امیر اہل سنت کا اسلوبِ دعوت دین

مولانا محمد الیاس قادری کی تبلیغی خدمات ایک منفرد اور جدید انداز تبلیغ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس مضمون میں آپ جانیں گے کہ کس طرح مولانا الیاس قادری نے قرآن و سنت کی روشنی میں نیکی کی دعوت دی، عوام کے ذہن اور رویوں کے مطابق دین کی بات ذہنوں میں راسخ کی، اور مدنی مذاکرہ و عملی تربیت کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی اصلاح کی۔ عصر حاضر کے چیلنجز اور عالمی سطح پر دعوت اسلامی کی اثر انگیزی بھی بیان کی گئی ہے۔ اور عالمی سطح پر تبلیغ دین کے اثرات کی جامع وضاحت موجود ہے۔ دین کی خدمت، اصلاح معاشرہ اور اسلامی تعلیمات کی عملی تبلیغ کے لیے جدید اور مؤثر حکمت عملی بھی شامل ہے۔

December 17, 2025

دعوت دین مراد کیاہے؟

مولانا الیاس قادری نے تبلیغ قرآن وسنت اور دعو ت و ارشاد میں جس اسلوب دعوت دین کو اپنا کر پوری دنیا میں اسلامی تحریک دعوت اسلامی کےذریعے دین کا پیغام پہنچایا ۔اس کے ہمہ جہت انقلابی اقدامات کو بیان کرنے سے پہلے دعوت دین کا مفہوم ذہن میں رکھنا ضرور ی ہے۔دعوت دین سے مراد دین کی طرف بلانا،دین کی دعوت دینا ، اللہ کے پیغامات اور احکامات سے آگاہی دینے اور ان پر عمل کی تحریک پیدا کرنا دعوت دین کہلاتاہے ۔شریعت اسلامی کےپہلے اور بنیادی ماخذ قرآن میں دعوت دین کی اہمیت اور اسلوب دعوت دین کےبارے میں کئی آیات بینات موجود ہیں۔بعثت انبیاء علیھم السلام کا مقصدبھی دعوت دین تھااور اسی مقصد کی تکمیل کےلئے سلسلہ انبیاء کی دعوت دین کا اختتام حضورنبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ہوا۔پھر آپ نے رہتی دنیا تک دین اسلام کی دعوت کا آغاز کوہ صفا سے شروع کیا۔انتہائی سادہ انداز میں اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ سلم نے مشرکین مکہ کو دعوت دین دی۔ عقیدہ توحید کو عقلی دلائل سے سمجھایا ۔پھر قرآنی وحی سے نقلی دلائل دیئے۔اور دعوت کی سچائی ، کردار کی بلندی ، حق گوئی میں اپنی زندگی کو پیش کیا ۔بطور دلیل آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے صداقت وامانت کے وصف میں اپنے شب وروز کو پیش کرکے حق گوئی کےبارےمیں استفسار کیا سب نے یک زبان ہوکر آپ کی سچائی اور صداقت کی گواہی دی۔

دعوت دین میں اسلوب کی اہمیت کیوں؟

کسی بھی مفروضہ کو ثابت کرنے یا کوئی بات دلوں میں راسخ کرنے کےلئے بات میں سچائی اور زبان میں مٹھاس کی تاثیر کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔دعوت کو پیش کرنےکاانداز اور طریقہ دلوں کو بہاتا ہے ۔اور اگر بات دعوت دین کی ہو تو دین کی دعوت دینے میں داعی کا کردار اور انداز بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جیساکہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہےکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے کس طرح دلوں پر حکومت کی۔ قرآن کےانداز بیان کو اپناکر حکمت ،دانائی ، معاملہ فہمی اور لوگوں کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر پہلے عقیدہ توحید کو دلوں میں راسخ کیا۔پھر نیکی کی دعوت کا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں دعوت دین کا سلسلہ اللہ کےآخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات پر دین کے مکمل ہونے کےساتھ پائے تکمیل تک پہنچا ۔پھر صحابہ اور پھر تابعین وصالحین نے دعوت دین کی اشاعت میں مختلف اسالیب اخیتارکئے ۔ عصر حاضر میں مولانا الیاس قادر ی کی دعوت دین کے اسلوب کی کامیابی کے کئی پہلو منظر عام پر ظاہر ہوئے ۔ جس تیزی کےساتھ عصری ترقی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دنیا کے 150 ممالک تک دین کے احکام و پیغام کو پہنچایا یہ مولانا الیاس قادری کا طرۂ امتیاز ہے جوانہیں معاصرین علما میں ممتاز کرتا ہے۔

دعوت دین میں منہج اسلاف کےجدید دورکا آغاز

مولانا الیاس قادری نے دعوت ِ دین میں اسلاف کے طریقہ کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے تبلیغ دین میں ایسا کردار ادا کیا معاصرین بھی داد دئے بغیر نہ رہ سکے ۔ درحقیقیت عصرحاضر میں مسلمانوں کو جہاں کئی چیلنچز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ وہیں علمائے اسلام کو دور جدید کےتقاضوں کو پوراکرتے ہوئے دعوت دین کی تبلیغ واشاعت میں مشکلات پیش آئیں ۔دین کی حفاظت ا ور تبلیغ دین کے تناظر میں فساد امت کی حالت نے علمائے حق کی ذمہ داریوں دوچند اضافہ کردیا ۔ضرورت پیش آئی کہ کس طرح امت کی کشتی کو پھر سے ساحل آشناکیاجائے۔ اس شش وپنج کے دورمیں قدر ت کی کرم فرمائی سے مولانا الیاس قادری نے تبلیغ کے نئے دور کا آغاز کیا ۔آپ شاید دنیاوی تقاضوں سے واقفیت بھی نہیں رکھتے تھے ۔ لیکن بعطائے الہی سے تبلیغ دین میں ایسے جدید اسلوب کو اخیتارکرکے دعوت دین کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میں کامیاب ہو ئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔حاسدین ششدر ہوگئے۔ ناقدین کےناطقے بند ہوگئے۔ اور دین کی ہمہ گیریت اور دعوت دین کے اثرات نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کردی۔

مولانا الیاس قادری اکیسویں صدی کی نامورشخصیت

اکیسویں صدی کی نامور شخصیت دینی اسکالر ،سلسلہ قادریت کے روح رواں حضرت مولانا محمد الیاس قادری ہیں۔ جنہو ں اطاعت خدا اور اطاعت نبی کو سرمایہ زندگی سمجھا۔ مبلغ اور داعی کی حیثیت سے دینی حکمت عملی اپناتے ہوئے ذرائع تبلیغ میں جدید اسالیب کو اختیارکیا ۔ دعوت دین اور نیکی کی دعوت کےذریعے کروڑوں لوگوں کی اصلاح کے سفر کا سبب بنیں۔ اکیسویں صدی میں اسلام تعلیمات کی حقیقی عملی تبلیغ میں مصروف مولانا الیاس قادری نے اپنے انداز تبلیغ اور اسلوب بیان کےساتھ دعوت دین کی نئی جہتیں متعارف کیں۔ نئے نئے میدان میں نیکی کی دعوت کےذریعے علم دین سیکھنے کی راہ ہموار کی ۔ معاشرتی برائیوں میں ملوث افراد کاتزکیہ کرکے دعوت خیر کا مسافر بنایا ۔آپ کی مساعی جمیلہ سے لاکھوں لوگوں کی اصلاح کا سفر شروع ہوا۔ دنیا میں احیائے سنت پر عمل کی تحریک پیدا ہوئی ۔اور مشاہیر علمائے حق نے آپ کو بےمثال خدمات دینیہ سرانجام دینے پر امیر اہلسنت کا لقب عطا کیا۔ آپ کی دینی وسماجی ،تعلیمی ،اصلاحی اور تبلیغی خدمات کےصلہ میں حکومت کی طرف سےمختلف اوقات میں تاثرات بھی پیش کئے گئے ۔دعوت دین میں حضرت الیاس قادری نے جن اسالیب کو اختیاکرکے دین کی دعوت 150سے زائد ممالک میں پہنچائی ان اسالیب کا جائزہ پیش نظر ہے ۔

دعوت دین میں مولانا الیاس قادری کےاسلوب کا تعارف

نبی کریم ﷺ کےاسلوبِ دعوت کا تسلسل

حضرت الیاس قادر ی نے سیرت نگاروں کے عمومی مزاج سے ہٹ کر سیرت رسول کی عملی تعبیر رسول اللہ کےاسوہ حسنہ پر عمل کرکے پیش کی۔ مولانا الیا س صاحب نے دعوت دین کےآغاز میں ایسے لوگوں کاانتخاب کیا جو جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بدی کےراستے پر چل رہے تھے ۔اتنہائی پیار ،للجاجت سے نیکی کی دعوت دینی شروع کی ۔ فکر آخرت کی سوچ دیکر، گناہوں سے نفرت دلاکر جنت کی راہ چلانے کےلئے ذہن دیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلوب دعوت دین پر عمل کے تسلسل کو برقراررکھنے کےلئے نرمی کےساتھ احیائے سنت کےلئے ذہن سازی کی اور عملی طور پر خود سنتوں کے عامل بن کر لوگوں بھی سنتیں اپنانے کی ترغیب دلائی۔

محبت،پیار، حوصلہ افزائی، اصلاح

مولانا الیاس قادری نےہر دوروالے کواپنے سے قریب کیا ۔محبت کےبھر پور جذبات کےاظہار کےساتھ اقامت صلاۃ کی دعوت عام کی۔نماز کے قریب کرنے کےلئے نماز کی برکتیں سنائی۔ اور مساجد کی رونقین آباد کی۔ نرمی سے برائی کے راستہ سے ہٹا کر اصلاح کی طرف مائل کیا۔کوئی ایک نیک کام کرتا تو وسعت قلبی سے حوصلہ افزائی کرتے ۔یوں حضرت الیاس عطار ی صاحب نے تبلیغ دین کی تحریک دعوت اسلامی کےذریعے اصلاحی پیغام دنیا میں عام کیا۔

گناہ سے نفر ت اور گناہگاروں سے پیار

مولانا محمد الیاس صاحب نے کمال خوبی سے دعوت دین دلوں میں راسخ کرنے کےلئے ایمان کی حفاظت کاذہن دیا ۔ نیکی کے راستہ پر چلنے والوں کو گناہوں کے عذاب سے چھٹکار ا پانے پر انعامات کی نویدیں آیات قرآنی سے سناسناکر جذبہ نیکی پروان چڑھایا۔ بیان کی تاثیر سے متاثر ہوکر کوئی دنیا پرست گناہوں سے آلود مجلس میں آتاتو خصوصی شفقت کا اظہار فرماتے۔ باتوں باتوں میں توبہ واستغفار کےفضائل سنا کر دل میں اچھائی کرنے کی چاہت پیداکرتے۔آپ نے کبھی کسی بد کار کو اس کے ماضی کی حالات یاد دلاکر عار نہیں دلائی بلکہ ہمیشہ نیکی کی راہ کو مضبوطی سے پکڑ نے کےلئے نیک اعمال کرنے کا شیڈول کتابچہ کی صورت میں پیش کیا۔ جب بھی کوئی برائی کا سوچے تو فورا دل میں محاسبہ کا خیال گناہ سےروکنے کا سبب بن جائے۔ یوں مولانا الیاس قادری کےدعوت دین کےاسلوب میں سب سے نمایاں منہج تبلیغ گناہگاروں پر شفقت اور گناہ سے نفرت ہے۔

عوامی رویے اور ذہن کے مطابق تبلیغ دین

حضرت مولانا الیاس قادری کےاسلوب دعوت دین میں ایک اہم اور قابل ذکر پہلو عوامی رجحانات اور ان کے ذہن کے مطابق دعوت دین کے اسالیب کا اختیار کرنا ہے ۔آپ نے عربی مقولہ ’’ لوگوں کی عقلی صلاحیت کے مطابق بات کی جائے‘‘ کےاصول کوکماحقہ اپنایا اور انتہائی سادہ مزاجی اور عام فہم انداز بیان ،بلکل عوامی انداز گفتگو کو اپناکر پیار آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جام پیلائے اور عشق رسول کے متوالے بنائے۔ اپنے بیانات میں الفاظ کا انتخاب اتنا سادہ اور عام فہم اپنا یاکہ بات دل میں خود بخود اتر جائے ۔کتابیں لکھیں تو قاری کی آسانی کےلئے مشکل الفاظ پر اعراب بھی لگادیئے تاکہ پڑھنے میں کوئی دقت نہ ہو۔حضرت کا ایک کمال اسلوب تبلیغ فقہی ذہن کےمطابق مسائل کو آسان انداز میں بیان کرنا بھی ہے۔آپ نے لوگوں کی عادات اور رسم ورواج میں جو شریعت کے خلاف باتیں تھیں بڑے خوبصورت انداز کےساتھ ان غیر شرعی رسم ورواج کے عمل کو سائٹی سے نکالا اور جائز شرعی دینی تہوار منانے کا رواج ڈالا۔

تربیت اور اصلاح احوال کا تسلسل

بانی دعوت اسلامی نے دعوت دین کے اسلوب کو صرف وعظ ونصیحت تک محدود نہیں کیا۔عملی تربیت کا پہلو اختیار کیا۔صبح وشام کے معمولات میں لوگوں کی آمد ورفت سے فائدہ اٹھایا اور انفرادی طور پر اصلاح نفس اور تزکیہ نفس کرکے ظاہر ی وباطنی اصلاح کی۔کھانے کی نشست، ملاقات کےدوران ، سفر وحضرمیں، اٹھنے بیٹھے ، گفتگو میں ،استراحت اور قافلوں میں نیکی کی دعوت کےدوران ہر موڑ پر تربیت کا انداز اپنایا۔لوگوں کےسامنے سنتوں کواپناتے اور دوران محفل غیر محسوس طریقہ سے شرکاء کی اصلاح کرتے۔سیرت طیبہ ، احادیث مبارکہ، فقہی مسائل ، اخلاقیات، تصوف کو عمل کے کردار سے بیان کرتے۔گفتگو سے زیادہ اشاروں میں باتیں کرتےتاکہ غیر ضروری باتیں بھی نہ ہوں۔اسطرح اصلاح احوال اور مجموعی طورپر لوگوں کی تربیت کےلئے ہر نماز کے بعد مختصر بیان ہوتا۔ہفتہ وار اجتماع ،انفرادی سطح پر ملاقات کے دوران اور پھر شریعت وطریقت، علم ومعرفت، تعلیم وتربیت کی سب سے بڑی علمی مجلس بنام مدنی مذاکرہ میں تو براہ راست شرکاء اور مدنی چینل کےناظرین کےسوالات کے جوابات دیتے اور نبوی اسلوب تبلیغ کےمطابق دل جیتے لیتے۔مدنی مذاکرہ کا تسلسل آپ کی اصلاحی، تربیتی ،تعلیمی ، تنظیمی ، نظریاتی اور دنیا کے علوم ومعارف کی اشاعت کا منھ بولتا ثبوت اور انداز تبلیغ کی سب سے بڑی مثال ہے۔جہاں بھر کا علم ،کتابوں کےانبار، علمی موشگافیاں ، علمی نکتہ دانیاں، فقہی مسائل، دینی باتیں، اسلامی تہواروں کی روایتیں سب کچھ مدنی مذاکرہ کی مختصرسی نشست میں بیان کیاجاتاہے ۔ درحقیقت تشکیک والحاد کی وادی میں سرگرداں پریشان لوگوں کی اصلاح کا بہترین ذریعہ مدنی مذاکرہ کا سلسلہ ہے۔

تبلیغ دین میں مختلف دینی محرکات کا اسلوب

دعوت دین کے میدان میں جس طرح اکابر علمانے عوام میں دینی جذبات ابھارنے کےلئے مختلف ادوار میں کتابیں،رسائل، عملی تربیت کی نشستیں، تصوف کے سلوک اور طریقت کے مختلف اسالیب اختیار کئے ۔مولاناالیاس قادری نے ماضی کے دینی محرکات اور حال کے حالات اور مستقبل کے چیلنجز کو سامنے رکھ کر دعوت دین کی راہ میں ایسی تحریکات کا وجود متعارف کرویاا جو شاید پہلے کسی نے اپنا یا نہ ہو۔دینی جذبات میں تلاطم لانےکے لئے ’’ایمان بچاؤ تحریک‘‘ ’’سنتوں پرعمل کا شعور ‘‘ ’’محاسبہ نفس کےلئے نیک اعمال کاجائزہ‘‘ ’’مساجد کی آباد کاریاں ‘‘ ’تلاوت قرآن کےلئے یوم تلاوت قرآن ’‘‘ ’’قرآن سے تعلق جوڑنے کےلئے فیضان قرآن مساجد کی تعمیرات‘‘ ’’عوام الناس میں تبلیغ دین کےلئے چوک درس ‘‘ ’’تعلیم قرآن عام کرنے کےلئے حلقہ قرآن‘‘ ’’ علم دین کےلئے جامعات المدینہ‘‘’’ تجوید وقرأت کےلئے مدارس المدینہ‘‘ ’’آئن لائن کلاسسز کا اجرا‘‘ ’’دینی کتابوں کے مطالعہ کا شعور دینے کےلئے ہفتہ وار رسالہ کی اشاعت اور کارکردگی کا جائزہ‘‘ ’’ناچاقیاں دورکرنے کےلئے محبت بڑھاؤ تحریک ‘‘او ر بہت سے محرکات عمل کا تعارف جو دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم نظرآتے ہیں وہ سب مولانا الیاس قادری کے دعوت دین کے اسلوب کی مثالیں ہیں۔

اصلاح کے عالمگیر نظام کا قیام

معاشرتی و سماجی ماحول اور بین الاقوامی سطح پر دعوت اسلامی کی مقبولیت اور افادیت و اہمیت کا اندازہ دینی کاموں کی بہتات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے دین پر عمل کے جو مختلف محرکات مختلف صورتوں میں جگہ بجگہ نظر آتے ہیں وہ سب دعوت اسلامی کے بانی حضرت الیاس قادری کی دعوت دین کے اسلوب کی جھلک کے مظہر ہیں۔ امیر دعوت اسلامی نے اپنے دعوت دین کے اسلوب میں عملیت اور جدت کو اپنا یااور ایک ایسا اصلاحی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں صرف شریعت کی بالادستی نظر آتی ہے ۔شریعت کے اصولو ں کی مکمل پاسداری اور احکام شریعت کو بیان کرنے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی تحریکات بھی مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کی کامیابی کا ثبوت ہے۔آپ کے انداز گفتگو ، پرتاثیر بیانات، علم وعمل پر مبنی مدنی مذاکرہ، شریعت پر عمل کا ذہن بنانے والے اسباب تبلیغ اور اسلوب دعوت کی عملی تعبیر نے دعوت اسلامی کے اثرات کو معاشرہ وسماج سے نکال کر دنیا کے کونےکونے تک پہنچادیا۔ سنت نبوی کی عملی خدمت دعوت اسلامی کا سب سےبڑا کارنامہ ہے اور اس کارنامہ کاسہرا مولانا الیاس قادری کےسر پرسجتا ہے۔

مولانا الیاس قادری کی دعوت دین کےاسلو ب کی کامیابی کےاثرات

مولانا الیاس قادری کے اسلوب دعوت دین میں ذاتی سیرت وکردارکا اثر مختلف رنگوں کے ساتھ دعوت اسلامی کی نیکی دعوت میں نظر آیا۔سادگی، تواضع ، ملنساری مولاناالیاس قادری کے اسلوب دعوت کا نمایاں وصف ثابت ہوا۔تقوی، شریعت پر عمل، پرہیزگار ی ، نیکی کی رغبت نے حضرت الیاس کی دعوت دین کے اسلوب میں روحانیت کا رنگ چڑھایا۔ خوف خدا، عشق رسول ، محبت اہلبیت عظمت صحابہ اور اولیائے امت کے ساتھ قلبی تعلق نے پیر الیاس قادری کی دعوت دین کےاسلوب میں جذباتی محرکات پیدا کئے۔ صبر واستقامت، مشکلات کا سامنا ،جہد مسلسل ، عمل پیہم مولانا الیاس کی دعوت دین کے اسلوب کی کامیابی کا عملی نمونہ بن کر ابھرے۔

نیکی کی دعوت کے عملی طریقے یعنی مدنی قافلے، نیک اعمال کاجائزہ، تسلسل کےساتھ اجتماعات کا انعقاد، انفرادی کوششیں اور بیان اور انداز گفتگو میں آسان فہم الفاظ ، عام فہم زبان میں نیکی کی دعوت ہر طبقے تک پہنچانےکی حکمت عملی، دلوں میں بات اتارنے والا محبت بھرا لہجہ، ترغیب وترہیب کا متوازن اسلوب، دعوت میں شفقت ومحبت۔قرآن واحادیث سے مثالیں پیش کرنا آپ کے اسلوب دعوت دین کے اصل محرکات ہیں۔

خلاصۂ کلام

عصر حاضر کی معروف دینی شخصیات میں مولانا الیاس قادری وہ نابغہ روز گاز شخصیت کےطور پر منصہ شہود پر ظاہر ہوئےجنہوں نے اس ترقی یافتہ دور میں دعوت دین کو موثرترین اندا ز میں عام کیا۔

دعوت دین کے جدید اسالیب اور دور حاضر کےتقاضے پوراکرتا دعوت اسلامی کا دینی پلیٹ فارم اور نظام تنظیم کا نظم وضبط ، دعوت دین کا پھیلاؤ، نیکی کی دعوت عام کرنے کےلئے شعبہ جاتی وادارتی خدمات ، میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ ،انفارمیشن ٹیکنولوجی کے ساتھ دینی خدمات مولانا الیاس قادری کی دعوت دین کے تجدیدی کام ہیں۔

مذکور بالا تمام اسباب جو مولانا الیاس قادری نے نیکی کی دعوت عام کرے میں اختیار کئے اورٹھوس بنیادوں پر دعوت اسلامی کے نیٹ ورک کا قیام اور دین کا کام شریعت مطاہرہ کے تمام تر تقاضوں کے مطابق دنیا کے 150سے زائد ممالک میں نظر آنا سب کچھ آپ کی دعوت دین کے اسلوب کے اثرات کا مظہر ہیں۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!