قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں علما وطلبہ کی اہمیت:
تقابل ادیان کےمطالعہ سے یہ بات اظہر من الشمس ہےکہ اسلام ہی وہ دین ہے جس میں سب سے زیادہ علمااور دین کےطلبہ کی قدرومنزلت بیان کی گئی ہے۔ اسلام نے علمائے دین کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا تو دوسری طرف معاشرے کی بقا اور سلامتی کےلئے طلبہ کے وجود کو باعث برکت بنایا۔ تعلیمات اسلام میں علما دین کے ستون ہیں توطلبہ اس ستون کے وقار کی بلندی کا سبب ہیں۔علما مینار نور ہیں تو طلبہ اس نور کی روشنی کا پرتو ہیں۔علماہدایت کے درخشندہ ستارےہیں توطلبہ اس ستاروں کی کہکشاں کے مختلف رنگ ہیں۔
قرآن پاک کی کثیر آیات میں اہل علم حضرات کی شان اور ان کی علمی وجاہت کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کیاگیا۔سورۂ مجادلہ میں تو بڑے دلنشیں انداز ہی میں اہل ایمان میں ایمان کی دولت کے ساتھ علم کی شان رکھنے والوں کےدرجات کی بلندی کو بیان کیاگیا ۔ارشاد باری تعالی ہے:’’ یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ- وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ ‘‘ (پ۲۸، المجادلة : ۱۱) ىعنى اللہ تعالیٰ بلند کرے گا اُن لوگوں کے جو اىمان لائے تم مىں سے اور ان کے جن کو علم دىا گىا ہے دَرَجے۔نیزخالق کائنات نے مخلوق میں سب سےزیادہ خشیت اور خوف رکھنے والوں میں علما کو ہی سرفہرست قرار دیا ۔درحقیقت دین اسلام میں مقام علم پر فائز اورحکمت ودانائی سے وہی نوازا جاتا ہے جسے رب چنتا ہے ۔سورہ بقرہ میں اس حقیقت کو بڑے ہی خوبصور ت میں بیان کیاگیا:’’ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ ‘‘ (پ۳، البقرة : ۲۶۹) جوحکمت دىا گىا بہت بھلائى دىا گىا۔
علم دین کے حصول میں کوشاں طلبہ کی شان عظمت کا اظہار فقد ایک حدیث رسول کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرماىا : جو شخص طلبِ علم مىں(کسی)اىک راہ چلے خدا اُسے بِہِشْت (جنت) کى راہوں سے اىک راہ چلادے اور بےشک فرشتے اپنے بازو طالبِ علم کى رضامندى کے واسطےبچھاتے ہىں اور بےشک عالم کے لئے استغفار کرتے ہىں سب زمىن والے اور سب آسمان والے ىہاں تک کہ مچھلىاں پانى مىں اور بےشک فضل عالم کا عابد پر اىسا ہے جىسے چودھوىں رات کے چاند کى بزرگی (فضیلت) سب ستاروں پر اور بےشک علما وارث انبىاء کے ہىں اور بےشک پىغمبروں نے درہم ودىنار مىراث نہ چھوڑى(بلکہ) علم کو مىراث چھوڑا ہےپس جو علم حاصل کرے اُس نے بڑا حصہ حاصل کىا۔( ابوداود، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم، ۴/ ۴۴۴، حدیث : ۳۶۴۱)
قرآن وحدیث کی روشنی علمااور طلبہ کی اہمیت پر جتنی آیات واحایث میں وضاحتیں آئیں ان تمام دلائل وبراھین سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اسلام میں علما اور دینی طلبہ کی کتنی اہمیت ہے۔ فقط سمجھنے اور موضوع کی مناسب سے علما اور طلبہ کے علمی وقار کے بیان کا اشاریہ مذکورہ تمہید میں بیان کیاگیاہے۔ ورنہ علم وعلماکی فضیلت میں صفحات کےصفحات قلم کی سیاہی سے بھر ے جاسکتے ہیں۔علمااور علم دین کی طلب میں کوشاں طلبہ سے محبت کرنا اسلام ہی کی تعلیمات ہیں ا۔ور اسلام ہی ہمیں اہل علم حضرات سے محبت اور پیار کادرس دیتاہے۔
اسلام نے ہی علما کی عزت وتوقیر کرنے سلیقہ سکھایا۔ہر دور کے مصنفین نے اہل علم اور علم کی تلاش میں نکلنے والے طلبہ کی فضیلت پر کتابیں لکھ کر اپنی علماا ورطلبہ سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔عصر حاضر میں مغربی تمدن سے متاثر طبقہ نے علمااور طلبہ کی وقار کو مجروح کرنے کی کئ بار مذموم کوششیں کیں ۔ مدارس وجامعات کی افادیت اور علما وطلبہ کی اہمیت پر حرف گیری کرنے کی جسارت مغربی سوچ سے بھی آگے بڑھ گئے ۔جبکہ اسلامی تاریخ میں علما اور طلبہ کی شان ہمیشہ سے اعلی اور نمایاں رہی ۔ مولانا الیاس قادری کی بصیرت نے عصرحاضر کے علم دین سے نفرت انگیز پروپیگنڈا کرنے والے فتنوں کا سد باب کرتے ہوئے ان دونوں طبقات کو اپنی محبت کا مرکز بنایا۔وراثت ِا نبیاء کے وارثین کی عظمت وشان اور دینی طلبہ کے وقار کو عالمی سطح پر زندہ کیا ۔ علما اور طلبہ سے محبت میں امیر دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری صاحب کی دینی کوششیں قابل ستائش اور معاصرین علما کےلئے روشن مثالیں ہیں۔ امیر اہلسنت کی علماوطلبہ سے محبت کا بنیادی پس منظر
مولاناالیاس قادری کی دینی تحریک کے قیام سے پہلے مولانا الیاس قادری کی شخصیت خود علما کی صحبت سے مستفید ہوکر علم دین کے طلبہ کی اہمیت دل میں سماچکی تھی۔پھر کثرت سے کتب مطالعہ کے شوق نےآپ کو نظروں میں علما کے وقاراور ان کےمعاشرتی کردار کو زندہ کردیا تھا۔ایک عرصہ تک مفتی پاکستان مفتی وقار الدین کی صحبت میسر رہی، کتب اعلی حضرت کے مطالعہ نے علم دین کا شوق اجاگرکیا ۔علما کی عزت اور تکریم کےاسلامی اصول ذہن نشین ہوتے گئے ۔قرآن وحدیث میں اہل علم کےدرجات کی بلندی کو جس شان سے بیان کیاگیا وہ مولانا کےدل ودماغ میں راسخ ہوتا گیا۔ارباب علم ودانش علما ذی وقار کے دریوزہ گر بن کر اکتساب علم کیا ۔علما کےاداب پیرمغاں مفتی وقار الدین کی تعلیمات نے سکھائے ۔پھر جب آپ نے اپنی دینی تحریک کے قیام کی طرف سفر باندھا تو اپنی تحریک کے اولین دور میں علما کوہی زیب صدارت کرکےان کی سرپرستی میں علم کی راہیں نوجوان نسل کےلئے کشادہ کیں۔ یہ وہ بنیادی سبب تھا جو امیر اہلسنت کی علما وطلبہ سے محبت کا سبب بنا اور پھر آپ نے علما اور طلبہ سے محبت کے تقاضے نبھانے کےلئے جو عملی کردار ادا کیا وہ سب کی نظروں میں عیاں اور علمااور طلبہ کےمعاشرتی کردار کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔علما کی زیر سرپرستی دینی تحریک علما کی سرپرستی اور علما کے علماکرام سے امیر اہلسنت کی محبت کے انداز اور تقاضے
امیر اہلسنت بذات خود دینی وقار کےساتھ علم دین سیکھنے اورسکھانے کی عملی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔آپ کے شب وروز نجی و گھریلوں مصروفیات کے علاوہ دین کی باتیں دوسرے تک پہنچانے میں گزرتے ہیں۔مصروف ترین زندگی کے باوجود امیر اہلسنت کی ابتدائی زندگی سے تاحال اب تک علما کی قدر دانی اور محبت دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے۔آپ علما کرام کےادب نہ صرف بجالاتے ہیں بلکہ اپنی دینی تحریک کے شورائی نظام کے تحت ایک علماکرام سے روابط مضبوط کرنے اور انہیں دعوت اسلامی کے شب وروز سے آگاہی دینے کےلئے ڈیپارٹمنٹ بھی تشکیل دیا ہے۔جس کا بنیادی کام ہی علما کی تعظیم وقار میں اضافہ کے کام کرنا ہے۔علما کرام سے آپ کی والہانہ محبت کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ آپ اپنی علمی مذاکرے کی نشست میں علماکرام کو صدارتی جگہ دیتے ہیں اور ان کی رائے کو بلاچون چراتسلیم کرتے ہیں۔کسی بات پر اگر عالم دین توجہ دلائے تو فور اپنی بات سے رجوع کرکے عالم دین کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔
امیر اہلسنت کی علمائے اسلام سے محبت کا انداز اور محبت کے تقاضے کو عملی شکل میں نبھانے اور دیکھنے کےلئے دعوت اسلامی کی دینی جدوجہد کے ابتدائی دور 1981سے 2025 تک کے تمام ماہ وسال کے مراحل میں علماکا ابھرتا ہوا کردار نظر آئے گا۔امیر اہلسنت نے دعوت وتبلیغ کے عملی دور میں جب آزادنہ قافلہ میں سفر کرتے تھے تو علما کی ہی صحبت میں حاضرہوکر ان سے علمی فیض لیکر دعوت دین کا کام کرتے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے بہت سی جگہوں پر نارواسلو ک بھی برداشت کیا۔لیکن زندگی کے کسی موڑ پر کبھی توہین علما کے مرتکب نہیں ہوئے۔بلکہ ہر لمحہ علماسے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپ نے علماسے اپنی محبت کےتقاضے نبھانے کےلئے دعوت اسلامی کے نظام کو بطوردلیل پیش کیا۔اس نظام میں جنتی علما کو اہمیت حاصل ہے شاید ہی کسی اور طبقہ کوحاصل ہو۔امیر اہلسنت نے علما کی نہ صرف سرپرستی کو قبول کیا بلکہ علماکرام کےدینی ومعاشرتی خدمات کی اہمیت معاشرے میں اجاگر کی۔علماکی معاشی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی دینی تحریک کے پلیٹ فارم پر علما کی دینی خدمات کے صلہ میں دیگر دینی ودنیاوی اداروں کے مقابلے میں سوفیصد مشاہرہ میں اضافہ کیا۔ دعو ت اسلامی کے ہر ڈیپارٹمنٹ کی دینی رہنمائی میں مفتیان کرام کو شرعی ایڈوائز مقرر کیا گیا۔علماکرام سے امیر اہلسنت کی بے لوث محبت کا صلہ ہےکہ عالمی مدنی مرکزفیضان مدینہ میں آئے دن دنیابھر کے علمااور دینی مدارس کےطلبہ کاتانا بانا بندھا رہتاہے ۔ہر ہفتہ کی رات جب امیر اہلسنت کراچی میں تشریف فرماہوتے ہیں تو پوری رات علما اورطلبہ کےساتھ دینی مشاورت اور ملاقات میں بسر ہوتی ہے۔
امیر اہلسنت کی علماکرام سے محبت کے ہمہ گیر اثرات
عصر حاضر میں امیر اہلسنت کی دینی تحریک کی44 سالہ زندگی خدمت اسلام کا استعارہ تسلیم کی جاتی ہے۔اپنے تو کجا غیر میں بانی دعوت اسلامی حضرت الیاس قادری کی دینی جدوجہد کو قابل تعریف سمجھتے ہیں۔انفرادی و اجتماعی سطح پرعلما ئے اسلام دعوت اسلامی کی کامیابی میں رطب اللسان نظر آئے ۔نہ صرف مختلف سیاسی وسماجی شخصیات نے مولانا الیاس قادری کی علمی وروحانی شخصیت سے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کیابلکہ ملک پاکستان اور بین الاقوامی اسکالرز بھی امیر اہلسنت کی کاوشوں کو عقیدت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔درحقیقت علم دین کی برکت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا صلہ ہے کہ مولانا الیاس قادری کی سیرت کو دنیا کےبڑے بڑے اسکالرز ،مفتیان کرام، علمائے اسلام، دینی ومذہبی شخصیات، سجادہ نشین حضرات، پیران عظام ،مذہبی قیادت کےسربراہان اور حکومتی نمائندگا سبھی اصلاح معاشرے میں بطور مثال پیش کرتے ہیں اور مولاناالیاس قادری کی پر امن تبلیغی مساعی کو دل وجان سے تسلیم بھی کرتے ہیں۔آپ نے علما میں اتحاد ویکجہتی کے فروغ دینے میں بڑاسب سےبڑا کردا ر ادا کیا۔دعوت اسلامی کے جملہ مکاتب اور ڈیپارٹمنٹس میں مختلف سنی ادارے کےاساتذہ اور فارغ التحصیل علما کی خوبصورت شکل دینی کام کرتےہوئے نظر آتی ہے۔آپ نے فقط اسوہ حسنہ اور سنت رسول کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔اسی مقصد کےتحت اپنی اور ساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح میں زندگی گزاررہے ہیں۔آپ نے کبھی علمائے کرام کی باتوں کو رد نہیں کیااورہرمعاملہ میں علما کی سرپرستی کو اہمیت دی اور مذہبی اختلافات سے اپنی دینی تحریک کودور رکھ کرامت کی اصلاح پر توجہ مبذول کی۔آپ نے علما سے محبت کا عملی ثبوت اپنے اداروں سے دیا۔آپ نے اپنی دینی تحریک میں علم دین کو ہی فوقیت دی اور اسی کی بین الاقوامی اشاعت میں علما کوذمہ دار ی دی۔دعو ت اسلامی کے شورائی نظام کے درخشندہ ستارے مختلف اداروں سے دینی علم کی فضیلت حاصل کرکے معاشرتی سطح پر علما میں یکجہتی ویگانگت کے فروغ میں عملی کاوشیں سرانجام دے رہے ہیں۔
علما میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ کی عملی شکل
موضوع سخن کی دلچسپی کا سامان امیر اہلسنت نے اپنی کردارسے پیش کیا۔آپ نے بین الاقوامی سطح پر اپنی دینی تحریک کے اثرات مرتب کئے تو بڑے بڑے اداروں کے سربراہان نے آپ کی دینی دعوت کو سنجیدگی سے لیااور اپنے اداروں میں احیائے سنت کی تحریک کو جگہ دی۔علماکرام اپنے اداروں میں فروغ علم میں کوشاں تو نظر آتے ہیں لیکن طلبہ میں کردارسازی کا عمل مفقود ہوتا ہے۔فلسفہ دین اسلام تو پڑھا یا جاتا ہے لیکن روح اسلام غزالی کےمنہج پر بہت ہی کم نظرآتی ہے۔یہ مولاناالیاس قادری کی شخصیت ہے جس نے پہلی بار عمل کی تحریک چلائی اور اس تحریک کےعملی مقاصد پر دینی اداروں کی بنیاد رکھی۔تربیت کے نظام کو اولین ترجیح دی اور دعوت وتبلیغ کی راہ کا مسافر بننےسے پہلے کردارسازی کے عمل سے اساتذہ اور طلبہ کوگزار۔امیر اہلسنت کے نظام تربیت سے استفادہ کرنے کےلئے پاکستان اوردنیا بھر کی جامعات کےطلبہ قافلوں کی صورت میں عالمی مدنی مرکز تشریف لاتے ہیں اور براہ راست امیر اہلسنت ک صحبت سے مستفید ہرکر معاشرتی کردار دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔مولانا الیاس قادری نے دعوت اسلامی کےپلیٹ فارم کو خدمت اسلام کےلئے علم وعمل سے لیس علماکے کردار کواجاگر کیااور دنیاکےسنی علما میں اتحاد ومحبت کی علامت پیش کی۔علما کرام سے آپ کے انداز محبت نے ایسا رنگ جمایا کہ تقریبا 150 ممالک میں دین اسلام کی تعلیمات عام کرنے کےلئے دعوت اسلامی کے تحریکی مقاصدکے تحت علما اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔امیر اہلسنت کی خدمت میں اکثرتشریف لانے والے علما جب واپسی پلٹے ہیں تو دل میں محبت امیر اہلسنت جماکر ازخود دعوت اسلامی کے ساتھ اپنے تعاون اور خدمت کا یقین دلاتے ہیں۔ یہ آپ کی اللہ کی بارگاہ میں مقبولیت کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ علماکرام آپ کے بارے میں جب اپنے تاثرات کا اظہارکرتےہیں بے خود ی میں آنکھیں اشک بہانا شروع کردیتی ہیں۔کئی علما تو رو رو کر امیر اہلسنت کو عالم سطح علم کا وقار بلندکرنے اور نظام اسلام کا انفرادی سطح پر نافذ کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔فقہی مسائل کے علما نے جب آپ کے منہج دعوت کو پڑھا اور آپ کی سنت رسول کےمحبت کو دیکھا اور عملی شکل میں سنت رسو ل کی اتباع دیکھی ششدرہ رہ گئے کہ اس دنیاوی جاہ وحشمت میں بھی کوئی مرد میدان ہے جو پیکر سنت رسول بن کر خدمت اسلام کررہا ہے۔مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب کے علما اور فقہی مسالک کے مفتیان کرام اپنی اپنی محبت کےسندیسے بھیج رہے ہوتے ہیں۔آپ نے انٹرنیشنل سطح پر کئی علمائے اسلام کے اجتماع منعقد کئے اور ان میں علما سے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیتے ہوئے انہیں اپنے اداروں کی سرپرستی کے لئے پیش کش کیں اور کئی علما اب دعوت اسلامی کے دینی پلیٹ فارم سے تربیتی نظام کی افادیت کو اپنے اداروں میں فوقیت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امیر اہلسنت کی طلبہ سے شفقت اور محبت
مدنی مذاکرہ اور اسلامک ریسرچ سینٹر کی علمی کاوشیں اور دین متین کی تعلیمات عام کرنے میں امیر اہلسنت کا علما سےانداز محبت اس بات کا چشم دید گواہ ہےکہ امیر اہلسنت نےدورحاضر میں علمی و فقہی مسائل کےبیان میں ہمیشہ علما کی طرف رجو ع کیا۔اور کسی بھی مسئلہ کی وضاحت میں علماکی رائے کو اہمیت دی۔آپ نے نہ صرف فقہ حنفی پر کتابیں تربیت دیں بلکہ اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کی ذمہ دارلگائی کہ تبلیغ میدان میں شوافع کے پیروکاروں کےلئے ان فقہی مسائل پربھی کتابیں تربیت دیں۔ یوں آپ ہر موڑ پر جب بھی عوام الناس سے مخاطب ہوتے تو علما کی جھڑمٹ میں اظہار بیان کرتے او ر لفظی یا شرعی مسئلہ کی وضاحت میں علما کی طرف رجوع کرکے ایک دیگر معاصر علمائے اسلام کےلئے مثال پیش کرتے۔آپ کاتبلیغ اسلوب اس بات پر عینی شاہد ہے کہ آپ نے علما کی رائے کے مقابلے میں کبھی اپنی رائے کو اہمیت نہیں دی اور دوران بیان اور مدنی مذاکرے کے سوال جواب میں کسی بات سے رجو ع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
امیر اہلسنت کی طلبہ سے شفقت اور محبت
نوجوان نسل کی تربیت اور ان کی دینی واخلاقی اصلاح امیر اہلسنت کی ترجیحات میں ہمیشہ پہلے درجہ میں آئی ہے۔آپ کی دینی تحریک کےآغاز میں اولین مخاطب نوجوان نسل ہی تھی۔نوجوان نسل کی اصلاح کے بعد علم دین سے روشناس کرنا کاوقت آیا تو جامعات المدینہ کی سنگ بنیاد کی طرف قدم بڑھا ۔ تعلیمی دو ر کے آغازسے ہی طلبہ امیر اہلسنت کی توجہ کا مرکز رہے۔آپ نے طلبہ کی تعلیم وتربیت ،علم فقہ اور دعوت وارشاد سے کماحقہ آگاہی کے لئے ملک پاکستان کے نامو ر علما کو جمع کیااور طلبہ کی بہترین انداز میں تعلیم وتربیت کےلئے بھر پور ماحول سازگار کیا۔آپ کی طلبہ سے محبت کا یہ عالم رہا کہ آپ طلبہ کی تعلیم کےساتھ ان کی اخلاقی تربیت کےلئے ان سے گھل مل کر نوک پلک سنوارتے ۔علمی ذوق ، شوق مطالعہ ، فہم قرآن ،درس حدیث، دعوت وتبلیغ مناہیج میں اسلوب غزالی ، روحانی ترقی کےلئےسلسلہ قادریہ کےاسباق ،فکری پختگی کےلئے فکر رضا اور فقہی جزئیات میں مہارت کےلئے بہارشریعت کےاسلوب کےمطابق طلبہ کی ذہن سازی کرتے ۔آپ گاہے بگاہے طلبہ کو قرب کی لذت دیکر ان کی تعلیمی حالت درست کرتے اور عمل کی جذبہ کو فوقیت دینے کےلئے اخلاق نبوت پڑھاتے ہیں اور خود زندہ مثال بن کر عملی شکل پیش کرتے ۔ تعلیم کےساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرتے اور طلبہ کے کردار میں سنت رسول کی جھلک دیکھنے اور معاشرتی ذمہ داری ادا کرنے کےلئے قافلوں میں سفر کرواتے تاکہ عملی دینی تربیت خود بھی حاصل کرسکیں اور دوسروں کی اصلاح کا باعث بھی بن سکیں۔
امیر اہلسنت نے طلبہ میں علم دین کےحصول کا شوق پیدا۔ جامعات المدینہ کے طلبہ کے اندرخود اعتمادی اور دینی خدمت کا جذبہ پروان چڑھایا۔ جامعات المدینہ کے تعلیم وتربیت کے نگرانی کےلئے علما کا انتخاب کیا اور طلبہ کے تعلیمی شیڈول کی از خود نگرانی کی اورانہیں تعلیم کےساتھ ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی۔ طلبہ سے محبت اور شفقت کا یہ عالم دیکھنے کو ملاکہ طلبہ کی تعلیم وتربیت اور رہائش اور خوارک کےسلسلہ میں کبھی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا۔طلبہ سے براہ راست تعلق رکھ کرانہیں خدمت دین کے لئے تیار کیا۔دین سےنئی نسل کا تعلق جوڑنے کےلئے علم دین کےفروغ اور اس کےثمرات سے معاشرے کو مستفید کرنے کےلئے جامعات کا جال بچھایااور علم پروری کی روشن مثالیں قائم کیں۔جامعات المدینہ کے علاوہ دیگر جامعات کےطلبہ سے بھی ملاقات کرتے اور ان کو بھی تعلیم کےساتھ عمل کی ترغیب دلاتے ۔امیر اہلسنت کےنزدیک طلبہ ملک وملکت کی تعمیر اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اسی لیے آپ کی تربیت کا زیادہ جھکاؤ طلبہ کی نوک پلک سنورانے میں رہتا ہے ۔دین کےطلبہ سے محبت اور شفقت کرنے میں امیر اہلسنت کی مثال دیگر علما کےلئے مشعل راہ ہے ۔آپ کی دینی تحریک میں طلبہ کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے اسلئے آج دعوت اسلامی کےجامعات کےطلبہ معاشرتی سطح پر امیر اہلسنت کی فکر کا عملی نمونہ بن خدمت دین میں نئے نئے رنگ جمارہے ہیں ۔
امیر اہلسنت کی علماو طلبہ سے محبت کے معاشرتی اور عالمی سطح پر اثرات
امیر اہلسنت کی علمااور طلبہ سے محبت اور انداز محبت کےتقاضے نبھانے میں دعوت اسلامی کے دینی ماحول کی ترویج میں غیر نمایاں کامیابی حاصل ہوئیں، عوام میں دین کی رغبت پیدا ہوئی، علما کا دعوت اسلامی اعتماد ہو، دعوت اسلامی کےدینی کاموں کےلئے مدارس وجامعات کےدروازے کھلے،آپ کی دعوت وارشاد کےاسلوب کو تقویت ملی اور معاشرتی اور عالمی سطح پر دعوت اسلامی کو علما اور دینی جامعات کےطلبہ کے کردارسے نئی پہچان نصیب ہوئی۔ مختلف ممالک میں اسلامی تعلیمات کےفروغ میں نئے تعلیمی اداروں کی بنیادیں قائم ہوئیں۔دعوت اسلامی کےجامعات المدینہ میں علمی وتحقیق فضا کا ماحول نظر آیا ۔کثرت سے علما نے دعوت اسلامی کی دعوت کو قبول کیا اور اپنے بچوں کو دینی واخلاقی تربیت کےلئے جامعات المدینہ پاکستان اور انٹر نیشنل تعلیمی اداروں کی طرف رجحان بڑھا۔امیر اہلسنت کی علما او طلبہ سے محبت کا سب سے بڑا فائد ہ امت کےاندر ایک مثبت اور تعمیر سوچ کا پیداہونا بھی ہے۔امت میں تفرقہ بندی ،گروہ بندی، باہمی چپقلش ، علمی مخاصمت اور معاصران چشمک جیسے عناصر کےسد باب کےلئے امیر اہلسنت کے انداز محبت نے محبت ، پیار ،اعتماد ، یگانگت، احترام باہمی، علما اور مشائخ کےاداب اور ان کے معاشرتی کردار کو جنم دیا۔ امیر اہلسنت کی سوچ میں مشائخ سے محبت فکر اعلی حضرت کی نگارشات کا کرشمہ ہے ۔ امیر اہلسنت نے کبھی کسی عالم کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ اس سوچ کو کبھی اپنی تحریک کاحصہ بھی نہیں بنایا۔آپ نے علما کےاحترام کا درس دیا، طلبہ کے دینی وقار کو معاشرے میں بحال کیا۔اسلامک اسکالرز کی تحقیقات کو منظرعام پر لانے کےلئے اسلامک ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں لائے اور علماہی کو اپنے اداروں میں کلیدی ذمہ داری دی۔
حاصل کلام
امیر اہلسنت نے علما اور طلبہ سے محبت وشفقت کا انداز اسلام کے پیش کردہ نظام احترام کی بنیاد پر رکھا۔قرآن وحدیث میں علما اور طلبہ کی فضیلت بیان کی گئی اسی کو اپنی زندگی کی عملی مثال بنائی۔ آپ کے انداز محبت نے علما کے دل جیتے ، طلبہ کو علم دین کے قریب کیا۔ امیر اہلسنت کی علم دین سے محبت نے اسلامی جامعات کی رونقوں میں اضافہ کیا۔علم دین حاصل کرنے کی لگن پیدا ہوئی۔ امیر اہلسنت کا طرز عمل آنے والے علما اور طلبہ کےلئے مثال کردار بن کر مستقبل کے آئینہ میں چمکے گا۔امت کو امیر اہلسنت کےانداز محبت سے علما اور طلبہ کی قدردانی کےلئے روشن مثالیں نظر آئیں گی۔ اللہ تعالی امیر اہلسنت کے دینی اخلاص کو شرف قبولیت سے نوازے اور آپ کا صحبت کاملہ نصیب ہو ۔آ مین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا علما و طلبہ سے محبت و شفقت کا انداز محض ایک اخلاقی رویہ نہیں بلکہ ایک حکیمانہ دعوتی حکمتِ عملی ہے۔ اس سے نہ صرف علما و طلبہ کے دل جیتے گئے بلکہ امت کو ایک متحد اور علمی ماحول فراہم کیا گیا۔ آج کے دور میں جب علما و طلبہ کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، امیرِ اہلِ سنت کا یہ طرزِ عمل ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے کہ ہم علما کی عزت کریں اور طلبہ کو مستقبل کے معمار سمجھ کر ان سے محبت و شفقت کا معاملہ کریں۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!