دینی و سماجی خدمات میں امیر اہلسنت الیاس قادری کے تجدیدی

مولانا الیاس قادری کی تجدیدی خدمات نے امت مسلمہ کو احیائے سنت کے دائرے میں واپس لانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی دینی و سماجی اصلاح، مدارس اور تعلیمی اداروں کی بنیاد، فلاحی منصوبے اور جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال کے ذریعے کارنامے آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں امت کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف دینی شعور اور اخلاقی تربیت کے فروغ کا سبب بنی ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، اخلاقی اقدار اور نیکی کی دعوت کو بھی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ تجدیدی کوششیں نوجوان نسل کی تربیت اور عالمی سطح پر اسلام کے حقیقی پیغام کے فروغ میں روشن مثال کے طور پر موجود ہیں۔

December 26, 2025

تجدید دین کی اصطلاح کا پس منظر اور مجد د کا کردار

اسلامی فکر ونظر میں تجدید دین اور مجدد کی اصطلاح اہل علم حضرات کے ہاں معروف ہے ۔ اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں تجدید دین کےلئے کئی شخصیات کے کارنامہ تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کے اثرات اب بھی معاشرے کو فائدہ پہنچارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ تجدید دین سے مراد کیا ہے ؟تجدید دین درحقیقت اس اصلاح کا نام ہے جس کےذریعے دین کی اصل روح اور اسلامی تعلیمات کومرور زمانہ کے تقاضوں کوپیش نظر رکھ کر زندہ کیا جائے۔یعنی جب کسی اسلامی ریاست یا دنیا میں اسلامی تشخص پائما ل ہوجائے ،اخلاقی ، نظریاتی ، معاشرتی اور تعلیمی میدانوں میں عملی اعتبار سے بگاڑ پیدا ہوجائے۔اسلام کے پیش کردہ نظام میں کسی نہ کسی صورت میں تغیر وتبدل کی مذمو م کوششوں کا ظہور ہوجائےتو ایسے وقت میں قدر ت اپنے دین کی بقا ، سلامتی اور دین کے احکامات کی حقانیت کوثابت کرنے کےلئے جس فرد کاانتخاب کرتی ہے اس کو مجدد کےنام سے جاناجاتاہے۔یہ مجدد اپنی خداد اد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر حالات زمانہ سے نبردآزما ہوکر دین کی سالمیت کو قائم کرتا ہے اور معاشرتی بگاڑ کو اسلام کے نظریہ اصلاح سے درست کرتا ہے۔

اکیسویں صدی میں تجدید دین کی تحریک کا آغاز

مذکورہ تمہید کو سمجھتے ہوئے اکیسویں صدی سے پہلے کے حالات کاجائزہ لیں تو تجدید دین کی ضرورت اوراہمیت پہلے سے کئی گنا زیادہ نظر آتی ہے۔ یہ وہ دو ر ہے جب عوام کی اکثریت مذہبی رسومات تو بڑی دلجمعی سے ادا کرتی ہے ۔دینی ومذہبی تہواروں پر دل کھول کرخرچ بھی کرتی ہے لیکن ان سب کاموں میں دین کی اصل سپرٹ بہت کم جگہوں پر نظر آتی ہے۔مساجد بھی آباد ہیں لیکن عبادت گزاروں میں عبادت کی روح نہیں ۔عملی طور پر دین کا تشخص صرف مذہبی اداروں اور گھروں میں موجود تھا ۔معاشرہ اور سماج اسلام کے فیض سے دور ہوتا جارہا تھا۔ علماءاور مشائخ کا کرداد محدود ہوچکاتھا۔چنانچہ بیسوی صدی کی اسی کی دہائی میں 2ستمبر 1982 کو شہر کراچی میں ایک شخصیت مبلغ کےطور پر منصہ شہود پر ظاہر ہوتی ہے۔جو اللہ رب العزت کےدین کی سالمیت اور سیرت رسول محتشم کی سیرت نگاری کےذریعے رسول اللہ کی سنتوں کےاحیا کی عملی تعبیر پیش کرتی ہے۔معاشرے میں موجود مغربی افکار سے متاثر لوگوں کو احیائے سنت کی عالمگیر تحریک کا حصہ بناکر صبغۃ اللہ اور صبغۃ الرسول یعنی اللہ اور اس کے رسول کے رنگ میں ڈھال کر اسلا می تشخص کے حقیقی خدوخال بحال کرتی ہے۔

اسلا می کردار کی عملی شکل پیش کرنے والی مذکورہ شخصیت جو ایک مبلغ کے طور پر متعارف ہوئی اور اپنی تجدیدی فکر کے پس منظر کو پیش منظر میں تبدیل کر کے قرآن وسنت کی تعلیمات پر مشتمل عالمگیر تحریک کی داغ بیل ڈالی ۔ وہ ممدوح و مخدوم امیر اہلسنت حضرت علامہ و مولانا محمد الیاس قادری رضوی کی دیدہ ور شخصیت ہےجنہوں نے چمن اسلام میں نرگس کی بے نوری کی حساسیت کو محسوس کیا اور پھر سے اسلامی تعلیمات کو زندہ کرکےلوگوں کے لئے مشعل راہ بنا یا ۔معاشرے کی دینی وسماجی اصلاح میں سینکڑوں تجدیدی کار نامہ سرانجام دیئے ۔ذیل میں دعوت اسلامی کےبانی اور دینی وسماجی اصلاح میں محیر العقول خدمات سرانجام دینے والی شخصیت امیر اہلسنت کےنمایاں کاموں کاجائزہ لیتے ہیں۔

بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں جب امت مسلمہ اندرونی و بیرونی خلفشار کا شکار تھی، مادیت پرستی، مغربی افکار کی یلغار، اور اخلاقی گراوٹ عروج پر تھی، تو ایسے حالات میں ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو امت کو دوبارہ قرآن و سنت کے سیدھے راستے پر گامزن کر سکے۔ امت کا تعلق اپنے ہادی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دے۔مذہبی رسومات میں موجود بدعات وخرافات کو دورکر کے شریعت کی پاسدار ی یقینی بنائے ۔چنانچہ اس دو ر پرفتن میں امیرِ اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے ایسے ہی ماحول میں تجدیدی کردار ادا کیا اور اپنی فکر، عمل اور جہد مسلسل سے ایک عالمی اسلامی تحریک کو جنم دیا۔

امیرِ اہلسنت کی تجدیدی فکر کا پس منظر

بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز کی دہلیز پر امت مسلمہ کی ڈانواں ڈول کشتی کو ساحل مراد تک پہنچانے کی عملی کوشش کی ۔ایک مقصد’’ مجھے اپنی اور سارے جہاں کے لوگوں کی اسلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ کے عزم کےساتھ اپنی دینی تحریک ’’‘دعوت اسلامی‘‘ کے پلیٹ فارم پرقرآن وسنت کی تعلیمات کا نچوڑ خوف خدا اور عشق رسول کو فروغ دیا اور لوگوں کی دینی وسماجی اصلاح میں شریعت اسلامی کے احکامات کو ہی ہر آخر سمجھااورسمجھایا اور ذہن دیا کہ کامیابی فقد دین اسلام پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے ۔فلاح و فوز صرف اسلام کےدائرہ کار میں ہر کر ہی ممکن ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ مولانا الیاس قادری کی عملی زندگی کو لوگوں نے دیکھا کہ ایک باعمل ،مخلص ، سرسے پاؤں تک سنت نبوی کی عملی تفسیر بن کر تہذیب مغرب اور لسانیات کی بنیاد پر قائم ہونے والے معاشرے کے بگڑتے رجحانات کو سدھارا ۔

حضرت الیاس قادری کی تجدیدی فکر کا مرکز ومحور

مولانا الیاس اکیسویں صدی کے چمن اسلام میں وہ دیدہ ور ثابت ہوئے جنہوں نے حالات کی نزاکت کا ادراک کیا ۔ اپنی شخصی زندگی کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کرامت کی مجموعی بہتری کی طرف نکلے ۔ آپ کی تجدیدی فکرو نظر کا مرکز ومحور ’’احیائے سنت کےساتھ اصلاح امت ‘‘ تھا۔اوراپنی تجدید فکر کی آبیاری کےلئے جدوجہد کی۔ عبادات کےساتھ معاملات، معاشرت، اخلاقیات میں بھی عبادات کارنگ سنت نبوی پر عمل کی صورت میں ڈالا ۔فرد سازی ، ذہن سازی اور کردار سازی کےذریعے سنت نبوی پر عمل کا منظم نظام ’’دعوت اسلامی‘‘ کی صورت میں پیش کیا۔

دینی خدمات میں امیر اہلسنت کے تجدیدی کام اور ان کے اثرات

آسان عام فہم انداز میں قرآن و سنت کی تشریح اور عمل کی تحریک

بانی دعوت اسلامی نے اپنی دینی تحریک کا مرکز صرف قرآن وسنت کو ہی بنایا ۔شریعت اسلامی کے بنیادی ماخذوں کو عوام الناس میں متعارف کروانے کےلئے علمی مباحث اور دقیق مسائل کےبیان سے اجتناب کرتے ہوئے عام فہم آسان انداز بیان کی تشریح کو تبلیغ میں شامل کیا۔قرآن کو سمجھنے اور آسان انداز میں پڑھنے کےلئےمدرسہ، مسجد ، گھر ،چوک ،گلی ، محلہ ، شہر ہر جگہ خوش الحان قاریوں کی جماعت روانہ کی اور مفت تعلم قرآن کاسلسلہ شروع کیا۔تفہیم قرآن کےلئے تفسیر خزائن العرفان کو تبلیغی نصاب کا حصہ بیان اورروزانہ تین آیات بمعہ ترجمہ اور تفسیر کےساتھ پڑھنے کےلئے ایک منظم نظام کو قائم کیا۔ مولانا الیاس کے اس تجدیدی کردار سےہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ وابستہ ہوئے ۔پھر سب سے بڑھ قرآن وحدیث کی خدمت کےلئے شعبہ آئی ٹی کےذریعے قرآن سیکھنے اور حدیث پڑھنے کےلئے موبائل ایپلی کیشنز پیش کیں۔

گراس روٹ لیول پر ارکان اسلام کی تعلیمات کی نشر واشاعت

دعوت اسلامی کے بنیادی تبلیغی مقاصد میں ارکان اسلام کو سب سے زیادہ فوقیت دی اور عقائد اسلام، نماز ،روزہ ، حج ، زکوۃ کے مسائل سیکھنے کا عالمی نظام قائم کیا۔انتہائی آسان اور سادہ طریقہ تدریس و تعلیم کا رواج قائم کیا۔ نماز کی عملی مشقیں کرواکر فرض نما ز کی ادائیگی میں جو خامیاں تھیں ان کو دو ر کیں۔عوامی سطح اور معاشرہ کے ہر طبقہ کی ذہنی کیفیت کے مطابق فرض علوم پر کتابچہ، رسالہ اور کتاب لکھی۔دنیا میں پھیلانے کےلئے نشرواشاعت کا ادارہ مکتبۃ المدینہ قائم کیا جہاں سے سستے داموں کتابوں کی خرید وفروخت کو ممکن بنایا۔

تربیتی پروگرامز ،اجتماعات، مدنی مذاکرے، انفرادی نشستیں:

مولانا الیاس قادری صاحب نے دین پر عمل کے حقیقی نظام کو قائم کرنے کےلئے اسوہ حسنہ کو نمونہ ٔ زندگی بنایااور شاہراہ اولیاء پر چلتے ہوئے انفرادی واجتماعی سطح پر ذہن سازی شروع کی۔ نمازوں کے بعد مختصر درس کا سسٹم بنایا اور باقاعدہ نصاب تبلیغ مقرر کیا۔ سنتوں کے مطابق عمل کا ذہن دینے کےلئےہفتہ وار اجتماع کا تسلسل جاری کیا۔ اسلامی موضوعات، دینی مسائل، احکام دین، مسائل دین، تاریخ اسلامی ،اسلامی شخصیات کا تعارف ، ہزاروں موضوعات پرمشتمل علم دین سیکھنے سکھانے کےلئے ہر ہفتہ کےدن بعد نماز عشاء علمی نشست مدنی مذاکرہ یعنی سوال وجواب کی نشست مقرر کی ۔

سنتِ نبوی ﷺ کے احیاء میں تجدیدی کام

حضرت الیا س قادری صاحب کی دیدہ ورشخصیت نے چمن اسلام کی پندرہویں ہجری میں سیر ت نگاری کو روایتی سیرت نگاروں سے ہٹ کر الگ انداز میں پیش کیا۔آپ نے سیرت رسول پر ضخیم کتابیں لکھ کر اہل علم سے داد طلب نہیں کی اور نہ ہی حکومت وقت سے سیرت نگاری پر کوئی تمغہ وصول کیا۔ بلکہ امیر اہلسنت نے سیرت نگاری کو سنت نبوی کے احیا کا ذریعہ بنایا۔سیر ت نگاری کو عمل سے تعبیرکیا۔اورامت کے فساد کےوقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں زندہ کیں۔زندگی کے ہر شعبہ میں سنت نبوی کے احیا کےتجدیدی کام کئے اور ایک منظم احیائے سنت کا نظام قائم ہوا جس کی برکتیں صبح وشام دنیا کے اکثروبیشتر ممالک میں برستی ہوئی نظر آتی ہیں۔

دینی جدوجہد میں جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ:

حضرت امیر اہلسنت کی تجدیدی فکر نے اکیسویں صدی کی سائنسی وٹیکنولوجی ایجادات کو دین کے لئے مؤثر ترین انداز میں استعمال کرکے احیائے سنت کا نظام پوری دنیامیں قائم کیا۔آپ نے دیگر معاصرین محققین کی طرح ٹیکنولوجی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ ان کی بین الاقوامی افادیت کا ادراک کیا اور تبلیغ کے لئے قابل عمل بیانا۔آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو مستحکم کیااور دور جدید کےمواصلاتی نظام کےتحت تقریبا 40 کےقریب موبائل ایپلی کیشن دین کاموں کے لئے بنوائی اور دنیا کو دین سیکھنے کا آسان ذریعہ فراہم کیا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے دین کا پیغام

سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم کو اسلامی لبادہ میں ملبوس کیااور ہر ایک شعبہ میں دین کی باتیں ، دین کے احکامات عام فہم آسان انداز کے ساتھ پہنچانے کےلئے سسٹم کا متعارف کروائے ۔موجودہ زمانہ کی تمام ترقی کو دین کے دائرہ کار میں لاکر دین کی ترویج واشاعت کےلئے کارآمد بنانا مولانا الیاس قادری کی شخصیت کا کارنامہ اور تجدیدی افکار کاعملی ثبوت ہے۔تقریبا لاکھوں لوگ دین کےبارے میں دعوت اسلامی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو باوثوق ذریعہ ابلاغ سمجھتے ہیں۔

مدنی چینل کااجرا دین کی حقیقی تعبیر سیکھنے کا مؤثر ترین ذریعہ

تبلیغ دین اور دعوت دین میں مولانا الیاس قادری کا سب سےبڑا تجدیدی کام اور تعلیم اسلام عام کرنے میں سب سے بڑا اقدام مدنی چینل کےنام سے ٹی وی چینل کا متعارف کروانا ہے۔آپ کی دینی سوچ نے ٹی وی چینلز کے مالکان کوبھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ہر قسم کی ایڈوائزمنٹ اورتشہیر مواد کی بیخ کنی کرتے ہوئے دین کی باتیں دین کے پیروکاروں کےذریعے دنیا میں پھیلائی۔ عصر حاضر میں مدنی چینل کو علم دین سیکھنے کاذریعہ بنانا مولانا الیاس قادری کا وہ تجدید کام ہے جس پر جتنی عقیدت کا اظہارکیاجائے وہ کم ہے۔

سماجی خدمات میں مولانا الیاس قادری کے تجدیدی کام

معاملات اور معاشرت میں اخلاق نبوت کی تعلیم

سنت نبوی کے احیا میں حضرت امیر اہلسنت کے تجدیدی کاموں میں معاشرتی وسماجی اصلاحات شامل ہیں ۔آپ نے صرف عبادات کی حدتک ہی اپنی تحریک کو محدود نہیں کیا بلکہ تقریبازندگی کے بےشمار شعبوں میں سنت نبوی کے مطابق عمل کو یقینی بنایا اور ہرشعبہ ہائے زندگی کے الگ الگ سنت کےمطابق اصول مرتب کئے۔آپ نے مکمل نظا م زندگی میں سنت پر عمل کرنے کےلئے غیر معمولی دینی خدمات سرانجام دیں۔معاملات ومعاشرت میں اخلاق نبوت کی اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔تقریبا دعوت اسلامی کے تمام کاموں میں اخلاق نبوت کی تعلیم کا زندہ ہونا اور عمل کی تصویر دنیا کے کونے کونے میں نظر آناہی مولانا الیاس قادری کی وہ تجدیدی خدمت ہے جس کا زمانہ معترف ہوچکا ہے۔

افراد معاشرہ کی کردار سازی اور نوجوان نسل کی تربیت

علامہ الیاس قادری صاحب کاوجود مسلم معاشرے میں مصلح امت بن کر ابھرا اور 44چوالیس سال کی دینی جدوجہد کےبعد امت کو پھر سے نظام ِمصطفی کی عملی شکل دعوت اسلامی کے نظام تربیت میں نظر آنے لگی۔قادری الیاس صاحب نے شروع سے ہی نوجوان ملت کو اہمیت دی اور ان کی تربیت پر زور دیا ۔تعلیم وتربیت کے ساتھ انہیں دینی ذمہ داری دی اور انہیں تبلیغ دین کےلئے بیرون ملک بھیجے ۔ نوجوان نسل کے اخلاق کو درست کیا۔انہیں باوقار زندگی گزانے کےلئے سنت نبوی کا نظام دیا۔معاشرتی کردار ادا کرنے کےلئے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔بعد ازاں دیگر افراد معاشرہ کی کردارسازی کےلئے الک الک تربیتی نظام بنائے۔ ہر شخص کو اہمیت دی، کسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ چاہئے کیسابھی کردار کا شخص حاضر خدمت ہوتا اس کے اعمال کی درستگی کی طرف توجہ کرتے اور سنت پر عملی کی ترغیب اپنے کردار سے دیتے ۔ یوں آپ کی تحریک سے نوجوان نسل دین کی طرف راغب ہوئی ۔

سماجی ومعاشرتی خدمات میں تعلیمی ادارں کا قیام

حضرت الیاس قادری کی شخصیت کا نمایاں کردار منظم تعلیمی نظام کی آبیار ی کرتے ہوئے بھی نظر آیا۔باقاعدہ تعلیمی نظام کا جال بچھایا۔ادارے قائم کئے۔ہر شہر میں تعلیم وتربیت کے مراکز بنائے۔دینی ودنیاوی علوم حاصل کرنے کےلئے جامعات المدینہ ،دار المدینہ ، دار المدینہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی پھر ان تمام تعلیمی ادارں کے نظم ونسق کےلئےتعلیمی بورڈ کنز المدارس کا قیام عمل میں لایا۔ سماجی ومعاشرتی خدمات میں مولانا الیاس قادری کے تعلیمی ادارے مذکورہ ناموں کےساتھ معاشرے میں دین کی تعلیم کےساتھ سوشل سائنس، لینگوئجز، پری میڈیکل، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، کامرس اور آرٹس وغیر ہ کا نصاب بھی پیش کرتے ہیں۔

فلاحی ورفاہی پروجیکٹ کےساتھ خدمت دین کا تسلسل

سماجی ومعاشرتی خدمات کےتناظر میں حضر ت مولانا الیاس صاحب نے دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر رفاہی کام بھی متعارف کروائے۔ ایف جی آر ایف کے قیام سے سماج بہبود پروجیکٹ پیش کئے اور فلاحی خدمت کو بھی دین کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا۔باعمل مبلغین کو سماجی کارکن کی حیثیث میں بھی پیش کیا۔دینی تشخص کے وقار میں خدمت عوام کے تصور کا اضافہ کیا۔ایف جی آر ایف کی سماجی خدمات اور فلاحی پروجیکٹ حضرت الیاس صاحب کے وہ تجدیدی کام ہیں جن کا حوالہ شاید ماضی کی تاریخ میں ملنا اور حال میں کسی اور کردار میں تلاش کرنا، مستقبل کے پیش نامہ پر نظر آنا فلحال مشکل ہے ۔اسی لئے مولانا الیاس قادری کو اپنے تجدید ی کاموں اور کردارکی بلندگی پھر معاشرتی اصلاح کےنت نئے کاموں کی وجہ سے اکابر علمائے امت نے مصلح امت کے القابات بھی دیئے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر مولانا الیاس قادری کے تجدیدی کاموں کے اثرات کاجائزہ

دنیا کے 100سے زائد ممالک امیر اہلسنت تجدیدی فکر کےاثرات

مولانا الیاس قادری کی تجدید فکرسے متاثرہونے والوں نے جب عملی طور پر سنت نبوی کا فروغ کی کوششیں کیں تو دنیا کے 100سے زائدممالک میں دعوت اسلامی کے دینی و تعلیمی،سماجی وفلاحی خدمت کے ادارے نظر آئے۔

کثیر تعداد میں غیر مسلموں کا قبول اسلام:

دعوت اسلامی کا پیغام جوں جوں پھیلتاگیا سنت رسول کی تبلیغ کا دائرہ کار بین الاقوامی سطح پر پہنچتا گیا۔آہستہ آہستہ دنیا میں موجو د مسلم سوسائٹیز نے آپ افکار ونظریات کو قبول کیا بلکہ غیر مسلموں نے بھی آپ کی دعوت کو قبول کیا۔ الحمد للہ آج ہزاروں کی تعداد میں اسلام کی نعمت سے مشرف ہوچکے ہیں۔

میلاد النبی ﷺ اجتماعات اور ان کے اثرات:

مولانا الیاس قادری کی تجدیدی فکر میں اصل مقصد فروغ عشق رسول ہے جس کی عملی تعبیر آپ کی زندگی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ہر وقت رسول اللہ کی باتیں ، سنت نبوی کی باتیں ، محبت رسول کی مثالیں،ربیع الاول کی آمدکے جشن ،ولاد ت مصطفی منوانے کا والہانہ شوق ، عشق رسول سے لبریز نعیہ کلام پھر جب آپ کے عشق رسول کا رنگ دوسرو ں پرچڑھاتو دنیا میں دعوت اسلامی اور ہر اہل محبت کو عاشقان رسول کے نام سے پہچان ملی ۔ حضرت الیاس قادری صاحب نے جشن میلا د منانے کا ایساتصور دیا کہ دنیا میں میلا د کی دھومیں مچ گئیں ۔عالمی سطح پر میلاد کےاجتماعات کی کثرت ہی دعوت اسلامی کے بانی امیر اہلسنت کی تجدیدی فکر کے مثالیں ہیں۔

حرف آخر:

حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سچی محبت دل میں جمائے دینی وسماجی اصلاح کی طرف قدم بڑھایا۔اپنی دینی بصیرت ،حکمت عملی ،راہ خدا میں پیش آنے والی مشکلات کا سامناکرتے ہوئے عالمی سطح پر اصلاح کا منظم نظام پیش کیا جس کے اثرات نے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں دینی وسماجی تبدیلی پیدا کی ۔حضرت علامہ مولانا محمد الیاس رضوی نےفساد امت کے پرفتن دور میں تجدیدی کردار ادا کے ذریعے اہل ایمان کو احیائے سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کا تحفہ پیش کیا ۔

امیر اہلسنت کے تجدید ی کاموں سے انداز ہ لگا یا جاسکتا ہے کہ آ پ کی فکرسے متاثرہونے والے طبقے میں ہر شعبہ کے افراد شامل ہیں۔آپ نے دینی وسماجی اصلاح میں منہج تصوف کےبانیان کی بھی پیروی کی ۔علمائے ربانین کے نقش قدم کو خضر راہ بھی بنایا۔فکررضا کی روشنی میں عقائد اہلسنت کی ترجمانی بھی کی۔ زمانہ کے تقاضوں کےمطابق خدمت دین میں اصلاحی کام بھی کئے۔دور جدید کےسائنٹیفکٹ طرز پر ذرائع تبلیغ سے استفادہ کیا ۔ مغرب کی ریشہ دانیوں اور علمائے اسلام پر اٹھنے والے اعتراضات کے جواب میں اسلامی طرز زندگی کی فکر کو رائج کیاجس سے دین اسلام کےبارے میں باطل کے تمام اعتراضات کا قلع قمع ہوا۔

برصغیر کی معروف روحانی شخصیت حضور عثمان بن علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش نے اپنے دور میں تعلیمات تصوف کی اصلاح پر زور دیکر تصوف کے حقیقی خدوخال بحال کئے اور تعلیمات تصوف کا نہج مقرر کیا۔ پھر ان کے بعد حجۃ الاسلام حضرت محمد بن محمد عزالی نے دروس تصوف پر کام کیا۔ راہ سلوک کے منازل بیان کیں۔ جادہ تصوف کے بادہ خواروں کے لئے اسباق تصوف بیان کئےاور پھر راہ خدا کے مسافر کےزادہ راہ کو بیان کرکے دنیا پر احیائے العلوم ، کیمیائے سعادت ، منہاج العابدین کے اثرات چھوڑے ۔چھٹی صدی میں آسمان قادریت کےآفتاب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی نے سابقہ دونوں مناہیج پر کام کیا اور تجدید دین کےذریعے اسلام کا حقیقی تشخص بحال کیا ۔ ایک ایسا اصلاحی نظام بغداد میں پیش کیاجہاں سے ہدایت کی قندیلیں روشن ہوئیں ۔زمانہ نے نیا روپ دھارا، اصلاح امت کی بنیادیں فراہم ہوئیں۔علمائے ، اولیا ، مشائخ دسترخوان قادریت کے خوشہ چین بنیں ۔ظاہری وباطنی اصلاح کےبعد خرقہ قادریت میں ملبوس ہوکر امت کی دینی وسماجی رہنمائی میں مصروف ہوئے۔من وعن چوتھی ، پانچویں چھٹی صدی ہجری کے اولیائے امت کے طریقہ کے مطابق ایکسویں صدی میں مولانا الیاس قادری کی فکر اور اصلاح کاموں میں حضرت مَخْدوم علی بن سید عثمان ہجویری، حجۃ الاسلام امام غزالی اور شیخ طریقت محبوب سبحانی غوث صمدانی عبد القادر گیلانی کے اصلاحی اور تجدیدی کاموں کی نمایاں جھلک نظر آتی ہے۔آپ نے بیک وقت تصوف کی اصلاح کی۔ منازل تصوف بیان کئے ۔اسباق تصوف پر کام کیا۔ تعلیمات تصوف کو عملی شکل میں پیش کیا۔سلسلہ قادریت کے فیوض سے مستفید ہوکر دنیا کو حضور غوث پاک کے نظام اصلاح اور اپنے شیخ کی اصلاح تحریک کےاثرات سےاپنی دینی تحریک دعوت اسلامی کے خمیر کو گوندھا اور آپ کی بلند فکر، دینی بصیرت اور آفاقی سوچ سے دنیا کے سامنے اصلاح کا نظام پیش ہوا۔دینی وسماجی اصلاح کے نظام میں دین اسلام کی فکری ونظریاتی سرحدیں مضبوط کیں اور جدید دور کے تمام تغیرات کے مقابلہ میں اسلامی نظام کو پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ۔امت کی اصلاح، سنت نبوی کے عملی نظام،علم دین کے ادارے، فلاح ورفاہی پروجیکٹ اور خدمت دین کے بےشمار ڈیپاڑمنٹس میں نظام مصطفی کے عملی نفاذ کی شکل پیش ہوئی۔ امیر اہلسنت نے دینی وسماجی خدمات میں اصلاح کا جونظام متعارف کیا او رخصوصا شریعت وطریقت کے جداگانہ تصور کی بیخ کنی کرکے تصوف کی حقیقی تصویر سیرت مصطفی کی روشنی میں پیش کیں ۔اسیلئے آپ کی خدمات دینیہ پر آپ کےلئے تجدید دین کا سہرا بھی باندھا گیا ، مجد د دین کی اصلاح بھی استعمال ہوئی ، مجد د کا لقب بھی ملا، امیر اہلسنت کے خطاب دلنواز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کے تاریخ ساز کارنامے علمائے اسلام کےلئے روشن مثالیں اور آنے والی نسلوں کی تربیت ضمن میں مشعل راہ ہوں گے۔ یقینا امت کی اصلاح میں آپ کی خدمات تاریخ کےاوراق میں سہنرے حروف سے لکھے جائیں گی۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!