مصلحِ امت :
اس جہانِ رنگ و بو میں انسانی ہدایت اور بھٹکی ہوئی انسانیت کا رشتہ خالقِ حقیقی سے جوڑنے کے لیے ایسی شخصیات ظاہر ہوتی رہیں جنہوں نے قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسے محیرالعقول کارنامے سرانجام دیے جن پر تاریخِ انسانیت نازاں رہی۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام تک پے در پے انبیاء و رُسل انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث ہوئے، پھر تقریباً تین سو سال کے وقفے کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحلتِ ظاہری کے بعد آپ کے صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے شاگردین یعنی تابعین و تبع تابعین نے دینِ اسلام کی عظیم الشان خدمات سرانجام دیں۔ خیرالقرون کے اصحاب نے امت کی تعلیم و تربیت اور اسلام کے نور سے معاشرے کو بقعۂ نور بنانے کے لیے جو مثالیں قائم کیں، وہ بعد کے مربیین اور مصلحین کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ ثابت ہوئیں۔ بعد ازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی مشن اور امت کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ائمۂ علم و عرفان، اصحابِ فقہ اور اصحابِ حدیث نے اپنے علمی ذخائر اور اصلاحی کردار کے ذریعے سنبھالی۔ یوں طلوعِ اسلام کے ساتھ ہی اسلامی تاریخ کے سنہری دور کا آغاز ہوا جو صدیوں تک امت کو علمی و روحانی روشنی فراہم کرتا رہا۔ بعد کے ادوار میں جب حالات اور زمانے کی تبدیلیوں سے نئے چیلنجز پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے مصلحینِ امت کو امت کی رہبری کے لیے بھیجا جنہوں نے اپنے علم و عمل، قائدانہ صلاحیتوں اور روحانی اثرات کے ذریعے معاشرے کو درست سمت پر گامزن کیا۔ اسلامی تاریخ میں مصلحِ امت کا کردار محض وعظ و نصیحت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ مصلحِ امت وہ شخصیت ہوتی ہے جو معاشرتی بگاڑ، فکری و نظریاتی بے اعتدالیوں، گمراہیوں، خرافات و بدعات اور عملی کج رویوں کو دور کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔ وہ نہ صرف افراد کی علمی، فکری، روحانی اور اخلاقی تربیت کرتا ہے بلکہ انہیں صراطِ مستقیم پر چلا کر دینِ اسلام کی حقیقی روح سے آشنا بھی کرتا ہے۔ مصلحِ امت اپنی سیرت کی عظمت، گفتار کی تاثیر اور عمل کی روشنی سے انسانی سماج کو ناانصافیوں اور اخلاقی پستیوں سے نکال کر اسلامی انقلاب آشنا کرتا ہے۔ وہ سنتِ نبوی کا عملی نمونہ بن کر امت کو روشن مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ عصرِ حاضر میں مصلحینِ امت کے سنہری ادوار کی ایک زندہ مثال اس نابغۂ روزگار ہستی کی ہے جس نے اکیسویں صدی میں تہذیبِ مغرب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب و تمدن کو زندہ کیا اور احیائے سنت کی عظیم تحریک کے ذریعے اسلامی انقلاب لوگوں کی زندگیوں میں برپا کیا۔ وہ باکمال ہستی، علم و عرفان کا پیکر، عشق و وفا کا مظہر، امیرِ اہلسنت حضرت مولانا محمد الیاس قادری رضوی کی شخصیت ہے جنہوں نے امتِ مسلمہ کو پھر عہدِ رفتہ کا مسافر بنایا اور اسلام کے سنہری دور کی یادوں کو زندہ کر کے اسلام کے نظامِ اصلاح کو قائم کیا۔ آپ کی مساعیِ جمیلہ، آپ کی تبلیغی کاوشیں، دینی تحریک دعوتِ اسلامی کا قیام، دینی تحریک کے عالمی اثرات، آپ کی علمی، فکری، نظریاتی، سماجی، تعلیمی، فلاحی اور دینی و روحانی خدمات وہ روشن مثالیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ایک مبلغ سے مصلحِ امت بن کر میدانِ عمل کے مطلعِ تبلیغ و ارشاد پر طلوع ہوئے۔ آپ کی جملہ تسلیمات پر زمانہ گواہ ہے اور آپ کے کردار کی عظمت کا معترف ہے۔ منصبِ تبلیغ پر مبلغِ اسلام مولانا الیاس قادری کی ابتدائی کاوشیں: تبلیغ کی عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی عشقِ مصطفیٰ کا ٹھٹھے مارتا ہوا سمندر مولانا الیاس قادری کے سینے میں موجزن تھا۔ تقویٰ و پرہیزگاری، خداترسی، رحمدلی، محبت و پیار کے جذبات خاندانی ورثے میں ملے تھے۔ دوسروں کی خیرخواہی اور رفاہی کاموں کی لگن علمائے کرام کی صحبت سے میسر آئی تھی۔ چنانچہ امیرِ اہلسنت الیاس عطاری صاحب نے خدمتِ دین کے دلی جذبے کے طور پر تبلیغی زندگی کا آغاز انفرادی طور پر شروع کیا۔ آپ کی معمولاتِ زندگی میں مسجد میں درس دینا، نمازوں کی پابندی، نیکی کی دعوت دینا اور قرب و جوار میں بسنے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا جوانی کی دہلیز سے ہی شامل تھا۔ بظاہر مولانا الیاس قادری نے ذاتی حیثیت سے ایک مبلغ کے طور پر نیکی کی دعوت کا سلسلہ شروع کیا۔ پھر اسلام کی بنیادی تعلیمات کی تدریس، سنتِ نبوی کی ترویج، اخلاقی اقدار کا درس، محفلِ میلاد کے ذریعے فروغِ عشقِ رسول کی کاوش اور طلبہ کو علمِ دین کی طرف راغب کرنا اپنے مشن میں شامل کیا۔ آپ اپنے سادہ مزاج اور من موہنے اندازِ سخن کی وجہ سے جلد لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اہلِ سنت کے اکابر علما فرماتے ہیں کہ حقیقت میں اس کامیابی کے پیچھے آپ کا دینی اخلاص اور سنتِ نبوی پر عمل کا جذبہ تھا جس نے ماحول کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔ ابتدا میں آپ کی دینی کاوشوں کا دائرہ کار اگرچہ محدود تھا لیکن یہ کسی بڑے مقصد کے حصول کی سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔ دعوتِ اسلامی کا قیام اور اس کے عالمی اثرات مولانا الیاس قادری نے اپنی ابتدائی دینی کاوشوں کے ثمرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2 ستمبر 1981ء کو توکل علی اللہ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہِ کرم کا سہارا لیتے ہوئے احیائے سنت کی عظیم دینی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے تبلیغی مقاصد کی طرف رختِ سفر باندھا۔ آپ نے محض تبلیغی جماعت کے طور پر دعوتِ اسلامی کو معاشرے میں متعارف نہیں کروایا بلکہ اس تحریک کے بنیادی مقصد کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفیٰ کی شمع فروزاں کی اور عشقِ رسول کے تقاضوں کو پورا کروایا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ مولانا الیاس قادری اپنی ذات میں انجمن بن کر مطلعِ رشد و ہدایت اور دعوت و ارشاد کی شاہراہوں کو نت نئے انداز کے ساتھ چمکانے لگے۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے دلوں میں اتباعِ سنتِ نبوی کے چراغ جلاتے رہے۔ سوزِ بلالی کے ساتھ اذانِ حق بلند کی، سازِ رومی کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کیا، فلسفۂ غزالی سے جادۂ حق دکھلایا، میخانۂ قادریت سے شرابِ طریقت کے جام سنیوں میں انڈیل کر سلوک کی راہ کا مسافر بنایا اور عشقِ حبیبِ خدا کے متوالے بنا کر احیائے سنت کا نظام قائم کیا۔ سیدھے سادھے اندازِ تبلیغ کے ساتھ یہ مردِ حق اپنی پرسوز آواز میں دین کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہے۔ گھر گھر، شہر شہر، گاؤں گاؤں جا کر راہِ حق کے چراغ جلائے۔ پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ ایک مختصر سی جماعت تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک بن کر دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی خوشبوؤں سے مشامِ جاں کو معطر کر رہی ہے۔ اب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی دولتِ ایمان سے مشرف ہو کر دعوتِ اسلامی کے دینی، تبلیغی، اصلاحی، تعلیمی، سماجی، فلاحی اور روحانی مشن کا حصہ بن رہے ہیں۔ عالمی سطح پر دعوتِ اسلامی کی مقبولیت اور کامیابی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مولانا الیاس قادری کی دینی کاوشیں کس قدر بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہیں اور آپ کے تمام کاموں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ کرم کا فیض شامل ہے جو چاردانگِ عالم میں احیائے سنت کی عظیم دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے اثرات سے عیاں ہے۔ تبلیغ سے اصلاحِ معاشرہ تک کا سفر: منصبِ تبلیغ کی گراں بار ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے والے مولانا الیاس قادری کی ہمہ جہت شخصیت نے فسادِ امت کے وقت سنتِ رسول پر عمل کو یقینی بنایا اور پھر تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کی طرف توجہ کی۔ حضرت الیاس صاحب کی دور رس نگاہوں میں امت کی فقط دینی اصلاح شامل نہیں تھی کہ انہیں صرف عبادات کا خوگر بنایا جائے اور مذہبی رسوم کی ادائیگی ہی تبلیغی زندگی کا حصہ ہو، بلکہ آپ نے اپنے نعرے میں عالمی اصلاح کی بات شامل کی اور سارے جہاں کے لوگوں کو اپنی اصلاح کا مخاطب بنایا۔ آپ نے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے اہم اقدامات کیے، قرآن و سنت کی تعلیمات سے معاشرے کے ناسور دور کیے۔ سماجی تعلقات میں رضائے الٰہی کو شامل کیا۔ رشتۂ دوستی کو اسلامی بندھن میں باندھا، دنیاوی معاملات میں دینی افکار کے ذریعے اصلاح کی۔ آپ نے ارکانِ اسلام کی تعلیم کے ساتھ قلبی رجحانات میں بھی دینی انقلاب لایا۔بیانات اور علمی مذاکروں کے ذریعے حلال و حرام کی تمیز سکھائی، قلبی بیماریوں کا علاج بتایا، جہنم میں لے جانے والے اعمال کی تباہ کاریوں سے پردہ اٹھا کر جنت میں لے جانے والے اعمال کی رغبت دلائی۔ اصلاحِ معاشرہ سے پہلے خاندانی رشتوں اور تعلقات میں دراڑ ڈالنے والے اسباب کا سدباب کیا۔ ذی رحم رشتہ کی اہمیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کر کے آپس کے تعلقات بہتر کیے۔
پھر معاشرتی اصلاح اور تشکیلِ اسلامی معاشرے کے حقیقی خدوخال تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں بیان کر کے ایک مثالی معاشرے کے قیام کی طرف پیش رفت کی۔ بچوں، جوانوں اور بوڑھوں سب کے لیے سنتِ نبوی پر مشتمل الگ الگ دستورِ حیات ترتیب دیے۔ خواتینِ اسلام کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ بنایا اور دنیا میں مدرسۃ المدینہ للبنات اور جامعۃ المدینہ للبنات کا تعلیمی و تربیتی جال بچھایا۔ معاشرتی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے معاشرے کی بقا اور سلامتی کے لیے مولانا الیاس قادری نے جدید ذرائعِ ابلاغ اور صحافت کے ذریعے بھی اصلاحی اقدامات کیے۔ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانے کی حکمتِ عملی وضع کی۔ لچے لفنگے نوجوانوں کو قربِ الٰہی کی لذت سے آشنا کیا اور ان کی اصلاح کو اہمیت دے کر انہیں فکرِ آخرت کا درس دیا، عشقِ رسول کے جام پلائے۔ یوں آپ کی دینی جدوجہد ثمر بار ہوئی اور آپ ایک مبلغ سے حقیقی مصلحِ امت کے طور پر تسلیم کیے گئے۔ دنیا نے آپ کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ کے نظامِ تبلیغ اور سماجی بہبود کے اداروں کو مقبولیتِ عامہ نصیب ہوئی۔ کئی ممالک میں خدمتِ اسلام کے حوالے سے دعوتِ اسلامی کو عالمِ اسلام کی عظیم دینی تحریک کے طور پر تسلیم کیا گیا۔مصلحِ امت کی دینی و سماجی خدمات میں علمی و فکری کاوشیں
حضرت امیرِ اہلسنت صاحب کی دینی و اصلاحی خدمات کے علاوہ آپ کی علمی و فکری خدمات کا تذکرہ کیا جائے تو اس میدان میں بھی آپ مردِ میدان نظر آتے ہیں۔ آپ کی بصیرت، آپ کی فکر کی بلندی، آفاقی سوچ اور آپ کے زاویۂ نظر نے ایسے گل کھلائے کہ آپ کے نام کا ڈنکا اہلِ فکر و نظر میں بھی بجنے لگا۔ دنیا کے دانشور حیران ہیں کہ کس طرح ایک سادہ مزاج، سادگی کے لباس میں ملبوس شخص دنیا کی خرافات اور بے حیائی سے دامن بچاتے ہوئے انسانیت کے کارواں کو ہدایت کی راہ پر گامزن کر رہا ہے۔ لوگ نظریاتی اور فکری لحاظ سے جب امیرِ اہلسنت کی دینی تحریک کے کاموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ورطۂ حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ شخص کس طرح سادہ اندازِ بیان اور سیدھے سادھے الفاظ میں لوگوں کے افکار و نظریات میں دینی انقلاب پیدا کر رہا ہے۔ مولانا الیاس قادری نے سب سے پہلے فکرِ رضا کو سمجھا، پھر محبتِ رضا سے عشقِ رسول کے جام پیے اور حب رضا میں مدحِ رضا پر ایک رسالہ لکھ کر حقِ محبت ادا کیا، پھر فکرِ رضا کو دامن گیر کر کے اپنی علمی وراثت کو ’’فیضانِ سنت‘‘ کتاب کے ذریعے تقسیم کیا۔ آپ کی علمی خدمات کا یہ حسین شاہکار طباعت و اشاعت کی دنیا میں ایک تاریخ رقم کر چکا ہے۔ اخلاقی تربیت پر اسلوبِ غزالی کا وہ حسین پرتو ہے جس نے دنیا میں سنتِ نبوی پر عمل کے جذبے کو ابھارا اور کئی زبانوں کے اسلوب میں ڈھل کر لوگوں کی ہدایت کا سامان کیا۔ بیسیوں تصنیفات، رسائل اور کتابچے آپ کی علمی خدمات پر گواہ ہیں اور آپ کی تحریرات کے موضوعات نئے انداز کے ساتھ لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ آپ کی رشحاتِ قلم سے نکلی تحریریں دلوں میں جاگزیں ہو جاتی ہیں۔ آپ کے قلمی ارشادات دلوں کی تسکین کا باعث بنتے ہیں۔ لوگ کتاب لکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ کتنی تعداد میں چھپوائیں تاکہ بک جائیں، اور یہاں یہ عالم ہے کہ مکتبۃ المدینہ اشاعت کی نئی نئی تاریخوں کے ساتھ کتابیں اور رسائل چھاپ کر شوقِ مطالعہ اور ذوقِ کتب رکھنے والوں کو پھر انتظار کے منجدھار میں چھوڑ دیتا ہے۔ آپ کی فکر نے معاشرے کو اہلِ سنت کے عقائد کی حقانیت سے آگاہی دی۔ باطل نظریات اور گمراہ عقائد کے تدارک کے لیے آپ نے فکرِ رضا کو اہمیت دی اور علمائے حق کے علمی ذخیرے کو عام فہم انداز میں بیان کرنے اور ہزاروں کتابوں پر مشتمل علم کی تقسیم کے لیے مدنی مذاکرہ کا سلسلہ شروع کیا۔ اس علمی مناقشے کی سب سے بڑی خوبی یہ دیکھنے کو ملی کہ اس کے ذریعے سینکڑوں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں زندگیوں کو درست راہِ حق نصیب ہوئی۔ قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ و اولیاء، فقہی مسائل اور اسلامی موضوعات کو آسان پیرائے میں بیان کیا اور لوگوں کو اہلِ سنت و جماعت کے عقائد سے روشناس کرایا۔ گمراہ فرقوں کے افکار و نظریات کا علمی رد کرنے کی بجائے صحیح اسلامی عقائد کی تعلیمات دیں اور آسان انداز کے ساتھ دلوں میں افکارِ اہلِ سنت جمائے۔ آپ کی علمی خدمات کا مقصد لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سے آگاہی دینا اور ان کے فکری انحرافات کو دور کر کے عشقِ رسول کا پیکر بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے متبعین اور مریدین مذہبی منافرت اور تفرقہ بازی کے جھگڑوں سے دامن بچاتے ہیں اور امت کی اصلاح کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مصلحِ امت امیرِ اہلسنت کی سماجی خدمات کا تجزیہ مولانا الیاس قادری امیرِ اہلسنت کی تمام تر جدوجہد کا حاصل بنظرِ غائر دیکھیں تو دینی اصلاح کے ساتھ لوگوں کی سماجی و معاشرتی اصلاح بھی ہے۔ آپ نے علمی و نظریاتی زندگی گزارنے کی بجائے عملی اقدامات کی طرف توجہ مبذول کی۔ آپ نے اپنی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز اور اس سے ملحق جملہ اداروں میں جو سماجی خدمات کے ادارے قائم کیے، ان سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے امت کی خیرخواہی اور فلاح کے لیے کیا کچھ خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی سماجی خدمات کا جائزہ اختصار کے ساتھ پیشِ خدمت ہے:-
جامعات المدینہ: علمِ دین کی اشاعت اور علومِ اسلامیہ کی تعلیم کا ایک عظیم ادارہ ہے جہاں بچوں اور بچیوں کے لیے تحصیلِ علم کے الگ الگ شعبہ جات ہیں۔ اس ادارے میں دین و دنیا کے علوم کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ دنیا کے بے شمار ممالک میں جامعۃ المدینہ بوائز اینڈ گرلز کے نام سے تعلیمی و تربیتی خدمات سرانجام دی جا رہی ہیں۔ -
مدارس المدینہ: قرآن انسٹیٹیوٹ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں تعلیمِ قرآن کا ایک بڑا نظام قائم ہے۔ لاکھوں بچے زیورِ تعلیمِ قرآن سے آراستہ ہو کر نورِ قرآن کی کرنوں سے معاشرے کو علمِ قرآن کی روشنی فراہم کر رہے ہیں۔ -
دارالمدینہ اسلامک اسکول سسٹم: جدید طرز کا اسلامک اسکولنگ سسٹم قائم کیا گیا جہاں نرسری سے لے کر مڈل اور میٹرک تک کے بچوں اور بچیوں کو عصری علوم کے ساتھ دینی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ -
فلاحی شعبہ کا قیام: عوامی خدمت کے جذبے سے بھرپور فلاحی شعبے کا قیام مولانا الیاس قادری صاحب کی سماجی خدمت کی نمایاں دلیل ہے۔ بے روزگار افراد کو مختلف ہنر سکھا کر خود کفیل بنانا، تبلیغِ دین کے لیے علما کو انٹرنیشنل لینگوئجز کورسز کروانا، پروفیشنل اداروں کے ملازمین کے لیے کردار سازی اور تعمیرِ شخصیت سیشنز کا انعقاد کرنا، قدرتی آفات زدہ شہروں اور علاقوں میں فلاحی خدمات انجام دینا اور عوام الناس کی بہبود کے سماجی کام کرنا اس ادارے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں۔ -
روحانی شعبہ کا قیام: معاشرتی مسائل کے علاوہ روحانی مسائل اور مختلف قسم کی بیماریوں کے روحانی علاج کے لیے بھی ایک علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اس شعبے سے مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی ماہانہ لاکھوں سے کم نہیں ہے۔ -
اسلامی پروگرامز کے ذریعے اصلاحی اقدامات: عصرِ حاضر میں مولانا الیاس قادری نے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو ایک نیا دینی رنگ دیا۔ آپ نے دنیا کو ایک ایسا مدنی چینل دیا جو بغیر اشتہارات اور ایڈورٹائزمنٹ کے 12 اور کبھی 24 گھنٹے کی نشریات میں اسلامی پروگرامز، دینی باتیں، مسائلِ فقہیہ، دینی معاملات، اسلامی ایونٹس اور معاشرتی مسائل پیش کرتا ہے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!