ہمارے حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم عالم کی پیدائش کی ابتداء کا علم اور عالم کی انتہاء کا علم جانتے ہیں
حضرت عمر فاروق رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان ایک جگہ قیام فرمایا بس ہمیں ابتدا پیدائش کی خبر دی یہاں تک کہ اہل جنت والے جنت میں داخل ہوگئے اور اہل نار والے دوزخ میں پہنچ گئے جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا وہ بھول گیا ( صحیح البخاری ، 1/453، صحیح مسلم 2/390 ، مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 506)۔ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از روئے اول تاقیامت کا حال بیان کر دیا ۔ یہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک کی وسعتیں ہیں۔ جنت و جہنم کا مشاہدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر کے اشارے سے فرمایا: ہاں۔ میں کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور فرمایا:میں نے اس مقام پر ہر وہ چیز دیکھ لی جو پہلے نہیں دیکھی تھی، حتیٰ کہ جنت اور جہنم کو بھی۔(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من اجاب الفتیا باشارۃ الید والراس، رقم الحدیث: 86) آغازِ تخلیق سے انجامِ آخرت تک کا بیان حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخلوقات کی ابتداء سے لے کر یہاں تک بیان فرمایا کہ اہلِ جنت اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوں گے اور اہلِ جہنم اپنے ٹھکانوں میں۔ جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا، اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ (صحیح بخاری، کتاب بداء الخلق، رقم الحدیث: 3192) امت کے افراد کے انجام کا جان لینا امام شہاب الدین احمد بن علی المعروف ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان پر منافقین کے اعتراض اور قرآنی جواب یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: معاذاللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ :وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (پ 4،اٰل عمرٰن:179) ( ترجمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔) نازل ہوئی۔(العجاب فی بیان الاسباب ،2/798) فجر سے غروبِ آفتاب تک مسلسل خطبہ اور قیامت تک کے واقعات حضرت ابوزید یعنی عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہو کر ہمارے سامنے تقریر فرمائی یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا پھر منبر سے تشریف لاکر نمازپڑھائی اس کے بعد منبر پر تشریف لے گئے پھر ہمارے سامنے تقریر فرمائی یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیاپھر منبرسے اُتر کر نماز پڑھائی اس کے بعد منبرپر تشریف لے گئے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو اس تقریر میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے والا ہے تمام واقعات کی حضور نے ہمیں خبر دے دی تو ہم لوگوں میں سب سے بڑا عالم وہ شخص ہے جسے حضور کی بتائی ہوئی خبریں زیادہ یاد ہیں۔ (مسلم، 2/390)
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کلیات و جزئیات پر محیط علم عطا ہونا
معلوم ہوا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ’’مَاکَان وَمَا یَکُونُ‘‘ کا علم ہے یعنی آپ گزشتہ اور آئندہ کے تمام واقعات جانتے ہیں۔زمین کو سمیٹ کر دکھا دیا
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے مشرق سے مغرب تک زمین کا تمام حصہ دیکھ لیا۔ (مسلم، مشکوۃ ،ص 512) اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ پورب سے پچھم تک زمین کا ہر حصہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ کے سامنے ہے ۔قیامت تک کے فتنوں، افراد اور ان کے ناموں کا علم
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے ساتھی بھول گئے ہیں یا بھول جانے کا اظہار کرتے ہیں( آج سے ) دنیا کے ختم ہونے تک جتنے فتنے انگیز لوگ پیدا ہوں گے جن کے ساتھیوں کی تعداد تین سو سے زائد ہوگی خدائے تعالیٰ کی قسم حضور نے ہمیں ان کا نام ان کے باپ کا نام اور ان کے خاندان کا نام (سب کچھ) بتادیا۔ (ابوداود، مشکوۃ، ص 463)معلوم ہوا کہ حضور کا علم تمام کلیّات اور جزئیات کو گھیرے ہوئے ہے ۔ کہ آپ نے آئندہ پیدا ہونے والے فتنہ انگیزوں کے نام، ان کے باپ کا نام اور ان کے قبیلہ کا نام لوگوں سے بیان فرمایا۔
میدانِ موتہ کے واقعات مدینہ میں بیٹھ کر بیان فرمانا
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سرکار ِاقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آنے سے پہلے ان لوگوں کے شہید ہوجانے کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ زید نے جھنڈا ہاتھ میں لیا اور شہید کیے گئے پھر جھنڈے کو جعفر نے سنبھالااور وہ بھی شہید ہوئے پھر ابن رواحہ نے جھنڈے کو لیا اور وہ بھی شہید کیے گئے ۔ آپ یہ واقعہ بیان فرما رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد جھنڈے کو اس شخص نے لیا جو خدائے تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے یعنی حضرت خالد بن ولید ( نے جھنڈا لیا اور خوب گھمسان کی لڑائی لڑتے رہے ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ (بخاری، مشکوۃ ،ص 533) معلوم ہوا کہ ساری دنیا کے حالات حضور کی نگاہ کے سامنے ہیں کہ جنگ موتہ جو ملک شام میں ہورہی تھی حضور اس کے حالات مدینہ منورہ میں بیٹھے ہوئے ملاحظہ فرمارہے تھے ۔قبر کے اندر کے عذاب کا مشاہدہ
حضرتِ ابن عباس رضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم مدینہ یا مکہ کے باغات میں سے کسی باغ میں تشریف لے گئے تو دوآدمیوں کی آواز سنی جن پر ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا آپ نے فرمایا ان دونوں پر عذاب ہورہا ہے ۔ مگر کسی بڑی بات پر نہیں۔ پھر فرمایا ہاں (خدائے تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے ) اِن میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا۔ پھر آپ نے کھجور کی ایک تر شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا۔ حضور سے عرض کیا گیا یارسول اللہ ! یہ آپ نے کیوں کیا؟فرمایا امید ہے کہ جب تک یہ شاخیں خشک نہ ہوجائیں ان دونوں پر عذاب کم رہے گا۔ (بخاری، 1/35) قبروں پر سبز شاخ رکھنے کی حکمت اور سنت کا ثبوت اس حدیث سے معلوم ہوا کہ:(۱)…
حضور کی نگاہ کے لیے کوئی چیز آڑ نہیں بن سکتی یہاں تک کہ زمین کے اندر جو عذاب ہوتا ہے اسے آپ ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔(۲)…
حضور مخلوقات کے ہر کھلے اور چھپے کام کو دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت کون کیا کررہا ہے اور پہلے کیا کرتا تھا چنانچہ آپ نے فرمادیا کہ ایک چغلی کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔(۳)…
حضور ہر گناہ کا علاج بھی جانتے ہیں کہ قبر پر شاخیں رکھ دیں تاکہ عذاب ہلکا ہو۔(۴)…
قبروں پر سبزہ اور پھول وغیرہ ڈالنا سنت سے ثابت ہے کہ اس کی تسبیح سے مردہ کو راحت ہوتی ہے ۔(۵)…
قبر پر قرآن پاک کی تلاوت کے لیے حافظ بٹھانا بہتر ہے کہ جب سبزہ کے ذکر سے عذاب ہلکا ہوتا ہے تو انسان کے ذکر سے ضرور ہلکا ہوگا۔(۶)…
اگرچہ ہر خشک وترچیز تسبیح پڑھتی ہے مگر سبزے کی تسبیح سے مردہ کو راحت نصیب ہوتی ہے ایسے ہی بے دین کی تلاوتِ قرآن پاک کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس میں کفر کی خشکی ہے اور مومن کی تلاوت مفید ہے کہ اس میں ایمان کی تری ہے ۔(۷)…
سبزہ گنہگاروں کی قبر پر عذاب ہلکا کرے گا اور بزرگوں کی قبروں پر ثواب و درجہ بڑھائے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میرا قبلہ یہ ہے بخدا مجھ پر نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ رکوع۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ (بخاری،1/102) معلوم ہوا کہ حضور کی مقدس آنکھیں عام آنکھوں کی طرح نہ تھیں۔ بلکہ حضور آگے پیچھے اوپر نیچے اور اندھیرے اجالے میں یکساں دیکھتے تھے یہاں تک کہ خشوع جو دل کی ایک کیفیت کا نام ہے حضور اسے بھی ملاحظہ فرماتے تھے ۔پیچھے کھڑے نمازیوں کا خشوع دیکھ لینا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے چرواہے کی جانب آیا پھر اس کے ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھالے گیا۔ چرواہے نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ بکری کو اس سے چھین لیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر وہ بھیڑیا ایک ٹیلہ پر چڑھ کر اپنی دم پر بیٹھا اور بولا کہ میں نے اپنے رزق کا قصد کیا تھا جو مجھ کو خدائے تعالیٰ نے دیا میں نے اس پر قبضہ کیا تھا لیکن اے چروا ہے !تو نے اس کو مجھ سے چھین لیا۔ چرواہے نے کہا خدا کی قسم ( ایسی عجیب بات) میں نے آج کی طرح کبھی نہ دیکھی کہ بھیڑیا بولتا ہے ۔ بھیڑیئے نے کہا اس سے زیادہ عجیب ان صاحب ( یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا حال ہے جو دو سنگستانوں کے درمیانی نخلستان ( مدینہ) میں تشریف فرما ہو کر تم لوگوں سے ان تمام ( غیبی) واقعات کو بیان کررہے ہیں جو گزر چکے اور جو واقعات تمہارے بعد ہونے والے ہیں ان کو بھی بتاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ چرواہا یہودی تھا بھیڑیئے سے یہ بات سُن کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ واقعہ بیان کیا اور مسلمان ہوگیا۔ (مشکوۃ ،ص 541)جانور کا اقرار نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ’’ماکان وما یکون‘‘ جانتے ہیں
معلوم ہوا کہ جانور کا بھی عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘ کا علم ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے جنگ بدر سے ایک روز پہلے ہم لوگوں کو وہ تمام مقامات دکھا دیئے تھے جہاں بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والے مشرکین قتل ہوئے چنانچہ آپ نے فرمایا دیکھو کل ان شاء اللہ تعالیٰ یہاں فلاں مشرک گر کر مرے گا اور کل ان شاء اللہ تعالیٰ یہاں فلاں شخص قتل ہو کر گرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ جو مقامات حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے بتادیئے تھے ان سے ذرا بھی تجاوز نہیں ہوا۔ یعنی وہ کافر اسی جگہ مارے گئے جو جگہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے بتادی تھی۔ پھر ان کافروں کو کنوئیں کے اندر تلے اوپر ڈال دیا گیا۔ (مشکوۃ، ص 543) میدانِ بدر میں مقتولین کے مقامات پہلے سے بتا دینا معلوم ہوا کہ حضور کو ’’بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ‘‘کا بھی علم ہے چنانچہ میدانِ بدر میں آپ نے فرمادیا کہ ان شاء اللہ کل یہاں فلاں شخص قتل ہوگا۔ اور یہاں فلاں شخص مرے گا۔ پھر دوسرے روز حضور کے فرمانے کے مطابق ہوا یعنی جو مقامات آپ نے بتادیئے تھے ان سے ذرا بھی تجاوز نہیں ہوا۔علمِ غیب کی تعریف اور اہلِ سنت کا اصولی مؤقف
(۱)… علمِ غیب ان باتوں کے جاننے کو کہتے ہیں جن کو بندے عادی طور پر اپنی عقل اور اپنے حواس سے معلوم نہ کرسکیں۔(تفسیر کبیر، 1/ 174) (۲) اللّٰہ تعالیٰ غیب کا جاننے والا ہے تو وہ اپنے اُس غیب پر جس کا علم اس کے ساتھ خاص ہے ،اپنے پسندیدہ رسولوں کے علاوہ کسی کو کامل اطلاع نہیں دیتا جس سے حقیقتِ حال مکمل طور پر مُنکشف ہو جائے اور اس کے ساتھ یقین کا اعلیٰ درجہ حاصل ہو (اور رسولوں کو) ان میں سے بعض غیوب کا علم، کامل اطلاع اور کشفِ تام کے ساتھ اس لئے دیتا ہے کہ وہ علمِ غیب ان کے لئے معجزہ ہو اور اللّٰہ تعالیٰ ان رسولوں کے آگے پیچھے پہرے دار فرشتے مقرر کر دیتا ہے جو شیطان کے اِختلاط سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔( بیضاوی، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۵ / ۴۰۲، جمل، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۸ / ۱۴۰، ملتقطاً) اولیاء کے علمِ غیب پر معتزلہ کا ردمعتزلہ فرقے کے لوگوں نے اولیاء کے لئے علم ِغیب ماننے سے انکار کیا ہے ۔علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب’’ شرح مقاصد‘‘ میں باطل فرقے’’معتزلہ‘‘ کی جانب سے اولیاء کی کرامات سے انکار اور ان کے فاسد شبہات کا ذکر کر کے ان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علم غیب کے بارے میں ہے، وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے:
’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔
انبیاء کا علمِ غیب اولیاء سے اعلیٰ کیوں ہے؟
جب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں ۔ائمہ اہلسنّت نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مُطْلَقاً اولیاء کے علومِ غیب کی نفی ہوسکے، بلکہ یہ تو مُطْلَق ہے (یعنی کچھ غیب ایسے ہیں کہ غیرِ رسول کو نہیں معلوم ہوتے) یا اس سے خاص وقوعِ قیامت کا وقت مراد ہے (کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتے) اوراس پر قرینہ یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں غیب ِقیامت ہی کا ذکر ہے۔ (تو آیت سے صرف اتنا مطلب نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص قیامت کے وقت کی تعیِین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب نہیں جانتے، اس پر اگر یہ شُبہ قائم ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ تو رسولوں کا اِستثناء فرمارہا ہے کہ وہ ان غیبوں پر مُطّلع ہوتے ہیں جن کو اور لوگ نہیں جانتے اب اگر اس سے قیامت کے وقت کی تعیین مراد لیں تو رسولوں کا بھی اِستثناء نہ رہے گا کہ یہ تو اُن کو بھی نہیں بتایا جاتا۔ اس کا جواب یہ فرمایا کہ) فرشتوں یا انسانوں میں سے بعض رسولوں کو قیامت کے وقت کی تعیین کا علم ملنا کچھ بعید نہیں تو یہاں اللّٰہ تعالیٰ کا اِستثناء فرمانا ضرور صحیح ہے۔( شرح مقاصد،المقصد السادس،الفصل الاول،المبحث الثامن: الولی، 3/ 329،330، فتاوی رضویہ، رسالہ: خالص الاعتقاد، 29 / 475-476)علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کی جن کرامات کا تعلق کشف کے ساتھ ہے ان کی نفی پر اس آیت میں کوئی دلیل نہیں البتہ یہ (ضرورثابت ہوتا) ہے کہ انبیاء ِکرام علیہم الصلاۃ والسلام کی غیب پر اطلاع اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کی غیب پر اطلاع سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ انبیاء ِکرام علیہم الصلاۃ والسلام وحی کے ذریعے غیب جانتے ہیں اوروہ ہر نقص سے معصوم ہے جبکہ اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کی اطلاع کا یہ مقام نہیں ، اسی لئے انبیاء ِکرام علیہم الصلاۃ والسلام کی عصمت واجب ہے اور اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کی عصمت جائز ہے۔( صاوی، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶، ۶ / ۲۲۵۶)
علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے مگر انبیاء کا علم باعتبارِ کشف و اِنجلاء (یعنی غیب کی باتوں کو ظاہر کرنے کے اعتبار سے) اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا واَرفع و اعلیٰ ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وَساطت اور انہی کے فیض سے ہوتے ہیں ، معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے وہ اولیاء کیلئے علمِ غیب کا قائل نہیں ،اس کا خیال باطل اور احادیثِ کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تَمَسّک (یعنی دلیل پکڑنا) صحیح نہیں ،بیانِ مذکورہ بالا میں اس کا اشارہ کردیا گیا ہے، سیّدُ الرُّسُل خاتَم الانبیاء محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم مُرتضیٰ رسولوں میں سب سے اعلیٰ ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اَشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر اَحادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں کیلئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے۔(خزائن العرفان، الجن، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۱۰۶۲)
نبی آئندہ کے غیبی امور جانتے ہیں
(۳)… امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: نبی کے لیے ایک ایسی صفت ہوتی ہے کہ جس سے وہ آئندہ غیب کی باتیں جان لیا کرتے ہیں۔ (زرقانی، 1/20)ہمارے حضور علیہ الصلاۃ والسلام زمین اور آسمانوں کی تمام چیزوں کو جانتے ہیں
اللہ تعالی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو زمین و آسمان کی چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے ۔ حضرت عبد الرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے پر ور دگار کو نہایت اچھی صورت میں دیکھا۔ اس نے پوچھا کہ فرشتے کس چیز میں جھگڑرہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا: تو زیادہ دانا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس پروردگار نے اپنا ہاتھ میرے دو شانوں کے درمیان رکھامیں نے اس ہاتھ کی ٹھنڈک اپنے دو پستانوں کے درمیان پائی اور جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں تھا اور آنحضرت نے یہ آیت پڑھی : وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ (پ۷،الانعام:۷۵)۔ ترجمہ کنزالایمان:اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس لئے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے۔ اور اسی طرح ہم دکھا نے لگے ابراہیم کو سلطنت آسمان اور زمین کی تاکہ اس کو یقین آوے۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلوۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ،الحدیث: 725،1/152)۔ حضور علیہ الصلاۃ و السلام زمین کے اندر کے احوال جانتے ہیں اللہ تعالی نے حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو علم بے مثؒل عطا فرمایا ہے ان علوم میں سے ایک یہ بھی علم ہے کہ زمین کے اندر کیا ہورہا ہے ۔ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرماتے ہیں : پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو اِرشاد فرمایا : اِن دونوں میں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں ایک چغلی کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تَر شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کیے اور پھر دونوں قبروں پر شاخ کا ایک ایک ٹکڑا لگا کر کچھ اِس طرح اِرشاد فرمایا : جب تک یہ خشک نہ ہوں گی تب تک ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی ۔ (بخاری ، کتاب الوضو ء ، باب من الکبائر ان لا یستتر من بوله ، 1/95-96، حدیث : 216-218) ہماری نظر اور حضور علیہ السلام کی نظر میں یہ فرق ہم زمین کے اوپر دیکھ سکتے ہیں لیکن حضور علیہ الصلاۃ والسلام دیکھنا چاہیں تو زمین کے اوپر اور زمین کے اندر کی معلومات دیتے ہیں ۔ جیسا اس حدیث میں قبر کے اندر کی حالت بتائی ۔ حضور علیہ السلام امت کے اعمال جانتے ہیں بالخصوص اس حدیث میں یہ اشخاص سابقہ امت سے تعلق رکھتے تھے لہذا حضور سابقہ امت کے اعمال کو جانتے ہیں جیسا کہ حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے ۔ کس کو کس چیز کی حاجت ہے ہمارے حضور علیہ الصلاۃ والسلام جانتے ہیں یعنی قبر والوں کو عذاب ہے تخفیف عذاب کا بندوبست فرمایا ہے ۔ سابقہ امت کے افراد کی قبر پر حضور علیہ السلام تشریف لائے تو ان پر عذاب میں کمی واقع ہوئی ۔ عالم دنیا میں رہ کر بھی حضور علیہ السلام عالم برزخ یعنی قبر کی معلومات کا بتانا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وسعت علمی ہے ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام امت کے اعمال کا علم رکھتے ہیں نبی پاک کو اللہ نے بے مثال علم عطا فرمائے ہیں وہ امت کے اعمال کا علم بھی عطا فرمایا ہے ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ہیں: حضور نے فرمایا ہم پر ہماری امت کے اعمال اچھے اور برے پیش کیے گئے ہیں ۔ (صحیح مسلم، 1 / 207 ،مسند احمد ، 5/180) نبی پاک تمام امت کے اعمال جانتے ہیں ،یہ کتنی علم کی وسعت کی بات ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام ساری امت کے اعمال جانتے ہیں ۔ امت کا لفظی اطلاق ہے یعنی ما بعد ساری امت کے اعمال کو بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام جانتے ہیں ۔ امت کے اعمال کے ساتھ حضور علیہ السلام یہ بھی جانتے ہیں کہ کس کی نیکی مقبول ہے۔ نبی پاک جانتے ہیں کون زندہ لوگوں میں سے شہید ہوگا حضور جانتے ہیں جیسا کہ دنیا میں کون کون شہید ہیں ۔ امام ابن عبد البررحمہ الله تعالى فرماتے ہیں: بے شک حضور نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھے توطلحہ بن عبیداللہ کو دیکھیں تو پھر حضرت طلحہ بن عبیداللہ جنگ جمل میں شہید ہوئے ۔ حضور علیہ السلام جانتے ہیں کون شہید ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتمہ کو جانتے ہیں تو فرمایا شہید حضرت طلحہ کو دیکھو اس حدیث میں مایکون کا علم عطا فرمایا جیسا کہ اس حدیث میں طلحہ بن عبیداللہ کا وفات کیسے ہوگی یعنی جنگ میں شہید ہو ں گے ۔ حضور جانتے ہیں کہ جنت میں جنتی کس منصب پر ہونگے نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ پاک نے یہ علم عطا فرمایا ہے کہ جنت میں کون کس منصب پر فائز ہوگا ۔ فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: بے شک امام حسن اور امام حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (مسند احمد ، 3/623) کون جنتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب جانتے ہیں ۔ کون جنت میں کس مقام پر فائز ہو گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بھی جانتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد کون کلام کرے گا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ پاک نے تمام علوم و فنون سے نوازا ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام یہ بھی جانتے ہیں کہ کون مرنے کے بعد کلام کرے گا یہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وسعت علم پر دلیل ہے ۔ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے بطریق ربعی بن خراش رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ میرا بھائی جب وہ فوت ہوگیا وہ ہم میں گرمی کے دنوں میں زیادہ روزہ دار اور سردی کی راتوں میں زیادہ قیام کرنے والا تھا میں نے اس کے جسم پر چادر ڈالی تو وہ ہنسنے لگا اس پر میں نے کہا اے بھائی کیا مرنے کے بعد بھی دنیاوی زندگانی ہےاس نے کہا نہیں بات یہ کہ میرا رب مجھ سے روح ریحان اور وجہ کریم کے ساتھ ملا جو غضب ناک نہ تھا پوچھا تم نے امر کو کیسا دیکھا اس نے کہا جتنا تم گمان کر سکتے ہو اس سے زیادہ آسان میں نے دیکھا اس کے بعد یہ واقعہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں ایک شخص مرنے کے بعد کلام کرے گا ۔
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ میری امت میں ایک شخص مرنے کے بعد کلام کرے گا اور خیر و تابعین میں سے ہوگا۔
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت کی بکثرت سندیں ہیں جن کو میں نے کتاب برزخ میں مرنے کے بعد کلام کرنے والوں کی خبروں کی زمین میں جمع کیا ۔ (خصائص الکبریٰ، 2/53،سبل الہدیٰ و الارشاد ، 10/114،شرح الصدور ،ص 75)
نبی پاک نے اس واقعے کی خبر پہلے ہی عطا فرما دیں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام ماکان وما یکون کا علم رکھتے ہیں اس سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کےعلم المبارک کی وسعت ثابت ہوتی ہے ۔ نزع اور موت کا معاملہ سب کے لیے یکساں نہیں بلکہ نیک لوگوں کے لیے اس میں آسانی ہوتی ہے ۔اس کی تصدیق حضرت عائشہ نے فرمائی ہے۔
نبی پاک جانتے ہیں کہ کون سب سے زیادہ بدبخت ہے
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواللہ تعالی نے سابقہ امت کے لوگوں کی کیفیت و عمل سےواقف کیا ہے کہ ان میں کون سب سے زیادہ بدبخت ہے۔ حضرت عبید اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے علی! اگلوں اور پچھلوں میں بدبخت ترین کون ہے انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے فرمایا اگلوں میں سب سے زیادہ بدبخت حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے ہاتھ پاؤں کاٹنے والا تھا اور پچھلوں کا بدبخت ترین وہ ہوگا جو تمہیں نیزہ مارے گا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس مقام کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ نیزہ مارے گا ۔ ام جعفر سریہ علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی انہوں نے اپنا سر اٹھایا پھر اپنی داڑھی پکڑ کر اسے ناک تک بلند کیا کہ تیرے لئے خوشی ہے کہ تو ضرورضرور خون میں رنگی جائے گی پھر جمعہ کے دن ان پر حملہ کیا گیا ۔ (طبقات ا ابن سعید، 3/35) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سابقہ امت کے اعمال اور اوصاف کو جانتے ہیں تبھی فرمایا کہ تم میں سب سے زیادہ بدبخت حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے والا ہے۔ بعد میں سب سے زیادہ بدبخت کون یہ بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام جانتے ہیں تبھی فرمایا پچھلوں میں سب سے زیادہ بدبخت وہ ہوگا جو علی تمہیں نیزہ مارے گا ۔کون کون شقی و سعید ہوگا یہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام جانتے ہیں یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے علم مبارک کی وسعت پر واضح دلیل ہے ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپی ہوئی چیزوں کو جانتے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے علم کے خزانے عطا فرمائے اس کی مثل اور کسی کو نہیں ملے ان علوم میں سے یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپی ہوئی چیزوں کو بھی جانتے ہیں ۔ امام عبدالملک بن ہشام متوفی ۲۱۳ھ لکھتے ہیں:حضرت ابن ہشام رحمۃ اللہ علیہ نے کہایہ کہا جا تا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ بنی مصطلق سے واپس ہوئے جبکہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا آپ کے ساتھ تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بطور امانت ایک انصاری کو دے دیں اور حفاظت کا حکم دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ پہنچے تو حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا باپ حارث اپنی بیٹی کا فدیہ لے کر پہنچا جب عقیق کے مقام پر پہنچا تو اپنے اونٹوں کو دیکھا جو فدیہ کے طور پر لایا تھا اسے دواونٹ بہت اچھے لگے اور عقیق کی وادیوں میں انہیں چھپا دیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا۔ عرض کی اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے میری بیٹی کو پکڑ لیا ہے یہ اونٹ اس کا فدیہ ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ دواونٹ کہاں ہیں جنہیں تم نے عقیق میں فلاں فلاں وادی میں چھپا دیا ہے حارث نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ اللہ کی قسم! اس بات پر اللہ تعالی کے سوا کوئی آگاہ نہیں ۔ حارث مسلمان ہو گیا ساتھ ہی اس کے دو بیٹے بھی مسلمان ہو گئے اور اس کی قوم کے کئی لوگ بھی مسلمان ہو گئے حارث نے دونوں اونٹوں کو لانے کے لئے ایک آدمی بھیجا جوان دونوں اونٹوں کو لے آیا۔ اونٹ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو حارث کے حوالے کر دیا۔حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا اور بہت اچھی مسلمان ثابت ہوئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے والد کو دعوت نکاح دی ، ان کے والد نے اپنی بیٹی کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چارسو درہم مہر عطا کیا ۔ (السير والنبوۃ المعروف سیرت ابن ہشام غزوہ بنی المصطلق في شعبان سیست ،4/259، مطبوعۃ: دارالجیل بیروت) نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھپی ہوئی چیزوں کو جانتے ہیں تبھی ارشاد فرمایا وہ اونٹ کہا ں ہیں جن کو مقام عقیق کی وادیوں میں چھپا آئے ہو ۔اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو چھپ کر گناہ کرتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے اعمال جانتے ہیں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی جانتے ہیں کہ کون کہاں گناہ کرتا ہے تبھی یہ فرمایا مقام عقیق میں اونٹ جو چھپائے ہوئے ہو لہذا گناہ کرنے والے عبرت حاصل کریں کبھی ہم سے یہ فرمایا جائے اے میرے غلام فلان جگہ پر گناہ کیوں کر رہے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام عقیق پر نہیں تھے پھر بھی خبر ارشاد فرمائی یہ علم غیب ہے اس حدیث سےوہ لوگ عبرت حاصل کریں جو عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذ اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔ فدیہ کے اونٹ بطور امانت تھے ان کے پاس اس نے امانت میں خیانت کی تھی دو اونٹ چورائے تھے اس حدیث سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو غریبوں کے فنڈ غائب کرتے ہیں لیکن غریبوں کا حق کھانے والے امیر لوگوں کو عدم خوف خدا کی وجہ سے مستحق افراد تک نہ پہنچایا ۔ اے کرپشن کرنے والوں کہیں یہ نہ کہا جائے کہ وہ غریبوں کا مال فلاں جگہ پر جو رکھا ہوا ہے یہ کیوں نہیں دیا پھر شرم ساری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام جانتے ہیں کون کون خلافت کے منصب پر فائز ہوں گے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ پاک نے اتنا علم عطا فرمایا جس کی وسعت یہ تھی کہ اپنے بعد خلافت کے منصب پر کون کون فائز ہوں گے ارشاد فرمایا۔ امام حارث بن ابی اسامہ متوفی ۲۸۲ ھ روایت کر تے ہیں ۔ آئندہ خلفاء کی تعیین اور ترتیبِ خلافت ہم سے یحییٰ بن عبد الحمید الحمانی نے روایت کیا، انہوں نے کہا ہم سے حشرج بن نباتہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سعید بن جمہان نے روایت کی، وہ سفینہ رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد (نبوی) کی تعمیر فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پتھر رکھا، پھر فرمایا: ابو بکر اپنا پتھر میرے پتھر کے ساتھ رکھیں۔پھر فرمایا: عمر اپنا پتھر ابو بکر کے پتھر کے ساتھ رکھیں۔ پھر فرمایا: عثمان اپنا پتھر عمر کے پتھر کے ساتھ رکھیں۔ اس کے بعد فرمایا: یہی میرے بعد خلفاء ہیں۔)مسند حارث، 2/612( اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے بعد والوں کے منصب و کام کو جانتے ہیں تبھی فرمایا یہی لوگ خلیفہ بنیں گے ۔ اس حدیث میں خلافت کی ترتیب کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارۃً بیان فرما دیا ہے کیوں کہ پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے ۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سائل کے سوال کو بھی جانتے ہیں اللہ تعالی نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو اتنا علم عطا فرمایا ہے جس کی وسعت یہ ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام سائل کے سوال کو بھی جانتے ہیں۔ امام اسماعیل بن محمد بن الفضل الاصھبانی متوفی ۵۳۵ ھ لکھتے ہیں ۔ حضرت وابصہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس لئے آیا کہ میں نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھوں مگر میرے پوچھنے سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے وابصہ رضی اللہ عنہ! کیا میں تمہیں بتادوں جو تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتایئے ۔ فرمایا تم مجھ سے نیکی اور بدی پوچھنے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کوحق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔آپ نے بالکل صحیح فرمایا۔ فرمایا نیکی وہ عمل ہے جس سے انشراح صد رتمہیں حاصل ہوا اور بدی وہ ہے جس سے تمہارے دل میں انقباض ہو ۔اگر چہ لوگوں نے تم سے اس کے کرنے کو کہا ہو ۔(دلائل النبوۃ للاصبھانی ، ص 115 ، رقم الحدیث: 119) اس حدیث کی روشنی سے معلوم ہورہا ہے آپ علیہ الصلوۃ والسلام دلوں کے احوال کو بھی جانتے ہیں ۔ سوال کا جواب دینا یہ کمال ہے لیکن جواب کا سوال بغیربتائے جاننا یہ کمال کا بھی کمال ہے ۔اس حدیث سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے علم مبارک کی وسعت ثابت ہو رہی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے ہیں کہ بکری بغیر مالک کی اجازت کے ذبح ہوئی ہے اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح کا بھی علم عطا فرمایا تھا کہ یہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح ہوئی ہے ۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ روایت نقل کرتے ہیں : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی ایسی چیز نہ چھوڑی جو ہو چکی تھی یا جو قیامت تک ہونے والی ہے مگر ہمیں اس کی خبر دے دی، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص جب اس مجلس سے اٹھا تو وہ یہ جانتا تھا کہ اس کا انجام جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ ( البدایہ و النہایہ ، 6 / 188)
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی پاک جانتے ہیں کون کس چیز کا مالک ہے فرمایا بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح ہوئی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرخلاف واقع بات کو جانتے ہیں ۔ بکری کے ذبح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہیں تھے اسکے باوجود اس طرح کی گواہی دینا یہ آپ علیہ السلام کے مبارک علم کی وسعت ہے ۔ دیوار کے پیچھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں جانتے جن کا یہ عقیدہ ہے ان لوگوں کو اس حدیث سے عبرت لینی چاہیے ۔
بارگاہِ رب العالمین جل جلالہ میں دعا ہے کہ اے مولائے کریم! احادیث کے اس مجموعہ کو پیارے مصطفے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ میں اپنی رضا کے لیے قبول فرما۔ ہمیں اور ہمارے تمام برادرانِ اہل سنت کو اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرما۔ اور اس مجموعہ سے بدمذہبوں اور بے عملوں کو توبہ کی توفیق عطا فرما کر ایمان وعمل کی نعمت نصیب فرما۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!