امن و رواداری کا فروغ میں مولانا الیاس قادری کی خدمات

اس مضمون میں سیرت نگاری کے ذریعے امن و رواداری کے فروغ میں مولانا الیاس قادری کے کردار کا علمی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مولانا الیاس قادری نے سیرتِ مصطفی ﷺ کو محض علمی موضوع نہیں بنایا بلکہ اسے عملی نظامِ زندگی کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آپ کی سیرت نگاری نے عشقِ رسول ﷺ، اخلاقِ محمدی، بھائی چارے، عفو و درگزر اور رواداری کے جذبے کو عام کیا، جس سے فرد، معاشرہ اور عالمی سطح پر امن و ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔

January 8, 2026

سیرت نگاری کے ذریعے امن و رواداری کے فروغ میں مولانا الیاس قادری کا کردار

عصرِ حاضر کےچیلنجز

اکیسویں صدی کی سائنسی ترقی،نت نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے انسانی زندگی کو آسان بنادیا ہے۔ اس سائنسی وٹیکنالوجی کی ترقی نے انسان کو اخلاقی ، نظریاتی اور معاشرتی آزادی بھی فراہم کردی ۔ اس بے مہار آزادی اور ٹیکنالوجی کے کثرتِ استعمال کے نتیجے میں معاشرتی اقدار بوری طرح متاثرہوئی ہیں۔ تمام اخلاقی ودینی قیود سے آزاد ذہنی اور جسمانی تسکین کے لاتعداد ذرائع کی بہتات ،فکری وجنسی آزادی کے نظریات کے پرچار سےدنیا کے ہرطبقے میں بسنے والے لوگ ا خلاقی ، روحانی، سماجی، معاشرتی،سیاسی اورمعاشی بحرانوں کا شکار ہیں۔

دنیا کی ترقی یافتہ قوم بھی اخلاقی زبوں حالی پر ماتم کناں نظر آتی ہے۔باوجود مذکورہ متعدد سماجی واخلاقی چیلنجز کے علاوہ نسل انسانی کی بقا کےلئے مغربی افکار ونظریات کے حامل افراد کوئی مستقل لائحہ عمل جدید دنیا کےسامنے پیش نہ کرسکے ۔ عصر حاضر میں اسلام کے علاوہ کوئی ایسا نظام موجود نہیں جو انسانیت کےجملہ شعبہ جات میں رہنمائی کا فریضہ ادا کرے ۔مادیت پسند رجحانات نے اخلاقی اقدارکو اس حد تک زوال کا شکار کردیاہے کہ خاندانی نظام کی مضبوط خوبصورت روایات کمزور پڑتی جارہی ہیں ۔ بے راہ روی اور ذہنی وفکری انتشار قوموں کی بربادی میں سرفہرست نظر آرہا ہے۔عجب معاملہ ہے کہ عالمی امن کے بگڑتے ہوئے حالات نے ہر صاحبِ عقل ودانش کو بے چین کردیا ہے۔ یہاں تک کہ حالات کی ستم گری سے معاشرے کے دانشور بھی اس صورت حال میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگے ہیں۔ مذکورہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہےکہ انسانیت کو پھر سےآسمانی تعلیمات کی اشد ضرورت ہے۔اور یہی صورتِ حال اقوامِ عالم سیرتِ مصطفی کی تعلیمات کی طرف لوٹنے پر آمادہ کرتی ہے۔ کیونکہ حقیقی امن اوربقائے عالم کی ضمانت اسوہ رسول میں ہی پوشیدہ ہے۔

موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سیرت طیبہ کی اہمیت اور سیرت نگاری کی ضرورت:

ان حالات میں پوری دنیا کےلئے امن وآشتی کے نظام کی بحالی کےلئے پیغمبر اسلام، نبی آخر الزمان ، آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سیرت شجرہ سایہ دار اور مینارہ نور ہے ۔آپ کی سیرت طیبہ اسلام کا وہ نظام حیات ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ آپ کی حیات پاک ہر مرحلہ میں امت کی رہنمائی کر تی ہے۔آپ کی زندگی کسی ایک شعبہ کے ساتھ خاص نہیں۔ بلکہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ عالمی امن کےلئے عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔آپ کی سیرت پوری دنیا کو ایک مکمل نظام حیات ،ضابطہ اخلاق پیش کرتی ہے۔ جو فرد کی انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی ماحول اور بین الاقوامی تعلقات کے ہر شعبہ کی کامیا بی کےلئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

سیرتِ رسول ِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے لیکن حالات حاضرہ میں بین الاقوامی امن ورواداری کے فروغ اور بقائے انسانیت کی بہتری کےلئے سیرت محمد عربی کی اہمیت عالمگیر حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی عملی تفسیر ہیں۔آپ کی سیرت انسانیت کی بقا اور سلامتی کی ضامن ہے۔آج عصر حاضر میں انتہا پسندی ، مذہبی عدم برداشت، معاشی بحران اور ناانصافیاں، اخلاقی بگاڑ، ظلم وستم ، قتل وغارت، سیاسی ومذہبی قیادت کی باہمی چپقلش، عسکری قوتوں کا محکوم قوموں پر ظلم وجبراور زمانے سے نبرد آزما مختلف قسم کے چیلنجز سے نکلنے کےلئے سیرت نگاری کی ضرورت پہلےسے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔اللہ کےآخری نبی کی سیرت کےمطالعہ کو عام کرنی ضرورت ہے، سیرت طیبہ کی روشنی سے عالم دنیا کو بقعۂ نور بنانے کی اشد ضرورت ہے، اس پر فتن اور امت کے فساد کے دور میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالات زندگی، آپ کی تعلیمات ، آپ کے اخلاق اور آپ کے اسوہ حسنہ کی تحریری ا ور عملی صورت میں پیش کرنا نہ صرف علمی خدمت ہے بلکہ پوری نسل انسانیت کی بقااور سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔

سیرت نگاری میں مولاناالیاس قادری کا عملی کردار:

عصر حاضر کے تناظر میں بین الاقوامی سرحدوں میں دین کے پیغام کو اسوہ رسول کی روشنی میں پیش کرنے والی دینی تحریک دعو ت اسلامی کے بانی حضرت مولانا الیاس قادری کی شخصیت کو پرکھیں تو آپ اکیسویں صدی میں ایک مدبر، مربی ، مصلح امت،احیائے سنت کےنظام کی عملی تفسیر پیش کرتے ہوئے نظر آئے۔سیرت طیبہ کی روشنی میں امت کو دینی رہنمائی کے فرائض سرانجا م دینے کےلئے میدانِ عمل نکلنے والے مولانا الیاس قادری نے عالمی سطح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی حیات مبارکہ کے واقعات ، آپ کی تعلیمات ، آپ کے اسوہ حسنہ، آپ کے اخلاق، آپ کے نظام تربیت، آپ کی عائلی و معاشرتی زندگی کو تحریر وتقریر اور عملی کردار کےذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔مولانا الیاس قادری نے سیرت نگاری کوفقط تحریر ی طور پر پیش نہیں کیا ، اسوہ حسنہ کو محض واقعات کی صورت میں بیان کرنے تک محدود رکھا نہیں بلکہ فرد کی اصلاح سے لیکر پر امن معاشرے کی تشکیل وتعمیر کےلئے عملی نمونے کے طور پر پیش کیا۔آپ دنیا کو ایسا نظام دینے میں کامیا ب ہوئے جہاں محبت رسول سے سرشارافراد باہمی امن وآتشی کی مثال بن کر خدمت دین کےلئے دنیا میں نکلے ۔ آپ نے سیرت نگاری کے ذریعے ایک ایسا عملی کردار دعوت اسلامی کےنظام کےتحت پیش کیا جہاں امن ، رواداری، باہمی محبت ، ادب و احترام، مذہبی برداشت، مختلف فقہی مذاہب کی اجتماعیت، غیر مسلموں کےلئے دینی کی دعوت، نومسلموں کے لئے تعلیم وتربیت، معاشی دوڑ دھوپ سے اجتناب، جدید ٹیکنولوجی کا دین کی تعلیمات کی نشر واشاعت میں استعمال، زندگی کے ہر شعبہ میں اخلاق محمدی کے عملی کردا ر کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔

سیرت نگاری میں مولانا الیاس قادری کا منہج واسلوب:

عصر حاضر کےچیلنجز سے نبردآزما ہونے ، امت کی دینی رہنمائی اور انہیں اسلام کی تعلیمات کے مطابق امن وآشتی اور باہمی رواداری کےساتھ زندگی گزارنے کےلئے مولانا الیاس قادری نے اپنے منہج سیرت نگاری میں دو اسلوب اپنائے :

ایک عشق رسول اور دوسرا سیرت نگاری کےذریعے اصلاح امت:

بانی دعوت اسلامی کا اسلوب سیرت نگاری معاصر سیرت نگاروں سے قدر مختلف ہے آپ نے سیرت نگاری کو محض حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے حالات زندگی بیان کرنے تک محدود نہیں کیا بلکہ آپ نے اپنی سیرت نگاری کا مرکزی نقطہ فروغ عشق رسول رکھا۔ محبت وعشق سے لبریز مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری محض جذباتی عقیدت تک محدود نہیں بلکہ اتباع رسول ، اطاعت رسول ،اسوہ رسول، اخلاق رسول کو زندگی کا حصہ بنانےکی عملی ترغیب دلاتی ہے۔سیرت نگار مولانا الیاس قادری نے سیرت نگاری میں حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی مبارک زندگی کے واقعات کو اتنے پراثر اندار میں قلمبند کیا کہ قاری کےدل میں ان واقعات کر پڑھ کر رسول اللہ کی محبت وعقیدت جاگزیں ہوجائے اور عشق رسول کی چاشنی اور حلاوت کو دل میں ایسامحسوس کرے کہ وہ اپنی زندگی کو اسوہ رسول کے سانچے میں ڈھالنے کی عملی تدبیر کرنے لگ جائے۔مولانا الیاس عصر حاضر کو وہ عظیم سیرت نگار ہیں جنہوں سیرت نگاری میں ایسا اسلوب اپنایا جو قاری کے دل میں سنت رسول پر عمل کی ترغیب دلاسکے، جو قاری کو سنت رسول پر عمل کرنے والا بنادے۔مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری سےجو دینی انقلاب آیا شاید ہی کسی دور کے مصنف وسیرت نگار کے اسلوب میں ایسا انقلاب پیدا ہواہو۔

مولانا الیا س قادر ی نے سیرت نگاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات و حالات کو تاریخی حقائق کو طو پر پیش نہیں کیا بلکہ آپ کے اسوہ حسنہ کو اپنی کتابوں اور تحریروں میں زندہ جاوید سرچشمہ حیات کےطور پیش کیا۔آپ نے سیرت نگاری کےباب میں اسوہ حسنہ ،اخلاق محمدیہ ، عفو ودرگزر، صبر وتحمل، حسن ظن، حسن اخلاق ،حسن سلوک ، غریبی کی دل جوئی ، یتیموں سے شفقت، باہمی محبت کے ابوا ب کو خاص اسلوب تحریر کےساتھ پیش کیا تاکہ آپ کی دینی تحریک سے وابستہ ہرفرد عملی طور پر سنت رسول پر عمل کی تصویر بن سکے۔

مولانا الیاس قادری نے سیرت نگاری کے ذریعے دنیاکو دینی قیادت فراہم کی، آپ عصر حاضر کے وہ عظیم سیرت نگار ثابت ہوئے جنہوں سیرت نگاری سے پہلے رسول اللہ کی سیرت کو اپنے زندگی میں عملی طور پر نافذ کیا پھر اسوہ حسنہ بیان کرنے کےلئے قلم کی طاقت کواستعمال کیا اور اپنے منہج سیرت نگاری میں امت کی اصلاح کو موضوع سخن بنایا اور سیرت نگاری کےذریعے ایسا تربیت نظام پیش کیا جس کو دیکھ کر دنیا حیران ہے۔ نظام مصطفی کی عمل تصویر زندگی کہ ہر شعبہ میں اگر کوئی دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دعوت اسلامی کے نظام تربیت کو دیکھ لے۔

مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری میں امن و آشتی کا فروغ:

مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری کا تقابلی جائز لیں تو ہمیں بانی دعوت اسلامی کی سیر ت نگاری میں نمایاں پہلو جو دنیا کو اپنی جانب مبذول کرتا ہے وہ سیرت نگاری کے ذریعے امن وآتشی کا فروغ ہےجو معاصرین سیرت نگاروں میں خال خال نظر آتا ہے۔

مولانا الیاس قادری نے سیرت نگاری کےذریعے عفوودرگزر کی اہمیت پر خاص توجہ دی ،آپ نے باہمی محبت کے فروغ کےلئے دائمی کردار اپنا اور دوسروں کوبھی عفود درگزر پر مشتمل سیرت رسول کےواقعات بیان کرکے انہیں عمل کی عملی ترغیب دلائی ۔ سیرت نگاری کے ذریعے اپنی دینی تحریک میں باہمی رواداری ، عدم تشدد، اخلاقیات کاجامع نظام وضع کیا۔سیر ت رسو ل کےباب کو بیان کرتے ہوئے آپ نے فتح مکہ کے واقعہ کو خاص اہمیت دی لوگوں کو اپنے دینی جدوجہدمیں حائل مشکلات اور رکاوٹوں دور کرنے کےلئے اخلاق حسنہ اور دینی حکمت عملی اپنانے کےلئے مخالف دشمن کی ریشہ دانیوں اور فتنہ انگزیوں کے مقابلےمیں عفو ودرگزر اپنانے کا ذہن دیا۔

سیرت نگار جناب الیاس قادری نے باہمی امن ومحبت اور رواداری کو فروغ دینے کےلئے ایک مستقل کتابچہ عفو ودرگز ر پر لکھا اور اس رسالہ کی خاص بات یہ ہےکہ اس میں اپنی ذات کے حوالے ایک وصیت تحریر کی کہ اگر کوئی انہیں اذیت ،تکلیف یا جانی نقصان پہنچا ئے ، ان بدخواہوں سے کوئی الجھے گا نہیں ۔فتح مکہ کے موقع جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو عام معافی دی ،کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا بلکہ انہیں دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی شان عفو وکرم کے طفیل خاصی تعداد میں مشرکوں اور غیر مسلموں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔مولاناالیاس قادر ی نے بھی سیرت نگاری کےباب میں اپنے کریم آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے اسوہ حسنہ کو اپنا کر اپنے دینی دشمنوں پہلے ہی معاف کردیاار باہمی مذہبی رواداری کو فروغ دیا۔مولانا کے اس اسلوب تبلیغ سے دعوت کو بین الاقوامی سطح پر دین کا کام کرنے میں کبھی دشواری نہیں ہوئی بلکہ کامیابی کےایسے دروازے کھلے کہ غیر مسلموں کی بڑی تعداد دینی تحریک دعوت اسلامی کا حصہ بن گئی۔مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری کےذریعے دین کا کام عالمی سطح پھیلا ،غیر مسلموں کو سیرت رسول پڑھنے کا موقع ملا، کئی عیسائیوں اور پادریوں نے کلمہ حق پڑھا اور کلیسائیں مساجد میں تبدیل ہوئیں ۔مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری کےاسلوب نے دنیا میں اسلام کےنام روشن کئے اور تبلیغ دین کے بےشمار مواقع فراہم کئے۔رواداری کو فروغ ملا کئی فقہی اختلاف رکھنے والے دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پر یکجاہوئے اور دین کےمعاون بنیں۔

سیرت نگاری کےذریعے اسلام کے پیغام امن کی عالمگیر اشاعت:

بانی دعو ت اسلامی حضرت الیاس قادری نے سیرت نگاری کو صرف نظریاتی طور پر بیان نہیں کیا،امن وروادرای کا درس فقط الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کیابلکہ سیرت رسول پر عمل کی عملی جہتیں متعین کیں اور امن ورواداری کے پیغام کو دعوت اسلامی کے پلیٹ سے دنیا بھر میں پھیلانے کےلئے ٹھوس عملی اقدامات بھی کئے۔

حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرت کی بین الاقوامی تبلیغ کےلئے اپنے دینی پلیٹ فارم سے مدنی چینل کا اجرا کیا اور سیرت رسول کواحسن اور عمدہ جدید ذرائع تبلیغ کے ساتھ بیان کیا۔ اسوہ رسول کے مختلف عنوانات پر ایسے جاندار پروگرام نشر کئے جس سے ناظرین میں عمل کی رغبت پیدا ہوئی اور جب اس مدنی چینل کی عالمگیر افادیت بڑھی تو چار زبانوں یعنی عربی ، اردو ، بنگلہ اور انگلش میں پروگرامات کا تسلسل جاری کیا ۔

اکیسوی صدی کے سیرت نگار مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری کے امتیازات

دعوت اسلامی کے بانی حضرت مولانا الیاس قادری صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو وقت کےساتھ نمایاں ہوتے رہے۔اللہ تعالی جب اپنے کسی بندے سے کوئی بڑاکام لینا چاہتا ہے تو اس بندے کی فکرمیں وسعت ،دل میں کشادگی، آنکھوں میں بصیرت ، اخلاص اور تقوی کےساتھ لوح وقلم کی طاقت بھی عطا کردیتا ہےاور ساتھ کی بندےکی مقبولیت اورشہرت کےسامان بھی مہیا فرمادیتا ہے۔ مولانا الیاس قادری بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل ہیں جنہیں قدر ت کی طرف سے خدمت دین کا بیکراں جذبہ ، علم وعمل کی یگانگت اور قلم کی طاقت ، حسن بیان کی لطافت، اثرانگیزی کے کمالات، دلوں کی تسخیر کی قوت اور تقوی وطہارت کی دولت اور امت مسلمہ کے سب سے بڑے طبقہ اہلسنت وجماعت کی امامت کی سیادت اور دین کا کام بین الاقوامی سطح پر کرنے کےلئے اسباب مہیا کئے گے۔

مولانا الیاس قادر ی نے اپنی شخصی وجاہت اور عزت وشہرت کو کبھی اہمیت نہیں دی بلکہ ہمیشہ اپنے رب کے فضل وکرم پر شکر ادا کیا اور توکل علی اللہ کرکے دین کے کام کرنے پر کمر بستہ ہوئے۔

دعوت اسلامی کے دینی کاموں دنیا میں پھیلانے کا عزم کیا تو قلم کی طاقت میں محبت رسو ل کی مٹھاس ڈالی۔ اور سیرت رسو ل کو بیان کرنے میں سیرت نگاری کو نئی جہت سے ہمکنار کیا۔تاریخی واقعات کو بیان کرنے کی بجائے سیر ت رسول کو مکمل نظام حیات کے طور پر پیش کیا۔اور امن ورواداری ، باہمی محبت ، اخلاص ، اخلاقیات ، درگزر، معاملہ فہمی، تجارت، خاندانی نظام کی درستگی اور معاشرتی اصلاح میں سیرت رسول سے مثالیں پیش کیں۔محبت امن ، بھائی چارہ، اخوت، حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سے تعلق اور نسبت رکھنے والے کی محبت کے درس کو عام کیا۔سیرت نگاری کےذریعے افراد سازی ذہن سازی ،کردار سازی کی اور ایسے معاشرے کی تشکیل میں سیرت نبی سے بنیادیں فراہم کی جہاں صرف باہمی محبت ، امن ، دل جوئی خیر سگالی، امداد باہمی ،غریبوں کی کسمپرسی، یتیموں کی داد رسی، بیواؤں کا تحفظ اور علم دین سےمحروم طبقہ کی دینی رہنمائی کے وافر مواقع فروغ پاتے ہیں۔مولانا الیاس قادر ی سیرت نگاری کےذریعے اسلامی تعلیمات کی سفارت کاری میں کئی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔آپ کی مشہور زمانہ کتاب ’’فیضان سنت‘‘ سیرت رسو ل عربی کی عبادات واخلاقیات کا وہ حسین باب ہے جس کی روشنی سے ہزاروں جانیں منور ہوکر اخلاق محمدی کا پرتو بن چکی ہیں۔

عالمی سطح پر فروغ امن کا بین الاقوامی ادارہ :

سیرت نگار جناب حضرت الیاس قادری کے عشق ومحبت رسول سے لبریز افکار ونظریات کی ہمہ گیریت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہےکہ آپ نے سیرت نگاری کے ذریعے امن ورواداری اور باہمی محبت کے فروغ کے دینی مراکز قائم کئے۔ ان اداروں میں مختلف زبان ، لب ولہجہ اور علاقائی و بین الاقوامی کلچر رکھنے والے طلبہ سیرت رسول کا عملی سبق سیکھتے ہیں ۔ پھر ظاہر وباطن کی طہارت اور تربیت کرکے سیرت نبی پر عمل پیرا ہوکر معاشرتی سطح پراسلام کے مبلغ بنتے ہیں ۔فیضان مدینہ ، جامعۃ المدینہ، مدرسۃ المدینہ درحقیقت عملی طور پر سیرت نگاری کی درس گاہیں ہیں جہاں حسن اخلاق مصطفی نہ صرف سکھا یاجاتا ہے بلکہ عملی انداز میں اخلاق محمدیہ کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

عالمی سطح پر دعوت اسلامی کے تمام دینی ،تعلیمی ،فلاحی ادارے فروغ امن اور رواداری کے دینی مراکز ہیں جہاں صبح وشام سیرت نبی کی کانفرنس ، اجتماعات، محافل سیمینار کے عملی تقاضوں پر عمل کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔ الیاس قادری مبلغ اسلام نے معاصر سیرت نگاروں کےاسلوب سے ہٹ کر سیرت نگاری کو سنت رسول پر عمل کی تحریک کے ساتھ شروع کی ۔اور مغربی چیلنجز کےسامنے سیرت رسول کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کا رواج پروان چڑھایا ۔ حضرت الیاس صاحب نے کبھی ناقد کی پرواہ نہیں کی بلکہ اپنے مقصد کی طرف دھیان دیا ۔لوگوں میں اسوہ رسول کو متعارف کروانے میں کئے جتن کئے اور مقصدیت سےوفا کرکے اہل وفا بھی تیار کئے۔آپ کی اسلوب سیرت نگاری نے ایسی معرکہ آرائی کی کہ لوگ حیران ہے کہ اتنے مختصر سے وقت میں مولانا الیاس عطاری دنیا کے سامنے عالمی امن کا گہوارہ دینی وعلمی وروحانی مرکز فیضان مدینہ کے نام سے پیش کیا۔

خلاصہ کلام

حاصل کلام ہےکہ مولانا الیاس قادری کی سیرت نگاری کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں عملی زندگی کی رہنمائی کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ جس کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر مثبت دینی مزاج کو فروغ ملا۔ دعوت اسلامی کو احیائے سنت کی عالمگیر تحریک بننے کاشرف حاصل ہوا۔پھر جوں جوں اس تحریک نے عوامی سطح پر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا عاشقان رسول تیار کئے تو معاشرہ میں فروغ امن وآشتی کے جذبات دیکھنے کو ملے۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!