مولانا الیاس قادری بطور داعی اور دعوت و تبلیغ کے اثرات

مولانا الیاس قادری ایک ایسے داعی ہیں جنہوں نے تبلیغِ دین کو انبیاء کی میراث سمجھتے ہوئے اسے کردار سازی کا مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔ آپ کا اسلوبِ دعوت نرمی، اخلاص اور حکمت پر مبنی ہے، جس نے مادہ پرستی کے دور میں لاکھوں دلوں کو بدلا ہے۔ آپ نے محاسبۂ نفس اور گناہوں سے بچنے کے عملی نظام کے ذریعے فرد کی باطنی اصلاح پر توجہ دی ۔ مدنی چینل اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آپ نے 200 سے زائد ممالک میں تعمیرِ شخصیت کا پیغام پہنچایا ۔ آپ کی یہ تحریک محض وعظ تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور فلاحی اصلاح کا ایک مکمل عالمی نظام بن چکی ہے ۔

February 6, 2026

داعی کی تعریف :

عربی زبان میں داعی کا مطلب دعوت دینے والا، پکارنے والا ہے،اس لفظ کا حقیقی ومعنوی مطلب موقع محل کے مطابق ظاہر ہوتا ہےلیکن اسلامی اصطلاح میں لفظ داعی اس شخص کےلئے زیادہ استعمال ہوتا ہے جو لوگوں میں دین کا شعور دلانے میں انہیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دے۔یعنی داعی وہ شخص ہے جو دین، نیکی ،ہدایت ، اخلاق حسنہ کی طرف لوگوں کو بلائے۔اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعیا الی اللہ کے خوبصورت خطاب دلنواز سے پکارا ہے۔داعی کا منصب حقیقت میں انبیا علیھم السلام کی میراث ہے اس لئے قرآن مجید میں بہترین شخص اسے قراردیا گیا جو لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے اور وہ خود بھی اللہ کے احکامات کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنی دعوت کا عملی نمونہ پیش کرسکے ۔چنانچہ ارشاد بار ی تعالی ہے:’’ وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳) ‘‘ اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔۔ (پ24، حٰمۤ السجدۃ:33)

داعی کی اہمیت:

سور ہ حم السجدۃ کی آیت نمبر 33سے داعی کی اہمیت اور ا س کی بات کی صداقت عیاں ہوجاتی ہےکہ ایک داعی بطور مبلغ جو دین کی دعوت دے اور اپنے عمل کے ساتھ معاشرے میں اسلامی تعلیمات کا عملی کردار بھی پیش کرے تو اس کا مقام ومرتبہ اور اہمیت کتنی زیادہ اور اس کی بات بارگاہ صمدیت میں کتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ا س کا اندازہ مذکورہ آیت سے واضح ہے۔وہ داعی جو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دےاوراللہ کے احکامات پر عمل کی ترغیب دلائے اس داعی کی دعوت اسی وقت مقبول ہوگی جب وہ خود بھی اللہ تعالی کی اطاعت گزاراور اس کے احکامات پر سختی سےعمل کرنے والا ہو۔

اکیسویں صدی کے مبلغ اسلام مولانا الیاس قادری کی شخصیت بطور داعی کا مذکورہ آیت کےتناظر میں نقّادانہ تجزیہ:

موجودہ صدی کے حالات وواقعات کےتناظر میں اگر دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری کی دعوت ِدین کے اثرات اورشخصیت کو حم السجدہ کی آیت 33 کے تناظر میں دیکھیں توآپ قرآن کے پسندید ہ داعی کی صورت میں تبلیغ اسلام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔فساد امت کے پرفتن دور میں امت کی دینی باگ دوڑ سنبھا ل کر امت کو راہ ہدایت پر گامزن کرنے کےلئے پہلے خود اپنے آ پ کو اتباع سنت کا عملی نمونہ پیش کیا۔اوردعوت دین کے تمام اوصاف کو اپنے اندر مجتمع کرکے بطور داعی دینی جدوجہد آغاز کیا۔ پھر آپ کی دینی دعوت کے اثرات نے جب ماحول کو متاثر کیاتو از خود متبعین سنت رسول کا کارواں بنتا گیا۔اور مقبول خدا ہوکر لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے گئے ۔یوں آپ کی دینی دعوت کے ہمہ جہت اثرات دنیا میں پھیلے۔ناقدین اور نکتہ دان اس بات پر متفق ہیں کہ مولانا الیاس قادری نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی ان سنتوں کو زندہ کیا جن پر عمل بلکل مفقود ہوچکا تھا ۔عوام و خاص میں ترک سنت کا رواج عام ہوچکا تھا۔چنانچہ مبلغ اسلام محمد الیاس قادری نے امت کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔ علماکو دینی ذمہ داری کا احساس دلایااورسنت پر عمل کا ایک پریکٹیکل چارٹ پیش کیا ۔ یہ ہی وجہ ہےکہ لاکھ مخالفت کے باوجود مولانا الیاس عطاری کی شخصیت کوہر طبقہ میں اتباع سنت کے حوالے سے پذیرائی ملی۔ درحقیقت یہ خدا کا فضل وکرم اور اس کی خاص عنایت مولانا الیاس قادری پرتھی جنہوں نے اطاعت رسول اور احیائے سنت میں کسی مخالف کی مخالفت اور ناقد کی تنقید کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مقصد ِتبلیغ کےساتھ جڑے رہے ۔اور مستقل مزاجی اور عمل پیہم کے ساتھ اپنی دعوت کو جاری رکھا ۔ ہر طبقہ متفق ہے کہ مولانا الیاس قادری بطور مبلغ اور داعی اپنی شناخت دنیا کے بڑے بڑےاہل علم و عمل کے طبقہ میں بنانے میں کامیاب ہوئے اور دنیا نے آپ کی دعو ت کو قبول کیا۔

دعوت دین میں الیاس قادری کا اسلوبِ دعوت و اندازِ تبلیغ: نرمی اور اخلاص

اسلامی نقطہ نظر ہو یا دیگر مذاہب دنیا کی آراء سب ایک مصلح، دینی معلم،سماجی شخصیت اوراعلی منصب دینی پر فائز فرد میں وہ تمام ترخصوصیات کا مجتمع ہونا پسند کرتے ہیں جن کے ہونے سے شخصیت کےاثرات لوگوں پر اچھے انداز میں پڑے۔ اور لوگوں میں اس شخصیت کے بارےمیں اچھے تاثرات قائم ہوں۔اسی لئے ایک داعی یا مبلغ کی کامیابی کا سب سےبڑا نکتہ یا راز اس کا انداز دعوت اور اسلوب تبلیغ ہوتا ہے۔اس پہلو سے اگر امیرِ دعوت وارشاد امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس قادری کےانداز تبلیغ اور اسلوب دعوتِ دین کا مشاہدہ کریں تو آپ کی دینی دعوت میں قرآن کی حکمتیں جلوہ افروز نظر آتی ہیں۔ آپ مکمل طور پر حکم قرآن:’’ اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ‘‘ اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔ کی عملی تفسیر بن کر دعوت دین کا آغاز کرتے ہیں۔آپ نے اپنے اسلوب تبلیغ اور انداز دعوت وارشاد کی دوہی بنیاد بحکم قرآن بنائی: ایک حکمت ، تدبیر،حسن معاملات اوردوسری اچھی نصیحت یعنی مواعظہ حسنہ کو۔

انداز تبلیغ اور اسلوب دعوت میں مولانا الیاس قادری نے رب العزت کے فرمان:’’ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪- فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ-فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)‘‘

تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔( ال عمران:۱۵۹) کوپیش نظر رکھا اور نرمی واخلاص کو اپنی دعوت کےستون بناکر دعوت وتبلیغ شروع کی،زبان کی سختی کی بجائے نرم وملائم لہجے ، شرینی زبان،محبت، پیار ،شفقت اور دل جیتے والے انداز خطاب اور مٹھاس بھرے دعوت وارشاد کےساتھ لوگوں کو سنتوں کا عامل بنایا۔

سختی ، ترشی، سخت گیر، لب ولہجہ میں غصیلا پن، مزاج کی خرابی ، تنقید برائے تنقید، غصہ ،ترچھا پن ، غفلت، لوگوں کو حقارت بھری نظر سےدیکھنا، اپنے سے دور رکھنا، امیر کو قریب غریب کو دور، بات بات پر جھڑکنا، غلطی پر ڈانٹا، گناہ پر عاردلانا وغیرہ وہ تمام عوامل جس سے لوگوں میں نفرت پیدا ہو مولانا الیاس قادری نے ان تمام اسباب وعوامل کو اپنے انداز تبلیغ اور اسلوب دعوت سے کوسوں دور رکھا بلکہ اپنے پروردہ مبلغین کو بھی سخت مزاجی اپنانے سے منع کیا کہ یہ عادات لوگوں کو دین دے دور کردیتی ہیں۔مولانا الیاس قادری امیر اہلسنت نے مبلغین کے نصاب میں بطور داعی کی خصوصیات پر خاص کام کیا اور اسلام کےتصور نرم مزاجی کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا اور اپنی مشہور کتاب ’’نیکی کی دعوت‘‘ میں تمام اسالیب ومناہیجِ تبلیغ پر کاربند رہنے کےاصول مرتب کئے۔حضرت الیاس قادری نے اپنی دینی مساعی میں لوگو ں کے دل زبان کے ہھتیار سے نہیں بلکہ اپنے من موہنے اخلاق اور میٹھے لہجے سے جیتے ،آج آپ کے مریدین اور متبعین سنت کا جم غفیر آپ کی مٹھاس بھرے انداز کوسننے اور دیکھنے کےلئے للچاتا ہوانظر آتا ہے۔

انداز دعوت اور اسلوب تبلیغ میں مولاناالیاس قادری کی دینی کاوشوں میں دوسراہم پہلو اخلاص ہے جو امیر اہلسنت کو اپنے معاصر علمااور ممتاز دینی اسکالز میں ہر لحاظ سے اعلی مقام عطا کرتا ہے۔آپ نے کبھی نفس کی خواہشات یالوگوں میں شہر ت پانے کی کوشش نہیں کی۔بلکہ ریاکاری ،شہرت طلبی ، حب جاہ، نفس کے خواہشات کی تکمیل اور جاہ طلبی کے نقصانات پر فکر انگیز تحریریں لکھیں۔’’برے خاتمہ کےاسبا ب ‘‘ کتاب میں ان تمام رکاوٹوں کا ذکر کیا جو دین کی راہ میں مشکلات کا سبب بنتی ہیں ۔ مولاناالیاس قادری امیر دعوت اسلامی کے اخلاص پر مبنی بیانات نےسخت سے سخت دلوں میں مدنی انقلاب برپاکیا، دینی راہ میں آ پ کی للہیت بھرے جذبا ت نے قلب و روح میں دین پر عمل کے جذبہ کو بیدار کیا۔یہ مولانا الیاس قادری کا اخلاص ہےکہ آپ کی دینی دعوت کےاثرات مشرق ومغرب کے لوگوں کو دین کی طرف راغب کررہے ہیں، لوگوں کشاں کشاں عاشق صادق کےدیدار کی لذت پانے پروانہ وار دوڑے چلے آرہے ہیں۔ تحفہ وتحائف کی بھرمار ہے پر کبھی ان پر نظر نہیں جمائی فقط دلوں کی تسکین کا سامان پیداکیا، عمل کی رغبت دلائی، نیک بننے اور نیکی کی دعوت دوسروں تک پہنچانے کا ذہن دیا،کوئی کیسا بھی مجرم آیا گلے لگایا سینے کی کدورت دھوئی اور مبلغ بنا کر دین کی تبلیغ کا مسافر بنادیا۔مولانا الیاس قادر ی کے اخلاص کے ثمرات پاکستان سے باہر تقریبا 180 ممالک میں دعوت اسلامی دینی تحریک کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

زبان، انداز، محبت، اور حکمت

دعوت اسلامی کی کامیابی اور الیاس قادری کے انداز تبلیغ اور اسلوب دعوت میں جو عوامل سب سے زیادہ کارفرما رہے اور ہیں وہ زبان کی مٹھاس، دل کو موہ لینے والا انداز بیان، محبت کےجذبات اور دینی کام کرنے میں حکمت ودانائی کا صحیح استعمال سرفہرست ہیں۔ اتنہائی سادہ عام فہم زبان کااستعمال،لوگوں کی ذہنی سطح بلکہ اس سے بھی نچلے درجہ میں رہ کر انداز گفتگوکہ بات خود بخود دل میں گھر کر جائے،دل نشین انداز بیان، سادہ الفاظ کا چناؤ کہ سامعین کو معانی سمجھنے میں دقت نہ ہواور یوں بیان کے مقصد سے دینی اصلاح کی کوشش ہوجاتی ہے۔

دینی مسائل اور شریعت کےمطابق زندگی کےاحکامات جاننے اور ان پرعمل کی رہنمائی کےلئے دارالافتاء کا اجراکیااور مفیان کرام کو عوام الناس کی ذہنی سطح کےمطابق مسائل بتانےکی تلقین کی، تصنیف وتالیٖف کے شعبہ کی سنگ بنیاد کےوقت مقاصد تحریر میں الفاظ کےانتخاب میں آسان انداز کے ساتھ لکھنے کی ترغیت دلائی۔اور بطور مصنف خود جتنی بھی کتابیں تحریرکیں وہ سادہ انداز بیان کا منھ بولتاثبوت اورکثرت طباعت واشاعت کی دلیل ہے۔

مولانا الیاس قادری بڑے ہی محبت بھرے انداز کےساتھ جس کو مخاطب کرتے جو کہ وہ پہلے سے ہی گرویدہ ہوچکاتھا آپ کی مخاطبت پر پروانہ وار نثار ہونے لگ جاتا۔آپ چاہت ومحبت کےساتھ دلوں کو جیتے رہے اور آج بھی اگر آپ کے علمی مشاغل اور علمی نشست یعنی مدنی مذاکرہ کے تسلسل کو دیکھیں توحیرانگی ہوتی ہےکہ موضوع جتنا خشک مزاج ہو مولانا الیاس قادری بڑے ہی سادہ اور آسان انداز میں سمجھادیتے۔

امیر اہلسنت الیاس قادری نے دین کی تبلیغ میں کبھی کسی کی مخالفت نہیں کی اور نہ مذہبی گروہ بندی میں اپنے وقت کو ضائع کیابلکہ اپنےمقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کےلوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ میں صلاحیتیں وقف کیں اور دینی تحریک دعوت اسلامی کو ایک منظم متحرک دینی تحریک کے طور پر مقبولیت عام کےدرجہ پر لائے۔

اپنے تو کجا غیر بھی مولانا کی دینی کاوشوں کو دل سے سہراتے ہیں اور حکومت وقت آپ کےانداز تبلیغ کو لوگوں کےسامنے مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔آپ وہ نباض عصر ہیں جنہوں نے دعوت اسلامی کو دنیا میں متعارف کروانے میں دینی حکمت کو پیش نظر رکھا۔ اللہ کی ذات پر کامل بھروسہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو سرمایہ آخرت سمجھا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی اتباع واطاعت کو زندگی کی کامیابی قرار دے کر احیائے سنت کی عظیم تحریک کو دینی حکمت عملی سے دنیا کےاکثروبیشتر ممالک میں پہنچایا اور ایک مبلغ اسلام کےطور پر نمایاں ہوئے۔اسلامی شخصیات میں بطور مصلح امت تشخص پایا۔

گناہگارسے نفرت کی بجائے ان کی اصلاح کی فکر

مولانا الیاس قادری نے اپنے انداز تبلیغ اور اسلوب دعوت میں بطورداعی اور مبلغ کے کبھی گنہگارکو گناہ کی عار نہیں دلائی بلکہ گناہ سے نفرت اور گنہگار کی اصلاح کی فکر کو پیش نظر رکھا۔ مولانا الیاس قادری کی دینی تحریک کی انقلابی دعوت میں نمایاں پہلومعاشرتی برائیوں میں ملوث کی افراد کی اصلاح ہے۔عموما تبلیغی جماعت کے لوگ جب اپنی دعوت کو دوسرے تک پہنچاتے ہیں تو ان اپنی دعوت کی کامیابی میں ان لوگوں کو بطور مثال پیش کرتے ہیں جو گناہوں میں ملوث تھے یعنی ان کے گناہوں کا باربار تذکرہ کرنا۔ اسی لئے ایسےلوگوں دعوت بے اثر رہی ۔ جبکہ حضرت الیاس قادری کی دینی دعوت میں گناہگاروں کی پردہ پوشی کرکے انہیں ایک کامیاب زندگی گزاروالا مبلغ پیش کیا جاتاہے۔آپ نے دینی حکمت عملی کو مدنظر رکھ کر گناہ سے نفرت بلکہ گناہوں کی نحوست پر کتاب بھی تحریر کی اور گناہگار سے محبت اور نیکی کے جذبہ کےفروغ کےلئے کام کیا۔اوراصلاح معاشرہ پر تمام توجہ مبذول کرکے معاشرتی اصلاح میں دعوت اسلامی کاکردار نمایاں کیا۔اصلاح معاشرہ اور معاشرتی اصلاحات آپ کی دینی دعوت کا اہم پہلو اور مقصد ہے اسیلئے آپ نے خدمت دین، تعلقات عامہ ، جدید دینی تعلیمی نظام ،سماجی مسائل کےحل میں ہر لحاظ سے افراد معاشرہ کو اہمیت دی اور ان کی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز کی۔

اسلوب دعوت اور انداز تبلیغ میں موضوعات کا انتخاب:

مولانا الیاس قادری نے اپنے انداز تبلیغ میں اسلوب غزالی کو فوقیت دی اور ان کی دینی حکمت عملی کو منہاج العابدین مشہور کتاب کےذریعے اپنی دینی تحریک کے مقاصد میں شامل کیا۔انسان کی روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عوامل اور اسباب کا تزکرہ، ان سے بچاؤ کی تدابیر اور روحانی ترقی کے علاج پر توجہ مرکوز رکھی اور معاشرتی اصلاح میں ایسے بیانات کے موضوعات کا انتخاب کیا جس سے لوگوں میں ترک گناہ کی سوچ پیدا ہو اور سنت کےمطابق زندگی گزارنے کا جذبہ بیدارہو۔اختلافی مسائل کی گھتیوں کو سلجھانے کی بجائے اصلاح امت پر زور لگایا،مخالف کے جوابات دینے کی بجائے کثرت سے دینی کام کرنے میں وقت صرف کیا۔

مولانا الیاس قادری کے علمی مشاغل اور اسلوب تبلیغ میں جن موضوعات کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے ان میں توحید پر پختگی، ایمانیات، عبادات ، خوف خدا، خشیت الہی، توکل، رضا،عشق رسول ،سنت رسول کی اہمیت، توبہ فکر آخرت، نماز کی پابندی، فرائض وواجبات کی ادائیگی، فرض علوم سیکھنے سیکھانے ، حسن اخلاق، معاشرتی تعلقات میں احترام والدین کی اہمیت اور حقوق العباد جیسے عنوانات قابل ذکر ہیں۔

مولانا الیاس قادری کی دعوت کے اثرات: توبہ، نیکی، اور تبدیلی

مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کے اثرات کی ہمہ گیر جہت پر نظر ڈالیں تو صرف آپ کے اسلوب تبلیغ اور انداز دعوت سے متاثرہونے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہیں جواللہ کے رسول کی سنتوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔

لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل چکی ہیں گناہ کی بجائے نیکی کاتصور پروان چڑھا، علم دین سیکھنے سکھانے کا ماحول بنا، تعلیم وتربیت کےلئے جامعات کی بینادیں مستحکم ہوئی، مدرسۃ المدینہ قرآن نیٹ ورک کا جال بچھا،فلاحی شعبہ نےدنیاکی توجہ حاصل کی۔انفارمیشن ٹیکنولوجی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کےذریعے 40 موبائل ایپلی علم دین سیکھانے کےلئے منظر عام پرآئی، مبلغین کی کثرت ہوئی، نیکی کی دعوت کےاثرات 150سے زائد ممالک میں پھیلے اورعلما نے مولانا الیاس قادری کو دینی تحریک کی کامیابی اور مذہبی طور دینی قیادت جیسے کام کرنے پر امیر اہلسنت کا خطاب عطا کیا۔عشق رسول کی شمع فروزاں ہوئیں اور تقریبا 80سے زائد انسانی شعبہ جات میں خدمت دین کا تصور اجاگر ہو۔100 سے زائد کتابیں مولانا الیاس قادری کی علمیت پر شاہد عادل بن کر منظر عام پر آئیں۔ توبہ کے دروازے سے نیکی کی شاہراہ ملی اورمعاشرتی تبدیلی کے نشانات ظاہر ہوئے۔ یوں دینی تحریک دعوت اسلامی کی کامیاب میں مولانا الیاس قادری کے اندازتبلیغ نے دنیا کے سامنے سنت رسول کےاحیاکا عظیم منظر پیش کیا اور مولانا الیاس قادری اکیسویں صدی میں بطور داعی اور مبلغ دنیا کےسامنے اپنے اسلوب تبلیغ اور انداز دعوت کےساتھ نظام مصطفی کا عملی منظر عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کے نظام تربیت اور خدمت دین کے شعبہ جات میں پیش کرنے کی جسارت کرسکے۔

اسلام کے مبلغ اور داعی کے ایک ماڈل پیش کیااور سنتوں پر عمل کرنے کا منظم نیٹ ورک فراہم کیاایسے افراد کی ذہن سازی کی جنہوں نے دعو ت اسلامی کے دینی کاموں کو پھیلانے میں زندگیاں وقف کیں اور ٹھوس بنیادوں پر شورائی نظام اسلام کے تحت دعوت اسلامی کے انتظامی ودینی معاملات چلا رہے ہیں۔

حرف آخر:

بطو ر داعی اور مبلغِ اسلام مولانا الیاس قادری کی شخصیت معاصر علمائے اسلام میں ایک متوازن ، جامع اوصاف ،علمی وعملی لحاظ سے ماڈل اورقرآن وسنت کے احکامات پر عملی کردار پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔آپ نے دعوتِ دین کو محض وعظ و نصیحت اور تبلیغ تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ اسے اعلی کردار، خلوص وللہیت، شفقت و نرمی، حکمتِ دین اور عملی تربیت کے ذریعے ایک ہمہ گیر اصلاحی تحریک میں ڈھالا۔ آپ کا اسلوبِ دعوت وتبلیغ قرآن و سنت کی روح کا عملی مظہر ہے، جس میں نہ شدت ہے، نہ نفرت، بلکہ محبت، شفقت ، اصلاح امت کی خواہش اور تڑپ موجزن نظر آتی ہے۔

مولانا الیاس قادری نے برائی سے نفرت اور گناہگار کی اصلاح کے درمیان وہ حکیمانہ فرق واضح کیا جو دعوتِ دین کی اصل بنیاد ہے۔ آپ کے اندازِ تبلیغ نے دلوں کو جوڑا، کردار سنوارے اور لاکھوں افراد کو توبہ، نیکی اور سنتِ رسول ﷺ کی طرف راغب کیا۔ دعوت اسلامی کی صورت میں قائم ہونے والا عالمی نظامِ تربیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر داعی خود اخلاص، عمل اور استقامت کا پیکر ہو تو اس کی دعوت اثرات دنیا میں پھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

درحقیقت مبلغ اسلام مولانا الیاس عطاری نے موجودہ صدی کے پرفتن اور پرآشوب حالات میں داعی الی اللہ کا قابلِ مثال اور قابلِ تقلید نمونہ پیش کیا۔آپ کے اسلوب ِدعوت میں کردارسازی، اخلاقیات، تربیت علم پروری، اصلاحِ نفس اور سماجی اصلاحات، معاشرتی اقدار کی بحالی اور احیائے سنت کی منظم نظام پیش کرنا ہے۔آپ کی دینی وسماجی خدمات اورقرآن وسنت کی روشنی میں اصلاح احوال کی عالمگیر تحریک کی دینی کاوشیں نہ صرف ایشیائی خطوں تک محدود رہی بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اسلامی تشخص وروایات ، دینی بیداری، علم دین کی آبیاری اور اخلاقی اصلاح کاسبب بنیں۔من جملہ خدمات دینیہ کے پس منظر میں مولانا الیاس قادری کی شخصیت عصر حاضر میں مبلغ ِ اسلام ، مصلح امت اور خیر کی دعوت دینے والے داعی کی شناخت بن کر روز روشن کی طرح چمکی اور دوسروں کےسامنے قابل نمونہ ثابت ہوئی۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!