امام احمد رضا اور فکر رضا کا پس منظر
18ویں صدی میں برصغیر کے مسلمانوں کے عقائد ونظریات کےخلاف اسلام دشمن فکری اور علمی تحریکات کی سورشوں نے معاشرتی سطح پر اہل ایمان کے خرمن ایمان کو ناقابل تلافی نقصاں پہنچایا۔ فرقہ واریت اور مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرنے والے پس پردہ عوامل نے بہت سے لوگوں کو دین اسلام سے برگشتہ کیا۔عقائد اسلام میں بگاڑ پیدا کرنے کی ناپاک کوششیں کیں۔ عقیدہ توحید کی من مانی تشریحات سے الحاد وکفر کے دروازے کھولے اور پھر مسلمانوں کے ایمان کی جان ، روح اسلام ،جان ایمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا اور شان والا کی تنقیص میں مختلف قسم کے ہھتکنڈے استعمال کئے۔ کئی اہل علم ان کی مذموم سازشوں کا شکارہوکر خود بھی بدمذہبیت اور کفریہ عقائد کے پرچار بن گئے۔
فرقہ واریت اور اسلام دشمن نظریات کا تدارک:ان سازشوں کے نتیجے میں کئی کلمہ گو اسلامی نظریات سے ہاتھ دھوبیٹھے اور باطل کے کفری عقائد کی بھینٹ چڑھ کر دامن ایمان کھوبیٹھے۔ چنانچہ رب کریم کی عنایت خاصہ اور فضل عظیم سے مسلمانوں کی عقائد ونظریات کے تحفظ کےلئے سرزمین بریلوی سے امام احمد رضاخان (1272ھ - 1340ھ / 1856ء - 1921ء) نے قلمی جہاد کا آغاز کیااور دین کی حفاظت اور امت کی دینی رہنمائی کی ۔
امام احمد رضا کی علمی جدوجہد اور قلمی جہاد:مسلمانوں کے عقائد ونظریات کے تحفظ میں امام احمد رضا ایک مجدد اور مصلح امت بن کر مطلع علم وارشاد پر طلوع ہوئے اور آپ نے علمی وفکری خدمات کےذریعے عقائد باطلہ کی اشاعت میں سرگرداں سازشوں کا تدارک کرکے ان کا ایسا قلع قمع کیا کہ آج تک آپ کی علمی دھاگ باطل کےایوانوں بیٹھی ہوئی ہے۔ امام احمد رضا کی فکر ی تحریک کاتعارف
فکر رضا کی بنیاد اور علمی خصوصیات:امام احمد رضا کی فکردر اصل اس علمی وفکری تحریک کا نام ہے جس کے ذریعے اہل سنت کےعقائد ونظریات، افکار وخیالات اور معمولات اہلسنت کو تحفظ ملا۔آپ کی فکری تحریک کا نقطہ کمال اور مرکز ومحور رب کائنات کی ذات والا ، اللہ کے آخری نبی رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رسالت و تعظیم وتکریم ، عظمت صحابہ، محبت اہل بیت ، اولیائے امت کی عقیدت ومحبت ،شریعت وطریقت کی حفا ظت اور پاسداری ہے۔
قرآن و سنت اور عشق رسول:فکر رضا وہ علمی منہج اور پلیٹ فارم ہے جس کی بنیاد میں قرآن و سنت پر غیر متزلزل یقین ، عشقِ رسول و تعظیم وتکریم واد ب رسالت ختم المرسلین اور فقہ حنفی کی آفاقیت کا پرچار ہے۔ فکر رضا بدعات وخرافات اور بدمذہیب و عقائد فاسدہ کے سد باب میں وہ مضبوط ڈھال ہے جس کی پرچھائیوں میں ایمان کی حفاظت یقینی ہوتی ہے۔آپ کی فکر نے شریعت اسلامیہ کےچار بنیادی ماخذ کی روشنی میں باطل کی بیخ کنی اس اندازمیں کی کہ آج بھی علمی میدانوں میں امام احمد رضا کی فکر کا سکہ رائج اور قابل عمل ہے۔
اہل سنت کے عقائد کی ترویج: آپ نے اہلسنت والجماعت کےعقائد ونظریات کی ترجمانی کرکے آنے والی نسل اور اہل علم حضرات کےلئے علمی ورثہ مشعل راہ کےطور پر چھوڑا اور آئندہ آنے والی مسلم شخصیات کےلئے آپ کی علی نگارشات تحصیل علم کے بنیاد ماخذ میں شامل ہوں گیں۔آپ کی فکری خصوصیات آنے والی نسلوں کو عقائداہلسنت کی حفاظت، نت نئےفتنوں کے علمی رد،شریعت و طریقت کے حسن امتزاج کے بیان اور دین اسلام کو ہر دور کے انسان کے لئے قابلِ عمل بنانے ممدو معاون ثابت ہوں گی۔ فکر رضا کی آبیاری میں امیر اہلسنت کا تعارف
فکررضا کے داعی :مولانا الیاس قادری نےموجودہ صدی میں اہلسنت وجماعت کے اکابر علما کی صف میں فکر رضا کو اپنے ہمہ گیر نظام اصلاح کی اساس قراردیکر دنیامیں فکر رضاکے سب سے بڑے داعی بنے۔ امیر اہلسنت کی عملی تعبیر:مولانا الیاس قادری صاحب نے فکر رضا کی روشنی میں قرآن وسنت کی اساس اور عشق رسول کی مٹھاس پر اپنی دینی تحریک کی بنیاد رکھی اور تعلیمات رضا کی ضیا میں عوام الناس کے عقائد ونظریات کی حفاظت کی گرانقدر ذمہ دار ی اداکی۔
دعوت اسلامی میں فکر رضا کی آبیاری:جس طرح امام احمد رضا نے دین کی حقانیت پر اٹھنے والے اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے اور قلمی جہاد سے عقائداہلسنت کا تحفظ کیا اور اسی فکر رضا کو بنیاد بنا کر عاشق رضا مولا نا الیاس قادری نے میدان عمل میں قلمی ،علمی اور عملی جہاد کےذریعے عوام اہلسنت کے عقائد کی حفاظت اور سنت نبوی پر عمل کا عظیم پلیٹ فارم مہیا کیا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں امیر اہلسنت فکر رضا کی عملی تعبیر پیش کرنے میں علمائے معاصر سے سبقت لے گئے ۔ فکر رضا کا ترجمان دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم 200 ممالک میں امام احمد رضا کی تعلیمات کا وہ حقیقی نمائندہ بن کرعشق مصطفی کی سوغات فکر رضا کی روشنی میں تقسیم کررہا ہے ۔ فکر رضا سے امیر اہلسنت کی پہچان :
امیر اہلسنت کی فکری اسا س میں امام احمد رضا کے عشق ومحبت رسول سے لبریز کلا م نے تاثیری کردار ادا کیا۔پھر کتب مطالعہ کے شوق نے امیر اہلسنت کو اعلی حضرت کی کتابوں کے پڑھنے کی مہمیز لگائی ۔ ذوق مطالعہ سے قلم رضا کی بہاریں فکر امیر اہلسنت میں جڑ پکڑ تی گئیں،عشق کےنرالے انداز جب کسی میں اپنا رنگ چڑھاتے ہیں تو خود بخود ممدوح کی تعریف میں الفاظ دل سے نکلتے ہیں یہ ہی حال امام احمد رضا کی شخصیت کےمطالعہ کےبعد امیر اہلسنت کا نظر آتا ہے ۔آپ نے امام احمد رضا کو پڑھا اور دل کھول کر پڑھا،پھر اپنی محبت کا اظہار ’’تذکرہ امام احمد رضا‘‘ کےنام سے رسالہ لکھ کیا اور پھر اپنی دینی تحریک میں فکر رضا سے اپنی پہچان کراکر فکر رضا کو ہر معاملہ میں حرف آخر بنایا۔ آپ کی دعوت ، آپ کی تبلیغ، آپ کی تعلیمات،آپ کی فکر، خیال، تصور اور علمی وعملی ورثہ میں امام احمد رضا کا تعلیمات کا نچوڑ نظر آتاہے۔آپ نے دنیا کو برملا باور کردیا کہ احیائے سنت کی تحریک کی فکر ی بنیاد میں فکر رضا ہی اساس ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آپ اپنے بیان، تحریر ، بات، مدنی مذاکرہ اور اجتماعات میں امام احمد رضا کا نام بڑے ہی شایان شان طریقے سےلیتے ہیں۔ فکر رضا سے امیر اہلسنت کی فکر کا گہرا تعلق
امام احمدرضاخان صاحب نے جس طرح امت کے عقائد کے بگاڑ کے وقت امت کی عقیدت ومحبت کو درست انداز فکر دیا اور اسلامی عقائد کی محققانہ انداز میں تشریح کرکے امت پر عقائد اسلام کے تحفظ کا احسان کیا ۔من وعن امیر اہلسنت نے فکر رضا کی فیض سے اپنی فکر کو مستفید کیا اور عوام اہلسنت کےعقائد کی درستگی میں اسلوب امام احمد رضا کوہی منہج بنایا۔ دین سکھانے میں امام احمد رضا کےانداز بیان کو مطمع نظر بناکرمسلمانوں کے دلوں میں آسان انداز میں دین کی اہمیت دلوں میں جگائی۔ عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم امام احمد رضا کا طرہ امیتاز ہے اور آج بھی آپ کےعشق ومحبت سے لبریز کلام’’حدائق بخشش‘‘ کو اظہار عشق مصطفی میں دلیل کےطور پر پیش کیاجاتا ہے۔یہ ہی انداز عشق ہمیں امیر اہلسنت کی فکر میں نظر آتا ہے آپ بھی اپنے روحانی شیخ کے نقش قدم کر حضرراہ بناکر دہلیز مصطفی پر اپنے عشق کااظہار نعتیہ کلام’’وسائل بخشش‘‘ سے کرتے ہیں۔جس طرح فکر رضا میں القابات مصطفی کی شان میں قلم رضا کی لطافتیں نظرآتی ہیں کچھ یہ انداز امیر اہلسنت کا قلم عشق مصطفی کے باب میں اپنی بیقراریوں کا اظہاکرتا ہوا نظر آتا ہے۔درحقیقت قرآن وسنت کی تعبیر میں ،ارشادات رسول کے بیان میں ،اسوہ رسول کی اتباع واطاعت میں ،فقہ حنفی سے وابستگی میں اور شریعت وطریقت کی راہ کے تعین میں امیر اہلسنت نے فکر رضا کو ہی اپنے ہمہ گیر نظام تبلیغ کا اولین سبق مقرر کیااور آپ نے تمام ادارتی خدامات میں فکر رضا کی پرچار کو اولین ترجیح قرار دی۔ دعوت اسلامی فکررضا کی عملی آبیاری
عالمی سطح پر دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم:فکر رضا کی روشنی میں اگر امیری اہلسنت کی شخصیت کا مطالعہ کریں تو آپ کی ذات تعلیمات رضا کا مکمل آئینہ دار معلوم ہوتی ہے۔آپ کی فکری وعملی جدوجہد میں فکر رضا کا فیض ٹھٹھامارتا ہو انظر آتا ہے ۔فکر رضا کے تناظر میں امیر اہلسنت کی سب بڑی خدمت آپ کے عالمی مدنی مرکز کے تعلیمی ،تحقیق ، ثقافتی، تنظیمی اداروں کا انتظامی ڈھانچہ ہے۔
آپ نے نظام تعلیم میں فکر رضا کو فوقیت دی اور جو تشریح عقائد اہلسنت کے حوالے سے امام احمد رضا نے کی اسے اپنے نظام تعلیم کی بنیاد میں شامل کیا اور کبھی امام احمد رضا کی دینی تشریحات سے سرمو بھی انحراف نہیں کیا۔ بلکہ جو بھی فکر رضا سےہٹ کر کوئی دوسری رائے پیش کرتااس کو قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے ۔
عشق رسول آپ کی تعلیمات کا مرکزی نقطہ ہے اور اسی عشق رسول کےتقاضوں کو پورا کرنے کےلئے اپنے تمام ادارتی خدما ت میں اسوہ رسول کو اپنا نےکےلئے انتظامی اصول مرتب کئے۔
روحانی سلسلہ میں امام احمد رضا کے منہج تصوف وطریقت کو ہی اپنا یا اور سلسلہ قادریہ کےجو وظائف امام احمد رضا نے ترتیب دیئے انہی کو راہ سلوک کےاسباق مقرر کئے۔ عوام الناس کی فکری تربیت میں امیر اہلسنت نے فکر رضا کوہی ترجیح دی بلکہ آپ کے کئی بیانات اور مدنی مذاکرے کی علمی نشستیں اس بات کاثبوت ہیں کہ آپ علی الاعلان فکر رضا کی ہر معاملہ میں اہمیت دی اور اس پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں کیا۔
معاشرتی، دینی اور علمی خدمات:دعو ت اسلامی کا تحقیقی علمی شعبہ المدینۃ العلمیہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی تاسیسی بنیادوں میں فکر رضا کی ترویج واشاعت کو اولین درجہ میں رکھا اور باقاعدہ فکر رضا کی آبیاری کےلئے ایک شعبہ کتب اعلیحضرت کے نام سے قائم کیا۔جس کا بنیادی مقصد اعلیحضرت کی کتابوں اور رسائل کو مروجہ انداز میں آسان کرکے قارئین اور ذوق مطالعہ وشوق کتب رکھنے والوں کو پیش کرنا ہے۔
امیر اہلسنت نےدعو ت اسلامی کے منج پر فکر رضا کی آبیاری میں جس طرح عملی کوششیں کیں۔ آپ کے علمی ورثہ اور نظریہ کی دنیا میں پھیلایا۔بارہا مدنی مذاکروں اور بیانات میں فکر رضا پر مضبوطی کے ساتھ گامزن رہنے کا اعادہ کیا اور اپنے تمام متبعین کو تعلیمات رضا کےہی مطابق عملی زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ دعوت اسلامی کےتمام شعبہ جات میں امیر اہلسنت نے فکر رضا کو عملی اعتبار سے نافذ کیااور ہر فرد کو جو ادارتی خدمات سرانجام دے رہا ہو یا تبلیغی زندگی گزاررہاہو وہ فکر رضا کا ہی امین بن کر دعوت اسلامی کے دینی کاموں کو دعوت اسلامی کےاسلوب ارشادکےساتھ پائے تکمیل کو پہنچانے کا اہل ہوگا۔
دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں فکری رضا کی عملی اشاعت کا سب سے بڑا ایونٹ ماہ صفر میں عرس اعلی حضرت کی شایان شان تقریبات کا اہتمام اور آپ کے علمی کارناموں سے دنیا کو آشنا کرنا امیر اہلسنت کی فکر رضا کی آبیاری کی سب سے بڑی مثال ہے۔ دورہ حاضر کے دینی ومعاشی چیلنجز کا فکر رضا سے مقابلہ
عقائد اہلسنت کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات:امیر اہلسنت حضرت الیاس قادری صاحب نے شروع دن سےہی تعلیمات رضا کو ہر مسئلہ کے حل میں پیش کرنے میں کبھی پس وپیش سے کام نہیں لیا۔آپ نےاکیسویں صدی کےباطل نظریات کے توڑ میں امام احمد رضا کی فکر کو پیش کیا اور مذہبی منافرت کو تعلیمات سے دور کیا۔آپ نے بے دینی ،لبرل ازم، الحاد ، عقیدہ توحیدکے منافی نظریات اور عقیدہ ختم نبوت اورشان رسالت ، عظمت صحابہ واہلبیت اطہار کی عظمت میں شان اور دیگر عقائد اہلسنت و معمولات اہلسنت کی حقیقی تعبیر میں امام احمد رضا کے رشحات قلم سے نکلی ہوئی ایک نیاب تحریر’’ دس عقیدے‘‘ کو منظر عام پر لائے۔
مغربی تہذیب، الحاد، اور سودی نظام کے خلاف علمی موقف:اما م احمد رضا کی فکر کے مطابق آپ نے مغربی تہذیب کےدلداہ نوجوان کی فکری تربیت کےلئے فروغ عشق رسول کو امام احمد رضا کی تعلیمات کے مطابق پیش کیا۔نوجوانوں کے دلوں میں محبت رسول کےساز جگائے انہیں اسوہ رسول کا دلدادہ کیا۔آپ نے جدید معاشی نظام اور سودی نظام کےخلاف اعلی حضرت کی علمی کاوشوں کو منظر عام پر لائے ۔دور جدید کی معاشی ترقی کے خام خیال دعوؤں اور سودی نظام کی تباہ کاریوں سے امت کو بچانے کےلئے کرنسی نوٹ سے متعلق اعلی حضرت کی فکر کو پیش کیا۔
فتاوی رضویہ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ترویج:امت کی ہر معاملہ میں دینی رہنمائی کےلئے اعلی حضرت کے فرمودات اور علمی نگارشات کو دلیل قرار دیا۔خاص کر فتاوی رضویہ جو اسلامی علوم کا انسائیکلوپیڈیا ہے اس کی تشہیر اور انٹرنیشنل لیول پر پروموشن کےلئے جدید آئی ٹی کی خدمات حاصل کی اور علماو طلبہ کےلئے فتاوی ضوریہ موبائلی کیشن پیش کی۔
امام احمد رضا کی نادر الکلام شاعری کو اسلوب تبلیغ میں شامل کرکےدنیا میں مشہور کرنا بھی امیر اہلسنت کا اپنے روحانی شیخ کی بارگاہ میں اپنی عقیدت ومحبت کے اظہار کا ایک نرالہ انداز ہے۔ مولانا الیاس قادری درحقیقت فکر رضا کی پہچان بن کر دنیا میں دین کا کام کررہے ہیں اور امام احمد رضا کےاسلوب پر اپنی دینی تحریک کے ذریعے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت دلوں میں تقسیم کررہے ہیں۔
راہروان تصوف کی اصلاح اور شریعت وطریقت کو جدا راہیں قراردینے والوں کو راہ حق دکھلانے کےلئے آپ نے فکر رضا ہی کو پیش کیا اور آپ کا ایک نادر رسالہ"شریعت وطریقت" کے نام سے شائع کروایا اور راہ سلو ک کے مسافروں کو شریعت کی لگا دی اور تصوف کے جہلائے امت کی اصلاح کرکے درست راہ دکھلائی ۔
مولانا الیاس کی فکر کے ترجمان دینی وسماجی ادارے :امیر اہلسنت نے صرف کتابوں کی اشاعت کو فکر رضا سے تعبیر نہیں کیا بلکہ عملی میدان میں فکر رضا کی حقیقی نمائندگی کی اور دنیا میں آج جہاں بھی سلام رضا کے گن گائے جاتے ہیں وہاں دعوت اسلامی کی پرچھایاں اپنے جوپن پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔جامعات المدینہ انٹر نیشنل سطح پر فکر رضا کی عالمی سطح پر پزیرائی کرنے میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے ۔مشرقی وسطی، خلیجی ممالک ، یورپ ،امریکہ، شمالی افریقہ، شمالی کوریا ،،وسطی ایشیا ہر جگہ تعلیمات رضا کی تشہیر کے بے مثال ادارے دعوت اسلامی کی دینی پلیٹ فارم سے فکر رضا کی آبیاری میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں۔درحقیقت امام احمد رضا کی علمی وفکری خدمات کےامین بن کر امیر اہلسنت نے جو دینی وسماجی خدمات میں دینی ،علمی ،سماجی، فلاحی، تعلیمی اوررفاحی ،خیرخواہی کےکام سرانجام دیئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور صبح قیامت تک آپ کی احیائے دین کی تحریک ستون اور میناروں سے فکر رضا کی پرچار ہوتی رہے گی۔ حرف آخر:
فکر رضا اور دعوت اسلامی کی اہمیت:دعوت اسلامی فکر رضا کے تسلسل اوراستحکام کا دوسرا نام ہے ۔یہ وہ تحریک ہے جو مولانا الیاس قادری کی فکر کی ترجمان اور فکر رضا کی عملی تعبیر ہے۔دنیا میں دعوت اسلامی نے فکر رضا کو ایک منظم ادارہ کے طور پر پیش کیا۔ اما م احمدرضا کی فکری بنیادوں پر قائم دعوت اسلامی کی خوبصورت عمارت دنیا کے 180سے زائد ممالک میں عقائد اہلسنت کے تحفظ، عشق رسول کے فروغ ، سنت نبوی کی عملی تبلیغ،، بدعات وخرفات کے تدارک ، نوجوانان ملت کی ذہنی وفکر تربیت، بچوں کی اخلاقی تربیت، علوم اسلامیہ کو اشاعت میں فکر رضا کی علامت کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔
مولانا الیاس قادری کی عملی جدوجہد:عصرحاضر میں فکر رضا کو عملی اعتبار سے دنیا کے ہر مسلمان تک پہنچانے میں مولانا الیاس قادری کی دینی تحریک دعوت اسلامی کلیدی کردار ادا کررہی ہے ۔ آج دنیا میں پھیلے امیر اہلسنت کے دینی اثرات اور عملی اقدامات سے قائم فیضان مدینہ ، جامعات المدینہ، مدارس المدینہ، دار المدینہ اسلامک اسکولنگ سسٹم ،مساجد ، مکاتب، سوشل میڈیا کے جملہ ذرائع سب کچھ فکر رضا کی روشنی کے مینار ہیں جہاں سے امت کو اصلاح کا راستہ دکھلایا جاتا ہے۔
امت کی اصلاح اور نوجوان نسل کی تربیت:امیر اہلسنت درحقیقت اپنی عملی زندگی اور دعوت اسلامی کےقیام سے اب تک فکر رضا کو نوجوان نسل اور آنے والی جنریشن تک پھیلانے کی عملی کوششیں کررہے ہیں۔آپ نے فکر رضا کی روشنی میں امت کی اصلاح کاجو بیڑا 44سال پہلے اٹھایاتھا آج اس کے ثمرات روز افزوں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔بلاشبہ مولانا الیاس قادری نے فکری رضا کے چشمے سے امت کو سیراب کرنے کی عظیم خدمت سرانجام دے رہے ہیں ۔اللہ تعالی آپ کو عمر درازبالخیر عطافرمائےاور آپ کی دینی تحریک کے اثرات دنیاکے ہر مسلمان اور غیر مسلم کو ہدایت اسلام قبول کرنے میں نظر آئیں۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!