خواتینِ اسلام کی تعلیم و تربیت میں امیر اہلسنت کا دینی کردار

اس مضمون میں یہ حقیقت نمایاں کی گئی ہے کہ مولانا الیاس قادری نے دعوتِ اسلامی کے ذریعہ عالمی سطح پر خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک منظم، مضبوط اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام قائم کیا۔ مدرسۃ المدینہ للبنات، جامعات المدینہ، آن لائن تعلیم، تربیتی کورسز اور گھریلو زندگی کی اصلاح جیسے منصوبوں نے خواتین میں حیا، پردے کا شعور، دینی بصیرت، فکری استحکام اور نسلِ نو کی درست تربیت جیسے پہلوؤں کو نئی سمت دی۔ یہ مضمون قارئین کو اسلام کے تعلیمِ نسواں کے حقیقی تصور اور مولانا قادری کی اصلاحی جدوجہد کے عملی ثمرات سے آگاہ کرتا ہے۔

December 26, 2025

تعارف:

اسلام کا نظام تعلیم جس کی بنیاد قرآن وسنت پر ہے ۔ان دونوں بنیادی ماخذ یعنی قرآن وحدیث میں علم اور تعلیم کی اہمیت و فضیلت پر خاصہ زور دیا گیا ہے ۔تاکہ اسلام کے ضابطہ حیات میں پلنے والا انسا ن علمی وعقلی لحاظ سے باشعو ر ہو اور اسلامی تہذیب پر مشتمل معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرسکے۔ اس لئےاسلام اپنے پاکیزہ نظام تعلیم وتربیت میں مردوخواتین دونوں کو علمی وروحانی ترقی کےیکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس وسعت نظر کا مقصد بھی یہ کہ دونوں اصناف شریعت اسلامیہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے معاشرے کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادار کرسکے۔ اسلام کی لازوال تعلیمات میں جہاں مردوں کو معاشرتی وعائلی ذمہ داریوں کا نگہبان مقرر کیاگیا ہے ۔وہیں عورت کو بھی مختلف پہلوؤں سے ذمہ دار مقرر کیا ہے ۔ہر ذمہ دار شخص کےلئے اپنی ذمہ داریوں سے متعلق معلومات کا ہونا ازحد ضروری ہے۔تاکہ جو فرائض کا بارگراں ان پر عائد ہواہے اس کو کماحقہ ادا کیا جاسکے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب فرائض ِزندگی کے بارے میں آگہی ہو۔

عصر حاضر اوراسلامی ضابطۂ حیات:

عصر حاضر کے بدلتے حالات کے تناظر میں امت مسلم کو جہاں کئی جہتوں سے مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہیں عورتوں کے حقوق اور ان کی تعلیم وتربیت کے حوالہ سے بھی متنوع قسم کی چیلنجز نظر آتے ہیں ۔جبکہ قرآن وسنت کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہےکہ اسلام کے ابدی نظام میں بچے بچیوں سے لیکر ادھیڑ عمر کے مرد وخواتین سبھی کے لئے ضابطہ حیات موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اپنے پاکیزہ نظام میں مردوخواتین دونوں کو علمی وروحانی ترقی کےیکساں مواقع فراہم کرتا ہے ۔اسلام کے قانون فطرت میں مرد یا خاتون جو بھی حالات ایمان میں اچھے اعمال کےساتھ زندگی گزارتا ہے تو اسے نظام قدرت کی طرف سے دنیا میں بھی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اورآخرت میں اجر عظیم سےبھی نوازے جائیں گے۔

حالات حاضرہ میں مولانا الیاس قادری کا کردار:

موجودہ صدی میں مرد کے ساتھ عورت اور خصوصا اسلامی خواتین کی تعلیم وتربیت کی اہمیت پہلے سے زیادہ توجہ طلب ہوتی جارہی ہے۔درحقیقت ایک باکردار پاکیزہ تعلیم یافتہ عورت رشتہانسانی کےہر روپ میں آنے والی نسل کی امین ہوتی ہے ۔حالات حاضرہ میں عورت کی دینی تعلیم وتربیت کی اہمیت کے پیش نظر اسلامی تحریکوں کا تقابلی جائزہ لیں توکراچی سےدینی انقلاب برپا کرنے والی قرآن وسنت کی تعلیمات کا حسین مرقع ’’ دعوت اسلامی ‘‘نے خواتین اسلام کی اصلاح اور دینی تعلیم وتربیت کو اپنی ترجیحات کی فہرست میں سرفہرست رکھا اور عالمی سطح پر بانی دعوت اسلامی مولانا الیاس قادری نے خواتین اسلام کی تعلیم وتربیت کے حوالے آفاقی خدمات سرانجام دیں ۔

اصلاح امت میں مولانا الیاس قادری کی اخلاقی و تعلیمی خدمات:

حضرت الیاس قادری نے اپنے زندگی انسانیت کی اصلاح میں وقف کی اور قرآن وسنت کی تبلیغ کے ذریعے دنیا بھر میں سنت رسول پر عمل کا نظام متعارف کیا اور معاشرے کے ہر طبقے خصوصا خواتین ،بچیاں عورتوں کی دینی تعلیم اور سماجی بہبودکےلئے غیر معمولی دینی وسماجی خدمات سرانجام دیں ۔ بین السطور خواتین کی تعلیم وتربیت کےحوالے سے محمد الیاس قادر ی بانی دعوت اسلامی نے جو دینی وسماجی خدمات سرانجام دیں اور اب بھی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود پندونصائح اور وعظ ونصیحت کے سلسلہ کو جاری رکھا ہواہے۔

خواتین کی تعلیم وتربیت - اسلامی نقطہ نظر

قرآن و حدیث میں مردوں کےساتھ تعلیم نسواں کی بھی ترغیب ملتی ہے اسلام کے نظام تعلیم وتربیت کا دائرہ صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کاحصول مرو اور عورت دونوں کے لئے یکساں قرار دیا گیاہے۔نزول وحی کے کا آغاز بھی ’’ اقرا ‘‘ کے خوبصور ت لفظ کےساتھ کیا گیا جواسلام کے تعلیمی نظام کی اہمیت وفضیلت کے لئے کافی ہےپھر قرآن میں تزکیہ نفس و اصلاح احوال کے سلسلہ میں مرد وخواتین دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور حدیث میں خصوصی طور پر علم کا حصول مرد وخواتین دونوں کےلئے لازمی قرار دیا گیا۔قرآنی آیات اور احادیث کے ریفرنس کو کوڈ کرنے سے بہتر ہے کہ اسلام کے اولین دو ر میں تعلیم وتربیت کےحوالے سے قرآن وحدیث کے احکامات کی عملی تفسیر پیش کرنے والے صحابہ وصحابیات کی عملی زندگی کا مطالعہ کرلیا جائے تاکہ قرآن وسنت کے احکامات کی واضح تفسیر مل جائے۔

ابتدائی دورِا سلام میں خواتین کا تعلیمی وتربیتی کردار

تاریخ اسلام کےمطالعہ سے پتاچلتا ہےکہ خاندان نبوت میں سے اہل بیت نے جو تعلیمی وتربیتی کے میدان میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں اسلام کے نظام تعلیم وتربیت کو سمجھے کےلئے ان عزت مآب ہستیوں کا کردار ہی کافی ہے ۔اہل بیت کی برکت لینےکےلئے ایک نام بطور مثال اس علم وفضیلت والی خاتون کا ہے جن کو امت کی ماں ہونے کاشرف بھی حاصل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے سب سے زیادہ قرب و محبوب ہونے کا شرف بھی ملا ۔جناب محترمہ ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کی مبارک ہستی کامقام ومرتبہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ موضوع کی مناسبت سے آپ کی علمی وتربیتی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔قرآن وحدیث ،فقہ ،عربی ادب کےساتھ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی عائلی زندگی کی سب سے بڑی روایہ ہونے کابھی شرف ہے اورکبارصحابہ کی علمی و دینی تربیت بھی آپ ہی کے حصہ میں آئی۔گلشن نبوت کی زہرا سیدہ وطاہرہ حضرت جناب فاطمۃ الزہرا کی پاکیزہ زندگی خواتین اسلام کےلئے روشن مثال ہےاور بے شمارصحابیات اور تابیعات کے علمی کمالات سےصفحات تاریخ جگمگارہے ہیں۔ اسلام کے نظام تعلیم وتربیت کا حقیقت پسندانہ مطالعہ کیاجائےاور اسلامی تاریخ کے جھرنکوں میں جھانکیں تو مسلم سوسائٹی کی تعمیرو ترقی میں مردوں کی طرح عورتوں نے بھی علم وعمل اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

موجودہ دور میں خواتین کی اصلاح کی اہمیت

اکیسویں صدی میں اگر خواتین کے تعلیمی وتربیتی نظام پر بحث کیاجائےتو آج کےدورمیں معاشرے کی تشکیل اور افراد معاشرہ کےنظام تربیت میں خواتین کا کردار بہت بڑھ چکاہے۔موجودہ معاشرتی اور بین الاقوامی تعلیم نسواں کے تناظر دیکھیں تو ایک نیک صالحہ دینی تعلیم یافتہ خاتون اچھی نسل کی پرورش کرسکتی ہے اور اچھی نسل معاشرےکی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔عورت اگر اسلامی تعلیمات کےسانچے میں ڈھل کر دنیاوی علوم حاصل کرے تو گھر جنت اور معاشرہ بقعہ نور بن جائے۔فقط دنیاوی تعلیم پرانحصار عورت کو مادر پدر آزادی اور عز ت نفس کو تار تار کردیتا ہےاور حقیقت بھی یہ ہے کہ مغربی معاشرہ اور تہذیب مغرب کی رنگینوں سے متاثر ہونے والے اکثر خاندان اجڑے دیارکےباسی بن چکے ہیں اور جن گھروں میں اسلامی تشخص زندھ ہے وہاں حیا اور عزت نفس اسلام کے نظام پردہ کی برکتوں سے محفوظ ہے ۔ مذکورہ حالات کےپس نظر میں دیکھیں تو آج امت مسلمہ کے استحکام اورمعاشی ومعاشرتی ترقی کےلئے خواتین کی تعلیم وتربیت بہت اہمیت اختیار کرچکی ہے ۔چنانچہ تعلیم نسواں کو دین کا لبادہ اڑھاکر معاشرے میں عورت کو عزت کا مقام دلانے اور شریعت اسلامیہ کی مطابق زندگی گزارنے کاڈھنگ سیکھانے کےلئے اسلامی تحریک دعوت اسلامی کےبانی حضرت محمد الیاس قادری کی خدمات قابل تحسین اور صد آفرین ہے۔

مولانا الیاس قادری نے دورحاضر میں خواتین کےلئے کیا حکمت عملی اپنائی ؟

تعلیم نسواں کے تناظر میں مولانا الیاس قادری کی تعلیمی خدمات دیکھیں تو ایسی بہت سی تدابیر اور حکمت عملی نظر آتی ہے جو دیگر معاصرین کی دینی تحریکوں کے مقابلے میں دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر نمایاں نظر آتی ہیں ۔

دعوت اسلامی اور مولاناالیاس قادری کی تدابیر

اکیسویں صدی کی اسلامی تحریکوں میں سرفہرست مولانا الیاس قادری کی دینی تحرین دعوت اسلامی عالمی منظر نامہ پر اصلاحِ خواتین کے حوالے سے ایک ایسامنظم پلیٹ فارم پیش کرنے میں کامیاب ہوئی۔ جہاں مرد حضرات کی اصلاح کے ساتھ خواتین کی تعلیم وترتیب کے لئے وسیع پیمانے پر کام کیاگیا۔

بانی دعوت اسلامی کی آفاقی سوچ نے طبقہ انسانی کے ہر فرد کےلئے نظام تربیت وضع کیا۔خواہ بچے بچیاں ہوں یا جوان مرد وعورت، بوڑھے ہوں یا ادھیڑ عمر کی خواتین ہر ایک کےلئے علیحدہ نظام تربیت قرآن وسنت کی بنیادوں پر استوار کیا۔دنیا کے لوگوں کی اصلاح کا عظیم مقصد لےکر چلے اور دنیا کواصلاح شدہ افراد کی ایک منظم جماعت پیش کرکے دکھایا۔

خواتین کی تعلیم وتربیت کا عالمی نظام ِ تعلیم وتربیت

شریعت کی مکمل پاسداری کو ملحوظ خاطر رکھ کرمولاناالیاس قادری اپنے اصلاحی مشن کےلئے تنہا تبلیغ کے سفر پر گامزن ہوئے اور دعوت اسلامی کے نظام تعلیم وتربیت اور دینی وسماجی شعبہ جات میں نظام مصطفی کی عملی شکل پیش کی۔جس طرح مرد حضرات کی اصلاح کا جامع نظام مرکزی شوری کے تحت وضع کیا اسی طرح امت کی بیٹیوں کی اصلاحی تربیت اور تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرنے کےلئے عالمی سطح پر خواتین کے لئے مجلس مشاورت کے نام سے تنظیمی ڈھانچہ بنایا۔ اس نظام کے تمام شعبوں میں خواتین کے کردار کوہی اہمیت دی ۔ شریعت کےمطابق تعلیم وتربیت کے پروگرامز ترتیب دیئے ،نظام تعلیم ، نظام تربیت، جدید سائنسی شعبہ جات، انفارمیشن ٹیکنادینلوجی ، سماجی رابطہ ، تعلقات عامہ ہر شعبہ میں خواتین ہی کو ذمہ داری دی اور گھر گھر قرآن وسنت کی تعلیمات پہنچانے کےلئے خواتین ہی کو تبلیغی ذمہ داری سونپی ۔عالمی سطح پر خواتین کی تعلیم وتربیت کےحوالے سے دنیا کے150 سے زائد ملکوں میں اسلامی خواتین کے مابین مشاورتی نظام قائم کیا اور ہر ملک کےحساب سے دنیا تعلیم کے ساتھ دینی تعلیمات عام کرنے کےلئے جامعات المدینہ برائے خواتین اسلامک انسٹیٹیوٹ بنائے۔

بچیوں اور بڑی عمر کی خواتین کی تربیت کے لئے دینی ادارے:

ملک پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر گاؤں میں بچیوں کےلئے مدرسۃ المدینہ قرآنی انسٹیٹیوٹ قائم کئے، قرآن ٹیچرز کے ذریعے قرآن آسان انداز کےساتھ پڑھانا شروع کرویا، بچیوں کو اسلام کےفرض علوم کی سیکھنے کےلئے تعلیمی کلاسسز کا اجرا کیا۔ جب دینی شعور بیدا ہوتو علم دین حاصل کرنے کا ذہن بنایا اور خواتین کی جامعات کو جال پور ے پاکستان اور بیرون ملک میں بچھایا۔قرآن ، حدیث ، فقہ ، اسلامی فنون، تاریخ ، سماجی تعلیمات، سوشل سائنسز میں گریجویشن کرنے کےلئے جامعات المدینہ گرلز کالجز بنائے۔ پورے دنیاوی تقاضوں کو شریعت کے مطابق چلانے کےلئے خواتین اسلام کےلئے مثالی اور منظم تعلیمی سسٹم قائم کئے۔ ہر عمرکی خواتین کےلئے شارٹ ٹرم، فل ٹائم شارٹ کورسسز ترتیب دیئے اورجب پورا باقاعدہ نظام قائم ہوگیا تو خواتین کے جملہ شعبہ جات خواتین کے سپرد کرکے اپنی دینی ودنیاوی ذمہ دارکاحق ادا کیا اور خواتین کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے دعوت اسلامی کانظام تعلیم وتربیت دنیا کے سامنے پیش کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کی ۔آ ج اسلامی شخصیات میں نمایاں نام مولانا الیاس قادری کا اسلئے بھی ہےکہ انہوں نے انفرادی طو رعالمی سطح پر دنیابھر کی خواتین کےلئے سماجی وتعلیم تربیت کا دینی نظام وضع کیا ۔

خواتین اسلام کی تعلیم وتربیت کےلئے مولانا الیاس قادری کےاقدمات:

خواتین کی تعلیم وتربیت اور دینی اصلاح میں مولانا الیاس قادری کے ہمہ گیر دینی انقلاب کامطالعہ کریں تو دو اہم پہلو نظر آتے ہیں :

(1) تربیت واصلاح

(2)تعلیم وتدریس

تربیت واصلاح کے اقدمات:
  • ب مولانا الیاس قادری کی دینی تربیت کےاثرات: مولانا الیاس قادری کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے ابتدائی تشکیلی مراحل میں دینی تربیت کا محور زیادہ ترمرد حضرات زیادہ تھے۔مولانا الیاس عطاری صاحب نے قدرت کی عطا کردہ صلاحیتیں کا بھرپوراستعمال کیا اور اپنے تبلیغی سفر کے ہر موڑ پرنصرت الہی پر یقین رکھتے ہوئے ایک ایک فرد کی دینی لحاظ سے ذہن سازی کی اور زندگی کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے معطر کرنے کے لئے کردار سازی کو اہمیت دی۔یہ قافلہ جوں جوں رسول اللہ کی نعتیں پڑھتاآگے بڑھتا گیا اور مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کے اثرات نے گھروں کا رخ کیاتو لامحالہ مردوں کی طرح خاتون خانہ پر بھی مولانا کی دینی باتیں اثر کرنے لگیں۔ یوں دعوت اسلامی کےدینی اثرات سے عورتوں کے احوال بھی متاثر ہوئے یوں مولانا الیاس قادری کی دینی تربیت کےاثرات نے خاتون خانہ کی زندگی میں علم دین حاصل کرنےکی تڑپ پیدا کیا یہ سلسلہ پھر گھر سے معاشرے کی طرف بڑھاا وراسلامی بہنوں کی دینی جماعت تشکیل پائی جو آگے چل کر دینی تحریک کی صورت اخیتار کرگئی ۔

  • دینی تربیت کے اجتماعات: خواتین کی دینی تربیت کےلئے مولانا الیاس قادری نے اپنے اہل خانہ اور بچیوں کو دیگر خواتین کی تربیت کی ذمہ داری سونپی اور اولاد کو پہلے علم دین سیکھا اور دوسروں کو سکھانے کا ذہن دیا ۔بچیوں اور بڑی عمر کی خواتین کےلئے ہفتہ وار تربیتی پروگرامز اور اجتماعات کا انعقاد کیا۔ہفتہ وار اجتماعات میں اسلامی خواتین کے کردار کو قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں بیان کیاجاتا ہے اور علم دین حاصل کرنے کی رغبت دلائی جاتی ۔ یوں خواتین کے عالمی نظام تربیت کی آبیاری میں مولانا الیاس قادری نے دینی اجتماعات کو بنیاد بناکر تعلیم نسواں پر عملی کام کیا۔خواتین کو مبلغات بناکر دین کی تبلیغ پر روانہ کیا گھر گھر دینی دعوت کی مہم چلائی ،تعلیمات قرآن کی برکتوں سے گھریلوں خواتین میں دینی شعور بیدا ر ہوا۔

  • تعلیم قرآن اور اصلاح اعمال کورسسز:عورتوں کی دینی تربیت اور علم دین کے بنیادی کورسسز کےلئے اصلاح اعمال کورسسز کا شروع ہوئے اور خواتین سے متعلق شرعی مسائل کورسسزکو آسان عام فہم انداز میں پیش کرکے دین سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھایاباقاعدہ دینی کورسسز کے نظام کو خواتین کےاندرہی متعارف کروائے اور پھر ملک سے باہر رہنے والی خواتین کےلئے آن لائن تربیتی پروگرامز ترتیب دیئے گے۔یوں خواتین میں دینی تعلیم کے شعور کو انگیخت ملی اور پھر مولانا الیاس قادری کے سنتوں کی تبلیغ سے متعلق دینی افکارو خیلات اور حکمت عملی سے خواتین کے دینی قافلہ تیار ہوئے اور مبلغات ومعلمات کی بڑی تعداد نے معاشرہ میں دعوت اسلامی کے پیغام کو عام کرنے میں جدوجہد کی۔

  • ناقد کےسوال ’’مولانا الیاس قادری نے خواتین کی تعلیم کے لیے کس نام سے ادارے قائم کیے‘‘؟ کے جواب میں بہت سارے دینی ادارے دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر موجود ہیں جو معاشرے میں خواتین کی تعلیمی بہتری کےلئے سرگرم عمل ہیں ۔

تعلیم و تدریس کےلئے اقدمات:
  • مدرسۃ المدینہ للبنات :مولانا الیاس قادری نے تبلیغی زندگی کےابتدائی دور میں بہت جلد لوگوں کی توجہ حاصل کرلی تھی یہ قدرت کی خاص کرم فرمائی تھی مولانا الیاس قادری انتہائی سادگی اور عام فہم انداز میں سنت رسول کی روایتی اشاعت کی بجائے عملی تبلیغ کی اور اپنے کردار وعمل سے لوگوں کے دلوں میں سنت رسول پرعمل کرنے ترغیب پیداکی یوں آپ کی دعوت کے اثرات نے جب لوگوں کی توجہ حاصل کرلی تو آپ نے بچوں کےساتھ بچیوں کےلئے بھی مدرسۃ المدینہ للبنات قائم کئے۔خاصی تعداد میں شہر کراچی کی بچیاں مدرسۃا لمدینہ للبنات کی چاردیواری میں قرآن کی تعلیمات سے ہمکنار ہونے لگی۔یوں خواتین کی تعلیم وتربیت کا پہلا نظام مولانا نے مدرسۃ المدینہ للبنات کے نام سے قائم کیا۔ جامعاتِ المدینہ برائے خواتین میں کون سے کورسز کروائے جاتے ہیں؟ مذکورہ سوال کے جواب میں بھی دعوت اسلامی کےتعلیمی نظام کی جھلک پیش ہے۔

  • آن لائن تعلیم وتربیت :تعلیم وتدریس کے حوالے سے مولانا الیاس قادری کی فکر سے جب طبقات انسانی میں انقلاب آیاتو دور دراز اور شرعی پردے کا خاص خیال رکھتے ہوئے مولانا الیاس عطاری کی انفرادی کاوشوں سے معلمات کا سسٹم قائم ہواجو ملک وبیرون ملک بچیوں کو آن لائن قرآن کی تعلیم دینے لگیں ۔ پھر کچھ دنوں میں آن لائن علم دین سکھانے کا سلسلہ شروع کیا ۔

شارٹ کورسسسز :تعلیم وتربیت کےلئے حوالے سے کئی کئی سالوں پرمحیط کورسسز کو قلیل مدت میں کروانے کےلئے شرٹ کورسسز کے طریقہ کار وضع ہوئے اور نما ز، کورس،طہارت کورس، خواتین کے مخصوص ایام ومسائل کےکورس، دینی کام سےدوسروں کو مستفید کرنےکےئے تربیتی کورس کا سسٹم وضع کیا۔بارپردہ شرعی تقاضوں سے ہم آہنگ قرآن وسنت کی تعلیمات گھر گھر پہنچانے کےلئے خصوصی کورسسز کا اجرا مولانا الیاس قادری کا تاریخی کارنامہ اور احیائے سنت کےلئے تجدیدی کردار ہے۔

ایک سوال :مولانا الیاس قادری نے خواتین ،بچیوں اورلڑکیوں کےلئے جو تعلیمی خدمات سرانجام دیں اس تناظر میں ذہن میں سوال پیداہوتاہےکہ’’ خواتین کی دینی تربیت کےسماجی ومعاشرتی فوائد کیا حاصل ہوئے؟۔ یقینا یہ ایسا سوال ہے جو ہر جدید ذہن رکھنے والے فرد کے ذہن میں آسکتا ہے ۔ضروری ہےکہ مولانا الیاس قادری کی تعلیمی جدوجہد کےنتیجے میں جو دینی واسلامی تعلیمی انقلاب پیداہوا ۔ اس کا حقیقت پسندانہ نظروں سے جائزہ لیتے ہیں ۔

خواتین اسلام کی تعلیم وتربیت میں سماجی خدمات:

سماج میں اسلامی پردےاور پاکیزگی کا شعور:

مولانا الیاس قادری کے دینی افکار ونظریات کا محور ومرکز امت مسلمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرنا ہے اسی مقصد کے گرد مولانا کی دینی جدوجہد گھومتی ہے ۔حضرت نے اپنے مقصد کی تکمیل میں کبھی کسی ملامت کرنے والے پرواہ نہیں کی اور احیائے سنت کے مقصد کی صداقت اور سچائی میں دلائل کی جگہ عملی کردار پیش کیا جس نے مجموعی طور پر معاشرہ کو متاثرکیا۔ زبانی کلامی دعوؤں اور بیانات کی بجائے عمل سے تبلیغ کی اور گھر گھر سنتوں کا پیغام پہنچایا ۔دینی کام کی بے لوث محنت نے رنگ لایا، مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی مولانا کی دعوت کو قبول کیا۔معاشرے میں پنپنے والی بے شرمی وبےحیائی کی جگہ حیاوشرم ،عفت وپاکیزگی نے لی، چادر چاردیواری کا تصور مضبوط ہوا۔ خواتین نے اسلام کے نظام پردہ کو اپنی زینت بنایا۔ معاشرہ میں شریعت کے احکام ِ پردہ کا عملی نمونہ قائم ہوا۔ سماجی طور پرپردہ کا رواج قائم ہوا اور باپردہ خواتین حیاکا لبادہ اوڑھ کر معمولات زندگی نبھانے لگیں اور یوں بانی دعوت اسلامی کی دینی تحریک نے سماجی طور پر خواتین میں پردے اور پاکیزگی کے شعور کو جنم دیا۔

  • گھریلو زندگی میں دینی تربیت کےاثرات: مولانا الیاس قادری صاحب کی دینی تحریک دعوت اسلامی کےسماجی اثرات کی سب سے بڑی مثال فیملی لائف میں اسلامی طرز زندگی کا پنپنا ہے۔مولانا الیاس کے بیانات کےاثرات نے گھریلو زندگی کے کردار ساس بہو ،ماں بیٹے، بہن بھائی اور خونی رشتوں کےدرمیان اور قریبی تعلقات رکھنے والے خاندانوں میں محبت وپیار اور احترام باہمی کےجذابات پروان چڑھائے ۔باہمی ناچکایوں کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کیا۔ آپس کی ناراضگی سےجنم لینے والے دشمنی کو رضائے الہی کےلئے ختم کردینے کاذہن دیا۔ہر معاملہ میں خواتین کے اندر خوف خدا پیداکیا اور گھریلو زندگی سیدہ کائنات سلام اللہ علیھا کی سیرت سے مثالیں پیش کیں۔باعاقدہ ساس بہو کےدرمیان ہونے والے اختلاف کے خاتمہ کےلئے ’’ساس بہو میں صلح ‘‘ کتابچہ کےذریعے اصلاحی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔خواتین کو گھریلو ماحول اچھابنانے اور ماں باپ ساس سسر ، اولاد ،شوہر کےبارےمیں قرآن وحدیث سے احکامات بیان کئے جس نے گھریلو زندگی اور فیملی لائف میں دینی تربیت کےاثرات نے اثر دکھایا اورسماج میں امن وآتشی کا فروغ ہوا۔

  • خواتین کی تعلیم وتربیت کے ذریعے معاشرتی اصلاح کی جانب پیش قدمی:قرآن وسنت کی تبلیغ کی راہ میں محمد الیاس عطار کی تحریکی زندگی میں ملنے والی سب سے بڑی کامیابی خواتین کی معاشرتی اصلاح ہے۔مولانا الیاس کی ہمہ جہت دینی خدمات نے تعلیم نسواں کا اہتمام کرکے امت کو خواتین کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے بہت بڑا اسلامی پلیٹ فارم تحفہ میں دیا ہے۔گھر سے معاشرہ، تعلیمی درسگاہیں، ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ، مدارس وجامعات، میڈیکل کالجز، جدید سائنسی شعبہ جات، سوشل میڈیا ،پروفیشنل ادارے ہر جگہ خواتین کی دینی تربیت کے سامان باہم پہنچانے میں مولانا الیاس قادری کی انتھک محنتیں تاریخ کے اوراق کا حصہ بنتی گئیں اور منصہ شہود پر خواتین کا عالمی تربیتی نظام پہلی بار دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر متعارف ہوا۔یوں معاشرتی اصلاح سے بین الاقوامی سطح پر خواتین کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے دعوت اسلامی کو کام کرنے کا موقع نصیب ہوا۔

’’ دعوتِ اسلامی کےزیر اہتمام خواتین کی تعلیم و تربیت کے سینٹر اور ادارےکن کن ممالک میں موجود ہیں؟

مخدوم ملت امیر اہلسنت مولانا الیاس عطار کی خواتین کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے دینی وسماجی خدمات کادائرہ کا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان سے نکل کر بین الاقومی سرحدوں تک وسیع ہوا تو150سے زائد ممالک میں بسنے والے مسلمانوں اور مسلم سوسائٹیز میں رہنے والے اہل ایمان نے اپنی بچیوں اور لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کےحوالے سے دعوت اسلامی کی دینی سرگرمیوں پر اطمینان کااظہار کیا۔دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام دینی و سماجی خدمات جہاں مردوں کے لیے عالمی سطح پر جاری ہیں، وہیں خواتین کے لیے بھی ایک وسیع اور منظم نظام تعلیم دنیا بھر میں قائم ہے۔ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی حکمتِ عملی اور آفاقی سوچ کی بدولت آج تعلیمِ نسواں، دینی تربیت، شرعی رہنمائی اور اسلامی اصلاح کا یہ مضبوط سلسلہ تقریباً پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں اسلامی بہنوں کے لئے نظامِ تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر چل رہا ہے:

انٹر نیشنل لیول پر خواتین کی تعلیم وتربیت کا نظام:

یورپ، امریکہ، افریقی ممالک اور اسلامی ریاستوں میں خواتین کے لیے تعلیم وتربیت کےمراکز:

  • بانی دعوت اسلامی کی دینی جدوجہد سے خواتین کےلئے یورپ، امریکہ، افریقی اور خلیجی ممالک ، ایشیائی ریاستوں سمیت دنیا بھر میں تعلیم وتربیت کے اسلامی مراکز قائم ہوئے جہاں اسلامی خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مدارس المدینہ و جامعات المدینہ گرلز میںں مقامی زبانوں میں بھی کورسز کروائے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین دین کی تعلیم حاصل کر سکیں ۔اس کےعلاوہ مجلس مشاورت برائے خواتین کےنظام کے تحت نئی مسلم خواتین کی دینی تربیت اور فرض علوم کی تعلیم کی بھی انتظام وانتصرام موجود ہے۔

  • آن لائن کورسسز اور مدنی چینل کے ذریعے خواتین کی تعلیم وتربیت: بانی دعوت اسلامی نے اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کےلئے جدید ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی نظام کا بھر پوراستعمال کیا۔سفری تکالیف اور وقت کی نزاکت کااحساس کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینل کے ذریعےعالمی رسائی حاصل کی۔خواتین کی تعلیم وتربیت کے اسلامی پروگرامز ،پردے کے حوالے سے شرعی احکامات، گھریلوں زندگی کےٹوٹکے اور معاشرتی آداب اور خاندانی تعلقا ت پر مشتمل قرآن وسنت کی تعلیمات عام کی۔یوں مولاناالیاس قادری کی دنیی دعوت کے اثرات نے عالمی سطح پر خواتین میں دینی شعور بیدارکیا ۔ پھر مولاناالیاس قادری کی آفاقی سوچ اور فکر نے دین کی تبلیغ کےلئے ایسے معرکۃ الآرا کام کئے کہ عقل دنگ ہوجاتی ہے۔آئن لائن کورسسزکا اجرا پھر اس کو منظم انداز میں چلانا اور کلاسسز کا تربیت دینا، وقت کا تعین یہ چیزیں مولانا کی دینی کاوشوں کی برکت سے از خود منتظم ہوتی گئیں اور افرادکاسلسلہ جڑتا گیا جس نے عالمی نہج پر خواتین کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا۔

  • بانی دعوت اسلامی کی دینی جدوجہد سے خواتین کےلئے یورپ، امریکہ، افریقی اور خلیجی ممالک ، ایشیائی ریاستوں سمیت دنیا بھر میں تعلیم وتربیت کے اسلامی مراکز قائم ہوئے جہاں اسلامی خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مدارس المدینہ و جامعات المدینہ گرلز میںں مقامی زبانوں میں بھی کورسز کروائے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین دین کی تعلیم حاصل کر سکیں ۔اس کےعلاوہ مجلس مشاورت برائے خواتین کےنظام کے تحت نئی مسلم خواتین کی دینی تربیت اور فرض علوم کی تعلیم کی بھی انتظام وانتصرام موجود ہے۔

  • بین الاقوامی لینگوئجزکےذریعے خواتین کی تعلیم وتربیت: تبلیغ دین کےلئے جہاں حضرت الیاس قادر ی بہت زیادہ علمی کام کئے وہیں عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں انٹرنیشنل لیول پر انٹرنیشنل لیکوئجز کے ذریعے دینی کام کرنے اور خصوصا خواتین میں دینی شعور پیدا کرنے کےلئے ٹرانسلیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیاجو مولانا کی کتابوں اور رسائل کا بین الاقوامی زبانوں میں ترجمہ کرتا ہے۔اب تک کئی زبانوں میں حضرت صاحب کی کتابیں خواتین کی تعلیم وتربیت کےلئے ٹرانسلیشن ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔بنات مسلمین کو ہر لحاظ سے شریعت کے دائرہ کار کےمطابق زندگی گزارنےکےلئے جو مولانا الیاس قادری کی دینی تحریک کے اثرات نے دنیا کو اپنی متاثرکیا۔ مسلم معاشرے سے لیکر تہذیب مغرب سے متاثر ہ خاندانوں میں دینی سوچ پیدا ہوئی اور عملی طور پر احکام دین پر عمل کا نظام نافذ ہوا۔

خواتین کی تعلیم و تربیت کے ہمہ گیر اثرات

مولانا الیاس قادری کااخلاص :

مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہدسے جو ہمہ گیرد ینی اثرات معاشرےاور بین الاقوامی سطح پر نظر آتے ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ مولانا پر اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص عنایتیں ہیں۔آپ نے ایک سچے داعی اور مبلغ کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیاا۔ور اب تک حقیقی طور پر دین کا کام بڑے ہی اخلاص سے کررہے ہیں ۔ آپ کی للہیت اخلاص اور دین سے وفا کانتیجہ ہےکہ مسلم معاشرےمیں بسنے والی لاکھوں خواتیں کی زندگیوں میں اسلامی رنگ نمایاں ہوا۔ تعلیمی اغراض او ر دنیاوی چاہت کے مقابلے میں دینی شعور اور اسلامی تعلیمات کا دور دورا ہوا۔ بےپردگی ،فیش پرستی کی رنگینیوں میں گم بنات المسلمین میں دینی انقلا ب برپا ہوا۔

اسلامی روایات کو فروغ :

مولانا الیاس قادری کی فکری وتعلیمی کاوشوں اور عملی جدوجہد سے حقیقی طور پر پردہ کا شعور بیدا ہوا۔ اسلامی اقدار اوراخلاقیات کو فروغ ملا، علم سطح پر مسلم خواتین میں دینی بیداری ہوئی۔ بین الاقوامی سطح پر خواتین میں دعوت اسلامی کے کاموں کو پزیرائی ملی۔ پردے اور اسلامی چادراورچاردیوار کا مطلب دنیا نے سمجھا۔ دینی تعلیم یافتہ مائیں او بیٹیوں نے اپنی نسل کی بہترین تربیت کےلئے دعوت اسلامی کی دعوت کو قبول کیا۔اور اس کے اثرات سے متاثر ہوکر اپنی زندگی کو شاہراہ ہدایت پر گامزن کیا۔نئی نسل کی بہتری اور بچیوں کی تربیت کےلئے جامعات المدینہ برائے خواتین میں داخلہ لیکر دینی تعلیم حاصل کرنے کےلئے رجحان پیداہوا۔مسلم سوسائٹی اور معاشرے میں خواتین کی تعلیم وتربیت کےحوالے سے مثبت تبدیلیاں آئیں۔دعوت اسلامی کے دینی کاموں سے معاشرے میں مثبت تبدیلوں نے یورپی نظام تعلیم کو بھی متاثر کیا ۔ا مت مسلمہ کےلئے مولانا الیاس قادری کی تعلیمی خدمات پر حکومتی اور بین الاقوامی اداروں کی طرف کلمات تحسین سے نوازا گیا۔

مولانا الیاس قادری کے افکار ونظریات سے خواتین کی تعلیم وتربیت کاروشن پہلو:

ایکسویں صدی کی اسلامی انقلابی شخصیت :

بنت حوا کی نوک پلک سنوارنے او رانہیں باشعور بنانے کےلئے دور جدید کے مغربی افکارونظریات کےمقابلے اکیسویں صدی کی انقلابی شخصیت حضرت الیاس قادری نے دنیا کےسامنے اسلامی نظام تعلیم کا نقشہ پیش کیا۔ دورحاضر میں خواتین کو جو مسائل پیش آتے ہیں ان کے تدارک اورحل کےلئے اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کیاگیا، خواتین کا معاشرتی کردار جو مغربی سوچ سےمتاثر تھا اس کو فکری تربیت کی گئی اور مغرب کی اندھی تقلید کی بجائے اسلامی کی دائمی اور ابدی تعلیمات پر عمل کی تحریک مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت سے پیدا ہوئی۔

مغربی افکارونظریات کی بجائے اسلامی تعلیمات کو فروغ

مولانا الیاس قادری کی آفاقی سوچ نے مغرب کے مقابلے میں دین کی اہمیت اور دینی تعلیمات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار اداکیا۔خواتین کی ذہنی وفکری آزادی اور گھریلوں زندگی کی تباہی میں جو عوامل کارفرماتھے مولانا الیاس قادری نے ان افکار ونظریات کی بیخ کنی اسلامی تعلیمات کے پائیدار اثرات سے کی۔خواتین کو اسلام کی طرف سے عطاکردہ حقوق سے آگاہی دی اور شریعت کے بیان کردہ پردہ کے احکامات میں رہتے ہوئے معاشرتی کردارادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔خواتین کی نسوانیت اور تقد س کےحفاظت کا اسلامی تصور پیش کیا۔عورتوں کو بااختیار بنانےمیں مغربی اصطلاح کے برعکس اسلامی نقطہ نظر پیش کیااور خواتین میں موجود خداداد صلاحیتوں کو معاشرےکی بہتری کےلئے کیسے استعمال کیا جائےاس کےلئے ایک منظم مربوط شریعت کےاصولوں کےمطابق نظام معاشرت دیا۔خواتین کو علمی ، روحانی، سماجی ترقی کے شرعی اصول بتائے اور انہیں دین پر عمل پیرا ہونےکی عملی دعوت دی۔

حرف آخر :

درحقیقت مولانا الیاس قادری نے بنت حواکو دعوت اسلامی کا دینی پلیٹ فارم مہیا کرکے نہ صرف امت مسلمہ کی بیٹیوں کو تحفظ فراہم کیا ۔بلکہ دنیابھر کی خواتین کےلئے دعوت اسلامی کا نظام تربیت اور جامعات المدینہ برائے خواتین تعلیمی نظام پیش کیا۔ عالمی سطح پر مسلم خواتین کےلئے دعوت اسلامی کا دینی ماحول نعمت سے کم نہیں ۔ اولاد کی تربیت اور دینی تعلیم کا مرکز دعوت اسلامی کا ماحول ہے ۔جہاں مائیں اپنے بچوں کو تعلیم کےلئے بھیج کر سکون محسوس کرتی ہیں۔ بچیوں کو تحفظ ملتا ہے اور خواتین کو ذہنی سکون نصیب ہوتا ہے۔مولانا الیاس قادری کےافکاونظریات سے خواتین کا عالمی سطح پر تربیتی نظام قائم ہوا۔ تعلیم کےلئے جامعات المدینہ جیسے درسگاہیں بنیں ۔جہاں معاشرتی ترقی کےلئے خواتین کی دینی تربیت اور تعلیم کا اہتمام کیاجاتاہے ۔تاکہ وہ بھی شریعت کی حدود میں رہ کر معاشرے کی تعمیر وترقی میں فعال اور مثبت کردار ادا کرسکیں۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!