اعلیٰ حضرت کا عطا کردہ عقیدۂ اہلِ سنت
سب سے پہلے سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے امتِ مسلمہ کو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علمِ مبارک کی وسعتوں کے بارے میں جو واضح اور مستند عقیدہ عطا فرمایا، اسے بیان کیا جائے گا۔ بعد ازاں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم کی وسعتوں کے اثبات پر ائمۂ کرام کے اقوال سے مضبوط اور تحقیقی دلائل نقل کیے جائیں گے۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم مبارک کی وسعت( عقیدہ اہلسنت)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔
بے شک اللہ رب العزت نے اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تمامی اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا۔ شرق تا غرب، عرش تا فرش سب انہیں دکھایا۔ملکوتُ السمواتِ والارض کا شاہد بنایا۔روزِ اول سے روزِ آخر تک سب ماکان و ما یکون انہیں بتایا۔اشیائے مذکورہ میں سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔علمِ عظیم حبیبِ کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا۔نہ صرف اجمالاً بلکہ صغیر و کبیر، ہر رطب و یابس، جو پتّہ گرتا ہے، زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ کہیں پڑا ہے۔ سب کو جدا جدا تفصیلاً جان لیا، اللہ الحمد کثیراً۔
بلکہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہرگز ہرگز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پورے علم کا احاطہ نہیں، بلکہ علمِ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ہنوز احاطۂ علمِ محمدی میں وہ ہزاروں، بے حد و کنار سمندر لہرا رہے ہیں جن کی حقیقت کو وہ خود جانیں یا ان کا عطا فرمانے والا، ان کا مالک و مولیٰ جلّ و علا۔
بحمد اللہ تعالیٰ ہمارے حضور صاحب قرآن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ عزوجل نے تمام موجودات، جملہ ماکان و ما یکون الیٰ یومِ القیامۃ، اور جمیع مندرجاتِ لوحِ محفوظ کا علم عطا فرمایا، اور شرق و غرب، سماء و ارض، عرش و فرش میں کوئی ذرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے باہر نہ رہا۔ واللہ الحجۃ الساطعۃ! اور جب کہ یہ علم قرآنِ عظیم کے’’تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ‘‘(ہر چیز کا روشن بیان) ہونے سے عطا ہوا۔ ماکان و ما یکون اولین و آخرین کا علم
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
جو کچھ سماوات و ارض میں ہے اور جو قیامت تک ہوگا، اس سب کا علم اگلے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی عطا ہوا تھا، اور اللہ جل جلالہ نے اس تمام ماکان و ما یکون کو اپنے ان محبوبوں کے پیشِ نظر فرما دیا۔ مثلاً مشرق سے مغرب تک، سماک سے سمک تک، ارض سے فلک تک اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، سیدنا ابراہیم خلیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہزارہا برس پہلے اس سب کو ایسا دیکھ رہے تھے گویا اس وقت ہر جگہ موجود ہیں۔ ایمانی نگاہ میں یہ نہ قدرتِ الٰہی پر دشوار ہے اور نہ عزت و وجاہتِ انبیاء کے خلاف مگر معترض بیچارے جن کے نزدیک خدائی کی حقیقت اتنی محدود ہو کہ ایک درخت کے پتے گن دیے جائیں وہ ان احادیث کو (نعوذ باللہ) شرکِ اکبر کہنا چاہیں!حالانکہ ائمۂ کرام اور علمائے اعلام ان روایات کو سند کے ساتھ نقل فرماتے اور مقبول و مسلم رکھتے آئے ہیں، جیسے: امام جلال الملۃ والدین سیوطی (مصنفِ خصائصِ کبریٰ)، امام شہاب احمد محمد خطیب قسطلانی (صاحبِ مواہبِ لدنیہ)، امام ابن حجر مکی ہیثمی، علامہ خفاجی، علامہ زرقانی، وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ۔ تو کیا (معاذ اللہ) انہیں مشرک کہا جائے گا؟ والعیاذ باللہ رب العالمین۔(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 496)
صحیح مسلم و مسند امام احمد و سُنن ابنِ ماجہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: میری ساری اُمت اپنے سب اعمالِ نیك و بد کے ساتھ میرے حضور پیش کی گئی ۔ (صحیح مسلم ، کتاب المساجد باب النہی عن البصاق فی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی، 1 /207،مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت، 5 /180)
طبرانی اور ضیاء مختارہ میں حذیفہ بن اُسید رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: گزشتہ رات مجھ پر میری اُمّت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی بے شك میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے۔ (المعجم الکبیر حدیث 3054،المکتبۃ الفیصلیۃبیروت، 3 /181،کنزالعمال، حدیث:31911، موسستہ الرسال بیروت، 11 /408) امام قسطلانی کا موقف
مواہب امام قسطلانی میں ہے: اور کچھ شك نہیں کہ اللہ پاک نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے زیادہ علم دیا اور تمام اگلے پچھلوں کا علم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر القاء کیا، ( المواہب اللدنیہ المقصدالثامن الفصل مااخبربہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من الغیب المکتب الاسلامی بیروت 3/560) معجم کبیر، حلیۃ الاولیاء اور علمِ ماکان
طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: بے شك میرے سامنے اللہ پاک نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تك ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں،اس روشنی کے سبب جو اللہ پاک نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (حلیۃ الاولیاء ترجمہ 338، حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت 6 /101،کنزالعمال حدیث 31810- 31971، موسستہ الرسالہ بیروت 11 /378- 420) امام بوصیری اور ہمزیہ شریف
امام اجل سیّدی بوصیری قدس سرہ،ام القرٰی میں فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم و حکمت تمام جہان کو محیط ہوا ۔ (مجموع المتون متن قصیدۃ الہمزیۃ فی مدح خیر البریۃ الشؤن الدینیہ دولتہ قطر ص 18) امام ابن حجر مکی کی تشریح
امام ابن حجر مکی اس کی شرح افضل القرٰی میں فرماتے ہیں: یہ اس لیے کہ بے شك اللہ پاک نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہان پر اطلاع بخشی تو سب اگلے پچھلوں اور ماکان ومایکون کا علم حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوگیا۔( افضل القراء لقراء ام القرٰی) نسیم الریاض اور علمِ سیدِ عالم
امام جلیل قدوۃ المحد ثین سیدی زین الدین عراقی استاذ امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی شرح مہذب میں پھر علامہ خفا جی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں: حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر قیامِ قیامت تك کی تمام مخلوقات الہٰی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمیع مخلوقات گزشتہ اور آئندہ سب کو پہچان لیا۔جس طرح آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام نام سکھائے گئے تھے۔(نسیم الریاض الباب الثالث الفصل الاول فیما ورومن ذکر مکانتہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند، 2 /208) امام ابن الحاج مکی کا بیان
امام ابن الحاج مکی مدخل امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں: بے شك ہمارے علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت دنیوی اور اس وقت کی حالت میں کچھ فرق نہیں ہے اس بات میں کہ حضور اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں ان کے ہر حال،ان کی ہر نیت، ان کے ہر ارادے،ان کے دلوں کے ہر خطرے کو پہچانتے ہیں، اور یہ سب چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جن میں اصلًا کسی طرح کی پوشیدگی نہیں ۔ (المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت 1 /252،المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الثانی المکتب الاسلامی العربی بیروت 4 /580) مدارج النبوۃ اور جامع علمِ مصطفیٰ
شیخ شیوخ علمائے ہند مولانا شیخ محقق نور اللہ تعالٰی مرقدہ المکرم مدارج شریف میں فرماتے ہیں وھو بکل شیئ علیم،اور وہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سب چیزوں کو جاننے والے ہیں،احوالِ احکام الہٰی احکامِ صفاتِ حق،اسماء افعال آثار،تمام علوم ظاہر و باطن،اول و آخر کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق ہیں،آ پ پر افضل درود اور اتموواکمل سلام ہو۔(مدارج النبوۃ مقدمۃ الکتاب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر 1 /2- 3) لوح و قلم کا علم
علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں: لوح و قلم کا علم علومِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایك ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم متعدد انواع ہیں کلیات، جزئیات،حقائق دقائق،عوارف اور معارف کہ ذاتِ و صفاتِ الہٰی سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایك سطر اور اس کے سمندروں سے ایك نہر ہے پھر بایں ہمہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی برکت و جود سے تو ہے۔ امام قاضی عیاض کا بیان
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ شفا شریف میں فرماتے ہیں ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیوب پر مُطّلع فرمایا اور آئندہ ہونے والے واقعات سے با خبر کیا۔ اس باب میں احادیث کا وہ بحرِ ذَخّار ہے کہ کوئی اس کی گہرائی جان ہی نہیں سکتا اور نہ ا س کا پانی ختم ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو یقین اور وُثوق سے معلوم ہے اور ہم تک ا س کی خبریں مُتواتِر طریقے سے کثرت سے پہنچی ہیں اور غیب پر اطلاع ہونے پر اِن احادیث کے معانی و مطالب آپس میں متحد ہیں۔(شفاء شریف، فصل ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون، ص335-336، الجزء الاول) علمِ غیب: ذاتی کی نفی، عطائی کا اثبات
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’یہ وضاحت ا ن قرآنی آیات کے منافی نہیں جن میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور اس آیتِ کریمہ’’وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ‘‘ میں کسی واسطے کے بغیر (یعنی علمِ ذاتی) کی نفی کی گئی ہے البتہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیب پر مطلع ہونا ثابت ہے اور ا س کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔
’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘(جن:۲۶، ۲۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو مکمل اطلاع نہیں دیتا۔سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (نسیم الریاض، القسم الاول فی تعظیم العلی الاعظم۔۔۔ الخ، فصل فیما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون، 4/ 149)
پانچ غیب اور علمِ رسول
علامہ ہیجوری شرح بُردہ شریف میں فرماتے ہیں: دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللہ پاک نے حضور کو ان پانچ غیبوں کا علم دے دیا۔ (حاشیۃ الباجوری علی البردۃ تحت البیت فان من جودك الدنیا الخ مصطفی البابی مصر، ص92)
علمِ غیب پر وہابیت کا علمی رد
حافظ الحدیث سیدی احمد مالکی غوث الزمان سید شریف عبدالعزیز مسعود حسنی رضی اللہ عنہ سے راوی :
قیامت کب آئے گی،مینہ کب اور کہاں اور کتنا برسے گا، مادہ کے پیٹ میں کیا ہے،کل کیا ہوگا،فلاں کہاں مرے گا،یہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں ان میں سے کوئی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخفی نہیں،اور کیونکر یہ چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوشیدہ ہیں،حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے ساتوں قطب ان کو جانتے ہیں اور ان کا مرتبہ غوث کے نیچے ہے،غوث کا کیا کہنا پھران کا کیا پوچھنا۔جو سب اگلوں پچھلوں سارے جہان کے سردار اور ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر شے انہیں سے ہے ۔ مالیئ الجیب بعلوم الغیب
الحمد ﷲ یہ بطورِ نمونہ عبارات قاہرہ ہیں جن سے وہابیت کی پوچ ذلیل عمارت نہ صرف منہدم ہوئی بلکہ قارون اور اس کے گھر کی طرح بفضلہ تعالٰی تحت الثرٰی پہنچتی ہے،اور بحمدہ تعالٰی یہ کل سے جز ہیں،ایسے ہی صدہا نصوص جلیلہ و عظیمہ دیکھنا ہوں تو فقیر کی کتاب مالیئ الجیب بعلوم الغیب ۱۳۱۸ ھ و رسالہ اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان وما یکون ۱۳۱۸ھ"ملاحظہ ہوں کہ نصوص کے دریا ہیں چھلکتے،اور حُبِّ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاند چمکتے اور تعظیم حضور کے سورج دمکتے،اور نور ایمان کے تارے جھلکتے،ا ور حق کے باغ مہکتے اور ہدایت کے پھول چہکتے اور نجدیت کے کوے سسکتے اور وہابیت کے بوم بلَکتے،اور بد بوح گستاخ پھڑکتے۔والحمد ﷲ رب العلمین۔( فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 477)
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!