امیرِ اہلِ سنت کی سیرت اور عشق رسول کے عملی تقاضے

مولانا الیاس قادری کی زندگی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی اور روشن تعبیر ہے۔ آپ کی سیرت میں اطاعتِ رسول، سنتوں پر عمل، فروغِ دین اور خدمتِ خلق نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ دعوتِ اسلامی کے عالمی دعوتی، تعلیمی اور فلاحی اقدامات کے ذریعے عشقِ رسول کے تقاضے فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرتی تبدیلی تک پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کتاب قارئین کو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی معنویت، اس کے عملی مظاہر اور معاشرے میں اس کے مثبت و مؤثر فروغ کی جامع اور فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

December 24, 2025

جان ایمان حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم

کائنات رنگ وبو میں مرقع حسن وجمال اور مظہرجمال خدا فقط حضور نبی رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا ہے۔آپ ارض وسما کی رونق اور قدرتِ الٰہی کا آئینہ ہے جس سے انواروتجلیات ِالٰہیہ کے عکس جھلکتے ہیں۔ رب کائنات نے آپ کومقام محبوبیت پر فائز کیا۔ اپنی ذات سے محبت کرنے والوں کے دعوی کی سچائی میں آپ کو دلیل قرار دیا۔آپ کی الفت اوررضا کو اپنی محبت اور رضا ٹھہرادی۔آپ کی اطاعت واتباع کو اپنی اطاعت واتباع کےساتھ مربوط کردیا ۔آ پ کو مرکز ایمان بنا دیا بلکہ ایمان کی جان آپ کی ذات والا قرار دے دی۔اسیلئے آپ کی بارگاہ بےکس پناہ میں شاہان عالم سرخمیدہ کرکے مجرائے سلام پیش کرتےہیں۔کیونکہ آپ ہیں تو ایمان ہے۔ آپ کی محبت ایمان کا حسن ہے ۔ آپ سے عشق ایمان کی لذت اور مٹھاس ہے۔ آپ کی چاہت ایمان کا تقاضا اور ایمان آپ کےعشق کامتقاضی ہے۔

عشق رسول سے مراد کیا ہے؟

عشق رسول ہے کیا؟عشق رسول اس قلبی کیفیت کانام ہے جس کا اظہار عاشق رسول کی ظاہری وباطنی زندگی سے ہوتا ہے۔راہ عشق مصطفی کے یہ عشاق عشق نبی میں مچلتے اور تڑپتے ہیں ۔یہ اپنے مزاج عشق میں بڑے ہی مخلص ہوتے ہیں اورمحبت رسول کی عملی پہچان ان کےکردار کی جھلک پیش کرتی ہے ۔کیونکہ ان کا عشق الفاظ سے زیادہ ان کی سیرت سے عیاں ہوتاہے ۔ یہ لوگ حب نبی سے سرشار اپنے محبوب کی اداؤں پر مرمٹتے ہیں۔جیساکہ عشق رسول کی راہ کے پہلے مسافر عاشق اکبر ابوبکر الصدیق والہانہ عشق کی زندہ مثال ہے ۔ آپ ہی کے عشق کے آئینہ میں عاشقان رسول عکس جمال مصطفی دیکھ کر آپ کے نقش کو خضرراہ بناتے ہیں ۔

کیا عشق رسول ایمان کا سرمایہ ہے؟

راہ اخلا ص ووفا میں عشق رسول وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کےبنا کوئی وفا وفا نہیں رہتی ۔ اخلاص خود مخلصی کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ عشق رسول سرمایہ ایمان ہے اور ایمان اپنے سرمایہ عشق کو اخلاص کی صورت میں دیکھنا پسند کرتا ہے۔ اور اخلاص اپنا اظہار مخلص کے کردار میں کرتا ہے۔جب اخلاص سچا ہوتا ہےتو رومی وسعدی کے نغموں کی طرح دلوں کو گرماتا ہے۔ پھر جب کوئی راہ اخلاص ووفا میں عشق رسول کی مٹھاس چکتا ہے پھر وہ بلال حبشی کو امام عشق بناکر محبت رسول کی اذان دیتا ہے تو اس کی اذان کی صدائیں پھر چاردانگ عالم میں سنائی دیتی ہیں۔ جس طرح ماضی میں اہلِ عشق نے دین کی سربلندی میں شاندار کردار ادا کیے، اسی سنت کو آج بھی بعض ہستیاں زندہ کیے ہوئے ہیں۔

پیکر عشق رسول:

"یہی حال عصرِ حاضر میں پیکرِ عشقِ رسول امیرِ اہلِ سنت کا ہے۔عشق ِ رسول کی وہی بےتابی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری کے رنگ میں بھی نظر آتی ہے ۔آپ علمائے معاصرین اورمحبت رسول کے پروانوں کےدرمیان عشق رسول کی شمع بن کر جلوہ گرہوئے ۔آپ نے عشق ِ رسول کی شمع ہر دل میں جگانے کے لئے سعدی ورومی کے نغمے حدائق بخشش ووسائل بخشش کے رنگ میں سناکر شمع رسالت کے پروانوں کو گرمایا۔ محبت رسول کی بنیاد پر عمارت اعمال کھڑی کی اور مینار عشق بن کر شمع عشق رسول جلائی ۔سوز وسازِ نعمہ ہائے محبت رسول سے دلوں کوگرما کر اتباع واطاعت رسول پر مشتمل معاشرے کے خدوخال پیش کئے۔اورافراد معاشرہ کے مزاج میں سنت رسول کی محبت پید ا کر کے عشق رسول کے جوت جگائے۔

قرآن وحدیث کےآئینہ میں عشق رسول کا تصور

عشق رسول کامطلب سمجھانے اور اس کی عالمگیر حیثیت سے پردہ اٹھانے کےلئے فقط ایک آیت اور حدیث سے دلیل پیش ہے۔ عیسائیت کے مذہبی پیشواؤں نے جب خدائی محبت کےدعویدار بن کر آستانہ رسالت پر حاضری دی اور اپنے محبوب الہی ہونے کا دعوی پیش کیا توسورہ آل عمران کی آیت نمبر 31 نازل ہوئی۔ جس میں رب عیسی نے محبوب الہی ہونے کی دلیل طلب کی اور انہیں اپنی محبت کے آداب کے تقاضے بتائے اور تقاضوں پر عمل کی صورت میں اپنی نوازشات کا یقین دلایا ارشاد باری تعالی ہے : قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت مذکورہ محبت الٰہی کے رستہ کی دلیل اطاعت رسول اور اطاعت رسول کی سچائی عشق رسول ہے کیونکہ بنا عشق کے عبادت نہیں بلکہ نقالی ہے۔مزید تفصیل کےلئے تفسیر صراط الجنان کا مطالعہ مفید رہے گا ۔یہاں تو فقط قرآن کا تصور محبت رسول پیش کرنا مقصود ہے ۔

حدیث رسول میں عشق رسول کی وضاحت:

قرآن سے استشہاد کےبعد دربار رسالت سے ایمان کی حلاوت کوکچھ یوں بیان کیاگیاہے:’’ لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْن ‘‘تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ میرے محبت تمہارے ایمان کی بنیاد ہے ۔ ایمان کی تکمیل اس وقت ممکن نہیں جب تک میرے ذات تمہارے نزدیک تمہارے ہر رشتہ سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجائے۔

یہی عشق رسول ہے جس کاتصور قرآن وحدیث سے ہمیں ملتا ہے ۔اگرچہ اس موضوع پر دلائل کےانبار اور محبت رسول سے سرشار صحابہ واولیائے امت کے کئی واقعات تاریخ کےسنہری اوراق میں چمک رہے ہیں ۔لیکن سردست قرآن وحدیث کے تصور عشق رسول کےتناظر میں پیکر ِاخلاص ووفا امیر اہلسنت کی سیرت میں عشق رسول کی جلوہ گری کو سپرد قلم کرنا ہے تاکہ تاریخ کا طالبعلم جب سیرت امیر اہلسنت کا مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہوجائے کہ اس مردمیدان کی کامیابی کا راز کیاتھااور وہ کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے مولانا الیاس قادری معاصرین میں ممتاز حیثیت اختیارکرگئے۔

سیرت امیر اہلسنت میں عشق رسول

حضرت مولانا الیاس قادری امیر اہلسنت کی مجاہدانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کےمطالعہ سے یہ بات اظہر من الشمس ہےکہ مولانا کی سیرت میں عشق رسول ہی وہ عنوان ہے جس کےگرد مولانا الیاس قادری کی زندگی گھوم رہی ہے۔امیر اہلسنت کی بچپن کی زندگی۔ پھر جوانی کی دہلیزپر علما کی صحبت کےاثرات۔ کتب مطالعہ کاشوق۔ فکر اعلی حضرت کی جلوہ نمائی ۔ قلب عاشق کی وارفتگی ۔اصلاح امت کا تصور۔عملی زندگی کا آغاز۔ اور پھر دعوت اسلامی کےقیام سے تاحال مولانا الیاس قادری کی سیرت کا ہر باب عشق رسول کی عملی تصویر پیش کرتا ہوادکھائی دیتا ہے۔

عشق رسول کا آئینہ:

آپ کی کتاب حیات کا ہر باب عشق رسول کا آئینہ ہے ۔جس میں عشق رسول کے عنوانات چھلک رہے ہیں۔آپ کا انداز کلام ۔ لباس سادگی۔ مسکرانا، اوڑھنا بچھونا، فکر کے زاویے۔ سوچ کا محور۔ زندگی کا حاصل۔ جدوجہد کا نقطہ آغاز۔سانس کی مالا۔ طرز تحریر ۔ تحریروں کاعنوان۔کلام کا مرکزی خیال۔ بات کا انداز ۔ تبلیغ کی منزل۔ جدوجہد کی انتہا ۔ جینا مرنا۔اٹھنا ،بیٹھنا ۔ قلب کی لطافتوں کا حسن۔نظر کا قبلہ اور آپ کی دینی مساعی کا مقصد الغرض آپ کی سادگی کے ہر حسن میں عشق مصطفی کی جلوہ نمائی ہے۔

ٹکی ٹکی باندھ کردیکھنا:

صحابی رسول حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جس طرح ٹکی ٹکی باندھ کر رخ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کرتے تھے۔بلا تشبیہ مولاناالیاس قادری بھی صحابی رسول کےاسوہ عشق پر عمل پیرا تصور مدینہ میں چارسُو گُم رہتاہوانظر آتے ہیں۔ہر نشست برخاست میں قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلنواز صدائیں لگاتیں ہیں۔بات بات پر عشق رسول کے راگ آلاپتا ہے،نغمہ ہائے رسالت سے کتابوں کو آراستہ کرتے ہیں ۔ عشق رسول کےترانے سناسناکر لوگوں کو سوئے منزل روانہ کرتے ہیں ۔ دل کوتڑپاتے ہیں اور خودبھی وارفتگی کےساتھ تصور مدینہ میں آنسو بھر بھر کے روتا ہے۔

کتاب ہستی کاہرلمحہ :

مولانا الیاس قادری کی کتاب زیست کا لمحہ لمحہ خوشبو عشق رسول سے مہکتا ہوا نظر آتا ہے۔امیر اہلسنت تصنیف وتالیف کے ہر ورق پر صل علی کی پکار سے درود کے محافل سجاسجاکر قارئین کے قلوب واذھان میں محبت رسول کی شراب انڈیلتے ہیں۔میدان تبلیغ کے قدم قدم پرمخدوم کائنات کی نعتیں سناسنا کر عشق رسول کی سوغات تقسیم کرتے ہیں ۔ آپ نے عشق رسول کے عملی اظہار کی جھلک سے سنتوں کو زندہ کیا ۔پیغام صبا کے مسحورکن نعمے سنا کر دربار نبی کی حاضر ی کاذوق وشوق پیدا کیا۔عاشق صادق کےعشق کےصدقہ سے متاع حیات کو رونق بخشی اور عشق نبی کی میراث دلوں میں تقسیم کرکے لوگوں کو گلزار نبی کا دیوانہ بنایا۔

سیرت امیر اہلسنت میں عشق رسول کےاظہار کی عملی صورتیں منصہ شہود پر نظر آئیں تو معاشرے کو پھر سے سوئے مدینہ کی منزل نظر آنے لگ گئ اور ہر جوان بچہ بوڑھا ، مرد وخواتین سلک عطاری کےموتی بن کر عشق رسول کے اظہار کی عملی صورتیں بن گئے۔

سیرت امیر اہلسنت میں عشق رسول کےعملی مظاہرے

امیر اہلسنت کی سیرت میں عشق رسول کی عملی تعبیر آپ کی سیرت کے ہر عنوان سے ظاہر ہے۔ عشق رسول کےباب میں آپ کی شخصی زندگی کا سب سے کام فساد امت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے محبت اور اس محبت کو عام کرنے کےلئے احیائے سنت کا بیڑا اٹھانا پھر لوگوں کی زندگیوں میں سنت کی محبت پید اکرنا ہے۔ مولانا الیاس قادری نے زبانی دعوی عشق رسول کا ڈھونگ نہیں رچایا بلکہ اتباع واطاعت رسول کےذریعے عشق رسول کے تقاضوں کو پورا کیا۔عشق کے ہر پیمانہ میں امیر اہلسنت کو پرکھا جائے تو عشق فخر سے خودبولے گا یہ عاشق ہے۔ اسے عشق ہے دیوار نبی سے۔ اسے آیا ہے بلاوا دربارنبی ہے۔مکین سبز گنبد کے تصور کو دل میں جماکر ہر سانس کو خدمت دین میں وقف کیا اور فروغ عشق رسول کی عظیم تحریک دعوت اسلامی کےپلیٹ فارم سے صدائے عشق رسول ایسی بلند کی کہ عاشقوں کے جھنڈ کےجھنڈ شمع عشق رسول کے پروانہ بن کر 150سے زائد ممالک میں سفیرعشق رسول بن کر اڑنے لگ گئےاور لوگوں کے دلوں کو عشق رسول سے جگارہے ہیں ۔

سیر ت امیر اہلسنت میں اخلاص وتقو ی اور فروغ عشق رسول

عشق بنا اخلاص کے صرف دعوی ہے حقیقت نہیں۔عشق اپنے اظہار کی عملی صورت دیکھنا چاہتاہے۔عشق کی راہ میں عاشق کا اخلاص محبوت کو پانے کا بنیادی ذریعہ ہوتاہے۔یہ حال جب سیر ت امیر اہلسنت میں دیکھتے ہیں تو آپ عصر حاضر میں عزالی کے تصور منہاج العابدین کے مطابق تقوی وپرہیزگاری کے اعلی مقام پر فائز ہیں ۔شریعت محمدی علی صاحبھا الصلاۃ والسلام کے متبع، اللہ اور اس کے رسول کےاحکامات پرسختی سے کاربند ، احکام الہی پر عمل پیرا، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی گرانقدر ذمہ داری کو بحسن خوبی ادا کرنے والے سچے عاسق رسول ہیں۔

خدمت دین کے جذبہ کی مہمیز کےساتھ فروغِ عشقِ رسول کےداعی اور اس کےتقاضوں پر عمل کرنے والے مرد میدا ن ہیں ۔ہمدردی ، غم گساری، دلجوئی ،حسن سلوک ،اخلاق حسنہ ، کم گو ،کردارکی عظمت، فکر کی پاکیزگی، مقصدیت کی سچائی ،سچ کی لگن ،جھوٹ سے نفرت ، ملنساری اور خیر خواہی ہر مسلمان کی اصلاح کی فکر میں مگن رہنا ہی امیر اہلسنت کےعشق رسول کے عملی مظاہرے اور فروغِ عشق رسول کی تحریک کی کامیابی ثبوت ہے۔

میرا سب کچھ یارسول اللہ آپ ہیں :

امیر اہلسنت نے صرف الفاظ کی سج دھج پر عشق رسول کے ترانے آلاپے نہیں ۔ بلکہ دینی کاموں پر استقامت ، توکل علی اللہ، اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر راضی رہنا،ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھنا ،رسول اللہ کی نظر عنایت کےمتمنی بن کر مکین گنبدا خضرا کی طرف دیکھنا ، انہی کو سب کچھ مان کر انہی کےوسیلہ سے بارگاہ صمدیت میں آہ وزاری کرنا، ہر مشکل میں صبر اور اسوہ رسول کوزندہ کرنا امیر اہلسنت کے عشق رسول میں اخلاص وتقوی کے عملی نمونے ہیں ۔

خلوص نیت ہر معاملہ میں رضائے الہی اور رضائے رسول عربی کی پاسداری اور دنیاوی عہدہ یا منصب کی تمنائے کئے بغیر رسول اللہ کے دین کےلئے زندگی گزارنا ہی امیر اہلسنت کے فروغِ عشق رسول کی عملی مثالیں ہیں جن کو دنیا دیکھ رہی ہے۔

حاصل کلام:

عشق رسول کے حقیقی تقاضوں پر عمل پیرا مولاناالیاس قادری کی صفحہ ہستی دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔آپ کی سیرت کا ہر عنوان عشق رسول کی عملی تعبیر ہے ۔ عشق رسول ہے کیا؟ اور اس کے عملی تضاضے کیا ہیں؟ ان تمام سوالات کے جوابات میں سیرت امیر اہلسنت کا عنوان عشق رسول حرف آخر ہے۔ آپ نے سیرت رسول کی عملی تعبیر سنت رسول کے نظام کےاحیا کی صورت میں پیش کی۔ دنیا کو عشق رسول کا زبانی دعوی نہیں دکھلایا بلکہ اس کی عملی تقاضے پورے کرتے ہوئے عشق رسول کی حقیقی تصویر پیش کی۔ آج ناقدین اور معترضین بھی گواہی دیتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں مشاہیر اہلسنت میں مولانا الیاس قادری عشق رسول کا بہترین عنوا ن ہے۔

تحریک اتباع ِسنت کے ذریعے فروغِ عشق رسول

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع دل میں جلا کر جب یہ پروانہ عشق میدان عمل میں سنتوں کا پیکر بن فروغ عشق رسول کےلئے دعوت وتبلیغ کےجان گسل مراحل سے گزرا تو بڑے بڑے علمائے حیرت میں مبتلا ہوگئے۔مولانا الیاس قادری اتباعِ سنت کے عملی نمونہ بن کر فردا فردا اتحریک اتباع سنت کی دعوت دیتے ہیں۔ اور سنت رسول پر عمل کی ترغیب دلاتے ہیں۔لباس زندگی سےلیکر معاشرتی آداب اور عبادت اورریاضت سب میں سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔جم غفیر میں سنت کی تبلیغ کی۔ اور 44 سال میں سنت کی عملی ترویج واشاعت کا بین الاقوامی نظام دیا ۔تحریک اتباع سنت کاشعور ایسا پروان چڑھا کہ لاکھوں لاکھ افراد فروغ عشق رسول کےحصہ بن گئے ۔ عالمی مدنی مرکز سے لیکر دنیا میں قائم ہزاروں دینی مدارس وجامعات اور فیضان مدینہ کےنام سے قائم دینی ادارے سبھی فروغ عشق رسول کےمراکز بن کر عشق رسول کی سوغات تقسیم کررہے ہیں۔

سیر ت امیر اہلسنت میں عشق رسول کےعملی تقاضے

امیر اہلسنت دورحاضر میں عشق رسول کےفروغ اور عشق رسول کے تقاضوں کو پوراکرنے کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔آپ کی نزدیک محبت رسول محض دعوی نہیں بلکہ محبت نبی کا مطلب عشق رسول میں ڈوب کر سراغ زندگی پانا محبت رسول کا نام ہے۔زندگی کو اسوہ رسول کے مطابق گزارنا اور عشق رسول کے تقاضوں کو پوراکرنا عشق رسول کا عملی ثبوت ہے۔

امیر اہلسنت کی سیرت میں عشق رسول کےتقاضوں کو سمجھنے کےلئے آپ کی سیرت میں چمکتے محبت رسول کےعنوانات کا جاننا بہت ضروری ہےتاکہ ناقدین کے اعتراضات کو حقیقت پسندانہ جواب سیرت امیر اہلسنت سے مل جائے ۔

اطاعت رسول:

عشق رسول کا بنیادی تقاضہ اطاعت رسول ہے۔اس حقیقت کا ناقدانہ جائزہ جب امیر اہلسنت کی سیرت میں لیتے ہیں تو معترضین کےاعتراضات اور ناقدین کےتنقیدی تجزیے ازخود دم توڑ جاتے ہیں۔ دورحاضر میں مولانا الیاس قادری نےجس طرح عشق نبی میں ڈوب کر اتباع سنت کا ماحول پید ا کیا ۔خودسیرت رسول اپنا کر لوگوں کےلئے تقلید کاباعث بنے یہ فقط آپ ہی کے عشق کے اخلاص کی کرشمہ سازی ہے ۔خواہشات نفس کی مخالفت اور سہل پسندی کو چھوڑ کر سنت رسول اپناکر احیائے سنت کی عظیم تحریک کےذریعے دنیا کےلاکھوں مسلمان کو فروغ عشق رسول اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلئے تیارکیا آپ کی عظمت کے بیان میں کافی ہے۔آپ کی سیرت کا ہر پہلو اطاعت رسول کی عملی تصویر ہے ۔ آپ خود اور اپنے مریدوں کو اطاعت رسول کا پابند بناتے ہیں۔اور یہ وہی وصف آپ کی کامیابی کی زندہ مثال بن کر معاشرے میں خیر تقسیم کررہاہے۔

تعظیم وتوقیر :

حکم قرآن پر عمل کرتے ہوئے امیر اہلسنت کی زندگی کی جدوجہد میں کبھی ایسا جملہ کانوں نے نہیں سنا کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی لیاگیا ہو اور آپ نے تعظیما درود وسلام نہ پڑھا ہو۔امیر اہلسنت ہمیشہ عظمت رسول کے پرچار بن کر تعظیم وتوقیر رسالت کے پاسبان رہے ہیں۔ انتہاہی ادب سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ سلم کا اسم گرام زبان پر لاتے ہیں اور ادبا سرکو جھکادیتے ہیں۔حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم سے نسبت رکھنے والی ہر چیز اور رشتہ کا ادب واحترام بجا لاتے ہیں۔محبت اہلبیت یا شان صحابہ ہر ایک کی دل سے تعظیم کرتے ہیں اور آپ مریدوں کو بھی اسی طرح تعظیم وادب سکھاتے ہیں۔

سنت رسول کی تبلیغ اور خدمت دین :

محبت رسول کےتقاضو ں کےمطابق آپ کی سیرت میں دعوی عشق کی سب سے بڑی دلیل آپ کے دینی کام ہیں۔آپ نے قرآن وسنت کی تبلیغ کے لئے عالمگیر تحریک چلائی اور اس تحریک کامقصداصلاح امت رکھااور اصلاح امت کا عملی نظام احیائے سنت قائم کیا۔

آپ نے خدمت دین میں ایسے اقدامات اٹھائےجس کو دیکھ دنیا دنگ رہ گئی۔ اصلاح معاشرہ پر مشتمل تعلیمات نبوی کی اشاعت کی۔ قرآن وسنت کی عملی طباعت اوراشاعت کے لئے پبلیکیشن کا ادارہ بنایا، علوم اسلامیہ کےتعلیم اور تخصص کرنے کےلئے تعلیمی ادارے قائم کئے۔ گھر گھر نظام تعلیم کو رائج کیا۔قرآن کی خدمت میں مدارس کا قیام عمل میں لایا۔دور جدید کےتقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنولوجی کےذریعے دین کا پیغام دنیا کے اکثروبیشتر ممالک میں پہنچایا اور عملی خدمت ابھی سرانجا م دے رہےہیں۔تقریبا 80سے زائد شعبہ جات کےذریعے خدمت دین کررہے ہیں۔

خدمت خلق:

حضور علیہ الصلاۃ والسلام کےاسوہ حسنہ کےمطابق لوگوں کےساتھ نرمی رویہ ، شفقت ، خیر سگالی ، خیر خواہی ،ملنساری آپ کی طبیعت کا شروع سے ہی حصہ رہی ہے۔عملی زندگی میں جب عشق رسول کا استعارہ بن فروغ عشق رسول کےلئے دینی جدوجہد کا آغاز کیا اور خلق خدا کو ہی ہدایت کا سامان پہنچانے کےساتھ ان کےدکھ درو کا علاج بھی کیا۔وقت گزرنے کےساتھ دعوت اسلامی کی وسعتیں بین الاقوامی سرحدوں کو چھونے لگی اور امت مسلمہ کی زبوں حالی نے دل عطار کوبے چین کیا تو امت کی خیر سگالی میں عالمی سطح پراسلام کےویلفیئر نظام کو ایف جی آر ایف کی صورت میں متعارف کروایا۔ہرسطح پر خدمت خلق کا اپنے مریدوں اور سماجی کارکنان کےذریعے بھلاکیا۔

یوں ایک سچے مبلغ اور عاشق رسول بن خدمت دین کےلئے کمربستہ ہوئے وقت کےساتھ ساتھ آپ کی صلاحیتوں کےجوھر آشکار ہوئے۔جب عشق کی انگڑایاں کردار بن کر معاشرےمیں چمکی تو عشق رسول کی برکتیں ظاہر ہوئیں اور معاشرے کو جگمانے لگیں ۔پھر فروغ عشق رسول کی تحریک نے عالمگیر فوقیت حاصل کی ۔اب تقریبا 180 ممالک میں دعوت اسلامی ایک منظم فعال دینی تحریک کے طورپر تسلیم بھی کی جاتی ہے اور اس کے تسلیمات کو دنیا مانتی بھی ہے۔

عشق رسول کے تقاضو ں کو معاشرے میں اجاگر کرنےکی جدوجہد

دعوت اسلامی درحقیقت امیر اہلسنت کےعشق رسول کا ثمر ہے جس کےرس بھرے اثرات سے زمانہ محظوظ ہورہا ہے ۔یہ تحریک اپنی ابتدائی دور سے اب تک امیر اہلسنت کےجذبہ عشق رسول کا عملی مظاہرہ ہی کرتی چلی آرہی ہے۔ امیر اہلسنت نے اپنے عشق رسول کی برکت کو اپنی ذات تک محدود نہیں کیا ۔بلکہ اس عظیم روح پرور جذبہ کو پروان چڑھایااور ایک ایسا نظام تربیت دیا جہاں عشق رسول کے عملی مظاہرہ بھی ہو اور اس کےتقاضوں کو بھی کماحقہ پورا کیا جاتا ہو۔

دعوت اسلامی کے دینی واصلاحی اجتماعات

امیر اہلسنت نے فروغ عشق رسول کےلئے سنت کی تبلیغ کو ذریعہ خدمت بنایا۔اور سنتوں کی اجتماعی تبلیغ کےلئے عوام سطح پر اجتماعات منعقدکئے۔ان اجتماعات میں موضوعات کا انتخاب اجتماعات کی کامیابی کےلئے بہت کارآمد ثابت ہوئے۔ خوف خدا، عشق رسول، فکر آخرت اور دنیا کےبے ثباتی ،سیر ت رسول پر عمل کی اہمیت پرمشتمل بیانا ت کےاثرات نے دلوں کوگرویدہ کردیا۔کشاں کشاں لوگوں کو ہجوم سنت رسول پر عمل کےلئے حاضر خدمت ہونا لگا۔ یوں ایک سمان باندھا اور دعوت اسلامی کےاجتماعات سے معاشرتی سطح پر احیائے سنت کا نظام زندہ ہوا۔ جو دوسروں کی ترغیب کا باعث بنا۔

فروغ عشق رسول میں میلاد البنی کے اجتماعات

امیر اہلسنت نے عالمی سطح پر فروغ عشق رسول کو میلاد اجتماعات کےذریعے پروان چڑھایا۔دنیا کے ہر عاشق رسول کے دل میں سوئے ہوئے عشق رسول کو جگایا۔ نعتیہ کلام سے دلوں کوگرمایا۔انٹرنیشنل سطح پر پیغمبر اسلام کی ولادت کے جشن کی دھومیں مچائیں اور دوسروں کےدلوں کو محبت رسول سے آشنا کیا۔ یہ فکری تبدیلی عالمی سطح پر دیکھنے کو ملی کہ آج امیر اہلسنت کی ترغیب پر 1500 واں جشن ولادت مصطفی بڑے ہی تزک واحتشام کےساتھ منایا گیا۔

فکر امیر اہلسنت کی آبیاری میں کوشاں مجلس شوری

دعو ت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کےجملہ ارکان مولاناالیاس قادری کی فکری سوچ کا مکمل آئینہ دار ہیں۔ شوری کا ہر رکن فروغ عشق رسول میں امیر اہلسنت کی فکر کی عملی آبیاری میں مصروف ہے۔اب امیر اہلسنت دیگر ملکوں کا تبلیغی دورہ نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کی فکر کے عکاس اراکین شوری دنیا میں امیر اہلسنت کےعشق رسول کا حصہ تقسیم کررہے ہیں اور دنیا تمام اراکین شوری کو امیر اہلسنت کے فروغ عشق رسول کا سفیر تسلیم کرتی ہے۔

اس وقت دعوت اسلامی کے جملہ شعبہ جات میں اراکین شوری ہی امیر اہلسنت کی دینی خدمات کا امین بن کر آپ کی فروغ عشق رسول کی تحریک کےاثرات نمایاں کرنے میں فعال نظر آتے ہیں۔

ہر رکن شوری عشق رسول کا داعی بن کر عشق رسول کے تقاضے نبھارہا ہے اور دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں اراکین شوری ہی فروغ عشق رسول کی جدوجہد کو فکرامیر اہلسنت کی روشنی میں ک پروان چڑھارہے ہیں۔

حاصل کلام :

سیر ت امیر اہلسنت میں عشق رسول اور اس کے عملی تقاضے کی پیش کردہ جھلک اس بات کی غماصی کرتی ہےکہ مولانا الیاس قادری نے دیگرمعاصرکی طرح فقط عشق رسول کا دعوی نہیں کیا بلکہ اس کےحقیقی معنی کو زندہ کیا اور عشق رسول کی عملی تعبیر کو معاشرہ میں اجاگرکرنےمیں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کےجذبے سے سرشار ہوکر تعلیمات نبوی پر عمل کی راہ ہموار کی۔قلوب واذہان میں سنت رسول کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سنت نبوی پر عمل کی صورت کو یقینی بنا نے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ امیر اہلسنت نے دعوت اسلامی کا قیام لاکر نوجوان نسل کو عشق رسول کا مستانہ بنایا۔ نوجوانان ملت کے فکر میں مدینہ کی محبت پید اکی اور ان کے دلوں میں صاحب گنبد خضرا کی محبت انڈیلی۔آپ نے سنت رسول پرعمل کا بین الاقوامی نظام قائم کیا۔آپ کی 44سالہ دینی تحریک دعو ت اسلامی کی کامیابی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جو عشق رسول کی شمع جلائی گئی آج اس کے پروانے دنیا میں فکر امیر اہلسنت کےسفیر بن کر خدمت دین کی سفارت کاری کررہے ہیں۔ اللہ تعالی امیر اہلسنت کے جذبہ عشق رسو ل سے ہمیں بھی وافر مقدار میں حصہ عطافرمائے اور امیر اہلسنت کو خدمت دین کے ساتھ صحت وسلامی کی نعمت بھی عطاہو ۔آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!