عصر حاضر کے چیلنجز میں امیر اہلسنت کی دینی دعوت کا جائزہ

یہ مضمون امیرِ اہلسنت مولانا الیاس قادری کی دعوتِ دین میں شب و روز کی محنت، عملی قربانیاں اور دینی خدمات کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کے مادی و تکنیکی چیلنجز میں انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اخلاقی اور روحانی انقلاب پیدا کیا، سادہ طرزِ زندگی اختیار کی، سنت نبوی پر عمل کیا اور امت کو دین کی عملی تعلیم سے روشناس کرایا۔ مضمون میں ان کی علمی، تربیتی، اور تنظیمی کاوشوں کے اثرات بھی نمایاں کیے گئے ہیں۔

January 15, 2026

امیر اہلسنت کی دعوت دین کا پس منظر دعوتِ دین کی اہمیت کے پیشِ نظر تاریخِ اسلام کے ہر دور کے اکابر علما نے خدمتِ دین اور اصلاحِ امت کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ چنانچہ جب انیسویں صدی میں دنیا نے گلوبلائزیشن کی طرف رخ کیا تو مادی ترقی کو ہر مسئلے کے حل کی کنجی سمجھا جانے لگا۔ ٹیکنالوجی اور صنعتکاری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے انسانی زندگی میں مادیت پرستی کی محبت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اخلاقی زوال کا زہر بھی پھیلانا شروع کردیا۔ جوں جوں اکیسویں صدی نے قدم جمائے، انسانیت کی اخلاقی قدروں کی پامالی بڑھتی چلی گئی۔ دین کی سالمیت اور بقا کو اس کی ابدی تعلیمات سے دوری کا سامنا ہونے لگا۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی جیسے عوامل نے قوم کو مزید دین سے دور کرنے کی مذموم کوششیں تیز کردیں۔ ایسے مخدوش حالات میں اسلامی تعلیماتِ حقہ سے معاشرے کو روشناس کرانا، قوم کو اخلاقی پستی سے نکال کر صراطِ مستقیم کی راہ دکھانا اور دلوں میں روحِ محمدی پیدا کرنا وقت کی بنیادی ضرورت بن گیا۔ دعوتِ دین کی سالمیت کا تقاضا تھا کہ کوئی مردِ میدان آگے بڑھ کر اسلام کی روشن تعلیمات کو ازسرِنو زندہ کرے اور معاشرے کے بدلتے رجحانات میں دینی انقلاب برپا کرے۔ چنانچہ بیسویں صدی میں مطلعِ تبلیغ پر ایک ایسی شخصیت جلوہ گر ہوئی جو اسلام کا حدی خواں بن کر قوم کی نیّا کو ساحلِ مراد تک پہنچانے کا عزم لے کر میدانِ عمل میں مبلغ کی حیثیت سے ابھری۔ جس نے امت کو دعوتِ دین کے ذریعے پھر سے سوئے لالہ زار کا مسافر بنایا۔ یہ وہ مردِ مجاہد ہے جس نے چوالیس سالہ مسلسل جدوجہد میں دنیا کے سامنے دین کا خوبصورت نظام پیش کیا اور اپنے عمل سے اسوۂ حسنہ کی عملی تصویر بن کر انسانی دلوں میں روحِ محمدی پیدا کی۔ میرے قلم کے ممدوح وہ ہستی ہیں جو “امیرِ اہلِ سنت” کے نام سے پہچانے جاتے ہیں جنہوں نے شب و روز دعوتِ دین کے کام میں گزار کر اصلاحِ امت کا ایک جامع نظام ترتیب دیا۔ زیرِ نظر مضمون میں دعوتِ دین کے حوالے سے امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس قادری کے شب و روز کے تعارف، طرزِ زندگی، اصلاحِ امت کے پروگرامز اور دینِ متین کی خدمت میں ان کی عملی قربانیوں کا ذکر اختصار کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

دعوت ِدین میں مولانا الیاس قادری کا طرزِ دعوت

اللہ کےنزدیک دعوت دین میں وہی داعی مقبولِ بارگاہ الٰہی ہے جو نیکی کی دعوت کےساتھ نیک اعمال کا مجسم بھی ہو ۔دعوت کےساتھ عمل کی خوشبوبھی اس کےوجود میں پھیلی ہوئی ہو۔اسلام کے پیغام کو وہ ہی شخص اچھے انداز میں پیش کرسکے گا جو خود بھی اسلام کاحقیقی نمائندہ نظر آتا ہو۔ عصر حاضر میں مذکورہ آیت کے تناظر اور تفسیر میں اگر مولاناالیاس قادری کی شخصیت کا مطالعہ کریں تو زمانہ از خود گواہی دے گا کہ مولاناالیاس قادری اس دور میں اتباع سنت کی عملی مثال ہیں۔عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا الیاس قادری نے دعوت دین کےذریعے چار جہتوں سے معاشرہ وسماج میں دینی انقلاب پیدا کیا۔ (1)حکمت وبصیرت کےساتھ دعوت دین کا عمل جاری کیا اور جس سے مخاطب کو عمل کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ (2)عقلی ونقلی دلائل کےساتھ دورجدید کے چیلنجز کا مقابلہ کیا اور علمی مذاکروں کے ذریعے نوجوان نسل کےدلوں میں دین کی محبت پید اکی۔ (3) عملی نمونہ کےطور پر معاشرے کو سنت رسول پر عمل کی مثال پیش کی ۔جس طرح اسلام میں داعی کا طرز عمل ہونا چاہئے اس کی عملی تعبیر بن کر ہر قسم کےقول وفعل کےتضاد سے اپنے آپ کو بچا کر اسلامی تعلیمات کی عکاسی پیش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ (4) عصری مسائل اور دور حاضر کے چیلنجز کاقرآن وسنت کی تعلیمات سے مقابلہ کیااورقرآن وحدیث کی روشنی میں عصری مسائل کاحل احیائے سنت کی تحریک کے ذریعے پیش کرنے میں کامیاب ہوئے۔

عوت دین کی اہمیت کے تناظر میں الیاس قادری طرزِ زندگی

تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کےپلیٹ فارم پر امیر اہلسنت نے دعوت دین کی اہمیت کےتناظر میں جو طرز عمل اختیار کیا ۔ دعوت دین کے شب وروز میں دین کی عملی تصویر پیش کی۔ اس کا جائزہ دعوت اسلامی کی 44سالہ تاریخ کےجھرنکوں میں جھانک کر دیکھیں تو آپ کی شخصیت کا طرز عمل میں سادگی ، تقوی ، پرہیزگاری، عاجزی، انکساری جیسے نمایاں اوصاف کے گرد گھومتا ہے۔ سادہ مزاجی اور توکل وقناعت:دعوت دین کے شب وروز میں امیر اہلسنت کا طرز زندگی سادگی اور قناعت کے گرد گھومتا ہے ۔ ظاہری نمود ونمائش ، تصنع اور بناوٹ کا خیال تک نظر نہیں آتا۔سنت کے مطابق لباس، سادہ غذا، اسوہ حسنہ کے مطابق بستر ہے اور دنیاوی مال ودولت سے دلی بیزاری نظر آتی ہے۔ عاجزی اور انکساری: ہجوم عاشقان کےباوجود مزاج میں عاجزی اورانکساری دیکھنے کوملتی ہے ۔ہر کس وناکس پر مہربانی اور چھوٹے بڑے کا احترام زینت زندگی بن کر چھلکتا ہے۔ عبادت کا ذوق وشوق: ماتھے کی جھرمٹ بن کر عبادت کا ذوق وشوق چھلکتا ہے ۔ فرض کےساتھ نوافل کی کثرت اور ذکر واذکار سے قلبی اطمینان باتوں سے نظر آتا ہے۔ تصنیف تالیف: تبلیغ میدان کے تقاضوں کو پورا کرنے اور معاشرتی ضرورت کےمطابق دین کا پیغام احسن انداز میں پہنچانے کےلئے قلم کی نگارشات کئی کئی تصانیف کی صورت میں منظر عام پر آئیں اور طباعت واشاعت کےریکارڈ میں نیا اضافہ ہوا۔ حسن اخلاق اور صلہ رحمی کی تعلیمات:خود پیکر اخلاص بن کر حسن اخلاق کےساتھ ہر شخص کو سینے سے لگاتے ا ور دل میں عشق مصطفی پیدا کر تبلیغ کا میدان کا مسافر بناتے ہیں۔صلہ رحمی اور مریدین کی تربیت میں اتنا فکرمند کہ ذراسی لسانی سبقت میں معافی کے خواستگار بن جاتے ہیں۔علی الاعلان عفو ودرگز کےطلبگار بن کر دوسروں کو بھی محبت سے نوازتے ہیں۔

شب و روز کی عبادات اور مصروفیات:

مولانا الیاس قادری کے شب وروز کی عبادات اور مصروفیات میں جو چیز نمایاں وصف بن کر للہیت کی مثال پیش کرتی ہے وہ آپ کا رضائے الہی اور رضائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دن رات دین کے کام کرنا ہے۔ احیائے سنت کی عالمگیر تحریک کےنظام تربیت کےشیڈول کی عملی مثال امیر اہلسنت کےشب وروز ہیں۔کیونکہ دعوت دین کے داعی کے جو اوصاف قرآن وسنت میں بیان ہوئے اس کی عملی شکل آپ کے شب ورو ز میں من وعن نظر آتے ہیں۔ تہجد کا اہتمام، فجر میں الصلاۃخیر من النوم کی صدائیں، فرض نماز فجر، اشراق وچاشت تک ذکرو درود اور درس وبیان کاسلسلسہ ، مطالعہ کتب ، تصنیف وتالیف ، دعوت دین کےلئے انفرادی واجتماعی ملاقاتیں،علم دین کو عام کرنے کےلئے قافلہ میں سفر، اجتماعات میں بیانات، مریدین کے تربیت کا اہتمام۔ پھر جب آزادانہ تبلیغ کی سرحدوں پر وقت کی گنجائش تنگ دامنی کا احساس دلانے لگی تو آپ نے عصر حاضر کی جدید سہولیات سے فائدہ اٹھاکر سوشل میڈیا ،الیکڑانک میڈیا، چینل کےذریعے دین کا کام شرو ع کیا۔آپ کی طرز زندگی کے شب وروزنے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ آج دنیا کے جدید نظام میں اسوہ حسنہ کی 1500 سالہ تاریخ کےسہنری دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔سادہ مزاج یار میں ڈھل کر مبلغین اپنے شیخ کی تعلیمات اور فکر کےآئینہ دار بن کر 150 سے زائد ممالک میں چمکتے دمکتے نظر آتے ہیں۔ دعوت دین میں امیر اہلسنت کے شب ورز کی محنت شاقہ نے معاشرے کو دین کی تعلیمات سے روشناس کیا ۔افرا د معاشرہ سنت نبوی کے مطابق زندگی گزارنے کا خوگر بنااور دعوت دین کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا۔دعوت دین میں امیر اہلسنت کی شبانہ روز کاوشوں سے تصنیف وتالیف کی دنیا میں نئے اندا ز کی تحریریں منظر عام پر آئیں ،اسلوب غزالی کی عملی مثال نے دعوت اسلامی کے ماحول کو جنم دیا۔ سلسلہ قادریت کے فوقیت اور غوث صمدانی کی روحانی تعلیمات کا آئینہ دار بن کر دعوت اسلامی کا روحانی ماحول دیگر سلاسل کےلئے مثال بنا۔

شبانہ روز انفرادی و اجتماعی دعوت دین کے ذریعے خدمت اسلام

مولانا الیاس قادری کی لگاتار کوششوں سے جو معاشرے کی اصلاح کی صورت بنی اس میں امیر اہلسنت کی شبانہ روز انفرادی واجتماعی دعوت دین کا بہت بڑا کردار ہے۔آپ نے فقط اسٹیج پر براجمان ہوکر تبلیغ دین کام نہیں کیا۔بلکہ سیر ت رسول پر عمل پیرا ہوکر عملی میدان میں اتر ے اور ایک ایک فرد کو دعوت دین دی۔دھکے کھائے، نارواسلوک برداشت کیا، قیام مسجد پرپابندی کی صعوبتوں کو برداشت کیا،اپنوں اور غیروں سے جھڑکیاں کھائیں لیکن دعوت دین سے ایک لمحہ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔شبانہ روز انفرادی واجتماعی دعوت دین کا سلسلہ جاری رکھا۔ قافلہ میں سفر کےذریعے خدمت اسلام کی۔ فساد امت کے وقت سنت نبوی کو زندہ کیا۔ انفرادی سطح کی کامیاب دعوت سے اجتماعی سفر کا جب آغاز ہوا تو ہر جمعرات سنتوں کی تبلیغ کا اجتماع منعقد ہوا پھر تاحال ہزاروں مقامات پر ایک شخص کی فکر کےجلوے نظر آنے لگ گئے۔

دلوں میں چراغ عشق نبی روشن کرنے کےلئے تبلیغی و اصلاحی سفر

امیرِ اہلسنت نے اپنے تبلیغی و اصلاحی سفر کے ذریعے دلوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ روشن کیا۔ ان کے سفر کا مقصد محض وعظ و نصیحت نہیں بلکہ عملی طور پر سنتوں کا احیاء کرنا اور لوگوں کو سیرتِ طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ امیر اہلسنت نے انفرادی واجتماعی دعوت دین کی راہ میں سفیر عشق رسول بن سنت رسول کا عملی کردار پیش کیا ۔دوردراز علاقوں کی طرف علم کی شمع جلانے کےلئے سفر اختیا ر کیا۔ سیر ت طیبہ کے عملی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ عشق رسول کے صرف دعوے نہیں بلکہ تقاضوں کو پورا کیا۔ عملی اعتبار سے عشق رسول کی جوت جگائی ۔سرکا ر مدینہ کے محبت کی سوغات تقسیم کرنے کےلئے تبلیغی واصلاحی میدان مین عشق رسول کے گن گائے ۔ساز محبت رسول سے دلوں کے تاروں کو چھیڑ کر حب نبی کی تڑپ پیدا کی۔نوجوان نسل کو عشق رسول کے جام پیلا کر سنت رسول پر عمل کاجذبہ دیا۔ امیر اہلسنت عام واعظین کی طرح وعظ ونصحیت سے دلوں کو گرما کر سامعین سے داد طلب کے متمنی نہیں ہوئے بلکہ قرآن کے وعظ ونصحیت کےذریعے خوف خدا اور عشق رسول پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ۔انفرادی اوجتماعی طرز زندگی میں سنت نبوی کا عملی ماحول پیداکیا۔آپ اپنے سادہ الفاظ میں قرآن وسنت پڑھ کر سناتےاور دلوں میں اثر پید ا کرتے ہیں۔ یوں ہی نہیں دعوت اسلامی کو عاشقان رسول کی دینی تحریک کا خطاب ملا بلکہ اس کے پیچھے سفیر اسلام حضرت مولانا الیاس قادری کا عشق رسول سے لبریز ساز ہے جس کے ہر تارو ں سے محبت رسول کے عملی تقاضوں کی آوازیں سنائی دیں گی۔

امت کی اصلاح کے لئے عملی قربانیاں

خدمت دین میں اصحاب صفہ کے اسوہ کو نشان زندگی بناکر سوئے مدینہ کی طرف رخت سفرباندھا اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیار ی سیرت اپنا کر سادگی کےساتھ خدمت دین کا عملی آغاز کیا۔
  • دین کی خاطر عیش و آرام کی قربانی: امیر اہلسنت نے دین کی عظمت اور اسلام کی تعلیمات سے دنیا کوہمکنار کرنے کےلئے زندگی کی عیش وعشرت اور سہولیات کو کبھی خاطر میں بھی نہیں لائے۔ آپ نے عیش وعشرت اور زندگی کے آرام کو چھوڑ کر دین کی بقا اور سلامتی کےلئے قربانی دی۔ دینی تحریک کی کامیابی سے جب لوگوں نے تبلیغ دین کےلئے اپنے وسائل پیش کئے تو یہ بندہ فقیر اپنے رب پر بھروسہ کرکے مریدوں کو تربیت میں فکرمند رہا اور ان کی سنت رسول کے مطابق تربیت کرنے میں کامیاب ہوا۔لیکن کبھی اپنی دینی تحریک کے مالی وسائل کو اپنی شخصی زندگی کی سہولیات کےلئے استعمال نہیں کیا۔جو ملا وہ راہ خدا میں خرچ کردیا۔

  • صحت کی قربانی: تاحال پیرانہ سالی کےباوجود گھنٹوں امت کی اصلاح کرتے ہوئے دکھلائی دیتے ہیں۔صبح وشام امت کی اصلاح کی فکر میں بے چین رہ دین کا پیغام ہر ممکنہ طور پرپہنچارہے ہیں۔ صحت اورجسمانی کمزوری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مدنی مذاکرے کےذریعے علم دین عام کرنے میں مصروف ہیں۔

  • وقت کی قربانی: امت مسلمہ کی اصلاح کی فکر میں ہمہ وقت مشغول رہ کر کوئی نہ کوئی دینی کام میں مصروف ہیں۔امیر اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیاری حدیث ’’آدمی کےاسلام کاحسن ہےکہ وہ لایعنی کاموں پرتوجہ نہیں دیتا‘‘ پر عمل پیرا وقت کی قدر کرتے ہوئے اصلاح امت میں زندگی گزارتےہیں۔

  • خاندانی زندگی کی قربانی: دعوتِ دین کی مصروفیات کی وجہ سے کئی بار خاندانی تقاریب اور رشتوں کے حقوق سے بھی بظاہر کنارہ کشی اختیار کی تاکہ دین کا کام متاثر نہ ہو۔ دینی تحریک دعوت اسلامی کےدینی کاموں کی مصروفیت اور امت کی اصلاح کی فکرنے آپ کو خاندانی رسم ورواج اور عام ملاقتوں سے بہت زیادہ دور رکھا۔آپ نے دین کی راہ میں ہر قسم قربانی دیکر دین کا پیغام دنیا کے150 ممالک میں پہنچایا ۔

دنیا بھر میں پیغامِ دین کی دعوت میں مصروف عمل

1981 سے تاحال 2025 تک امیر اہلسنت کی دینی تحریک نے 44 سال کا عرصہ مکمل کرلیا۔ ایک نوجوان باہمت مرد پیرانہ سالی میں قدم رکھ کر اعصابی کمزوریوں کےساتھ اب بھی خدمت دین مصروف عمل ہے ۔آپ کی دینی کاوشوں اور مساعی جمیلہ کے اثرات سے ہر طبقہ متاثر ہوا ۔اسلوب زندگی میں دینی طرز عمل آیا۔سنت رسول کی بہار سے معاشرہ جگمگایا۔میلاد کی محافل کے اجتماعات کی کثرت سے عشق رسول کےچراغ روشن ہوئے۔ آج بھی یہ مرد میدان اپنے رب کی رضاکےلئے علم دین عام کرتاہوا دکھلائی دیتا ہے۔طویل تربیتی نشستیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی شخصیات آستانہ عالیہ عطاریہ سے فیض لینے ہمہ وقت عالمی مدنی مرکز میں موجو د رہتی ہیں۔ہر اسلامی ایونٹ اور تہواروں کو درست نہج دینے کےلئے گھنٹوں علم کی باتیں تقسیم کرتے ہیں۔ مدنی مذاکرہ اور مدنی چینل کےذریعے علم دین او ر امت کی رہنمائی میں مصروف عمل امیر اہلسنت کے شب و روز گزررہے ہیں۔

وقت میں برکت اور تنظیمی نظام کا نظم ونسق

اللہ رب العزت نے امیر اہلسنت کو بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔آپ ایک جامع شخصیت ہیں ۔زندگی کےہر شعبہ کی رہنمائی کےلئے اسلامی تعلیمات پر مشتمل نظام پیش کرنے میں معاصر ین سے سبقت لے گئے۔ایک وقت میں بے شماردینی کام۔ہزاروں کتابوں میں چھپے علمی رازوں کو مختصر نشست میں عیاں کر کے علمی موتی تقسیم کرتے ہیں۔ ملاقاتیوں کا سلسلہ، علمی مواد کی تربیت ، تنظیمی جدول کےمطابق اصلاح کے پروگرام، انفرادی واجتماعی ملاقاتیں، مفتیان کرام سے علمی تبادلہ خیال ، علماسے علمی نکات پر گفتگو، اشعار کی صورت میں گلہائے عقیدت ومحبت کے پھول بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کر نا، بیانات کی تیاری، مبلغین کی تربیت، سلوک کے مسافروں کے لئے روحانی غذائیں، معاشرتی مسائل کےحل کےلئے دینی رہنمائی اور پھر صحت کے مسائل کے باوجود دینی تحریک کے نظم ونسق اور علم دین کے اشاعت میں طویل مشاورتی نشستیں آپ کے شب وروز کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالی کی شان قدرت ہے کہ جب وہ اپنے بندے سے کوئی بڑا کام لیتا ہےتو اس کے ہر کا م میں اخلاص کی دولت کے ساتھ وقت کی تنگ دامنی کو وسعت عطاکردیتاہے پھر وہ بندہ اپنے رب کی عنایت سے اپنی ذمہ داری کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ عصر حاضر میں امیر اہلسنت قدرت کی کرشمہ نوازی کی مثال ہیں۔آپ کی شخصیت میں بعطائے الہی وہ جاذبیت ہے کہ کوئی ایک بار آجائے توجانے کا نام نہیں لیتا۔دل ایسا گرویدہ ہوجاتا ہےکہ صبح وشام دیدار کی طلب میں بے چین رہتاہے۔امیر اہلسنت کی منظم زندگی ایک زندہ کرامت ہے اور قدرت الہی کی عنایتوں کو مظہر ہے۔ آپ نے دعوت اسلا می میں خدمت دین کے 80سے زائد شعبہ جات کا قیام عمل میں لانے کی عملی کوششیں کیں اور ان شعبہ جات کو چلانے کےلئے دین کی تعلیمات کی روشنی میں اصول وضوابط مقرر کئے۔دعوت اسلامی کے تنظیمی نظم ونسق میں امیر اہلسنت کی محنت کاپھل دعوت اسلامی کے سرسبزو شاداب باغ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

شب و روز دین کی خدمت کے لئے وقف

من جملہ دعوت اسلامی کی دنیا کے اکثر وبیشتر ممالک میں جوبہاریں نظر آرہی ہے وہ امیر اہلسنت کی حکم قرآنی کے مطابق سوچ کاآئینہ ہے۔آپ کی زندگی کا جینا، مرنا ،عبادات ، ہر قسم کی قربانی، وقت کا استعمال ، زندگی کےشب ور وز، خدمات دینیہ ،اولاد کی تربیت ، مریدین کےحقوق کی پاسدار ی ،عام ملاقاتیوں کی دینی تربیت سب میں جو اسلوب تبلیغ کی جھلک نظر آتی ہے وہ امیر اہلسنت کی دینی قربانیوں کے ثمرات ہیں ۔ امیر اہلسنت نے اپنا سب کچھ اپنی دینی تحریک کی کامیابی کےلئے وقف کردیا ہے۔ لوگ اپنی اولا د کےلئے کچھ نہ کچھ مال وزر بچاتے ہیں لیکن آپ نے اپنی اولاد کوبھی دین کےلئے وقف کردیا۔آپ کے نزدیک خواہ وہ حقیقی اولاد ہو یا معنوی اولا د وہی بانصیب ہے جو دعوت اسلامی کی چھتری کے نیچے دین کا کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

تعزیتی و تہنیتی کلمات کےذریعے دعوت دین کےشب وروز

امیر اہلسنت کے زندگی کاسفر ہرلمحہ خدمت دین میں صرف ہوا اور ہوتا ہے۔آپ کی سوچ میں صرف اصلاح امت کا پہلو ہوتاہے۔ آپ کے نزدیک اصلاح کا انداز اور موقع کوئی بھی ہو دین کی بات دوسروں تک پہنچانا آپ کا بنیادی مقصد ہے ۔ دعوت اسلامی کے مبلغین یا محبیین کے دکھی لمحات کے موقع پر بھی امیر اہلسنت اصلاح کےسفر کو جاری رکھتے ہیں۔غمخواری اور غم گساری اس انداز میں کرتے ہیں کہ غمگین کا غم بھی دور ہوجائےا ور غم گساری کی فضیلت بھی حاصل ہوجائے۔آپ اکثر تعزیتی ریفرینس یا تحریک کے ذریعے یا کال کےذریعے تعزیت ، پرسہ دیتے ہیں تو قرآن وحدیث بیان کے کے سوگواروں کو تسلی دیتے ہیں اور فوت شدہ حضرات کے ایصال ثواب کےلئے دینی کام کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔ اسلامی بھائیوں کی دینی کامیابی یا دعوت اسلامی کی جانب منزل ترقی کی خبرسے دل خوشی سے جھومتا ہے تو اس وقت بھی آپ اسلامی تعلیمات کےساتھ آداب تشکر بجا لاتے ہیں۔اور جب تحریر کےذریعے کوئی تہنیتی پیغام دیناہوتا ہے تو شکر کی اہمیت کو بیان کرکے ذہن میں تشکر بجا لانے کی اہمیت بٹھاتے ہیں۔ امیر اہلسنت ہر حال میں اپنے مریدین ، مبلغین ، معلمین، مدرسین اور دعوت اسلامی سے وابستگا ن کی دینی ،تعلیمی ، سماجی، فلاحی اور معاشرتی تربیت اور خدمت میں اسوہ رسول کے مطابق ہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔امیر اہلسنت کا طرز عمل دنیا اورآنےوالے امت کے واعظین، مربیین، معلمین اور سجادہ نشین حضرات کےلئے ماڈل اور نمونہ عمل ہے۔

امیر اہلسنت کی امیدوں کا مرکز مرکزی مجلس شوریٰ کا نظام

امیر اہلسنت کی دینی ثمرات اور شب وروز کاحاصل مرکزی مجلس شوری کانظام ہے۔ امیر اہلسنت کےمحنت کے تراشیدہ نگینے مجلس شوری کےاراکین ہیں جو امیر اہلسنت کی دینی خدمت میں گزرے شب و روز کے آئینہ دار بن کر دنیا میں فکر امیر اہلسنت کےساتھ دین کا کام کررہے ہیں۔دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کےچمکتے دمکتے ستاریں اپنے آفتاب سے روشنی کی کرنین لیکر دنیا میں پیغام دین کی صدائیں لگارہے ہیں۔ امیر اہلسنت نے آپ زندگی میں اپنی دینی تحریک کا مکمل نظم ونسق کو عملی میدانوں میں نافذ کرنے کی ذمہ داری مجلس شوری کے سونپی دی تھی۔ اورخود مرکزی مجلس شوری کے جدول کے مطابق خدمت دین میں مصروف رہے۔آپ نے شوری کے ہر رکن کے تربیت کی اور انہیں اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر دل سے لگایا،دینی واخلاقی زیور سے آراستہ کرکے عملی زندگی کے مبلغ بنایا۔ مرکزی مجلس شوری امیر اہلسنت کی خدمت دین کا وہ خوبصورت گلدستہ ہے جس کی خوشبوؤں سے دعوت اسلامی کی بہاریں مہک رہی ہیں۔ امیر اہلسنت کی خدمت دین کے معمولات اور مصروفیات کے مشاہدے کو عملی اعتبار سے اگر کوئی دیکھنا چاہے تو اسے امیر اہلسنت کی دلی تمنا کا مرکزی خیال مرکزی شوری کا نظم ونسق دیکھے۔

خلاصہ کلام

دعوت دین میں امیراہلسنت کے شب وروز کا تعارف پیش کرنے کامقصد فقط نئے قارئین اور معاصرین کو امیر اہلسنت کی شخصیت کی جھلک پیش کرناہے ۔ورنہ آپ عشق رسول کا پیکر، اور دعوت دین کی عملی تفسیر ہے جو آئندہ نسل کو دین کے کاموں کو منظم انداز میں کرنے کےلئے رول ماڈل ہے۔ امیر اہلسنت کے شب وروز خدمت دین کااستعارہ ہے، آپ کا تبلیغی سفر روح اسلام کا نظارہ ہے۔ آپ کی عملی قربانیاں قرآن کی آیت کی عملی تفسیر ہے۔آپ کی انفرادی واجتماع دعوت دین کی کامیابی پیغمبر اسلام علیہ الصلاۃ والتسلم کی نظر عنایت کا صدقہ ہے۔آپ کی تنظیمی بصیرت اور دور اندیشی اسلام کے نظام حکومت کی عملی تعبیر ہے۔آپ وہ مرد میدان ہیں جن کی خدمات دینیہ کےسامنے ہر کوئی رطب اللسان ہے۔آپ نے امت کا تعلق امت کے رسول سے جوڑا۔آپ نے اپنے آقا علیہ السلام کی سنتوں کو امت کے فسادکے وقت زندہ کرکے نظام مصطفی قائم کیا۔آپ کی دینی استقامت، جدوجہد امت کے ہر داعی کےلئے مینارہ نور اور مشعل راہ ہے۔آپ نے زندگی کا ہر لمحہ امت کی دینی اصلاح میں وقف کیا اوررضائےالہی اور رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے امت کی اصلاح کی عظیم خدمت سرانجام دی۔اللہ تعالی آپ کی صبح وشام ، زندگی کے ہر لمحہ اور عمر کی ہرساعت میں عافیت کےساتھ سلامتی اورتندستگی عطا فرمائے۔آمین۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!