مٹی سونا بن گئی
ایک مرتبہ ایک خاتون بابا فریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی کہ یاحضرت ! میری تین جوان بیٹیاں ہیں، جن کی شادی کرنی ہے، آپ مدد فرمائیے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خدام سے فرمایا: جو کچھ بھی درگاہ پر موجود ہے، وہ خاتون کو دے دو۔ خدام نے عرض کی: حضور! آج کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ یہ سن کر خاتون رونے لگی کہ میں بہت مجبور ہوں اور آس لیکر آئی ہوں، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ جاؤ باہر سے ایک مٹی کا ڈھیلا اٹھالاؤ، وہ مٹی کا ڈھیلا اٹھالائی۔
آپ رحمۃ اللٰہ تعالٰی علیہ نے بلند آواز سے سورۂ اخلاص پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ مٹی کا ڈھیلا سونا بن گیا، یہ دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے، خاتون سونا گھر لے گئی اور گھر جاکر اس نے بھی پاک صاف ہوکر سورۂ اخلاص پڑھ کر مٹی کے ڈھیلے پر دم کیا مگر وہ سونا نہ بن سکا،آخر کار 3 دن تک یہی عمل کرتی رہی مگر بے سود۔ ناچارآپ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی:حضور!میں نے بھی سورۂ اخلاص پڑھی، لیکن مٹی سونا نہیں بنی ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ تو نے عمل تو وہی کچھ کیا مگر تیرے منہ میں فرید کی زبان نہ تھی۔( اللہ کے سفیر ، ص 298ملخصا)
حضرات گرامی! اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (اولیاء کرام) لوگوں پر بہت مہربان ہوتے ہیں۔ جب کوئی غریب، محتاج یا پریشان حال شخص ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس ظاہری طور پر دینے کے لیے کچھ نہ بھی ہو، تب بھی وہ سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ اس کی حاجت پوری ہو جاتی ہے۔
اللہ پاک کے نیک بندوں کی دعا اور توجہ سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ یہ ان کا ذاتی اختیار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کرامت (خاص عنایت) ہوتی ہے۔
اسی طرح اللہ والوں کی دعائیں اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتی ہیں، ان کی بات دلوں پر اثر کرتی ہے اور ان کے کہے ہوئے الفاظ میں برکت ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ:
-
اولیاء اللہ مخلوق خدا کی خدمت کرتے ہیں ۔ -
ان کی مدد اللہ پاک کی عطا سے ہوتی ہے ۔ -
ان کی دعاؤں میں خاص تاثیر اور قبولیت ہوتی ہے ۔
ہاتھی زندہ ہوگیا
ایک مرتبہ حضرت سیدی احمد جام زندہ پیل رحمۃ اللہ علیہ کہیں تشریف لے جارہے تھےکہ راستے میں ایک مقام پر لوگوں کا مجمع نظر آیا،آپ رحمۃ اللہ علیہ اس مجمع کے پاس تشریف لے گئے ۔ فرمایا: کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے عرض کی : ہاتھی مر گیا ہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اس کی سونڈ ویسی ہی ہے، آنکھیں بھی ویسی ہیں ،ہاتھ بھی ویسے ہی ہیں،پیر بھی ویسے ہی ہیں۔غرض سب چیزوں کو فرمایا کہ ویسے ہی ہیں پھر مر کیسے گیا؟آپ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمانا تھا کہ فورا وہ ہاتھی زندہ ہو گیا، اس دن سے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا لقب ”زندہ پیل“( یعنی ہاتھی زندہ کرنے والا)ہو گیا۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت ،ص449) کیاکوئی بندہ، مردہ کوزندہ کرسکتا ہے ؟ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے شک موت وحیات اللہ پاک کے اختیار میں ہے، لیکن اللہ پاک اپنے کسی بندے کو مردے جلانے (زندہ کرنے)کی طاقت بخشے تو اس کیلئے کوئی مشکل نہیں اور اللہ عزوجل کی عطا سے کسی اورکو ہم مردہ زندہ کرنے والا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا،بہرحال اگر کوئی یہ عقیدہ رکھےکہ اللہ پاک نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفا دینے، مردے کو زندہ کرنے کا اختیار دیا ہی نہیں ہے تو ایسانظریہ رکھنا قرآن پاک کی آیت مبارکہ کے سراسر خلاف ہے۔چنانچہ پارہ 3سورۂ اٰل عمران کی آیت نمبر 49 میں حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا قول واضح طورپر نقل کیا گیا ہے: اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَ كْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ ترجمۂ کنز الایمان:میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت(شکل وصورت) بناتا ہوں پھراس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فورا پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد(پیدائشی ) اندھے اورسپید(سفید) داغ والے کواور میں مردے جلاتا(زندہ کرتا) ہوں اللہ کے حکم سے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام صاف صاف اعلان فرما رہے ہیں کہ میں اللہ پاک کی بخشی ہوئی قدرت کے ذریعے مٹی سے پرندہ بناکر اس میں روح پھونکتاہوں ، مادر زاد اندھوں کوبینائی اور کوڑھیوں کو شفا دیتا ہوں، حتٰی کہ مردوں کو بھی زندہ کر دیا کرتا ہوں۔ فیضان انبیاء کرام سے اولیاء عظام کو بھی اختیارات دیئے جاتے ہیں اور وہ بھی ایسے کام سرانجام دیتے ہیں کہ ہماری عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں ۔جیساکہ حضرت سیدنا سلیمان علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام کے وزیرحضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اللہ پاک کے عطاکردہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے پلک جھپکنے سے پہلے پہلے ملک یمن سے تخت بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کردیا، جسے قرآن پاک نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :چنانچہ پارہ 19 سورۃ النمل آیت نمبر 40 میں ارشاد ہوتاہے : اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ ترجمۂ کنز الایمان :میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سنا آپ نے کہ ایک ولی اللہ نے اللہ پاک کی عطاکردہ قوت سے اسی(80) گز لمبا اور چالیس(40) گز چوڑا جواہرات سے مزین تخت انتہائی کم وقت میں ملک یمن سے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربارمیں پیش کردیا۔صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالٰی کو اللہ پاکنے بہت بڑی طاقت دی ہے، ان میں جو (اولیائے کرام کی قسم) اصحاب خدمت ہیں، ان کو تصرف کا اختیار دیا جاتا ہے، سیاہ، سفید کے مختار بنا دیے جاتے ہیں، یہ حضرات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے نائب ہیں، ان کو اختیارات وتصرفات حضور(صلی اللٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم) کی نیابت میں ملتے ہیں علوم غیبیہ ان پر منکشف ہوتے ہیں۔ (بہارشریعت ،1/267)اللہ پاک کے محبوب بندوں پراس کا خصوصی کرم ہوتا ہے،ان کے کاموں میں اللہ پاک کی طرف سے مدد شامل ہوجاتی ہے۔ اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالٰی کے تصرفات واختیارات کے بارے میں حدیث پاک سنئے، چنانچہ سید المبلغین،رحمۃ للعٰلمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرمان عالیشان ہےکہ اللہ پاکارشاد فرماتا ہے :میرے کسی بندے نے میرے فرض کردہ احکام کی بجاآوری سے زیادہ محبوب شے سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے،یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا فرماتا ہوں اوراگرکسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ عطا فرماتا ہوں۔ ( بخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع،4/248،حدیث:6502) مفسر شہیر،حکیم الامت، مفتی احمدیارخان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بو،کہ خدا تعالیٰ حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ (رکھنا)کفر ہے(بلکہ اس حدیث کامطلب یہ ہے ) کہ وہ بندہ فنا فی اﷲ ہوجاتا ہے ،جس سے خدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ویسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں (جیسا کہ )حضرت سلیمان(علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام )نے 3 میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی،حضرت آصف بن برخیا(رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تخت بلقیس لاکر شام میں حاضر کردیا۔حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ) نےمدینۂ منورہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔حضور انور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے قیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالیے۔یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح ،3/308 ملتقطا) ولی اللہ کسے کہتے ہیں ؟ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولیائے کرام کے تصرفات سے متعلق مزید واقعات سننے سے پہلے یہ بھی سن لیجئے کہ ولی کہتے کسے ہیں؟: ولی اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نور جلال کی معرفت میں مستغرق (ڈوباہوا) ہو ،جب دیکھے قدرت الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ پاککی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عز وجل کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعت الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قرب الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ پاک کے ذکر سے نہ تھکے اور چشم دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ پاک اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔(صراط الجنان ، 4/344) کرامت کی تعریف کیا ہے؟ صدر الشریعہ،بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں کرامت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ولی سے جو خلاف عادت بات صادر ہو، اس کو کرامت کہتے ہیں۔( بہار شریعت،حصہ اول،1/58 بتغیرقلیل) شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمصطفٰے اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:مؤمن متقیسے اگر کوئی ایسی نادرالوجود وتعجب خیز چیز صادر وظاہر ہوجائے جو عام طور پر عادتا نہیں ہواکرتی تو اس کو ”کرامت “کہتے ہیں ۔ اسی قسم کی چیزیں اگر انبیاءعلیہم الصلٰوۃ والسلام سے اعلان نبوت سے پہلے ظاہر ہوں تو”ارهاص“اور اعلان نبوت کے بعد ہوں تو ”معجزہ“ کہلاتی ہیں اور اگر عام مؤمنین سے اس قسم کی چیزوں کا ظہور ہوتو اس کو ”معونت“کہتے ہیں اورکسی کافر سے کبھی اس کی خواہش کے مطابق اس قسم کی چیز ظاہر ہوجائے تو اس کو ”استدراج“ کہا جاتاہے۔( کرامات صحابہ، ص۳۶) خلاف عادت بات سے مراد وہ کام ہے جو عام طور پر ہر کسی انسان سے ظاہر نہ ہوتا ہو مثلا ہوا میں اڑنا، پانی پر چلنا وغیرہ افعال کہ عام طور پر آدمی نہ تو ہوا میں اڑ سکتا ہے اور نہ ہی پانی پر چل سکتا ہے۔(فیضان مزارات اولیاء،ص46) پانی پر تصرفات میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!يقينااولیائے کرامرحمہم اللہ تعالٰی کو اللہ پاک نےہوامیں اڑنے کی طاقت عطا فرمائی ہے جو بغیر پروں کے بآسانی ہوامیں پرواز کرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں اور اللہ پاک كے بعض نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جوسمندروں اور دریاؤں كو بھی اپنے تابع کر لیتے ہیں اورپانی پربلاخوف اس طرح چل سکتے ہیں جیسے خشکی پرچلتے ہیں ،چنانچہ بغیر کشتی کے دریار پار کرلیا روایتوں میں آتا ہے کہ جنگ فارس میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار تھے ۔دوران سفر راستے میں دریائے دجلہ کو پار کرنے کی ضرو رت پیش آگئی اور کشتیاں موجود نہیں تھیں ۔آپ نے لشکر کو دریا میں چل دینے کا حکم دے دیا اورخود سب سے آگے آگے یہ دعا پڑھتے ہوئے دریا پر چلنے لگے”نستعین باللہ ونتوکل علیہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ولاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم“لوگ آپس میں بلا جھجک ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے گھوڑوں والے گھوڑوں پر سوار،اونٹوں والے اونٹوں پر سوار، پیدل چلنے والے پاپیادہ(یعنی پیدل) اپنے اپنے سامانوں کے ساتھ دریا پر اس طرح چلنے لگے جس طرح میدانوں میں قافلے گزرتے رہتے ہیں۔(دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل التاسع و العشرون، عبور سعد بن ابی وقاص...الخ، جزء 2،ص341-342۔رقم: 522ملخصا)
آسمانوں پربھی حکمرانی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے نیک بندے اس کی دی ہوئی طاقت سے پانی اور ہواپربھی چل سکتے ہیں اور یہ حضرات ایسی شان والے ہوتے ہیں کہ ان کی دعائیں رد نہیں ہوتیں، سخت قحط كےعالم میں جب بارگاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھاکربارش كی دعافرما ديں تو اللہ پاک ان کی دعاؤں كی برکت سے موسلادھار بارش برساکر پیاسوں کو سیراب اور کھیتوں اور باغات کو سرسبز وشاداب فرما دیتا ہے جیساکہ باران رحمت کا نزول منقول ہے کہ ایک بار سىہون شرىف (باب الاسلام سندھ،پاکستان)اور اس کے ارد گرد کے علاقوں مىں شدید قحط پڑا،یہاں تک کہ کھانے کى کوئى چىز دور دور تک دکھائى نہ دىتى، نہریں خشک ہوگئىں، کنوئىں سوکھ گئے، پانى کاملنا دشوار ہوگیا۔ قحط کی وجہ سے اس قدر خوفناک صورت حال ہوگئى کہ زندہ بچنے کى کوئى امىد دکھائى نہ دىتى تھى۔ آخر کار اہل علاقہ اکٹھے ہو کر حضرت لعل شہباز قلندر سید محمد عثمان مروندی کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہکى بارگاہ میں حاضر ہوکرفریاد کرنے لگے۔آپ رحمۃ اللہ علیہنے امربالمعروف اور نہی عن المنکر(نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے ) کا فريضہ سرانجام دیتے ہوئے فرمایا : تم سب لوگ اللہ پاک کى بارگاہ مىں گناہوں سے سچی توبہ کرو اور مىرے ساتھ دعا مانگو۔ لوگوں نے فورا اللہ عز وجل کی بارگاہ عالی میں اپنے گناہوں کى معافى مانگی اور توبہ استغفار کرنے لگے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ دراز کردئیے اور بارش اور خوشحالی کی دعاکی۔ کہا جاتا ہے کہ ابھى حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ دعا مانگ کر اپنے حجرۂ مبارکہ مىں داخل بھى نہ ہونے پائے تھے کہ اللہ پاک نے آپ کى دعا کو قبولیت سے مشرف فرمایا اور رحمت کی بوندیں برسنیں لگیں۔ اللہ پاک کے فضل وکرم اورحضرت سیدنا لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کی قبولیت دعا کی خوشی میں لوگوں نے کھانے پکاکر غرباء و مساکىن مىں تقسىم کىے۔ حضرت سیدنا لعل شہبازقلندررحمۃ اللہ علیہ نے نماز عشاء کى ادائىگى کے بعداجتماع ذکرونعت کا اہتمام فرمایا اور لوگوں نے مل کر اللہ پاک کا ذکر کىا اورحضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات گرامی پر خوب درود و سلام پىش کىا۔( شان قلندر،ص311 ملخصا) اللہ پاک کی ان پر رحمت ہواور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت سےمعلوم ہواکہ جب کوئی مصیبت پہنچے تو اللہ پاک کے نیک بندوں کی بارگاہ میں حاضر ہوکر ان سے دعاکروانی چاہیے کہ اللہ پاک کے نیک بندوں کی دعائیں فورا بارگاہ عالی میں شرف قبولیت پاتی ہیں۔نیز یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ پاک کی رحمت ملنے پر جائز طریقے سے خوشی کا اظہار کرنا چاہیے جبھی تو حضرت سیدنا لعل شہباز قلندرعثمان مروندی رحمۃ اللہ علیہ نے اجتماع ذکرونعت کا اہتمام کرکے اللہ پاک کا شکر ادا کیااور کیوں نہ ہوکہ ان اللہ والوں کی تو ساری زندگی قرآن وسنت کی تعلیمات کا عملی نمونہ ہوتی ہے۔مگرافسوس صدافسوس!ہماری اکثریت ان نیک ہستیوں کے طریقے پر چلنے کے بجائے خوشی کےمواقع پراپنے رب عز وجل کی نافرمانی کرتی نظر آتی ہے ، خوب بے حیائی کا بازار گرم ہوتاہے جس میں ایک دوسرے کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں ،بعض نادان لوگ خوشی کے ان لمحات میں معاذ اللہ پاک گانے باجوں کی محفلیں سجاتے ہیں،جن میں ساری ساری رات لڑکے اوربےپردہ لڑکیاں ناچتی گاتی ہیں اور اس طرح مخلوط(Mix) ماحول میں لوگ بدنگاہی کے سبب اپنی آنکھوں کو حرام سے پر کرتے ہیں۔یادرکھئے!شادی بیاہ اورخوشی کےدیگرمواقع اللہ پاککی عظیم نعمت ہیں،ہمیں ان لمحات کوصحیح انداز سے گزارنے کاطریقہ بھی معلوم ہونا چاہیے،اللہ پاک کی دی ہوئی اس نعمت کا شکرادا كرنے کیلئے سب سے پہلےان پرمسرت ساعتوں میں رب کریم عز وجل کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ حضرت سیدنا زیادبن عبیدرحمۃ اللٰہ تعالٰی علیہ سے منقو ل ہے: نعمت پانے والے پر اللہ پاک کا ایک حق یہ ہے کہ وہ اس نعمت کے ذریعے نافرمانی نہ كرے ۔(تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر، زیاد بن عبید،19/191) اللہ پاک کی نعمت کا شکر ادا کرنے کے چند جائز طریقے یہ ہیں کہ زبان سے اللہ پاک کی حمد کی جائے،تلاوت قرآن پاک اور اجتماع ذکر ونعت کا اہتمام کیا جائے،خوب خوب صدقہ و خیرات کی جائے،اچھی اچھی نیتیں کرکے نیک اعمال میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے، نعمت ملنے کی خوشی میں سجدۂ شکر اداکیا جائے کہ ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوجب کوئی خوشی حاصل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدۂ شکر ادا کرتے۔''(ابن ماجہ ،2/163،حدیث:1394) آئیے !اسی ضمن میں شیخ طریقت ،امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیف ’’نمازکے احکام‘‘ صفحہ 285 سے سجدۂ شکر اداکرنے کےمواقع اور اس کا طریقہ سنتے ہیں، آپ فرماتے ہیں:اولاد پیدا ہوئی،یا مال پایا یاگمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مسا فر واپس آیا،الغرض کسی نعمت کے حصول پر سجدۂ شکر کرنا مستحب ہے،اس کا طریقہ وہی ہے جو سجدۂ تلاوت کا ہے۔( عالمگیری ،ج 1 ،ص 136،ردالمحتار، ج 2،ص720) اسی طرح جب بھی کوئی خوشخبری یا نعمت ملے تو سجدۂ شکر کرنا کار ثواب ہے مثلا مدینۂ منورہ کا ویزا لگ گیا ،کسی پر انفرادی کوشش کا میاب ہوئی اور وہ دعوت اسلامی کےسنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفرکیلئے تیار ہوگیا ،کسی سنی عالم باعمل کی زیارت ہوگئی ،مبارک خواب نظر آیا ،طالب علم دین امتحان میں کامیاب ہوا، آفت ٹلی یا کوئی دشمن اسلام مرا وغیرہ وغیرہ۔(ان تمام مواقع پر سجدۂ شکر کرنا مستحب ہے ) اللہ پاک ہمیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی توفیق نصیب فرمائے اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اور شیطان میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان بزرگوں کی سیرت پر چلتے ہوئے زندگی بسرکرنا نہ صرف دنیا وآخرت میں ڈھیروں بھلائیاں پانے کا سبب ہے بلکہ ان نیک ہستیوں سے نسبت ہمارے آخری وقت میں بھی کام آتی ہے ۔جیساکہ شیخ طریقت ،امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’وسوسے اور ان کا علاج‘‘صفحہ نمبر11پر نقل فرماتے ہیں کہ (حضرت سیدنا) امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کے نزع کا وقت جب قریب آیا، تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس شیطان حاضر ہوا ،کیونکہ اس وقت شیطان جان تو ڑ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس (بندے )کا ایمان سلب ہو جائے(یعنی چھین لیا جائےکہ)اگر اس وقت ایمان سے پھر گیاتو پھر کبھی نہ لوٹ سکے گا۔ شیطان نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ تم نے تمام عمرمناظروں،بحثوں میں گزاری،خدا عزوجل کو بھی پہچانا؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:بے شک خداعزوجل ایک ہے ۔ شیطان بولا،اس پر کیا دلیل؟آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دلیل پیش کی۔شیطان خبیث معلم الملکوت(یعنی فرشتوں کا استاذ) رہ چکا ہے۔اس نے وہ دلیل تو ڑ دی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دوسری دلیل قائم کی؟اس خبیث نے وہ بھی توڑ دی۔یہاں تک کہ 360دلیلیں حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کیں، مگر اس لعین نے (اپنے زعم فاسد میں)سب توڑ دیں۔ اب امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ سخت پریشانی اور مایوسی میں مبتلا ہوئے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پیر حضرت شیخ نجم الدین کبرٰی رحمۃ اللہ علیہ کہیں دور دراز مقام پر وضو فرما رہے تھے۔وہاں سے پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کو آواز دی کہ کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں نے خداعزوجل کو بے دلیل ایک مانا۔ (ملفوظات ،حصہ چہارم ،ص493،ملخصا) مرشدکامل سے بیعت کرلیجئے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے اپنے نیک بندوں کو اس قدر طاقت عطا فرمائی ہے کہ یہ حضرات میلوں دور کے حالات ملاحظہ فرمالیا کرتے ہیں بلکہ مدد بھی فرماتے ہیں جیساکہ حضرت شیخ نجم الدین کبرٰی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرید کے آخری وقت میں شیطان سے بچالیا نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی نیک اور جامع شرائط پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینا یعنی ان سے مرید ہوجانا،ایمان کی حفاظت کیلئے مفید ہے ۔کسی کو پیر اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ امور آخرت میں بہتری آئے، اس کی رہنمائی اور باطنی توجہ کی برکت سے مرید ،اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی والے کاموں سے بچتے ہوئے رضائے رب الانام کے مدنی کام کے مطابق اپنے شب و روزگزار سکیں ۔ لیکن افسوس! موجودہ زمانے میں بیشتر لوگوں نے پیری مریدی جیسے اہم منصب کو حصول دنیا کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔ بے شمار بدعقیدہ اور گمراہ لوگ بھی تصوف کا ظاہری لبادہ اوڑھ کر لوگوں کے دین و ایمان کو برباد کر رہے ہیں۔ پیرکامل کی شرائط ، اوصاف اور دیگر معلومات جاننے کیلئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب" آداب مرشد کامل" کا مطالعہ کیجئے،ان شآء اللہ مفید معلومات کے ساتھ ساتھ مرشد کامل سے بیعت ہونے کا ذہن بنے گا،اگربیعت ہوچکے ہوں تویہ معلومات بھی حاصل ہوں گی کہ ایک مرید پر پیر کے کیا کیا حقوق ہوتے ہیں؟ اگر آپ ابھی تک کسی پیرصاحب سے مرید نہیں ہوئے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، الحمد للہفی زمانہ مرشد کامل کی ایک مثال شیخ طریقت ،امیراہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہبھی ہیں، آپ ان سے مرید ہوسکتے ہیں،جن کے تقویٰ و پرہیز گاری کی برکات دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کی صورت میں ہمارے سامنے واضح طور پر موجود ہیں ، آپ کی نگاہ ولایت اور حکمتوں بھری مدنی تربیت نے دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا کردیا ۔ کتنے ہی بے نمازی آپ کی نگاہ فیض سے نمازی بن گئے ۔ ماں باپ سے نازیبا رویہ اختیار کرنے والے باادب بن گئے ، گانے باجے سننے والے،عشق رسول میں ڈوب کر نعتیں سننے والے بن گئے، مدنی مذاکرے اور سنتوں بھرے بیانات سننے والے بن گئے ، فلمی گیت گنگنانے والے نعت مصطفٰے پڑھنے والے بن گئے، مال کی محبت میں جینے مرنے والوں کو فکرآخرت کی مدنی سوچ نصیب ہوگئی، تفریحی مقامات پر جاکر اپنا وقت برباد کرنے والے سنتوں بھرے اجتماعات میں اول تاآخر شرکت کرنے والے بن گئے ۔لہٰذا آپ بھی شیخ طریقت، امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا فیض پانے، اپنے مقصدحیات کو کامیاب بنانے کیلئے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ۔ 12مدنی کاموں میں سے ایک مدنی کام مدنی قافلہ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے دل میں ایمان کی سلامتی کا شعور پیدا کرنے کیلئے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رہئے نیز ذیلی حلقے کے 12مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجئے۔ذیلی حلقے کے 12 مدنی کاموں میں سے ماہانہ ایک مدنی کام” مدنی قافلہ“بھی ہے۔الحمد للہ دعوت اسلامی کے تحت سفر کرنے والے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں کی برکت سے اب تک بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوچکا ہےاوراب بھی کئی مدنی بہاروں کی مدنی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں،مدنی قافلے عموما مساجد ہی میں ٹھہرتے ہیں، لہٰذا کئی مساجد بھی انہی مدنی قافلوں کی بدولت آباد ہوچکی ہیں اور مساجد کو آباد کرنے کی تو کیا ہی بات ہے،حدیث پاک میں ہے:جب کوئی بندہ ذکر ونماز کے لئے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تو اللہ پاک اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی اپنے ہاں آمد پر خوش ہوتے ہیں۔( ابن ماجہ،کتا ب المساجد والجماعات ،با ب لزوم المساجد ،1/ 438، رقم :800) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!الحمد للہ دعوت اسلامی سنتوں بھری غیر سیاسی مسجد بھروتحریک یہ عزم رکھتی ہے کہ کسی بھی طرح امت کا بچہ بچہ نمازی بن جائے ،مسجدوں کی رونق پلٹ آئے۔شیخ طریقت ،امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ہرمسلمان کونماز پنجگانہ صف اول میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ اداکرنے اور مسجدیں آباد رکھنے کیلئے ایک مدنی انعام یہ بھی عطافرمایا ہے کہ ’’کیا آج آپ نے پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا فرمائیں؟ نیز ہر بار کسی ایک کو اپنے ساتھ مسجد لے جانے کی کوشش فرمائی؟‘‘ مجلس خدام المساجد شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ اللہ پاک کی عبادت اور مساجد سے اس قدر محبت فرماتے ہیں کہ آپ نے اللہ پاک کے گھروں یعنی مساجد بنانے اور ان کو آباد کرنے کے لیے مجلس خدام المساجد بنائی، جس کا کام شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے اس خواب کی تکمیل ہے کہ”اے کاش! ہماری مساجد آباد ہو جائیں، ان کی رونقیں پلٹ آئیں اورمخلوق جو نفس و شیطان کی وجہ سےخالقعزوجل سے دورہو رہی ہے،قریب ہوجائے۔مجلس ’’خدام المساجد‘‘پرانی مساجد آباد کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ نئی مساجد کی تعمیر کیلئے بھی ہر وقت کوشش کرتی رہتی ہے،یہی وجہ ہے کہ نہ صر ف پاکستا ن بلکہ دنیا بھر میں مساجد کی تعمیرات اوران کوآباد کرنے کا سلسلہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔الحمد للٰہ عز وجل دعوت اسلامی کا مدنی ماحول مسجدیں آباد کرنے ،لوگوں کونمازی بنانے ، گناہوں سے بچانے اورصلوٰۃ وسنت کے راستے پر چلانے کی کوشش کرتاہے،اس مدنی ماحول کی برکت سے کیسے کیسے بگڑے ہوئے لوگ سدھر گئے اس کی ایک جھلک اس مدنی بہار میں ملاحظہ کیجئے ،چنانچہ نیوائیرنائٹ منانے سے باز رہا گوجرانوالہ (پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ میرا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا ،نہ نماز پڑھتا نہ قرآن بلکہ شراب نوشی، بدکاری ، جوابازی کا شوقین تھا،حتٰی کہ اپنی زمینیں بیچ بیچ کر جوا کھیلا کرتا۔ بیوی بچوں کو بھی تنگ کیا کرتا ۔میرے کردار کی وجہ سے میرے گھر والے بھی سخت پریشان تھے ۔ وہ اکثر مجھے برائیوں سے روکتے لیکن میں نہ مانتا ۔ ایک مرتبہ میں نے اپنے ڈیرے پر نیوائیر نائٹ(New Year Night)منانے کا پروگرام بنایا ،شراب نوشی وبدکاری کے تمام لوازمات جمع کئے،31دسمبر کی رات میرے یار بداطوار سب میرے ڈیرے پر جمع ہوگئے ۔تقریبا 10بجے میں گھر آیا کہ 12بجے تک واپس آجاؤں گا۔گھر پہنچ کر میں نے ٹی وی لگایااور چینل بدلتے بدلتے مدنی چینل میرے سامنے آگیا، جس پر ایک بزرگ (یعنی امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ) نیو ائیر نائٹ (New Year Night)منانے والوں کو سمجھا رہے تھے ، انداز ایسا پیارا اور دلچسپ تھا کہ میں نے وہ بیان سننا شروع کردیا ، اس بیان سے مجھے بڑی معلومات ملیں اورعبرت ہوئی کہ ہم کیا کرنے جارہے تھے ، میں خوف خدا سے رونے لگا اور بالآخر میں نے نیوائیر نائٹ(New Year Night) میں خرافات کرنے اور دیگر گناہوں سے توبہ کرلی ۔ دوسری طرف میرے دوست میرے انتظار میں تھے ، جب میں نہ پہنچا تو وہ مجھے فون کرنے لگے ،لیکن میں نے اپنا موبائل بندکردیا اورسوگیا۔ بدلی ہوئی صبح سے میری نئی زندگی کا آغاز ہوا ، میں نے برائیاں اور بری صحبت چھوڑدی ،اپنا موبائل نمبر بھی تبدیل کرلیا تاکہ برے دوستوں سے نجات مل جائے ،قادری عطاری سلسلے میں بیعت ہوکرشیخ طریقت،امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہکا مرید بھی بن گیا ۔اولا 3دن کے مدنی قافلے میں عاشقان رسول کے ساتھ سفر کیا ،پھر دعوت اسلامی کے زیر انتظام ہونے والے پورے ماہ رمضان کے اجتماعی اعتکاف میں بھی بیٹھا ۔داڑھی بڑھا لی ،مدرسۃ المدینہ بالغان میں پڑھنا شروع کردیا ۔ یہ سب دعوت اسلامی کا فیضان ہے، ورنہ اس وقت میں نہ جانے کس حال میں ہوتا! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی موقع ملےتواللہ پاک کے نیک بندوں کی بارگاہ سے فیض پانے کیلئے ان کی صحبت میں بیٹھنا چاہیے اور دیگر اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ ساتھ دل میں یہ ارادہ بھی ہوناچاہیے کہ میں ان سے دینی اور اخروی فائدے کیلئے ان کی صحبت اختیار کررہاہوں ۔ اللہ پاک کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کی سیرت و کردار اور اچھے اعمال دیکھ کر خود کوبھی گناہوں سے بچانے اور نیکیاں کرنے کی توفیق مل جاتی ہے ،دل کی سختی دور ہوتی ہے،رقت و نرمی پیدا ہوجاتی ہے،ایمان پر خاتمے اور قبر و حشر کے ہولناک معاملات کی فکر نصیب ہوتی ہے۔مگر جب بھی یہ سعادت نصیب ہوتو کسی دنیوی لالچ میں ہرگز نہ جائے، بلکہ دینی نفع حاصل کرنےکی نیت سے جانا چاہیے ،چنانچہ دل کی بات جان لی: شیخ طریقت،امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فیضان سنت جلد اول صفحہ 419 پرنقل فرماتے ہیں: حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم 3 احباب حضرت سیدنا شیخ ابن معلارحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کے لئے ”رملہ“نامی گاؤں کی طرف چلے۔ راستہ میں یہ طے کیا کہ ہم میں سے ہر شخص کوئی نہ کوئی مراد اپنے دل میں رکھ لے۔ میں نے یہ مراد رکھی ، مجھے حضرت سیدنا شیخ ابن علا رحمۃ اللہ علیہ سے حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کی مناجات اور اشعار درکا ر ہیں۔ دوسرے نے یہ مرادطے کی کہ مجھے تلی کی بیماری سے شفا حاصل ہو جائے۔ تیسرے نے کہا: مجھے حلوہ صابونی کھانے کی خواہش ہے۔ جب ہم لوگ حاضر خدمت ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سیدنا حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار اور مناجات لکھوا کر میرے لئے تیار رکھے تھے جو مجھے عطا فرما دیئے۔ دوسرے درویش کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اس کی تلی کی تکلیف دور ہوگئی ۔ تیسرے سے فرمایا: صابونی حلوہ شاہی درباروں کی غذا ہے، مگر آپ نے لباس صوفیا پہن رکھا ہے! دو میں سے ایک چیز اختیار کیجئے۔( کشف المحجوب،باب آدابھم فی الصحبۃ فی الاقامۃ ،ص 384) مرشد سے بداعتقادی کے سبب چہرہ سیاہ ہوگیاحضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللٰہ تعالٰی علیہ کا ایک مرید کچھ بد اعتقاد ہو گیا اور سمجھا کہ اسے بھی مقام معرفت حاصل ہوگیا ہے،اب اسے مرشد کی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا وہ خاموشی سے حضرت سیدناجنید بغدادیرحمۃ اللٰہ تعالٰی علیہ کی بارگاہ سے منہ موڑ کر چلا گیا۔ پھر ایک دن یہ دیکھنے اور آزمانے آیا کہ کیا حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللٰہ تعالٰی علیہ اس کے دل کے خیالات سے آگاہ ہیں یا نہیں؟ ادھر حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نور فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما لی۔ چنانچہ جب وہ مرید آیا اور آپ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک سوال پوچھا،جس كا یہ جواب ارشاد فرمایا:” کیسا جواب چاہتا ہے،لفظوں میں یا معنوں میں؟ بولا: دونوں طرح۔ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر لفظوں میں جواب چاہتا ہے تو سن! اگر مجھے آزمانے سے پہلے خود کو آزما اور پرکھ لیتا تو تجھے مجھے آزمانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی تو یہاں مجھے آزمانے آتا۔ معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصب ولایت سے معزول کیا۔ “یہ فرمانا تھا کہ اس مرید کا چہرہ سیاہ ہوگیا۔وہ آہ و زاری کرتے ہوئے عرض گزار ہوا: حضور یقین کی راحت میرے دل سے جاتی رہی ہے۔ پھر توبہ کی اور فضول باتوں پر بھی ندامت کا اظہار کیا تو حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: تو نہیں جانتا کہ اللہ پاک کے ولی، والیان اسرار الٰہی ہوتے ہیں، تجھ میں ان کی ضرب کی برداشت نہیں۔(کشف المحجوب، ص 137) ہمیں بھی چاہیے کہ کسی ولی کوہرگز نہ آزمائیں نہ کسی ولی سے بد ظن ہوں اور نہ ہی دل میں کسی ولی اللہ کی دشمنی رکھیں، سرداراولیاوانبیاصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتےہیں:اللہ پاک ارشادفرماتا ہے: ’’من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب‘‘ یعنی”جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اسے اعلان جنگ دیتا ہوں۔ “(بخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع... الخ ،4/248،حدیث:6502) اللہ پاک ہمارے دلوں میں تاحیات اولیائے کرام کا ادب واحترام قائم رکھے اور ان کی شان میں بے ادبی کرنے والوں کی بری صحبت سے محفوظ فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ پاک کے نیک بندوں سے بغض رکھنا ،ان کی شان میں بے ادبی کرنا ،انہیں طرح طرح سے ستانا ،ان کے مال وجائیداد پر قابض ہوکر انہیں تکلیف پہنچانا، سراسر نادانی اور دنیا وآخرت کی بربادی کا سبب ہے۔ان نفوس قدسیہ کی شان وعظمت توایسی بلند وبالا ہے کہ اگر کسی معاملے میں سب لوگ ان کے خلاف گواہی دینے کیلئےمتحد ہوجائیں ،مگر اللہ پاک ان کی صداقت وامانت کی گواہی کیلئے ضرور کوئی سبب پیدا فرمادیتاہے، جس سے ان کی شان وعظمت اور عزت وشہرت لوگوں کے دلوں میں مزید اجاگر ہوجاتی ہے ،جیساکہ زمین نے گواہی دی: ایک شخص نے حاکم شہر کی عدالت میں حضرت بابافریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی زمین پر ملکیت کاناجائز دعویٰ کردیا ،چنانچہ حاکم نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پیغام بھیجا کہ زمین کی ملکیت کا ثبوت پیش کریں، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: لوگوں سے پوچھ لوکہ یہ زمین کس کی ہے؟ حاکم جواب سے مطمئن نہ ہوا اور ثبوت پیش کرنے کا تقاضا کیا۔حضرت بابافریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :میرے پاس نہ تحریری ثبوت ہے نہ کوئی گواہ، اگر تحقیق درکار ہے تو زمین کے اسی خطے سے پوچھ لو۔ حاکم یہ جواب سن کر سخت حیران ہو ا،لہٰذا خود اسی قطعہ اراضی پر گیا،یہاں تک کہ لوگوں کا جم غفیر(بہت بڑاہجوم) ہوگیا۔ حاکم نےزمین سے دریافت کیا : اے زمین ! بتا تیرا مالک کون ہے ؟ زمین نے بآواز بلند کہا: میں عرصۂ دراز سے حضرت بابا فرید گنج شکر (رحمۃ اللہ علیہ)کی ملکیت میں ہوں۔ یہ سنتے ہی حاکم اور تمام حاضرین حیران رہ گئے ۔ (سیر الاقطاب مترجم ، ص 194) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت سے معلوم ہوا کہ اللہ والے زمین پر بھی تصرف فرماسکتے ہیں اورضرورت پڑنے پر زمین کو حکم فرماکر اسے اپنے حق میں گواہ بنا لیتے ہیں نیز یہ مدنی پھول بھی سیکھنے کو ملا کہ کبھی بھی کسی کی جائیداد و مال پر ناحق قابض نہیں ہونا چاہیے ۔اللہ پاک پارہ 2سورۃ البقرہ آیت نمبر188میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ترجمۂ کنز الایمان : اور آپس میں ایک دوسرے کے مال نا حق نہ کھاؤ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس آیت مبارکہ میں ناجائز طریقے سے کسی کا مال کھانے کو حرام قرار دیا گیاہے ۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں: کسی کا مال غصب کرلینا، کسی کا مال لوٹ لینا، لہو ولعب کے نتیجے میں دوسرے کا مال لے لینا، جیسے جوئے کے ذریعے مال حاصل کرنا، یا گانے والی کا گانا بجا کر اس کی اجرت لینا، رشوت لینا، دوسرے کے مال میں خیانت کرنا، یہ آیت ان تمام اقسام کے کاموں کو شامل ہے۔( تفسیر البغوی،پ2،سورة البقرة،تحت الآیة:188، 1/ 114) افسوس صد افسوس !آج کل مسلمان اپنے انجام سے بے خوف ہوکر ظلم وزیادتی کرنے ، دھمکیاں دے کر لوگوں سے رقم کا مطالبہ کرنے،ان کے مال وجائیداد پر قبضہ کرنے، چوری،ڈکیتی دہشت گردی اورقتل و غارتگری جیسےگناہوں میں مبتلا ہوکرنہ جانے کس کس طرح مسلمانوں کے حقوق پامال کررہے ہیں۔یادرکھئے!ظلم کا انجام بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے، ظالم شخص آخرت میں تو عذاب کا شکار ہوتا ہی ہے ،لیکن یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایساشخص دنیا میں بھی کئی دردناک حالات سے دوچار ہوتا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، سرکار مدینہ، قرار قلب و سینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ پاک ظالم کو مہلت دیتا ہے،یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کو نہیں چھوڑتا۔ یہ فرما کر سرکار نامدار صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے پارہ 12 سورۂ ہود کی آیت نمبر 102 تلاوت فرمائی: وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲) ترجمۂ کنزالایمان:اورایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بے شک اس کی پکڑدردناک کری (سخت)ہے۔(صحیح بخاری، 3/247، حدیث:4686) اللہ پاک ہمیں مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے اور ان پر کسی بھی طرح سے ظلم وزیادتی سے بچنے کی توفیق عطافرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اولیائے کرام بعد وفات بھی نفع پہنچاتے ہیں؟ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ پاک کے مقبول بندے جب اس کے احکا م پر عمل کے ذریعے اس کی رضا وخوشنودی حاصل کرلیتے ہیں تورب ذوالجلال عز وجلاپنی قدرت و کمال سے دنیا میں تو انہیں بے مثال عروج وکمال سے نوازتا ہی ہے بلکہ یہ حضرات بعد وصال بھی لوگوں سے رنج وملال کو دور کرنے کی بے مثال قدرت رکھتے ہیں۔اولیائے کرام کوجو طاقتیں زندگی میں حاصل ہوتی ہیں، وہ دنیا سے ظاہری پردہ کرنے کے بعد نہ صرف باقی رہتی ہیں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، کیونکہ اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالٰی رب کائنات عز وجل کی عنایات سے مزارات میں نہ صرف حیات ہوتے ہیں بلکہ زائرین کی ہدایت و اعانت (مدد)بھی فرماتے ہیں۔ حضرت سیدناامام اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انبیاء، اولیاء اور شہداء کے اجسام قبروں میں بھی نہ تو متغیر ہوتے ہیں اور نہ ہی بوسیدہ ہوتے ہیں،کیونکہ اللہ پاک نے ان کے جسموں کو اس خرابی سے جو گوشت کے گلنے سڑنے سے پیدا ہوتی ہے ،محفوظ رکھا ہے۔ (تفسیر روح البیان،پ۱۰،التوبۃ،تحت الایۃ:41، 3/435) حضرت سیدنا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جن سے حیات میں مددطلب کی جاسکتی ہے ان تمام سے بعدوفات بھی مدد طلب کی جاسکتی ہے۔اسی طرح مشائخ عظام رحمہم اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : چار بزرگ وہ ہیں جو اسی طرح تصرف فرماتے ہیں جیسے اپنی زندگی میں تصرف فرمایا کرتے تھے (وہ وفات پانے کے بعد حیات سے ) کئی گنا زیادہ تصرف فرماتے ہیں: حضرت سیدنا معروف کرخی، حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہمااوردو ان کے علاوہ (حضرت سیدنا شیخ عقیل منجبی اور حضرت سیدنا شیخ حیا بن قیس حرانیرحمۃ اللہ علیہما)ہیں۔(بہجۃالاسرار، ص ۱۲۴،لمعات التنقیح ، کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،4/215،تحت الباب:8) آئیے! اس ضمن میں ایسے دو ایمان افروز واقعات سنتے ہیں جن میں اولیائے کرام نے بعدوصال اپنے مزارات پر حاضری دینے والوں کی حاجت روائی فرمائی ،چنانچہ بعد وصال حاجت روائی حضرت شیخ عمرفاروثی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :مجھے کئی مرتبہ امام رفاعی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی،ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نےقبر مبارک سے بآوازبلند میری ایک حاجت کے بارے میں فرمایا:جا!تیری حاجت پوری کردی گئی۔( جامع کرامات الاولیاء،1/491) قرض معاف ہوگیا حضرت سیدناحمیدی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں:ایک بار مجھ پرقرض تھا،اسی پریشانی کے عالم میں، میں حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پر حاضر ہوا اور وہاں بیٹھ کر کچھ دیر قرآن پاک کی تلاوت کی اور رو دیا،ایک زائر (یعنی مزار کی زیارت کے لئے آنے والے)نے میرا رونا سن لیا اور مجھے کچھ سونا دیا اورکہا: اس صاحب مزار کی خاطر یہ سونا لے لو۔ میں نے وہ سونا لیا اور چل دیا، ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ میرا قرض خواہ آگیا، مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا : یہ سونا اس زائر کو واپس کردیں کیونکہ میں اجرو ثواب کا اس کی نسبت زیادہ حق دار ہوں ۔میں نے قرض خواہ سے اس معافی کا سبب دریافت کیا کہ آپ کو میرا خیال کس نے بتایا ہے؟وہ کہنے لگا: میں نے اس قبر والے بزرگ کو خواب میں دیکھا، انہوں نے مجھے کہا ہے کہ اگر تو حمیدی سے در گزر کرے گا تو میں تجھے جنت میں محل دلاؤں گا، پھر اس نے نہ صرف میرا قرض معاف کردیا بلکہ مجھے مزید چھ درہم بھی دے دئیے ۔(جامع کرامات اولیا،ذکر محمد بن جعفر الحسینی،1/172) حاضریٔ مزارات باعث برکات ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اولیاءاللہ کےمزارات پرحاضری کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں، مشکلات و مصائب سے نجات ملتی ہے اور خاص اس نظریے سے اولیائے کرام رحمہم اللہ کے مزارات پر جاناتوخود ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدناداتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک بارمجھے ایک(دینی) مشکل درپیش ہوئی،میں نے اس کے حل کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا، اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مشکل آئی تھی تو میں نے حضرت شیخ بایزیدرحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پرحاضری دی تھی اور میری وہ مشکل آسان ہو گئی تھی ۔ حضرت سیدنایحییٰ بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک حاجت تھی اورمیں کافی تنگدست بھی تھا۔میں نے حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر انور پر حاضری دی،3 بارسورۂ اخلاص کی تلاوت کی اوراس کا ثواب آپ رحمۃ اللہ علیہ اور تمام مسلمانوں کی ارواح کو پہنچایا، پھر اپنی حاجت بیان کی۔ جونہی میں وہاں سے واپس آیا میری حاجت پوری ہو چکی تھی۔( الروض الفائق،المجلس الرابع والثلاثون الخ، ص188) دنیا کو سنوارنے کا ایک ذریعہ ہے۔ان اللہ والوں نے اپنی زندگیاں کس رنگ میں گزاریں، ان کے دن رات کیسے بسر ہوتے تھے، ان کاایک ایک لمحہ کس طرح گزرتارہا ،ان باتوں کا جواب دل کے کانوں سے سنا جائے اور پھر اسے اپنا دستورالعمل بنالیا جائے تو یقیناہماری پریشانیاں دور ہو سکتی ہیں اور رنج ومصائب میں گھری ہوئی دنیا حقیقی مسرتوں اور سچی خوشیوں سے آشنا ہو سکتی ہے۔ ولیوں کے سردار، حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہکی سیرت کا مطالعہ کرنے کے لئے مکتبۃ المدینہ کے چند رسائل ”جنات کا بادشاہ ،سانپ نما جن ،منے کی لاش"اورکتاب"غوث پاک کے حالات“کا مطالعہ کرنا بے حد مفید رہے گا۔ان رسائل میں آپ پڑھ سکیں گے سرکار غوث پاک رحمۃ اللہ علیہکےبچپن کے حالات وواقعات ،اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام حیات ہوتے ہیں،اس کا قرآن وحدیث سے ثبوت اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اختیارات وکرامات،مرشد کے حقوق وآداب کیا کیا ہیں؟اور اس کے علاوہ بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ *اللہ پاک کےولی پریشان حالوں کی حاجت روائی کرنے کیلئے اپنے اختیار سے مٹی کو سونا بنا سکتے ہیں *اللہ پاک کےولی، اس کی دی ہوئی قوت سے مردے بھی زندہ کرسکتے ہیں ۔*اللہ پاک کے ولی، پانی میں بآسانی چل سکتے اور ہوا میں بغیر پروں کے اڑسکتے ہیں ۔*اللہ پاک کےولی،ایسے مقبول ہوتے ہیں کہ ان کی دعائیں رد نہیں کی جاتیں ۔*اللہ پاک کےولی،چاہے کتنی ہی طویل مسافت پر موجود ہوں،حالت نزع میں شیطان سے اپنے مریدین کا ایمان بچاسکتے ہیں ۔*اللہ پاک کے نیک بندوں کی بارگاہ میں اپنے دلوں کو قابو میں رکھنا چاہیے کہ یہ نیک ہستیاں دلوں سے بھی باخبر ہوتی ہیں ۔ *اللہ پاک کے نیک بندے زندگی میں تو لوگوں کو نفع پہنچاتےہیں بعد وفات بھی پریشان حالوں کی دستگیری فرماتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے ان کا ادب و احترام کرنا چاہئے ،ان کی سیرت کامطالعہ کر کے ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے ۔ پانی پینے کے13 مدنی پھول دوفرامین مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :
-
(1)اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں مت پیو، بلکہ دو یا تین مرتبہ (سانس لے کر) پیو اور پینے سے قبل بسم ﷲ پڑھو اور فراغت پر الحمد للہ کہا کرو( ترمذی ج3 ص352 حدیث 1892)۔ -
(2)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکنے سے منع فرمایاہے ۔( ابوداؤد،3/374، حدیث: 3728) مفسرشہیر حکیم الامت حضر ت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : برتن میں سانس لینا جانوروں کا کام ہے نیز سانس کبھی زہریلی ہوتی ہے اس لیے برتن سے الگ منہ کر کے سانس لو ، (یعنی سانس لیتے وقت گلاس منہ سے ہٹا لو)گرم دودھ یا چائے کو پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرو بلکہ کچھ ٹھہرو ، قدرے ٹھنڈی ہو جائے پھر پیو۔(مراٰۃ، 6/77) البتہ درود پاک وغیرہ پڑھ کر بہ نیت شفا پانی پر دم کرنے میں حرج نہیں ۔ -
(3) پینے سے پہلے بسم اللٰہ پڑھ لیجئے ۔ -
(4)چوس کرچھوٹے چھوٹے گھونٹ پئیں، بڑے بڑے گھونٹ پینے سے جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ -
(5)پانی تین سانس میں پئیں ۔ -
(6)بیٹھ کر اورسیدھے ہاتھ سے پانی نوش کیجئے۔ -
(7) لوٹے وغیرہ سے وضو کیا ہو تو اس کا بچا ہوا پانی پینا 70 مرض سے شفا ہے کہ یہ آب زم زم شریف کی مشابہت رکھتا ہے، ان دو (یعنی وضو کا بچا ہوا پانی اورزم زم شریف ) کے علاوہ کوئی سابھی پانی کھڑے کھڑے پینا مکروہ ہے۔(ماخوذاز:فتاوی رضویہ، 4/575، 21/669 )یہ دونوں پا نی قبلہ رو ہو کر کھڑے کھڑے پئیں ۔ -
(8)پینے سے پہلے دیکھ لیجئے کہ پینے کی شے میں کوئی نقصان دہ چیز وغیرہ تو نہیں ہے( اتحاف السادۃ للزبیدی ، 5/594۔ -
(9)پی چکنے کے بعد الحمد للٰہ کہیے ۔ -
(10) حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللٰہ الوالی فرماتے ہیں:بسم اللٰہ پڑھ کر پینا شروع کرے پہلی سانس کے آخر میں ا لحمد للٰہ دوسرے کے بعد الحمد للٰہ رب العٰلمین اور تیسرے سانس کے بعدالحمد للٰہ رب العٰلمین الرحمٰن الرحیم پڑھے(احیاء العلوم ، 2/8)۔ -
(11) گلاس میں بچے ہوئے مسلمان کے صاف ستھرے جھوٹے پانی کو قابل استعمال ہونے کے باوجود خوامخواہ پھینکنا نہ چاہئے۔ -
(12)منقول ہے:سؤر المؤمن شفاء یعنی مسلمان کے جھوٹے میں شفا ہے (الفتاوی الفقہیۃ الکبری لابن حجر الہیتمی، 4/117،کشف الخفاء ، 1/384)۔ -
(13)پی لینے کے چند لمحوں کے بعد خالی گلاس کو دیکھیں گے تو اس کی دیواروں سے بہ کر چند قطرے پیندے میں جمع ہوچکے ہوں گے انہیں بھی پی لیجئے۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!