفحہ 75) ماحصل کلام: جب ہر چیز کا بیان لوح محفوظ میں ہے اور لوح محفوظ کا بیان قرآن میں ہے اور جمیع قرآن کا علم حضور علیہ السلام جانتے ہیں تو ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام ان جمیع چیزوں کو جانتے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام ما کان وما یکون کا علم جانتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید اور اسکی تفاسیر سے اس بات پر شہادتیں موجود ہے ۔ ﴿ اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴) ﴾ ترجمہ: رحمان نے قرآن سکھایا انسان کو پیدا کیا اسے بیان سکھایا ۔ مذکورہ آیت میں انسان اور بیان سے کیا مراد ہے ؟ تفاسیر کی روشنی میں مذکورہ آیت میں انسان اور بیان کے مصداق کے بارے میں مفسرین کی مختلف آراء آئی ہے ۔ انسان سے مراد بعض نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیا ہے ۔ جیسا کہ تفسیر معالم التنزیل میں مذکورہ آیت کے تحت یوں مرقوم ہے : ﴿ خَلَقَ الْاِنْسَانَ﴾ يَعْنِي: مُحَمَّدًا ﷺ تفسیر خازن میں مذکورہ آیت کے تحت یوں مرقوم ہیں ﴿ خَلَقَ الْاِنْسَانَ﴾ ، قیل اراد بالانسان محمد ﷺ تفسیر مدارک میں مذکورہ آیت کے تحت یوں مرقوم ہے : ﴿ خَلَقَ الْاِنْسَانَ﴾ أيْ: اَلْجِنْسَ، أوْ آدَمَ، أوْ مُحَمَّدًا - عَلَيْهِما الصَلاةُ والسَلامُ بیان سے مراد جو تفاسیر کی گئی ہے ملاحظہ ہو ۔ تفسیر روح البیان میں مذکورہ آیت کے تحت کچھ یوں مزین ہے : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالی نے قرآن اور ربوبیت کے اسرار سکھا دیے جیسا کہ اللہ کا فرمان و علمک ما لم تکن تعلم ہے۔ ما کان و ما یکون کا علم قرآن کی روشنی میں تفسیر معالم التنزیل میں بیان سے مراد ما کان و ما یکون کا علم مراد ہے ۔ علمہ البیان : یعنی بیان ما کان و ما یکون تفسیر خازن میں بھی مذکورہ آیت کے تحت بیان سے مراد ما کان و ما یکون مراد لی ہے ۔ علَّمه البيان يعني بيان ما يكون وما كان لأنه صلى الله عليه وسلم ينبئ عن خبر الأولين والآخرين وعن يوم الدين ترجمہ: حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو ماکان اور مایکون کا علم سکھا دیا گیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اولین و آخرین اور قیامت کے دن کی خبریں دی گئی ہے ۔ مذکورہ آیت سے اور اس کی تفاسیر سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ماکان اور مایکون کا علم سکھا دیا گیا ہے۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام تقدیر کو جانتے ہیں اور تقدیر میں ہر شے کا علم موجود ہے لہذا ثابت ہوا حضور اور ہر شے کو جانتے ہیں ،سب سے پہلے ہر شئ تقدیر میں ہے اس کو ثابت کریں گے بعد میں تقدیر کا علم قرآن میں ہے اس کو ثابت کریں گے اس کے بعد یہ ثابت کریں کہ تمام قرآن حضور علیہ الصلاۃ والسلام جانتے ہیں۔ حضور علیہ السلام قرآن مجید کو مکمل جانتے ہیں،یعنی قرآن مجید میں جتنے علوم موجود ہیں وہ حضور علیہ السلام جانتے ہیں۔ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ﴾ ترجمہ : رحمٰن نے اپنے محبوب کو سکھایا ۔ حضور علیہ السلام علوم خمسہ جانتے ہیں: حضور علیہ السلام کے علم کی وسعتوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام علوم خمسہ جانتے ہیں۔ علومِ خمسہ اور علمِ مصطفیٰ ﷺ علوم خمسہ سے کیا مراد ہے ؟ علوم خمسہ سے درج ذیل پانچ علوم مراد ہیں۔ (1) قیامت کب قائم ہوگی، (2)بارش کب ہوگی اس کا علم، (3) اس کا علم کہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی، (4)اسکا علم کہ کل کیا ہوگا، (5) اس کا علم کہ کون کہاں مرے گا ۔ (جاء الحق صفحہ 97) علوم خمسہ حضور علیہ السلام جانتے ہیں اس عقیدے پر دلائل بے شمار قرآن و احادیث سے علماء کرام نے دیے ہیں، فقیر اسکو تفصیل سے انفرادی طور پر بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بارش کے علم پر قرآنی و حدیثی دلائل علوم خمسہ میں سے یہ بھی ہے کہ بارش کب ہوگی یعنی کسی کو علم ہے یا نہیں کہ بارش کب ہوگی لیکن اللہ تعالی حضور علیہ السلام کے واسطے سے اپنے محبوب بندوں کو اس کا علم عطاء فرماتا جس پر دلیل قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ ہے، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :﴿ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ﴾ ترجمہ : فرشتوں کو بھی بارش کے نزول کا علم ہے جس پر قرآن کی نظائر شاہد ہیں۔ (سورہ یوسف آیت 49) ﴿وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ(۱) فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا﴾ ترجمہ : ”ان کی قسم کہ جو باقاعدہ صفیں باندھے ہوئے ہیں ، پھر ان کی قسم جو جھڑک کر چلانے والے ہیں“۔ (سورہ الصفت آیت 1،2) مذکورہ آیت کے تحت تفسیر خازن میں یوں مذکور ہے : ’’ آیت سے مراد فرشتے بادلوں کو چلاتےہیں‘‘ یعنی بارش برسانے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ بادلوں کو لے جاتے ہیں۔ (تفسیر خازن جلد 4 ) تفسیر میں روح المعانی میں مذکورہ آیت کے تحت کچھ یوں مرقوم ہے: امام قسطلانی علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ جب اللہ تعالی بارش کا حکم ارشاد فرماتا ہے جس جگہ چاہتا ہے بادلوں کو بھیج دیتا ہے جن کے سپرد یہ کام ہوتا ہے تو وہ فرشتے بھی جان لیتے ہیں ۔ (تفسیر روح المعانی جلد 2) امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمہ حدیث پاک نقل فرماتے ہیں : امام بیہقی علیہ الرحمہ نے فرمایا بکر بن عبد الله المزنی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابر کے فرشتے کی خبر دی کہ یہ فرشتہ فلاں شھر سے آرھا ھے اور فلاں دن ان پر بارش ہونی ھے اور آپ نے پوچھا ہمارے شہر میں بارش کب ہوگی؟ اس نے کہا فلاں دن ہوگی ۔ (خصا ئص الكبری جلد 2 ص 175) مذکورہ حدیث سے ملنے والی معلومات : (1) سب سے پہلے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام فرشتوں کو جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں ۔ (2) فرشتوں کے کام بھی جانتے ہیں۔ (3) فرشتوں کے سابقہ کام پر بھی نظر عنایت ہے تبھی فرمایا فلاں دن ان پر بارش ہونی ہے۔ (4) فرشتے آگے کہاں کہاں کام کریں گے وہ بھی جانتے ہیں فلاں دن ھمارے شہر میں بارش ہوگی سے معلوم ہوا ۔ (5) بارش کب ہوگی یہ بھی جانتے ہیں۔ (6) ماکان و مايكون کا علم رکھتے ہیں۔
حضور علیہ السلام ما في الارحام کا علم جانتے ہیں حضور علیہ السلام اللہ پاک کی عطاء سے جانتے ہیں : کہ پیٹوں میں بیٹا ہے یا بیٹی ہے یہ حضور علیہ السلام کی وسعت علمی پر دلیل ہے ۔ قرآن مجید و احادیث کثیرہ سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک نےاپنے محبوب بندوں کو مافی الارحام کا علم عطاء فرمایا ہے ۔ دلائل ملاحظہ ہوں : فرشتے ما في الارحام کو جانتے ہے؟ ﴿قَالُوْا لَا تَخَفْؕ-وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ﴾ ترجمہ: فرشتوں نے کہا آپ مت ڈریں اور انکوعلم والے لڑکے کی بشارت دی ۔ (سورۃالذاریات آیت (28)) دوسری آیت ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴾ ترجمہ : جبریل علیہ السلام نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔ (سورۃ مريم آیت 20) ان دونوں آیتوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ فرشتے خبر لڑکے کی دے رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے ما فی الارحام کا علم ،جانتے ہیں جب فرشتے جانتے ہیں تو حضور علیہ السلام بدرجہ اولی جانتے ہیں ۔ حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی روایت کرتے ہیں : اللہ تعالی جب کسی بندے کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ھے یا رب لڑکا یا لڑکی؟ تو رب تعالی جو چاھتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے ۔ (طبرانی جلد 3ص176، جامع الصغیر جلد 1ص 113) امام ھندی علیہ رحمۃ لکھتے ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بشارت دی کہ ماریہ کے پیٹ میں مجھ سے لڑکا ہے۔ (کنز العمال جلد 11ص471) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کو ما فی الارحام کا علم ملا ہے تو حضور علیہ السلام کوبدرجہ اولی ملا ہے۔ حضور علیہ السلام نے بچہ کی خبر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو سنائی: امام بیہقی علیہ الرحمۃ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ مجھ سے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم سے ایک بچہ پیدا ہوگا اس کا نام میرے نام پر اور اسکی کنیت میری کنیت پر رکھنا ۔ (دلائل النبوه بیہقی جلد 6ص380) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے بچہ کی ولادت کی خبر سنادی حالانکہ وہ ابھی معرض وجود میں نہیں آیا لہذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام مافی الارحام کا علم جانتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب علیہ السلام کے صدقے آپ کے غلاموں کو بھی مافی الارحام کا علم عطاء کیا ہے ۔ دلائل ملاحظہ ہوں: عروہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واله وسلم بدر کی جنگ کو جا رہے تھے تو مقام روحا پر ایک بدوى ملا تو اس سے صحابہ کرام عليهم الرضوان نے کچھ حالات پوچھے لیکن اس نے کچھ نہ بتایا پھر اس سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیجیے تو اس نے کہا تم میں رسول اللہ ہیں صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کہا جی ہاں اعرابی بدوی نے کہا بتاؤ میری اوٹنی کے پیٹ میں کیا ہے ؟ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا رسول الله سے نہ پوچھو میں تھیں خبر دیتا ہوں کہ اس کے پیٹ میں تیری نالائق حرکت کا نتیجہ ہے۔ (مستدرك للحاكم جلد (4) "ص" (518)) اس حدیث سے ملنے والی معلومات: (1) حضور علیہ السلام کے غلاموں کو آپ علیہ السلام کی برکت سے ما في الارحام کا علم عطاء فرمایا گیا ہے۔ (2) اگر کوئی سوال کرے کہ ما فی الارحام کا علم تجربہ سے بتایا جاتا ہے تو اسکا جواب یہ ہے کہ تجربہ یہاں ختم ہوا کیونکہ تجربے سے اونٹ کے خلق پانی سے پیدا ہونے والے بچہ کا بتانا ہے جبکہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غیر جنس کا بتایا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تجربہ سے نہیں بلکہ علم سے بتایا ہے ۔ (3) حضور علیہ السلام کا ملاحظہ فرمانا اور اس کے بعد کچھ ارشاد نہ فرمانا یہ اس بات کی دلیل ھے کہ صحابی رسول نے حق و صدق فرمایا تب ہی ہمارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا خاموشی و سکو ت ہونا اس بات کی موجود ہونے کی دلیل ہے ۔ (4) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے رحیم ہیں کہ اعرابی کے عیبوں پر بھی پردہ رکھا مزید عیب تھے لیکن نہیں کھولے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے ما فی الارحام کی خبر ارشاد فرمائی ۔ امام غزالی علیہ رحمہ لکھتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے اپنی وفات کے وقت فرمایا کہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں اور اس وقت آپ کی زوجہ حاملہ تھی بس بعد میں لڑکی پیدا ہوئی تو پیدا ہونے سے پہلے آپ نے مافی الارحام کا علم جان لیا ۔ (احیاء العلوم الدين جلد (3) "ص" (24 تا 25)) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ما فی الارحام کا علم اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے واسطے سے اپنے محبوب بندوں کو عطاء فرمایا ہے ۔ آئندہ ہونے والے واقعات کا علم علوم خمسہ میں سے ایک یہ علم یعنی آئندہ آنے والے واقعات کا علم بھی ہے یہ علم اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا ہے اور اپنے محبوب کے صدقے اپنے محبوب بندوں کو بھی عطا فرمایا ہے، اسکے دلائل علمائے کرام نے دیے ہیں ملاحظہ ہوں ۔ امام احمد بن حنبل علیہ رحمۃ روایت کرتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: كل تم ( اسلامی شکر) تبوک کے چشمہ پر پہنچ جاؤ گے اور تم وہاں چاشت سے پہلے نہ پہنچ سکو گے بس کوئی جو پھنچ جائے تو کوئی چشمے کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آجاؤں۔ امام جلال الدین علیہ رحمہ نقل فرماتے ہیں : کل ان شاء الله صبح چشمہ تبوک پر پھنچے گے۔ امام مسلم علیہ رحمہ لکھتے ہیں: حضور علیہ السلام نے فرمایا کل ان شاءالله ہماری منزل حیف بن کنایہ میں ہوگی ۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کل یعنی آئندہ آنے والے احوال کو جانتے ہیں ۔ (صحیح مسلم جلد (2) "ص" (925)) (سنن ابی داؤد جلد (2) "ص" (210)) مرنے کا وقت اور جگہ کا علم : علوم خمسہ میں سے یہ بھی ہے کہ مرنے کا وقت اور جگہ کا علم ہے یہ علم بھی اللہ پاک نے حضور علیہ السلام کو عطاء فرمایا ہے ۔ امام حجر عسقلانی علیہ رحمہ لکھتے ہیں : حضرت اقرع بن شفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ نبی کریم میرے پاس میری بیماری کے زمانہ میں تشریف لائے اس وقت میں نے عرض کیا کہ میرا گمان ھے کہ میں اس مرض میں فوت ہو جاؤ گا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہرگز نھیں تم ضرور زندہ رہو گے اور تم زمین شام کی ضرور ھجرت کرو گے اور وہاں فوت ہو گے اور فلسطین کے ٹیلے پر دفن ہو گےامام حجر عسقلانی علیہ رحمہ فرماتے میں دفن بالرملة ۔ (الا صابۃ جلد (1) "ص" (103))
اس حدیث سے ملنے والی معلومات (1) بیمار کے پاس جاکر عیادت کرنی چاہیے یہ حضورعلیہ السلام کے فعل مبارک سےثابت ہے۔ (2) حضور علیہ السلام موت کا وقت جانتے ہیں تبھی تو فرمایا ابھی تم ہرگز نھیں مرو گے وقت کا علم تھا تبھی ارشاد فرمایا ہے ورنہ ایسا ارشاد نہ فرماتے۔ (3) حضور علیہ السلام دفن ہونے کی جگہ بھی جانتے ہیں کہ فرمایا تم فلسطین کے ٹیلے پر دفن ہوگے یہ فرمانہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اس کا علم ہے ۔ (4) زندہ رھنے والوں کے حالات پر نظر کرم ہے کیونکہ فرمایا تم زندہ رہو گے اور شام کی طرف ہجرت کرو گے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام زندہ لوگوں کے حالات سے باخبر ہیں ۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ لکھتے ہیں : امام بیہقی علیہ رحمہ نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے روایت کرتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ السلام کے پاس آئے اس وقت جبرئیل علیہ السلام حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا کے حجرے میں تھےتو حضور علیہ السلام سے جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی آپ کی امت ان کو شہید کر دے گی اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ مٹی بتا دوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا اور جبرئیل نے اپنے ہاتھ سے مقاطف کی طرف اشارہ کیا جو عراق میں ھے اور سرخ مٹی لے کر آپ کو دیکھائی۔ (خصائص الکبری جلد (2) "ص" - (213) ، دلائل نبوت امام بیہقی جلد : (6) "ص"(470)) امام قرطبی علیہ رحمۃ نے مقام طف کی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
امام عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے الاستیعاب میں کہا ھے کہ آپ کو اتوار کے دن محرم الحرام کی 10 تاریخ کو کوفہ کے ایک مقام جس کا نام کربلا ہے وہاں پر شہید کیا گیا تھا اور کربلا ہی کو طف کہتے ہیں۔
اس حدیث سے ملنے والی معلومات
(1)حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کو جانتے ہیں ، اور آپ کے حالات کو بھی جانتے ہیں اور شھادت کے وقت اور جگہ کو جانتے ہیں تو جب حضور علیہ السلام کے خادم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے علم کی وسعت اتنی ہے تو حضور علیہ السلام جو کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے آقا ہیں آپ علیہ السلام کے علم کی وسعت کتنی زیادہ ہوگی۔
(2) جبرائیل علیہ السلام نے ایک لمحے میں کربلا سے مٹی اٹھا کے دے دی یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طاقت ہے جو کربلا کی زمین میں ایک لمحے میں تصرف فرما سکتے ہیں تو پھر میرے آقا هم سب کے آقا حضرت جبرائیل کے آقا کی طاقت کا عالم کیا ہوگا۔
دجال کے مرنے کی جگہ کا بھی علم حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے۔
امام ابوعیسی ترمذی روایت کرتے ہیں :
مجمع بن جاريہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیه وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ابن مریم علیہ السلام دجال کو باب لد کے مقام پر قتل کریں گے۔ (سنن ترمذی جلد 4 صفحہ 515 عربی بیروت)
اس حدیث پاک کو امام طبرانی نے نقل فرمایا ۔ (معجم کبیر طبرانی جلد 19 صفحہ 444)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمۃ اللہ تعالی علیہ نےبھی نقل فرمایا ۔ (صحیح ابن حبان جلد 15 صفحہ 221)
مذکورہ حدیث سے ملنے والی معلومات
حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے دجال مردود کی موت کی جگہ ارشاد فرما دی اور مارنے والے کا نام بھی بتا دیا یہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی علم کی وسعت پر دلیل ہے ۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!