مناہیج منہج (Methodology)کی جمع جس کے معنی راستہ ،طریقہ ،سمت ،اسلوب ہے ۔عام فہم زبان میں منہج سے مراد وہ فکری ونظریاتی اساس، علمی اسلوب ، عملی ڈھانچہ ہے جس کو بنیادبناکر کوئی فرد یا تحریک اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔دین اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن وسنت ہے ۔ اسی طرح شریعت اسلامیہ کے چار بنیاد ی ماخذ ومناہیج قرآن وسنت ، اجماع وقیاس ہیں۔ان مناہیج کی تشریح و تفہیم سلف صالحین خصوصا اصحاب رسول اللہ ، تابعین ، ائمہ مجتہدین نےکی اور انہی کے اسلوب کو مشعل راہ بناکر ارکان اسلام کی تشریح کی جاتی ہے۔موجودہ اکیسویں صدی کےدور کا جائزہ لیں تو یہ صدی فکری انتشار، باہم نظریاتی افتراق وانتشاراور دینی رسم ورواج میں افراط وتفریط کا شکار ہے۔اس دور پرفتن میں امت کو واضح ،اعتدال پسند، مسلک حق کی ترجمان نظریاتی وفکری بنیادیں اور مضبوط اسلوب ومنہج کی ضرورت پہلے کی بنسبت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔اس دور ِبدعملی اور فکری ونظریاتی انتشار کے تناظر میں سرزمین کراچی سے دینی انقلاب بپا کرنے والی شخصیت محمد الیاس قادری کےفکری منہج کامطالعہ کریں تو آپ کی دینی تحریک کی کامیابی سے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ بانی دعوت اسلامی نے امت کو ایک ایسا مضبوط ،جامع ، واضح اور شریعت کےتقاضوں کو کماحقہ پوراکرتا ہوا منہج عطا کیا۔ جو عصر حاضر کے تمام تر دینی ومذہبی ، معاشرتی وسماجی ،اخلاقی وقانونی چیلنجز کا نہ صرف مقابلہ کرتا ہے۔ بلکہ دور جدید کے تمام تر چیلنجز کے اعترضا ت کو شرمندہ کرتا ہوا دین اسلام کی حقانیت بھی ثابت کرتا ہے۔
حضرت الیاس قادری صاحب کے فکری مناہیج کا جائزہ
اعتدال پسند قرآن وسنت سے ماخوذ فکری منہج: مولانا الیاس کے فکر ونظر کے منہج کی بنیاد،اساس اور روح قرآن وسنت ہے۔مولانا نےاپنی دینی تحریک کی بنیاد بھی تبلیغ قرآن وسنت پر رکھی۔ آپ کی تمام تر کتابیں ،خطابات، بیانات، علمی نشست، مدنی مذاکرہ کے علمی مشاغل اور عام گفتگوں میں قرآنی آیات، احادیث نبوی سے استدلال ہوتاہے۔ آپ کے منہجِ تبلیغ میں نہ تو مذہبی شدت کا عنصر پایاجاتاہے۔ اور نہ شریعت سے متصادم باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بلاوجہ کی نرمی،اور غیر ضروری شدت دونوں کا وجود مولاناالیاس کی فکر میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد:’’ عليکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين‘‘ تم لازم پکڑو میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنّت۔ پرعمل کرتے ہوئے اہلسنت وجماعت کے اعتدال پسند راہ کو اپنایا۔ تبلیغ میں ایک طرف ارکان اسلام ، بنیادی عقائد ، فراض وواجبات ،منجیات ومہلکات ، اسوہ رسول اور سنت رسول پر خود بھی مضبوطی سے عمل پیرا ہوئے اورفرائض وواجبات پر کاربند رہنے کےلئے دوسروں کوبھی سختی سے عمل کی تلقین کی تو دوسری طرف معاشرتی واخلاقی معاملات، دعوت وارشاد، افرادسازی وذہن سازی ، اصلاح امت، نیکی کی دعوت کے عملی میدان میں انتہائی نرمی ،معاملہ فہمی، محبت ،پیار اخلاص، باہمی شفقت اور دلجوئی، غم خواری کو شعار بنایا۔آپ نےاپنی دینی تحریک کو ہرقسم کے اختلافی مسائل، فکری انتشار،قیل وقال سے بچایا اور اپنی فکر کو فکر رضا سے متاثر کرکے دینی تحریک دعوت اسلامی کو کامیابی سے ہمکنارکیااور کررہے ہیں۔
منہج فقہ حنفی اور فکر امام احمد رضا کی تعلیمات کا اثر
مولانا الیاس قادری کی فقہی خدمات، شریعت اسلامیہ کی ترجمانی،اسلامی قوانین کی پاسداری اور عبادات وفقہ المعاملات میں امام ابوحنیفہ کے فقہی منہج کے اثرات نمایاں طور پر موجود ہیں۔ فقہ حنفی کے مطابق ، عبادات، معاملات، اخلاقیات میں امام ابوحنیفہ کی تعلیمات کو ہی ترجیح دی لیکن آپ نے صرف مذہب امام اعظم ابو حنیفہ کے پیروکاروں پر اپنی تحریک کا دائرہ محدود نہیں کیابلکہ مذاہب اربعہ کے پیروکاروں کو بھی اپنی دینی تحریک کی تنظیمی ذمہ داری مرکزی سطح پر جگہ دی ۔مزید یہ ہےکہ تصنیف تالیف، تحقیق وبحث کے شعبہ اسلامک ریسرچ سنٹر المدینۃ العلمیہ سے شافعی فقہ کی کتابوں پر بھی کام کروایا۔امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی نے فقہ الشریعہ میں امام ابو حنیفہ کی تقلید کی اور اپنے تمام اشاعتی، تدریسی تعلیمی اداروں میں فقہ حنفی کی ترویج واشاعت کو ترجیح دی۔اور دینی مسائل کی رہنمائی میں مصروف کار دارالافتاء اہلسنت کا قیام بھی فقہ حنفی کی بنیادوں پر رکھا۔امام اعظم سے والہانہ عقیدت ومحبت رکھی اور ان کی پاکیزہ سیرت، دینی معاملات، روحانی تصرفات اور ارشادات پر مبنی رسالہ بھی لکھا، فقہ حنفی میں اپنی مرویات پر مشتمل اربعین عطا بھی مکتبۃ المدینہ سے شائع کی۔ امیر دعوت اسلامی کی فکر میں امام ابو حنیفہ کےاستلالات کی جھلک بھی نمایاں طور پر موجود ہے ۔آپ کا فقہی ذوق بھی امام اعظم کی تعلیمات کا فیض اور اثر ہے۔
مولاناالیاس قادری کے فکری منہج میں امام احمد رضا کی تعلیمات کا خاصہ اثر پایاجاتا ہے۔مولانا نے اپنے تبلیغی سفر کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ میں امام احمد رضا کی تعلیمات کو ہی حرف آخر قراردیا۔اسلامی عقائدکو مسخ کرنے کی ناپاک سازش کے توڑ میں فاضل بریلوی احمد رضا خان نے جو فکری ونظریاتی بنیادیں فراہم کی انہی بنیادوں پر مولانا الیاس قادری نے اپنی دینی تحریک کی بنیاد رکھی اور جو دینی معاملات میں اعلی حضرت نے فقہی نگارشات پیش کیں انہیں من وعن تسلیم کیا۔مولانا قادری الیاس فکری طورپر احمد رضا کے سچے عاشق وپیروکار ،فکر رضا کے شارح اور داعی ہیں۔ امام احمد رضا نے تعظیم رسول، تحفظ عقائد اسلام ، تحفظ ناموس رسالت کے محاذ پر جو علمی جہاد کیااور باطل نظریات وافکار کا قلع قمع کیا،مولانا الیاس نے بھی فکر رضا کو اپنی دینی تحریک کے ذریعے چاردانگ عالم میں پھیلایا۔عشق مصطفی سے لبریز کلا م رضا کو اپنے نغمہ ہائے تبلیغ کی جان قرار دی اور دینی تحریک دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم سے مصطفی جان رحمت پر لاکھوں سلام کی ایسی صدابلند کی کہ آج دنیا کے کونے کونے میں امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار کی فکر کے پیروکار سلام عقید ومحبت بارگاہ رسالت میں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اکیسویں صدی میں مولانا الیاس قادری کافکری منہج درحقیت فکر رضا کا عملی پرتو ہے۔
امام غزالی اور شیخ جیلانی کے روحانی وفکری اثرات
دینی تحریک دعوت اسلامی کے عالمی نظام تربیت واصلاح اور مولانا الیاس قادری عفی عنہ کے فکری منہج کی آبیاری میں امام غزالی کے علمی وروحانی اثرات نے مولانا کی زندگی پر گہرے اثراتے مرتب کئے۔مولانا کی باطنی زندگی میں حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی کے روحانی تصرفات، فکری منہج تربیت، اصلاحی رجحانات ،فکر وفلسفہ کے گہرے اثرات نظر آتے ہیں۔ تبلیغی نصاب کے ابتدائی دروس میں مولانا الیاس قادری نے منہج غزالی کوہی اپنایا اور اسی پر کاربند رہے۔امام غزالی نے اپنی مایہ ناز کتب تصوف میں جس طرح علم شریعت کے ساتھ باطنی اصلاح،پاکیزگی، تزکیہ نفس، اخلاقیات، معاملات کی اصلاح پر زور دیا،وہی اسلوب ِغزالی، وہی رنگِ تصوف، وہی جادۂ حق فکرالیاس میں نمایاں رہا اورشدت کےساتھ رواں دواں بھی نظر آتا ہے۔احیائے علوم الدین کی باریکیاں ، منجیات ومہلکات کی ابحاث اورفلسفہ غزالی کے اثرات مولناالیاس قادری کی کتابوں میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔مولاناالیاس قادری کی مشہور زمانہ کتاب"نیکی کی دعوت"، باطنی بیماریاں اور ان کےعلاج ،آپ کے بیانات، دروس، فکر آخرت پر مبنی ارشادات، باطنی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ، یعنی حسد، بغض ، ریاکاری وغیرہ سےچھٹکار پانے کی تلقین درحقیت امام غزالی کی فکر کا تسلسل ہی ہے۔
مولانا الیاس قادری کے منہج تبلیغ میں قادریوں کے پیشوا ، اولیائےکے سردار، غوث اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی کے روحانی فیضان کا بھی بڑا حصہ شامل ہے بلکہ دعوت اسلامی درحقیقت فیضان قادریت کا ایک فیض ہے جو دنیا میں شیخ عبدالقادر الگیلانی کے روحانی تصرفات کو عام کررہی ہے۔ جس طرح روحانی پیشوا شیخ جیلانی کے تجدیدی کارناموں سے بغداد کا روحانی مقام بحال ہوا،اسلامی تعلیمات کا پرچارہوا، اسلام کی عظمت و شان بحال ہوئی, شریعت وطریقت کا امتزاج پایاگیا،عمل سے خالی مردہ جانوں میں سنتوں پر عمل کی روح بیدار ہوئی۔ جس طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مردہ دلوں میں ایمان کی روح پھونکی،اسی طرز اور منہج پر حضرت الیاس قادری نے آوارہ مزاج نوجوانوں کے اخلاق سنوارے، معاشرے کے لاکھوں بگڑے افراد کی اصلاح کی، گناہوں کے دلدل سے نکال کر توبہ اور نیکی کے راستے پر گامزن کیا، شریعت محمدیہ پر عمل کی روح کو بیدارکیا۔امیر دعوت اسلامی کی روحانی فکرکی بالیدگی میں شیخ عبد القادر جیلانی کے روحانی تصرفات کا بہت بڑا حصہ شامل ہے بلکہ آ ج عطاریوں کا ڈنکہ جو دنیا میں بج رہا ہے وہ فیضان قادریت کا ہی صد قہ ہے۔
بدعات کا خاتمہ اور سنتوں پر عمل
شیخ الیاس قادری کے فکر ونظر کا اہم اور روشن باب معاشرے میں موجو دین بیزار خرافات اور بدعات کا خاتمہ ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر سنت رسول کے سانچہ میں ڈھالا۔اورعیار و مکار دنیا پرست لوگوں کے سامنے عملی طور پر سیرت رسول پر عمل پیراہونے کا عملی کردار پیش کیا۔ہر ہر شعبہ میں شریعت محمدی کی پاسداری کویقینی بنایا۔سوسائٹی میں مروجہ غیر شرعی رسومات وتقریاب میں اسلامی ماحول پیدا کیا۔مذہب کے نام پر جو بدعات تھیں انہیں قرآن وسنت کی تعلیمات پر پیش کیا ۔جو جو خلاف قرآن وسنت بدعات تھیں ان کا قلع قمع کیا۔ مروجہ غلط رسموں کی جڑیں اکھاڑی اور اسلامی روایات کو زندہ کیا۔
مولاناالیاس قادری کی زندگی کاحاصل اور مقصد احیائے سنت تھااور اسی مقصد کو پانے کےلئے جدوجہد کی اور دنیا نے بہت تھوڑے وقت میں الیاس قادری کے فکری منہج کو پروان چڑھتے دیکھا۔مولاناالیاس قادری نے زندگی کے ہر شعبہ اور انسانی کردارکے ہر رنگ میں سنت رسول کی بہاریں زندہ کیں۔سنت نبوی کو اپنانے اور دوسروں کے کردار میں سنت نبوی کی جھلک دیکھنے میں انتھک محنت کی ۔معاشرے سے بدعات کا خاتمہ اور سنت نبوی کا زندہ ہونا مولانا الیاس دعوت اسلامی کے امیر کا تاریخی کارنامہ ہے جو صدیوں تک مولانا کو زندہ رکھے گااور آخرت میں اجر عظیم کا باعث ہوگا۔ نوجوانوں کی اصلاح اوردینی قیادت
امیرِ اہلِ سنت نے نوجوانوں کو امت کا مستقبل سمجھتے ہوئے ان کی فکری تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ آپ نے نوجوانوں کو محض جذباتی نعروں پر نہیں لگایا، بلکہ انہیں علمِ دین سیکھنے، اپنے عقائد و نظریات کو مضبوط بنانے، اور مطالعے کی عادت ڈالنے کی تلقین کی۔ آپ نے انہیں ایک واضح نصب العین دیا: "مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے"۔ یہ نعرہ محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک مکمل منہج ہے جو ایک مسلمان کو خود احتسابی کے عمل گزارکر عالمی سطح پر دین کی خدمت تک کا راستہ دکھاتا ہے۔ آپ کا حتمی مقصد امت کو اسی صحیح، معتدل، اور مستند منہج پر متحد کرنا ہے جو قرآن و سنت اور اسلاف صالحین کا راستہ ہے، تاکہ امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔
حالات حاضرہ اور ترقی یافتہ دور میں دعوتِ تبلیغ کے فکر وعمل میں شریعت سے ہم آہنگ نئے رجحانات کا آنا مولاناالیاس قادری کا تاریخی کارنامہ ہے۔الیاس صاحب نے اپنے تبلیغی مشن میں دعوت وارشاد کےلئے نوجوانوں کا انتخاب کیا۔ چونکہ مولانا کو نوجوانان ملت کی اہمیت کا مکمل ادراک اور احساس تھا۔ اسی لئے آپ نے سب سے پہلے امت کے مستقبل کے معمار نوجوان کی فکری، عملی، روحانی اورتعلیمی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔انفرادی توجہ سے نوجوانوں کو اپنے قریب لاتےرہے۔ اخلاص ومحبت مولانا الیاس قادری کے خمیر میں شامل تھی،لہذا اسی جذبہ پیار ومحبت اور نرم و دھیمے انداز کےساتھ بڑےسے بڑے مجرم کو بھی توبہ تائب کے دروازے پر لاتے ،فکر آخرت کا درس دیتے، دنیا کے بےثباتی اور جرم کی لذت، لذت گناہ ،بداعمالیوں کی نحوست پر قرآن وحدیث سے وعید سناتے۔یوں ایک ایک فرد مولاناالیاس قادری کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے ماحول میں شامل ہوتاگیا۔
الیاس قادری امیر دعوت اسلامی نے نوجوانوں کو محض جذباتی باتیں نہیں سنائی، انہیں کس وقتی جذبہ میں بہنے نہیں دیا، محض بلند بانگ نعروں کےساتھ عمل کی طرف راغب نہیں کیا،جذباتی گفتگو اور جذباتی نعروں کی بجائے، دین کی حقانیت اور اسلام کے پیش نظر نوجوان کے مقام کو بیان کیا، انہیں علم دین سیکھنے کی رغبت دلائی، ان کے عقائد ونظریات کو مضبوط کیا، شوقِ کتب ، ذوقِ مطالعہ کی عادت پروان چڑھائی۔ الیاس کی فکر نے نوجوانوں کو واضح نصب العین دیا،دین پر عمل کرنے کا مکمل منہج عطا کیا،خود احتسابی کےعمل سے گزرنے کاذہن دیا۔ حقیقت میں مولانا الیاس کی دور رس نگاہیں نوجوانوں میں ملت کا مستقبل ڈھونڈرہی تھی اسیلئے حضرت نے ایسے شاہکار،عمل کی بھٹی سے کندن بن کر نکلنے والے افراد تیارکئے جو محض نعروں کی گونچ پرعمل کی شارع پر گامزن نہیں ہوئے بلکہ دستورِحیات ، کتابِ حیات،صحیفہ حیات قرآن مجید کی آیات کے اثرات کو دل کی گہرائیوں میں اتارکر میدان میں اترے اور امت کی قیادت سنبھالی۔ دعوت اسلامی کے امیر حضرت الیاس نے مسلمان کو خود احتسابی کاذہن دیا،عالمی سطح پر دین کی عظمت رفعت کےلئے خدمت سرانجام دینے کی راہ متعین کی۔ قرآن وسنت کی بنیادوں اورستونوں پر قائم ایک ایسا منہج عطا کیا جو افراط وتفریط سے پاک اور مذہبی فتنہ انگزیوں سے دور، نفرت وتعصب کی آگ کو بجھاتا ہے۔ امت کو ہر شعبہ میں دینی قیادت فراہم کیا۔ آپ نے باعمل مبلغین کی ایسی جماعت تیار کی جو دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں مولانا الیاس قادری شیخ طریقت کی فکر پر عمل کرتےہوئے دینی کام کررہےہیں۔ اور درحقیقت مولانا الیاس کی دینی فکر سے معاشرے کاہرطبقہ روحانی، علمی ،فلاحی اور تعلیمی فیض پارہا ہے۔ اختتامیہ
عصرحاضر کے تہذیبی یلغار ، فکری انتشار، نظریاتی افراط وتفریط اور دینی واخلاقی بے اعتدالیوں اور گمراہیوں کے مقابلے میں مولانا الیاس قادری کا فکری ودعوتی منہج ایسا معتدل ،متوازن ،مستند اور ہمہ گیر اسلامی ماڈل ہے جس کی بنیاد یں قرآن وسنت کے لازوال تعلیمات پر استوار ہیں۔ آپ کا فکری منہج قرآن و حدیث، فقہِ حنفی، فکرِ رضا، منہجِ غزالی اور فیضانِ قادریت کا حسین امتزاج ہے جو نہ صرف عقائد اسلام کی ٹھوس بنیادوں پر ترجمانی کرتا ہے بلکہ عملی کردار، اخلاقی ودینی تربیت، روحانی اصلاح اور معاشرتی بیداری کے ذریعے ایک زندہ، متحرک اور باعمل امت کی حیات نو کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔درحقیقت دنیا کے اصلاحی اور سماجی نظام کے مقابلے میں اسلام کے پیش کردہ نظام حیات کی مستحکم بنیادیں ہر نئی تہذیبی عمارت کےلئے مضبوط اساس ہے۔جس کی عملی تعبیر عالم ا سلام کی عظیم تحریک دعوت اسلامی کے نظام تعلیم و تربیت سے عیاں ہوتی ہے۔
مولانا الیاس قادری نے دینِ اسلام کی تعلیمات کو محض نظریاتی گفتگو یا رسمی دعوت و تبلیغ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے کردار سازی، خود احتسابی، اصلاحِ نفس، اور خدمتِ خلق کے عملی میدان میں منتقل کیا۔ بدعات وخرافات کے خاتمے اور سنتوں کے احیاء، نوجوانوں کی فکری و روحانی تربیت، اور عالمی سطح پر دعوتِ دین کے منظم، پرامن اور محبت آمیز اسلوب نے دعوتِ اسلامی کو ایک بین الاقوامی اصلاحی تحریک بنا دیا جو مولانا الیاس قادری کی فکری منہج کی کامیابی کا بین ثبوت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مولانا الیاس قادری کا فکری منہج محض ایک فرد یا جماعت تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسا بے مثال و قابلِ تقلید راستہ ہے جو نفرت، انتہاپسندی اور فکری انتشار کے اندھیروں میں اعتدال، محبت، علم اور عمل کی شمعیں روشن کررہا ہے۔ اگر امتِ مسلمہ کے علما ، دینی وسیاسی قائدین ، مفکرین اور ارباب اقتدار اس منہج کو خلوص نیت اور سنجیدگی سے اپنائے تو نہ صرف اسلام کا دینی تشخص بحال ہو سکتا ہے بلکہ فکری وحدت، اخلاقی استحکام اور اجتماعی وقار کی بحالی بھی ممکن ہے۔ بلاشبہ مولانا الیاس قادری کا یہ فکری سرمایہ امت کے کامیاب مستقبل کے لیے مشعلِ راہ اور آنے والی نسلوں کی تعلیم وتربیت کےلئے بہترین درسگاہ ہے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!