تمہید :
اسلامی تعلیمات میں تصوف ایک اصطلاح کا نام ہے۔ عام فہم زبان میں جس کا مطلب دل میں اللہ کی یاد کے چراغ روشن کرکے ظاہر کےساتھ باطن کو دنیاوی تفکرات، معاصیات ،آلائشات اور گناہوں سے پاک رکھنا، نفسانی خواہشات سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنا، ہر حال میں شریعت مطاہرہ کی پیروی کو لازم رکھتے ہوئے قرب الہی حاصل کرنا تصوف کہلاتا ہے۔گویا شریعت کی پاسداری اورمکمل اتباع کا نام تصوف ہے ۔تصوف درحقیقت بدنی عبادات کےساتھ قلبی پاکیزگی اور روحانی تزکیہ پر زور دیتا ہے۔جادہ تصوف پر گامزن جتنے بھی سلاسل تصوف گزرہیں ان سب کی تعلیمات کا نچوڑ اور حاصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کےمطابق ظاہری وباطنی اصلاح کا نام تصوف ہے۔تقریبا تمام ہی معروف سلاسل تصوف کےتعلیمات میں چار مندرجہ ذیل بنیادی پہلوؤں پر زور دیا جاتاہے۔(1) تزکیہ نفس یعنی جسم کوشریعت سے متضاد خواہشات نفسانی سے پاک رکھنا(2)دل میں محبت الہی اور عشق رسول کو فروغ دینا(3) مذموم اخلاق کو چھوڑ کر اخلاق حسنہ اپنانا(4)شریعت کی رسی کو مضبوط تھام کر احکام شریعت پر مکمل عمل پیرا ہوکر رضاالہی حاصل کرنا ہے۔ سلاسل تصوف میں سلسلہ قادریہ کا تعارف:
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر جن بزرگوں نے دستورتصوف تیا ر کیا۔لوگوں کی ظاہری اصلاح کےساتھ باطن کی اصلاح کی طرف توجہ مبذول کی ۔ان مشاہیر تصوف میں کئی نامورہستیاں کتب تصوف چمکتی دمکتی نظر آتی ہیں ۔ انہی روحانی شخصیات میں کچھ ایسی ہستیاں بھی گزری ہیں جن کے فیض نےسلسلہ تصوف اور فن تصوف کی بنیاد یں فراہم کیں۔روحانی ارتقا ء کی منزلیں مقرر کرکے جادہ تصوف کوبیان کیا۔قرآن وسنت کی بنیاد پر تصوف کی راہیں مقرر کیں ۔ان نامور بزرگوں کے فکری منہج کےروحانی نام : سلسلسہ نقشبندیہ،سلسلہ چشتیہ ،سلسلہ سہروردیہ ، سلسلہ شاذلیہ، سلسلہ رفاعیہ، سلسلہ شطاریہ اور مذکورہ تمام سلاسل میں روحانی شہرت کی بلندیوں پر فائز سلسلہ قادریہ کا نام مشہور زبان زد عام ہے۔سلسلہ قادری کی نسبت قطب الاقطاب، غوث الاعظم، محی الدین سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ (470-561 ہجری) کی طرف ہے ۔آپ اس سلسلہ روحانیت کے روح رواں اور مرکز ہیں۔آپ کے روحانی اثرات اور تعلیمات نے مشرق ومغرب کو منور کیا۔اولیائے امت کےلئے آپ کاوجود مرکز تصوف بنا۔گردن اولیا آپ کے روحانی کمالات کے آگے سرنگوں ہوئیں اور امت کے روحانی پیشوا بن کر تمام ہی سلاسل تصوف میں امامت کا منصب آپ کو ملا۔ سلسلہ قادریہ کی تعلیمات
قطب الاقطاب شیخ عبد القادر الجیلانی کی تعلیمات میں عقیدہ توحید کو مرکزیت حاصل ہے اور توحید باری تعالی پر کامل یقین آپ کی تعلیمات کا بنیادی سبق ہے۔عبادات وریاضت میں شریعت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ والسلام کی اتباع ، شریعت کی پاسداری ، سنت کی پیروی اسوہ رسول پر عمل آپ کا منہج تصوف ہے۔تقوی ،پرہیزگاری، ظاہری اصلاح کے ساتھ باطنی پاکیزگی، مہلکات سے اجتناب، منجیات پر عمل، امر بالعروف ونہی عن المنکر ، اصلاح نفس ،قلبی طہارت، فرائض کےساتھ نوافل کی پابندی اورمخلوق خدا سے محبت آپ کےدرس تصوف میں شامل ہیں۔روحانی بالیدگی اور ارتقا کےلئے سفینہ قادریہ میں اسباق بیان کئے، ذکر واذکار کا طریقہ وضع کیا۔ وظائف کی منزلین مقرر کیں۔انفرادی اور اجتماع طور پر ذکر کے حلقے تربیت دیئے۔متلاشیان حق کےلئے اور جادہ تصوف کے بادہ خواروں کےلئے تصوف کی باریکیاں بیان کیں۔ طالبین حق کےلئے شریعت کےاحکامات بیان کئے۔مجاہدات اور ریاضات کےساتھ قلوب واذہان کو روشن کرنے اور تجلیات الہی کا فیض حاصل کرنے کےلئے اوراد ووظائف مرتب کئے۔ درحقیقت سلسلہ قادریہ کی تمام تر تعلیمات کا نچور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہے۔ خرقہ قادریت کی روحانی نسبت
تعلیمات تصوف میں ’’خرقہ" سے مراد کسی کامل ولی کی بیعت اور اس ولی کی روحانی نسبت کے اظہار کا نام ہے۔گویا خرقہ اس روحانی لباس کا نام ہے جو شیخ اپنے مرید کی تربیت کے بعد ا س کو اپنے روحانی فیض کا امین بناکر عطاکرتا ہے۔خرقہ قادریت سے مراد حضور شیخ عبد القادر جیلانی سے نسبت روحانیت قائم کرنا اور فیضان قادریت کا مظہر بننا ہے۔خرقہ قادریت سے مراد فقط بیعت ہونا نہیں بلکہ باطنی طور پر شیخ کامل سے تعلق مضبوط کرنا اور شیخ کی تعلیمات کو اپنانے کا عہد کرنا ہے۔خرقہ قادریت کے روحانی فیوض وبرکات کی اہمیت کا انداز اس بات عیاں ہوتاہےکہ یہ مرید کو اپنے شیخ کامل حضو ر غوث اعظم کے توسط اور وسیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحانی تعلق جوڑنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔اس خرقہ کے ذریعے قرب الہی نصیب ہوتا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق جوڑتاہے۔روحانی منزلین طے ہوتی ہیں۔باطن میں نور پیداہوتا ہے جس سے ظاہر وباطن چمکتاہے ۔پھر یہ مرید اپنے شیخ کامظہر بن کر دوسروں کی اصلاح کا باعث بنتا ہے۔ سلسلہ قادریہ میں امیر اہلسنت کی بیعت وخلافت کا تعارف
عصر حاضر میں آسمان قادریت پر مشاہیر قادریہ کے روح رواں بن کر خرقہ قادریت کی روحانی نسبت کو دنیا بھر میں عام کرنے والی ہستی کانام امیر اہلسنت حضر ت علامہ محمد الیاس قادری ہے۔آپ کے روحانی ارتقا کا سفر سلسلہ قادریہ میں بیعت کےساتھ شروع ہوتاہے۔ آپ نے اپنے زمانہ کے مشہور سلسلہ قادری کے روحانی پیشوا اور سرپرست حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی قادری رضوی علیہ رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبار ک پر سلسلہ قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔شیخ کی تربیت میں مریدی کے آداب بجالاتے ہوئے قادری سلو ک کی منزلین طے کیں اور نگاہ شیخ میں کامل مرید بن کر جب اسباق سلوک طے کئے تو آپ کو خرقہ قادریت سے نوازا گیا۔نیز آپ کوخلافت کی گرانقدر ذمہ داری مشہور فقہی مفتی وقار الدین سے بھی نصیب ہوئی۔ خرقہ قادریت کی وہ امانت جودرجہ بدرجہ مشاہیر قادریہ کے بزرگوں سے آپ کے شیخ کو ملی تھی ۔آپ کے شیخ نے وہ امانت آپ کے سپرد کی جو امیر اہلسنت کے روحانی ارتقا کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔
مذکورہ قدرآور روحانی شخصیات کے علاوہ فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی شارح بخاری نے سلاسلِ اربعہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی خلافت و کتب و احادیث وغیرہ کی اجازت بھی عطا فرمائی ۔سیدی قطبِ مدینہ ضیاء المدنی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشیں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی علیہ رحمۃاللہ القوی نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اسانید و اجازات کی روحانی امانتوں سے سے نوازا ہے۔ قادری سلسلہ تصوف کی نشاۃ ثانیہ
شیخ طریقت کی عطا سے امیر اہلسنت کو جو خرقہ خلافت عطاہوا۔ جو نسبت حضور غوث پاک سے قائم ہوئی اس کی بہاریں اور برکتیں مرید صادق کے دینی کاموں کی ترقی اور سلسلہ قادری کی نشاۃ ثانیہ کی اشاعت سے بخوبی لگائی جاسکتی ہے۔آپ نے قادریو ں کےوقار میں اضافہ کیا۔اپنے پیر غوث اعظم کی تعلیمات کو عام کیا۔اپنے شیخ کےمشن کو دعوت اسلامی کے ذریعے دنیا میں پھیلایا۔جس طرح غوث پاک نے اپنے زمانے میں احیائے سنت کےلئے تجدیدی کام کئے۔ آپ بھی اپنے شیخ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے دنیا بھر سلسلہ قادریت کے امین بن کر اصلاح انسانیت کےلئے مصلح امت بنیں۔بلاشک وشبہ امیر اہلسنت شیخ عبد القادری الگیلانی المعروف پیران پیر کی تعلیمات کا مظہر بن کر مشاہیر قادریہ میں نئے بدر کامل بن کر طلوع ہوئے اور روحانیت کی منزلیں سنت رسول پر عمل پیرا ہوکر طے کیں پھر اپنے شیخ کی روحانی توجہ سے عام وخاص کی نگاہوں کا مرکزبنیں۔ امیر اہلسنت نے اپنے شیخ حضرت غوث پاک کی ارادات کا حق اس طرح ادا کیا کہ دنیا بھر میں میخانہ قادریت سے وابستہ عاشقان رسول کا ہجوم اسباق تصوف یعنی خوف خدا اور عشق رسول سے دلوں کو جگمگارہا ہے۔آپ نے مدرستہ نظامیہ کی طرز پر دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم سے اصلاحی تحریک کاآغاز کیااور قادریت کی پہچان بن کر دنیا میں قادری روحانیت سے دلوں کو زندہ کیا۔ قادری روحانی میخانہ کی ازسرنو بہاریں
سلسلہ قادریت میں بیعت وخلافت اور شیخ سے خرقہ قادریت کی امانت وصول کرنے بعد مولاناالیاس قادری جب مطلع دعوت وارشاد پر مبلغ کی حیثیث سے ظاہر ہوئے تو آپ نے تبلیغ دین کےلئے سلسلسہ قادری کی روحانی نسبت مرکزی حیثیت دی۔آپ نے پیری مریدی کے تسلسل کو معاصرین کی طرح فقط آستانہ کی رونق میں اضافہ کے آگے نہیں بڑھایا بلکہ پیر ی مریدی کو دین کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا۔اپنے شیخ کی روحانی توجہ سے تبلغ کا بیڑا اٹھایا اور خرقہ قادریت کی خوشبو سے تبلیغ کےگلزار مہکائے۔مریدو ں کو سنت رسول پر عمل کی ترغیب دلائی۔آستانہ کی رونق کو سیرت مصطفی پر عمل پیرا مبلغین سے رونق بخشی۔شیخ کی روحانی توجہ سے معاشرتی سطح پر دینی انقلاب بپا ہوا اور آستانہ قادری میں مریدوں کے ہوش ربا اضافہ سے وسعت یوں ہوئی کہ دنیا بھر میں غوث پاک کی تعلیمات کےنقوش مرکز علم وعرفان فیضان مدینہ کےنام سے مشہورہوئے۔ تصوف کےقادری سلسلہ کی بہاریں جوپن پر آئیں اور اب ہر ملک میں قادری میخانہ کے بادہ خوار عطاری بن کر غوث پاک کی تعلیمات عام کررہے ہیں۔گویاجس طرح شیخ عبد القادر الجیلانی الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانہ میں ہر طبقہ ہائے زندگی سے جڑے فر د کی اصلاح کرکے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا مبلغ بنایامن وعن آپ کے مرید صادق امیر اہلسنت نےاپنے شیخ کی روحانی توجہات کی برکت سے لاکھو ں انسانوں کو پوری دنیا کے انسانوں کے اصلاح کا مرکز بنایا۔یوں بیسویں اور اکسویں صدی کے مشاہیر قادریہ میں امیر اہلسنت کو امتیازی حیثیت کچھ اس طرح حاصل ہوئی کہ آپ نے خرقہ قادریت کا حق ادا کیا اور اپنے شخ حضور غوث اعظم کی تعلیمات کو عام سطح پر عام کرنے میں کامیاب ہوئے۔جو امانت امیر اہلسنت کو سلسلہ قادری کی حاصل ہوئی اس امانت کےلاکھوں نگہبان تیار ہوکر قادری سلسلہ روحانیت کی رونقوں میں تبلیغ دین کےساتھ اضافہ کررہے ہیں۔عصر حاضر کے مشاہیر قادری میں امیر اہلسنت نے دعوت اسلامی کے پیلٹ فارم سے نہ صرف امت مسلمہ کو دین کی طرف راغب کیا بلکہ سلسلہ قادریہ کی تعلیمات کو عام کرنے میں مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ امیر اہلسنت کے ذریعے روحانی اصلاح اور بیعت کے اثرات
فساد امت کےبگاڑ نے بالخصوص نوجوان نسل کے دین سے اسقدردور کردیا تھاکہ ان کی اصلاح جوئے شِیرلانے کے مترادف بن چکی تھی۔گمراہی اور بے راہ روی کےدور تعصب میں احکام دین پر عمل توکجاتصوف کی تعلیمات سے آشنائی بھی ناممکن نظر آرہی تھی۔بس قوالیوں اور لنگروں کا دور دورا تھا تعلیمات تصوف خال خال تھی ان حالات میں قادری سلسلہ تصوف کے روحانی پیشوا حضرت امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری کی بیعت اور ان کی روحانی تعلیمات نے لاکھوں افراد کی دینی وروحانی اصلاح کی ۔ آپ کی صحبت اور روحانی اثرات نے معاشرے کے ہر طبقہ میں دینی وروحانی انقلاب برپاکردیا۔امیر اہلسنت نے سلسلہ قادری میں بیعت کا سلسلہ جاری کیا اور پھر اس کےروحانی اثرات سے جو عملی شکل ظاہر ہوئی اس کے چند نکات پیش خدمت ہیں۔ گناہوں سے توبہ:
تصوف کا بنیاد ی سبق خوف خدا ہے ۔آپ نے پیری مریدی کی کرامت سناکر امت کو کسی دھوکہ میں مبتلا نہیں کیا بلکہ تعلیمات تصوف کی روشنی میں حضور غوث اعظم کا کردا ر پیش کیا اور آپ کی زندگی میں خوف خدا سے انقلاب بپا ہونے والی کرامت کےذریعے گناہوں سے توبہ کروائی۔گناہوں کی دلدل میں پھنسے لوگوں کو مزید کسی دھوکہ میں مبتلا کئے فکری آخر ت کا درس دیا ،نیک اعمال کی رغبت دلائی ،مرنے سے پہلے توبہ کرنے کا ذہن دیا۔اللہ کی خفیہ تدبیر کےبارے میں آگاہی دی اور کسی بھی روحانی دھوکہ میں مبتلا کئے بغیر تعلیمات تصوف کےذریعے قلبی وجسمانی پاکیزگی کا سامان مریدوں کو پیش کیا۔ آپ کی تعلیمات تصوف کےذریعے ہزاروں زندگیاں گناہوں سےبچیں اور اللہ کی رحمت کے سائے میں آئیں۔ اخلاقی اقدار کا احیاء:
امیر اہلسنت نے حضور غوث پاک کی تعلیمات کی روشنی میں اخلاقی اقدار کےاحیا کی کوششیں کیں۔تعلیمات غوثیہ کی روشنی میں صبر،شکر، عاجزی ،انکساری، تواضع ،باہمی محبت ،فکرآخرت اور دوسروں کی بھلائی چاہنے والے جذبات پروان چڑھائے۔مریدوں سے نذرانہ عقیدت دین کے تبلیغ کےلئے قافلوں میں سفر کی صورت میں وصول کئے۔دنیاوی وجاہت اور مال ودولت کی ہوس کو دل سے نکال کر مریدوں کی ظاہری وباطنی اصلاح کی طرف توجہ مبذول کی۔نظام اخلاقیات کو تعلیمات غوثیہ کےذریعے دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم سے متعارف کروایا۔ آپ سے بیعت کرنے والے ہزاروں مریدیں سیرت مصطفی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ ہی وہ حقیقیت ہے جو دیگر مشاہیر قادریہ میں امیر اہلسنت کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافروغ:
امیر اہلسنت نےسلسلہ قادریہ عطاریہ میں بیعت ہونے والے نوجوانوں کو عشق رسول کی لذت عطا کی۔فکری بالیدگی کا سامان باہم پہنچایا۔سنت رسول پر عمل کےذریعے عشق رسول کو فروغ دیا۔ چونکہ امیر اہلسنت خود عشق رسول کے حقیقی متوالے ہیں ۔جو جنون عشق آپ میں موجزن ہے وہی جذبہ عشق دلوں میں جگانے کےلئے امیر اہلسنت نے قادری روحانی میں بیعت کو فروغ دیا۔آپ سے بیعت کرنے والے اورآپ کی صحبت سے فیض یافتہ حضرات حلقہ قادریہ میں عشق رسول کا مینارہ نو ر تسلیم کئے جاتےہیں۔انہی مذکورہ وجوہات کی بنا پر معاصرین پیران طریقت امیر اہلسنت کے روحانی اثرات کےسامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ باطنی پاکیزگی:
سلسلہ قادریہ عطاریہ میں بیعت ہونے والے حضرات جب دعوت اسلامی کےنظام تربیت کا حصہ بنتے ہیں توسب سے پہلے ان کی ظاہری حالت کو سنت رسول کےسانچے میں ڈھالا جاتاہے۔ سنت رسول پر عمل کی عملی ترغیب دلانے اور احکام دین سکھانےکےلئے دن کے چاروں پہر مبلغین تربیت کےلئے آستانہ عطاریہ پر موجود ہوتے ہیں۔پھرباطنی اصلاح کےلئے نیک اعمال کے شیڈول کا عادی بنایا جاتاہے ۔اس طریقہ کار کے مطابق صبح کےآغازسے لیکر رات کے آرام تک دن بھر کی مصروفیات کاجائزہ محاسبہ نفس کےعمل کیا جاتا ہے جس سے دلوں میں پاکیزگی کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوجانے لگتے ہیں۔حرا م لقمے کی نحوست سے بچنے کی ذہن سازی انسان کو انسانیت کے مقام پر فائز کردیتی ہے۔ درحقیقت امیر اہلسنت کی بیعت کےاثرات نے جب دلوں کو روحانیت کی طرف گامزن کیا تو ایسے ایسے گوہر دعوت اسلامی کی کوکھ سے پیدا ہوئے جن پر دور حاضر میں تصوف کو بھی ناز ہوگا۔ روحانی سکون:
امیر اہلسنت نے تعلیمات غوثیہ کی روشنی میں قلبی سکون اور روحانی بالیدگی کےلئے باقاعدہ اصلاح اعمال کاشعبہ قائم کیا ۔اس شعبہ کےقیام سے ہرمرید اپنے معمولات زندگی میں محاسبہ نفس کرتاہوادیکھائی دیتا ہے۔فرائض کی پابندی کےساتھ نوافل کی کثرت، ذکرواذکار ،سلسلہ قادریہ کےوظائف اور نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم پر درود خوانی کی مخصوص تعداد پوری کرتا ہے۔ یوں روحانی سکون کی لذت سے آشنا ہر مرید اپنے پیر امیر اہلسنت کی وساطت سے پیران پیر کی روحانی توجہ حاصل کرتا ہے۔نیز وہ لوگ جو معاشی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ مختلف امراض کاشکار ہیں۔سماجی مسائل کی بہتات کی وجہ سےخانگی زندگی میں بے چینی کی وجہ ذہنی سکون کھوبیٹھتے ہیں ان تمام حضرات کے لئے امیر اہلسنت نے روحانی علاج کےشعبہ کا قیام ممکن بنایا۔اس شعبہ کے تحت دکھیاری امت کی خیر خواہی اور دلجوئی اور قلبی وباطنی سکون کےلئے قرآن وسنت اور تعلیمات غوثیہ میں مذکور اورادو وظائف دیئے جاتے ہیں۔تقریبا ہر روز ہزاروں لوگ سینکڑوں مقاما ت پر امیر اہلسنت کے مقرر کردہ نمائندگان سے مستفید ہوتے ہیں۔ امیر اہلسنت کی روحانیت میں قادری مشائخ کے افکار کا تسلسل
امیر اہلسنت کے مشاہیر قادریہ میں یوں بھی امتیازی حیثیت حاصل ہےکہ آپ نے اپنے مشائخ کی تعلیمات اور ان کےافکارونظریات کےمطابق اپنی اور اپنے مریدوں کی تربیت کا وسیع انتظام کیا۔آپ نے سب سے پہلے مشائخ قادریہ کی سیرت کا تعارف اپنے مختلف رسائل میں پیش کیا۔مختلف ادوار میں مشائخ قادریہ نے جو دینی خدمات سرانجام د یں ان کےنقوش کو اپنی تنظیمی زندگی کا حصہ بنایا اور انہی کے منہج تربیت سےاستفادہ کرتے ہوئے دعوت اسلامی کے تربیتی نظام کو مضبوط کیا۔آپ نے اپنے شیخ حضور غوث پاک کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر قلم بند کیا اور آ پ کی تعلیمات تصوف پراپنی زندگی کو استوار کرکے معاشرے میں قادریہ سلسلہ کی ترویج کی طرف کمر ہمت باندھی۔
مولانا الیاس قادری کی شخصی زندگی ہو یا مسند ارشاد پر فائز مبلغ اور مربی ہو ۔انفرادی سطح ہو یا اجتماعی ماحول۔جلوت ہو یاخلوت۔خانگی زندگی کےشب وروز ہو یا سماجی زندگی ۔ زندگی کے جملہ پہلوؤ ں اور معاملات میں تذکرہ غوثیہ کی بہاریں ہرسو نظر آتی ہیں۔آپ نے قادریہ سلسلہ کو نذرانہ وصول کرنے کےلئے اختیار نہیں کیابلکہ قادری سلسلہ کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے حضور غوث پاک کےافکار ونظریات اور روحانی تصرفات سے امت مسلمہ کو مستفید کرنے کےلئے آستانہ عالیہ قادریہ عطاریہ کی داغ بیل ڈالی ۔
امیر اہلسنت کی دینی مساعی جمیلہ کا ہر عنوان افکار غوث اعظم کی جھلک پیش کرتاہوانظر آتا ہے شاید یہ ہی وجہ کہ عطاری سلسلہ کو جو شہر ت حاصل ہوئی اس کی پیچھے حضور سیدی شیخ عبد القادر جیلانی کےنظر عنایت کا صدقہ ہے ۔یہ کوئی دعوی نہیں بلکہ دعوت اسلامی کا نظام اس دعوی کی حقیقت اور امیر اہلسنت اس دعوی کی عملی تصویر ہے۔ امیر اہلسنت کی روحانیت کی بالیدگی میں قادری مشائخ کے افکار کا تسلسل بھی ہے اور آپ کی وساطت سے قادری نظریات کی ہمہ گیر حقیقت دنیا میں عطاریوں کی صورت میں نظر بھی آتی ہے۔
امیر اہلسنت کی روحانی زندگی کا ہر پہلو افکار غوث پاک کا پرتو ہے اور اس پرتو کا عکس گاہے بگاہے سیر ت امیر اہلسنت سے جھلکتا ہوادکھائی دیتا ہے۔روحانی محافل میں آپ نے اپنے مریدوں کواپنے آباؤ واجداد کے قصہ کہانی سنانے کی بجائے قادری سلسلہ کے بزرگوں کے تذکرے سے محافل کا رنگ جمایااور میخانہ قادریت سے مستفید ہونے والوں کےذکر کو سپرد قلم کرکے قادری وراثت کونئی نسل تک منتقل کیا۔ جس طرح افکار قادریہ کے تسلسل نے امیر اہلسنت کی زندگی میں قادریت کا رنگ جمایا اسی طرح آپ نے اپنے شیخ کی روحانی وراثت کو اپنی اولاد کی جاگیر بنانے کی بجائے قیامت تک آنے والی نسلوں تک پہنچانے کےلئے دعوت اسلامی کا نظام پیش کردیا جہاں افکار قادریت کی آفاقی حیثیت چمکتے چاند کی طرح روشن رہے گی۔ عصر حاضر میں مشائخ قادریت کے حقیقی ترجمان
عصر حاضر کے پرفتن دور میں جہاں تصوف کے نام پر گمراہی ،خلاف شرع رسم محفل ، واہیات نظریات اور بدعات نے جگہ لے لی ہے وہیں یہ مرد قلندر اپنے شیخ کی روحانی رواثت کو سینے سے لگا کر قادری روحانیت کی حقیقی روح کو زندہ کرنے کی عملی کوششوں میں مصروف ہے۔امیر اہلسنت نے درحقیقت قرآن وسنت کی تشریحات میں نسبت قادری کو زندہ کیا ۔آپ کے روحانی کردار کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے کئی روحانی سلاسل کے بزرگان دین نے آپ کےلئے سلسلہ قادری کی ترجمانی منصب بھی عطا کیا۔
مذکوربلا حقیقت اور دنیا بھر میں دین اسلام کی بین الاقوامی سطح پر خدمت کا جو شرف دعوت اسلامی کاحاصل ہو اس تناظر میں معاصرین مشائخ قادریہ کےتقابل میں اگر امیر اہلسنت کی سلسلہ قادری کی خدمت کو دیکھیں۔ تو یہ بات اظہر من الشمس نظر آتی ہے کہ آپ موجود ہ دور میں مشائخ قادریہ کے حقیقی ترجمان بن کر خدمت دین سرانجام دے رہے ہیں۔
غوث پاک کی دینی خدمات اور تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر صاحب علم کہہ سکتا ہےکہ مشائخ قادریہ کا حقیقی ترجمان وہ ہی شخص ہوسکتاہے جو قرآن وسنت کی روشنی میں تصوف کی روح کو زندہ کرے۔اس حقیقت کےتناظر میں امیر اہلسنت ہی موجودہ دور میں مشائخ قادریہ کےحقیقی ترجمان نظر آتے ہیں کہ آپ ہی کی ذات نے فیضان غوثیت مآب کا مشرف پی کر قرآن وسنت کی بنیاد پر دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اس کی عمارت میں روحانیت غوثیت کے ذوق کو زندہ کیا، قادری نسبت کو خرافات سےبچا کر شریعت کے دائرہ کا ر میں لاکر شریعت وطریقت کے جداگانہ تصورکو مٹادیا۔
قادری سلسلہ کا وہی شخص اپنے مشائخ کا ترجمان بن سکتا ہے جواپنےاسلاف کی تعلیمات کے مطابق دین کی خدمت کرے ،دین احکامات کو آسان انداز کے ساتھ پیش کرکے امت میں یگانگت کا تصور پروان چڑھا سکے۔دلوں میں خوف خدا اور عشق رسول کےوالہانہ جذبات کی آبیاری کرسکے۔شریعت کی پاسداری اس ترجمان کی پہچان ہو ،تصوف کی حقیقی تعبیر پیش کرسکتا ہو، معاشرے کی اصلا ح کا مقصد پیش نظر ہو۔صرف خانقاہی نظام تک اس کے روحانی اثرات کادائر ہ محدود نہ ہو بلکہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق علمی اور عملی اعتبار سے لوگوں کی رہنمائی کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔
مذکورہ ترجمان کی خصوصیت کواگر امیر اہلسنت کے آئینہ زندگی میں دیکھیں تو روئے زمیں پر چمکتے سورج کی طرح امیر اہلسنت کا نام دمکتا نظر آئے گا۔آپ نے سلسلہ قادری کی ترجمانی کا حق دعوت اسلامی کے نظام کی صورت میں پیش کیا۔ہر وہ بات جو ترجمانی کو زیب دیتی ہے وہ امیر اہلسنت میں روز روشن کی طرح چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ دین کی خدمت کا حق اور سلسلہ قادریت کی ترویج واشاعت میں آپ کی بے مثال خدمات تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔
آپ نے قرآن وسنت کی بنیاد پر دعوت اسلامی کو پروان چڑھایا،اصلاح انسانیت کو مقصد زندگی بنایااور اپنی دینی تحریک کو ہر جدید تقاضوں سےہمکنار کرتے ہوئے خدمت دین کےلئے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جس پر زمانہ گواہ ہے اور آپ کی دینی تحریک کی کامیابی فیضان غوثیت مآب کی زندہ کرامت ہے اور یہ ہی حقیقت میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کا تسلسل ہے۔ سلسلہ قادری کا عالمگیر فروغ
بانی دعوت اسلامی کی انتھک محنت اور دینی کاوشوں سے خدمت دین کےساتھ روحانی سلسلہ قادری کے اثرات نے بھی عالمی سطح پر فروغ پایا۔دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم پرجہاں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں شریعت کے دائر ہ کار میں آئیں وہیں طریقت کی منزلین بھی شرعی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوئیں۔لاکھوں لوگ دین اسلام کی تعلیمات سے بہرمند ہوئے ۔فیضان اولیا اور پیران پیر کےفیض سے فیضاب ہوئے۔ جہاں جہاں دعوت اسلامی کا فیضان علم ومعرفت لوگوں کی دینی علمی سماجی ، فلاحی تعلیمی اور روحانی پیاس بجھارہا ہے وہیں سلسلہ قادری کی روحانیت قلبی سکو ن کا سامان باہم پہنچارہی ہے۔امیر اہلسنت نے سلسلہ قادری کے عہدرفتہ کو زندہ کیا اور فیضان غوث کے چشمہ سے امت مسلمہ کو سیراب کیا۔آپ نے سلسلہ قادری کو متحرک روحانی قوت کےطو پر پیش کیا۔ آپ نے سلسلہ قادری کے فیضان سے عصر حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے امت کو ہدایت کی راہ اور سکون قلبی فراہم کیا۔ دعوت اسلامی کو تبلیغ قرآن وسنت کی تحریک کے علاوہ سلسلہ قادریہ کی عالمگیر روحانی تحریک کےطور پر بھی پیش کیا۔غوث پاک کے روحانی فیض سے مالامال ا میر اہلسنت کی روحانی بصیرت نے سلسلہ قادری کو انسانیت ہدایت کےلئے مشعل راہ بنایا اور آپ کی شخصیت کےارتقا میں فیضان غوث پاک کافیض ہی تھا جس نے مولانا الیاس قادری کو امیر اہلسنت کا خطاب دلا یا اور عصر حاضر میں آسمان قادریت کے مشائخ میں آپ کو اسلا ف کی ترجمانی کا منصب عطا کیاگیا۔ آج ہر سو فیضان غوث پاک کا فیض دعوت اسلامی کے گلشن میں مہک رہا ہے اور اس کی خوشبو سے مشام جان معطر ہورہے ہیں۔ حرف آخر:
خدمت اسلام میں بانی دعوت اسلامی نے جو عملی اقدامات اٹھائےاور خرقہ قادریت کی پاسداری کرتےہوئے لوگوں تک سلسلہ قادری کی روحانی امانتیں سپرد کیں ۔پھر سے گلشن قادریت کی بہاروں میں سلوک کےاسباق کی عملی شکل پیدا ہوئی ۔ہجوم عاشقان غوث الوری شیخ عبد القادر الجیلانی سے سلسلہ قادریت کی وسعتوں نے بے شمار ممالک کی سرحدوں کو چھوا۔مذکورہ تمام اقدامات کی حقیقت میں عملی شکل دیکھ اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ عصر حاضر میں مولاناالیاس قادری ہی عصر حاضر میں مشاہیر قادریہ کے حقیقی ترجمان ہیں اور آپ کی روحانیت کے اثرات فیضان غوث اعظم سے مستنیر ہوکو معاشرے کو روحانیت کی جلا بخش رہے ہیں۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!