عصر حاضر میں فہم حدیث کےفروغ میں مولانا الیاس قادری کی خدمت

یہ مضمون عصر حاضر میں فہم حدیث اور احیائے سنت کے فروغ کے لیے مولانا الیاس قادری کی عظیم دینی خدمات کا مفصل جائزہ پیش کرتا ہے۔ جدید دور کے فکری چیلنجز، الحاد، مادیت اور تہذیبی یلغار کے مقابلے میں آپ نے قرآن و حدیث کی بالادستی کو مضبوط بنانے، عشق رسول کی شمع روشن کرنے اور سنتوں کی عملی تربیت کے لیے مؤثر نظام قائم کیا۔ منظم دینی تحریک دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ، سادہ انداز بیان، تربیتی نظام اور اشاعت حدیث کے ذریعے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں اسلامی تبدیلی پیدا ہوئی۔

January 15, 2026

دور ِ جدید میں سائنسی ایجادات، ٹیکنولوجی کی ہوش ربا ترقی ،مادی وسائل کی فراوانی نے جہاں انسان کی زندگی میں آسانیاں پیداکیں۔ ذرائع ابلاغ نے دوری کے فاصلے مٹادیئے۔لمبی مسافتیں گھڑیوں میں طے ہونے لگیں۔ وہیں انسانی اقدار کی اعلی مثالیں دم توڑ تی ہوئیں نظر آئیں۔شخصی زندگی سے معاشرتی حیات میں خیرسگالی کےجذبات کی بجائے ذاتی مفادات نے جگہ پکڑی اور انسان اخلاقی لحاظ سے زوال پزیر ہوا۔اخلاقی زوال کے ساتھ دور جدید نے مذہبی زندگی کو بھی بہت حد تک متاثر کیا۔اور دین اسلام کے خلاف ایک ناپاک سازش شروع ہوئی۔ ایسے فتنہ پیداہوئے جنہوں نے براہ راست فہم قرآن اور فہم حدیث پر رکیک حملے کئے۔کبھی قرآن کے بارے شکوک وشبہات میں پھیلائے تو کبھی حدیث کی حجیت اور اس کی تشریعی حیثیت پر حرف گیری کی۔تہذیبی یلغار کےاس دور پرفتن میں جہاں مادیت پرستی نے انسان کی زندگی کو مشینی بنادیا ہے وہیں مذہب ِ انسانیت کے امتیازات اور اسلام کی روشن تعلیمات جس سے انسان کو شرف وعزت ملی بہت بری طرح متاثر ہوئی۔ ان حالات میں قرآن وسنت کی بالادستی ، دین اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن وحدیث کی حفاظت اور ان کی عالمگیر حیثیت کو قلمی واصلاحی جہاد کے ذریعے منوانے کی ضرورت کو پہلے سے زیادہ محسوس کیا جارہاتھا ۔اگرچہ علمائے حق نے اس پر بڑا علمی کام کیااور ہر فتنہ کا منھ توڑ جواب دیا ۔لیکن باطل کی قلمی وعلمی فتنہ انگزیوں کے مقابلے میں ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت تھی جہاں قرآن کےبعد حدیث کی عملی خدت اور احیائے سنت کےلئے بین الاقوامی سطح پر کام کیاجائے۔اس پلیٹ فارم سے حدیث کے فروغ میں کتابیں بھی لکھیں جائیں۔،علمی مذاکرے بھی ہوں اور حدیث وسنت کےاطلاقی پہلو پر بھی عمل کیاجائے۔ چنانچہ پندرہویں صدی ہجری کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل کے حالات کے تناظر میں جس شخصیت نے حجت حدیث اور فہم حدیث کےفروغ کےلئے انٹرنیشنل لیول پر قلمی ، علمی ،عملی اور اصلاحی جہاد کیا وہ حضرت الیاس قادری کی ذات ہے ۔جنہوں ذہنی وفکری انتشار کےدور جہالت میں قرآن وسنت کی بنیاد پر عالمگیر دینی واصلاحی تحریک کا آغاز کیا۔ مذہبی انتشار پھیلانے والوں کے باطل نظریات کی بیخ کنی کی۔ اور لاکھوں زندگیوں میں تہذیب مغرب کے مقابلے میں اسلامی انقلاب برپاکیا۔ فہم حدیث کو عام کرنے اورخدمت حدیث کے لئے ایک مضبوط منظم علمی تحریک کی بنیاد رکھی ۔ حالات اور وقت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئےمولانا الیاس قادر ی نے خدمت حدیث کی گرانقدر مثالیں قائم کیں۔ اور سنت رسول کے عملی پہلو ؤں کومعاشرے میں اجاگر کیا۔مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسول کی شمع فروزاں کی اور سنت نبوی پر عمل کرنے کا عملی اور قابل تقلید منہج فراہم کیا۔

فہم حدیث کی ضرورت واہمیت :

قرآ ن سرچشمہ علم او رمکمل ضابطہ حیات ہے اور دین اسلام کو سمجھنے اور شریعت اسلامیہ سے واقفیت کےلئے قرآن کی حیثیت کلید ی اوربنیادی ہے ۔یہ وہ ماخذ اول ہے جس پر باقی عمرات تعمیر ہوتی ہے۔قرآن کے بعد شریعت اسلامیہ کا دوسرابنیادی ماخذ حدیث رسول ہےجو قرآن کی اجمالی باتوں کی تفسیر بیان کرتا ہے،احکام قرآن کی وضاحت کرتا ہے۔دین کے جملہ احکامات ، ارکان اسلام ،،اسلامی عقائدو نظریات، اخلاقیات معاشرات، معاشرتی آداب ، نظام حیات کے ہر شعبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، تقریرات پر مشتمل احادیث وسنن کو سمجھنا اور ان پرعمل کرنا ازحدضروری ہیں ۔ اسیلئےخود اللہ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کو اپنی اتباع واطاعت کےبعد لازم قراردیا ہے اور حکم رسول کو دل وجان سے تسلیم کرنے اور عمل کرنے حکم بھی جاری کیا ہے۔حدیث کی حجت اور اہمیت پر قرآن کی بےشمار آیات نازل ہوئیں اور دلائل وبراہین کی کثرت بھی ہےاور علمائے ربانین نے اس پر بہت کچھ لکھا بھی ہے ۔سردست فہم حدیث کی ضرورت اور اہمیت کے سمجھنے اور اس کے پیش منظر میں مولانا الیاس قادری کے ہمہ جہت علمی وعملی اطلاقات پر کلام مقصود ہے ۔

فہم حدیث کےفروغ کےلئے جامع حکمت عملی :

فکری گمراہی، الحاد ،لادینت، مغربی تہذیب وتمدن کی چمک دمک، گمراہ کن علمائے سوء کے باطل نظریات اور فرقہ واریت کے عفریت امت مسلمہ کےتشخص کو مٹانے کی ناپاک سازش میں مصروف مسلم معاشرہ کو کھوکھلا کررہے ہیں ۔اس نظریاتی وفکری بے راہ روی میں فہم حدیث کےلئے حضر ت الیاس قادری نے جو جامع حکمت عملی بنائی اور خدمت حدیث میں چار اہم پہلوؤں پر علمی کام کیا۔

نظریاتی وفکری استحکام کےلئے جدوجہد:

حضرت الیاس قادری صاحب نے نوجوان نسل کے اذہان میں جنم لینے والے شکوک وشبہات کو دور کرنے کےلئے اسلامی عقائد ونظریات کی تعلیم عام کی ۔ اسلامی عقائد کو مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کیا۔ سنت رسول پر عمل کرنے پر زور دیا، فکری استحکام کےلئے احادیث رسول پر عمل کے نظام کو مستحکم کیا۔

اخلاقی تربیت کا نظام:

مولانا الیاس قادری نے خاندانی نظام اور اخلاقی اقدار کو متاثر کرنے والی مغریبی تہذیب کے مقابلے میں سنت رسول سے اخلاق حسنہ کا ایک مکمل نمونہ پیش کیا۔آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے اقوال وافعال پر عمل پیرا ہونے کےلئے انفرادی واجتماعی سطح پر سنتوں کی تبلیغ کی اور نوجوان نسل میں حدیث رسول کی اہمیت اجاگر کی۔

فرقہ واریت سےکنارہ کشی:

مسلم معاشرہ کو اسلامی اقدار سے جوڑنے کےلئے مولانا الیاس قادری نے فہم حدیث کےلئے عملی اقدامات کئے ،قرآن وسنت کی بنیاد پر دینی تحریک کا آغاز کیا اور اشاعت حدیث میں اعتدال اور علمائے حق کے منہج کی پیروی کرنے کی تلقین کی ،فکر رضا کا پرچار کیا ،مذہبی تعصبات کی بجائے سنت رسول پر عمل کے رجحان کو فروغ دیا اور فروعی اختلافات سے بچاتے ہوئے اپنے نظام تربیت مین مستند احادیث پر عمل کو لازم قرار دیا ۔

عملی زندگی کے ہر شعبہ میں سنت رسول سے رہنمائی:

فہم حدیث کےفروغ اور خدمت حدیث کی جدوجہد میں مولانا الیاس قادری نے زندگی کو مکمل طور پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کا نظام متعارف کیا۔ملازمت ، کاروبار، سماجی تعلقات، روزمرہ کےمعاملات، زندگی کے شب وروز، عائلی وخاندانی نظام زندگی، جلوت وخلوت، سونے جاگنے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے ملنے ملانے، سلام وکلام، نشست وبرخاست، گفت وشنید ،عبادات ومعاملات، سفروحضر گویا ہر شعبہ حیات میں فہم حدیث کو اہمیت دی اور لوگوں کےلئے حدیث رسو ل کے مطابق زندگی گزارنے کا عملی میدان بنایا اور نظام تربیت فراہم کیا اور ایک ایساماحول وجود میں آیاجس میں فہم حدیث کی سوچ پروان چڑھی اور عمل کی صورت آسان بنی۔

خدمتِ حدیث میں مولانا الیاس قادری کا اصلاحی کارنامہ

حضرت الیاس قادری کی جہاندیدہ شخصیت اور علمی کمالات نے احیائے سنت کےنظام میں ایسے تجدیدی کارنامے سرانجام دیئے کہ عقل حیران ہے کس طرح فیشن پرست فیشن پرستی کو چھوڑ کر مولانا کی دعوت پر سنت رسول پر عمل کرتا ہوانظر آتاہے ۔یوں لگتاہےکہ جیسے مولانا الیاس کی زبان پر کشش ثقل رکھ دی گئی اور جس کو اپنی زبان حق ترجمان سے دین کی دعوت دیتے وہ کشاں کشاں دوڑے چلا آتااور پیکر سنت رسول بن کر دین کی تبلیغ کے سفر پر روانہ ہوجاتا ۔

احیائے سنت کی عملی تدابیرمیں مولانا الیاس قادری نے دعوت اسلامی کے منج سے خدمت حدیث کا ایسا جامع اور موثر پیش کیا کہ بڑے بڑے اکابر علمائے حق داد وتحسین دیئے بغیر نہ رہ سکے ۔ مولانا الیاس کی اشاعت حدیث اور احیائے سنت رسول کی خدمت پر دنیا بھر کے علمانے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اورتہذیب حاضر کی فنتہ انگزیوں کے مقابلے میں مولنا الیاس قادری کی دینی جدوجہد کو سلام عقیدت ومحبت پیش کیا۔

حضرت الیا س قادری نے فہم حدیث کے فروغ میں خدمت حدیث کی قابل تقلید مثال پیش کی ۔انتہائی سادہ مزاج ، سادہ انداز،عام فہم اورقابل عمل پہلوؤں کےساتھ حدیث رسول کو عام کرن میں اصلاحی منہج کو اپنایا اور حدیث رسول کی ترویج میں گرانقدر خدمت سرانجام دی جس کی چند نمایاں اسلوب سپرد قلم کئے جارہے ہیں:

  • آقاکریم علیہ الصلاۃ والتسلیم سے والہانہ عقید ت محبت کا فروغ:

    خدمت حدیث میں مولانا الیاس قادری کے اصلاحی منہج اور اسلوب کی بنیاد محبت رسول ہے،آپ کی سوچ وفکر مکین گنبد خضرا کی محبت سےشروع ہوتی ہے اور خاک مدینہ پر قربان ہوجانے کی خواہش پر ختم ہوتی ہے ۔نس نس میں عشق رسول کا طوفان مچاہواہے،بات بات میں قا ل قال رسول اللہ کی صدائیں ہیں اپنے جذبہ عشق رسو ل کو دلوں میں اجاگر کرتے ہیں نظر کے جام پیلاتے ہیں اپنی اداؤں سے عشق رسول کی شمع جلاتے ہیں۔مولانا الیاس قادری کے جذبہ عشق رسول نے احیائے سنت رسول کی تحریک کی بنیاد رکھی ۔

  • سنت رسول کی عملی اشاعت

    خدمت حدیث میں دوسرا اصلاحی پہلو جو مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کی مقبولیت میں نظر آتا ہے وہ سنت رسول کی عملی اشاعت ہے ۔آپ نے معاشرے کو صرف نظام تربیت نہیں دیاکہ بلکہ پہلے اپنے وجود کو سنت رسول کے سانچہ میں ڈھالا پھر ایک عملی کردار کے ذریعے لوگوں کو سنت رسول پر عمل کی دعوت دی یوں آپ کی تحریک سے احیائے سنت کا ماحول بناجس کے اثرات دنیا کے کونے کونے تک پہنچے۔

  • سادہ انداز بیان:

    خدمت حدیث میں مولانا الیاس قادری نے جس اسلوب کو اپنایا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ آنے والے اہل قلم حضرات اور منبر ومحبراب سے تعلق رکھنے والے ائمہ وخطبا کےلئے قابل تقلید بھی ہے۔مشکل الفاظ،علمی مسائل کی پیچیدگیاں، دلائل سے بھر پور گفتگو سے کنارہ کشی اختیار کرتےہوئے عام فہم انداز بیان کےساتھ لوگوں سے خطاب کرتے،بہت ہی سادہ اور سمجھ میں آنے والے اسلوب کےساتھ بات کرتے ہیں ،گفتگو سے زیادہ اشارہ کےساتھ عمل کی ترغیب دلاتے۔احادیث کےبیان میں عقل میں آنے والی مثالیں دیتے تاکہ سننے والے کی دل میں بات پیوست ہوجائے۔

  • سنت کی تربیت کا عملی نظام:

    مولانا الیاس قادری نے سنتوں پر عمل کرنے اور اصلاحِ نفس کے لیے ایک منظم اور مؤثر نظام وضع کیا ہے، جس میں درج ذیل اہم اجزاء شامل ہیں:

    مولانا الیاس قادری نے خدمت حدیث میں جس منہج کو سب سے زیادہ فوقیت دی وہ آپ کا نظام تربیت ہے،ایک منظم مرتب مر بوط نظام بنایا۔ زندگی معمولات کو سنت کے مطابق ادا کرنے کےلئے اعمال کا جائزہ مرتب کیا۔صبح وشام اسوہ رسول کے مطابق گزارنےکےلئےفاروق اعظم کی سنت کے مطابق محاسبہ کےنظام ترتیب دیا۔ عملی طریقہ وضع کیا اور اجتماعات کےبعد انفرادی اور اجتماعی صورتوں میں سنت رسول ادا کرنے کی عملی تربیت دلائی،نظام مصطفی اپنی تحریک میں نافذ کیااور دنیاکو عملی نظام مصطفی کی بنیاد فراہم کی۔

خدمت حدیث کی منہج میں مولانا الیاس کے اسلو ب کی خصوصیات:

  • سادہ عام فہم:معاصر علما کے مقابلہ میں سادہ عام فہم اور قابل عمل ان کا منہج عام لوگوں کے لیے آسانی سے قابلِ فہم ہے۔

  • عملی پہلو: روایت حدیث میں مولانا الیاس قادری کا اسلوب روایتی نہیں بلکہ اطلاقی یعنی عملی ہے ۔صرف باتوں تک یا بیان تک محدود نہیں بلکہ پریکٹیکل سنت کی ترویج کا نظام ہے۔

  • معتدل ومتوازن :بیان حدیث اور خدمت حدیث میں معتدل اور متوازن ہے ایسا پہلو جس سے ظاہر وباطن کی اصلاح ہو ۔

  • اثر انگیزوفکر انگیز: خدمت حدیث میں مولانا الیاس قادری کے منہج کی سب سےبڑی خصوصیت اثر پزیر ی ہے جس کو بھی حدیث سناتے دل میں بات خود بخود اترجاتی اور فکر انگیزی ایسی کہ سنت رسول پر عمل کی تحریک پیدا ہوجاتی یوں آپ کی خدمت حدیث کے رجحانات نے عالمی سطح فہم حدیث کا شعور بیدا رکیا۔

  • جامع مکمل نظام تربیت: مولانا الیاس قادری کاایک اور اہم منہج حدیث قابل تعریف ہے کہ آپ نے ہر شعبہ میں احیائے سنت کا نظام متعارف کیا جو عقائد، عبادات، اخلاقیات ، معاملات ، لین دین، اورالغر ض زندگی کے تمام شعبہ جات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

طریقہ اسلاف اور دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ مولانا الیاس قادری کی خدمت حدیث :

حضرت الیاس قادری نے روایت حدیث میں روایتی طریقہ کو بھی اپنا اور زیادہ تر دورجدید کے تقاضوں کو پوراکرنے کےلئے جدید ذرائع ابلاغ کا بھی وافر استعمال کیا۔ اسلاف کےطریقہ کےمطابق چہل احادیث پر رسالہ بھی مرتب کیا اور محدثین کےطریقہ مطابق احادیث کی ابواب بندی اپنی کتابوں بھی کی ۔آپ کی ایک مایہ ناز کتاب ’’فیضان سنت ‘‘ جو کہ خدمت حدیث کا ایک روشن باب ہے۔

اس میں احادیث کا التزام بزرگان دین کے طریقہ کےمطابق اپنایا گیاہے۔ اس کے علاوہ مولانا الیاس عطاری قادری نے اپنی ہر کتاب میں احادیث کےذریعے لوگوں کی توجہ فہم حدیث کی طرف دلائی اور حدیث کے بیان میں مثالوں اور واقعات کےذریعے عمل کی ترغیب پیدا کی۔

انفارمیشن ٹیکنولوجی کے جدید تقاضوں کےمطابق اپنے شعبہ آئی ٹی کےڈیجیٹل پلیٹ فارم سے مستند احادیث کا ذخیر دنیا بھر عام کرنے کےلئے فیضان حدیث موبائل ایپلی کیشن بھی منظر عام پر لائے۔

فہم حدیث کےفروغ میں آپ نے اشاعتی ادارہ مکتبۃا لمدینہ بھی قائم کیا جہاں خدمت حدیث کےضمن میں کئی نسخے چھپ چکے ہیں اور آسان فہم اندازبیان کےساتھ احایث کی اشاعت کاسلسلہ جاری ہے۔

آپ نے خدمت حدیث کے لئے اسلامی ریسرچ سینٹر میں ایک شعبہ فقط رسول اللہ کی پیاری پیاری باتیں لوگوں تک پہنچانے کےلئے فیضان حدیث شعبہ قائم کیا جہاں صحاح ستہ کے تراجم پر کام کیاجارہا ہےاور کئی موضوعاتی طرز پر احادیث کی کئی کتابیں منظر عام پر بھی آچکی ہیں۔

فہم حدیث کےفروغ میں مولانا الیاس قادری کی خدمت حدیث سے ہزاروں علما تیار ہوچکے ہیں ، دن رات سنت کی ترویج واشاعت کا کام باعمل علما اور مبلغین دنیا کے بےشمار ممالک میں کررہے ہیں ۔

حرف آخر:

مسلمانوں کےعقائد ونظریات کے مسخ کرنے میں نت نئے فتنے مختلف ناموں ہردور میں ظاہر ہوئے۔علمائے ربانین نے ہمیشہ باطل نظریات کے حامل فرقوں اور فتنوں کا تدارک کیا ۔ عصرحاضر میں ماخذ اسلامی کے دوسرے بڑ ے اور اہم ماخذ حدیث رسول کی تشریعی حیثیت کو بھی حرف گیری کا نشانہ بنایا گیا۔سنت رسول کی اہمیت کام کرنے کی ناپاک سازشیں بھی رچائی گئیں۔لیکن قدرت نے اپنے محبوب کی ہر ادا کو زندگی رکھنے کےلئے بھی اپنے چنیدہ بندوں کا میدان عمل میں اتارا ۔ معاصرین علمائے اہلسنت میں مولانا الیاس قادری کے نصیب میں حدیث رسول اور سنت کی رسول عملی جہتوں پر کام کرنے کی سعادت آئی۔ اس پیکر اخلاص ووفا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی عملی خدمت کی ۔ مبلغ اسلام کی حیثیت سے اپنی تمام تر صلاحیتیں خدمت حدیث اور احیائے سنت کےلئے وقف کر کے لوگوں کو دین کی دعوت دیکر سنتوں کا عامل بنا یا۔تاحال پیرانہ سالی کے باوجود گھنٹوں مدنی چینل پر علم حدیث عام کرنے کی سعادت دامن میں سمیٹ رہا ہے ۔مولانا الیاس قادری نے اپنے منہج حدیث کے عام فہم انداز تعلیم کےساتھ عشق رسول اور سنتوں کی عملی تربیت کا نظام جدید خطوط پر استوارکیا۔آپ کا اصلاحی تبلیغی تعلیمی منہج فہم حدیث کےفروغ اور امت مسلمہ کی اصلاح میں مینارہ نور اورمشعل راہ ہے۔ قیامت تک الیاس قادری کے اسلوب تبلیغ میں خدمت حدیث اورفہم حدیث کو یاد رکھا جائے گا۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!