امیرِ اہلِ سنت کی قرآن فہمی اورخدمت قرآن

یہ جامع مضمون امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس قادری کی قرآن فہمی، قرآن سے محبت اور خدمتِ قرآن کے انقلابی نظام کا احاطہ کرتا ہے۔ آپ نے تلاوت، تجوید، ناظرہ، حفظ اور تدبرِ قرآن کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر مدرسۃُ المدینہ کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا، جس نے لاکھوں بچوں اور نوجوانوں میں قرآنی شعور بیدار کیا۔ قرآن کی تعلیم کو آسان، عام فہم اور ہر گھر تک پہنچانے کے لیے آپ کا عملی، ہمہ جہتی اور روحانی اسلوب دنیا بھر میں غیر معمولی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

December 17, 2025

مولانا الیاس قادری کے فہم قرآن کا اعلی تصور کیا ہے؟

مولانا الیاس قادری نے قرآن پڑھا ،سمجھا ،قرآنی احکامات پر عمل کو یقین بنایا اور جب فہم قرآن سے دل کی دنیا آباد ہوئی تو خدمت قرآن کا جذبہ فروغ پایا اور پوری انسانیت کےلئے ہدایت قرآن کا پیغام لیکر نیکی کےراستے پر گامزن ہوئے اور مختصر عرصہ میں خدمت قرآن کی اعلی مثالیں قائم کیں۔تعلیم قرآن کےبے شمار ادارے بنائے اور لاکھوں طلبہ کو زیور تعلیم قرآن سے آراستہ کیا ۔مولانا الیاس قادر ی کے نزدیک انسانی رشد وہدایت کےلئے آسمانی صحائف میں قرآن وہ کتاب ہدایت ہےجو سابقہ انبیاء علیھم السلا م پر نازل ہونے والے صحیفے کتابیں یعنی توریت، انجیل، زبور کی نہ صرف تصدیق کرتی ہے بلکہ قیامت تک آنے والی نسل انسانیت کے لئے دستور حیات اور دین ودنیا کی کامیابی کا مکمل چارٹر بھی فراہم کرتی ہے۔یہ وہ کتاب ذی شان ہے جس میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ۔ یہ اللہ کے کلام کی نشانی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود رب کائنات نے اپنے ذمہ کرم پر لی۔ یہ وہ واحد کتاب ہے جو زمانہ کی قطع وبرید سے محفوظ ہے اور ہر دورکےبدلتے تقاضوں کےمطابق اپنے فرامین اور پیغام سے انسانی ہدایت کا سامان باہم پہنچارہی ہے۔قرآن کریم اپنے پڑھنے والوں کو اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید وہ عظمت والی کتاب ہے جس کی قرأت دلوں کی تسکین کاباعث ہے۔ کلا م اللہ کی تلاوت کا شرف پانے والے نورونکہت اور دائمی خوشیاں اپنے اندر سموتے ہیں۔ اللہ کا کلام قلب ونظر کی پاکیزگی اور باطنی طہارت عطا کرتا ہے۔کتاب اللہ قرآن انسانیت کی ہدایت کا آخری سرچشمہ ہے جو دنیا وآخرت کی کامیابی کا ضامن ہے اور اپنے اندر غور وفکر ،تدبر کی دعوت دیکر اپنے اسرار ورموز سے آگاہی بخشتا ہے۔قرآن پاک کی خدمت کرنے والے عظمت ورفعت پاتے ہیں۔ جو زندگی خدمت قرآن میں وقف ہوتی ہے اس کو دائمی عزت اور اس کی شہرت کو بقائے عالم نصیب ہوتا ہے۔تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں جن ائمہ اور مفسرین نے قرآن کو سمجھا پڑھا اور اس کے محاسن ومعارف، الفاظ ومعانی،آیات ونشانیاں، واقعات وقصص، حالات انبیاءاور شان وعظمت رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرنے کی سعات پائی ان کو زمانہ میں نہ صرف عزت کی نگاہوں سے دیکھا گیا بلکہ ان کی قبروں سے آج بھی انوار قرآن کی تجلیات اور برکات ظاہر ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

خدمت قرآن اور امیر اہلسنت

اسلامی تاریخ کی پندرہویں صدی ہجری بمطابق اکیسویں صدی میں جس شخصیت نے قرآن کا فہم وادراک اور قرأت قرآن کا ذوق وشوق پروان چڑھایااور خدمت قرآن کی اعلی مثالیں قائم کیں اور جو اب بھی عظمت قرآن کی شان وشوکت کو دنیا میں لٹارہا ہے وہ عالم اسلام کی نمایاں اور معروف شخصیت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری صاحب کی ذات ہے جو قرآنی فہم وتدبر کے ساتھ قرآن کی خدمت اور تعلیمات قرآن دنیا میں پھیلانا کا عظیم کام کررہی ہے۔محمد الیاس قادری کی فہم قرآن اور خدمت قرآن کا اندازہ دیگر معاصرین سے قدر مختلف اورمنفرد ہے ۔اس کا اندازہ آپ کی دینی جدوجہد اور دعو ت اسلامی کے تنظیمی اور دینی کاموں سے لگایا جاسکتا ہے۔مولانا الیاس قادری کی فہم قرآن نے لاکھوں زندگیوں کو زیورقرآن عطاکیا،قارئ قرآن بنایا، حافظ قرآن بنایا اور نور قرآن سے پژمردہ چہروں کو مژدہ جانفزا سنا کر منور کیااور آج دنیا کے بےشمار ممالک میں تلاوت قرآن کاذوق پروان چڑھ چکا ہے۔حضرت الیاس قادری صاحب کی فہم قرآن کی تدابیر کےمختلف عنوانات آپ کی زندگی کے عظیم مشن سے مترشح ہوتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔

عظمت قرآن کےبیان میں فہم قرآن کی ضرورت اور عملی تدابیر

مولانا الیاس قادری دعوت اسلامی کے امیر اور بانی امیر اہلسنت نے عظمت قرآن کا تصور صرف کتاب اللہ ہونے اور اسے خوبصورت طاق میں سجا کر برکت حاصل کرنا نہیں سمجھا ،آپ کےنزدیک قرآ ن مجید کی شان وشوکت کاتصو رکلا م اللہ ہونے تک محدود نہیں رکھا بلکہ آپ کی دور رس نگاہوں میں قرآن ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر زمانہ اور دور کے انسان سے مخاطب ہوکر اسے راہ ہدات دکھلاتی ہے۔مولانا الیاس کے نزدیک تصور قرآن ،فہم قرآن ، تدبر قرآن نام ہے اس کتاب ہدایت کی آیات میں غور وخوض کرنا ، اس کے لازوال احکامات کو تسلیم کرکے اسے زندگیوں میں نافذ العمل بنانا اور اس کے پیغام کی برکتوں سے دوسروں کا فائدہ پہنچانا۔

حضرت الیاس قادر ی نے فہم قرآن کو خود پہلے اپنی زندگی میں نافذ کیااور اچھے مدبر القرآن بن کر قارئ القرآن کی سند لیکر امت کے فساد کے وقت قرآن کی تعلیمات کو عام کرنے کے مشن پر روانہ ہوئے اور اپنی دینی تحریک دعوت اسلامی کے ذریعے پیغام قرآن دنیاکے کونے کونے تک پہنچایا۔

مولانا الیاس قادری نے دور پر فتن میں جب اپنی دینی تحریک کا آغاز کیا تو سب سے پہلے آپ نے فہم قرآن کی ضرورت کو سب سے اہم سمجھا اور پختہ یقین کرلیا کہ تہذیب مغرب کی ریشہ دانیوں، مادہ پرستی کے یلغار کے سامنے اور اخلاقی اقدار کے پامالی کے اس دورِ زوال میں کتا ب اللہ ہی وہ محفوظ قلعہ اور مضبوط رسی ہے جس میں مسلمانوں کو پرو کر ان کے ایمان کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔امیر اہلسنت کے غیر متزلزل یقین میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ جب تک مسلمانوں کا تعلق قرآن سے مضبوط نہیں ہوگا تب تک امت مسلمہ اپنے زوال سے نہیں نکل پائے گی ۔ اسیلئے آپ نے سب سے پہلے فہم قرآن کے تصور کو اجاگر کیا،عظمت قرآن کا شعور دلا یا۔ یوں مولانا الیاس عطار کی مساعی جمیلہ سے تلاوت قرآن تعلیم قرآن کاشوق انفرادی واجتماعی زندگی میں فروغ پایا۔آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادرگرامی :’’ خَیْرُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَهٗ ‘‘ یعنی ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے ، جس نے قرآن کی تعلیم حاصِل کی اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی ‘‘سے فہم قرآن کا ادراک حاصل کیا ،ترجمہ قرآن کنزالایمان اور تفسیر خزائن العرفان کو خوب پڑھا اور ایک اچھے خوش الحان قاری ہوکر تلاوت قرآن سے معاشرے کو ہدایت قرآن کی راہ دکھلائی اور افراد معاشرہ کےلئے فہم قرآن کا نیٹ ورک مدرسۃ المدینہ کے نام سے قائم کیا جس سے لاکھوں بچے بچیاں جوان بوڑھے مستفید ہورہے ہیں۔

حضرت الیاس قادری کے فہم قرآن کے بنیادی ماخذ

حضرت امیر دعوت وارشاد امیر اہلسنت کی فہم قرآن کی خداد صلاحیتوں کی نشوونما اور بالیدگی میں جہاں والدہ ماجدہ سے تلاوت قرآن سننا شامل ہے وہیں بچپن سے لڑکپن اور جوانی تک قرآن فہمی کی بنیاد میں شوق تلاوت قرآن کا بھی بہت بڑا اثرہے ۔آپ نے فہم قرآن کا اصل ذوق وسیع مطالعہ کےساتھ صحبت علمائے گزار کر حاصل کیااور جب امام احمد رضا کے ترجمہ کنز الایمان سے شناسائی ہوئی توآپ کا فہم قرآن منزل آشنا ہوا اور پھر تدبر قرآن کی راہ خزائن العرفان نے وسیع کی۔ یوں مولانا الیاس قادری کی فہم قرآن کی آبیاری میں ماں کی گود، علمائے اسلام کی صحبت، ترجمہ کنزالایمان اور تفسیر خزائن العرفان کا بہت بڑا کردار ہے۔

مولانا الیاس قادری بریلوی نے تدبر قرآن میں روایتی انداز بھی اپنایا اور دور حاضر کے تقاضوں کو بھی پورا کیا۔آیات کے شان نزول ، معانی ومفاہیم کی شرح ، آیات کےسیاق وسباق، قرآنی قصص، احکام قرآن، تعلیمات قرآن، واقعات قرآن ،قصص القرآن ، عظمت انبیا، شان امام الانبیاء علیھم السلام کےبیان وارشاد میں ترجمہ کنزا لایمان اور تفسیر خزائن العرفان کےساتھ قدیم مفسرین کی تفاسیر کو بھی مطالعہ میں رکھا اور جب فہم قرآن کی لطافت کو تقسیم کرنے کی باری آئی تو آپ نے اپنے موضوعات میں قرآن کی آیات کو ایسے بیان کیا کہ سامعین کےدلوں میں عظمت قرآن اجاگر ہوتی گئی ۔پھر اصلاحی تحریک سے فہم قرآن کا شعو د آہستہ آہستہ معاشرے پر گہرا ا ثر ڈالتا رہا۔

بیانا ت وخطابات میں آیات قرآنی آیات سے فہم قرآن کاشعور

حضرت امیر اہلسنت کی دینی جدوجہد میں جب انفرادی واجتماعی نشستوں میں تبلیغ کا دور شروع ہوا توآپ نے ہر بیان میں قرآن کی آیات کو موضوع سخن بنایا،کثرت قرآن آیات کا استعمال، برجستہ موقع محل اور بیان کے موضوع کےمطابق قرآن سے استفادہ کرتے، ہر موضوع کو قرآن کی روشنی سے جلا بخشتے، دلائل کی بنیاد قرآن پر قائم کرتے، آیات عبرت کےکثرت استعمال سے سامعین کو جھنجھوڑتے ،قرآن قصص سے سابقہ امتوں پر اترنے والے عذابات بیان کرتے تاکہ امت مسلمہ عبرت پکڑے۔گناہوں کی نحوست اور اس کے تنائج پر مرتب ہونے والے عذابات قرآن کی روشنی میں بیان کرتے ،دوزخ کی حشرسامانی، طرح طرح کے عذابات قرآن کی روشنی میں بیان کرکے عبر ت پزیری کی طرف لوگوں کی توجہ دلاتے ۔مولانا الیاس قادر ی کی ساری دینی جدوجہد فقط اللہ کے کلام کی باتیں سنانے اور اس پر عمل کی رغبت دلانے میں بسر ہوئی اور اب بھی ادھیڑ عمر میں شریعت وطریقت ، علم وعرفان ، اخلاقیا ت و معاملات سےبھر پور علمی نسشت مدنی مذاکرے میں قرآن کو ہی موضو ع بنا کر علمی گفتگو کا آغاز کرتے اور ناظرین وحاضرین میں فہم قرآن کا شعور بیدار کرتے۔امیر اہلسنت حضرت الیاس صاحب کی جہاندیدہ شخصت نے قرآن کےذریعے جو دینی انقلاب برپا کیا اور اس کی نظیر گزشتہ زمانہ میں ملنا مشکل نظر آتی ہے۔ مولانا الیاس قادری کے فہم قرآن کا نیٹ ورک پوری دنیا میں مدرسۃ المدینہ کے نام سے دینی کام کررہا ہے ۔

فہم قرآن کےذریعےقرآن کےساتھ جذباتی وروحانی وابستگی کاشعور دلایا

مولانا الیاس قادری کی فہم قرآن کی تدابیر کا ہمہ گیر جہت سے مطالعہ کریں تو آپ نے صرف تلاوت قرآن کا ہی شعور نہیں دلایا بلکہ لوگوں کو قرآن سے جذباتی اور روحانی تعلق قائم کرنے پر زور دیا۔قرآن کو سینے سےلگانے کا ذہن دیا،۔قرآن صرف ضابطہ حیات ہی نہیں ایک غمگسار رفیق ،دل جوئی کرنے والا ساتھی، ہمدم مہربان دوست کےطور پر اپنے قاری کےساتھ ہوتا ہے۔

آپ نے امت کا رشتہ قرآن سے جوڑ کے لئے کئ عملی تدابیر اختیار کی اور ہر تدبیر کی عملی تعبیر کو کامیاب بھی ملی ۔آپ کی دینی جدوجہد کے ثمرات پر ایک نظر دوڑایئے تو مولانا الیاس قادری نے فہم قرآن کو جو شعور دلایا اس پر جتنا رشک کریں وہ کم ہے۔حضر ت صاحب مولانا الیاس صاحب نے کئی طریقوں سے جذباتی ورروحانی تعلق قائم کئے۔

حسن قرأت کےساتھ تلاوت قرآن کا شعور

آپ نے ہمیشہ تلاوت قرآن حسن قرأت کےساتھ کرنے کی ترغیب دلائی، تجوید کےمحاسن بیان کئے ، خوش الحانی سے خود بھی قرآن پڑھتے اور خوبصورت آواز سے تلاوت قرآن کرنے کی رغبت پید اکرتے ۔باقاعدہ تجوید قرآن کا شعبہ قائم کیا، دور دراز علاقوں اور ملک سے باہر رہنے والوں کو قرأت قرآن سیکھنے کےلئے جدید ذرائع ابلاغ اور انفارمیشن ٹیکنولوجی کا استعمال کرتے ہوئے موبائل ایپلی مدنی قاعدہ کے نام سے جاری کی۔دنیابھر میں خوش الحانی سےتلا وت قرآن کا شعور دلانے کےلئے قرآن انسٹیٹیو ٹ مدرسۃ المدینہ قائم کئے۔

غور وفکر کے ساتھ تلاوت قرآن کاشوق

آپ نے عالمی سطح پر اپنے تبلیغی نصاب میں قرآن کی روزانہ تین آیات کی تلاوت ترجمہ وتفسیر کے ساتھ پڑھنے کا نصاب مقرر کیا،ہر روز تلاوت قرآن کا جائزہ لینے کا سسٹم بھی بنایا۔صرف پڑھنا نہیں بلکہ سمجھنا اور سمجھ کر احکام قرآن پر عمل کرنا بھی لازم قرار دیا۔قرآن کی تعلیات کو عام کرنے کےلئے قرآن انسٹیٹیوٹ مدرسۃالمدینہ آن لائن، آف لائن کلاسسزا کا بھی اجرا کیا۔بچوں اور بچیوں کےلئے الگ انتظامات کئے۔ فہم قرآن اور تدبر قرآن کےلئے مزید مطالعہ کا ذہن دیا اور اپنے اشاعتی ادارے سے دار الافتاء اہلسنت کے رئیس الافتاء کی تفسیر صراط الجنا ن کے مطالعہ کا نصاب بھی بنایا تاکہ تلاوت قرآن کےساتھ تدبر قرآن وفہم قرآن بھی ہو۔

ادعیہ قرآنی کی تعلیم اور ذکرو اذکار

آپ نے غمزدہ امت کو قرآن سے جوڑ نے کےلئے ذکرو اذکار اور وظائف کا نظام بھی قائم کیا اور وظائف کےلئے مدنی پنج سورہ کتاب لکھی جس میں خاص قرآنی سورتوں کےفضائل اور ان کے وظائف بیان کئے۔ قرآنی اسماء الحسنی کےذریعے بیماریوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کےلئے وردو وظائف پر مشتل رسالہ مرتب کیا۔ہر طریقہ سے امت کا تعلق قرآن سے مضبوط کرنےکےلئے عملی کاوشیں سرانجام دیں۔

قرآن کے قصص واقعات سے عبرت پزیزی

بیانات ،خطابات ، ملاقاتی نشستیں ، انفرادی واجتماعی علمی مذاکرے ، ملنے ملانے ہر جگہ جہاں وعظ ونصیحت کی محافل قائم ہوئیں وہیں قرآن کےواقعات کی طرف توجہ دلائی ،صبر ، برداشت ،تبلیغی زندگی میں آنے والے مصائب کاسامنے کرنے کی ہمت قرآنی واقعات سنا سنا کر دلائی، کثرت سےقرآنی آیات اور واقعات سنا کر دلوں میں عظمت قرآن کا اجاگر کیا۔امیر اہلسنت کے بیانات میں اکثر رقت انگیز مناظر اسیلئے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ آپ قرآن کی آیات پڑھ پڑھ کر دلوں کو حب قرآن سے گرماتے اور فکر آخرت میں رلاتے ہوئے نظر آتے ہیں

امت کے جوانوں میں تلاوت، حفظ اور فہم قرآن کا شعور

حضرت الیاس قادری نے نوجوانان ملت کو قوم کا قیمتی سرمایہ سمجھ کر ان کی تربیت کی طرف توجہ کی اور اپنی فہم قرآن کی تحریک دعو ت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ملت کے نوخیز جوانوں کا تعلق قرآن سے قائم کرنے کےلئے ایک نظام بنایا جس میں فقط تلاوت قرآن کو تجوید وقرأت کےساتھ سکھانے کے لئے سسٹم قائم کیا اور خود تعلیم قرآن کےلئے انفرادی واجتماعی سطح پر تلاوت درست انداز میں کرنے کےلئے مشق کرواتے رہے حتی کہ کچھ وقت کےبعد نوجوانان ملت کی ایک جماعت بن گئی جنہوں نے باقاعدہ اپنے شیخ کی سوچ وفکر اور فہم قرآن کی عالمگیر تحریک دعو ت اسلامی کےذریعے ناظرہ قرآن اور حفظ قرآن کانظام بنایا۔

مولانا الیاس قادری اکیسویں صدی میں اسلام کی نمائندگی کرنے والی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی دعوت دین اور فہم قرآن کی سوچ وفکر سے متاثر ہونے والا بڑا طبہ نوجوان نسل کا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس پر مولانا الیاس قادری کی توجہ رہی کیونکہ آپ کے نزدیک نوجوان قوم وملت کاقیمتی سرمایہ ہے یہ ضائع ہوتا ہے تو قوم کا وجود اپنے حیثیت کھودیتا ہے۔ اسیلئے آپ کی دینی توجہ کامرکز نوجوان نسل کی اصلاح تھی اور آپ کی جدوجہد نے نوجوان نسل میں تلاوت قرآن کا شعور پید اکیا جو بعد میں حفظ قرآن کی طرف مائل ہوا پھر جب حفظ قرآن کی برکت کےآثار نظر آئے تو فہم قرآن کا شوق علم دین سیکھنے کی طرف لے آیا یوں تلاوت قرآن سے فہم قرآن تک کا سفر جامعۃا لمدینہ کے نام پر منزل آشنا ہوا۔

مولانا الیاس قادری کا فہم قرآن اور قرآنی تعلیمات کا فروغ

مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہد میں قرآن کی تعلیمات کا بے بہا اثر نمایاں طور پر نظر آتا ہے آپ نے قرآن فہمی پر اپنی دینی تحریک دعوت اسلامی کی بنیاد مستحکم کی اور فہم قرآن کا عالمگیر منہج قائم کیا۔ ایسا جامع علمی بنیادو ں پرقرآن فہمی کا سسٹم متعارف کروایا کہ لاکھوں مدارس آپ کے فہم قرآن کے مرکز بن کر تعلیمات قرآن عام کررہے ہیں۔

حضرت امیر اہلسنت کی فکری و علمی تحریک دعوت اسلامی اپنے خوبصورت منظم اور مربوط نظام کےتحت صبح وشام اور دن رات قرآن نیٹ ورک کے جال مدرسۃ المدینہ کے نام سے دنیا بھر میں کامیابی کے ساتھ تعلیم قرآن کا منش چلا رہی ہے۔مولانا الیاس قادری صاحب نے درحقیقت قرآن کی عظمت اور اس کے فہم کی ضرورت کا احساس کیااور فہم قرآن کے شعور کی حساسیت کااظہار اپنے بیانات ، خطابات، علمی مذاکروں میں کرتے رہے۔ یوں وقت کے ساتھ فہم قرآن کےذریعے پہلے تلاوت، پھر حفظ وناظرہ اور معانی ومفاہیم اور تفسیر کےلئے درجہ بدرجہ نصاب قرآن کاسسٹم اپنی تحریک دعوت اسلامی میں متعارف کروایا۔

حاصل کلام:

مولانا الیاس قادری کے فہم قرآن کا نکتہ اور مرکزی خیال فقط کتاب اللہ کی تلاوت نہیں کی بلکہ قرآن کے احکامات کو سمجھ کر ان پر عمل کرنا ہے۔اسیلئے نوجوان نسل میں قرآن سے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کےلئے خود میدان عمل میں قرآن سیکھانے نکلے ،فرد سے افراد ،افراد سے معاشرہ پھر ایک نظام تلاوت قرآن قائم ہوا۔دعوت اسلامی کے قرآنی انقلاب نے پرتولے ،دنیا کے ہر کونے میں فیضان قرآن مسجد اور مدرسۃا لمدینہ قرآن انسٹیٹیوٹ قائم ہوئے۔بچوں سے لیکر ادھیڑ عمر کے افراد تک نظامِ تعلیمِ قرآن نے لوگوں کی توجہ اپنے جانب مبذول کروائی ۔بچیوں اور عورتوں کے لئے ایک الگ نظام تعلیم قائم ہوا۔

حقیقیت میں امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری نے موجودہ صدی میں فہم قرآن کا ایساشعور دلایا کہ قرآنی تعلیمات کے فروغ میں دعوت اسلامی کے مدارس المدینہ پوری دنیامیں امیر اہلسنت کی فہم قرآن کی تحریک کے مراکز بن چکے ہیں۔فہم قرآن کے انقلاب نے تعلیم قرآن کا بین الاقوامی نظام قائم کیا،انسانی زندگی میں مولاناالیاس قادری کے فہم قرآن کےتصور سے دینی انقلاب پرپا ہوگیا اور صبح قیامت تک مولانا الیاس قادری کی فہم قرآن کی سوچ اور فکر مشعل راہ بن کر قرآن کی تلاوت کا شوق اور ذوق دلوں میں اجاگر کرتی رہے گی۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!