امیرِ اہلسنت کی فکر سے متاثر ہونے والے طبقات کی درجہ بندی

امیرِ اہلسنت مولانا الیاس قادری کی فکری و عملی خدمات نے امتِ مسلمہ کے مختلف معاشرتی طبقات پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔ نوجوان نسل کو گناہوں سے بچا کر دین، سنت اور مثبت کردار کی طرف راغب کیا، جبکہ خواتین و بچیوں میں پردہ، حیا، دینی تعلیم اور عملی تربیت کا شعور بیدار ہوا۔ دعوتِ اسلامی کے عالمی نیٹ ورک کے ذریعے اصلاحِ امت، نیکی کی دعوت، اخلاقی تربیت اور فلاحی پروجیکٹس کو منظم انداز میں فروغ ملا۔ یہ مضمون فکرِ امیرِ اہلسنت کی عملی ترویج، اس کے سماجی، تعلیمی اور دعوتی نتائج کا جامع اور تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔

December 24, 2025

فکر امیر اہلسنت سے متاثر طبقات

بچوں سے عمررسیدہ افرا تک : مولانا الیاس قادری کی فکری ، علمی ، تعلیمی ،سماجی اور تبلیغی خدمات اور اس کے عالمی اثرات سے متاثر ہونے والے طبقات بچوں سے لیکر ادھیڑ عمر کےافراد تک شامل ہیں ۔آپ کی دینی و اسلامی تحریک دعوت اسلامی کی عالمی پزیرائی اس بات کا عملی ثبوت ہےکہ آپ نے قرآن وسنت کی تبلیغ میں جو دینی کوششیں کیں اس کےثمرات سے زمانہ مستفید ہورہا ہے۔

اسلامی شخصیات کا کردار: اسلامی تاریخ میں گلشن اسلام کی چمن آرائی کےلئے کئی نامور شخصیات نے اپنے حصہ کی باغبانی کی اور باغ وبہار میں اضافے کا سبب بنے۔بدلتے حالات کے ہر دور میں نسل انسانی کی تعلیم وتربیت اور امر بالعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ کو سرانجام دینے کےلئے ان برگزیدہ شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا ۔تصنیف وتالیف، تبلیغ وارشاد، درس وتدریس، تعلیم وتربیت، تزکیہ نفس واصلاح احوال، ظاہر وباطن کی پاکیزگی میں صف آراء صوفیا، مصلحین ، مربیین، معلمین اور کئی قدآور شخصیات کے نام تاریخ اسلام کاحصہ بنیں ۔اور اب بھی معاشرے میں مذکورہ قدماء کی خدمات دینیہ وعلمیہ کے اثرات کئی لحاظ سے زندہ جاوید ہیں۔ہر صدی کے اہل علم حضرات ان اسلامی شخصیات کے علمی وفکری کاموں سے استفادہ بھی کرتے چلے آرہے ہیں۔ درحقیقت اللہ رب العزت کی کرم فرمائی ہےکہ وہ بندوں کی ہدایت کےلئے اپنے چنیدہ بندوں کو بھیجتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دین کی تعبیر اور تشریحات اپنے کردار وعمل سے کرتے ہیں اور مخلوق خدا کی تعلیم وتربیت کا سبب بنتے ہیں۔

مولانا الیاس قادری کا دور: چنانچہ پندرہ ویں صدی ہجری کے بلکل آغازمیں اسلامی شخصیات میں ایک نمایاں مقام مطلع دعوت وارشاد پر مولانا الیاس قادری کے نام سے بھی طلوع ہوا۔ جواب تک 44 سال سے خدمت اسلام میں اپنی آب وتاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ فیض قادریت کا پرتو بن کر مخلوق خدا کی دینی وروحانی تربیت کے ساتھ معاشرتی وسماجی بہبود کےلئے بھی غیر معمولی خدمات سرانجام دے رہاہے۔درحقیقت امت مسلمہ کی ہچکولے کھاتی کشتی کواگر کسی نے دورحاضر کے تقاضوں کےمطابق اسلامی طرز معاشرت کی خوبصورت نہج پر ساحل مراد کیاتو اس کا نام مولانا الیاس قادر ی ہے۔جن کے فیض علمی ، روحانی ، تعلیمی،دینی ، سماجی، فلاحی، رفاہی، تربیبی ، تبلیغی سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہوااور افراد معاشرہ کی طبقاتی درجہ بندیوں میں ہر طبقہ کے چھوٹے بڑے افراد نے مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہد سے وافر حصہ پایا۔ذیل میں امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری کی فکر سے متاثر ہونے والے طبقات کی درجہ بندی کےحوالہ سے کچھ پہلوؤ ں کا جائزہ صفحہ قرطاس پر منتقل کرتےہیں۔

فکر امیر اہلسنت کا حقیقت پسندانہ تعارف اوراس کے ہمہ گیر اثرات :

فکرامیر اہلسنت کی گونج : پاکستان کے شہر کراچی میں 1981 کی دہائی میں پہلی بار کسی نے ایک نعرہ سنا کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کےلوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے ہے‘‘ جو تقریبا مصلحین امت کےلئے تو حیران کن تھا پر اس دور کے معاشرتی طبقہ کے ہر فرد کےلئے ایک نرا مزاق اور کوئی غیر حقیقت پسندانہ نعرہ سمجھا گیا تھا۔پر وقت کا دھاراتیزی کے ساتھ گھومتارہا، مولانا کی تبلیغی جدوجہد مسجد سے نکل کر علاقہ کی حد بندیوں کی گرد گھومی پھر شہر میں مذکورہ نعرہ کی گونج سنائی دی گئی۔

سنت رسول کی بہاریں : ہرشخص ورطہ حیرات میں مبتلا تھاکہ یہ کیسا شخص ہےکہ بات بات پر سنت نبوی کی مثالیں دیتا ہےاور عمل سے سنت کا پیکر بنتا پھرتاہے ۔ لیکن بات میں اگر سچائی ہو ، دل میں خلوص ہو، عمل میں اخلاص ہو، پیش نظر رضائے الہی اور رضائے محمد عربی ہو،تقوی شعار زندگی ہو، مدح ومذم سے کوئی لگاؤ نہ ہو ، اطاعت اللہ و اطاعت رسول زندگی کا سامان ہو، سفر کی منزل خوشنودی الہی اور نبی کی شفاعت پیش نظر ہو۔سامان زیست کی پروا ذرہ برابربھی نہ ہو تو کردار کی بلندی عمل کی تاثیر بن کر دل میں خود بخود راسخ ہوجاتی ہے۔

اخلاص کی برکتیں : یہ حال مولانا الیاس قادری کی تبلیغی زندگی میں لوگوں نے دیکھاکہ ایک شخص بلکل تنہا نکلا۔ اللہ کی نصرت غیبی اور اللہ کے حبیب کی چاہت دل میں بسائے محبت رسول کے جال سینوں میں انڈیلتا جارہا ہے کارواں سے کارواں بنتا نظر آرہاہے ۔فکر امیر اہلسنت کی تاثیر نے دلوں کوجیتا۔بظاہر اصلاحی پہلو کی تعلیم دینا مشکل اور ہر طبقہ تک پہنچانا نا ممکن نظرآتاہے ۔ لیکن آسمان دنیا نے دیکھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی تائید ونصرت سے مولانا کی فکر کی جلوہ گری ہر جگہ نظر آئی ۔ہر طبقہ متاثر ہوا، ہر شعبہ فکر امیر اہلسنت کا پرتو بن کر چمکا۔بچہ ،بڑا ، جوان، بوڑھا ، ادھیڑ عمر ،صنف نازک کی ہر کلی احیائے سنت کی کڑی میں سماتی گئی ۔ شعبہ ہائے زندگی کے ہر میدان میں مبلغ اسلام حضرت امیر اہلسنت کی دعوت وتبلیغ کے اثرات اپنا اثر کرتے گئے۔1981 میں فکر امیر اہلسنت کی تاثیر کے ظہور نے 44سال میں اپنی ہمہ گیر اثرات کا اثر دیکھا۔اور دنیا کے بےشمار ممالک میں دعوت اسلامی کا رنگ مسلم سوساٹیز اور فرزندان توحید پر نظر آیا۔

دعوت دین میں فکر امیر اہلسنت کے نوجوان طبقہ پر اثرات:

نوجوان نسل کی تربیت : حضرت مولانا محمد الیاس رضوی کی شخصیت کے کمالات نے جس طبقہ کو سب سےزیادہ متاثرکیا وہ نوجوان نسل ہے۔ عصر حاضر کی انسانی تاریخ میں امیر اہلسنت کی دعوت دین کی نتیجے میں پہلا نوجوان نسل کی تربیت کا معرکہ وجود میں آیا ۔یہ وہ وقت تھا جب لسانیت کی عصبیت کی چھنگاڑیں نوجوان طبقہ کو مسلسل متاثر کررہی تھیں۔تعصب کی گھماگھمی نے معاشرتی اقدارکی دھجیاں بکھیردی تھیں۔ مذہبی تشخص کادائرہ کار مساجد تک محدود اور علمائے پر قدغن کی بھتات ہوچکی تھی۔عزت نفس اور وقار انسانی کا مجروح کرنا شیوہ انسانی بن چکا تھا۔قتل وغارت کے بازار میں نوجوان نسل کا خون ارزاں ہوچکاتھا،شرافت اور بھائی چارہ کاتصور مٹاکر لسانیت کا تعصب دانستہ طور پر نوجوان نسل کی اذہان میں بٹھایا جارہاتھا ۔

پرفتن دور میں دینی انقلاب : اس پرفتن دور میں فساد امت کےوقت اگرکسی شخص نے نوجوان نسل کے قبلہ کی سمت کا تعین گنبداخضراکے مکین رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیا وہ مولانا الیاس قادری امیر اہلسنت رضوی صاحب ہیں۔آپ کی نیکی کی دعوت کے اثرات نے نوجوان طبقہ میں ایسے دینی انقلابات پیدا کئے کہ دنیا کی تمام اصلاحی قوتیں مولانا کے کردارکی عظمت کے سامنے دنگ رہ گئیں اور تاریخ کے اوراق نے طبقہ انسانی کےسب سے زیادہ نوجوان طبقہ کو دین کی طرف راغب ہوتے دیکھا۔حضرت الیاس رضوی قادری کی فکرکے حقیقی جلوے جو چودہویں کے چاند بن کر دنیا میں نیکی کی دعوت عام کررہے ہیں وہ آپ کی مرکزی مجلس شوری کے افراد ہیں ۔ یہ لوگ اپنی جوانی کے ایام ہی خوف خدا اور عشق رسول کی مجسم تصویر بن گئے۔ اوراب عملی طور پر فکر امیر اہلسنت کے داعی بن کر مولانا الیاس کی دعوت دین 150 سے زائد ممالک میں دے رہے ہیں۔

امیر اہلسنت کی نیکی کی دعوت سے متاثر دختران ملت کا طبقہ

مسلم خواتین میں اسلامی انقلاب : انسانی طبقات کی درجہ بندی میں خواتین کی اہمیت مردوں سے کم نہیں ۔بلکہ خواتین کا وجود طبقات انسانی کا حصہ اور طبقات انسانی کے وجود کا سبب بھی ہے۔فکر امیر اہلسنت کے تناظر میں مولانا الیاس کی دعوت دین کے اثرات نوجوان نسل کے بعد نمایاں طور پر طالبات، بچیوں، خواتین پر پڑے۔ فکر امیر اہلسنت سے دختران ملت کی نوک پلک سنوارنے میں سیدہ زہرا کے کردار کی جھلک بھی نظر آئی، اماں حضور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی علم پرور شخصیت کے نمایاں اثرات بھی ظاہر ہوئے، اسلامی پردے کا شعور بیدار ہوا،بنت حوا کو تعلیمی میدانوں میں تحفظ ملا، دنیاوی علوم کےساتھ علم دین حاصل کرنے کا موقع ملا، قرآن کے نور کی برسات دختران ملت کےقلوب میں حفظ قرآن کی صورت میں ظاہر ہوئی۔بچیوں کو نیکی کی راہ پر چل کر دوسروں کی دینی تربیت کا فریضہ ملا۔

اسلامی تشخص کی بحالی کی عملی کوشش: عالم اسلام میں خواتین کے بھولے ہوئے تشخص کو زندگی ملی۔چادر چاردیوار ی کی حقیقی اور عملی مثال عالمی مجلس مشاورت کے طور پر دنیا کے سامنے آئی۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچیوں کو زیور تعلیم قرآن سے آرستگی ملی۔ حیا اور شرم، عفت وپاکیزگی پر مبنی ماحول میں خواتین اسلام کو خدداد صلاحیتیں منوانے کا موقع ملا۔نظام دنیا میں دعوت اسلامی نے گھر کےماحول کو دینی درسگاہ میں تبدیل کیااور گھر کی خواتین کے لئے اسلامی تعلیمات گھر کی دہلیز پر پہنچائی۔دعوت دین اور نیکی کی دعوت میں فکر امیر اہلسنت کی جلوہ نمائی نے ایسے باکردار افراد پیش کئے جن میں نوجوان کے ساتھ خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں ۔مدرسۃ المدینہ بالغات ، جامعۃ المدینہ گرلز کا ماحول فکر امیر اہلسنت کا حقیقی جلوہ گاہ ہے۔

فکر امیر اہلسنت کی جلوہ آرائی پر علماء مشائخ کے تاثرات

مشائخ اسلام کے تاثرات : امیر اہلسنت کی نیکی دعوت ، تبلیغ دین ، علم کی اشاعت، ذہن سازی وکردار سازی ، میدان عمل کے مرد میدان بن کر اصلاح امت کی مخلصانہ کوشش اور امت کی خیر خواہی نیزا ان کی فلاح وبہبود کےحوالے سے آپ کے دینی وسماجی خدمات کےاثرات معاشرے پر پڑے تو ہر طبقہ انسانی نےمولانا الیاس قادری کےفیض سے نہ صرف حصہ پایا بلکہ فکر امیر اہلسنت کی آبیاری میں اپنا بھی حصہ ڈالا۔بظاہر دعوت اسلامی کی تاریخ میں کوئی ناقد کی ناقدانہ سوچ نے اپنا اثر نہیں دکھلایا،مخالفین کی عناد پروردشمنی بھی مولانا کے خدمت دین کے عزم کومتزلزل نہیں کرسکی۔ بلکہ دعوت اسلامی کے ثمرات نے سبھی کو اپنی لذت عشق ومحبت رسول کی چاشنی کا مزہ چکا۔کوئی قرب آکر اظہار خیال کرسکا کوئی دور رہ کر ہی لوح وقلم کی طاقت سے پیام محبت بھیج سکا۔بہر کیف فکر امیر اہلسنت کے اثرات سے ہر کوئی متاثرہو۔ بس فرق یہ ہےکہ کوئی خیال یار بنا،کوئی تصور خیال یار بنا۔ کسی نے آکر سلسلہ قادریت کی کرامت دیکھی کسی نے دور سے ہی کرامت پر مہر تصدیق ثبت کی۔

عالم اسلام کے جدید علما کےتاثرات : ملک وبیرون ملک سے فکر امیر اہلسنت سے متاثر ہونے والے مشائخ اور علمانے قلم کی طاقت کاسہارا لیکر اپنی محبت کے اظہار میں گرانقدرتحریریں روانہ کیں ۔ پھر جب تحریروں کی تعداد کو جمع کرکے کتابی شکل دی گئی تو 1163 علماومشائخ کی فہرست بنی جنہوں نے اپنی دلی نیک تمناؤں کے ساتھ فکر امیر اہلسنت پر تاثرات کا اظہار کیا۔ یہ توان مشائخ کی تعداد ہے جن کےاسما ئے گرامی بمعہ تاثرات کے صفحہ کتاب پر چمکے مگر حقیقت میں جامعات المدینہ میں علم کی تحصیل کے بعد دستار فضیلت کا سہرا باندھنے والے علمائے کرام کی تعد اد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔

دنیاوی شعبہ ہائے زندگی میں فکر امیر اہلسنت کے اثرات

پروفیشنل شعبہ جات میں دین کی برکت : اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبہ کو دینی رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔اسلام کی تعلیمات کا محور ومرکز انسانیت ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اسلامی کی ابدی تعلیمات سے کوئی طبقہ محروم ہو۔اسیلئے اسلام نے ہر شعبہ میں اسوہ رسول کو پیش کیا ۔اللہ تعالی نے انسانی عروج کےلئے اسوہ رسول کو عملی طور پر اپنا نے کا حکم دیا۔مولانا الیاس قادری عصر حاضر کی وہ نابغہ روزگار ہستی ہیں جنہوں سے صرف دینی طبقہ کو اپنی نیکی کی دعوت کا مرکزی خیال بیانا۔بلکہ آپ کی فکر کی بلندی نے ہر طبقہ انسانی اور شعبہ انسانی کو سیرت رسول کے بہارآفریں پیغام دیئے۔ انہیں دین کے مطابق عمل کرنے اور شعبہ ہائے زندگی میں سنت نبوی اپنانے کا ذہن دیا۔عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ دنیا کو مثال پیش کرنے سے پہلے کس طرح حضرت الیاس قادری صاحب نے دنیاوی شعبہ جات کو اپنے دینی مرکز فیضان مدینہ میں سنتوں کے مطابق قائم کیا پھر دوسروں کو نیکی کی دعوت کا حصہ بنانے اور دینی رہنمائی دینے کےلئے پروفیشنل حضرات کوتیار کیا جو بعد میں دنیاوی شعبہ جات میں احیائے سنت کی عظیم دینی تحریک کے اثرات اپنے اندر ضم کرکے فکر امیر اہلسنت کی عملی تصویر بنتے ہیں۔

عالمی سطح پر فکر امیراہلسنت سےمتاثر ہونے والے ممالک کی درجہ بندی

مختلف براعظم میں دینی کام: سلسلسہ عطاری کا سورج جب قادریت کے فیض سے خطہ ارض پر چمکا تو دنیا کے سینکڑوں ممالک میں شامل قابل ذکر خلیجی ریاستیں ،براعظم ا فریقہ کے ممالک، یورپی ممالک ، امریکہ، کینیڈا، ساؤتھ کوریا، ساؤتھ افریقہ، جنوبی ایشیاء پاک وہند لگ بھگ 150 ممالک میں باقاعدہ فکر امیر اہلسنت کے حقیقی آئینہ دار مبلغین ، معلمین، سماجی کارکنان ، فلاحی رضاکار اور خیر خواہ دعوت اسلامی سے وابستگان موجود ہیں اور فکر امیر اہلسنت کا پرچار کررہے ہیں۔

غیر مسلم طبقات میں فکر امیر اہلسنت کے اثرات کی مقبولیت

کفار میں نیکی کی دعوت کے اثرات : اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت اسلامی ایک منظم اور مربوط نظام اصلاح کے ساتھ خریطہ عالم پر دینی واصلاحی اسلامی تحریک کے طور پر ظاہر ہوئی اور بہت تھوڑے عرصہ میں اپنی دینی دعوت کو لوگوں کے دلوں میں اترانے میں کامیاب ہوئی۔اس کامیابی کےاثرات کے پیچھے جو اسباب اور عوامل کارفرمائیں ان کا تجزیہ عالمی سطح پر مرتب ہونے والے اسلام کے روشن اثرات کی روشنی میں کریں تو بلامبالغہ اس کامیابی کی پیچھے بانی دعو ت اسلامی کی فکر کے اثرات نظر آئیں گے۔

نومسلم کی دینی تربیت کےمراکز: اس وقت اسلامی دینی تحریکات میں دعوت اسلامی سب سے بڑی منظم پرامن دینی وفلاحی تحریک کے طور پر اپنی خدمات دینی ، فلاحی ، سماجی ،تعلیمی، روحانی کی وجہ سے مقبولیت کے درجہ اول پر براجمان ہوچکی ہے۔ یہ سب کچھ بفضل الہی امیر اہلسنت کی جہد مسلسل اور نظام تربیت کے تسلسل اور بقا کےساتھ ممکن ہو ا۔جب فکرامیر اہلسنت کےاثرات کا جائزہ دعوت اسلامی کی نیکی کےدعوت کےتناظرمیں دیکھتے ہیں تو آپ کی دعوت اسلام سے ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کی دولت نصیب ہوئی ۔نو مسلم آباد ی افریقہ کے کئی ملکوں میں دعوت اسلامی کےاثرات کے زیر نگیں علم دین حاصل کررہی ہیں۔ بچے جوان ، خواتین ، لڑکیاں قرآن وحدیث پڑرہے ہیں۔

طبقاتی درجہ بندی میں فکر امیر اہلسنت کے ہمہ گیر اثرات کا تنقیدی وتحقیقی جائزہ

سماجی طبقات میں دینی کام کے اثرات : معاشرتی طبقات میں جہاں ہر انسان کے الگ الگ رجحانات اور خیالات ہوتے ہیں ۔مختلف مقاصد زندگی کے ساتھ اجتماعی ماحول میں زندگی گزارنے کےباہمی ربط وتعلق قائم کرتے ہیں۔کسی ایک مقصد کے تحت جمع ہونا کسی وقتی مفاد کے تحت ممکن ہوتاہے ۔اس حقیقیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ معاشرہ کاقیام افراد معاشرہ کے مختلف مقاصد کےاجتماعی مفادات کو ایک ساتھ طے کرنے کےلئے ممکن ہوتا ہے۔اس تصور کو کسی ایک نہج پر لاکر ایک مقصد زندگی کا تصور اجاگرکرنےکےلئے اگر کسی نے عصر حاضر میں ممکن بنایا ہےتو وہ موجودہ صدی کی علمی وروحانی شخصیت حضرت امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس قادری صاحب ہیں۔

آپ نے تصوف کے دواصول :خوف خدا اور عشق رسول کو اسلوب زندگی بناکر تبلیغ میدان کو مرکز توجہ بنایا اور اصلاح امت کا بیڑا اٹھاکر نیکی کی دعوت کےمسافر بن کر صدائے حق بلندی کی۔ سیرت نگاری کے عملی پہلوؤں پر عمل کرتے ہوئے سنت نبوی سے معاشرے کی اصلاح کی۔

نومولد کےاحکام سے سفر آخرت تک دینی رہنمائی : آپ کی فکر سے متاثرہونے والے طبقات کی درجہ بندی کے نظام کو دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر عملی طور دیکھا جاسکتاہےذی روح نومولد بچے سےلیکر سفر آخرت کی طرف رخت سفر باندھنے والے مردہ کے احکامات کو عملی طریقہ سے بیان کرنے والا نظام قائم کیا اور اس نظام کی سنگت بنیاد رسول اللہ کی سنت پررکھی۔

نسل نو کی تربیت کےادارے: امیر اہلسنت نے ایک ایک طبقہ کےلئے دینی احکامات پر مشمتل آسان فہم نظام تربیت قائم کیا۔بچوں کی نوک پلک سنوارنے کےلئے دین ودنیا کےنظام تعلیم پرمشتمل دار المدینہ اسلامک اسکول سسٹم قائم کرنے میں دینی رہنمائی فراہم کی۔ قرآن کی تعلیم گھر گھر پہنچانے کےلئے مدرسۃ المدینہ تعلیم قرآن کے ادارے بنائے۔ علم دین کی اشاعت اور دنیا میں اسلامی علوم پڑھا نے والے علماتیار کرنے کےلئے جامعات المدینہ بوائز اور گرلز کاقیام ممکن بنایا۔

حرف آخر:

امیر اہلسنت نے معاشرتی طبقات کے درجہ بندی کرکے دین کی باتیں آسان انداز کےساتھ پہنچانےکے لئے منظم نظام قائم بھی کیا ۔ اگرآپ کےنظام تربیت کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیاجائے تو کچھ چیزیں زیر نظر آتی ہیں۔ مثلا آپ نے ایک کڑھن دی کہ مسلمانوں کے مفاد عامہ کاہر ممکن طور پر خیال رکھا جائے۔اجتماعات کا ٹائم مقرر ہو،لوگوں کی تربیت ایسے اندا ز میں کی جائے کہ وہ گراں نہ گزرے۔ بچوں کی تعلیم وتربیت میں پیار ومحبت کا اظہار ہو، علم دین حاصل کرنے والوں کےلئے جائز شرعی سہولیات فراہم کی جائے۔کوئی کسی بھی لبا س میں آئےاس کو محبت وپیارسے اسلامی لبادہ کا ذہن دیاجائے ۔ کسی کے گنا ہ کو بیا ن کی بجائے عیب پوشی کی فضیلت بیان کی جائے۔ تربیت نظام کا دن مقرر اور جگہ کا تعین ہو۔

فکر امیراہلسنت سے متاثر ہونے والے حکومتی اداروں کے تاثرات بیان کئے جائیں تو لمبی فہر ست ہے جو ارباب اقتدار ہوکر فکر امیر اہلسنت سوچ کے مطابق سنت نبوی کے مطابق انتظامی معاملات وامور سرانجام دے رہے ہیں۔

فکرامیر اہلسنت کے ہمہ گیر اثرات اور ان کے نتائج افرادی قوت سے لیکر دینی تعلیم وتربیت پر مشتمل ادارے اور فلاحی پروجیکٹس بھی ہیں جہاں فکر امیر اہلسنت کی عملی تعبیرات مشاہد ہ دعوت نظارہ دے رہا ہے۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!