معاشرتی اقدار پر شخصیت کےاثرات
معاشرتی تبدیلی میں مولانا الیاس قادری کی شخصیت کا تعارف
اگر ہم معاشرتی تبدیلی میں شخصیت کےاثرات کا جائزہ لیں تو اکیسویں صدی میں کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک فرد نظر آتاہے ۔جس نے امت مسلمہ کو دین پر عمل کرنے کا ایسا رول ماڈل عطاکیاجس نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ پوری دنیاکو اپنے دینی انقلاب کی روشنی سے منور کیا۔21ویں صدی میں انسانی معاشرے پرفرد کے گہرے اثرو رسوخ رکھنے والی مسلم وغیر مسلم شخصیات کاجائزہ لیں تو ہمیں ایک مردِآہن پیرہن سادگی میں محمد الیاس قادری کی شخصیت نظر آتی ہے۔جنہیں اللہ تعالی نے ایسی خوبیوں اور کمالات کےساتھ نواز کر اصلاح معاشرہ کےلئے روشن چراغ بنا کر بھیجا جس کی روشنی سے اخلاقی زوال کا شکار قوم،دین بے زار قوتیں، جہالت کےاندھیروں میں سرگرداں عوام،عقائد ونظریات کےباب میں ہچکولے کھاتی نسلیں راہ راست پر گامزن ہوئیں۔جہالت کےاندھیرےدورہوئے،علم کا بول بالا ہوا، احیائے سنت رسول کو ماحول بنایا،بلکہ عالمی سطح پر معاشرےکے ہر پہلو اور طبقہ پرتبدیلی کے گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
معاشرتی اقدار کی تباہ حالی کےسدباب میں دینی جدوجہد
1980 کی دہائی کا عمیق نظر سے جائزہ لیں تو یہ وقت تھا جب مسلمانوں کو دین سے بیزار کرنے کےلئے ایک گہری سازش کی جارہی تھی۔مذہبی ولسانی نفرت وتعصب کی آگ کے شعلے خرمن ایمان کو جلارہے تھے۔علمائے اسلام کی تحقیر اور مخصوص طبقہ کو علماکےمقابلے میں کھڑا کرکے لوگوں کو دین سے بیزار کیا جارہاتھا۔مساجد ومدارس کا نظام محدودہوتاجارہاتھا۔مذہبی رسومات اور معمولاتِ اہلسنت پرقدغن لگائی جارہی تھی۔ ان حالات میں ایک ایسے فرد کی ضروت تھی جو افراد معاشرے کے مذہبی تشخص اور دینی رسومات کو پھر سے زندہ کرے۔ چونکہ علمائے اسلام کا کردار بہت محدود کردیا گیاتھا۔کوئی نڈرعالم حق بات کرتاتواوباش قسم کے لوگ حق کی آواز کو دبانےکےلئے مختلف قسم کے ہھتکنڈے استعمال کرتے۔ان نامساعد حالات میں اللہ تعالی نے الیاس قادری کو وہ آواز حق بخشی جس کی گونج نے ہرقسم کے حالات کو دینی تاثر سے متاثر کردیا۔
افرادِمعاشرہ میں دینی شعور کی بیداری:
فرد کی اصلاح سے معاشرتی تبدیلی کی طرف مولانا الیاس نے قدم بڑھایا، ایک ایک فردکےدل میں مصطفوی انقلاب بپاکیا۔پیار ومحبت ،دینی حکمت عملی سے لوگوں کی ذہن سازی کی۔گناہوں کے دلدل پھنسے اور قتل وغارتگری کی کاروائیوں میں ملوث لوگوں کے پاس جاکر گناہوں کے عذابات بیان کئے۔ ایذا رسائی، ظلم وستم،معاشرتی جبر،لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی اُخروی سزائیں قرآن وحدیث سے بیان کی۔ مولانا الیاس کی دینی جدوجہد اور ذہن سازی کی کاوشیں آہستہ آہستہ دلوں میں حق کی راہ اپنے کی تڑپ پیداکرنے لگی۔مساجد کی آبادکاریوں کو ویران کرے والے پھر سے نمازی بن کر مسجدوں کو رونقوں بحال کرنا شروع ہوگئے۔طہارت،غسل ،وضو اور نماز کی بنیادی مسائل سکھا سکھا کر دینی شروع بیدار ہونے لگا۔یوں بہت تھوڑے وقت میں مولانا الیاس کی شخصیت کے روحانی اثرات نے معاشرے میں ایک اپنا مقام بنانا شروع کردیا۔مذہبی رسومات ،دینی تقریبات کے اجتماعات منعقد ہونے لگے تو لوگوں میں مولانا الیاس کی شخصیت کو دیکھنے اور ان سے ملنے کو شوق پیدا ہوا۔
سنت رسول پر عمل مولانا الیاس قادری کی شخصیت کا نمایا ں پہلو
مولانا الیاس قادری کی شخصیت میں اللہ تعالی نےایسے کمالات ودیعت کئے کہ ہر کوئی آپ کی سادگی ،سنت پر عمل کا جذبہ ، حسن اخلاق، تقوی، للہیت، دلجوئی کی عادت، مزاج پرسی،دوسری کی ضروریات کا خیال، ایذارسائی سے بچنےکی حد درجہ احتیاط سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اور سب سے بڑی بات جو مولانا کی شخصیت کا نمایاں پہلو رہی وہ سنت رسول کی پابندی ہے جس نے لوگوں کےذہنوں کومتاثر کیا۔ دلوں میں مولانا کی شخصیت کی جاذبیت نے جگہ بنانا شروع کی۔پھر مولاناکی دینی وفکری سوچ نے قلوب واذہان کو متاثرکرتے ہوئے معاشرے کی طرف توجہ کی تو معاشرہ نے چوں وچراں کئے بغیر مولاناالیاس کی فکرکو اپنی اندر پنپنے کےلئے جگہ فراہم کی۔یوں مولانا محمد الیاس قادری کی نیکی کی دعوت نے احیائے سنت کا ماحول پیداکردیا۔معاشرےمیں دینی شعور کی بیداری ہوئی ،مذہبی تشخص اور دینی رسومات بحال ہوئی۔
تبلیغِ دین میں امیرِ اہلِ سنت کا فکری وژن
دینی ماحول کے علاوہ محمد الیاس کی شخصیت نے پروفیشنل زندگی میں بھی دینی انقلاب برپاکیااور ہر شعبہ ہائے زندگی میں شریعت کے اصول بیان کئے اور عملی طور پر اپنی مرکزی دینی تربیت گاہ ،مرکز علم دانش، میکدۂ شریعت وطریقت، میخانے علم وحکمت،مینارہ نور فیضان مدینہ کراچی میں خدمت دین کے 80سے زائد ڈیپارٹمنٹس میں شریعت کے اصولوں کی پاسداری کو ممکن بنایا اور دنیا کو احکام شریعت پر عمل کرنے کارول ماڈل دیا۔ یہ وہ معاشرتی تبدیلی کا آغاز تھا جو مولانا الیاس قادری کو اکیسویں صدی میں مسلم وغیر مسلم شخصیات کی فہرست کی صف میں پہلا اول مقام دلاتی ہے۔حضرت الیاس صاحب ایک مسلم اسکالر کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش ہوئی اور ایک مفکر اسلام کی حیثیت سے معاشرتی تبدیلی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو نمونہ کے طور پر پیش کیا۔
سنت رسول پر عمل کی تحریک کا عملی نظام
حضرت الیاس قادری کی شخصیت کے اثرات نے عوام وخاص بلکہ زندگی کے ہر طبقہ کےافراد میں نبوی انقلاب بپاکیا۔حضور علیہ الصلاۃو السلام کی ہر ادا پر عمل،ایک ایک سنت رسول کا زندہ ہونا، کھانےپینےسونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے، ملنے ملانے،سلام وکلام،مزاج پرسی وتیماداری،تعزیت وتہنیت،فرائض وواجبات کی ادائیگی، مسجد وگھر کےآنے جانے میں، کاروبارزندگی کےہر شعبہ میں یہ پیکر اخلاق سنت رسول کو زندہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے،تن آسانی کےلئے نرم گرم ملائم بستر چھوڑ کر نبوی بستر پر استراحت وآرام کے مزے۔ورطہ حیرت میں ڈال دیا سب کو،دیکھنے والے دیکھ شرمندہ ہوتے اور مولانا کی شخصیت کےاثرات میں ڈھلتے۔ یوں شہر کراچی سے پورے پاکستان میں احیائے سنت کی دینی تحریک دعوت اسلامی کےبانی مولانا حضرت محمد الیاس کی زندگی کےاثرات مرتب ہوئے ،سنتوں پر عمل کا رواج پروان چڑھااور دینی تحریک دعوت اسلامی کے ماحول نے ایسے افراد پیدا کئے جو عملی طور محمد الیاس کےوژن کو دنیا میں متعارف کروارہے ہیں۔
اسلامی رسم ورواج کاپروان اور مذہبی بدعات کاخاتمہ
اسلام کےخلاف باطل کے نظریات کی اسلامی عقائدسے اصلاح اور مغربی سوچ وفکر کے سامنے اسلامی تہذیب وتمدن کے رواج پروان چڑھانا مولانا الیاس قادری کاتاریخی کام سنہری الفاظ سے لکھنے جانے کے قابل ہے۔معاشرتی رسم ورواج میں غیر ضروری و غیر اسلامی بدعات نےجو پنجے گڑھے ہوئے تھے مولانا الیاس قادری کی شخصیت نے ان تما م خلاف شرع بدعات ورسومات کا خاتمہ کیا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ، تابعین وائمہ مجتہدین، ائمہ اہلبیت ،اولیائے کرام کے کردار کو مسلم شخصیات کے طور پرپیش کیا اور ان کی علمی و روحانی کاوشوں سے افراد معاشرے کی تعلیم وتربیت کا سامان فراہم کیا۔
معاشرتی تبدیلی میں مولانا الیاس کے نظام تربیت کے اثرات
معاشرتی طبقات میں مولانا الیاس کی شخصیت کے اثرات
حضرت مولانا الیاس قادری کی شخصیت اور دعوت وارشاد کے اثرات نے محدود پیمانے پر تبدیلی نہیں لائی بلکہ آپ کی دعوت کی جامعیت نے ہر طبقہ کو متاثر کیا،عوامی سطح پرتبلیغ کاکام کیا تو علماکےلئے تعلیم وتربیت کا نظام متعارف کرویا،اسلامی اسکالر بنانےکےلئے جامعات کی بنیاد رکھیں،بچوں کےلئے جدید طرز پر دینی ودنیاوی تقاضوں کو پورا کرتا ہوا اسلامک اسکولنگ سسٹم دیا،بچیوں کےلئے محفوظ تعلیمی ادارےبنائے۔ درحقیقت الیاس قادری کی شخصیت کے اثرات نے ہر سطح کے لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے کےلئے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب کئے۔ حضرت الیاس قادری نے کاروباری حضرات اور پرفیشنل حضرات ، مزدور طبقہ ، صنعتکار، تجارت پیشہ افراد، بزنس مین،سیاست دان، حکومتی عہدار،چپڑاسی، ملازمیں، منتظمین، معلمین، اساتذہ، طلبا بچے بوڑے جوان الغرض طبقہ انسانی کے ہرفرد اور شعبہ میں معاشرتی تبدیلی کے ہمہ جہت دینی اثرات مرتب کئے۔
بین الاقوامی مسلم کمیونٹی پرالیاس قادری کی شخصیت کے اثرات:
نہ صر ف پاکستان بلکہ بیرون ملک مسلم کمیونٹی میں مولانا الیاس کی شخصیت نے بہت گہرے اثرات مرتب کئے۔کمیونٹی نظام کے تحت رہنے والے لوگ اپنی کمیونٹی کو ہی ترجیح دیتے ہیں ان کےاپنے قانون اور ضوابط ہوتے ہیں ، محدود پیمانو ں پر باہر کےلوگوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔لیکن مولانا الیاس کی دعوت کے اثرات نے ان کمیونٹیز کو متاثر کیا ،مولانا کی دینی جدوجہد نے ان کمیونٹیز کے رسم ورواج میں اسلامی شریعت پر عمل کو ممکن بنایا۔پاکستان سے باہر رہنے والی مسلم کمیونٹی کو اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کےلئے اسلامی ماحول کی ضرورت ہمیشہ بے چین رکھتی ہے، مغربی معاشرے میں بچوں کے اخلاق بگڑنے کا ڈر ماں باپ کے لئے پریشانی کا باعث ہوتا ہے، تعلیم قرآن ، اسلامی روایتوں پرعمل ، دینی رسومات، تعلیم وتربیت،عبادات ومعاملات میں شریعت کی پاسدار ممکن بنانا بہت مشکل لگاتا ہےلیکن جب دعوت اسلامی کی صورت میں پاکستان سے باہرالیاس قادری کی شخصیت کے اثرات پہنچے تو مسلم کمیونٹی نے سکھ کا سانس لیا اور اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کےلئے دعوت اسلامی کے ماحول کوخوش آمدید کہا۔ الیاس عطار قادری کی دینی دعوت آج پاکستان معاشرے نکل کر دنیا کے بے شمار ممالک میں پہنچ چکی ہے۔اب بات فقط پاکستانی معاشرے کی نہیں بلکہ 150 سے زائد ملک میں موجود مسلم کمیونٹیزکی ہےجہاں دعوت اسلامی کے بانی کے دینی وفکری اثرات نظر آت ہیں۔
معاشرتی تبدیلی میں ہمہ جہت دینی بیداری
مولانا الیاس قادری کی شخصیت کے اثرات کا عمومی جائزہ لیں تو آپ نے معاشرتی تبدیلی میں ہمہ جہت دینی انقلاب بپا کیا، معاشرےمیں فکری، عملی ، روحانی ،تعلیمی، فلاحی، تبدیلیاں لائیں،اسلامی عقائد ونظریات کی حامل علمی درسگاہیں دیں، تعلیمی ادارے بنائے، خدمت انسانی کے شعبہ جات قائم کئے ، سماج میں موجود برائیوں کے خاتمے کے لئے اعلی تربیتی نظام قائم کئے،مساجد کی آباد کاریاں ہوئیں، دینی اداروں کا تشخص بحال ہوا، لوگوں میں دینی شعورک بیداری ہوئ، دینی تعلیم حاصل کرنے کارجحان بڑھا،تعلیم قرآن کےلئے لاکھوں مدارس قائم ہوئے، معاشری تبدیلی میں الیاس قادری کی شخصیت نے ہمہ جہت دینی و تعلیمی بیداری پیدا کی۔مولانا الیاس قادری کی شخصیت کےاثرات نے ایسا انقلاب برپاکردیا کہ آپ کی دینی تحریک کے اثرات دوردراز ممالک میں پہنچ چکے ہیں اورآپ دینی ،سماجی، تعلیمی، فلاحی، اصلاحی خدمات کوہمیشہ یاد رکھاجائےگا۔مسلم شخصیات میں مولانا الیاس قادری اکیسویں صدی کا علمی وروحانی سورج ہےجو اپنی آب وتاب کےساتھ اب بھی دین کا پیغام بحسن وبخوبی دنیا میں پہنچارہا ہے۔
معاشرتی تبدیلی میں امیرِ اہلِ سنت کے تاریخی کردار پر حرف آخر
احیائے سنت کی اصلاحی تحریک دعوت اسلامی کے اصلاحی و فلاحی کاموں کے تناظر میں حضرت الیاس قادری کی شخصیت کےاثرات کاجائزہ لیا جائے تو آپ کی خدمات کی حقیقت اپنی آب وتاب کی ساتھ چمکتی نظر آتی ہے ۔امیر اہلسنت نے فقطہ قرآن وسنت کی تبلیغ کےلئے اصلاحی تحریک کا آغاز نہیں کیا بلکہ قرآن وسنت کی عالمی اشاعت اور تبلیغ کےلئے ایک ہمہ گیر فکری ، علمی ،روحانی ، اخلاقی، تعلیمی اور فلاحی نظام کے عملی انقلاب کو دنیا کے کونے کونے تک متعارف کروایا۔
مولانا الیاس قادری کی دعوت و ارشاد کا آغاز انفرادی طور پر فرد کی اصلاح سے شروع ہو کر معاشرہ وسماج کی تعمیر وترقی تک پہنچا ۔پھر معاشرتی تبدیلی میں دور رس اثرات مرتب کرتا ہوا عالمی افق پر 200سے زائد ملکوں میں اثر پزیر ہوا۔ اصلاح عقیدہ ، احیائے سنت، اخلاقی پاکیزگی ، فکری رہنمائی ،دینی تربیت، تعلیمی نظام ، انسانیت کی فلاح وبہبود اور منظم تربیتی نظام مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہد کے وہ بنیادی ستون ہیں جن پر آپ کی دینی کاوشوں کی عمارت قائم ہوئی ۔
اس ترقی یافتہ تہذیبی کشماکش کےدور جدید کا انسان جہاں منتشر خیالات کےساتھ فکری ، اخلاقی اور روحانی طورپر جمود کاشکار نظر آتا ہے ۔تووہیں مولاناالیاس قادری کی شخصیت سیرت ِ مصطفی کا عملی زندہ نمونہ بن کر جمود کا شکار انسان میں زندگی کی تازگی پیدا کرتی ہے۔آپ کی دینی جہدوجہد سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہےکہ معاشرتی تبدیلی نہ تو جبرسے آتی ہے نہ محض نعروں سے ممکن ہوتی ہے بلکہ پائیدار تبدیلی کے اثرات اخلاق ، سنت رسول پر پابندی ،دینی حکمت عملی ، لگاتار دعوتی عمل اور تسلسل کےساتھ دعوت وتبلیغ سے معاشرتی تبدیلی کا عمل ممکن ہوتا ہے۔امیراہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری کے ناقدین بھی آپ کی دعوت کےاستحکام اور دعوت عملی کے تسلسل کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔اس دور ابتلا ء کےتنقید پسند اور مذہبی رنگ میں دکھائے جانے والے اسکالر ز بھی گواہی دیتے ہیں کہ مولانا الیاس قادری نے سنت رسول پر عمل کے نظام کو نہ صرف دنیا میں قائم کیا ۔بلکہ معاشرتی طبقات کے مختلف گروہوں سے ایسے افراد تیار کئے جو درحقیقت دور سلف کی یاد تازہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مولا نا الیا س قادری کی ہمہ جہت دینی وسماجی،اخلاقی ، تعلیمی، روحانی اور فلاحی خدمات ہر دور کی نسلوں کےلئے فکری رہنمائی، تربیت کی عملی شکل ، اشاعت علم دین کی عملی صورت، احیائے سنت کی تعبیر اور متلاشیان علم وعمل کےلئے چراغ ہدایت کی حیثیت سے چکمتی دمکتی رہے گی۔بلاشہ امیر اہلسنت کی شخصیت کے معاشرتی اثرات نے معاشرتی تبدیلی میں جو کردار ادا کیا وہ مستقبل کی تاریخ انسانیت میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!