مشہور عالم دین اور ماہر تعلیم ملا نظام الدین سہالوی (وفات 1748ء) کی شبانہ روز محنت شاقہ کے نتیجے میں اسلامی نظام تعلیم کا نصاب اٹھارہویں صدی میں ترتیب دیاگیا۔ یہ نظام تعلیم درس نظامی کے نام سے اپنے ابتدائی دور کے آغازسے ہی برصغیر کے دینی مدارس اور جامعات میں قابل توجہ رہا۔اٹھارہویں صدی سےاب تک اسلامی علوم وفنون میں مہارت تامہ کےلئے درس نظامی یعنی اسلامی نصاب تعلیم کے مدارج طے کرنا اور ان میں مہارت تامہ حاصل کرنا ا زحد ضروری ہے۔یہ نصاب تعلیم اپنے قیامِ وقت کے تقاضوں کے مطابق علمااور اسلامی اسکالز کی علمی وفکری ضرورتوں کو پوراکرتارہا۔اسی نصاب تعلیم کےفیض یافتہ حضرات اپنے دور کی دینی وسماجی شخصیت میں نمایاں نام کمانے میں کامیاب ہوئے۔ اسی نظام تعلیم کی بدولت ہزاروں علما علم کے زیور سے آراستہ ہو کر معاشرے میں علم کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ آج بھی عصری مروجہ نظام تعلیم میں درس نظامی یعنی عالم کورس کی اپنی اہمیت ہے ۔ حکومتی سطح پر درس نظام سے فارغ التحصیل علما کو ایم اے کےدرجہ کے مطابق اسناد دی جاتی ہیں۔ ہزاروں دینی مدارس ، جامعات میں درس نظام کے نام سے اسلامی نظام تعلیم اسلامی علوم کی اشاعت کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ۔اس نظام تعلیم میں قرآن وحدیث، تفسیر ،عقائد اسلام، فقہ وفتاوی، اصول حدیث واصول فقہ،اسلامی فلسفہ بلاغت،عربی گرام اور عربی ادب کے ساتھ اسلامی آداب زندگی پر مشتمل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ درحقیقت درس نظامی آج کی دور میں مسلمانوں کی علمی شناخت ہے اور اسی نظام تعلیم کے پروردہ دین اسلام کے معمار ہیں ۔عصر حاضر کی دینی ضرورتوں کے ساتھ دور حاضرکے تقاضوں کے مطابق عصری علوم میں مہارت حاصل کرنا بھی ایک مسلم حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ مذکورہ حقیقت کے باوجود اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلامی تعلیمات کی بقا کا مسئلہ ہمیشہ سے اہل علم میں مسلّم رہا۔اس وقت دینی تعلیم کے عالمی فروغ اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی نظام تعلیم کی مروجہ تدریس کو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق کرنا اور جدت کےساتھ انداز تدریس کالائحہ عمل تیار کرنا امت کے علماکی اولین ذمہ داری محسوس کی جا رہی ہے۔دور حاضر میں درس نظامی کے فروغ کے تناظر اور اسلامی نظام تعلیم کی عالمی سطح پر پزیرائی کےحوالے سے عالم اسلام کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے روح رواں مشہور ومعروف مذہبی اسکالر مبلغ اسلام، مصلح امت حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کی تعلیمی کاوشوں کو بنظر غائر دیکھیں تو درس نظامی یعنی عالم کورس کے بین الاقوامی فروغ اور اس کی تجدید کےاقدامات سے علمائے اسلام کو ڈھارس ملتی ہے۔زیر نظر آرٹیکل ’’ عالم سطح پر اسلامی نصاب تعلیم کےفروغ کےلئے امیر اہلسنت کی تعلیمی خدمات کا تحقیقی جائزہ‘‘ مولانا الیاس صاحب کے فروغ تعلیم کی تجدیدی خدمات کا ایک اشاریہ قارئین کی نظر کیا جارہاہے۔
امیر اہلسنت کی تعلیمی خدمات کا تاریخی پس منظر:
فسادامت کےوقت امت مسلمہ کی دینی واخلاقی اصلاح کا عزم لئے مولانا الیاس قادری نے 1981 میں اپنی دینی تحریک’’دعوت اسلامی‘‘ کے پلیٹ فارم سے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور نسل نو کی دینی اخلاقی تربیت کا آغاز کیا۔آپ نے اپنی دینی تحریک توسط سے ہمہ جہت خدمات کےذریعے معاشرے کے ہر شعبہ پر گہرے اثرات مرتب کئے۔آپ کی دیدہ دیب شخصیت اور مسحوکن لہجہ نے لاکھوں افراد کی انفرادی واجتماعی زندگی میں دینی انقلاب برپا کیا۔خصوصا تعلیمی اقدامات کےذریعے نوجوان نسل کی دینی تعلیم اور شریعت کے مطابق تربیت کرنے میں اصلاح امت کا کلید ی کردار اداکیا۔حضرت الیاس صاحب نے اپنی اصلاحی تحریک کے قیام سے ہی تعلیم امت کو مرکزی خیال بنایا اور خصوصا نوجوان نسل کو دینی تعلیم کےذریعے مغربی تہذیب کی چکم دمک کےاثرات سےبچانے کےلئےعملی اقدام اٹھایا۔ یہ وقت تھا جب دعوت اسلامی کے خدوخال امت میں نظر آناشروع ہوچکے تھے ۔آپ نے اس وقت جب اپنی دینی تحریک کا آغاز کیاتو پہلے تعلیم امت کےلئے مسجد کےمرکزی کردار کو درسگاہ بنایاپھر اپنی تحریک کے دینی اثرات سے رونماہونے والے انقلاب کو راہ علم پر گامزن کیااور مضبوط نظام تعلیم کےلیےتبلیغی میدان کے علما اور اسلامی اسکالرز پیدا کرنے کےلئے جامعۃ المدینہ اسلامک ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل یقینی بنایا۔
فروغ تعلیم کےلئے امیر اہلسنت کی آفاقی فکر:
امیر اہلسنت کےنزدیک امت کی اصلاح سے مقصود انہیں عبادت کاخوگر بنایا نہیں تھا بلکہ ان کی آفاقی فکر میں نوجوان نسل کی ایسی تربیت کرنا تھا جو اپنی دینی واخلاقی اصلاح کے ساتھ علم دین کے مینارہ نور بن کر معاشرے کےلئے روشنی کا کردار ادا کرسکیں۔آپ نے اپنی فکرکےعزم کو اللہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے مہمیز لگائی اور درس نظامی یعنی اسلامی نصاب تعلیم کے مروجہ نظام کو عالمی معیار کےمطابق پڑھانے کےلئے اپنی دینی مرکزکی عالیشان عمارت میں وسیع پیمانہ پر جگہ دی۔آپ نے اپنے مبلغین پاکستان کے نامور علماکےسامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کےلئے بھیجے ۔علمی لحاظ سے اپنی مبلغین کے لوح وقلم کی پرورش کی ۔پھر جامعۃ المدینہ میں منصب تدریس پر بٹھاکر باقاعدہ اپنی تحریک کےذریعے فروغ علم دین کےلئے اپنی دینی ذمہ دار کا حق ادا کیا۔امیر اہلسنت نے تعلیم کو امت کی بقا کا بنیادذریعہ قرارد یا۔آپ کی دینی سوچ میں محض علم دین حاصل کرکے عالم بننا مراد نہیں بلکہ آپ نے اپنے نصاب تعلیم میں علم کےساتھ عمل کی سوچ پروان چڑھایا ۔آپ نے اپنی زندگی کو جسطرح معاشرہ میں متعارف کروایا اسی طرح اپنے طلبہ کی کردارسازی پر بھرپورتوجہ کی ۔جامعۃ المدینہ دنیا کے پہلی درسگاہ ہے جہاں علم سے زیادہ عمل کی رغبیت دلائی جاتی ہےاور عملی طور پر سنت نبوی کے مطابق شب وروز گزارنے کےلئے عملی مشق بھی دی جاتی ہے۔ایک مکمل علم وعمل ، تعلیم وتربیت، دینی واخلاقی اور تعلیمی خدمات کا معیاری ادارہ جامعۃ المدینہ ہے۔ کم وبیش ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ وطالبات علم دین سیکھنے کی لگن کےساتھ فروغ علم دین کی عملی کوششوں میں امیر اہلسنت کےساتھ میدان عمل میں روشنی کا مینار بنے ہوئے ہیں۔ جامعۃ المدینہ فروغ تعلیم کامنظم نیٹ ورک:
جامعۃ المدینہ اسلامک ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ مولانا الیاس قادری کی آفاقی فکر کاترجمان، علم دین کی اشاعت کی سب سے بڑ ی علامت، علما کی نوک پلک سنوارنےکا نظام تربیت، علوم اسلامیہ کےفروغ کا مرکزی ادارہ اور دنیا میں اسلامی عقائد ونظریات کی ترویج و تعلیم کےساتھ اخلاقی وروحانی تربیت کا منظم نیٹ ورک اور اسلامی اقدار کے تحفظ کا امین ادارہ ہے ۔ہزاروں طلبہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیاکے 50سے زائد ممالک میں باقاعدہ جامعۃ المدینہ انٹرنیشنل اسلامک ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ میں علم دین حاصل کررہےہیں۔مولانا الیاس قادری کی جہاندیدہ شخصیت نے صدیوں سے مروجہ درس نظامی کے فروغ میں جو عملی تربیت کا نظام متعارف کروایا ہے وہ فروغ اسلامی نصاب تعلیم میں عصرحاضر کی زندہ کرامت ومثال ہے۔معتدل ،اخلاق نبوت کامنظر پیش کرتا ہوا جامعۃ المدینہ کا تعلیمی وتربیت ماحول اپنی کامیابی کے تیس سال مکمل کرچکاہے ۔پاکستان کےعلاوہ دنیاکے اکثروبیشترممالک تقریبا دوہزارسے زائد برانچز قائم ہوچکی ہیں ۔ڈیڑھ لاکھ سے زائد علما علم دین کی مکمل تحصیل کے بعد معاشری وسماجی ماحول میں خدمت دین کے فرائض سرانجام د ے رہے ہیں۔ امیر اہلسنت کی توجہ کا مرکز جامعۃ المدینہ کے طلبا
امیر اہلسنت کی تبلیغی مساعی میں عوام الناس کی تربیت کےساتھ خاص توجہ دینی طلبہ کی تربیت پر ہے۔آپ گاہے بگاہے طلبہ کےساتھ علمی نشست مقرر کرتے ہیں، طلبہ کو علم کےساتھ عمل کی ترغیب دلاتے ہیں۔آپ طلبہ کو معمارقوم سمجھتے ہیں اسیلئے آپ نے بھر پور انداز میں جامعۃ المدینہ کےتعلیمی جدول کو اس انداز سے تربیت دیا کہ طلبہ علم بھی حاصل کریں اور دروان طالبعلمی اپنی اصلاح کےساتھ دوسروں کی بھی اصلاح کاباعث بنیں۔
آ پ نے طلبہ کے لیے ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی اور ان کی خداداد صلاحیتوں کونکھارنے کے لئے غیر نصابی سرگرمیوں کوبھی فروغ دیا۔نصاب تعلیم میں قدیم طرز تدریس کےساتھ جدید انداز میں تعلیم وتربیت کا ماحول بھی دیا۔طلبہ کو اپنی قرب میں جگہ دے کر انہیں علم دین عام کرنے کےلئے ذہن طور پر تیار کیا۔یہ جامعات المدینہ کے طلبہ ہی ہیں جو مبلغ بن کر افریقہ ، شمالی کوریا، امریکہ، کینیڈا، یورپ خلیجی ریاستوں ، سری لنکا، بنگلہ دیش ، انڈیا، کوریا اور پاکستان کے دور دراز علاقوں میں تبلیغ کے ساتھ علم دین بھی عام کررہے ہیں۔ مولانا الیاس قادری صاحب کا سب سے بڑا دینی کارنامہ امت کےافراد کو علما کی ایسی جماعت تیار کرکےدی جو اسوہ رسول کے مطابق نہ صرف خود زندگی گزارتے ہیں بلکہ معاشرے احیائے سنت کے علمبردار بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی تبلیغ میں بھی مصروف ہیں۔
آپ نے اپنے طلبہ وطالبات کو عصر حاضر کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کےلئے علم کے ساتھ عمل کی تلوار بھی دی اور جادہ حق کا ایساپرستار بنایا کہ دنیا وی حرص وہوس کی طمع ان کے پائے استقلال میں جنبش بھی پیدا نہیں کرسکی۔امیراہلسنت حضرت علامہ مولانا الیاس قادری نے تہذیب مغرب کی سامنے اسلامی تہذیب کو زندہ کیا اور آداب اسلامی بجالانے کےلئے اسلامی تربیتی ماحول کی نشوونماکی۔ دعوت اسلامی کے جملہ شعبہ جات بالخصوص جامعۃ المدینہ کو ماڈل بناکر معاشرے میں عصر ی علوم کی جامعات کےمقابلے میں تحصیل علم کی عالمی درسگاہ دی جہاں علم کےساتھ عمل کی ترغیب بھی ملتی ہے۔ اسلامی نصاب تعلیم کے فروغ میں اصلاحات کا نظام
مولانا الیاس قادری نے مروجہ اسلامی نصاب تعلیم میں جو تبدیلیاں اور اقدامات کئےان کا مختصر جائزہ مزید تحقیق کےلئے پیش خدمت ہے۔ نصاب تعلیم کی اصلاح:
آپ نے عصری تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر اسلامی نصاب تعلیم کو مزید فوقیت دلانے اور اہمیت بٹھانے کےلئے درس نظامی کے کورس میں چند نمایاں تبدیلیاں کتابوں کی صورت میں لائی۔ مثلا آپ فقہ کتابوں کےساتھ فتاوی کی تدریس اور مطالعہ کا شوق پیدا کیااور عملی اقدام کےلئے فتاوی کے مطالعہ کا نظام بیانا،بہارشریعت اور فتاوی رضویہ کےمطالعہ کو اولین ترجیح میں رکھا ۔یہ جامعۃ المدینہ کا طرہ امتیار دیگر جامعات کے مقابلہ میں کہ یہاں کے طلبہ عملی طور پر فقہ سے زیادہ فتاوی کے مطالعہ کرچکے ہوتے ہیں اور عملی میدان عمل میں لوگوں کی دینی رہنمائی ہیں۔ تخصص فی الفقہ کاآغاز:
مولانا الیاس قادری صاحب کے قائم کردہ نظام تعلیم کی سب بڑی خوبی آپ کے پرورودہ افراد کا فقہ میں وسیع مطالعہ اور درس نظامی کے طلبہ وطالبات کےلئے پاکستان میں پہلی بار فراغت علم کےبعد تخصص یعنی اسپیشلائزیشن کا آغاز ہے۔جامعۃ المدینہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ فارغ التحصیل علما کو تخصص فی الفقہ اور فتاوی کی عملی مشق کرانے کےلئے منظم انداز میں دار الافتاء کی خدمات ہیں۔تخصص فی الفقہ کے کامیابی کے بعد تخصص فی اللغۃ ، تخصص فی الدعوۃ والارشاد، تخصص فی الحدیث کے شعبہ جات کا قیام فروغ علم دین میں جامعۃ المدینہ کی منفرد تعلیمی خدمات کا عملی ثبوت اور مولانا الیاس قادری کی آفاقی فکر کی عملی تصویر اور امت کی عالمی سطح پر خدمت دین کرنے کا اعزاز ہے۔
جدید ذرائع ابلاغ کےذریعہ انداز تدریس:
مولانا الیاس قادری فی الحقیقت دورہ حاضر کی وہ آفاقی شخصیت ہیں جنہوں نے امت کی ہر لحاظ سے تربیت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ آپ نے جدید تقاضوں کو پیش نظررکھ کر نوجوانا ن ملت کےلئے اصلاح کا جامع نظام مرتب کیا۔دنیا بھر کے مسلمانوں علم دین سے بہر امند کرنے کےلئے ملک میں جاکر خدمت کرنے کو ترجیح نہیں دی بلکہ نوجوانوں کو ان کے مزاج کے مطابق ان کی دینی واخلاقی تربیت کا سامان فراہم کیا۔آپ نے پہلی بار دنیا ئے اسلام کے اسلامی نظام تعلیم میں جدیدذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کیا۔
آن لائن درس نظامی کا آغاز، فقہی مہارت حاصل کرنے کےلئے آن لائن تدریبی سسٹم، قرآن وحدیث کی تدریس اور دعوت وارشاد کی عملی تربیت کےلئے جدید اسلوب تعلیم کا رائج کیا ۔مولانا الیاس صاحب نے عملی اعتبار سے اسلامی نصاب تعلیم میں جدت پید کرکےنوجوانون کےلئے دلکشی پیدا کی اورانہیں علم دین حاصل کرنے کی رغبت دلائی۔
نصاب تعلیم میں دعوت وتبلیغ کے نصاب کااضافہ:
دنیا کے بڑی بڑی جامعات نصاب تعلیم کا مطالعہ کرنے یہ بات روز روشن کی طرح اظہر من الشمس ہے کہ وہاں کے نصاب میں صرف تدریس اور تعلیم ہے ۔ جامعۃ المدینہ کےاسلامی نصاب تعلیم میں تعلیم کے ساتھ تربیت، علم کے ساتھ عمل، تدریس کے ساتھ تدریب، فقہ کے ساتھ فتاوی، سلوک کے ساتھ اسباق سلوک ،تصوف کے ساتھ روحانیت کی عملی مشق اور سب سے بڑی خوبی دعوت وارشاد کے عملی اسباق بھی نصاب تعلیم کا حصہ مقرر ہوئے ہیں۔ دینی قیادت کی فراہمی:
جامعۃ المدینہ کے نصاب تعلیم میں مولانا الیاس قادری نےانتہا درجہ کی جاذبیت رکھی کہ طلبہ کی کثیر تعداد جامعۃ المدینہ کے نصاب تعلیم کو مکمل کرنے کےلئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس جامعۃ المدینہ کی خصوصیت ہےکہ یہاں کا فارغ التحصیل عالم کو عملی میدان میں تبلیغی زندگی کے کسی موڑ پر رہنمائی کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایسے نصاب تعلیم کو پڑھ چکاہوتا ہے جو دوسروں کےلئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی نصاب تعلیم کے فروغ میں شارٹ دینی کورسس کااجرا:
مولانا الیاس قادری کی شخصیت کےنمایاں پہلوؤں اور امتیازات میں جو چیز آپ کو معاصر علمائے اسلام اور دینی تعلیم کے ماہرین میں ممتاز کرتی ہے و ہ آپ کی گرانقدر تعلیمی خدمات اور اس کے تجدیدی کارنامے ہیں۔ آپ کی نباض عصر شخصیت نے درس نظامی میں حالات اور وقت کے تقاضوں کے مد نظر رکھ کر وہ تبدیلیاں پید ا کیں جس درس نظامی سمجھنااور پڑھنا آسان ہوگیا۔آپ وہ عالم دین ہیں جو خوداسلامی تعلیم کے مروجہ نظام سے فراغ التحصیل ہونے کا شرف پانہ سکے لیکن فروغ تعلیم میں اپنا نام کام کر درس نظامی کے نصاب تعلیم میں اپنی صلاحتیوں کو لوہا منواگئے۔مثلاآپ نے جب تبلیغ کا آغاز کیا اور لوگوں کو معاشی فکر میں سرگرداں دیکھا ،حالات وواقعات کاتجزیہ کیا ۔تو آپ کے طائر فکر نے افلاک کی وسعتوں میں پنہاں و ہ گوہر نیاب اقدامات کئے کہ جس کو دیکھ کر دنیا نے آپ کے اسلوب تعلیم کو مشعل راہ بنایا۔آپ نے عوام الناس کی مجبوریوں اورمعاشی ضرورتوں کابھی اندازہ لگایا اور علم دین کی محبت کو بھی پروان چڑھایا۔آپ نے اسلامی نظام تعلیم کے نصاب کو عام فہم بنانے اور لوگوں تک رسائی دینے کےلئے کچھ نصابی تبدیلیاں لائیں۔شارٹ دینی کورسسز کا آغازکیا، رات کی کلا س میں درس نظامی پڑھانے کا اہتمام کیا،ایمان بچاؤ تحریک کےذریعے کردارسازی کی اور لوگوں کو فرض علم سیکھنے کی رغبت دلائی۔ پروفیشنل حضرات کےلئے دو دن، ایک ہفتہ اور ایک ماہ کے شارٹ کورسسز دو دوگھنٹوں کی کلاس میں پڑھانے کا طریقہ وضع کیا۔ہر ممکنہ طو ر فروغ درس نظامی یعنی عالم کورس کی ترویج کے اسباب اختیار کئے۔چند گھنٹوں کی نشست میں علم کی باریکیاں سمجھائی،طویل اسباق کو مختصر دورانیہ میں پڑھنا کا انداز متعارف کروایا۔طہارت وغسل پر مبنی طویل اسباق کو آسان فہم بناکر مختصر دورانیہ میں سمجھائے ۔عالم کلاسسز کا آغاز کیا، آئن لائن صرف ونحو کی پیچیدہ ابحاث کےلئے عملی مشقیں پیش کیں۔الغرض دعوت اسلامی کےپیلٹ فارم سے فروغ درس نظامی کے عملی اقدامات میں مولانا الیاس قادری کےتعلیمی افکارو نظریات نے معاصر علمائے اور درس گاہوں کے منتظمین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ جدید انداز اور مختصر دورانیہ میں درس نظامی کےفروغ میں عملی اقدامات مولانا الیاس قادری کی دینی جدوجہد کے حقیقی ثمرات ہیں جس سے دیگر ادارے مستفید ہورہے ہیں۔ اسلامی نصاب تعلیم کے فروغ کےلئے عالمی خدمات کا تذکرہ
امیر اہلسنت نے جامعۃ المدینہ کے تعلیمی نصاب میں مقامی طلبہ اور طالبات کے علاوہ بین الاقوامی طلبہ وطالبات کو بھی اہمیت دی ۔فقہ حنفی کی اشاعت کے ساتھ دیگر اہلسنت کے فقہی مذاہب کے پیروکاروں کوبھی جامعۃ المدینہ کاحصہ بنایا۔عالمی سطح پر آن لائن نصاب تعلیم کی براہ راست تدریس سے متاثر ہونے والے طلبہ کو جامعۃ المدینہ میں خوش آمدید کہا۔انہیں انہی کی زبان میں تدریس کرنے کےلئے عالمی اسلامک اسکالرز کی خدمات لی اور دعوت اسلامی کے اصلاح نظام کےمطابق ان کی تربیت کی۔پھر نصاب تعلیم کو ہرملک کے مروجہ تعلیم نظام کےتحت جوڑا اور غیر ملکی طلبہ وطالبا کو مقامی اندا ز کے ساتھ جدید اسلوب تدریس کے ساتھ تعلیم دلوائی۔امریکہ ، انڈونیشیا، مراکش، سوڈان،افریقہ، سری لنکا ، بنگلہ دیش، نیپال بھوپال اور یورپ کے بہت سارے ملکوں میں مقامی زبان میں جامعۃ المدینہ کے تدریسی نظام میں تبدیلیا ں لائیں۔آپ نے جدید انفارمیشن ٹیکنولوجی کو درس نظامی کی تعلیم وتدرس میں منفرد طور پر پیش کیا۔موبائل ایپلی کیشن اور ای لرننگ سسٹم کےذریعے فروغ اسلامی نصاب کی عملی تصویر معاشرے کے مقتدر علما کو پیش کرکے ملا نظام الدین سہالوی (وفات 1748ء) کی قدیم روایت کو جدید انداز میں زندہ کیا۔
خواتین کےلئے اسلامی نصاب تعلیمی کا فروغ:
حضرت الیاس عطاری صاحب کی چمن آرائی میں جو کاوشیں صرف ہوئیں ان کے حقیقی ثمرات معاشرے کا ہر طبقہ مستفید ہورہا ہے۔فقط تعلیمی اقدامات میں مولانا الیاس قادری صاحب کی مرکزی متوجہ میں مرداور نوجوان حضرات ہی نہیں رہے بلکہ آپ نے حصول تعلیم میں خواتین کےلئے بھی بھرپور دینی خدمات سرانجام دیں ۔ اب بھی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود دعوت اسلامی کے سوشل میڈیا اور الیکڑانک میڈیا کے پلیٹ فارم کے ذریعے دینی وسماجی اور تعلیمی خدمت پیش کررہے ہیں۔آپ نے اپنی نظام تعلیم کے سب سے بڑے ادارے کی وسعت میں خواتین اسلام کے ادارے کو بھی بھر پور جگہ دی اور ان کی تعلیم وتربیت کےلئے وسیع پیمانہ پر بندوبست کیا۔عالمی مجلس مشاورت کے ذریعےخواتین میں درس نظام کے فروغ لئے جامعات المدینہ للبات اور مدارس المدینہ للبنات کا سنگ بنیاد رکھا۔نیزگھویلوخواتین اور پروفیشنل لیڈیز کےلئے دینی تعلیمات کے شارٹ کورسسز بھی جاری کئے۔اگر ایک طرف بچے ہزاروں کی تعداد میں مولانا الیاس قادری کی سوچ وفکر کے آئینہ دار بن رہے ہیں تووہیں جامعات المدینہ للبنات میں سیدہ زہرا کا فیض بھی نظر آرہا ہے۔آپ نے خواتین کی تعلیم وتربیت کےلئے منظم باپردہ چاردیواری اور اسلام کے نظام حیاسے مربوط نظام کو قائم کیا اور بچیوں کے لئے درس نظامی کے مروجہ نصاب اور شارٹ کورسسز مقرر کئے۔جامعات المدینہ للبنات سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں بچیاں کردارسازی کے عمل سے گزرکر معاشرے میں احیائے اسلام کی کوششیں کررہی ہیں۔
فروغ اسلامی نصاب تعلیم میں امیراہلسنت کی سوچ کی پزیرائی :
دنیاکے بدلتے نظام اور تہذیبی کشمکش میں اہل ایمان کو دین اسلام پر چلانے کےلئے مولانا الیاس قادری نے پاکستان کےعلاوہ دنیاکے 150سے زائد ممالک میں اپنے مبلغین کو روانہ کیا۔آپ کے مریدین ، مبلغین کو کدوکاوش اور مساعی سے اب تک سینکڑوں ادارے فروغ درس نظامی میں اپنا عالمی کردار پیش کررہے ہیں۔صرف شام ، ترکیہ، مراکش، انڈونیشیا، سوڈان، ملائیشیا،شمالی کوریا، افریقہ، اٹلی ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ، نیدرلینڈ اور دیگر ممالک جن کا تزکرہ سطور بالا میں گزر چکا ہے وہاں عملی طور پر دعوت اسلامی کے تعلیمی ادارے فروغ اسلامی نصاب تعلیم میں اپنا بھر پور کردار ادا کررہے ہیں۔دور حاضر میں عالمی سطح پر امیر اہلسنت کی فکرکے ترجمان علم دین کی اشاعت دن رات محنت کررہے ہیں ۔ہر جگہ امیر اہلسنت کی فکر کی پزیرائی دعوت اسلامی کےدینی کاموں کی کامیابی سے جھلک رہی ہے۔
حاصل کلام :
بلاشک وشبہ امیر اہلسنت فکر نے اسلامی نصابِ تعلیم کے فروغ میں محیر العقول خدمات سرانجام دی۔آپ دینی کاوشوں کی وجہ سے لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیمی زیورسے آرستہ ہوکر معلمین اورمربیین بن کر شمع علم جلارہی ہیں۔آپ نے نصاب تعلیم میں جو اصلاحات متعارف کروائیں ان کے اثرات اب دیگر اداروں میں بھی نظر آرہے ہیں۔ کئی سینکڑوں طلبہ دیگر اداروں سے فارغ التحصیل ہوکر جامعۃالمدینہ کے کردارسازی پروگرامز شریک ہوکر دعوت وارشاد کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں باوجود یہکہ وہ خود بھی دیگر اداروں سے فارغ التحصیل ہوچکے ہوتے ہیں۔
آپ نے عصر حاضر کی تمام ترترجیحات کے مقابلے میں علم دین کو فوقیت دی اورتحصیل علم کے ذرائع کو اتنا خوش نما کیا کہ لوگوں کے دل خود بخود درس نظامی کورس میں داخلہ کےلئے کھینچے چلے آتے ہیں۔آپ نے امت کو اسلامی نصابِ تعلیم کا جدید رنگ دیا ۔آپ نے فقہی مہارت پیدا کرنے کی سوچ کو پروان چڑھایا۔آپ نے دینی نصابِ تعلیم میں اسپیشلائزیشن متعارف کیا۔عملی طور پر مختلف شعبہ جات میں درس نظامی سے فارغ التحصیل علما مقرر کیا۔آپ کوہی یہ اعزاز جاتا ہے کہ آپ نے صرف علما تیار نہیں کئے بلکہ سماج میں سماجی اور فلاحی کام کرنے والے علما کی صورت میں سماجی کارکنان بھی تیار کئے ہیں۔دنیا کے موسمی تغیرات کے نتیجہ میں ہونے والی تباہی اور سیلاب متاثرین کی مدد میں ایف جی آر ایف کے کارکنان درحقیقت جامعۃ المدینہ کے نصاب تعلیم کو خوشہ چیں ہی تھے جو اکتساب علم کےساتھ سماجی بہود کے کام بھی کررہے ہیں۔مولانا الیاس قادری نے درس نظامی کے نصاب کو متوازن تعلیم نظام کے طور پر پیش کرکے آنے والی نسلوں کو علم دین سے معارفت عطا کی ۔آپ کی تمام ترتعلیمی خدمات اور تعلیمی انقلاب سے رونماہونے والی نصاب تعلیم کی تبدیلیاں امت کو علم دین آسان انداز میں سیکھنے کا بھرپورموقع فراہم کریں گی۔اللہ تعالی آپ کی جملہ مساعی اور تعلیمی خدمات کو آنے والی نسلوں کےلئے کارآمد بنائیے اور آپ کو صحت کاملہ کے ساتھ عافیت والی زندگی عطا کرے ۔آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!