نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں
(1) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا( الأحزاب ، 33/40) ترجمہ کنز الایمان: محمّد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلےاور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں صدرِ اسلام سے لے کر آج تک تمام جلیل القدر مفسرین اس بات پر متفق چلے آ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ مفسرین نے اس حقیقت کو ایسی قطعیت، صراحت اور یقین کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کسی معتبر تفسیر میں اختلاف کا شائبہ تک نہیں ملتا۔ ذیل میں چند اکابر مفسرین کی تصریحات بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں: صحابی رسول ،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خَاتَمَ النَّبِيِّنَ، ختم الله به النبيين قبله فلا يكون نبي بعده. (تنوير المقياس من تفسیر ابن عباس نفیروز آبادی ، ص: 354، دار الکتب العلمیة) یعنی، خاتم النبیین ۔ اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: عن قتادة رضى الله عنه في وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ قَالَ آخر نبي عن الحسن في قوله و خاتم النبيين قال ختم الله النبيين بمحمد صلى الله عليه وسلم وكان آخر من بعث. (الدر المنشور ، 5/204، دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت لبنان) یعنی، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اللہ پاک کے فرمان "وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ" کے متعلق فرماتے ہیں: آپ آخری نبی ہیں۔ حضرت حسن خاتم النبیین کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ پاک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ اور آپ کی بعثت سب سے آخر میں ہوئی ہے۔ امام سیوطی ہی تفسیر جلالین میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:(
وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا) منه بان لا نبي بعده واذا نزل السيد عيسى بحكم بشريعته. (تفسیر جلالین محلی والسیوطی، ص: 355، دار الحديث ، القاهرة) یعنی، اللہ پاک کے علم میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا تو وہ آپ کی شریعت کے مطابق ہی عمل کریں گے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتمُ النبیین ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان فرمانے سے قبل، مذکورہ آیتِ کریمہ کا پہلا حصہ ﴿ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ ﴾ لانا بھی درحقیقت ختمِ نبوت کی طرف ایک لطیف مگر گہرا اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے بیان میں اپنے لیے بیٹے کی مطلق نفی فرمائی، اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کے بیان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جوان بیٹے کی نفی فرمائی۔ اس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں، اسی طرح اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی کوئی جوان بیٹا نہیں؛ البتہ فرق یہ ہے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر اور مخلوق ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اولاد ہو سکتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے پیدا ہوئے، مگر وہ سنِ بلوغت کو پہنچنے سے قبل ہی وفات پا گئے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق ہے، اس کی صفت یہ ہے: ﴿ لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْ﴾ یعنی ،نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت میں شرک کی نفی کے لیے اپنی ابوت کی نفی فرمائی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت میں کسی اشتراک کے امکان کو ختم کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوان بیٹے کی نفی فرما دی۔ مزید یہ کہ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا جوان ہو کر بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتا تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا کہ آیا وہ نبی ہے یا نہیں؟ اگر وہ نبی ہوتا تو ختمِ نبوت مجروح ہوتی، اور اگر نبی نہ ہوتا تو پھر اُن انبیاءِ کرام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اضافی فضیلت حاصل ہو جاتی جن کے بیٹے بھی نبی ہوئے، کیونکہ ایک نبی کا نبی بیٹا ہونا فضیلت کا باعث ہے۔ اس صورت میں قیامت کے دن جب دیگر انبیاء کے پیچھے ان کے بیٹے بحیثیتِ نبی کھڑے ہوتے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کوئی نبی بیٹا نہ ہوتا تو اس جزوی پہلو سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افضلیت پر حرف آتا، جو اللہ تعالیٰ کو ہرگز منظور نہ تھا۔ اسی حقیقت کو امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر کشاف میں بیان فرمایا ہے: (خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ)يَعْنِي أَنَّهُ لَوْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ بَالِغٌ مَبْلَغَ الرِّجَالِ لَكَانَ نَبِيًّا، وَلَمْ يَكُنْ هُوَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ۔ (الکشاف، 3/294، دار المعرفۃ، بیروت) یعنی، خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا بلوغت کو پہنچ جاتا تو وہ نبی ہوتا، اور اس صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی نہ رہتے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہو، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برابر کوئی نہ ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت اور افضلیت ہر پہلو سے محفوظ رہے اسی حکمت کے تحت بیٹے کا بلوغت تک پہنچنا بھی مقدر نہ ہوا اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند فرما دیا گیا۔ قرآن میں تمام انبیاء کے ذکر کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خصوصی مقام (2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ( النساء 4: 136) ترجمہ کنز الایمان : اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے اُن رسول پر اُتاری اور اُس کتاب پر جو پہلے اُتاری ۔ (3) وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ( البقره ، 2: 3) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا ۔ (4) قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ (البقرة، 2: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اوراس پر جو ہماری طرف اُترا اور جو اُتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کیے گئے موسیٰ وعیسٰی اور جو عطا کیے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں ۔ پورے قرآنِ مجید میں ایمان کے اعتبار سے وحی کو تقسیم کرتے ہوئے صرف دو ہی اقسام بیان کی گئی ہیں: (1) وہ وحی جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ اس پر ایمان لانا عینِ ایمان ہے اور اس کا انکار صریح کفر ہے۔ (2) وہ وحی جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل ہوئی۔ اس پر ایمان لانا بھی ایمان ہے اور اس کا انکار بھی کفر ہے۔ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی نزولِ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطلوب یا مقدر ہوتا تو قرآنِ مجید اس کا لازماً ذکر فرماتا، کیونکہ قرآن نے مستقبل میں پیش آنے والے بہت سے امور کی صراحت کے ساتھ خبر دی ہے۔ لیکن وحی کے باب میں قرآن نے صرف انہی دو اقسام کا ذکر فرمایا، جو اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نہ کوئی وحی نازل ہوگی اور نہ کوئی نیا نبی آئے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نبوت کے لیے وحی کا ہونا لازم ہے؛ جب وحی ہی باقی نہ رہی تو نبوت اور نبی کا وجود بھی باقی نہیں رہتا۔ مزید برآں، مذکورہ آیتِ کریمہ میں لفظ ﴿ وَ مَاۤ اُوْتِیَ ﴾ کا صیغۂ ماضی استعمال ہونا، اور ﴿ النَّبِیُّوْنَ ﴾ پر لامِ استغراق کا وارد ہونا اس حقیقت پر واضح دلالت کرتا ہے کہ انبیائے کرام پر آسمانی وحی کا سلسلہ کامل اور مکمل ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ ہی کسی پر وحی نازل ہوگی۔ یہی قرآنِ مجید کی صریح دلالت، اہلِ سنت کا متفقہ عقیدہ، اور ختمِ نبوت کا نا قابلِ تردید ثبوت ہے۔ (5) اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ ( البقرة، 3: 285) ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے ۔ سورۃ البقرہ کی مذکورہ بالا آیت میں ختم نبوت سے متعلق دو چیزیں بطور خاص قابل توجہ مذکور ہیں: (1) صرف اس وحیی پر ایمان لانا کافی ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ سے پہلے انبیاء پر نازل ہوئی۔ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وحی آنے کا کوئی امکان ہوتا تو آیت میں اس پر ایمان لانے کو لازم قرار دیا جاتا۔ (2) تمام انبیاء پر ایمان لانا واجب ہے اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی کسی بھی رنگ میں آنے والا تھا تو آیت میں ضرور بالضرور اس کی اطلاع دی جاتی اور اس ایمان لانے کا حکم دیا جاتا۔ عدم ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کا وجود خارج از امکان ہے۔ قرآن مجید کا سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنا (6) وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ (البقرة، 41:2) ترجمہ کنز الایمان: اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے۔ (7) قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۹۷) ترجمہ کنز الایمان: تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو اس (جبریل)نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو ۔ پہلی آیتِ کریمہ میں اہلِ کتاب کو صراحت کے ساتھ صرف اسی وحی پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی پر نازل ہونے والی کسی وحی پر ایمان لانے کا نہ کوئی حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کہیں اشارہ موجود ہے۔ مزید یہ کہ دونوں آیات میں قرآنِ کریم کو اپنے سے پہلی آسمانی وحیوں کا مصدِّق قرار دیا گیا ہے، بعد میں نازل ہونے والی کسی وحی کا نہیں۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ وحی کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر مکمل ہو چکا ہے۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی کسی وحی کا نزول ہونا مقصود ہوتا تو قرآنِ مجید ضرور اس کی تصریح کرتا، جیسا کہ اس نے دیگر عقائد اور احکام میں تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائی ہے۔ جب کہ یہاں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ قرآنی اسلوب اور صراحت اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نہ کوئی نئی وحی آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی مبعوث ہوگا۔ یہی عقیدۂ ختمِ نبوت قرآن، سنت اور اجماعِ امت سے ثابت شدہ ایک قطعی اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق فرمانا (8) وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَۗۙ-كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (البقرۃ: 2/102) ترجمہ کنز الایمان: اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتا ب اپنے پیٹھ پیچھے پھینک دی گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے ۔ اس آیتِ کریمہ سے یہ حقیقت پوری صراحت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُنہی الہامی کتابوں کے مصدِّق ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے نازل ہوئیں۔ قرآنِ مجید نے کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعد کسی نازل ہونے والی الہامی کتاب کی تصدیق فرمانے والے ہوں۔ یہ اسلوب قرآنی اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ وحیِ الٰہی کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر مکمل ہو چکا ہے، قرآنِ مجید آخری الہامی کتاب ہے، اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نئی کتاب یا کسی نئے نبی کی بعثت مقصود ہوتی تو قرآنِ مجید ضرور اس کی طرف اشارہ کرتا، جیسا کہ اس نے سابقہ انبیاء اور آسمانی کتابوں کا واضح ذکر فرمایا ہے۔ مگر ایسا نہ ہونا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ختمِ نبوت ایک قطعی اور ابدی حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا تمام نبیوں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں وعدہ لینا (9) وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ۪-وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا (الاحزاب : 7:33) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسٰی بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا ۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی خاتمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمان الہی اور (اے حبیب ! یاد کیجیے) جب ہم نے انبیاء سے ان کی تبلیغ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصا آپ سے اور نوح سے ) کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تخلیق میں انبیاء سے اول ہوں اور بعثت میں سب سے آخری ہوں چنانچہ ابتدا مجھ سے کی گئی۔ (تفسیر ابن کثیر، 3/470) اللہ تعالی کا حضور نبی اور انبیاء سابقین سے ہی میثاق نبوت لینا (10) وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ (آل عمران: 3/81) ترجمہ کنز الایمان: اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایاتو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔ اس آیت کی تفسیر میں امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: بعض نے کہا کہ اللہ تعالی نے خاص طور پر انبیاے کرام (علیہم السلام) سے عہد لیا کہ وہ کتاب اللہ اور رسالت کی تبلیغ اپنے بندوں تک پہنچائیں اور بعض بعض کی تصدیق کریں اور ہر نبی سے یہ عہد لیا کہ آنے والے نبی پر ایمان لائیں جو ان کے بعد آئیں گئے اور ان کی مدد فرمائیں گے ، اگر ان کے زمانے کو پایا، اگر وہ پیغمبر کو نہ پاسکے تو وہ اپنی امت سے عہد لے کہ وہ ان کی مدد کریں گے اگر وہ آنے والے نبی کو پائیں، موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں گے اور عیسیٰ(علیہ السلام) سے عہد لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں ۔(تفسیر بغوی ، 2/13، دار طبيعه للنشر والتوزيع ) تفسیر ابن کثیر میں ہے: بعض احادیث میں ہے اگر موسی اور عیسی علیہما السلام زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا، پس (ثابت ہوا کہ ) ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاءکی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی۔(تفسیر ابن کثیر، 3/59، دار الکتب العلميۃ). مذکورہ آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے آخر میں تشریف لانے والے عظیم رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف سابقہ آسمانی کتابوں بلکہ تمام سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بھی مُصَدِّق ہیں۔ پہلی آسمانی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی صریح بشارت دی گئی اور آپ کے نبیِ آخر الزماں ہونے کا ذکر واضح علامات کے ساتھ موجود ہے۔ قرآنِ کریم کے الفاظ ’’مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ‘‘ اس حقیقت کو روشن کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کی تصدیق فرمانے والے ہیں، جبکہ سابقہ انبیاء آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبشر تھے۔ وہ باری باری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی خوش خبری دیتے رہے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے مبشر نہیں بلکہ سب کے مصدق ہیں، اور یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ تصدیق کرنے والا ہمیشہ سب کے بعد ہی آتا ہے۔ دین کی تکمیل اور نعمت کا اتمام ہونا (11) اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( المائدة، 3:5) ترجمہ کنز الایمان: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیااور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ۔ یہ آیہ کریمہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر دلیل ہے۔ چونکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی تشریف آوری کا مقصد بندوں تک اللہ کا دین پہنچاناہی تھا۔ اب جب دین ہر لحاظ سے مکمل ہو گیا۔ اللہ تعالی نے اسلام کی شکل میں ایک مکمل ضابطہ حیات پوری نسانیت کو عطا فرمادیا۔ اور اسی اسلام کو اس نے بطور دین کے پسند کر لیا اور یہی دین قیامت تک پوری نوع انسانی کا دین ہو گا تو ظاہر ہے اب کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ چوں کہ جب دین مکمل ہے تو وہ رسول کیا لے کر آئے گا۔ امام ابن کثیر اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : هذه أكبر نعم الله تعالى عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ حَيْثُ أَكْمَلَ تَعَالَى لَهُمْ دِينَهُمْ لا يحتاجون إلى دِينِ غَيْرِهِ، وَلَا إِلَى نَبِي غَيْرِ نَبِيِّهِمْ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عليه ولنا جعله الله تعالى خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ وَبَعَثَهُ إِلَى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، فَلَا حَلَالَ إِلَّا مَا أَخَلَهُ، وَلَا حَرَامَ إِلَّا مَا حَرَّمَهُ، وَلَا دِينَ إِلَّا مَا شَرَعَهُ، وَكُلُّ شَيْءٍ أَخْبَرَ بِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَصِدْقُ لَا كَذِبَ فِيهِ وَلَا خُلْف (تفسیر ابن کثیر، 2/22) یعنی، اللہ تعالی کا اس امت پر سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ان کا ان مکمل فرمادیا۔ اب وہ کسی دوسرے دین کے محتاج نہیں اور نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سواکسی دوسرے نبی کے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام نبیوں کے آخر میں انسانوں اور جنوں کی طرف بھیجا۔ پس جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلال قرار دیا وہی حلال ہے۔ اور جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا اس کے علاوہ کوئی حرام نہیں اور جس دین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے اس کے علاوہ (قیامت تک )کوئی دین نہیں اور ہر وہ چیز جس کے متعلق آب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی وہ سچی ہے ، اس میں جھوٹ کا شائبہ تک نہیں او نہ ہی وہ خلاف واقع ہے۔ تفسیر خازن میں ہے: اس امت کے لیے تکمیل دین سے مراد یہ ہے کہ یہ دین نہ مٹے گا اور نہ منسوخ ہو گا اور اس کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔(تفسیر خازن ، 2/10، دار الکتب العلميۃ) قرآن کریم میں حضور کی بشارت (۱۲) وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ( الصف، 6:21) ترجمہ کنز الایمان: اور یاد کرو جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کُھلا جادو ہے ۔ قرآن کریم میں مذکور انبیاء علیہم السلام اور ان پر نازل کردہ آسمانی کتب و صحائف کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ انبیائے سابقین نے جہاں اپنے سے پہلے انبیاء اور ان کی طرف نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کی وہاں آئندہ آنے والے نبی کی خوش خبری بھی سناتے رہے ہیں۔ اس کی مثال سورۃ الصف کی مذکورہ بالا آیت میں ہے جس میں سیدنا عیسی علیہ السلام ایک طرف و حی ماسبق کی تصدیق فرمارہے ہیں تو دوسری طرف اپنے بعد تشریف لانے والے نبی کا آسمانی نام لے کر خوش خبری بھی سنا رہے ہیں۔ قرآن حکیم میں اس مضمون کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن قرآن اور صاحب قرآن اس باب میں فقط پہلے انبیاء اور وحی ما سبق کی تصدیق تو کرتے ہیں مگر اپنے بعد کسی نبی یا وحی کا سرے سے ذکر نہیں کرتے۔ اگر حضور نبی کریم کے بعد بھی کسی نبی کا آنا مشیت ایزدی میں ہوتا اور سلسلہ نبوت جاری ہوتا تو ضرور قرآن میں اس کی خوش خبری ہوتی لیکن اس طرح کی کسی بشارت کا نہ ہونا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی بین دلیل ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی کہا گیا ہے۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں: تورات میں میری خوش خبری دی گئی اور میں اس کا مصداق ہوں جو تمہیں خبر دی گئی۔ میں اپنے بعد میں آنے والے کی خوش خبری دینے والا ہوں اور وہ رسول نبی امی عربی مکی، احمد ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام بنو اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ آپ نے بنو اسرائیل کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوش خبری دی ۔ وہ احمد خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں جن کے بعد نہ رسالت ہے اور نہ نبوت ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، 8/136) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا قیامت تک سارے جہان کے لیے عام ہونا (13) قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (الاعراف 7: 158) ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں کہ آسمان وزمین کی بادشاہی اسی کو ہے۔ (14) وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا ( النساء 79:40) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبو ب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لیےرسول بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ۔ (1) یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ(النساء: 3: 170) ترجمہ کنز الایمان: اے لوگو تمہارے پاس یہ رسول حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تشریف لائے تو ایمان لاؤ اپنے بھلے کو۔ مذکورہ بالا آیات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے تمام عالم انسانیت محیط ہونے کا بیان ہے، جس سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہے کہ اس کا ئنات میں جب تکہ نسل انسانی کا ایک فرد بھی باقی ہے حضور نبی اکرم بلا شرکت غیر اس کے نبی اور رسول ہوں گے ۔ تفسیر ابن کثیر میں سورہ اعراف کی آیت ۱۵۸ کے تحت ہے: اللہ تعالٰی اپنے نبی اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ اے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چنانچہ آپ تمام عرب و عجم اور گوروں کالوں سے فرمادیں کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لیے صرف آپ ہی نبی ہیں۔(تفسیر ابن کثیر، 3/240) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بیان فرماتے ہیں کہ مجھے تمام انسانوں کے لیے ہی بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،تاجداررسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے ارشاد فرمایا: ’’مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا فرمائی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ دی گئیں ۔ (1)ایک ماہ کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ۔(2)تمام زمین میرے لئے مسجد اور پاک کی گئی کہ جہاں میرے اُمتی کو نماز کا وقت ہو نماز پڑھے ۔(3) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں ۔(4) مجھے مرتبۂ شفاعت عطا کیا گیا ۔(5) انبیاء ِکرام علیہم الصلاۃ والسلام خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔( بخاری، کتاب التیمم، باب التیمم، 1/ 133، الحدیث: 335) عموم بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نئے نبی کی ضرورت باقی نہ رہی (16) هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲) وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ( الجمعة : 62: 1-2) ترجمہ کنز الایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے ۔ اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیضِ نبوت اور اثرِ تربیت صرف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک دائمی اور آفاقی فیض ہے جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ اگرچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس فیض کے اولین اور کامل ترین مظاہر ہیں، تاہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہِ کرم، تعلیم و تزکیہ اور روحانی تاثیر ہر اس شخص کو میسر آتی رہے گی جو خلوصِ نیت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع اختیار کرے۔ لوگ ہر دور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے وسیلہ سے ایمان کی روشنی پاتے رہے ہیں اور پاتے رہیں گے، ان کے دل شرک، بدعت اور گمراہی کی آلائشوں سے پاک و صاف ہوتے رہیں گے، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت و تعلیمات سے علم و ہدایت حاصل کرتے رہیں گے۔ یہی وہ زندہ معجزہ ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت وقتی یا محدود نہیں بلکہ ابدی اور ہمہ گیر ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیضِ ہدایت قیامت تک امتِ محمدیہ کے لیے منبعِ نور بنا رہے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کا قیامت تک ساری کائنات کے لیے عام ہونا (17) وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ( الانبياء ، 107:21) ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے ۔ مذکورہ آیت کریمہ میں غورکریں تو واضح ہوتا ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سارے عالم انسانیت کو اپنے احاطے میں لیے ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جہانوں اور زمانوں کے لیے رحمت ہیں۔ آپ کی رحمت قیامت تک جاری وساری ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشیریت و نذیریت کا قیامت تک پوری انسانیت کے لیے عام ہونا (18) وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا (سبا: 28:34) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کے ذریعے تمام جہانوں کو ڈر سنانے والے ہیں: (19) تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (الفرقان (1:25) ترجمہ کنز الایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سُنانے والا ہو۔ مذکورہ بالا دونوں آیات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نذیری و بشیری کا مضمون اللہ سبحانہ و تعالی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں اور تمام انسانوں کے لیے انعامات الٰہیہ کی خوش خبری اور عذاب الہٰی کا ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک آنے والی نوع انسانی کے لیے بشیر و نذیر ہیں۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت و رحمت عام ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت و نذارت عام ہیں اور قیامت تک جاری ساری ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت قیامت تک جاری و ساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ قرآن مجید کا قیامت تک تمام انسانوں کے لیے سرچشمہ ہدایت ہونا (20) وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ( الانعام 19:6) ترجمہ کنز الایمان: اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں ا ور جن جن کو پہنچے ۔ زیرِ نظر آیت کریمہ سے واضح ہے کہ یہ قرآن صرف کسی ایک دور کے انسانوں کے لے ہی حجت نہیں بلکہ قیامت تک ہر اس انسان کے لیے حجت ہے جس تک اس کا پیغام پہنچا۔ قرآن حکیم کے ذریعے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انداز قیامت تک جاری ہے۔ اب قیامت تک صرف شریعت قرآن پر ہی عمل ہو گا کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں، یہی شریعت کافی و وافی ہے۔ جیسا کہ تفسیر المنار میں ہے: (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ) نَصُ عَلَى عُمُوم بَغْنَةِ حَائِمِ الرُّسُلِ عَلَيْهِ الفضل الصَّلاةَ وَالسَّلام أَي لأَنذِرْكُمْ بِهِ يَا أَهْلَ مَكَّةَ أَوْ يَا مَعْشَرَ قُرَيْ أَوِ الْعَرَبِ وَجَمِيعَ مَنْ بَلَغَهُ وَوَصَلَتْ إِلَيْهِ دَعْوَلَهُ مِنَ الْعَرْبِ وَالْعَجَمِ فِي كُلِّ مَكَانٍ وَزَمَانِ إلى يوم القيامة (تفسیر المنار ، ص: 285، المصيريۃ المصريۃ العامۃ للكتاب ) یعنی آیت کریمہ(لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ) حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی عمومیت پر دلیل ہے یعنی تاکہ میں قرآن کے ذریعہ تمہیں اے اہل مکہ ، اے جماعت قریش اے اہل عرب اور اے تمام انسان جسے قرآن پہنچے اور قیامت تک تمام زمان و مکان کے عرب و عجم میں جس تک قرآن کی دعوت پہنچے۔ اللہ تعالی کا قیامت تک قرآن کریم کی حفاظت اپنے ذمہ کرم پر رکھنا (21) اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر: 15: 9) ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ قرآن مجید سے پہلے بھی انبیاء پر وحی نازل ہوتی رہی مگر اللہ تعالی نے ان پر نازل ہونے والی وحی کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی کیوں کہ ہر نبی کے بعد دوسرے نبی کے آنے سے اس پر وحی کی تجدید ہونا تھی مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کی حفاظت کی ذمہ داری اس لیے خالق کائنات نے قبول کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سلسلہ نبوت اور ولی کا انقطاع ہو رہا تھا اور قیامت تک انسانیت کے لیے فقط قرآن ہی کو بطور صحیفہ انقلاب سر چشمہ ہدایت رہنا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ورسالت پر ایمان لانے والے کو مومن کہا جانا (22) فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَاؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(التغابن: 8:64) ترجمہ کنز الایمان: تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر جو ہم نے اتارا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے ۔ (24) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ (النور: 24: 62) ترجمہ کنز الایمان: ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے۔ اللہ ربّ العزّت نے اپنی ذاتِ واحدہ پر ایمان کے بعد پوری انسانیت کو صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اور یہ حکم قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے عام ہے۔ اس میں نہ کسی زمانے کی تخصیص ہے اور نہ کسی فردِ بشر کے لیے کوئی استثنا۔ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کی بعثت اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہوتی تو قرآنِ کریم میں اس پر ایمان لانے کا حکم ضرور دیا جاتا، جیسا کہ سابقہ انبیاء پر ایمان لانے کا حکم موجود ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی پر ایمان لانے کا کوئی حکم نہ دینا اس حقیقت کی روشن اور قطعی دلیل ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور سلسلۂ نبوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ہی عذاب آخرت سے نجات کا ذریعہ ہے (24) تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (الصف:61: 11) ترجمہ کنز الایمان: ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اس آیتِ کریمہ میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھنا ہی اخروی عذاب سے نجات کے لیے کافی اور لازم ہے۔ نجاتِ اخروی کو کسی اور نبی پر ایمان کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا۔ اگر امتِ محمدیہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی آمد اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہوتی تو لازماً اس پر ایمان لانے کو بھی عذابِ آخرت سے بچاؤ کی شرط قرار دیا جاتا، جیسا کہ سابقہ ادوار میں ہر نبی پر ایمان لانا لازم تھا۔ اس شرط کا نہ ہونا اس بات کی کھلی اور قطعی دلیل ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نئی نبوت کا کوئی امکان نہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لیے ہی بہت بڑے اجر کا وعدہ ہے (25) اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ ( الحديد: 7:57) ترجمہ کنز الایمان: اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ(میں) کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا اُن کے لیے بڑا ثواب ہے ۔ اس آیتِ کریمہ میں ایمان باللہ کے بعد صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کو اجرِ کبیر کے حصول کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کی بعثت اللہ کی مشیت میں ہوتی تو لازماً اس پر ایمان لانے کو بھی اجرِ عظیم کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا، جیسا کہ سابقہ انبیاء کے لیے ایمان لانے پر اجر مقرر تھا۔ لیکن چونکہ قرآنِ کریم میں صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کو اجرِ کبیر سے منسلک کیا گیا ہے، یہ بات بالکل واضح دلیل ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی آخری نبی ہیں اور نبوت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ قیامت تک مطاع مطلق صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہونا (26) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا ( النساء، 59:3) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ۔ اطاعت مصطفی میں اطاعت خدا ہے (27) مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ( النساء، 80:3) ترجمہ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔ (28) قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران، 31:3) ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ مذکورہ بالا آیات کریمہ واضح طور پر بتارہی ہیں کہ مطاع مطلق اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔ ان دونوں کی اطاعت فی الحقیقت مستقل دائمی، حتمی قطعی اور غیر مشروط ہے اس لیے فرمایا اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو اور اس کے بعد جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو قطعی مانے بغیر ایمان مقبول نہیں (29) فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ( النساء، 65:4) ترجمہ کنز الایمان: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔ (30) اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ( النور : 51:24) ترجمہ کنز الایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول اُن میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سُنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے ۔ (31) وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا (الاحزاب: 33: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو اُنہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بےشک صریح گمراہی بہکا ۔ جس طرح قرآن میں مذکور ہر حکم الہی قیامت تک اہل ایمان کے لیے واجب الاطاعت ہے اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم بھی قیامت تک ان کے لیے حجت ہے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم اللہ تعالی ہی کا حکم ہے۔ جب قرآن فقط حکم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت تک حجت اور مفروض الاطاعت قرار دے رہا ہے تو پھر کسی اور کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کس طرح حجت آسکتا ہے ؟ اگر اس طرح کے امکان کو بالفرض تسلیم کر لیا جائے تو پھر حکم محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قطعیت باقی نہیں رہتی اور یہ نص قرآنی کے خلاف ہے۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تابع کر دینا ہی ایمان ہے۔ تفسیر بیضاوی میں سورۃ الاحزاب آیت ۳۶ کے تحت ہے: کسی بھی مومن و مومنہ کے لیے درست نہیں جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے کا فیصلہ کریں، اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی عظمت اور اس بات کا ذکر فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم اللہ تعالی کا حکم ہے۔ لہٰذا مومنوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر کچھ بھی اختیار نہیں بلکہ ان پر واجب ہے کہ اپنے اختیار کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیار کے تابع کردے۔ تفسیر کبیر میں ہے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے بعد کسی بھی مومن مردو عورت کو (اطاعت کے سوا) کوئی اختیار نہیں۔ لہذا جس کا اللہ تعالی نے حکم فرمایاوہ قابل اتباع ہے اورنبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کا ارادہ فرمایاوہی حق ہے اور جس نے ان دونوں کی کسی بھی چیز میں مخالفت کی تو تحقیق کہ وہ کھلی گمراہی میں جا پڑا، اس لیے کہ اللہ یہ مقصد ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدایت فرمانے والے اور منزل تک پہنچانے والے ہیں۔ لہذا جس نے (اللہ) مقصد کو ترک کیا اور ہادی کی بات نہ سنی تو وہ یقینی طور پر گمراہ ہے۔(تفسیر كبير، 25/169، دار إحياء التراث العربي بيروت ) امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کار نبوت ’’تبلیغ و دعوت ‘‘کا تفویض ہونا (32) وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ(آل عمران، 3/104) ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں ۔ اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ بیان ہوا ہے کہ سلسلہ نبوت ختم ہونے کے بعد دعوت وتبلیغ دین کی ذمہ داریاں افراد امت کو سونپ دی گئی ہیں۔ اب اس میں سے ایک مخصوص جماعت وہی فریضہ سر انجام دے گی جو عین حیات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمے تھا۔ فریضہ تبلیغ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے انبیاے کرام سر انجام دیتے تھے، سلسلہ نبوت ختم ہونے کے بعد اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو سونپ دیا گیا جب کہ اس سے قبل صاحب شریعت نبی کے رخصت ہونے کے بعد دوسرا نبی آتا جو صاحب شریعت نبی کی تبلیغ اور اصلاح کا کام سر انجام دیتا، چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو یہ فریضۂ نبوت سونپ دیا گیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے : حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل میں انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام حکومت کیا کرتے تھے ، جب ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی ان کا خلیفہ ہوتا،(لیکن یاد رکھو!)میرے بعد ہر گز کوئی نبی نہیں ہے،ہاں!عنقریب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، 2/461، حدیث:3455) امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخر الامم ہونا (33) ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۱۳) وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ ( الواقعہ ، 13:56، 14) ترجمہ کنز الایمان: اگلوں میں سے ایک گروہ اور پچھلوں میں سے تھوڑے ۔ اس آیتِ کریمہ میں “الاوّلین” سے مراد پہلی امتیں اور “الآخرین” سے مراد بعد میں آنے والی امتیں ہیں، جن میں سرِفہرست امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک یہاں سابقہ امتوں کے صالحین کی تعداد زیادہ اور بعد والوں کی نسبت کم بیان کی گئی ہے، جبکہ دوسری آیات (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۳۹) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۴۰)) ( الواقعہ ، 39:56،40)(ترجمہ کنز الایمان: اگلوں میں سے ایک گروہ، اور پچھلوں میں سے ایک گروہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی کثرتِ اجر اور عظیم فضیلت رکھی گئی ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید امتوں کو اوّلین اور آخرین کے عنوان سے تقسیم کرتا ہے، اور امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو “آخرین” میں شمار کرتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری امت ہے، اور جب امت آخری ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کا نبی بھی آخری نبی ہو، کیونکہ امت کا تسلسل نبی کے بغیر ممکن نہیں۔ مزید برآں، اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو: اس نبی کی ایک مستقل امت ہوتی، قرآن میں “بعد والوں” کے بعد مزید امتوں کا ذکر آتا، اور امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو “آخرین” نہ کہا جاتا، لہٰذا یہ آیت بالواسطہ طور پر اس عقیدے کی تائید کرتی ہے کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری امت ہے، اور اس کے نبی، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خاتمُ النبیین ہیں۔ امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا افضل و خیر الامم ہونا (34) وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا(البقرة، 143:2) ترجمہ کنز الایمان: اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو سب امتوں میں افضل امت بنایا ہے۔ اس حقیقت سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس امت کے بعد کوئی نئی امت نہیں آئے گی۔ اگر کوئی نئی امت وجود میں آتی، تو یا تو وہ اس امت سے افضل ہوگی یا نہیں:-
اگر وہ افضل ہوتی تو اس امت کا “افضل الامّت” ہونے کا وصف باقی نہ رہتا، جبکہ قرآن کا پیغام قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے، اور یہ امت ہمیشہ سب سے افضل رہے گی۔ -
اگر وہ افضل نہ ہوتی تو پھر اس امت کی افضلیت اور وقار کی اصل ہی بے معنی ہو جاتی۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!