حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم ہونے پر دو سو سے زائد احادیث مروی ہیں ان میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ فرمائیں:۔
حدیث قصرِنبوت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری اینٹ ہیں
1:۔ حضرت ابوہریر ورضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے گھر تعمیر کیا اور اس کو خوب آراستہ و پیراستہ کیا، لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ آکر اس مکان کو دیکھنے لگے اور خوش ہونے لگے اور کہنے لگے ایہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں وہی آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔“(صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ، 2 / 484 ، رقم: 3535 مطبوعۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت)
قصرِ نبوت کی تمثیل اور ختمِ رسالت کا واضح اعلان
2:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک محل کی سی ہے جسے کسی نے خوب آراستہ و پیراستہ کیا، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ آکر اس مکان کو دیکھنے لگے اور اس کی خوبصورت تعمیر سے خوش ہونے لگے سوائے اس ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ اس کے علاوہ اس محل میں کوئی کمی نہ دیکھتے پس میں ہی وہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ تھا، میری بعثت کے ساتھ انبیاء ختم کر دیئے گئے۔ (الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي الاحسان في ترتيب صحیح ابن حبان ، 14/ 316، رقم الحدیث: 6406) حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ بعثتِ محمدی کے ساتھ سلسلۂ نبوت کا اختتام
3- حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کوئی گھر تعمیر کیا اور اسے ہر طرح سے عمل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھنے لگے اور اس کی خوبصورت تعمیر سے خوش ہونے لگے سوائے اس ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ اس کے علاوہ اس محل میں کوئی کمی نہ دیکھتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں ہی وہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ ہوں، میں نے آکر انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا۔“(بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبيين ،3/130 ، رقم: 33417 مطبوعۃ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت) تمام انبیاء کی نبوت کا اختتام ایک ہی ذات پر
4۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کوئی گھر تعمیر کیا اور اسے ہر طرح سے مکمل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ جو کوئی بھی اس مکان کو دیکھنے کے لیے آتا کہتا: اس ایک اینٹ کی جگہ کے علاوہ یہ مکان کتنا خوبصورت مکان ہے۔ پس میں ہی وہ آخری اینٹ رکھنے کی جگہ ہوں، میری بعثت کے ساتھ انبیاء ختم کر دیئے گئے۔ (حافظ كبير سلیمان بن داؤود الشہير بابي داؤد طيالسي المسند، 1 /247، رقم: 1785 مطبوعۃ ، مکتبۃ حسینیہ گوجر انوالہ) تمثیلِ آخری اینٹ سے ختمِ نبوت کی حتمی وضاحت
مذکورہ بالا احادیث میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ختم نبوت کو ایک بلیغ مثال کے ذریعے واضح فرمایا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک اعلیٰ اور خوبصورت محل نما عمارت تعمیر کی جس کی تزئین و آرائش میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی گئی لیکن کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس قصر رفیع الشان کو دیکھنے آتے اور اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے لیکن کونے میں اینٹ کی خالی جگہ دیکھ کر کہتے کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اینٹ رکھ کر اس کو بھی مکمل کر دیا جاتا۔ آگے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت کے اس عالیشان محل کی تکمیل میری بعثت سے ہو گئی اور قصر نبوت کی وہ آخری اینٹ میں ہوں۔ اس تصریح کے بعد اس روایت سے کسی نئے نبی کے حوالے سے کوئی اور معنی نکالنے کی مطلقاً گنجائش نہیں رہی۔ قصرِ نبوت کی پہلی اینٹ سے آخری اینٹ تک تاریخی تسلسل
ان احادیث مبارکہ میں مثل الأنبياء من قبلی کے الفاظ تمام انبیاء سابقین کے لیے عام ہیں۔ قصر نبوت کی تعمیر میں نئی شریعت لانے والے انبیاء بھی تھے اور پہلی شریعتوں کی پیروی کرنے والے انبیاء بھی شریک تھے۔ قصر نبوت کی خشت اول حضرت آدم علیہ السلام تھے اور خشت آخر حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد سب انبیاء و رسل اپنی بعثت سے عمارت نبوت کی تعمیر و تزئین کرتے رہے۔ جب تمام انبیاء اپنا اپنا دور نبوت گزار چکے تو آخر میں قصر نبوت میں جو ایک اینٹ کی جگہ خالی رو کی گئی تھی وہ بعثت محمد ی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں رکھ دی گئی ۔ قصرِ نبوت کی تکمیل کے بعد کسی نئی نبوت کی گنجائش نہیں
چنانچہ نبوت کی مذکورہ عمارت تاجدار انبیاء سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت انور سے مکمل ہو گئی۔ قصر نبوت کی تکمیل کے بعد اس میں کسی قسم کی نئی نبوت کی راہ نکالنے کی قطعاً گنجائش نہ رہی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کا نہ تو نبوت کی اس عمارت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس عمارت کو مکمل کرنے والوں سے اس کا کوئی واسطہ ہے۔ وہ صرف اس عالیشان عمارت میں نقب زنی کی سازش کرنے والا کذاب ہے۔ خاتم، ختم اور ختمت کے الفاظ کا لغوی و حدیثی مفہوم
مندرجہ بالا احادیث میں مذکور الفاظ وأنا خاتم النبيين؛ فختمت الأنبياء؛ ختم بي الأنبياء؛ ختم بي الرسل واضح طور پر بیان کر رہے ہیں کہ سلسلہ نبوت حضور نبی اکرم کی تعلیم پر ختم ہو چکا ہے اور آپ کسی قیام کے بعد قیامت تک کسی کو نبی بنا کر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ ختمت اور ختم ہی کے الفاظ فعل ماضی ہیں جن میں آخری کے علاوہ کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں پایا جاتا۔ قادیانی تاویلات کا احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں رد
اس سے قادیانیت کے ان اوہام اور تاویلات کا ازالہ ہوتا ہے جو وہ خاتم النبیین کے الفاظ کی آڑ میں کرتے ہیں نیز خاتم کو مہر کے معنی میں لے کر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو جائز قرار دینے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔
مذکورہ بالا روایات سے واضح ہے کہ یہ حدیث کثرت سے ذخیر و احادیث میں موجود ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے روایت کیا ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت پر دلالت کرنے والی جامع حدیث
5- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے۔ میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے ہیں اور میرے لیے (ساری) زمین پاک کر دی گئی اور سجدہ گاہ بنادی گئی ہے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“( مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاة، ص 121 ، رقم: 5235 ، مطبوعہ دار الكتب العربي)
6- حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی ہے۔ میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے ہیں اور میرے لیے (ساری) زمین پاک کر دی گئی اور سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔"( ابو نعیم احمد بن عبد الله السبحاني، دلائل النبوۃ، 5/ 472، مطبوعۃ، دار الكتب العلميۃ بيروت) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عالمگیر رسالت اور ختمِ نبوت
7- حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے جب ان کے قریب پہنچے تو انہیں کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ ان میں سے بعض نے کہا: تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا۔ دوسرے نے کہا: یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے سے زیادہ تعجب خیز تو نہیں۔ ایک نے کہا: حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح ہیں۔ کسی نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چن لیا۔ حضور نبی اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے سلام کیا اور فرمایا: میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا اظہار تعجب سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں بیشک وہ ایسے ہی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی اللہ ہیں بیشک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسی علیہ السلام روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہمیں واقعی وہ اسی طرح ہیں۔ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے چن لیا وہ بھی یقینا ایسے ہی ہیں۔ سن لو ا میں اللہ کا حبیب ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ قیامت کے دن سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے جنت کا کنڈ اکھٹکھٹانے والا بھی میں ہوں۔ اللہ تعالی میرے لیے اسے کھولے گا اور مجھے اس میں داخل کرے گا۔ میرے ساتھ فقیر و غریب مومن ہوں گے اور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔ میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔"(ابو عیسی محمد بن عیسی ، ترمذی کتاب المناقب، باب في فضل النسبي ، 5/ 354- 355، رقم : 3636)
8-” ہم اہل بیت کو اللہ تعالی نے سات ایسے امتیازات عطا فرمائے ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں فرمائے گئے اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کیے جائیں گے میں انبیاء کا سلسلہ ختم فرمانے والا ہوں اور انبیاء میں سے سب سے زیادہ معزز ہوں اور تمام مخلوقات میں سے اللہ عز و جل کو سب سے زیادہ محبوب ہوں۔( المعجم الکبیر، 3/ 57، رقم : 2075 مطبوعہ دار احیاء التراث العربي) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء سے افضل اور سلسلۂ نبوت کے خاتم
مذ کورہ بالا تمام احادیث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہیں۔ ان احادیث مبارکہ میں ان خصائص و امتیازات کا ذکر ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمائے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خصوصیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قائد المرسلین اور سید الانبیاء ہونا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جامع کمالات انبیاء ہیں۔ انہی امتیازی اوصاف کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء ورسل سے افضل و اکرم قرار پائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا افضل الانبیاء والرسل ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ نبوت کا زریں سلسلہ جس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہو اتھا بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنے منتہائے کمال کو پہنچ کر ختم ہو چکا، اب قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی نبوت و رسالت جاری و ساری رہے گی۔
احادیث مذکورہ میں آپ نے اپنی دیگر خصوصیات کے ساتھ خاتم النبیین ہونے کے امتیازی وصف کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے جس کے بعد کسی قسم کی نبوت کے احتمال کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی آمد کو جائز خیال کیا جائے تو یہ ماننا لازم آئے گا کہ نبوت ابھی تک اپنے منتہائے کمال کو نہیں پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی ایسا فرد ہے جس پر وصف نبوت اپنے نقطہ عروج پر پہنچے گا۔ اس اعتبار سے منتہائے کمال کو پہنچنے والا وہ فرد افضلیت کا حامل ہو گا۔ اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان افضلیت پر حرف آئے گا، حالانکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سید الانبیاء ہونے پر قادیانی ذریت بھی کم از کم قولی طور پر تو متفق ہے۔ قائد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: استغراقِ حقیقی اور اس کے عقلی نتائج
یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حدیث میں مذکور قائد المرسلین میں الف لام استغراق حقیقی کا ہے، اگر استغراق حقیقی کونہ مانا جائے تو لا محالہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کے سردار نہ ہوئے جو قادیانی امت کی مسلمہ تصریحات کے بھی خلاف ہے کہ زبان سے وہ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انبیاء کار ہبر و پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ خاتم النبیین کے عموم کو محدود کرنے کی باطل کوشش
اگر المرسلین بلا تخصیص و بلا استثناء عام ہے تو اس کے فوری بعد خاتم النبیین عام کیوں نہیں ، اس وجہ سے کہ المرسلین کو عام رکھنے سے مرزا صاحب کی جھوٹی نبوت پر زد نہیں پڑتی جبکہ خاتم النبیین کو عام رکھنے سے مرزا صاحب کی خود ساختہ نبوت قائم نہیں رہتی۔ اسمائے نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عقیدۂ ختم نبوت
9-محمد بن جبیر بن معظم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی اللہ تعالی میرے ذریعہ کفر کو مٹادے گا اور میں حاشر ہوں، یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہو گا ( اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں۔“ (ابو عبد الله محمد بن اسماعیل بن ابراهیم بن مغیره ، صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب ما جاء في أسماء رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، 2/184، حدیث: 5323 مطبوعۃ دار الكتب العلميۃ) قیامت اور نبوت کے درمیان کوئی نبی نہیں
10- حضرت جبیر بن معظم رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں یعنی میرے ذریعہ کفر کو مٹا دیا جائے گا اور میں حاشر ہوں یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہو گا ( اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب في اسمائہ من اللام ، ص985، حدیث: 2354 مطبوعۃ دار الكتب العربي)
11 - حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے متعدد اسمائے گرامی بیان فرمائے جن میں سے کچھ ہمیں یاد رہے اور کچھ بھول گئے۔ آپ صلی ٹیم نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور متقی ہوں اور حاشر ہوں اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں۔“( ابو عبد الله الحاکم محمد بن عبد الله ، المستدرک علی الصحیحین للحاکم، 2/660 ، حديث: 4185، مطبوعۃ، دار الكتب العلمیۃ)
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں مذکور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے گرامی - الخاتم، الحاشر، العاقب المقفی اور الآخر - آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر دلالت کر رہے ہیں۔ ان اسمائے مبارکہ میں سے الخاتم اور الاٰخر کے معانی واضح ہیں اور الحاشر کے معنی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انعقاد محشر ہو گا، درمیان میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ عاقب کے معنی بھی یہی ہیں کہ جو سب سے آخری ہیں اور ان کے بعد کوئی نہیں اور المنتقلی کے معنی بھی آخری ہیں۔
ازل میں لکھا گیا فیصلہ
12- حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بند و اس وقت خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جب کہ آدم علیہ السلام ابھی خمیر سے پہلے اپنی مٹی میں تھے۔ (( ابو عبد الله محمد بن اسماعیل بن ابراهيم بن المغیرۃ البخاری،5/342، مطبوعۃ دار الكتب العلميۃ) تخلیقِ آدم سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا
13 - حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالی کے ہاں خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کا پیکر خاکی ابھی تیار کیا جارہا تھا۔ (محمد بن حبان بن احمد بن حبان، صحیح ابن حبان، 14/ 313،حديث: 6404، مطمورة، مؤسسۃالرسالۃ) عرش پر لکھا گیا نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اللہ
14 - حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حضرت آدم علیہ السلام سے حکمت و مشیت ایزدی کے تحت ) خطا سر زد ہوئی تو انہوں نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کرنے لگے: (اے میرے مولا!) میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں، کیا ( پھر بھی تو مجھے معاف نہیں فرمائے گا ؟ پس اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ محمد کیا ہیں اور محمد کون ہیں؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے اللہ ! تیر انام بابرکت ہے جب تو نے مجھے خلعت تخلیق پہنائی تو میں نے اپنا سر اٹھا کر تیرے عرش کی طرف دیکھا، وہاں لکھا تھا:لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ۔ سو میں نے جان لیا کہ یہ کوئی تیرے نزدیک عظیم قدر و منزلت والی ذات ہی ہے کہ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھ رکھا ہے چنانچہ اللہ عز و جل نے میری طرف وحی فرمائی کہ اے آدم! یہ تیری اولاد میں سے خاتم النبیین ہیں اور اس کی امت تیری اولاد میں سے آخر الامم ہے اور اے آدم! اگر یہ نہ ہو تا تو میں تجھے خلعت تخلیق سے نہ نو از تا۔( حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ، المعجم الأوسط، 5/37، حدیث: 6502 مطبوعۃ دار الفکر عمان اردن)
زیر نظر احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شان خاتمیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اس وقت بھی خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام کی تشکیل عنصری بھی نہ ہوئی تھی۔ وہ روح اور مٹی کے درمیان تھے پھر حضرت آدم علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی عرش معلی پر اسم جلالت کے ساتھ لکھا ہوا دیکھا۔ باری تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے استفسار پر اپنے محبوب اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کراتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین کے لقب سے یاد فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور عقیدۂ ختم نبوت
یہ احادیث مبار کہ اس بات کا حتمی ثبوت ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا عقیدہ کوئی نیا عقیدہ نہیں بلکہ یہ اس وقت سے ہے جب ابھی تاریخ انسانی کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا اور اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری نبی ہونا لکھ دیا تھا لھذا اگر کوئی اس کے بعد بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی نہ مانے اور خاتم کے معنی میں تحریف کے ذریعے نئے نبی کی آمد کو جائز قرار دے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج اور گروہ کفار میں شامل ہے۔ تمام انبیاء کے بعد آخری بعثت
15- حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالی کے اس فرمان - (( اے حبیب یاد کیجئے ) جب ہم نے انبیاء سے ان کی تبلیغ رسالت کا عہد لیا خصوصاً آپ سے اور نوح سے ) کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں خلقت کے لحاظ سے سب سے پہلا اور بعثت کے لحاظ سے سب سے آخری نبی ہوں سو ان سب سے پہلے (نبوت) کی ابتداء مجھ سے ہی کی گئی۔"( امام عبد الرحمن جلال الدین سیوطیی، الدر المنثور، 6/ 570 ، مطبوعۃ دار الفکر بيروت) تخلیق میں اول، بعثت میں آخر، ختم نبوت کی جامع حدیث
16- حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں انبیاء کرام میں تخلیق کے اعتبار سے سب سے اول اور بعثت کے اعتبار سے سب سے آخر پر ہوں۔( شیخ علی متقی ابن حسام الدین الہندی، کنز العمال، 11/205، حديث: 32123، مطبوعۃ مکتبۃ رحمانیہ لاہور پاکستان) تمام انبیاء کی بشارتیں اور بعثتِ محمدی
احادیث مذکورہ ختم نبوت کے اس بیان پر مشتمل ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انبیاء ورسل کے بعد مبعوث کیا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء و رسل اپنی اپنی امت اور قوم کو ہمارے آقا و مولا حضور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشخبری سناتے رہے اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی مدد کرنے کی تاکید و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قوم بنی اسماعیل میں تشریف لے آئے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں: صریح حدیثی اعلان
احادیث مذکورہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصریح فرمادی ہے کہ میری بعثت تمام انبیاء ورسل کی بعثتوں کے بعد ہوئی ہے۔ میرے بعد قیامت تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہو گا۔ ظلی، بروزی اور مجازی نبوت کا قطعی ابطال
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی بھی شکل میں ظلی و بروزی، حقیقی و غیر حقیقی، الهوی و مجازی یا تشریعی و غیر تشریعی نبوت وغیرہ کا خود ساختہ قول گھڑنے والا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی سلسلہ بعثت کو جاری مانتا ہے جو قرآن و سنت کے بے شمار قطعی دلائل کے علاوہ مذکورہ بالا فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی خلاف ہے، لهذا ایسا شخص بالاتفاق مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ جھوٹے مدعیانِ نبوت کی پیشگی خبر
17- حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیلمہ کذاب کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار نہیں فرمایا تھا، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت کچھ کہا، پھر ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان خطاب کے لیے تشریف فرما ہوئے اور اللہ سبحانہ و تعالی کی شان کے لائق اس کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: یہ شخص جس کے متعلق تم بہت زیادہ گفتگو کر رہے ہو پس بے شک یہ وجال اکبر سے پہلے نکلنے والے تیس کذابوں میں سے ایک ہے۔ (ابو عبد الله الحاکم محمد بن عبد الله ، المستدرک علی الصحیحین الحاکم ، 4/584، حدیث: 8626 ، مطبوعۃ دار الكتب العليۃ) تیس کذاب اور نبوت کے جھوٹے دعوے
18- حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کذاب دجال نہ نکل آئیں، انہی میں سے مسیلمہ، عنسی، مختار، عرب کے شر پسند قبائل بنو امیہ ، بنو حنیفہ اور تثقیف ہیں۔ (ابو يعلى أحمد بن علي، مسند أبي يعلى الموصلي، 12/197، حديث: 6820، مطبوعۃ، دار المأمون للتراث) لانبی بعدی: نفیِ جنس اور ہر قسم کی نبوت کی نفی
19 -حضرت ابو قلابہ سے مرفوع روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ، ہر ایک کا دعوی ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ سن لو! میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(عثمان بن سعيد بن عثمان بن عمر أبو عمرو الداني، السنن الواردۃفی الفتن للدانی، 4/862، حديث 443 مطبوعة دار العاصرة) مسیلمہ کذاب اور ختم نبوت کا عملی نفاذ
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ باب نبوت مسدود ہو چکا اس لیے اب کسی شخص کے منصب نبوت پر متمکن کیے جانے کی کوئی گنجائش نہ رہی چنانچہ اب اگر کوئی شخص نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ دجال، کذاب اور چھوٹا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف حسین حیات جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں پیشگی اطلاع دے دی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ان کی تعداد کا تعین بھی فرمادیا۔ خاتم النبیین کا معنیٰ
ان احادیث مبارکہ میں صاحب قرآن سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد جھوٹے مدعیان نبوت کی خبر دیتے ہوئے واضح فرمادیا کہ خاتم النبیین کا معنیٰ نہ تو مہر ہے اور نہ ہی انگوٹھی بلکہ اس کا معنی آخری نبی ہے۔ خاتم النبیین کی تفسیر لانبی بعدی کے ذریعے فرمادی جس میں لا، نفی جنس کا ہے جو جنس نبوت کی نفی کر رہا ہے اس سے مرزا صاحب کی تمام اقسام نبوت کی نفی ہو گئی خواہ وہ ظلی ہو یا بروزی، تشریعی و غیر تشریعی ہو یا لغوی و مجازی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح الفاظ میں اعلان فرمادیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور یہ کہ ختم نبوت کا تاج صرف میرے سر پر رکھا گیا ہے۔ میرے بعد جو کوئی بھی نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب اور دجال ہو گا۔
ان احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین طریقوں سے اپنی شان ختم نبوت کو بیان فرمایا ہے۔ 1۔ جھوٹے مدعیان نبوت کی خبر دے کر یہ اعلان فرمادیا کہ سلسلہ نبوت میری ذات پر ختم ہو چکا، لہٰذا آئندہ جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا اس کا شمار ان جھوٹوں میں ہو گا۔
2 - لانفی جنس کے ذریعے اپنے بعد جنس نبوت کی نفی فرمادی۔
3- خود کو خاتم النبیین یعنی تمام نبیوں کی آمد کو ختم کرنے والا فرمایا۔ نبوت ختم ہوچکی، صرف مبشرات باقی ہیں
20- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبوت چلی گئی، پس میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے مگر مبشرات ، وہ خوابیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائی جاتی ہیں۔( ابو شجاع شیر و یہ بن شہر دار بین شیر و یہ دیلمی، الفردوس بمأالخطاب، 2/247، رقم: 3162 مطبوعۃ دار الكتب العلمیۃ بیروت لبنان) خواب اور نبوت میں فرق: حدیث کی روشنی میں
21 - حضرت حذیفہ بن اسید بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبوت ختم ہو گئی، پس میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے مگر مبشرات۔ عرض کیا گیا کہ مبشرات کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک خواب جنہیں بندو دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔ (حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، المعجم الکبیر، 3/179، رقم: 1 305 ، مطبوعۃ دار احیاء التراث العربي) حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے اعلانِ ختم نبوت
22- حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پر دو ہٹایا در آنحالیکہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبوت کی خوشخبریوں میں سے سوائے نیک خوابوں کے کوئی چیز نہیں بچی ، وہ نیک خواب جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔ (ابو بكر بن أبي شيبۃ عبد الله بن محمد بن ابراهيم، مصنف ابن ابی شیبۃ، 2/195، حديث: 8059 ) خلافت اور نبوت میں بنیادی فرق
23- حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ اٹھایا اور آنحالیکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لوگوں کو امامت کروار ہے تھے ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! کیا میں نے ( تیر ادین لوگوں تک ) پہنچا دیا ؟ اے اللہ ! کیا میں نے ( تیر اپیغام پہنچا دیا ؟ اے لوگو امیرے بعد نبوت کی خوش خبریوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔( أبو عوانۃ يعقوب بن اسحاق بن إبراهيم النيسابوري الاسفر وبيني ، المستخرج لابی عوانۃ، 1/ 490-491، حديث: 1824 مطبوعۃ، دار المعرفۃ، بيروت)
مذکورہ بالا فرمودات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہوا کہ اجرائے نبوت کے نظام کا خاتمہ بالخیر ہو چکا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرما دیا کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے، صرف مبشرات بچے خواب باقی رہ گئے ہیں، اب اگر کوئی شخص دعوی نبوت کرتا ہے تو یہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ اس کی نبوت اجرائے نبوت کے الہی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ خود ساختہ اور من گھڑت ہے نیز یہ کہ کسی کے نبوت کا دعویٰ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات پر اعتماد و ایمان نہیں ہے لھذا جو شخص بھی اس ارشاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتماد و ایمان نہیں رکھتا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور کافرو کذاب کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔
24- حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں خاتم النبیین ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ تو عباس، عباس کے بیٹوں اور عباس کے پوتوں کی مغفرت فرما۔(حافظ ابو القاسم سليمان بن احمد طبرانی ، المعجم الکبیر، 6/205، حدیث :1020 مطبوعۃ دار احیاء التراث العربي)
اس حدیث مبارکہ میں خاتم النبیین کے صریح الفاظ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ الوداعی انداز میں فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں
25- حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس اس طرح تشریف لائے جیسے کوئی الوداع ہونے والا لاتا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں محمد نبی امی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مجھے کلمات کا آغاز اختتام اور ان کی جامعیت عطا کی گئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ دوزخ کے فرشتے کتنے ہیں اور عرش اٹھانے والے فرشتے کتنے ہیں اور میری امت سے میری وجہ سے درگزر کیا گیا اور معافی دے دی گئی ہے۔ پس میرے ارشادات سنو اور اطاعت کرو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں پس جب مجھے اس دنیا سے لے جایا جائے تو تم کتاب اللہ کو اپنے اوپر لازم کر لو اور اس کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو۔( ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أحمد الشيباني، مسند احمد بن حنبل، 11/179، حديث: 6606)
اس حدیث مبارکہ میں ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“ کے الفاظ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا واضح ثبوت ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی صحیح توضیح
ایک شبہ کا ازالہ :
قادیانی احادیث میں منقول الفاظ لا نبی بعدی پر نکتہ اعتراض بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ کا قول ہے : تم کہو : خاتم النبیین۔ اور یہ نہ کہو : میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
یعنی ان کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے اور سلسلہ نبوت ابھی ختم نہیں ہوا۔
قادیانیوں کے اس استدلال کی عمارت اس وقت زمین بوس ہو جاتی، جب ہم اس کتاب میں منقول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے قول سے متصل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا قول دیکھتے ہیں کہ کسی نے ان کے سامنے لانبی بعدی کہا تو حضرت مغیرہ نے یہ الفاظ کہے:
تمہارا خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے۔ یعنی لانبی بعدی کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی تشریف لائیں گے سو جب وہ تشریف لے آئیں گے تو وہ آپ سے پہلے اور بعد کے نبی ہوں گے۔( ابو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن ابراهيم ، مصنف ابن ابی شیبۃ، 5/337، حديث: 26654 مطبوعۃ دار التاج)
چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے اس قول میں اس اندیشے کا ازالہ کیا گیا ہے کہ کل کلاں کوئی شخص لا نبی بعدی کی روایت کی آڑ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا انکار نہ کر دے ، جیسا کہ قادیانی اس کے منکر ہیں۔ اور وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نزول کو نہیں مانتے۔ حدیثِ ہارون: علی رضی اللہ عنہ اور نفیِ نبوت
26- حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کو فرمایا: یہ علی بن ابی طالب ہے ، اس کا گوشت میرا گوشت، اور اس کا خون میرا خون ہے ، اور یہ مجھ سے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام سے تھے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الہیثمی، مجمع الزوائد:9 /111، مطبوعۃ، دار الكتب العربي)
27- حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مہاجر و انصار صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کے درمیان بھائی چارہ قائم نہ کیا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں باہر نکلے اور ایک چھوٹی نہر کے کنارے اپنے بازو کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے۔ ایسے میں ہوانے آپ پر گرد و غبار ڈال دیا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش فرمایا یہاں تک کہ انہیں پالیا۔ آپ نے ان کو اپنے پاؤں مبارک سے بلا کر فرمایا: کھڑے ہو جاؤ، تو ابو تراب ہونے کے ہی لائق ہے، کیا تو مجھ سے ناراض ہو گیا جس وقت میں نے مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، اور تیرے اور کسی اور کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں کیا۔ کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیر امقام و مرتبہ مجھے سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔( حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ، المعجم الکبیر، 11 / 63، حدیث: 11092، مطبوعہ دار احیاء التراث العربي)
28 - حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیر ا مجھ سے مقام و مرتبہ وہی ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔( احمد بن علی بن شعیب انسائی، السنن الكبرى، 5/125 ، حدیث: 9,844)
29 - حضرت براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب غزوہ پر جانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ضروری ہے کہ میں رکوں یا تم رکو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑا، لوگوں نے کہا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی ناخوشگوار چیز کی وجہ سے پیچھے چھوڑا ہے۔ پس جب یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں واقعہ سے آگاہ کیا، یہ سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکر ا پڑے اور فرمایا: اے علی ! کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیر امقام و مرتبہ مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔( ابو الحسن نور العرين علي بن أبي بكر بن سليمان الہیثمی، مجمع الزوائد، 9/111، مطبوعة، دار الكتب العربي)
30- حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی علی ایم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیرا مقام و مرتبہ مجھ سے وہی ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھا مگر یہ کہ میرے بعد نہ تو ثبوت ہے اور نہ ہی میرا کوئی وارث ہے۔(حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، الحجم الأوسط، 1/400 ، قم: 1465)
یہ حدیث بے شمار کتب حدیث میں متعدد طرق سے مروی ہے اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان کا درجہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نزدیک اس درجے کے مماثل قرار دیا ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا۔ صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ حضرت موسی علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب بنا کر بنی اسرائیل کی طرف چھوڑ گئے اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ پر تشریف لے جاتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اہل مدینہ کی طرف نائب بنا کر چھوڑ گئے۔ چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام ایک ایک نبی تھے اس لیے کسی کے ذہن میں یہ خیال آسکتا تھا کہ شاید حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نبی ہوں۔ اس مغالطہ کے ازالہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرمادیا کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نبی نہیں کیونکہ نبوت ورسالت کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ آقائے نامدار حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ کسی ٹیم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی عظیم المرتبت ہستی منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتی تو کوئی دوسرا کیسے ہو سکتا ہے۔ احادیثِ صحیحہ سے ختم نبوت کا ناقابلِ تردید ثبوت
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ نبوت کا جو سلسلہ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا، ہمارے آقاد مولا، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے۔ قرآن مجید کی طرح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت عامہ اور رحمت عامہ کو کمال صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت قیامت تک جاری و ساری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک پیدا ہونے والی تمام مخلوقات کے نہیں ہیں۔ خاتم النبیین کا واحد معنی: آخری نبی
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف تمثیلات کے ذریعے قرآنی اصطلاح خاتم النبیین کے معنی کو بلیغ انداز سے واضح فرما دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کو ایک محل سے تشبیہ دے کر خود کو اس کی آخری اینٹ قرار دیا جس کے معنی یہ ہیں کہ قصر نبوت مکمل ہو چکنے کے بعد اب اس میں ایک اینٹ کی گنجائش بھی نہیں رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث میں خاتم النبیین کی صراحت لا نبی بعدی کے الفاظ کے ذریعے فرما کر ہر قسم کی نبوت کے امکان کی کلیتاً نفی فرمادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی پیشگی خبر دے کر امت کو بر وقت ان کے فتنے سے خبردار فرما دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ کے لئے بھی امکان نبوت کی نفی فرما کر’’ امتی نبی “ کے تصور ہی کو جڑ سے کاٹ کر معدوم فرما دیا۔ آپ کسی تقدیم نے اپنی زبان حق ترجمان سے واضح فرمادیا کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا، البتہ میرے بعد امت میں خلفاء ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ امت محمدی میں کوئی شخص خلیفۃ الرسول تو ہو سکتا ہے مگر نبی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح آپ صلی قدیم نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارات ہیں جو نیک خواہیں ہیں۔ اس فرمان اقدس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امکان کی نفی فرمادی کہ کوئی شخص عالم خواب میں ہونے والی بشارات کی بنیاد پر دعوی نبوت کر دے۔ غرض حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعد نبوت کے ہر احتمال اور امکان کی کلیتاً نفی فرمادی۔ ختم نبوت کا انکار: قرآن و حدیث کی روشنی میں کفر
مذکورہ بالا احادیث سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہی ہے کچھ اور نہیں۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود لفظ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی جس کے بعد کوئی نبی نہیں “ متعین فرما دیا ہے تو اب اگر کوئی شخص اس لفظ کا معنی " افضل نبی، معبر لگانے والا نبی یا کچھ اور کرتا ہے تو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریحی مقام سے انکار کر کے کافر اور کذاب ٹھہرتا ہے، کیونکہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کردہ معنی کو چھوڑ کر کتب لغت سے اپنی پسند کا معنی تلاش کر کے اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل چاہتا ہے، وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے اور جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے اس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ قرآن و حدیث کی رو سے یہ امر طے شدہ ہے کہ جس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کیا، وہی مسلمان ہے اور جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر و مرتد اور زندیق ہے۔
قارئین عظام ! جس طرح قرآن پاک اور احادیث طیبہ سے عقیدہ ختم نبوت کا ثبوت ہوتا ہے ویسے ہی اقوال علماء سے بھی ثابت ہے آئیے اب اس موضوع پر اس باب کی تیسری فصل میں چند اقوال علماء ملاحظہ ہوں۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!