سیرت النبی کے عملی فروغ میں حضرت علامہ محمد الیاس قادری عملی کرداراور اس کے عالمی اثرات سیرت پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
پیغمبر اسلام اللہ کے آخری نبی جناب احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت انسانی رشد وہدایت کےلئے عملی نمونہ ہے جس کوصرف پڑھنا اور کتابوں میں محفوظ دیکھنانہیں۔ بلکہ آپ کی خوبصورت زندگی کو عملی اعتبار سے زندگی میں نافذ کرنا ہی خالق کائنات کا مقصود ہے۔آپ کی سیرت کامطالعہ اور سیرت النبی کانفرنسس کا انعقاد کرکے امت آپ کے حقوق سے اس وقت دستبرار نہیں ہوسکتی جب تک آپ کی سیرت کے جملہ پہلو ؤں کی اطاعت کو شعارزندگی نہیں بناتی ۔ بنا اطاعت واتباع کے سیرت النبی کے تقاضے مکمل نہیں ہوتے۔کیونکہ آپ کا وجود مسعود نسل انسانیت کےلئے شجرسایہ اور مینارہ ہدایت ہے۔ آپ کی سیرت کو قرآن نے بہترین نمونہ قرار دیا ہے ۔ آپ علیہ السلام قرآن کے اخلاق کا عملی کردار اور احکامات قرآن کا سرچشمہ ہیں ۔قرآن کی تفسیر کا ہر پہلو آپ کےعمل سے ظاہر اور پوری انسانیت کےلئے ہدایت کی راہ متعین کرتا ہے۔بعد از خدا آپ رشد وہدات اور جملہ انسانی کمالات کا حسین اور خوبصورت مجموعہ ہے۔آپ تاریخ انسانیت کا وہ مکمل با ب ہیں جس کے ہر پہلو کو سیرت نگاروں نے اپنی نگارشات میں محفوظ کیا۔ امت کو آپ کی سیرت نگاری کا ورثہ تحفہ میں دیا۔آپ قدرت کی نگاہوں کے حسین انتخاب ہیں ۔ آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ قدرت الہی کی جلوگری ہے۔آپ رب کائنات کی صفات کا آئینہ ہیں جس میں خالق ارض وسما کی شانوں کا عکس چمکتا ہے۔آپ کی سیرت کا ہر پہلو امت کے لئے ضابطہ حیات ہے ۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی فروغ کی ضرورت اور اہمیت: تہذیبی کشمکش اور اقوام عالم کی باہمی چپقلش نے انسانیت کاشیرازہ بکھیردیا ہے۔ اعلی اخلاقی قدریں دم توڑچکی ہیں۔آسمانی صحائف پر یقین رکھنے والی قومیں اپنی برتری کو ثابت کرنے اور دوسروں کے حقوق کوپائمال کرنے میں وسائل کےبے دریغ استعمال کررہی ہے ۔زمین کا کوئی خطہ باہمی جنگوں سے محفوظ نہیں۔ طاقتور قوتیں کمزور لوگوں پر ظلم کرکے اپنی شان وشوکت کےاظہار کا نمونہ بنارہی ہیں ۔پور ی اقوام عالم سیاسی ، سماجی ، معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی ، تعلیمی اوردینی ومذہبی ہر لحاظ سے پستی کی طرف جارہی ہے۔احترام ِانسانیت کی اعلی اخلاقی قدریں صرف چند افراد تک محدود ہوچکی ہیں ۔ان نامساعد حالات میں دنیاپھر سے سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ اکیسویں صدی کے تہذیبی تناؤ میں اسلام کے نام لیوا مذہبی و سیاسی قیادت کو فخر ہونا چاہئے تھاکہ ان کے پاس پوری انسانیت کی ہدایت اور اقوام عالم کے امن کےلئے آسمانی ہدایت کا عظیم صحیفہ قرآن اور کلام اللہ کی تفسیر کاحسین نمونہ سیرت مصطفی موجود ہے۔قیادت وسیادت کےتمام پہلوؤں کو اجاگرکرتی سیرت ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ جس کی روشنی میں ہم اقوام عالم کو امن ، محبت، پیار ،باہمی احترام ، شرف انسانیت کی اعلی قدریں اور رواداری کی تعلیمات پہنچا سکتے ہیں۔ اور درحقیقت سیرت النبی پر عمل کی ضرورت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ہم دنیا کی توجہ پھر سےرسول عربی کی تعلیمات اورآپ کی روشن سیرت کی طرف متوجہ کریں ۔تمام مذاہب دنیا کو امن کا پیغام سیرت النبی کی تعلیمات سے دیں۔سیرت النبی کے عملی پہلوؤں کی طرف اقوام عام کی توجہ مبذول کروائیں تاکہ اخلاق نبوت کی برکتوں سے معاشرتی قدریں زندہ ہوسکیں۔ دنیامیں امن کا فروغ سیرت مصطفی کی روشنی میں ممکن ہوسکے۔دنیا کو پھر سے سیرت النبی کے عملی فروغ اور سیرت مصطفی کے نظام کی عملی تعبیر کی ضرورت ہے۔ آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی تعلیمات کی عملی نشرواشاعت کرنا وقت کی اہم ضرورت اورامت کی فلاح کی ضامن ہے۔سیرت النبی کی عملی فروغ میں ایک کردار دعوت اسلامی کے بانی کا بھی ہے جن کےاسلوب کو اختیار کرکے ہم دنیاکو شرف انسانی کا پیغام دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔اکثر کانفرنسس میں سیرت النبی پر کتابی باتیں توسننے کو ملتی ہیں لیکن اسکالرز اور سیرت نگاروں کی اپنی زندگی سیرت کے عملی پہلو ؤں سے بہت دور نظر آتی ہے۔ سیرت نگار مولاناالیاس قادری کی سیرت نگاری کا عملی نفاذ چنانچہ موجودہ صدی میں سیرت النبی کے عملی پہلوؤں کو معاشرےمیں اجاگرکرکے اس کی عملی شکلیں پیش کرنے اور عالمی سطح دین اور سنتوں کی تبلیغی خدمات سرانجام دینے والی تحریک دعوت اسلامی کے بانی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری وہ تاریخ ساز شخصیت ہے جنہوں نے معاشرے میں سیرت النبی کی کانفرنسس ، مجالس، محافل کےانعقاد پر اکتفانہیں کیابلکہ عملی اعتبار سے سیرت النبی کےابواب کی عملی تعبیر پیش کی اور معاشرےمیں اسوہ حسنہ پر عمل کے رواج کو پروان چڑھایا۔ حضرت الیاس قادری نےسیر النبی کانفرنسس اور سیرت النبی کی محافل منعقد کرکے حقوق مصطفی کو بیان نہیں کیابلکہ امت پر جو حقوق مصطفی تھے انہیں عملی تعبیر کےذریعے اد ا کرنے کی مثال قائم کی۔ سیرت نگاری کے ذریعے اوقوام عالم کو پیغام امن ومحبت اور احیائے سنت کی عظیم تحریک کا نظام دیا۔وقت کی ضرورت ہے کہ نظام مصطفی کی عملی نفاذ میں مولاناالیاس قادری دینی جدوجہد سے استفادہ کرکے سیرت رسول پر عمل کا ماحول بنائیں اور اپنی نسلوں کو سیرت النبی کا روشن عملی نظام دیکھائیں۔ سیر ت البنی کےفروغ میں مولانا الیاس قادری کامنفرد اسلوب تبلیغ اور دینی حکمت عملی: سیرت نگاری کو روایتی انداز میں بیان کرکےمولاناالیاس قادری نے دینی فرض سے سبکدوشی اختیار نہیں ہےاور نہ سیرت نگاری کے مروجہ اسلوب کو اپنا کر سیرت نگاروں میں اپنا نام لکھوایا۔ بلکہ اپنے پراثر لہجہ اور سریت مصطفی کے عملی نظام سے سیرت نگاری کی۔ سیرت کے ابواب کو واقعات کی صورت میں بیان کرکے اخلاق نبوت سے اخلاقی تربیت کا نظا م قائم کیا۔ عالمی مسائل کےحل میں سیرت مصطفی سے مثالیں پیش کیں۔ معاشرے میں سیرت نگاری کے عملی پہلواجاگر کئے۔آپ نے سیرت نگاری میں جو منفرد اسلوب کو اپنایا اور حکمت عملی سے دینی نظام قائم کرنے کی کوشش کی اس کی چند مثالیں سپرد قلم کی جاتی ہیں:-
سیرت النبی کا عام فہم اسلوب بیان: حضرت الیاس قادری نے سیرت نبی کے عملی فروغ میں کتابیات سے زیادہ عملی پہلو پر زور دیااور سیرت النبی کو عام فہم زبان اور سادے انداز خطاب کے ساتھ بیان کیا۔سیرت کےواقعات سے عملی شکلیں پیش کیں، مشکل اور سمجھ میں نہ آنے والی ابحاث اور گفتگو سے پرہیز کیا ۔نوجوانان ملت کی فکری پریشانی سیرت رسول کے روشن پہلو ؤں سےدور کی اور سیرت پرعمل کی افادیت سے مرتب ہونے والے نتائج کی طرف توجہ دلائی ۔
-
سیرت النبی کے عملی کردار پر زور: حضرت نے اپنے پراثراسلوب بیان کےساتھ سیر ت طیبہ پراپنے عمل وکردار سے مثال دےکر افراد معاشرہ کی روز مرہ زندگی میں سیرت کو اپنانےکی ترغیب دلائی ۔رسول کی نمازیں، ادائیں، باتیں، حسن کردار، حسن اخلاق، معاشرتی کردار، سماجی خدمات، اخلاقی قدریں، امانت ،دیانت ،سچائی ، صداقت، حق گوئی، حسن سلوک، خاندانی روابط میں باہمی احترام ، عفو ودرگز کا فروغ، ملنساری، تحمل مزاجی، دوسروں کی تکلیف پر صبر کی تلقین وغیرہ معاشرتی آداب کو دینی آداب اور آداب زندگی کو حتی المقدور نافذ کرنے کی کوشش کیں۔سیرت نگاری میں سیرت کے عملی پہلوؤں کو خاص توجہ کا مرکز بنایا اور دنیا کےسامنے سیرت پر عمل کا نظام انفرادی اوراجتماعی طور پر بیان کیا۔
-
سیرت کے واقعات سے معاشرتی اصلاح: مولانا الیاس قادری نے سیرت نگار مصنفین کی طرح سیر ت طیبہ کے واقعات پر قلمبندی کرکے اپنی فرض منصبی ادا نہیں کیابلکہ سیرت رسول سے واقعات بیان کرکے اثر پزیری کو سوچ کو پروان چڑھایا اور سبق آموز واقعات اور عبرت انگیز حکایات کےذریعے سیرت نگاری کے فن میں نیاعلمی کردار پیش کیا اور پڑھنے اور سننے والوں پر گہرا اثر ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔سیرت کے واقعات کو منفرد اسلوب بیان اور دل چھونے والے عنوانات کےساتھ بیان کیا جس سے نوجوانوں میں سیرت کےمطالعہ کی رغبت پیداہوئی ۔سیرت کےحسین وخوبصورت واقعات سے معاشرتی اصلاح کی طرف رجحان بڑھا۔۔
-
سیرت کا عملی نفاذ دعوت اسلامی کا پلیٹ فارم: مولاناالیاس قادری کا سیرت نگاری کے حوالے سے منفردکام سیرت کا عملی نفاذ ہےجو انہوں اپنی دینی تحریک میں عملی طور پر نافذ کیاایک ایسا ماحول تشکیل دیا جس میں سیرت کےابواب کی عملی تعبیر دیکھنے کو ملتی ہے۔حسن اخلاق سے متصف مبلغین کی جماعت سیرت رسول پر عمل پیرا دین کی باتیں، اسلام کی تعلیمات ،اسوہ حسنہ اور علم دین کو دوسروں تک پہنچانے کےلئے عملی سیرت نگاری کے پلیٹ فارم پر نظر آتے ہیں۔
-
سیرت نگاری کےذریعے نوجوان نسل کی کردار سازی: نوجوان نسل کی اخلاقی و دینی تربیت میں امیر اہلسنت کی سیرت نگاری کا کردار لائق تحسین ہے۔آپ نے اخلاق مصطفی کےحسین پیرائے کے بیان میں نوجوانوں کے دلوں میں عشق مصطفی کی شمع فروزاں کی،سیرت نگاری کےذریعے محبت رسول کے جام سینوں انڈیلے اور محبت رسول کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلئے نوجوان نسل کی کردارسازی کی ۔عبادت کے ساتھ اخلاقی اصلاح کو توجہ کامرکز بنایا۔ معاشرتی برائیو میں مبتلاافراد کی کردارسازی کی اور انہیں اچھے اخلاق اپنانے کی تعلیمات دیں۔گناہ، بدی، برائی، بد اخلاقی، چوری، زناکی مختلف صورتوں سے اجتناب، آپس کی نفرت اور دیگر واہیات اورشرانگیز کاموں سے کنارہ کش ہونے کا ذہن دیا اور اخلاقی حالات سدھار کےلئے اخلاق نبوت سے مثال پیش کیں ۔
-
سیرت کے مطالعہ کارجحان : امیر اہلسنت کی سیرت نگاری کا ایک اہم پہلو جو عصر حاضر کےسیرت نگاروں سے ممتاز نظر آتا ہے ہو ملت کےنوجوانوں میں سیرت کے مطالعہ کا شعور پیدا کرنا ہے۔ آپ نے اس مقصد کےلئے بڑی بڑی ضخیم کتابیں تصنیف نہیں کی بلکہ چھوٹے چھوٹے رسائل کی اشاعت کےذریعے نوجوانوں میں سیرت کی مطالعہ کی رغبت دلائی اور ہر ہفتہ سیرت کےمطالعہ کا ہدف دیا اور اس ہد ف کی تفصیلات بھی پوچھی ۔
-
زندگی کے مقصد کا احساس: مولانا کی سیر ت نگاری سے نوجوانوں کی جہاں اخلاقی حالت میں تبدیلیاں آئیں وہیں انہیں زندگی کامقصد ملا ،بیکار کاموں میں زندگی گزارنے کی بجائے دینی لبادہ کو زیب تن کیااور معاشرتی کردار اپنا کا ذہن بنایا ،قدرت کی عطا کردہ توانیاں اور صلاحیتیں مثبت اور تعمیر ی کاموں میں استعمال کرنے کا رجحا ن بڑھا۔
-
دنیاوی تفکرات سے نجات: نوجوان نسل جو دنیاوی تفکرات اور آوارہ لوگوں کی سنگت میں بیٹھ کر نشہ آور ادویات اور زندگی کو برباد کرنے والی چیزیں استعمال کررہے تھے انہیں مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری کے فن نے متاثر کیا اور دنیاوی تفکرات سےبچنے کےلئے جو زہر آلود مضر صحت نشہ آور چیزیں استعمال میں تھیں انہیں چھوڑ کر فکر آخرت کی طرف دھیان لگایا اور نوجوان نسل کی اخلاقی ودینی حالت میں سدھار ہوا۔
-
احترام انسانیت کا فروغ باہمی احترام: ۔
-
مولانا الیاس کی سیرت نگاری کا مقصد فقد رسول کی سنتوں کازندہ کرکے قرآن وسنت کی بالادستی قائم کرنا اور سنتوں کی تعلیمات پر مشتمل معاشرہ کا قیام وجود میں لانا ۔ آپ نے سیرت نگاری کے ذریعے اخلاق نبوت عام کرنے پر زور دیا ۔اور جس وقت اپنی تحریک کا آغاز کیا وہ وقت نسل کشی ،قتل وغارت کا زمانہ تھا اس دور میں آپ نے سیرت نگاری کی عملی فروغ میں احترام انسانیت کا درس دیا اور حقوق انسانیت کی پاسدار کو سیرت النبی کی روشنی میں بیان کی جس سے باہمی احترام کا ماحول بنااور جو لوگ دوسروں کی زندگیوں سے کھیل رہے تھے وہی محافظ ملت بن کر سیر ت رسول پر عمل کرنے والے بن گئے۔
-
ملنساری اورعاجزی کی عادات : ۔
-
سادگی، باتوں میں نرمی، دوسروں سے عاجزی وانکساری سےبات کرنا ، غریبوں امیروں کے فرق کو مٹاکر ہر ایک کو سینے لگانا اور سنت کا عامل بنانا سیرت نگاری میں اولین ترجیح تھی ۔مولاناالیاس قادری نے کمال درجہ کی حکمت عملی اور تدبیر سے عاجزی وانکساری کو فروغ دیا اور خود عملی اعتبار سے ایک مثال شکل پیش کی ۔ دین کی تبلیغ میں اسوہ رسول سےعملی مثال اور اپنے تبلیغی جدوجہد میں مولانا الیاس قادری نےسیرت نگاری کےروشن پہلو صبرو تحمل کا رواج بڑھایا ۔دوسروں کی تکلیف او راذیت پر صبر کرنے کا ذہن دیا اور اللہ سے اجر اور ثواب پانے کا ذہن دیا۔
-
صلہ رحمی کے جذبات کا فروغ :۔
-
سب سے بڑی کاوش مولاناالیاس قادری نے سیرت نگاری کے ذریعے صلہ رحمی کے جذبات ابھارنے کےلئے کی۔آپ کی کاوشوں سے کئی اجڑے دیا پھر سے بہار آفریں گے اور باہمی رنجشیں الفت ومحبت میں تبدیل ہوگئیں ۔سیرت نگاری کےذریعے حضرت الیاس صاحب نے جو اخلاق نبوت عام کرنے کی کوشش کی اس کے نتائج اور اثرات اتنے دور رس ثابت ہوئے کہ آپ کا لگایا ہواپودا آج دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں شجر سایہ دار بن کر سنت رسول کی بہاریں لٹارہا ہے۔
-
سیرت نگاری کے ذریعےاحکام دین کا فروغ :۔
-
حضرت امیر اہلسنت نے دنیا کے سامنے سیرت نگاری کےذریعے احکام دین پر عمل کا نظا م قائم کیا۔مساجد کی آباد کاری ہوئی، عبادات کا ذوق پروان چڑھا۔ -
آداب زندگی نے گھر گھر میں جگہ پائی، امت کے فساد کےوقت سنتوں بھرا ماحول پید ا ہوا، زندگی کے معمولات میں سیرت رسول عربی کے عملی نمونہ دیکھنے کو ملیں، بھولی بسری سنتیں زندہ ہوئیں۔ -
فہم قرآن کا جذبہ پھر سے جوان ہوا، تلاوت قرآن کا ذوق بڑھا، مدارس المدینہ قائم ہوئے ،گھر گھر محلہ شہر ہر جگہ قرآن کی تعلیمات عام کرنے کاسلسلہ ہوا۔ارشادات رسول سے تلاوت قرآن کے فضائل سن کر قرآن محبت پیدا ہوئی ۔لاکھوں کی تعداد میں بچے اور بچیاں زیور تعلیم قرآن سے متصف ہوئیں۔ -
سیرت النبی کے واقعات عملی طور بیان ہوئے تو لوگوں نے اسوہ حسنہ کو اپناکر گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کیا اور خاص کر نوجوانوں میں توبہ اور استغفار اور نیکی کی راستہ پر چلنے کا ذہن بنا۔ -
احکام دین پر عمل کی صورت بنی ، مکمل طور پرنظام اسلام کی عملی شکل دعوت اسلامی کے ماحول میں نظر آنے لگیں ۔آپ کی سیرت نگاری کے اسلوب نے دنیا کو نیا نظام دیا ۔
-
امیر اہلسنت کی سیرت نگاری کے بین الاقوامی اثرات :۔
-
بانی دعوت اسلامی کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے اثرت نے تہذیب مغرب کو جب اپنی دینی کاموں سے متاثر کیااور خلیجی ممالک، یورپ ، امریکہ ،افریقی ممالک ،ایشیائی ریاستیں تقریبا 150 سے زائد ممالک میں دعوت اسلامی نے سیرت رسول عربی کی سنتوں کو زندہ کرنے کی عملی کوششیں کیں اور بانی دعوت اسلامی کی سیرت نگاری سے دنیاکو متاثر کیا۔پرامن ،رواداری اور باہمی احترام کےساتھ دین کا کام بڑھتاگیا۔ اسلام کے پرامن نظام کو متعارف کرویا ۔سیرت نگاری کے عملی پہلوؤں سے دنیا کو متاثرکیا۔ تعلیمات اسلام کے پرچار سے غیر مسلم اسلام کے حلقہ میں داخل ہوئے۔ -
سیرت نبوی کے عملی فروغ میں مولانا الیاس قادری کی دینی حکمت عملی اور اسلوب تبلیغ نے اقوام عالم کو احیائے سنت کا عملی نظام دیا۔مولانا الیاس قادری کی حکمت عملی نے وقتی طور پر اپنوں کو پریشان کیالیکن جب دین کاکام سرحدوں کو عبور کرتاہوا دنیا کے کونے کونے میں پہنچا اور تبلیغ کے نئے میدان متعارف ہوئےتو جو نقاد تھے وہ تعریفوں کے پل باندھنے لگ گئے ،تنقیدی دینی کاموں سے مثبت انداز سوچ میں بدل گئی اور دعوت اسلامی کی دنیکی کی دعوت سے متاثرہوکر غیر بھی سیرت رسول عربی کے سانچے میں ڈھلنے لگ گئے ۔یوں مولانا الیاس قادری نے سیرت نگاری کے عملی فروغ میں اسوہ حسنہ پر عمل کرتےہوئے دین کا کام کیااو ر سیرت نگاروں کے سامنے سیرت رسول عملی نظام پیش کیا۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!