امیر اہلسنت کے کردار سازی اور تعمیر شخصیت میں اصلاحی اقدامات

مولانا الیاس قادری نے کردار سازی اور تعمیر شخصیت کے لیے قرآن و سنت سے ماخوذ ایک جامع نظام پیش کیا ہے۔ ان کی تحریک کا بنیادی مقصد "مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے" کے نظریے پر قائم ہے۔ آپ نے فرد کی اصلاح کے لیے محاسبہ نفس اور گناہوں سے بچنے کی عملی ترغیبات فراہم کیں۔ سماجی سطح پر مدنی قافلہ، مدنی مذاکرہ اور ہفتہ وار اجتماعات جیسے اقدامات نے معاشرتی بگاڑ کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی ان کاوشوں کے اثرات180 سے زائد ممالک میں تعلیمی، سماجی اور فلاحی خدمات کی صورت میں نمایاں ہیں۔

January 30, 2026

اسلامی تعلیمات میں کردار سازی اور تعمیر شخصیت کاتصور:

اسلام کے نظام حیات میں انسانی کردارکی عظمت کو اجاگر کرنے اور اسے دوسروں کے لئے کارآمد بنانے کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیاگیاہے۔اسلامی ضابطہ اخلاق میں فرد اور معاشرہ کا باہم ربط قائم کیاگیا ہے ۔ ایساممکن نہیں فرد اپنی شخصی زندگی میں تو بہت اعلی کردار کا مالک ہو اور اجتماعی ومعاشرتی زندگی میں اپنے رویہ سے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث ہو ۔یہ طرز ِعمل اسلام میں مقبول نہیں ۔اس لئے قرآن پاک میں کردارکی پاکیزگی (تذکیہ نفس)کے ساتھ دوسروں کے ساتھ بھی اعلی اخلاقی قدروں کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیاگیاہے۔سورہ مؤمنون کی ابتدائی آیات میں بھی اہل ایمان کے اوصاف اور کردار کےبارے میں رہنمائی دی گئی ہے ۔دین اسلام کی اصل روح بھی تزکیہ نفس یعنی کردارسازی اور تعمیر شخصیت ہے۔اسلام میں فطرت انسانی کی پاکیزگی کو فلاح سے تعبیر کیاگیا اور باطن کی طرف عدم توجہ کو خسران یعنی ناکامی سے جوڑا گیا ہے ۔قرآنی آیات :’’ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰) بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چُھپایا ۔ اس بات پر شاہد عادل ہے کہ نفس کی پاکیزگی کتنی ہے اوراس سے پہلوتہی کرنا کتنا بڑا نقصان ہے۔

اسیلئے اسلام کےنظام تعلیم میں تربیتی اصول بڑے واضح اندازمیں بیان کئے گئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے حسن ِ اخلاق اوراچھے اعمال کو تمام وکمال تک پہنچانے کے لیے مبعوث فرمایاہے۔ ‘‘ ۔نیز قرآن نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور آپ کی سیرت کو پوری دنیا کےلئے ماڈل بنایا ہے ۔

اسلام میں کردار سازی اور تعمیر شخصیت کےرہنمااصول بھی بیا ن ہوئے۔ کئی نامور اسلامی شخصیات نے مکارم اخلاق پر ضخیم کتابیں بھی تصنیف کیں اور آج یورپی دنیا میں انسانی کردار پر جوکچھ لکھا گیا ہے وہ درحقیقت اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہی ہے اور تہذیب مغرب میں اعلی اخلاقی قدریں اسلام کے پیش کردہ نظام اخلاق سے ہی ماخوذ ہیں۔مغربی ممالک ہو یا دنیا پر برتری رکھنے والے ممالک سب کے نظام تعلیم میں کردارسازی اور تعمیر شخصیت کے حوالے سے جو اصول بیان کئے جاتے ہیں وہ سب اسلام کی تعلیمات کا ہی حاصل ہیں ۔انسانی تاریخ اپنے تمام ادوار میں جو کامیاب نظام پیش کرسکی وہ صرف اسلام کا ہی نظام ہے جس میں پوری انسانیت کی بقا ، سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہے۔اسلامی معاشرےکی بنیادیں جن اصولوں پر استوار ہوتی ہیں ان میں پاکیزگی، امانت ،دیانت، عفت اورباہمی احترام، احساس ذمہ داری، جوابدہی کا خوف، انصاف وغیرہ سرفہرست ہیں ۔جب مذکورہ اوصاف اور کامیاب کردارسازی کی ساری جہتیں کمزور پڑجائیں تو معاشرتی بگاڑ پیدا ہوجاتاہے ۔اسیلئے کردار سازی اور تعمیر شخصیت کے حوالے سے قرآن وحدیث کی تعلیمات ہی موجود دور کی سماجی ، معاشی،معاشرتی ،سیاسی زندگی کے لئے بہترین ماڈ ل ہیں ۔

عصر حاضر میں کردارسازی او رتعمیر شخصیت کی اہمیت:

عصر حاضر کی پروفیشنل زندگی میں تو کریکٹر بلڈنگ اور ادارتی خدمات دینے والے افراد کو منظم ضابطہ اخلاق کا پابندہونے پر زور دیا جاتاہے لیکن معاشرتی اعتبارسے انسانی کی اعلی قدریں کہیں کہیں تلاش بسیارکےبعد نظر آتی ہیں۔ا س کی بنیادی وجہ مادہ پرستی ،انانیت، مفادعامہ کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دینا ہے۔اسیلئے آج بڑے بڑے اداروں میں ہنرمند حضرات ،بزنس مین، کاروباری طبقہ، بینکرز، اکاؤنٹنٹ، تجارت پیشہ حضرات ،مزدور طبقہ الغرض ہر شعبہ ہائےزندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو تعمیر شخصیت اور "character building یعنی کردار سازی پر باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔لاکھوں روپے کا بجٹ ملازمین کی کردارسازی کےلئے خرچ کیاجاتاہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں کردارسازی کو بطور ایڈوانس اسٹیڈی کے طور پڑھا یاجاتا ہے ۔جبکہ اسلام کے نظام تربیت کی بنیاد ہی کردار سازی ہے اعلی اوصاف کے جوہر کاانسانی شخصیت میں نمایاں نظر آنا ہے۔ عصر حاضر میں دنیاکے ترقی یافتہ نظام کے مقابلے میں پاکستان کی نامور مذہبی شخصیت اور پوری دنیا میں اسلام کی تعلیمات گھر گھر پہنچانے میں عملی کردار ادا کرنے والے جناب محمد الیاس قادری نے مطلعِ تبلیغ پر ایسے گوہر نایاب پیداکئے جن کےکردار اور اخلاق کو دیکھ کر ہزاروں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

مولانا الیاس قادری نے قرآن وسنت کی تعلیمات پر مشتمل اپنے اسلوب تبلیغ اور انداز بیان کےساتھ افراد معاشرے کی کردار سازی کےذریعے تعمیر شخصیت اس انداز میں کی کہ وہ معاشرے کی بقاکی علامت بن گئے۔سیرت نبوی میں تربیتِ کردار کے اصولوں کا اپنا کر اصلاحی اقدمات کی طرف قدم بڑھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے نظام تربیت کے پروردہ افراد کا ایسا خوبصورت گلدستہ تیار ہوا جن کی خوشبوئیں چار سو پھیل رہی ہیں۔کردارسازی کےذریعے تعمیر شخصیت میں مولانا الیاس قادری کے اصلاحی اقدامات پر طائرانہ نظر پیش خدمت ہے۔

کردار سازی اورتعمیر شخصیت کے اسلامی اسٹینڈرز:

انسان کی شخصی زندگی میں کردار کی عظمت اور شخصیت کی تعمیر کی اہمیت کا انکار ممکن نہیں ۔یہ وہ جوہر ہے جس سے انسان کی پہچان ہوتی ہے۔باوقار زندگی کےلئے اعلی اقداراور کردار سازی وہ عوامل ہیں جس سے فر د کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔درحقیقت کردارسازی اور تعمیر شخصیت دو لازم ملزوم چیزیں ہیں کہ کردار سازی کےذریعے ہی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔یہ دونوں معاشرتی وسماجی اورادارتی زندگی کی کامیابی کےلئے بنیادی اسباب میں شامل ہوتے ہیں۔انسانی کردار اس کےباطن کا آئینہ دار ہوتا ہے اور شخصیت کے اعلی اوصاف کردارکے آئینہ میں چمکتے د مکتے ہیں۔عادات واطوار، اخلاقیات، افعال اور انداز حیات کردار کےمجموعہ کاہی نام ہے۔ اورتعمیر شخصیت اس جہد مسلسل اور عمل پیہم کا نام ہے جس کےذریعے انسان اپنی شخصیت میں کمال حاصل کرتا ہے ۔ تعمیر شخصیت کےلئے انسان کو اپنی اندر جھانک کر اپنی کمزوریوں پر قابو پانااور اپنی صلاحیتیوں کو مثبت کاموں میں استعمال کرنے بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ کردارسازی اور تعمیر شخصیت فرد کی زندگی کے وہ کلیدی عناصر ہیں جن کے بغیر نہ فرد کی اصلاح ممکن ہے اور نہ معاشرہ ترقی کی راہ گامزن ہوتا ہے۔مولانا الیاس قادری نے اپنی دینی جدوجہداور اصلاحی اقدامات کےتحت جوہرانسانی کواجاگرکیا اور افراد معاشرہ کو اسلام کے نظام اخلاق کا آئینہ دار بنانے میں جو دینی کاوشیں کیں وہ کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں۔آپ نے قرآن وسنت سے ماخوذ کردارسازی کے اسٹینڈر اپنائے اور سیرت رسول کےمطابق تعمیر شخصیت کی ۔

دعوت دین کےذریعے کردارسازی کا انقلابی انداز

مولانا الیاس قادری کی نیکی کی دعوت کے تصور سے عموما اہل علم حضرات نے فقط دین کی دعوت دوسروں تک پہنچانا سمجھاہے ۔درحقیقت یہ کجی فہمی ہے اور حقیقت یہ ہےکہ مولانا نے تبلیغ زندگی سے اصلاح امت کا سفر طے کیا ہے اور آپ کے آفاقی نظامِ اصلاح کا عملی مظاہر ہ آپ کے دینی کاموں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔مولانا الیاس قادری صاحب نے اسلامی کردارسازی کے اصولوں پر پہلے اپنے آپ کو چلایا پھر دوسروں کو اس ڈگر کا عادی بنایا۔حضرت الیاس صاحب نے عبادات میں اخلاص کی اہمیت دلوں میں اجاگر کی ،بارگاہ خدا میں حاضری کےآداب سکھائے ،آداب بندگی بجالانے کا طریقہ بتایااور پھر ان مذکورہ تینوں باتوں کےلئے تزکیہ نفس یعنی کردارسازی کو بنیاد قرار دیا ۔یوں آپ نے عبادت کی روح دلوں میں بیدارکی۔پاکیزگی ، تقوی ،طہارت، جسم کے ظاہر ی اجزا کے وضو مکمل کرنے کےلئے باطن کو غسل طہارت دینا لازمی سمجھا اور اسی نہج پر آپ نے اصلاح معاشرہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ۔

دور جدید کے کریکٹر بلڈنگ نظریات کے تناظر میں مولانا الیاس صاحب کے اقدامات کا تقابلی جائزہ

دور ِجدید میں کریکٹر بلڈنگ کی تعریف میں دو چیزیں اہم سمجھی جاتی ہیں : ایک اچھی عادات اور دوسری اعلی اخلاقی قدریں ہیں۔ اس کے ساتھ inner personality traits یعنی باطنی شخصیت کی خصوصیات جیسے ایماندای،شفقت، دوسرے کےساتھ ہمدردی وغیرہ اوصاف پیدا کرناپھر سیلف لرننگ ڈسپلن یعنی زندگی کانظم وضبط کے مطابق ہونا، احساس ذمہ داری اورجوابدہی کا تصور ذہن میں ہونا یہ سب دورجدید میں کردارسازی کےحوالے سے بنیادی تعلیمات ہیں۔ دور حاضر کے کردارسازی اسٹینڈرز کو پیش نظر رکھ کر حضر ت امیر اہلسنت کی بالغ نظری نے کردارسازی کے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں تعمیر شخصیت کے جوزاویے مقرر کئے انہیں سمجھنا ضروری ہے ۔آپ نے اپنی دینی تحریک کے خدوخال کاڈھانچہ اسلامی تعلیمات پر کھڑاکیااور اب تک ایک انچ بھی اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے ۔بلکہ روز افزوں آپ کی تعلیمات کےاثرات معاشرے کی اصلاح میں بنیادی ادا کررہے ہیں۔آپ نے اپنے افراد کی تربیت اسلا می کردار سازی کےاصول: پاکیزگی، اخلا ق حسنہ، نرمی، محبت ،شفقت ، دوسرے کےاحساسات کا خیال، ظاہر کے ساتھ باطنی پاکیزگی، امانت ،دیانت، احساس ذمہ داری، فکر آخرت کے تصور میں دنیاوی اعمال کا محاسبہ، اچھائی کی رغبت،برائی سے اجتناب جیسے اوصاف کے مطابق کی ۔آپ کے اصلاحی اقدامات نے بہت سارے ماڈرن نظریات کے مدح خواہوں کو اسلامی کردار سازی کی تعریفات میں قصیدے پڑھنے پر مجبور کیا۔ایک پروفیشنل ادارے کے طور پرآ پ کے نظام اصلاح کے پیمانے تولے جائیں تو تقریبا آپ کی خدمت دین کے 100سے زائد ڈیپارٹمنٹس میں 50000 ہزار سے زائد ملازمین مختلف کام پر مامور ہیں ۔یہ سب ملازمین دنیاوی پروفیشنل اداروں کے ملازمین سے زیادہ اپنے ادارے کو چار چاند لگارہے ہیں۔ کیونکہ ان ملازمین کو فکر آخرت کا جو سبق مولانا الیاس قادر ی نے پڑھا یا ۔اس درس کی برکت ہےکہ یہ سب ملازمین دورجدید کے کردارسازی کے تمام اسٹینڈرز پر اسلامی طریقہ کے مطابق کماحقہ عمل کررہے ہیں ۔

مولانا الیاس قادری نے اپنی دعوت دین کو جس منہج پر چلایا وہ دور جدید کےمفکرین اور کردار سازی و تعمیر شخصیت میں مہارت رکھنے والے پروفیشنل ٹرینرز کے مقابلہ میں ایک پائیدار نظام ہے جس کی بنیادوں میں اسلام کے لازوال تربیتی اصول ہیں۔

کردارسازی کےذریعے تعمیر شخصیت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کاسفر

حضرت الیاس صاحب نے اپنے تبلیغ مشن کو ایک خوبصورت نعرہ’’ مجھے اپنی اور سارے دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ سے تعبیر کیااور اس کی عملی تدبیر کےلئے فرد کی اصلاح کو مقدم رکھا اور جوعملی ذرائع فرد کی کردارسازی کےحوالے سے اپنائے ان کا مختصر تجزیہ کیا جائے تو تین پہلو نظر آتے ہیں:

گناہ کا تصور اور اس سے بچنے کی ترغیبات (2) نیک کام کرنے کاجذبہ اور اس کےفروغ کے عملی اقدامات (3) ذاتی اصلاح کے لئے اسلامی محاسبہ نفس کے اصولوں کےمطابق دن بھر کےکام کا جائزہ اور تجزیہ کرنا۔

فرد کی اصلاح کا جو ضابطہ مولانا الیاس قادری نے اپنایا اس کی عملی تعبیر پہلے اپنے عمل سے پیش کی۔ہر معاملہ میں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کی۔پھر اپنے کردار سے فرد کی اصلاح کےلئے قدم بڑھایا۔گناہوں کے عذابات ذکر کئے، برائی کی وبال کو کتابچو ں اور چھوٹے رسائل کی صورت میں بیان کئے ۔ خوف خدا، تقوی، پرہیزگاری، آخرت میں جوابدہی کےڈر اور اعمال کے محاسبہ کو تحریک کا عملی کردار بنایا اور خود مثالی تقوی پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ایک ایک فرد کی ذہن سازی کی ۔دین کی باتیں سمجھائی ، عمل کی ترغیب پیدا کی۔اپنی انفرادی زندگی میں ایک مثالی کردار کےذریعے دوسرے افراد کے کردار کو سنوارا اور یوں ایک فرد سے گروہ، جماعت اور پھر دینی تحریک نے شکل اختیار کی۔

فرد کی کردار سازی سے اصلاح کا اجتماعی نظام

فرد کی اصلاح سے مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کی تحریک نے جب معاشرہ کو مخاطب کیا تو آپ نے اپنی دعوت کو مزید مؤثر انداز میں پیش کرنے کےلئے تین جہتوں سے کام کیا۔

(1)ہفتہ وار علمی مناقشہ یعنی سوال وجواب پر مبنی مدنی مذاکرہ (2) دینی وسماجی اصلاح کےاجتماعات کا تسلسل(3) علم دین کےذریعے کردارسازی کےلئے ملک وبیرون ملک قافلہ کا نظام ۔

تعمیر شخصیت کےساتھ اصلاح معاشرے کی تشکیل میں حضرت محمد الیاس قادری صاحب نے جو دینی انقلابی اقدامات اٹھائے ان پر سرفہرست تین اہم پروگرامز کو اختصار کےساتھ زیر قرطاس کرنا ضروری ہے تاکہ مولانا الیاس صاحب کا اسلوبِ تربیت کا عالمی سفر ذہن نشین ہوجائے۔

امیر اہلسنت نے فرد کی اصلاح پر بھر پور توجہ کی جس سے لوگوں کی ذہن سازی ہوئی ،دین کی معلومات درست انداز میں سمجھنے کا موقع ملا، انفرادی طور پر لوگوں کو سنت نبوی کاپریکٹیکل انداز مولانا الیاس صاحب کی زندگی میں نظر آیا۔یوں جب دعوت کی تاثیر نے دلوں میں جگہ بنائی تو اجتماعی اصلاح کی طر ف قدم بڑھے اور ابتدائی طور پر ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ بنا۔وقت کا دھارا مولاناالیاس قادری کی دینی دعوت کو تیزی گھومارہا تھا ۔ جو گ در جوگ ربطہ ملت کا رشتہ مضبوط ہورہا تھا ۔پھر چشم فلک نے ایک ایسااجتماع نظام کا مظاہر ہ سرزمین کراچی میں دیکھا کہ ایک شخص اپنے سادہ اور موثر ترین انداز تربیت کےساتھ ہزاروں کےمجمع کو رلا رہا ہے،گناہوں کے عذابات سنا کر توبہ کی طرف راغب کررہا ہے، نیکی کی جستجو دلوں میں تڑپ پیدا کررہی ہے۔ اجتماع میں موجود کئی گناہگاروں کو اصلاح کا موقع مل رہا ہے۔ایک عجیب سا ماحول مولانا الیاس قادری کی نیکی کی دعوت سے پیدا ہواجہاں ہر فرد اس ماحول کی برکت میں ڈھلنے کےلئے دل وجان کی بازی لگارہاہے۔

یوں انفرادی کردار سازی کے عمل سے اجتماعی اصلاح کی جانب مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت نے قدم بڑھائےا ور پھر دینی اجتماعات کا تسلسل قائم ہوگیا۔جب بین الاقوامی سطح پر نیکی دعوت کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر جدید ذرائع ابلاغ سے استفادہ کرکے ایک علمی پروگرامز متعارف ہوا۔جس کےسینکڑوں علمی وروحانی تعلیم وتربیت کی بیٹھکیں ہوچکی ہیں۔ہزاروں موضوعات پر سوال وجوابات کے پروگرامز منعقد ہوئے اور اب دنیا بھر میں ہر ہفتہ کی رات عشاء کی نماز کےبعد یہ مدنی چینل پر مدنی مذاکرہ کے نام سے سلسلہ نشر ہوتا ہے۔

نیز کردارسازی کے حوالے سے نیکی کی دعوت کےسفر میں مولانا الیاس قادری کا سب سے بڑااقدام مدنی قافلہ ہے جو آپ کی دعوت کی تشہیر میں سب سے زیادہ ممدومعاون ثابت ہوا۔لوگوں کےلئے علم دین کےحصول کا سب سے بڑا ذریعہ دعوت اسلامی کی نیکی کی دعوت کا قافلہ ثابت ہوا۔ بلکہ مدنی قافلہ ہو ریڑھ کی ہڈی ہے جس پر دعوت اسلامی کاڈھانچہ کھڑا ہواہے۔اسی قافلہ کی برکت سے 44سال سے کوئی ایسا دن نہیں گزراجس میں دعوت اسلامی کی نیکی کی دعوت کا سلسلہ تھماہو۔درحقیقت ہر نئے سورج کےساتھ نئی کامیابی دعوت اسلامی کےنام ہوتی ہے۔

نئی نسل کی تعمیر شخصیت اور خواتین کے لئے اصلاحی کاوشیں:

نئی نسل کی کردارسازی کے حوالے سے جو اقدامات مولانا الیاس قادری کی نیکی کی دعوت نظر آئے تو دیگر اسلامی تحریکات کےاغراض ومقاصد میں نہیں ملتے۔آپ نے نوجوان نسل کی تعلیمی واخلاقی رہنمائی کی۔ مثبت سوچ کو پروان چڑھایا ، عملی کردارسازی کےذریعے تربیت کی۔بدلتے فکری رجحانات میں ٹھہراؤ پیدا کیااور اسلامی عقائد ونظریات کے مطابق فکر ی نشوونما کی۔معاشرے کو مضبوط تعلیمی ادارے فراہم کئے، تربیت کا باقاعدہ نظام پیش کیا،خواتین کی تربیت کے لئے اصلاحی پروگرامز مرتب کئے۔چاردیواری کےتقدس کا بحال کیااورتعلیمی اداروں میں بچیوں کو تحفظ فراہم کیا، ان کے نظام تربیت کے الگ اصول بنائے، ایک منظم عالمی مجلس مشاورت قائم کی، جس کی ساری باگ دوڑ دختران ملت کو سونپی۔بچیوں کے لئے گھر گھر قرآن کی تعلیم عام کی، علم دین کا شعور دلایا، رشتوں کے آداب سکھائے ، بچیوں کی اخلاقی عادات واطوار کی اصلاح کےلئے خواتین معلمات کےدروس کا گھر گھر اہتمام کروایا ۔یوں ایک نظام تربیت کا قیام عمل میں آیا جہاں نوجوان نسل اور بچیوں کےلئے علیحدہ علیحدہ تعلیمی ،تربیتی ادارے وجود میں آئے ۔

مولانا الیاس قادری کےاسلوب کردارسازی کےتجدیدی پہلو اور اس کےعالمی اثرات:

مولانا الیاس قادری کی دینی دعوت کی عظیم تحریک دعوت اسلا می کے تحت قائم ہونے والے عالمی نظام تربیت میں جدت اور جدید طرز معاشرت کے اسلامی لبادہ نے دنیا کو کردارسازی کے حوالے سے نیا رخ دیا۔آپ نے اپنی نیکی کی دعوت عام کرنے میں جوتجدیدی پہلوؤں کو اپنایا ۔ قدیم اسلامی اصولوں کو دور جدید کے تقاضو کےساتھ ہم آہنگ کرکے نیکی کی دعو ت کو اور مؤثر کردیا۔آپ نے ذرائع ابلاغ کا خوب استعمال کیا، آن لائن کورسسز کا اجرا، مختلف دینی کورسسز کا انعقاد، تربیتی نظام کے مراکز کا قیام ، کردارسازی کےمناہیج اور اسلوب تبلیغ کے جدید انداز اپناکر عالمی سطح پر دعوت اسلامی کو متعارف کروایا۔جدید میڈیا سے صرف نظر کرنے کی بجائے میڈیا کوہی دینی تعلیم حاصل کرنے کا ذریعے بنانامولانا الیاس قادری کا تجدیدی کارنامہ ہے۔آپ کی دعوت کے اصلاحی اثرات نے تقریبا 180 کےقریب ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو دنیاوی علوم کے ساتھ دین کا علم سیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ آپ کی اصلاحی تحریک کے اثرات نے نہ صرف معاشرتی تبدیلیاں لانے میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ دنیا کے اہل ایمان کی زندگی میں نمایاں اثرات مرتب کئے۔

عصر حاضر کے مواصلاتی نظام اور میڈیا کی بے ہنگم سورشوں کےمقابلے میں مولانا الیاس قادری نے میڈیا کی دنیا میں دینی انقلاب برپاکردیا ا ور ایک ایسا ٹی وی چینل کا قیام عمل میں لایا جہاں 15سال سے اسلامی تعلیمات پر مشتمل نشریات بغیر کسی اشتہارات کے نشر ہوتی ہے۔نئی نسل کو مغربی تہذیب کے یلغارسے بچانے کےلئے دینی کردار کو اجاگر کیا اور ایسا اصلاحی نظام قائم کیا جس نے فحاشی، عریانی، مادہ پرستی کی بجائے حیا ، شرم ،عفت، احساسات، دوسروں کی قدر ، اجتماعی مفادات کا تحفظ جیسے خوبصورت اعلی اقدار کی مثالیں قائم کیں۔

مولانا الیاس قادری کی کردارسازی کے اسلوب اور منہج میں رفاہی یعنی سماجی خدمات کا عنصر بھی شامل ہے آپ نے اپنے دینی پلیٹ فارم پر عوامی بہبود کے شعبہ ایف جی آر ایف تعارف کرواکر دنیا میں دعوت اسلامی کو نئی پہچان عطا کی ۔

درحقیقت مولانا الیاس قادری نے کردارسازی کے ذریعے تعمیر شخصیت کی اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔آپ نے اسلامی طرز زندگی کا تعارف اپنے کردار سے پیش کیا اور کردارسازی کے عمل سے عملی اصلاحی نظام قائم ہوا ،ہزاروں زندگیاں سنوریں، انفرادی واجتماعی سطح پر اسلامی آداب زندگی کا طرز پھیلا، امن ،سکون اور دینی بیداری کاشعور پروان چڑھا۔کردار سازی اور تعمیر شخصیت میں مولانا الیاس قادری کی تحریک سے اسلامی انقلاب دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں دعوت اسلامی کی تعلیمی ، سماجی، فلاحی، دینی خدمات کی صورت میں نظر آیا اور دور جدید کے مفکرین کو عملی طور پر اسلام کا نظام تربیت اپنی اصلی صورت کےساتھ دیکھنے کو ملا۔

حاصل کلام:

امیرا ہلسنت مولانا الیاس قادری رضوی نے کردار سازی اور تعمیر شخصیت کےحوالے سے جو اقدامات کئے وہ آپ کی آفاقی سوچ کا آئینہ دار ہیں،۔آپ نے امت کو 1500 سالہ اسلامی نظام اخلاق کا بھولا ہوا سبق یاد دلایاہے۔ آپ نے بھنور میں پھنسی امت کی کشتی کو سنت نبوی کے راستہ پر چلا کر امت کی نگہبانی کی اور ان کو منہج نبوت کی شاہراہ پر چلا کر امت کی ہدایت کا سامان کیا۔آپ نے دورجدید کے مفکرین کی طرح تھیوریٹیکل کردار سازی کو نہیں پڑھایا۔ بلکہ اسلام کے بابرکت نظام کی عملی تعبیر پیش کی۔ آپ نے کریکٹربلڈنگ پر لیکچر نہیں دیئے بلکہ کردارسازی کااسلامی تصور اپنے طرز عمل سے سکھایا۔آپ نے کردار سازی کو ادارتی خدمات تک محدود نہیں کیابلکہ تعمیر شخصیت کا حصہ بیانا اور معاشرتی کردار ادا کرنے کی عملی تربیت کی۔ کردار سازی کےذریعے آپ نے معاشرے کے رجحانات میں اسلامی تشخص بحال کیا۔اور لاکھوں لوگوں کو اسوہ حسنہ کےمطابق زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا۔ آپ وہ عہد ساز اور زمانہ ساز شخصیت ہیں جن کی دینی کاوشوں اور اصلاحی اقدامات سے اسلامی تشخص اور اسلامی تہذیب کے اثرات دنیا میں مرتب ہوئے ۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!