مولانا الیاس قادری کی حیات وخدمات کا تحقیقی جائزہ

مولانا الیاس قادری عصرِ حاضر کے عظیم مصلح، مبلغِ اسلام اور بانیٔ دعوتِ اسلامی ہیں۔ آپ کی پوری زندگی احیائے سنتِ رسول ﷺ، اصلاحِ معاشرہ اور عشقِ مصطفیٰ کے فروغ سے عبارت ہے۔ 1981ء میں قائم ہونے والی دعوتِ اسلامی آج دنیا کے 200سے زائد ممالک میں قرآن و سنت کی تعلیم، دینی تربیت، جامعات المدینہ، مدارس المدینہ، فیضانِ مدینہ مراکز، فلاحی خدمات اور میڈیا کے ذریعے دین کا پیغام عام کر رہی ہے۔ مولانا الیاس قادری کی انفرادی و اجتماعی کاوشوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بدل دیا۔

February 13, 2026

تاریخی پس منظر

اللہ رب العزت کی شانِ کریمی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت و تربیت کے لیے ہر دور میں ایسے نفوسِ قدسیہ پیدا فرمائے جنہوں نے انسانیت کی رہنمائی، فلاح اور کامیابی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انسانی ہدایت اور مخلوق کو خالقِ حقیقی سے جوڑنے کے لیے دین کی تبلیغ کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، جو سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر مکمل ہوا۔

دینِ اسلام کو تمام آسمانی ادیان پر فوقیت عطا کی گئی، اور اب قیامت تک یہی دینِ محمدی باقی و غالب رہے گا۔ اسی دین کی تبلیغ ہوگی اور اسی کی تعلیمات سے انسانیت فیض یاب ہوتی رہے گی۔ دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی تمام تر تعلیمات کا خلاصہ قرآن و سنت میں مضمر ہے۔ یہی وہ بنیادی ماخذ ہیں جن کی تشریح و تبلیغ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابۂ کرام، اہلِ بیت اطہار، تابعین، تبع تابعین، ائمۂ مجتہدین، محدثین، اکابر علما، صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کرتے چلے آئے ہیں۔

ہر دور کے حالات اور تقاضوں کے مطابق انہی علمائے اسلام اور اولیائے کاملین کے ذریعے دینِ اسلام کی تعلیمات امت تک منتقل ہوتی رہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ تبلیغِ دین کی رفتار کبھی تیز اور کبھی مدھم رہی، تاہم اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں دین کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم رکھنے اور اس کی اشاعت کے لیے مبلغینِ اسلام کا سلسلہ جاری رکھا۔

برصغیر میں باطل فرقوں کا سد باب

انیسویں صدی میں جب برصغیر میں گمراہ فرقوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے کمالات کو حرف تنقید کا نشانہ بنایا اور عظمت رسالت پر رقیق حملے کئے ،شان مصطفی کے بارے میں نازیباکلمات کتابوں میں اور عوام الناس کے اجتماعات میں بیان کئے تو سرزمین بریلی سے ایک ایسی شخصیت نمودار ہوئی جس کے کِلک نے باطل فرقوں کو منہ توڑ جواب دیا ، خنجر خونخوار ، برق بار بن کر گمراہ اور باطل فرقوں کے عقائد ونظریات پر ایسی کاری ضربیں لگائیں جس سے دین کی عظمت اور پیغمبر اسلام کی شان بدباطن فرقوں کے گمراہ کن نظریات سے محفوظ ہوئی ۔مطلع بریلی پر عظمت اسلام کا پرچم لئے طلوع ہونے والی نابغہ روزگار ہستی کا نام امام احمد رضاخان تھا جس نے اسلام کی عظمت اور شان پیغمبر اسلام کےلئے قلمی جہاد کیا اور عشق ومحبت سے لبریز ایسی علمی کاوشیں مشعل راہ کے طور پر آنے والے کےلئے چھوڑی جس کی روشنی میں بعد کےعلمائے اسلام نے نظریاتی محاذ پراسلام کادفاع کیا ۔

بیسویں صدی میں احیائے سنت کےلئے مولانا الیاس قادری کی جدوجہد کا آغاز

پھر بیسوی صدی میں امام احمد رضا کے نقش قدم کو خضرراہ بن کر احیائے سنت رسول کا عَلم بلند کئے مطلع رشد وہدایت پر مولانا الیاس قادری کا نام روشن ہوتا ہے۔مولانا الیاس قادری فکر امام احمد رضا کا پرتو بن کر عالم اسلام میں اپنی ہمہ جہت شخصیت اور دینی خدمات کی وجہ سے امیر اہلسنت کےلقب سےملقب ہوئے ۔مولانا الیاس قادری نے مصطفی جان رحمت پہ لاکھو ں سلام کےایسے ترانے آلاپے کہ پوری دنیا میں سنت رسول کے احیا کا عظیم مشن اپنی آب وتاب کےساتھ روزافزوں بڑھتا گیا اور جانب منزل بڑھتا جارہا ہے۔مولانا الیاس قادری کی شخصیت ، دینی خدمات اور تبلیغ دین کی کاوشوں پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ کس طرح آپ کی دینی جدوجہد کےنتیجے میں اہل ایمان کے سینوں میں عشق مصطفی کی شمع روشن ہوئی ۔احیائے سنت کا انقلاب برپا ہوا ۔افراد معاشرہ ہدایت کےرستے پر گامزن ہوئے ۔علم وعمل ، تعلیم وتربیت سلسلہ جاری ہوا ۔اورمعاشرےوسماج میں پھیلی اخلاق سوز عادات کی جگہ اسلامی اخلاقیات نے لی ۔

تعارف شخصیت

1950 میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مولانا الیاس قادری پیدا ہوئے ،آپ کےوالد کا نام حاجی عبدالرحمن قادری علیہ رحمۃ اللہ الھادی تھا ،الیاس قادر ی ابھی عالم شیرخوارگی میں تھے کہ ایام حج میں سرزمین جدہ میں آپ کے والد کا انتقال ہوگیا تھا،یوں آپ نے اپنی تمام تر ابتدائی تعلیم وتربیت ما ں کی ممتا سےپائی۔

اکتساب علم کے ذرائع

مولانا الیاس نے اسلاف کے طریقہ تعلیم کو اپناتے ہوے اپنے لئے بھی اکتساب علم کے دو اہم ذرائع منتخب کئے : صحبت علماء اور مطالعہ کتب۔ مولانا الیاس عطار کو اپنے وقت کے مفتی اور جید عالم دین حضر ت مفتی وقار الدین کی صحبت ملی جنہوں نے آپ کے اندر علم دین حاصل کرنے اور علم دین کی شمع دوسروں کےسینوں میں جلانے کی تڑپ پیداکی ۔نیز مولانا میں شوق علم نے کثرت مطالعہ کی ایسی عادت ڈالی کہ بنا کتب بینی کے بے چین رہتے پھر فقہی ذوق اور مسائل دینیہ کےادراک نے فقہ حنفی میں مہارت تامہ پیداکرنے والی کتاب بہارشریعت کے مطالعہ کو حزرجان بنالیا اور اتنی مہارت پیدا کی کہ فقہی مسائل ذہن میں راسخ ہونا شروع ہوگئےاور شوق علم نے جب اسلامی علوم دینیہ کے انسائیکلوپیڈیا فتاوی رضویہ کےمطالعہ کی رغبت دلائی تو فتاوی رضویہ کی ورق گردانی نے ایسے علمی کمالات پیدا کئے کہ کم عمری میں فقہی مسائل میں عبور حاصل کرلیا اورظاہری علوم پر دسترس کے بعد باطنی علم کی طرف متوجہ ہوئے تو امام غزالی کا فیض باطن میں جھلکتا ہوا محسوس ہوا ۔ درحقیت اعلی حضرت امام احمد رضا ، امام غزالی ،آسمان قادریت کے آفتاب شیخ عبد القادر الگیلانی کی روحانی توجہات اور استاد کامل مفتی وقار الدین کی صحبت نےمولانا الیاس قادری میں ایسے گوہر پیداکئے جس کی چمک دمک نے دنیا کو خیرہ کردیا۔

درس وتدریس

مولانا الیاس قادری میں قدرتی طور پر مذہبی رجحان سرایت کرچکا تھا ماں باپ کے تقوی وپرہیزگاری کے اثرات بچپن ہی سے مولانا الیاس قادری کی شخصیت میں ظاہر ہوچکے تھے۔ علم دوستی صحبت استاد سے ملی، دوسروں کی خیرخواہی کا جذبہ، فلاحی کام، نیکی کی دعوت ،امداد باہمی،مزاج پرسی ،تیماداری، غم خواری وغیرہ اوصاف مولانا الیاس میں قدرت کا وہ تحفہ تھا جو ہر کس وناکس کو نہیں ملتا۔چنانچہ انسانیت کی اُخروی کامیابی کےلئے مسجد میں در س وتدریس کا سلسلہ شروع کیا،عقائد کی تعلیم ،عبادات کے احکام ، باطنی پاکیزگی کےلئے سلسلہ قادری کے اوراد ووظائف کی تعلیم ۔اگر کوئی نماز میں حاضر نہیں ہوتا توفکرمند ہو کر ملاقات کےلئے گھر تشریف لے جاتے یوں مسجد ہی رہ کر دین کا کام شروع کیا، صرف امامت یعنی نمازپڑھائی کام پور اکیا اور گھر کی راہ لی ایسا نہیں بلکہ دین کی کماحقہ تعلیمات کو عام لوگوں تک پہنچانےکےلئے آپ نے اسوہ ٔ رسول کو ماڈل بنایا اور دوسروں میں عمل کا جذبہ بیدار کرنے کےلئے ذہن سازی شروع کی۔ یوں دین کے مسائل سیکھانے کے ساتھ سنت رسول کے احیا کےلئے ہمہ تن مصروف عمل ہوئے ۔پھر اس جذبہ دروں نے آپ کے اندر عالمی سطح پر لوگوں کی اصلاح کےلئے کڑھن پیدا کی ۔

تبلیغ دین کے سفر کی شروعات

مولانا الیاس قادری کے جسم وجان میں دین اسلام سے والہانہ محبت کے جام امام احمد رضا کی روحانی تعلیم وتربیت نے انڈیلے۔ پھر شیخ عبد القادرالجیلانی کے روحانی فیوض وبرکات کے ثمرات بھی مولانا کی شخصیت میں گاہے بگاہے نظر آنے لگے۔ چنانچہ امامت کی گراں بار ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے مولانا الیاس قادری نے اپنے شیخ واستاد کی اجازت سے درس وتدریس کے علاوہ ہر نماز کے بعد درس دینا ، مسائل سیکھانا ، طہارت کےمسائل ،عبادات کا طریقہ ، اخلاقی عادات، گناہوں سے نفرت، نیکی کی رغبت اورمعاشرتی بھلائیوں پر مبنی کاموں پر اکسانا کے ساتھ دین کی دعوت دینی شروع کر دی ۔ قرآن کے فرمان ذیشان :

‘‘لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱)‘‘

بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے۔

کو اسلوب زندگی بناکر مولانا الیاس صاحب نے اطاعت رسول اتباع رسول، اسوہ رسول ادائے رسول،سنت رسول اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی عادات جمیلہ اپنا کر لوگوں کوبھی سنت رسول کا درس دینا شروع کردیا یوں امامت سے عوامی سطح پر تبلیغ دین کے سفر میں گامز ن ہوئے ۔

دعوتِ اسلامی کا قیام: پس منظر اور ضرورت

تبلیغی مساعی کے نتیجے میں مولانا الیاس قادری نے جب اپنے تبلیغی سفر کو ایک منظم انداز میں چلانے کےلئے حلقہ احباب کی مشاورت اور علمائے ذی وقار کی باہمی رضا مندی سے باقاعدہ بازاروں اور محلوں میں چوک درس دینے شروع کئے تو اس وقت کے پس منظر کو پیش نظر رکھ کر دیکھیں تو شہر کراچی نفرت کی آگ میں جل رہا تھا ، ایک طرف تعصب ، تفرقہ ،لسانیت اور مذہبی انتشار اور طرح طرح کے فتنوں نے فضا کو گرد آلود کردیاتھا۔تو دوسری طرف نوجوان یورپ کی تہذیب سے متاثر ہوکر بے حیائی کی طرف راغب ہورہے تھے۔ مساجد میں رسم اذان تھی پر روح بلالی خال خال تھی،نیکی کا تصور کوسوں دور ہوتا جارہا تھا، نمازی نماز پڑھتے پر نماز کے قیام کی حقیقت سے کوئی واسطہ نہ رکھتے، کہیں کہیں رسمی طور پردینی رایتوں پر عمل نظر آتا لیکن اکثریت دین سے دور معاشی آزماشوں میں مبتلا ہوتی جارہی تھی۔سوچی سمجھی سازش کے تحت علمائے اسلام کو بدنام کیاجارہاتھا، دینی اداروں کی معاشرتی اہمیت کو گھٹاکر ویران کرنے کی مذموم کوششیں جارہی تھیں اور کئی نامور اداروں کی بنیادیں سازشوں کے نتیجے میں ہل بھی چکی تھیں ،شریعت سے ورغلاکر مسلمانوں کا تعلق صاحب مکین گنبد خضرا سے توڑا جارہاتھا ، عشق مصطفی کی شمع بجھانے کےلئے اہل ایمان کے سینوں میں محبت دنیا ڈالنے کےلئے دنیاوی حرص ولالج کے اسباب مہیا کئے جارہے تھے۔ان نامساعدحالات اور بےحیائی کے دور میں شہر کراچی سے جس شخصیت نے علَمِ جہاد بلند کیا، احیائے سنت رسول کی تحریک چلائی، تبلیغ قرآن وسنت کےلئے دینی جدوجہد کی ، امت کےبکھرے شیرازےکو عشق مصطفی کی موتیوں میں پرویا،اسلام کی محبت کے دیئے جلائے، منبر ومحراب کی رونقوں کو ازسرنو بحال کیا ،نغمہ ہائے رسالت سے دلوں میں عشق ومحبت کے سوز وگداز پیداکئے، سوز وسازعشق نبی سے ویران دلوں کو آباد کیا،دنیا پرست کو دین پرست بنایا اور آوارہ مزاج لوگوں کو دین کی طرف رغبت دلانے والی ہستی کا نام مولانا الیاس قادری ہے۔

چنانچہ 1401ہجری بمطابق 2ستمبر 1981 کو مولانا الیاس قادری امر بالعمروف ونہی عن المنکر کے حکم قرآنی پر عمل کرتے ہوئے ایک عظیم مقصد " مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے" لئے شہر کراچی سے تبلیغ قرآن وسنت کی عظیم دینی تحریک ’’دعوت اسلامی ‘‘ کا آغاز کرتے ہیں۔انیسوی صدی کی اسی کی دہائی کے حالات وواقعات کے تناظر اور اسلام کی عظمت رفتہ کو پھر سے دلوں میں اجاگرکرنے کےلئے ہرقسم کے حالات کی مخالفت لئے مولانا دین کی تبلیغ کےسفر کو ’’دعوت اسلامی‘‘ کا نام دیکر شروع کیا اور لومۃ الائم کے پرواکئے بغیر ایک ایک فرد کو دین کی دعوت دیتے ،نیکی کی رغبت دلایتے ہیں اور یوں :

میں اکیلا ہی چلا تھا جانِبِ مَنْزِل مگر

اِک اِک آتا گیا کارواں بنتا گیا

کے مصداق مولانا کی دینی جدوجہد کی انفرادی دعوت اجتماعی ماحول میں تبدیل ہوتی ہے اور موجود تاریخ اگست 2025 میں دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہد کےد رو رس اثرات نظرآتے ہیں ۔

اصلاحِ معاشرہ کے لیے الیاس قادری کی انفرادی و اجتماعی کاوشیں

عالمی سطح پر دین اسلام کی اشاعت اور تبلیغ اسلام کےلئے مولانا الیاس قادری کی تبلیغی جدوجہد پر نظر دوڑائے تو اصلاح معاشرے کےلئے الیاس قادری کی دینی مساعی میں دو اہم اسلوب تبلیغ نظر آتے ہیں : ایک انفرادی کوشش اور دوسری اجتماعی اصلاح۔

انفرادی کوشش

مولانا الیاس قادری نے نیکی کی دعوت کے شارعِ تبلیغ پر ایک مبلغ کی حیثیت سے قدم رکھا تومولانا نے اسلوب تبلیغ میں منہج نبوت کو ہی اپنا ماڈل بنایا۔یعنی جس طرح طلوع اسلام کے ساتھ حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم نے تبلیغ کا آغاز کیا تو فردا فردا دین کی دعوت دیناشروع کی، انفرادی طور پر توحید کا درس دیا،ایک ایک شخص کی ذہن سازی کی، دین اسلام کی حقانیت سے واقفیت دی، عقیدہ توحیدکا بیج بونے کےلئے چیدہ چیدہ اشخاص کے سینوں کا انتخاب کیاتاکہ جب دعوت توحیدمعاشرے کے بااثر شخصیات میں راسخ ہوجائےتو ان سے منسلک لوگوں کو دعوت دینا آسانی ہوجاتی ہے۔مولانا الیاس قادری نے بھی انفرادی دعوت کی اہمیت کو پیش نظر رکھ دعوت اسلامی کا پیغام فردا فردا عام کرنا شروع، انفرادی طور پر ذہن سازی وکردارسازی پر زوردیا، حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سنتوں کواپنا کر ایک باعمل مخلص کردار لوگوں کے سامنے پیش کیا،دعوت عمل سے پہلے خود باعمل بن کر لوگوں کے سامنے پیش ہوئے،سادہ میٹھے، پرتاثیر لہجہ اور محبت بھرے جذبات اور عشق رسول میں ڈوب کر دعوت خیر دی، باتیں سنی ، جھڑکیاں کھائیں،لوگوں کے بےکتی باتوں کو برداشت کیا،مزاق،تمسخر کا نشان بنے،سادگی کو حرف تنقید بنایاگیا پردین کی دعوت دینا نہ چھوڑی ۔

انفرادی دعوت کےاثرات

مولاناالیاس قادری کی نیکی کی دعوت کی کامیابی میں انفرادی دعوت کو بڑا دخل ہے ممکن ہےکہ آج ہر شخص اجتماعیت میں اپنی دعوت کو دینے کا خواہشمند ہو،لیکن مولانا الیاس قادری آج بھی پیرانہ سالی کے باوجود انفرادی طور پرنیکی کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور تبلیغ دین میں انفرادی دعوت کی اہمیت کوصفحہ قرطاس پربھی منتقل کیا، بلکہ اکبائر علما کی انفرادی جدوجہد پر کتاب بھی لکھی۔مولانا الیاس قادری کی انفرادی نیکی کی دعوت کے نتیجے میں ایسے باعمل افراد تیار ہوئے جنہوں نے مولانا کی نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مثالی کردار ادا کیا اور آپ کی انفرادی توجہ اور ذہن سازی سے امت کو ایسے مبلغین ملے کہ جنہوں نے اپنے مربی وشیخ کےمشن کو حرزں جاں بناکر مولاناکی دعوت کےاثرات سے دنیا کو متاثر کیا اور لاکھوں غیر مسلموں کو کو کلمہ حق پڑھا کر دین کا مبلغ بیانا۔

اجتماعی اصلاح

اخلاص وللہیت کے پیکر مولانا الیاس قادری کی نیکی کے دعوت کے اثرات جب دلوں میں راسخ ہونا شروع ہوگئے تو انفرادی نیکی کی دعو ت کے دائرہ کار کو بڑھا کر اجتماع ماحول میں تبدیل کیاگیا ۔اجتماعی اصلاح کا ماحول کیساہو ، اصلاح کے اجتماعی ماحول کےلئے جگہ کا انتخاب،اجتماع کے بیانات کے موضوعات ، لوگوں کی آمدو رفت ،ملاقاتیں وغیر لوازمات کا اتنظام وانتصرام کے لئے قدرتی اسباب مہیاہونا شروع ہوگئے ۔جب دعو ت میں سچائی ہو اور دعوت دینے والا خود باعمل ہو تو دعوت کےاثرات از خود دلوں میں قدم جمالیتے ہیں ۔یوں مولانا الیاس قادری نے اپنی دعوت کو اجتماع ماحول میں دینےکےلئے جمعرات کے دن بعد نماز مغرب ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا آغاز کیا۔1981سے ہفتہ واراجتماع کی دھوم ایسےمچی کے آج 150 سے زائد ممالک کے سینکڑوں مقامات پر دعوت اسلامی کا ہفتہ وارا جتماع منعقد ہوتا ہے اور دعوت اسلامی کے قیام سے لیکر اب تک بغیر کسی تعطل کے حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی سنتوں کی تبلیغ کا پیغام انہی ہفتہ وار اجتماعات کے ذریعے کے دنیا میں جاری وساری ہے۔

قرآن وسنت کی تبلیغ اور احیائے سنت کےلئے عالمی سطح پر تربیتی نظام کا قیام

جب اللہ اپنے بندے سےکوئی اہم کام لینا چاہتاہے تو اس بندے کے ذہن کو وسعت ، نظر میں بالیدگی، فکر کو پاکیزگی، عمل کو اخلاص او ر شخصیت میں کمالات بھی ودیعت فرمادیتا ہے ۔چھٹی صدی جب میں شیخ عبد القادر الگیلانی نے اپنے تبلیغی سفر کا آغاز کیااورخطابات کے ذریعے لوگوں کو جھنجھوڑا ،معاشرے میں پھیلی بری رسم ورواج سے کنارہ کشی اختیارکرنے کا ذہن دیا ،حکمرانوں کی دینی تربیت کی اور ظلم وستم کے بازار میں صدائے محبت بلند کی تو کشاں کشاں لوگ آپ کے ہاتھ پر تائب ہوئے او ر اپنی ظاہر ی وباطنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے۔اس وقت شیخ کامل نے لوگوں کی تربیت ،دائمی اصلاح ، تعلیم وتربیت اور باعمل افراد کی تیار ی کےلئے بغداد میں درس وتدریس اور افرادسازی کےلئے درسگاہ بنائی جہاں صبح وشام دین کی تعلیمات سیکھانے کا اہتمام کیاجاتااوراسی درسگاہ کے فارغ التحصیل علمااپنی ظاہری وباطنی اصلاح کےبعد وقت کے قطب بن کر تبلیغ دین کے لئے روانہ ہوئے ۔من وعن مشرب غوثیت مآب کے پروردہ جناب مولانا الیاس قادری نے اپنے روحانی شیخ کےنقش قدم کو خضر راہ بنایا اور سنت رسول کی عظیم دینی تحریک سے وابستہ ہونے والے افراد کےلئے عالمی سطح پر ایک دینی و اصلاحی تربیت گاہ دار السنہ کے نام سے بنائی جہاں شب وروز دین کی تعلیم کےساتھ اصلاح احوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سیکھنے سکھانے والوں کا جمع غفیر رہتا ہے۔شیخ مولاناالیاس قادری اپنے نظام تربیت کو خود اپنے ہاتھوں سے آبادکیا،اس نظام اصلاح کی آبیاری دور نبوت کی عظیم درس گاہ صفہ کےطرز پر کی ،ایک ایک فرد کےسینے میں حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چاشنی پیدا کی، معاشرے کے ناسور جرائم میں ملوث لوگوں کو دین کا مبلغ بناکر اصلاح معاشرے کےلئے تیارکئے ،فرض علوم کی اہمیت دلوں میں اجاگر کی اور علم دین کا باعمل طالب بناکر اپنے حلقہ احباب میں شامل ہونے والوں کو سنت رسول کا عامل بنایا۔

الیاس قادری نے ساری دنیا کےلوگوں کی اصلاح کےعظیم مشن کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اعلائے کلمۃ اللہ کےلئے دن رات محنت کی ۔اس مرد درویش نےاپنے رب کریم کی ذات پر کامل بھروسہ کیا اور متوکل علی اللہ ہوکر نیکی کی دعوت کےسفرپر تن تنہا روانہ ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتوں کے نغمہ گنگناتے ہوئے عشق رسول کی آگ سینوں میں بھڑکاتا رہا ،سفیدلباس، سرپرعمامہ ،جیب میں مسواک ،سیدھے سادے بول، پرتاثیر الفاظ،لہجہ میں نرمی ، شائستگی،دل میں عشق مصطفی کی آگ، چہرےپر خوف خداکے آثار،تقوی وللہیت، جوکہتااس پرعمل کی تصویر بن کر لوگوں کےسامنےاپنا کردار پیش کرتارہا، سب کی مخالفت جھیلتا رہا لیکن حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سنتوں کی تبلیغ میں مگن رہا اور پھر سبز سبز گنبد خضرا کے مکین کی عنایت خاص سے ایک مبلغ مصلح امت بن کر ابھرا اور امت مسلمہ کو منہج نبوت پر عالمی سطح کا نظام تربیت عطا کیا ۔حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو دور حاضر کے عظیم مصلح امت میں مولانا الیاس قادری کا شمار سرفہرست آتا ہے جن کی دینی کاوشوں سے پاکستان کے علاوہ 150سے زائد ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں علم ودانش ، تعلیم وتربیت کےادارےفیضان مدینہ کے نام سے آباد ہیں ۔کراچی میں عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ سے دنیا کے ہر خطہ میں سنت رسو ل کی بہاریں لٹائی جارہی ہے ،جُھنڈ کے جُھنڈ قطار اندر قطار لاکھوں لوگ اس نظام تربیت سے اپنی اصلاح کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔

عالمی سطح پر جامعات اور مساجد کا قیام

الیاس قادری کی ہمہ جہت شخصیت نے موجودہ دور میں خدمت تعلیم کا ایک نیا باب رقم کیا۔لوگوں کو دین کی دعوت دیکر انہیں تنہا نہیں چھوڑا ،نیکی کے سفر کا مسافر بن کر انہیں اکیلا نہیں کیا۔بلکہ اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو علم دین سیکھنے کے انٹرنیشنل سطح پر موقع فراہم کیا۔ دین کی تعلیمات ، اسلامی علوم ، قرآن وحدیث ، فقہ وفتاوی،تاریخ وادب، عقائد ونظریات میں پختگی لانے کی تڑپ پیداکی اور اس مقصد کی کامیابی کےلئے اسلامی علوم وفنون سیکھنے کےلئے جامعات المدینہ اسلامک انسٹیٹوٹ آف لٹریسی کا قیام ممکن بنایا۔جامعۃ المدینہ خدمت تعلیم کا وہ عظیم ادارہ ہے جہاں دین کے ساتھ دنیاوی علوم کو بھی پڑھایاجاتاہے۔اس ادارے میں معاشرے کے معمار تیار ہوتے ہیں، مصلحین امت کی تربیت ہوتی، مبلغین کو علم شریعت سے آگاہی دی جاتی ہے، مسائل شریعت پردسترس رکھنے والے علماومفتیان تیارکئے جاتے ہیں،امت مسلمہ کو باکردار ،باعمل مخلص دینی قیادت فراہم کی جاتی ہے ۔

مولانا الیاس قادر ی کے وژن نے دنیا کو متاثر کیا اور ان کی علمی خدمات نے وطن کی سرحدوں کو پار کرکے دنیا کے بیشمار ممالک میں جامعۃ المدینہ کےنام سے تعلیم ادارے بنائے،بنگلہ دیش ، سری لنکا،انڈیا،ملائیشیا، انڈونیشیا، کولالمپور، ساؤتھ کوریا، ساؤتھ افریقہ، ملاوی، جنوبی کوریا، اٹلی ، اسٹریلیا،انگلینڈ، امریکہ ،کینیڈا، فرانس، جرمنی ، ترکیہ ، شام،عراق وغیرہ بے شمار ممالک میں مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کےلئے جامعۃ المدینہ اسلامک انسٹیٹیوٹ قائم کئے۔ہزاروں طلبہ وطالبات کےلئے اعلی دینی تعلیمی نظام کا اجرا مولانا الیاس قادری کی دینی تحریک دعوت اسلامی کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس کی مثال گزشتہ صدیوں میں ملنا مشکل ہے اور یہ سلسلہ تعلیم وتربیت اب بھی اپنی آب وتاب کے ساتھ علم کی سوغات تقسیم کررہا ہے۔کئی ممالک میں دعوت اسلامی کے تعلیمی ادارے قائم ہورہے ہیں۔مولانا الیاس قادری نے 44 سال پہلے جس دینی تحریک کا آغاز کیاتھا آج اس دینی تحریک کی جڑیں دنیا کے اکثر وبیشترممالک میں پیوست ہوکر مضبوط سے مضبوط سے ہوتی جارہی ہے۔اسلامی نظام تعلیم کےساتھ مروجہ دنیاوی تعلیم کی اہمیت کو بھی مولانا الیاس قادری نے نظر انداز نہیں کیا بلکہ اپنے تعلیمی ادارے میں ہر ملک کےنظام تعلیم کی سوشل ویلوز کو بھی نصاب تعلیم کا حصہ بنایااور لینگوئجز کے کورسسز کا بھی اجرا کیاتاکہ جامعۃا لمدینہ سے گریجویٹ کرنے والا طالب علم دین کی تعلیمات ہر ملک کی مقامی لینگوئج میں دے سکے ۔دعوت اسلامی کے دنیا بھر میں پھیلے تعلیمی نیٹ ورک سے آج ہزاروں علما، سینکڑوں مفتیان کرام، اسلامی اسکالرز، مذہنی رہنما، دینی شخصیات، مبلغین، معلمین، مدرسین مولانا الیاس قادری کے وژن کو متعارف کروارہے ہیں۔بلامبالغہ تعلیم کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جامعات المدینہ بوائز وگرلز مولانا الیاس قادری کا وہ تاریخی کارنامہ ہے جس پر اہل اسلام کو بجاطور پر فخر ہے۔

کتب ورسائل اور میڈیا کے ذریعے مولانا الیاس قادر ی کی دینی دعوت کے اثرات

تاریخ کا اسٹوڈنٹ 20اور 21صدی کی بااثر مسلم شخصیات میں الیاس قادر ی کا نام مؤرخ، مصلح، مبلغ، رائٹر، دینی رہنما، عالمی ا سکالر، قانون دان، فقیہ ،سماجی ودینی شخصیت، ماہر تعلیم، ماہر نفسیات جس بھی فہرست میں تلاش کرے گا اسے مولانا الیاس قادری کا نام سرفہرست نظر آئے گا۔یہ کوئی خالی دعوی نہیں بلکہ اس دعوی کی حقیقت میں مولانا کی پرتاثیر شخصیت کے وہ کمالات ہیں جو دنیا کے اکثرممالک میں دعوت اسلامی کے اثرات کی صورت میں نظر آتے ہیں۔حضرت الیاس قادری کے مذہبی افکار ونظریات ، تعلیمی اثرات، روحانی کمالات نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی تو دنیا نے دیکھا کہ ایک مختصر وقت میں مولانا سب کی نظر کے ممدوح بن گئے، ایک مبلغ سے امیر اہلسنت بن گئے ۔

مولاناابو بلال الیاس قادری کی پرتاثیر دینی دعوت نے عالمی سرحدوں کو عبور کیا تو مولانا الیاس قادری نے بھی اپنی دینی تحریک کے ذریعے دین کی دعوت کے سلسلہ کو دراز کیااور سرحدی حدود وقیوم کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کتابوں اور رسائل کی صورت میں دین کا پیغام پہنچانے کےلئے تبلیغ کی نئی اڑان لی اور دین کی دعوت تصنیف وتالیف کی صورت میں پہنچائی۔عام فہم ،سادہ الفاظ، انسانی فطرت کےقریب ، نئے اندازکے ساتھ متاثر کن موضوعات میں ایسے رسائل لکھےکہ دل خود بخود مطالعہ کےلئے للچائے،شوقِ مطالعہ کی مہمیز ازخود رسائل پڑھنے کی رغبت دلائے،ذوق مطالعہ بڑھانے کےلئے نت نئے موضوعات کےذریعے علم دین حاصل کرنے کا ذہن بنائے۔ شوقِ کتب ، ذوقِ مطالعہ جیسے اوصاف مولانا کی علمی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا اسی علم دین سیکھنے کی وارفتگی کو دوسروں میں بیدار کرنے کےلئے علم دین کے خزانوں سے لبریز کتابیں لکھیں۔

کتب کی نشرو اشاعت کےلئے جدیدپبلشنگ ہاؤس کاقیام

،دعوت اسلامی کا پیغام جوں جوں بڑھتا گیا مولانا الیاس قادری نے دوردراز رہنے والوں کو دین کا علم دینے کےلئے کتاب ورسائل کی اشاعت کا عالمی ادارے مکتبۃ المدینہ قائم کیا ، شوق کتب بینی کا شعور دلایا۔ 100سے زائد اسلامی موضوعات، فقہی مسائل، عبادات، طہارت، نیکی کی دعوت، فکر آخرت، ظاہری وباطنی پاکیزگی، جنت کے حصول کے اعمال، پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کےلئے وظائف، راہ تصوف اورسلوک کی منزل پانے کےلئے منجیات ومہلکات کے اسباق تحریرکئے، بچوں سے لیکر پیرانہ سال کےلوگوں کےلئے علم دین حاصل پر مشتمل کتب ورسائل کی اشاعت کی۔صرف مولانا الیاس قادری کی ایک کتاب ’’فیضان سنت‘‘ جو کہ انسان کی دینی تربیت کے نظام پر مشتمل ہے اس کی اشاعت وطباعت کی تعداد لاکھو ں میں پہنچ چکی ہے درحقیقت اس کتاب کی غیر جانبدرانہ رینکنگ کی جائے تو بلامبالغہ یہ کتاب گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ایڈیشن میں سرفہرت ہو۔

سوشل میڈیا ٹی وی چینل کےذریعے دین کی تبلیغ

کتاب ورسائل کےعلاوہ مولانا الیاس قادری نے عالمی سطح پر دین کا پیغام پہنچانے کےلئے دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ میڈیا کا بھی بھرپور استعمال کیا تاکہ دین کے دعوت براہ راست دنیاکے ہر خطہ کے لوگوں تک پہنچ جائے۔مولانا الیاس قادری نے اپنی دینی دعوت کے پیغام کو چینل کے ذریعے پہنچانے کا عزم کیاتو چینل کے تقاضوں کو پورا کرنابھی ایک کار مشکل تھا اس اہم کام میں بھی قدرت کا خاص کرم ہوا ۔تقریبا سترہ سالوں سے ایک اسلامی مدنی چینل جو بغیر کسی اشتہار کے کامیابی سے دین کی دعوت کا پیغام اردو ،انگلش ، بنگلہ اور عربی زبان میں دنیا کےہر مسلم وغیر مسلم کو دے رہا ہے ۔اس مارکٹنگ کے دور بے حیائی میں دین کے باتیں ٹی وی چینل کےذریعے وہ بھی بغیر کسی اشتہار اور ایڈواٹائزمنٹ کے لوگوں تک پہنچانا اس دور میں مولانا کی کرامت ہے جو بفضل الہی مدنی چینل کی صورت میں نظر آتی ہے۔

مولاناالیاس قادری درحقیقت نباض عصر شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے اپنی دینی تحریک دعوت اسلامی کو دنیا کے ہر خطہ میں متعارف کروانے اورفروغ علم دین کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کی۔ بلکہ عمل پیہم، عزم مصم، یقین کامل کے ساتھ خوف خدا وعشق رسول کو اسلوب زندگی بناکر دوسروں کی دینی واخلاقی اصلاح کا کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر دعوت اسلامی کو پزیرائی ملی اور مولنا الیاس قادری کی دینی دعوت کے اثرات سے مسلم وغیر مسلم سبھی متاثر ہوئے اور سلسلہ دعوت کو اگر یورپ اورافریقی مالک میں ناقدانہ نظروں سے دیکھیں تو مولانا کی دینی دعوت کے اثرات غیر مسلموں کو بھی دین کے قریب کررہے ہیں۔

عالمی سطح پر دعوت اسلامی کی پزیرائی اور دینی شعور کی بیداری

منصہ شہود پر 981 1میں مولانا الیاس قادری کی تبلیغی زند گی کا آغاز ہوا اور تقریبا 45سال کا عرصہ مکمل ہوگیا۔ اس دوران مولاناالیاس قادری کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے خد وخال اور اثرات عالمی سطح پر دیکھیں توہمیں 150ممالک میں فیضان مدینہ تبلیغ قرآن وسنت کےمراکز، جامعۃ المدینہ اسلامک ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ ، دار المدینہ اسلامک اسکولنگ سسٹم، مدارس المدینہ قرآن ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ، مساجد، فلاحی ادارے ایف جی آر ایف، سماجی ودینی کام، مبلغین، معلمین، اسکالز کی کثیر تعداد دین کا کام کرتے ہوئے دکھلائی دیتی ہے۔ہر ورز غیر مسلموں کی بڑی تعدا د دعوت اسلامی کے مبلغین کی کاوشوں سے حلقہ بگوش اسلام ہورہی ہے ،قرآن کی تعلیم اور دینی تربیت کےنئے ادارے اور مساجد تعمیر کئے جارہے ہیں۔یورپ، امریکہ ،براعظم افریقہ، شمالی افریقہ، مڈل ایسٹ مشرقی وسطی، ایشیائی ممالک، عرب وعجم ،مشرق ومغرب میں دعوت اسلا می کے دینی کاموں میں شب وروز تیزی آرہی ہے۔ مولانا الیاس قادری عطاری صاحب کی تبلیغی کاوشوں سے تقریبا 150 سے زائد ممالک میں دینی تحریک دعوت اسلامی کو دینی سماجی، تعلیمی، اخلاقی خدمات پر عالمی سطح پر پزیرائی ملی رہی ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں مرید ین ، محبیین ،متوسلین دنیا میں دعوت اسلامی کا کام دین رات کررہے ہیں۔مولانا الیاس قادری کے اصلاح تاریخی کار ناموں کی وجہ سے علمائے اسلام نے آپ کی امیر اہلسنت، شخ طریقت، مبلغ اسلام، دینی اسکالر، مفکر اسلام جیسے القابات عطاکئے۔ دعوت اسلامی کا قیام اور اس کے دینی اثرات کی عالمی سطح پرپزیرائی مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کی کامیابی کا نہ صرف منھ بولتا ثبوت ہیں بلکہ آج کہیں بھی دینی شعورکی بیداری دیکھنے کو ملتی ہے تو اس تحریک کے عوامل میں مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہد کےاثرات نمایاں طور پر نظر آئیں گے۔

سلسلہ کلام کا اختصار

دعوت اسلامی کی عالمی پزیرائی کاحقیقت پسندانہ تجزیہ کےبعد ایک محقق اور تجزیہ نگارکے نزدیک مولانا الیاس قادری کی باکمال شخصیت محض ایک فرد تک محدودنہیں بلکہ آپ کی ہمہ جہت شخصیت دینی سماجی ، معاشرتی، تعلیمی ، فلاحی اوراصلاحی تحریک کےطور پر تسلیم کی گئی۔دعوت اسلامی کے روز اول سے 46 سالہ جدوجہد میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزر ا جس میں خلاف شرع کوئی قدم اٹھایا گیا ہو۔

مولانا الیاس قادری کی حیات وخدمات میں نمایاں امتیاز آپ کی شخصیت کا معتدل ہونا ، ہر کام میں اعتدال پسندی، حکمت ، تسلسل ،اخلاص اور للہیت ہے۔آپ سبسے بڑ اوصف علمائے کی رائے کا احترام اور تبلیغی زندگی میں لفظی غلطی پر اصلاح پرشکریہ ادا کرکے اصلاحی پہلو کومقدم رکھنا ،سبقت لسانی یا درس وتدریس کے دوران کسی بھی مسئلہ میں علمائے اسلام مفتیان کرام کی رائے کو فوقیت دینا شامل ہے۔

مولانا الیاس قادری کی کامیابی کا راز بھی سنت رسول کی پاسداری کے عمل میں مضمر ہے۔اور سنت رسول پرپابندی کی برکت سے آپ نے دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر جو دینی جدوجہد کاآغاز کیا اس کادائرہ کار دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیل چکا ہے ۔آپ نے امت کو ایسا منہج پلیٹ فارم عطا کیا جس میں دعوت دین ، علم دین، اصلاح معاشرہ ، معاشی اصلاحات ومالیاتی نظام کا ڈھانچہ، تربیت افراد، تہذیب نفس، اخلاقیات، تعلیم وتربیت کانیکی دعوت کےساتھ مربوط اور مضبوط تعلق قائم کیاگیا۔ اور اس مربوط نظام کے بنیادی ستون قرآن وسنت کی پابندی، شریعت اسلامیہ کی پاسداری ، اسوۂ رسول سے وابستگی ، سنت نبوی کے عملی اطلاقات اور امت کی خیر خواہی مقرر کئے گئے ہیں۔

دعوت اسلامی کا سنتوں کی تربیتی کا اجتماعی نظام ، تعلیم وتربیت کے ادارے، درس وتدریس کے تبلیغی میدان ، اصلاح معاشرہ کا بین الاقوامی تربیت پلیٹ فارم اور میڈیا کی تیز رفتار دوڑ میں اسلامی میڈیا کا تعارف اور جدید ذرائع ابلاغ کےساتھ دین کی تبلیغ کو عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا مولاناالیاس قادری صاحب کی دعوت کی اثر پزیری میں سب سے بڑا محرک ثابت ہوا۔میڈیا رینکنگ میں مدنی چینل کی ٹاپ چینلز میں شامل کرلیا گیا باوجود یہ ہےکہ اس چینل کے پلٹ فارم پر تاحال صنف نازک کی جھلک بھی نہیں دیکھی گئی۔

المختصر مولانا الیاس قادری کی حیات وخدمات اس بات کا ثبوت ہےکہ خلوص نیت، صحیح اور درست منہج اورلگاتار محنت کےساتھ کی گئی نیکی کی دعوت کےاثرات نہ صرف افراد تک محدود ہوتے ہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی دینی دعوت کے پائیدار اثرات سے متاثرہوتی ہیں۔اور مولانا الیاس قادری کی نیکی کی دعوت کے اثرات نے ثابت کیا کہ آپ کی دعوت دین نے نہ صرف افراد کو بدلا بلکہ معاشرے کی سمت بھی بدل ڈالی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو آپ کی خدمات سے مزید مستفید ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!